The Poetic Sections of the Holy
Scriptures
Namely,
Job, Psalms, Proverbs, Ecclesiastes, and Song of Songs
Reverend T.L. Scott, D.D.
This was organized by Reverend T.L. Scott, D.D., in 1924 for students, seminaries, Christian teachers, preachers, and students of the Holy Scriptures. Published by Master Ghaznfar B.A., Owner and Manager of Khurshid Press, Gujranwala.
پاک کلام کےمنظومی حصے
یعنی
ایوب،زبور،امثال، واعظ اور غزل الغزلات
کا دیباچہ
جلددوئم
جس کو پادری ٹی۔ایل۔سکاٹ۔ ڈی۔ڈی نے طلبہ سیمنری مسیحی استادوں ،منادوں اورکلام پاک کے طالب علموں کے
لیے1924ء میں اہتمام ماسٹر غضنفر بی۔اےعلیگ مالک و مینجر خورشید پریس گوجرانوالہ طبع شد۔
پاک کلام کا منظومی
حصہ
بائبل ایک نہایت ہی عجیب کتاب ہے۔کیونکہ یہ سب دینی و دُنیاوی علوم کا سرچشمہ ہے۔اور انسان کی روحانی اور جسمانی زندگی کی خوبی،عمدگی اور مبارک حالی اس پر مبنی ہے ۔چنانچہ (۲۔تیمتھیس ۳: ۱۶۔۱۷) میں مرقوم ہے کہ ’’ہر ایک صحیفہ جو کہ خُدا کے الہٰام سے ہے۔تعلیم اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لیے فائدہ مند بھی ہے۔تاکہ مردِ خدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لیے تیار ہو جائے‘‘۔لہٰذا اس کتاب کا خاص مقصد انسان کی نسبت یہ ہے کہ وہ خُدا کو پہچانے اور اس کی مرضی سے واقف ہو کر اس کو اپنی مرضی میں پورا کرےاور دوسروں میں بھی اسے پورا کرنے کی کوشش کرے۔اس لیے خُدا وند مسیح نے جو کہ انسان کا نجات دینے والااور کامل کرنے والا ہے۔بعض کو رسول اور بعض کو نبی اور بعض کو مبشر اور بعض کو چرواہے اور بعض کو استاد بنا کر دے دیا ہے۔تاکہ مقدس لوگ کامل بنیں۔ اور خدمت گزاری کاکام کیا جائے۔اور مسیح کا بدن یعنی کلیسیا ترقی پائے جب تک ہم سب کے سب خدا کے بیٹے کے ایمان اور اس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامل انسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پورے اندازے کے قد تک نہ پہنچ سکیں۔
جب کہ خُدا نے اپنی عجیب محبت کے سبب سے ہماری ہی خاطر یہ سب کچھ کیا تو لازم ہے کہ ہم ان سب باتوں پر خوب غور کریں تاکہ ہم کسی بات میں ناقص نہ رہیں بلکہ خُدا کی مرضی کو پورے طور پر سمجھیں اور اس طرح اس کے مقصد کر پورا کریں۔
باب اوّل
پاک کلام کے نظمی حصے کے بیان میں
سوال نمبر۔ 1:۔ پاک کلام کے نظمی حصے کی تشریح کرو۔
جواب:۔کتاب مقدس کے نظمی حصے میں پانچ کتابیں پائیں جاتیں ہیں یعنی ایوب، زبور،امثال،واعظ اور غزل الغزلیات۔یہ پانچ کتابیں جن کو یہودیوں نے (پینٹی ٹوک )کہ موسیٰ کی پانچ کتابوں کی مانندخُدا کا مقصد انسان کے بارے میں سلسلہ وار پیش کرتی ہیں۔یہودی اس نظمی حصے کو کما یعنی دانائی کا مجموعہ بھی کہا۔اور اس حصے میں دو خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔
اوّل :۔وہ دانائی جو ان کتابوں میں پائی جاتی ہے۔کامل ہونے کے سبب سے لاتبدیل اور پائیدار ہیں۔انسانی علوم کی تبدیلی اکثر ہوا کرتی ہےاور ہو جاتے بھی ہیں۔کیونکہ وہ درحقیقت ناقص اور ناتمام ہیں۔لیکن وہ علم یا دانائی جو خُدا کے طرف سے ہے۔وہ علم ہر زمانے کے لوگوں کے لیے مفید اور کارگر ہے،کیونکہ وہ دائمی ہے۔
(یعقوب ۳: ۱۷) میں اس دانائی کی یوں تعریف کی گئی ہے ’’مگر جو حکمت اُوپر سے آتی ہے اوّل تو وہ پاک ہوتی ہے۔پھر ملنسار،حلیم اور تربیت پذیر،رحم اور اچھے پھلوں سے لدی ہوئی۔بے طرف دار اوربے ریا ہوتی ہے‘‘۔خُدا کا خوف اس دانائی کا شروع ہے۔اور وہ خُداوند یسوع مسیح میں تکمیل پاتی ہے۔جو اس دانائی کے حصول میں مصروف رہتا ہے۔وہ کبھی شرمندہ نہ ہو گا۔
دوئم:۔ان کتابوں کی خاص نسبت توریت اور صحائفِ انبیا کی طرح قوموں سے نہیں بلکہ یہ شخصی ہیں۔اور ان کی غرض یہ ہے کہ ہر ایک شخص کی زندگی ایسی آراستہ کی جائے کہ وہ خُدا اور آدمیوں کے نزدیک مقبول اور پسندیدہ ٹھہرے ،نیز کہ وہ مقبولیت میں ترقی کرتا جائے۔لازم ہے کہ ہم ان پانچ کتابوں سے اس مقبولیت اور ترقی کرتا جائے لازم ہے کہ ہم ان پانچ کتابوں سے اس مقبولیت اور ترقی کا طریقہ سیکھیں۔اور ان کتابوں پر علیٰحدہ علیٰحدہ ایسا غور کریں کہ ان کا اثر ہماری زندگی پر ہو کہ ہم خُدا اور انسان کے نزدیک مقبولیت میں ترقی کرتے جائیں تاکہ ہم کامل انسان یعنی مسیح کے پورے قد تک پہنچ جائیں۔
سوال۔ 2:۔ ان پانچ کتابوں کا خلاصہ الگ الگ بیان کریں؟
جواب:۔ان پانچ کا مقصد دریافت کرنے اور ان کی ہدایت کرنا اور ترقی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ باسلسلہ ان کی تعلیم کا مطالعہ کریں۔ یعنی اس تعلیم کا جو کہ رُوح القدس ہم کو سکھانا چاہتا ہے۔
ایوب کی کتاب کا خلاصہ
یہ زیادہ مفید اور انسب (زیادہ مناسب)معلوم ہوتا ہےکہ کلامِ مقدس کے اس حصے کا مطالعہ ایوب کی کتاب سے شروع کیا جائے۔کیونکہ یہ کتاب دکھاتی ہے کہ خُدا کل عالم کا منتظم ہے اور اس کو انسان سے ایک خاص نسبت ہے۔اور کہ وہ نیکو کارو ں کا شاملِ حال ہو کر ان کی حفاظت کرتااور ان کے واسطے برکتوں کا بانی ہے۔ایوب کی کتاب صرف خُدا ہی کا نہیں بلکہ ایک اور ہستی کا بھی ذکر کرتی ہے۔جو کہ دُنیا کا منتظم ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔اور وہ ہے شیطان جو کہ نبی اللہ کے درمیان آکر خُداوند کے حضور حاضر ہوا۔ اور خُداوند نے اس سے پو چھا کہ تو کہا ں سے آیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ میں زمین کے اِدھر اُدھرسے سیر کرکے آیا ہوں۔
اس طرح یہ کتاب دُنیا کے دو منتظموں کاجن کے مابین نااتفاقی ہےکا ذکر کرتی ہےاور چونکہ خُدا اکیلاقادرِمطلق ہے۔شیطان کواس کے زیرِحکومت رہنا پڑتا ہے۔تو بھی وہ حتیٰ المکان انسان کو بگاڑ کر اس میں خُدا کی نسبت مخالفت پیدا کرتا ہے۔ یہ کتاب اس جنگِ مقدس کی وجہ بتاتی ہے۔جس کے باعث انسانوں میں ناچاقی ہو جاتی ہے۔اور ابتری کی حالت میں پڑ جاتےہیں۔پیدائش کے تیسرے باب میں مندرج ہے کہ شیطان کی شکل اختیار کرکے اپنا کام دُنیا میں شروع کیا۔اور اگرچہ خُدا نے اسی وقت اسے ذلیل کر دیا۔تو بھی وہ اپنا کام اب تک جاری رکھے ہوئے ہےاورقدرے کامیاب بھی ہے۔اس کتاب کا خاص مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خُدا کی نسبت اس کے فرائض واقف کرا دے یعنی اگر وہ خُدا کے منصوبوں سے رہائی پا کر روحانی اور جسمانی برکات سے مالا مال کیا جائے گا۔لہٰذا یہ کتاب ایک شخص بنام ایوب کی زندگی ہمارے سامنے لا کر یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان اپنی مخصوص زندگی سے مقبولیت حاصل کر سکتا ہےاور کہ وہ اپنی دُعا اور شفارش سے اوروں کے لیے معافی اور برکت کا باعث ٹھہر سکتا ہے۔
(2)
زبور کی کتاب کاخلاصہ
ایوب اگرچہ خُدا کی تعظیم کرتا اور اپنے آپ کو وفا دار ظاہر کرتا تھا۔تو بھی اس بات سے ناواقف معلوم ہوتا ہےکہ خُدا کے حضور اس کی رسائی کیونکر ہوسکتی تھی؟چنانچہ (ایوب۲۳: ۳) میں پکارتا ہے کہ ’’کاش کہ مَیں جانتا ہوں کہ وہ مجھ کو کہاں مل سکتا ہے۔تو مَیں اس کی مسند تک جاتا ‘‘۔ زبور کی کتاب اس بات کو حل کرتی اور بتاتی ہے کہ ہماری رسائی اس کے حضور کس طرح ہو سکتی ہے؟ایوب نے خیال کیا کہ خُدادور ہے اور انسا ن کی حالت سے ناواقف ہے۔لیکن زبور کی کتاب خُدا کو نزدیک ظاہر کرتی ہےاور بتاتی ہے کہ خُداوند یعنی یہواہ یعنی صادقوں کی راہ جانتا ہے۔پر شریروں کی راہ نیست و نابود کرتا ہے۔ وہ ناصرف جانتا بلکہ اس پر ظاہر کرتا ہے۔لیکن زبور کی کتاب ناصرف راہ ہی دکھاتی ہے۔بلکہ ہم کو خدا کے حضور لے جاپہنچتی ہے۔کیونکہ وہ الوہیم کو یہوواہ کی حیثیت میں پیش کرکے بتاتی ہے کہ وہ اپنے گھر میں سکونت کرتا ہےاور ہم بھی اس کے ساتھ سکونت کر سکتے ہیں۔یہ کتاب صرف یہوواہ ہی کو پیش نہیں کرتی بلکہ اس کی صفات کو بھی ایسے ہی طریقے سے پیش کرتی ہے۔کہ ہم ان سے متاثر ہو کر ناصرف خود ہی اس کی پرستش کرتےبلکہ اوروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے ہیں۔یہ کتاب نہ صرف خُداوند کی حمد کے فرائض اور طریقے سکھلاتی ہے۔بلکہ رُوح القدس کی طرف سے حمد کا ایک مقرر کردہ اور صحیح طریقہ ہے۔جس میں کسی قسم کا نقص مطلقاً نہیں پایا جاتا۔یہ کتاب ہم کو آوارہ گردی میں نہیں چھوڑتی بلکہ راہ راست پر لاکر ہماری رہبری کرتی ہے۔
(3)
سلمان کی امثال کاخلاصہ
ایوب اور زبور کی تعلیم کے علاوہ خُدا کی حضوری میں رسائی حاصل کرنےکے لیے ایک اور بات کی بھی ضرورت ہے۔اور وہ ضروری بات امثال کی کتاب میں ہے کہ نہایت ہی لازم اور واجب ہے کہ ہمارا سلوک اپنے ہم جنسوں کے ساتھ بلکل ٹھیک اور درست ہو۔ کیونکہ تاوقت انسان اپنے ہم جنسوں کے حقوق پورے طور پر ادا نہ کرے وہ ہرگز خُدا کی رضامندی کسی طور پر حاصل نہیں کرسکتاچنانچہ امثال کی کتاب کا خاص مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظا ہر کرے دانائی کا استعمال کیوں کر کیاجائے تاکہ ہم کو وہ دینداری حاصل ہو جو کہ خُداباپ کےآگے پاک اوربے عیب ہے۔اور ہم کو وہ طاقت نصیب ہو کہ ہم اس شریر کے سارے جلتے تیروں کو بجھا کرقائم رہیں۔اور راست گوئی اور راستبازی کی سب باتوں کو عمل میں لا کر اس راستی کے شہزادے کے پیرو ہوجائیں جس کا ذکر اس کتاب میں ہے۔
(4)
واعظ کی کتاب کا خلاصہ
محض راستباز بننا ہی انسان کی بہبودی اور مبارک حالی کے واسطے کافی نہیں ۔کیونکہ یہ اس پر فرض ہے۔لہٰذا واعظ کی کتاب یہ ظاہر کرتی ہے کہ لازم و ملزوم ہے کہ وہ دُنیا کی بطالت پر دل نہ لگائےبلکہ دانائی کی پیر وی کرکے اپنے آپ کو دُنیا سے بے داغ بچا رکھے اور اس غرض کے لیےچند ایک مفید باتیں پیش کرتی اور ظاہر کرتی ہےکہ خُداوند صرف ہر ایک فعل کو بلکہ اس کے ساتھ ہر ایک پوشیدہ چیز خواہ بھلی ہو بُری عدالت میں لائے گا۔سو لازم ہے کہ انسان نہ صرف فعلاً اور قولاً راست بنے اس کے دل کی حالت ٹھیک ہو اور اس میں ایک فرمان روا طاقت قیام پکڑے جس سے کہ وہ مغلوب ہو۔
(5)
غزل الغزلات کا خلاصہ
یہ کتاب وہ طاقت پیش کرتی ہے اور وہ محبت ہے جو کہ بمو جب اس کتاب کے کمال کا کمر بند ہے۔اس کی تشریح پولوس رسول نے(۱۔ کرنتھیوں کے تیرھویں باب) میں کی ہے۔اور وہ تاکید کرتا ہے کہ محبت کا پیچھا کرو کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر ہے۔اس محبت سے انسان خواہشات ِ جسمانی اور عیش و عشرت دُنیوی سے بلکل لاپروا ہو کر صرف اسی کا فریفتہ ہو کر اسی کی خدمت میں مصروف رہتا ہے۔جس نے گناہ آلودہ انسان کو اپنا خون دے کر خرید لیا ہے اور مقدس بنا کر خرید لیا ہے۔اور اس کو مقدس اور بے عیب بنا کر باپ کے حضور میں پہنچا دیتا ہے۔ حاصل ِکلام ایوب کی کتاب ایک ایسے شخص کا ذکر کرتی ہے،جو کہ شیطان کا ستایا ہوا ہے۔اور اگرچہ وہ خُدا پر بھروسہ رکھتا۔ اوراس سے مدد پانے کے طریقے بھی جانتا ہے۔تو بھی اس کا دل بے چین رہتا ہے۔زبور کی کتاب آرزومند شخص پر خُدا کو ظاہر کرتی اور اس کی حضوری میں رسائی حاصل کرنے کے طریقے اس کو بتاتی ہے۔اور اس طرح اس کو مایوسی اور بے چینی سے محفوظ رکھتی اور اس کے دل کو خوشی اور حمد سے بھرتی ہے۔ امثال کی کتاب بتاتی ہے کہ جو شخص خُدا کی رضامندی حاصل کرتا ہے اس کی سیرت کیسی ہونی چاہیے؟یعنی کہ اس کا سلوک اپنے ہم جنسوں سے نیک ہونا چاہیے۔
واعظ کی کتاب اس شخص کی نسبت یہ بتاتی ہے کہ اس کے واسطے اشد ضروری ہے کہ وہ خود کو دُنیا کی لبھانے(لالچ،ورغلانا) والی باتوں سے محفوظ رکھےاور نیکی میں مصروف رہے۔ غزل الغزلات کی کتاب بتاتی ہے کہ ایسے شخص کو خُداکی محبت کی مجبوری سے خُدا کے ساتھ وفاداری اور اپنے ہم جنسوں کےساتھ ہمدردی میں قائم رہنا چاہیے۔
دوسرا باب
ایوب کی کتاب کے بیان میں
سوال نمبر۔ 3:۔ ایوب کی کتاب کے مصنف اور اس کی قدامت کی نسبت کون سے خیالات پیش کیے جاتے ہیں؟
جواب:۔ مصنف کی نسبت تین خیال ہیں۔
اوّل :۔کہ اس کتاب کے واقعات جو کہ حقیقی ہیں۔موسیٰ کے ایام تک روائتی طور پر چلے آئے۔جن کو اس نے ملہم (الہٰام کیاگیا،وہ شخص جس کے دل میں غیب سے کوئی بات پڑے)ہو کر قلمبند کیا۔اور یہ خیال زیادہ معتبر سمجھاجاتا ہے۔
دوئم:۔ کہ اس کتاب کا مصنف سلیمان ہے اور اس کے واقعات سب کے سب بناوٹی ہیں۔
سوئم :۔کہ کسی نامعلوم مصنف نے یہودیوں کی ستر (۷۰)سالہ اسیری کے بعد اس کو تصنیف کیا۔یہ خیال ہائر کرئکس سے پیش کیا جاتا ہے۔اور بلکل بے بنیاد ہے۔
اس کتاب کی نسبت ذیل کے خیالات پیش کیے جاتے ہیں۔
اوّل:۔ایوب درحقیقت بزرگوں یعنی پٹری آرکس (آبأ) کے زمانے میں تھا۔کیونکہ اس کے سب واقعات اور دستورات اسی زمانے پر دلالت کرتے ہیں۔مثلاً (ا) ایوب کی دراز زندگی (ایوب۱: ۴۔۵ بمقابلہ۴:۱۶۔۱۷ آیت) سے معلوم ہوتا ہےکہ اس کی عمر بہت دراز تھی۔چنانچہ جب شیطان اس کی آزمائش شروع کی اس وقت اس کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں ،جو کہ اپنے اپنے گھروں میں رہتے تھے۔پھر اس کی آزمائش کے بعد دوبارہ اس کے ہاں سات بیٹے اور تین بیٹاں پیدا ہوئیں۔جن میں اس نےاپنی جائیدا د تقسیم کی اور بعد میں بھی ایک سو چالیس(۱۴۰) برس جیتا رہا۔ اس نے اپنے بیٹے اور بیٹوں کے بیٹے چار پشتوں تک دیکھے اور بوڑھا اور عمر رسیدہ ہو کر مرگیا۔ابراہیم کی عمر (۱۷۵) برس اور اس کے باپ تارح کی عمر صرف دو سو پانچ(۲۰۵) برس تھی۔سو اگر عمر کی درازی کا خیال کیا جائے تو ایوب تارح کا ہم زمانہ معلوم ہوتا ہے۔
(ب):۔ ایوب کی دولت کی فراوانی کا اندازہ اس کے مال مویشی کی فراوانی سے بھی کیا جاتا ہے۔جیسا کہ بزرگانِ سلف کے وقت دستور تھا۔
(ج):۔بزرگانِ سلف کی عبادت کا طریقہ ایوب کے وقت میں رائج تھا۔مطلب کہ باپ ہی سارے خاندان کا کاہن ہو کر اپنے گھرانے کے لیے قربانیاں گزارتا اور دُعا مانگتا تھا(ایوب۱: ۵)۔
(د):۔ایوب کے وقت میں بت پرستی بھی زیادہ قدیم کے طریقوں پر ہوتی تھی۔(ایوب ۳۱: ۲۶۔۲۸) آیت سے صاف ظاہر ہے۔کہ لوگ اجرامِ فلک کی پرستش کرتے تھے۔
(ر): ۔اس کتاب کی قدامت زمانہ حال کی حقیقت اور معلومات سے بھی پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے۔اس کے معترضین نے کئی ایک باتوں کی بنیادپر دعوئے کیے ہیں کہ یہ کتاب قدیم سے تھی۔بلکہ کسی بعد کے زمانے میں تصنیف ہوئی کیونکہ زمانۂ سلف (بزرگوں کا زمانہ)میں علم ہیئت کو اس قدر ترقی اور فروغ نہ تھا جس قدر کہ اس کتاب میں دکھایا گیا ہے۔لیکن زمانۂ حال کی جستجواورتحقیق نے اس اعتراض کی خوب تردید کی ہے۔چنانچہ اسور کی قدیمی تختیوں سے جو کہ ان پرانے شہروں کے کھنڈرات سےنکلی ہیں ثابت کر دکھایا ہے۔کہ فی الوقعہ اس زمانے میں ایسی ہی ترقی تھی۔اسور کی قدیمی تختیاں تین ہزار قبل از مسیح کی ہیں۔اکثر لوگ اس بات پر لحاظ نہیں کرتے کہ خُدا نے شروع میں ہی انسان کو کامل پیدا کیا، لیکن برگشتگی کے سبب اس کے قابلیت اور اس کا علم اس سے جاتا رہا۔یہاں تک کہ وہ رفتہ رفتہ وہ علم و کمال کےلحاظ سے زمانۂ تاریکی تک جا پہنچا۔
چنانچہ ہم جس قدر زمانہِ آدم یعنی ابتدائی زمانے کا مطالعہ کرتے ہیں۔تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ دانائی اور علم قابلِ تعریف تھا۔معترضین کا ایک اورا عتراض یہ ہے کہ قدیم زمانے میں اُور کے لوگ ایسے جانوروں کے نام سے واقف نہ تھے۔جن کا ذکر اس کتاب میں ہوا ہے۔کیونکہ وہ جانور اس وقت اس ملک میں نہیں پائے جاتے تھے۔یہ اعتراض بھی ان قدیم لوحوں کی وجہ سے ہی رد کیا گیا۔کیونکہ ان تختیوں پر ان جانوروں کےعلاوہ دریائی گھوڑے کے جو کہ مصر کا جانور ہے تصویریں کنداہیں ۔سو یہ واضح ہے کہ اُور کے لوگ مصر سے بھی راہ و رسم رکھتے تھے۔کیونکہ مصری عریبہ پتریہ میں جاتے تھے،کہ اس کی کانوں سے مصر کی مشہور اور عالی شان عمارتوں کےواسطے پتھر لائیں۔اور ان میں اکثروں نے اس سکونت گاہ اختیار کر لی۔ کُلدی لوگ بھی مصر میں جاتے تھے۔چنانچہ جب ابراہیم کُلدی سے آکر ملکِ کنعان میں بودو باش کرنے لگا تو وہ فوراً قحط سے تنگ آکر مصر میں گیا۔اور کچھ عرصے تک اسی جگہ میں مقیم رہا۔اس سے ظاہر ہے کہ ان ممالک میں ضرور آپس میں رسم و رواج تھے۔
معترضین کا صرف ایک ہی اور اعتراض پیش ہو گا۔اور وہ یہ ہےکہ زمانہِ قدیم میں ڈاکو نہ تھے ۔لیکن یہ اعتراض کلام پاک سے ہی تردید پاتا ہے۔بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ بدوش اقوام نمرود کے زمانے سے شروع ہوئیں۔اور نمرود بادشاہ نے خود ایسا کام کیا کہ جب کہ اس نے اپنی حکومت کو نینوہ تک وسعت دی نیز ابراہیم نے لوط کو لٹیری اور قزاق (ڈاکو)قوم میں بچایا۔
سوال نمبر۔ 4:۔ سر زمین اُور یعنی ایوب کی جائے رہائش کا محلِ وقوع بتائیں ۔اور بیان کرو کہ اس کا نام اُور کیوں پڑ گیا؟
جواب:۔وہ سر زمین جو کہ بحرہ لوط اور بحر قلزم کے درمیان واقعہ ہے۔اُور کا ایک حصہ تھا۔اور ایوب خاص اس جگہ مقیم تھا۔اور جب عیسو نے یہ سر زمین آباد کی اس کا نام ادوم پڑ گیا۔اور آخر کار آخر عربیہ پتریہ کے نام سے مشہور ہوگئی۔معلوم ہوتا کہ وہ اس سبب سے اُور کہلائی کہ اُور کی نسل وہاں رہتی تھی ۔لیکن یہ تحقیق معلوم نہیں کہ وہ اُور کون تھا؟پاک کلام میں اس نام کے تین اشخاص ہیں۔
(1)۔ اُور بن آرام بن سیم (پیدائش۱۰: ۲۳)۔
( 2) ۔اُوربن نحور بن تارا تھا۔جو کہ ابراہیم کا بھائی تھا۔( پیدائش۲۲: ۲۰۔۲۱)۔
(3)۔ اُور بن نیان جو کہ خاندان عیسو میں تھا۔(پیدائش۳۶: ۲۸)۔
لوگ اکثر اُور بن نحور بن تارا کو اس سر زمین کا آباد کرنے والا مانتے ہیں۔لیکن یہ خیال کہ وہ بھی اُور بن نیسان تھا بغیر نبوت نہیں۔کیونکہ اس ملک کی آبادی زیادہ تر ابراہیم کی نسل سے تھی۔چنانچہ ایوب کے دوست جو کہ اس کے پاس آئے ابراہیم کی نسل سے معلوم پڑتے ہیں۔مثلاً ایلیفرتیمانی اودمی تھا(یرمیاہ۴۹: ۷۔۱۰ ،اور حزقی ایل۲۵: ۱۳ ،اور عاموس ۱: ۱۱۔۱۲، اور نوحہ یرمیاہ۴: ۲۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ ادومی لوگ اُور کی سر زمین میں رہتے تھے۔بلداد سوخی ابراہیم کی نسل سے تھا۔جو کہ کتورہ سے تھی (پیدائش ۲۵: ۱۔۲)۔
ممکن ہے کہ نعور کی اولاد بھی اس ملک میں آباد ہو۔
سوال نمبر۔5:۔ ایوب کی نسبت اور ایوب کی کتاب کے واقعات کی نسبت کون سے واقعات بیان کیے جاتے ہیں؟اور کس طرح ثابت ہے کہ یہ کتاب فی الواقعہ تواریخی کتاب ہے۔
جواب: ۔ اس کتاب کی نسبت مفسرین تین مختلف خیالات پیش کرتے ہیں۔ کہ ایوب ایک فرضی نہیں ہے۔بلکہ حقیقتاً ایک شخص تھا اور اس کی کتاب کے سب واقعات بھی اصلی اور یقینی ہیں۔
کہ اگرچہ یہ کتاب تواریخی ہے۔اور اس کے تمام واقعات حقیقی ہیں۔تو بھی اس کا بحث و مباحثہ اسی موقع پر جس کا ذکر کتاب میں ہوا ہے۔ان کتابی اشخاص کےدرمیان واقعہ نہ ہوا۔ بلکہ کسی نبی کی طرف سے تعلیم و عبرت کے لیے مباحثہ کی صورت میں تصنیف ہوا۔
کہ ایوب ایک فرضی شخص تھااور کتاب کے سب واقعات بناوٹی اور تمثیلیں ہیں۔لیکن جب ان واقعات پر بانظر عمیق غور کیا جاتا ہے۔تو خواہ مخواہ یہ بات ذہن میں آتی ہے۔کہ یہ واقعات بناوٹی نہیں ہیں۔بلکہ ایک حقیقی راستباز اور خُدا پرست شخص کی زندگی کا احوال ہےجس پر شیطان نے حملہ کیا۔لہٰذا ملہم (الہٰام کیاگیا)مصور کے ہاتھ سے ان اشخاص کی جنہوں نے اپنی زندگیاں خُدا کے لیے مخصوص کی۔اور اسی کی مرضی کے ماتحت ہیں تصویر ہے۔شیطان کا حملہ اکثر ایسے ہی اشخاص پر ہوتا ہے۔علاوہ ازیں جب شیطان خدا کے حضور ہوا تو خدا نے اس سے پوچھا کہ تو نے میرے بندے ایوب کے حال پر غور کیا کہ زمین پر اس سا کوئی شخص نہیں۔وہ کامل اور صادق ہے وہ خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا ہے۔ممکن نہیں کہ خُدا کسی فرضی شخص کی بابت ایسا کہے۔نیز شیطان نے اس کی ہستی اور دُنیا میں اس کی موجودگی کا اعتراف کیا ۔حزقی ایل جو کہ ملہم تھا ایوب کا یوں ذکر کرتا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا کہ ایوب فی الواقعہ ایک زندہ جان اور روح کا مرکب تھا۔
(حزقی ایل۱۶: ۱۶۔۲۰) میں چار دفعہ آیا ہے کہ خُداوند یہوواہ نے کہا ہے کہ ہر چند یہ تین اشخاص یعنی نوح،دانی ایل اور ایوب موجود ہوتے تو۔آخر میں ہم کو یہ معلوم دلایا ہےکہ یہ الفاظ خُداوند یہوواہ کے منہ سے نکلےخُدا ایک فرضی شخص دو حقیقی انسانوں کے ساتھ نہیں ملا سکتا۔یعقوب کا عام خط(۵: ۱۱) میں ایوب کی نسبت مرقوم ہے۔کہ تم نے ایوب کے صبر کا حال سنا ہے۔اور خُدا وند کی طرف سے جو انجام ہوئے وہ آپ جانتے ہوکہ وہ بڑا دردمند اور مہربان ہے۔سو ہم اس کو ان سب باتوں کے لحاظ سے ایک حقیقی واقعہ سچی تاریخ تسلیم کرتے ہیں۔
سوال۔ 6:۔ایوب کی کتاب کی خاصیت بیان کرو۔
جواب:۔اس کتاب کا تتمہ اور دیباچہ نثر میں اور درمیانی حصے یعنی بحث ومباحثہ نظم میں ہے۔
یہ نظمی حصہ بلحاظ سلامت عبارت دلسوزی /دلربائی و بلند پرواز نئے خیالات دوسری عبرانی نظمی کتابوں پر فوقیت رکھتا ہے۔خُدا نے ان بحث کرنے والوں کو زبان دانی میں اس قدر فضلیت بخشی کہ انہوں نے خیالات کو موثر اور اعلیٰ قسم کے الفاظ میں پیش کیا ہے۔جن سے کہ خُداوند کی تعریف اور اس کا جلال ہو۔
سوال۔ 7:۔ ایوب کی کتاب خُدا کی نسبت کیا سکھاتی ہے؟
جواب :۔یہ کہ کل عالم کا منتظم ہو کر صرف اس کی تنظیم میں ہمیشہ منہمک(ہمیشہ کسی کام مصروف) نہیں رہتا۔بلکہ وہ انسان کے دلی خیالات و روحانی حالت سے پوری واقفیت حاصل کرکے اس کو حسبِ حالت سزا یا جزا دیتا ہے۔(پینٹی ٹیوک) سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے چند اشخاص سے عہد باندھا اور برکت عطا کرنے کا وعدہ کیا تواریخی کتب سے اس عہدی قوم کے ساتھ اس کا سلوک اور وعدہ وفائی ظاہر ہوتی ہے۔
کتبِ الانبیا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس قوم کو کیسی مفید تعلیم دیتا ہے۔اور اس کی تربیت کرتا رہا۔ایوب کی کتاب واضح کرتی ہے کہ خُدا نے ایک شخص کے ساتھ جو اس عہدی قوم میں سے نہ تھا کیسا سلوک کیا؟اس کو خُدا نے خوب آزما کر برکتوں سے مالا مال کیا۔اس کتاب سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ خُدا کا تعلق صرف اس عہدی قوم سے ہی نہیں بلکہ اس کے برگزیدہ لوگ ہر قوم میں موجود ہیں۔اور وہ ان کو محفوظ رکھتا اوربرکتوں سے بھرپور کرتا ہے۔
سوال۔ 8:۔ایوب کی کتاب کے مقاصد بیان کرو؟
جواب:۔ مقصد اوّل۔ یہ معلوم ہوتا ہےکہ یہ ظاہر ہو کر کہ یہ شیطان خدا کا مخالف ہو کر خُدا کے لوگوں کو مصیبت میں ڈالنے اور ستانے میں مصروف رہتا ہے۔
مقصد دوئم ۔یہ ہے کہ ظاہر کرے کہ ایوب کی محبت کی نسبت کہ وہ خود غرضی ہے۔شیطان کی تہمت غلط ہے کہ اور برگزیدوں کی محبت حقیقی اور بے ریا ہوتی ہےاور کہ خدا اپنی ذات کی خوبیوں سے انسان کے دل کو مسخر اور فریفتہ کر سکتا ہے۔
مقصد سوئم ۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی مصیبت زدہ پر عیب لگانا اور اس کی مصیبت کو ہمیشہ اس کے گناہوں کا لازمی نتیجہ بنانا واجب نہیں۔بلکہ برعکس اس کے ساتھ ہمدردی کرنا اور اس کی مدد کرنا زیادہ قرین مصلحت ہے کیونکہ ہم کو ٹھیک معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس مصیبت کی اصل وجہ کیا ہے؟عیب جوئی اور الزام کی ترغیب ہمیشہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔
مقصد چہارم ۔یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو جانچ کر اپنی خودی کو ختم کریں ۔اور حلیم ہو کر خُدا کے کامل اور صادق بندے بنیں اور نیکو کاری کا شیوہ اختیار کرکے اس کی قربت حاصل کریں۔
سوال۔9: ۔ایوب کی وفا داری کی آزمائش کس طرح ہوئی؟
جواب:۔ جب خُدا وند نے شیطان کی توجہ ایوب کی صداقت اور قابلیت پر مبذول کی تو شیطان نے خُداوندسے سوال کیا کہ کیا ایوب حقیقت میں خُدا ترسی کرتا ہے؟ کیا تونے اس کے گرد اور اس کے گھر کے آس پاس اور اس کے سارے مال وسباب کو چاروں طرف سے احاطہ نہیں کیا؟ تونے اس کے ہاتھ کے کام میں برکت بخشی ہے۔اور اس کا مال زمین میں بڑھتا جاتا ہے۔لیکن اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کا سب کچھ چھو لےتو کیا وہ تیرے منہ پر تیری ملامت نہ کرے گا؟تب خُداوند نے شیطان کو اجازت دی کہ ایوب کو آزمائے۔سوشیطان نے ایوب کو ایسی بُری حالت میں پھنسایا کہ نہ اس کا مال و دولت ،نہ دوست ، نہ کوئی تسلی دینے والا ،نہ خدمت گزار، نہ قدر اور نہ درجہ رہا۔بلکہ اس کی تحقیر کمینوں سے کی جاتی تھی۔آخر کار اس نے ایوب کے جسم کو مارا۔ایسے کہ تلوے سے سر تک ایسے جلتے پھوڑے ہوئے کہ وہ ٹھیکرا لے کر اپنے تئیں کھلجانے لگا۔اور راکھ پر بیٹھ گیا۔اس موقعہ پر اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ کیا تو اب تک اپنی دیانت پر قائم رہتا ہے۔خُدا کی ملامت کر اور مر جا۔ ایوب نے جواب دیا کہ تو نادان عورتوں کی سی بات کرتی ہے۔کیا ہم خُدا سے اچھی چیزیں لیں ا ور بری نہ لیں؟
ایوب کے حال اور صبرو تحمل سے بخوبی ظاہر ہوتا ہےکہ ایسے خادم جن میں مطلقاً خود غرضی نہیں اور خدمت بھی ایسی ہےجس میں عوضاً کا خیال خصوصیت نہیں رکھتا ۔
ایوب نے خُدا کو اس قدر پیار کیااور اس کی حضوری کی اس قدر خواہش رکھی کہ ہر قسم کی مصیبت کمال صبر سے برداشت کی کہ مبادہ وہ خُدا کی حضوری سے محروم رکھا جائے۔ایوب کی وفاداری خُداکی طرف سے شیطان کو جواب تھا۔
سوال۔10:۔ایوب کی کتاب کے بحث و مباحثہ کا سبب اور مقصد کیا تھا؟اور اس میں کون سی بات تصیفہ(واضح کرنا،رفع تکرار) طلب تھی۔اوروہ کیوں کر حل ہوئی؟
جواب:۔معلوم ہوتا ہے کہ جب ان واقعات کی خبر جو کہ ایوب پر گزرےاس کے احباب کے کانوں تک پہنچی توان میں تین اشخاص یعنی الیفزتیمانی،بلدد سوخی اور ضوفر نعماتی نے اتفاق کیا کہ اس کے پاس جا کر اس کے ساتھ روئیں اور اس کو تسلی دیں۔لیکن جب وہ حاضر ہوئے،اور اس کی ہولناک حالت دیکھی تو سات(۷) روز تک اس کےساتھ بیٹھے رہے،اور بے زبان رہے۔تب شیطان نے موقعہ پاکر ان کی ہمدردی کے ارادے کو تبدیل کرکے ان کو ترغیب دی کہ ایوب کو گناہ گار اور ناراست ٹھہرائیں ۔اور اس طرح اس کی گھبراہٹ اور مصیبت زیادہ کریں چنانچہ وہ خُدا کی عجیب صفات پیش کرکے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ خُدا قادرِ مطلق رحیم اور عادل ہو کر کسی راست باز شخص کو ایسی بلا میں مبتلا نہیں کرتا۔اور کہ ایوب ضرور بے شک و شبہ از حد ناراست اور گنہگارہے۔ورنہ اس حالت کو نہ پہنچتا۔اور اس سے بحث کی کہ وہ توبہ کرے کہ شائد خُدا اس کو معاف کرے۔
اب ان کے سامنے یہ بات پیش ہوئی ہے کہ اگر مصیبت ،بیماری اور تنگی گناہ کے نتائج تھے ۔ اور ان کا اورکیاسبب ہو سکتا ہے؟لیکن اس کا حل ان سے نہ ہوا۔
تب یہوواہ بولااورایوب کو اس کی نادانی اور کمزوری کا قائل کرکے اور توبہ کروا کر اس کے ملامت کرنے والوں کی طرف مخاطب ہو کر ان ہی کو ملامت کی اور ان پر روشن کردیا کہ درحقیقت ایوب ان کے سب الزامات سے بری ہے۔اور جو کچھ وقوع میں آتا ہےایک ہی شخص کے فائدے یا نقصان میں نہیں ہوتا۔بلکہ دوسروں کے لیے بھی اور نیز خصوصیت کے ساتھ خُدا کی تعظیم اور اس کے جلال کا ظہور اس سے پیش نظر ہوتا ہے۔
سوال۔11:۔ اس کتاب کے واقعات سے کون سی تعلیم اور عبرت والی باتیں نکلتی ہیں ؟
جواب: ۔ بحث و مباحثہ سے زیرِ بحث امور کا ہی حل نہیں ہوتا بلکہ اور انواع و اقسام کے مفید خیالات بھی نکل آتے ہیں۔جس طرح کہ اس بحث سے یہی ہو۔مثلاً۔
(1)۔ گو مالی نقصان جس میں تکالیف اور مصائب اکثر اوقات انسان کی غفلت،غلط فہمی ،شرارت یا ناراستی کے نتائج ہوتے ہیں۔جو کہ انسان کےواسطے سزا اور تربیت کا موجب ہوتے ہیں،تو بھی بعض اوقات خُدا اپنے مقاصد کی انجام دہی کے لیے خُدا اپنے برگزیدوں کو شیطان کے ہاتھوں دے دیتا ہےکہ وہ ان کو آزمائے تاکہ وہ تپائے ہوئے خالص سونے کی مانند نکل آئے کیونکہ فتح مند زندگی مقابلے پر موقوف ہے۔
(2)۔ واجب نہیں کہ خُدا کے برگزیدوں میں سے کوئی بھی مصیبت اور نقصان کے سبب اس کی تحقیر کرے بلکہ یقین رکھے کہ ساری چیزیں ان کی بھلائی کے لیے جو خُدا سے محبت رکھتے ہیں۔بلکہ فائدہ بخشتے ہیں( رومیوں۸: ۲۸)۔
(3) ۔شیطان اکثر موقعہ پاکر نیک لوگوں کی نیت،خصلت اور سمجھ کو اس قدر بگاڑ دیتا ہے کہ وہ ان سے فائدہ بخش اور صحیح باتوں کا بے جا استعمال کرواتاہے۔خُدا کا شکر ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو سرا سر شیطان کے حوالے نہیں کرتااور شیطان کے اختیار کو بھی محدود رکھتا ہے۔نیز اس کے ستائےہووں کو بحال کرتا اور برکت بخشتا ہے۔
(4) ۔اس بحث سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ گو تکالیف اتفاقیہ نہیں بلکہ افعال بد کے واجبی نتائج ہوتی ہیں۔تو بھی یہ واجب اور مناسب نہیں کہ ہم مصیبت زدہ اور دُکھیا اشخاص کے مصائب کے اسباب پر انگشت نمائی(طعن زنی کرنا،انگلی اُٹھنا) کریں اور ان کی عیب بیتی اور عیوب کا چرچا کریں۔کیونکہ نہ تو ہم ان اسباب کا یقینی علم رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی خُدا کے بھید تک پہنچ سکتے ہیں۔ایسی حالت میں ہمیشہ یہی انسب (زیادہ مناسب)معلوم دیتاہے کہ ہم ان کےساتھ ہمدردی کریں ان کی مدد کریں۔اوران کے لیے دُعااور سفارش کریں۔
باب تیسرا
ایوب کی کتاب کا مطالعہ
سوال ۔12:۔ ایوب کی کتاب تقسیم کریں؟
جواب:۔ اس بڑی کتاب کا باآسانی مطالعہ کرنے کے لیے یہ اچھا ہوگاکہ اس کی تقسیم کرکے حصہ بحصہ اس پر غور کیا جائے۔یہ کتاب تین
بڑے حصوں میں منقسم ہو سکتی ہے۔(حصہ اوّل :تمہید۔ابواب ۱۔۲، حصہ دوئم: بحث و مباحثہ۔ ۳۔۴۲: ۱۔۶، حصہ سوئم۔ تتمہ۔۴۲ باب۷ آیت سے آخر تک)۔
حصہ اوّل
سوال۔ 13: ۔حصہ اول کی تفصیل کرو۔
جواب:۔اس کتاب کے ابواب اوّل و دوئم میں پانچ تصاویرہیں۔تصویر اوّل(۱:۱۔۵ا)۔یہ ایک متمول (دولت مند)خاندان کی جس میں خوشحالی اورفارغ البالی اور خاطر خواہ انتظام ہے،تصویر ہے۔اس میں خاندانی محبت نے سب افراد کو ایک دوسرے سے خوب پیوستہ کیاہوا ہے۔ایوب اس خاندان کا سر ہےجو کہ اپنے بچوں کے لیے دُعااور مناجات کرتا ہےکہ جوانی کا جوش اور غفلت کسی طرح سے ان کو خُدا سے الگ اور برطرف نہ کردے۔
تصویر دوئم(۱: ۶۔۱۲) ۔اس میں فرشتگان کا ایک ہجوم خُدا کے سامنے حاضر ہے۔شیطان بھی ان کے ساتھ آموجود ہوا ہے۔اور ایوب کی وفاداری پر خُداوندسے بات چیت کرتا ہے۔اس قیل و قال(گفتگو) کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شیطان کو ایوب کی آزمائش کی اجازت مل جاتی ہے۔
تصویر سوئم(۱: ۱۳۔۲۲) ۔اس میں اس فرخندہ حال(خوش حال) گھرانے میں شیطان کی کارروائی کا نتیجہ نظر آتا ہے۔کہ اب اس میں بال بچوں ،مال و اسباب خوشی اور خرمی کے بجائے بربادی اور محن(بلائیں) ہے۔ایوب اس پریشان اور دگرگوں (تہ وبالا،اُلٹ پُلٹ)حالت میں بھی مستقل وفادار نظر آتا ہے۔
تصویر چہارم(۲: ۱۔۲) ۔ میں شیطان پھر فرشتگان کے درمیان نظر آتا ہے۔اس میں وہ اپنے اوّل دعویٰ یعنی کہ ایوب اس واسطے خُدا ترسی کرتا ہےکہ خُدا نے اسےدُنیاوی مال ودلت سے مالا مال کر رکھا ہے،اور جھوٹا ٹھہرتا ہے۔اور اپنی شر(جھگڑا،خرابی) کے بموجب یہ کہہ کر کہ انسان کی عادت ہے کہ وہ اپنی جان اور اپنے مال و دولت سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔خُداوند سے ایوب کے جسم پر ہاتھ بڑھانے کی اجازت حاصل کرتا ہے۔لیکن خُداوند نے اسے تاکید کی ہے کہ ایوب کی جان کا نقصان نہ ہو۔
تصویر پنجم(۲: ۷۔۱۳) ۔ اس میں ایوب راکھ پر بیٹھا ہوا ٹھیکرے سے جسم کو کھجلاتا ہوا دکھلائی دیتا ہے۔کیونکہ شیطان نے اسے ایسا مارا کہ تلوے سے سر تک اسے جلتے ہوئے پھوڑے ہوئے۔اس کی بیوی اسے کہتی ہے کہ کیا تواب تک اپنی دیانت پر قائم ہے؟خُدا کو ملامت کر اور مر جا۔لیکن ایوب جواب دیتا ہے کہ تو نادان عورت کی سی بات کرتی ہے۔کیا ہم خُدا سے اچھی چیزیں لیں اور بُری چیزیں نہ لیں ۔اس کے علاوہ کچھ فاصلے پر تین شخص نظر آتے ہیں، کہ نزدیک پہنچ کر اور ایوب کی ہولناک حالت دیکھ کر سات(۷) روز تک چپ چاپ اس کے پاس بیٹھے رہے۔کیونکہ شیطان نے ان کو تسلی اور ہمدردی سےروک رکھا ہے۔شیطان سے ایلوہیم یا ایل نہیں بلکہ یہوواہ ہی بات کرتا ہے۔
حصہ دوئم
سوال۔14:۔ حصہ دوئم کی تفصیل بتائیں؟
جواب:۔اس میں بحث و مباحثہ کی کیفیت ہے۔جو کہ ایوب اور اس کے تین دوستوں کے درمیان واقعہ ہوا۔اس بحث و مباحثہ میں تین دور ہیں۔( دورِاول ابواب۳۔۱۴، دورِدوئم ابواب ۱۵۔۲۱،اور دورِسوئم ابواب ۲۲۔۳۱)۔
اس کے بعد الیہوبن براکیل بوزی کی تقریر (ابواب ۳۲۔۳۷ )میں سے اور (ابواب ۳۸۔۴۱) میں خُداوند اپنے آپ کو ایوب پر ظاہر کرتا ہے۔(۴۲: ۱۔۶) میں ایوب حلیمی سے اپنے قصوروں کا اعتراف کرکے معافی کا خواہش مند ہے۔
حصہ سوئم
سوال۔15:۔ حصہ سوئم کی تفصیل بتائیں۔
جواب:۔ اس میں صرف دس آیات ہیں اور ان دس آیات میں تین مختلف باتیں ہیں۔
خُداوند ایوب کے تین دوستوں کو دھمکا کر حکم دیتا ہے کہ سوختنی قربانی پیش کریں جو کہ ایوب کی دُعاسے قبول ہو اور ساتھ ہی ایوب نے بھی شفا پائی (ایوب ۴۲: ۷۔۱۰)۔
ایوب کی صحت یابی پراس کے رشتے داروں اور جان پہچان والوں نے اس کو اپنے میں شامل کرکے تحائف دیئے(ایوب۴۲: ۱۱)۔
خُدا نے ایوب کی آخری عمر میں اس کو بڑی برکت بخشی (ایوب۴۲: ۱۲۔۱۷)۔
چوتھا باب
پہلے حصے کا مطالعہ
سوال۔16: ۔ ایوب کی کتاب کے تمہیدی حصے کی تشریح کریں؟
جواب:۔ا س حصے میں ایوب کے پہلے دو باب جو کہ نثری ہیں پائے جاتے ہیں۔اور ان میں پانچ خاص باتیں پائی جاتی ہیں۔
(1) (۱: ۱۔۵) ۔ایوب اور اس کے گھرانے کی کیفیت ہے۔اس میں ایوب کی دینی اور دُنیاوی حالت ظاہر ہوتی ہے۔نیز یہ بھی کہ وہ اپنے زمانے میں اہلِ مشرق میں سب سے زیادہ خُدا پرست اور اعلیٰ مرتبہ شخص تھا،وہ کامل اور حاذق(دانا) تھا ۔ اور گھرانے کا دینی انتظام خوب کرتا تھا۔اس کے حق میں مسطور ہے کہ جب اس کے بیٹے اپنی اپنی باری پر مہان نوازی کرچکتے تو ایوب ان کو بلا کر پاک کرتا اور ان کے ان کے شمار کے مطابق سوختنی قربانیاں گزارنتا تھا کہ اگر اُنہوں نے کسی بات میں قصور کیا ہو تو اِن کی معافی ہو۔
(2) (۱: ۶۔۱۲) ۔شیطان کا پہلی بار ذکر ہوا ہے۔وہ اس وقت فرشتگان کے ہجوم میں آموجود ہوا۔اور اس کی ایوب کی کاملیت اورصداقت کی نسبت خُدا سے گفتگو ہوئی۔شیطان نے دعوے کیے کہ ایوب کی وفاداری خود غرضی سے ہے۔سو خُدا نے اس کو اجازت دی کہ وہ ایوب کو آزمائے۔
(3) (۱: ۱۳۔۲۲) ۔ میں شیطان کا ایوب کے خاندان پر اچانک حملہ کرنے کا ذکر ہےکہ اس نے قزاقوں ،آگ اور آندھی کے وسیلے سے ایوب کے مال و مواشی اور فرزندوں کو ہلاک اور برباد کردیا۔اور جب ایوب کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے ان آفات کو خُدا کی طرف سے سمجھ کر صبر سے برداشت کیااور کہا کہ’’ مَیں اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا نکل آیااور پھر ننگا وہاں جاؤں گا۔خُداوند نے دیااور خُداوندنے لے لیا خُداوند کا نام مبارک ہے‘‘۔
(4) (۲: ۱۔۶)۔ میں خُدا وند سے شیطان کی دوسری گفتگو ہوتی ہے۔اس میں وہ ایوب کو دوبارہ آزمانہ چاہتا ہے۔ خُداوند نے ایوب کی مکرر (دوبارہ)تعریف کرکے شیطان سے کہا کہ اگرچہ تونے مجھے ابھارہ کہ ایوب کو ہلاک کروں تو بھی وہ اپنی دیانت کو لیے رہا۔شیطان نے جواب دیا کہ کھال کے بدلے کھال بلکہ انسان اپنا سارا مال اپنی جان پر نثار کرےگا۔
لیکن اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کی ہڈی اور گوشت کو چھو لے تو وہ تیرے منہ پر تیری ملامت کرے گا۔تب خُداوند نے شیطان سے کہا کہ وہ تیرے قابو میں ہے۔مگر فقط اس کی جان جانے نہ پائے۔
(1) (۲: ۷۔۱۳)۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے کیسی سختی سے ایوب کو مارا اور اس کے دوستوں کو ہمدردی کی بجائے عیب جوئی پر اور بیوی کو محبت کی بجا ئے ملامت کرنے پر مجبور کیا۔
باب پانچواں
تیسرا حصہ بحث مباحثہ
دورِ اوّل
تیسرا حصہ بحث مباحثہ
سوال۔ 17: ۔ بحث و مباحثہ کے دورِاوّل کی تشریح کریں؟
جواب:۔ ایوب ہی نے بحث و مباحثہ میں اقدام (پیش قدمی کرنا،قدم بڑھانا)کیاوجہ یہ تھی ایوب کے دوست سات (۷)روز تک آکر مہر ہرلب (خاموشی)اس کے پاس زمین پر بیٹھے رہے اوربلکل کوئی بات چیت نہ کی کیونکہ انہوں نے معلوم کیا کہ ایوب پر غم کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔ سات(۷) روز کے بعد ایوب نے منہ کھولا اور اپنی پید ائش کے دن پر لعنت کی اور موت کو زندگی پر ترجیح دے کر اس کی خوبیاں بیان کیں۔اور کہا کہ وہاں شریرستانے سے باز آئے اور تھکے ماندے چین سے ہیں۔جب اس جگر سوز اور جان گداز غم سےوہ زندگی سے بے زار ہو گیا توسوال کیا کہ ایسے کو کیوں روشنی بخشی جاتی ہےکہ جس کی راہ چھپائی ہوئی ہے۔اور جس کے لیے خُدا نے گھر کر تنگ کیا ہے۔
اس پر الیفزتیمانی بول اٹھا کہ (ایوب ۴۔۵باب) اور ایوب کو جواب دیا کہ چنانچہ(۴: ۱۔۶) وہ ایوب کی پست ہمتی کی یہ کہہ کر شکایت کرتا ہے۔کہ دیکھ تونے بہتوں کو سکھلایااور ان کو جن کے ہاتھ کمزور تھے زور بخشا تیری باتوں نے اس کو جو گرتا تھا تھاما اور تونے جھکے ہوئے گٹھنوں کو سنبھالا پر اب کہ جب کہ تو خود جھک پڑا تو بے تاب ہے۔بجھنے لگا ہے۔(تجھ پر پڑی ہے) تو تُو گبھراتا ہے۔کیا تو اپنی خُدا ترسی پر تکیہ نہ کرتا؟اوراپنی دین داری کے سبب اُمیدوار نہ تھا؟الیفز اپنی تقریر میں کئی دلائل لا کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ خُدا صادقوں کو ہرگز نہیں ستاتا۔
دلیل اوّل۔(۴: ۷۔۱۱)۔ خدا کی سزا کا فتویٰ راستبازوں کے نہیں بلکہ ناراستوں کئے لیے ہے۔
دلیل دوئم۔(۴: ۱۲۔۲۱)۔اپنی ایک رویا پیش کرتا ہے۔جس کا مقصدیہ ہے کہ فانی انسان اپنے خُدا کے حضورصادق نہیں ٹھہر سکتا اور بشر اپنے خالق کی مانند پاک نہیں ہے۔
دلیل سوئم۔(۵: ۱۔۵)۔وہ ایوب کے سامنے شریر کی شرارت کا انجام پیش کرتا اور بیان کرتا ہےکہ وہ یعنی ایوب اور اس کی اولاد سلامتی سے دور رہتے ہیں۔
دلیل چہارم۔(۵: ۶۔۱۶)۔ وہ خُدا کی تعریف کرتا ہے۔عیاروں کے منصبوں کو باطل ٹھہراتا ہے۔اور مسکینوں کو تلوار اور زبردست ہاتھوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
دلیل پنجم۔(۵: ۱۷۔۲۸)۔ خُدا کی تنبیہ کا نیک انجام پیش کرتااور بتاتا ہے کہ نیک لوگ زمین پر اقبال مند ہوں گے۔اور ان کی اولاد برکت سے معمور ہو گی۔اور وہ خود عمر رسیدہ ہو کر گور میں اُترے گا۔جس طرح کہ غلے کا انبار اپنے موسم میں جمع کیا جاتا ہے۔الغرض تیمانی کا مطلب یہ تھا کہ ایوب کو اس کی گنہگاری سے قائل کرکے اس کو مستوجب سزا(جس پر سزاواجب ہو) ٹھہرائے۔تاکہ وہ اپنی ناراست کاری سےتوبہ کرے اور خُدا کی طرف متوجہ ہو کر اس سے معافی کا طالب ہو۔اس کتاب کے (۶۔۷ باب) ہیں۔ایوب الیفزتیمانی کو جواب دیتا ہے۔اس جواب میں تین خاص باتیں ہیں۔
(1) ۔(ایوب۶: ۱۴۔۳۰)۔ ایوب اپنی صداقت کا دعویٰ کرتا اور اپنی فریاد کا عذر پیش کرتا ہے۔لیکن اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ سب مصیبت خُداوند کی طرف سے ہے۔اور کہتا ہے کہ اس کے تیر مجھ میں لگے ہیں۔اور میرا دل ان کا زہر پیتا ہے۔خُدا کی دہشتیں میرے مقابل صف آراء ہیں ۔سو وہ عرض کرتا ہے کہ خُدا پھر رحم کرےاور اس کی زندگی کو ختم کرے۔
(2) ۔(ایوب۶: ۱۴۔۳۰)۔ میں ایوب اپنے دوستوں کو یہ کہہ کر ملامت کرتا ہے کہ چاہیے کہ شکستہ دل پر اس کے دوست ترس کھائیں ورنہ وہ اپنے آپ کو خُدا کے ترس سے محروم رکھیں گے۔اور کہ اگر مجھ میں کچھ خطا ہے تو ظاہر کرو اور مجھ کو سکھلاؤتو مَیں چپ چاپ رہوں گا۔کہ معقول باتوں کی تاثیر کیا ہی خوب ہے پر تمہاری سرزنش کس بات پر دلالت کرتی ہے؟کیا تم باتوں پر عیب لگانے کے خیال میں ہو؟مایوس کی باتیں ہوا کی سی ہیں۔
(3 )۔ساتویں باب میں ایوب اپنی موت کی آرزو کا عذر پیش کرتا اور کہتا ہے کہ جس طرح مزدور سایہ کے لیے ہانپتا اور اجرت والا اپنی مزدوری چاہتا ہے ۔اسی طرح میری جان پھانسی چاہتی ہے۔اور موت کو ان ہڈیوں میں رہنے سے بہتر جانتی ہے اور خُدا سے عرض کرتا ہے کہ گور میں جانے سےپہلے وہ اسے معاف کرے۔اور اس کی بدکاری کو مٹا دے۔
بلدد سوخی کی تقریر :۔
ایوب کی تقریر کےبعد جواب میں بلدد سوخی (آٹھویں باب) میں خُدا کے انتظام کو راست اور ایوب کو مکار ٹھہراتا ہے۔اور دعویٰ کرتا ہےکہ اس کی اولاد کی موت اس کی گنہگاری کا نتیجہ تھی اور کہتا ہے کہ کیاخُدا انصاف کو اٹھائے گا یاقادرِ مطلق عدالت سے بھاگے گا؟اکثر تیرے فرزندوں نے اس کا گناہ کیا ہے۔اس لیےانہیں ان کے گناہوں کے باعث رد کردیا تو یہ درست اور واجبی تھا ۔اگرتو راست باز اور پاک دل ہے تو بھی خُدا تیرے واسطے چونک اٹھے گا۔اور تیری صداقت کے گھر کو بھگوان(خُداتعالیٰ) کرے گا۔کیونکہ علت(بیماری) کے بغیر معلوم نہ ممکن ہے۔خدا سچے آدمیوں کو رد اور بدکرداروں کی دستگیری نہیں کرسکتا ۔
ایوب کی دوسری تقریر (ایوب۹۔۱۰باب) ایوب تسلیم کرتا ہے کہ خُدا عادل ہےاور اس کے ساتھ تکرار بلکل بے فائدہ ہے۔کیونکہ اس کی قدرت اور دانائی انسان کے قیاس کے بھید ہیں۔باوجود اس کے وہ کہتا ہے مصیبت ا ور تکلیف ہمیشہ گناہ کا نتیجہ تھیں۔لیکن اگر مَیں اپنے آپ کو صادق ٹھہراؤں تو میرا ہی منہ مجھے گنہگار ٹھہرے گا۔اور اگر مَیں کہو کہ مَیں سچا ہوں تو اس سے میری کجروی ثابت ہو گی۔
پھر وہ کہتا ہےکہ مَیں اپنی زندگی کی بے زار حالت میں اپنے دل کی تلخی سےبو لوں گا۔اور خُدا سے کہوں گا کہ مجھے بتلا کہ تو مجھ سے کیوں مقابلہ کرتا ہے؟اور اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی چیز کی کیوں حقارت کرتا ہے؟اور عرض کرتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے اپنا ہاتھ مجھ پر سے اُٹھا لے تاکہ مجھ کو ذرا سا آرام ہو۔اس سے پہلے کہ مَیں وہاں جاؤں جہاں سے واپس نہ پھروں گا۔
نوٹ:۔ اس کتاب کے دیباچہ اور خاتمہ میں لفظ یہوواہ آیا ہے۔جو کہ بحث و مباحثہ میں کہیں کہیں ملتاہے۔نیز لفظ ایلوہیم نہیں بلکہ الواخ آیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں لوگ توحید میں تثلیث کی موجودگی سے ناواقف تھے۔ضوفرنعماتی کی تقریر ۔ گیارہواں باب:۔
ضوفرنعماتی(۱۱: ۱۔۶)۔ میں ایوب کو اس کی پیشن گوئی پر ملامت کرتا اور کہتا ہے کہ اس طرح تو بے گناہ نہیں ٹھہرتا اور تو اور نہ تیری لاف زنی سے کوئی سننے والا خاموش رہ سکتا ہے وہ اپنی خواہش ظاہر کرتا ہےکہ کاش خُدا ایوب سے بولےاور اس کی بدکاری اس پر ظاہر کرے اور اس کو معلوم ہو کہ اس نے اپنے گناہ کے مقابلہ میں بالکل کم سزا پائی۔
(۱۱: ۱۲۔۲۰)۔ ضو فرنعماتی ایوب کی گستاخی پر اس کو یہ کہا کر ملامت کرتا ہے کہ کیا تو اپنی تلاش سے خُدا کا بھید پا سکتا ہے؟یا قادرِ مطلق کے کمال کو پہنچ سکتا ہے ؟وہ تو آسمان سے اونچا ہے تو کیا کرسکتا ہے؟وہ پاتال سے بھی نیچے ہے سو تو کیا جان سکتا ہے؟اس کا انداز زمین سے لمبااور سمندر سے چوڑا ہے۔
(۱۱: ۱۲۔۲۰) میں ضوفرایوب کو تاکید کرتا اور کہتا ہے کہ تو اپنے دل کو درست کر اور اپنے ہاتھ خُدا کی طرف بڑھا۔اگر تیرے ہاتھ میں بدی ہے تو اسے دور پھینک دے اور شرارت کو اپنے ڈیرے میں نہ رہنے دے۔توالبتہ تو اپنا منہ بے داغ اُٹھائے گا۔تو ثابت قدم ہو گا۔اور دہشت نہ کھائے گا۔اور تیری عمر کا دن دوپہر کے دن سے زیادہ روشن ہوگا۔تیری ذلت کا حال صبح سا ہو جائے گااور تو خاطر جمع ہو گا۔
ایوب کی تیسری تقریر( ایوب۱۲۔۱۴ابواب)
(۱۲: ۱۔۱۲) ایوب ضوفر نعماتی کو جواب دیتا اور طعنہ زنی کے طور پر کہتا ہے کہ سچ مچ تم تو ایک گروہ ہو اور دانائی تیرے ساتھ مرے گی۔پھر وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مَیں عقل مندی میں تم سے کم تو نہیں ہوں اورجو کچھ آپ نے اپنی تقریر میں پیش کیا ہے۔وہ سب مخلوق کو معلوم ہے۔ہاں حیوانات سے پوچھیے تو وہ تم کو سب سکھلا دیں گے۔ہوائی پرندوں سے دریافت کیجیے تو وہ تجھ کو بتلا دیں گے۔زمین سے دریافت کرو وہ تم کو تعلیم دے گی۔اور سمندر کے مگر مچھ تجھ سے بیان کریں گے کون نہیں جانتا کہ خُداوند کے ہاتھ نے یہ سب کچھ بنایا ہے۔اور اسی کے ہاتھ میں سب زندوں کی جان اور سارے بشر کا دَ م ہے۔ یہ تمام باتیں عام ہیں۔دانش بوڑھوں کےپاس ہیں ۔عمر کی درازی کی وجہ سے فہم آتا۔
اس کے بعد( ایوب۱۲: ۱۳۔۲۵) میں ایک درس خُدا کی قدرت اور حکمت پر دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ دانائی اور توانائی اس کے ساتھ ہیں۔وہ صاحبِ مصلحت اور صاحبِ فہم ہے ۔فریب کھانے والا اور فریب دینے والا دونوں اس کے ہاتھ میں ہیں۔وہ مشیروں کو غلام اور حاکموں کو بے وقوف بناتا ہے۔وہ بادشاہوں کی زنجیریں کھولتا اور امیروں کو غلامی میں لاتا ہے وہ زبردستوں کو اُلٹ دیتا ہے۔وہ پوشیدہ چیزیں آشکارہ کرتا اور موت کے سائے کو جلوہ گر کرتا ہے۔الغرض اس کی دانش سب باتوں کو پرکھ لیتی ہے۔اور اس کی قدرت سب چیزوں پر حاوی ہے۔
(ایوب۱۳: ۱۔۱۳) میں ایوب اپنی ایک خواہش ظاہر کرتا ہے کہ اس کے دوست اپنی دانائی کو اپنی خاموشی سے ظاہر کریں اور اس کہ حق میں کہتا ہے کہ وہ جھوٹی باتوں کے بنانے والا اور ناکارہ طبیب ہے۔نیز وہ خُدا سے مخاطب ہونے اور قادرِ مطلق سے بحث کرنےکی آرزوکرتا ہے۔اور دوستوں سے مخاطب ہو کر عرض کرتا ہے کہ وہ چپ رہیں اور اس سے الگ ہوجائیں۔چنانچہ ان سے مایوس و بے زار ہو کر اور تنگ آکر) ایوب۱۳: ۱۶۔۲۸) میں بتاتا ہے کہ اس کا بھروسہ خُدا پر ہے۔اور دوستوں سے کہتا ہے کہ میرے گناہوں اور قصوروں کا شمار بناؤ۔اور میری تقصیریں اور خطائیں بیان کرو ایوب کا بھروسہ اپنے خُدا پر ایسا یقینی اور کامل ہے کہ وہ کہتا کہ اگر وہ مجھ کو مار بھی ڈالے تو بھی میں اپنا بھروسہ اسی پر قائم رکھوں گا۔چنانچہ وہ سب دوستوں کو ملامت کرتا اور چودھوں باب میں زندگی کی نہ پائیداری اور بے ثباتی پر ایک سبق دیتا ہے۔اور موت کے بھید پر غورو خوض کرکے سوال کرتا ہے۔کہ جب انسان کی جان نکل جاتی ہے تو وہ کہا ں جاتی ہے۔اور جب آدمی مرے تو کیا وہ پھر اُٹھے گا؟ موت اور قیامت کے راز کی تحقیق صرف خُداوند یسوع مسیح سے ہے۔جس نے موت کو مغلوب کیا اور قیامت کا مالک بن گیا دریافت ہوسکتی ہے۔
بحث و مباحثے کا دوسرا دور
سوال۔ 18:۔ اس دوسرے دورکا بیان کریں ؟
جواب:۔ بحث و مباحثے کا دوسرا دور ایوب کی کتاب کے سات ابواب یعنی(۱۵۔۲۱) میں ملتا ہے۔اسی دور میں ذیل کی باتیں قابلِ غور و مطالعہ ہیں۔
(1)۔(ایوب ۱۵: ۱۔۱۶) میں الیفزتیمانی ایوب پر ریا کاری کا الزام لگاتا ہے۔اور اسے کہتا ہے کہ تو بیہودہ باتیں کرکے مباحثہ کرتا ہے۔اور تیرے کلام میں فائدہ نہیں تو خُدا کے خوف کو برطرف کرکے اس کے آگے دغا کی باتیں کہتا ہے۔اور اگرچہ تو عیاروں کی باتیں کرتا ہے۔توبھی تیرا منہ تجھے گنہگار ٹھہراتا ہے۔اور تیرے ہونٹ تجھ پر گواہی دیتے ہیں۔اس کے بعد طنزکے طور پر کہتا ہے کہ کیا تو پہلا انسان ہے جو پیدا ہوا ہے؟کیا تو پہاڑوں سے پہلے بنایا گیا؟ تو کیا جانتا ہے کہ جس سے ہم آگاہ نہیں ہیں؟تجھ میں کون سی سمجھ ہے۔جو ہم میں نہیں۔سفید سر اور بوڑھے لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں۔جو کہ تیرے باپ سے بھی عمر میں بڑے ہیں۔کیا خُدا کی تسلیاں تیرے نزدیک حقیر ہیں؟آخر میں وہ کہتا ہے کہ خُدا تو اپنے قدوسیوں کا اعتبار نہیں کرتا توگھنونے اور بگڑے ہوئے آدمی کا کیا ذکر جو کہ بدی کو پانی کی ماند پی لیتا ہے؟
(2)۔(۱۵: ۱۷۔۳۵) الیفزتیمانی ایوب کو ریا کار ٹھہرا کر اس کو ان شریروں کی حالت کا جن سے وہ خود واقف تھا تصور دلاتا اور کہتا ہے کہ جیسے وہ ویران شہروں میں بستا تھے ۔اور ان کے گھر بے چراغ ہوئے تھے۔ویسے ہی سب ریاکاروں کے خاندان اُجڑ جائیں گے۔اور آگ رشوت خوروں کے ڈیروں کو جلا دے گی۔
ایوب کاچوتھا جواب ۔(ایوب۱۶۔۱۷ ،ابواب) ۔
(الف)۔(ایوب۱۶: ۱۔۱۵) ایوب اپنے دوستوں کی تکلیف دہ تسلّی پر ان کو ملامت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم میری سی حالت میں گرفتار ہوتے تو مَیں تمہارے ساتھ ایسا سلوک نہ کرتابلکہ تم کو زور بخشتا اور اپنے لبوں کی جنبش سے تمہارے رنج کو دور کرتا۔
(ب)۔(ایوب۱۶: ۶۔۱۰) ایوب اپنی بُری حالت پر نالاں ہے اور کہتا ہے کہ وہ جو مجھ سے کینہ رکھتا ہےمجھ پر دانت پیستا ہے میرا دشمن مجھ کو دیکھ کر تیر چشمی کرتا ہے۔وہ اپنا منہ مجھ پر پسارتے ہیں اور میرے گال پر تھپڑ مارتے ہیں۔اور مجھ پر ایک ساتھ جمع ہوئے ہیں۔
(ج) ۔(ایوب۱۶: ۱۱۔۲۲) میں وہ کہتا ہے کہ خُدا نے مجھے بے انصافوں کے حوالے کیا ہے۔اور بے دینوں کے ہاتوں میں ڈالا ہے، کہ ان کے تیر اندازوں نے مجھے گھیرا ہے۔وہ میرے گردوں کو چیر پھاڑ کرتا ہے۔وہ میرا پت (عزت)زمین پر بہاتا ہے۔اس پر ایوب ایک وکیل چاہتا ہے۔جو اس کے واسطے خُدا سے بحث و حجت کرے جس طرح کہ آدمی اپنے دوست کے لیے کرتاہے۔اور اپنی صداقت کا دعویٰ کرکے کہتا ہے کہ میرا گواہ آسمان پر ہے اور میرا شاہد عالمِ بالا پر۔
(د) ۔(ایوب۱۷: ۱۔۴) میں ایوب خُدا کے سامنے اپنے دوستوں میں سے وکیل نہ چننے پر یہ عذر پیش کرتا ہے کہ خُدا نے ان کو دانش سے خالی رکھا ہے۔
(ر)۔( ایوب۱۷: ۵۔۱۰)میں ایوب بے وفائی کا نتیجہ پیش کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ سیدھے لوگ اس کے حال سے حیران ہوں گے۔اور نیکو کاروں کو ریا کاروں پر رشک آئے گا۔اس پر بھی صادق اپنی راہ میں ثابت قدم رہیں گے۔اور وہ جس کا ہاتھ صاف ہے توانائی پر توانائی پیدا کرے گا۔
(س) ۔(ایوب۱۷: ۱۱۔۱۶) میں ایوب زندگی سے بے زار ہو کر قبر کا انتظارکرتا ہے کیونکہ اس کی اُمید جاتی رہی ہے۔اور کہتا ہے کہ میری اُمید پاتا ل کے دروازوں تک اُترے گی۔اور مجھ سے مل کر خاک میں پڑی رہے گی۔
بلدد سوخی کا دوسرا جواب
(ایوب۱۸: ۱۔۱۰) میں بلدد سوخی شریروں کی تباہی کی طرف اشارہ کرکےایوب کو اس کی زیادہ گوئی اور نیزا س سبب سے بھی کہ وہ ان کو حیوان ٹھہراتا ملامت کرتا اور بتاتا ہے کہ وہ اپنے غضب میں اپنی جا ن کو پھاڑتا ہے۔اور کہتا ہے کہ شریروں کا چراغ ضرور بجھایا اور ان کا منصوبہ گرایا جائے گا۔کیونکہ وہ اپنے پاؤں کو جال میں ڈالتا ہےکہ اس کے لیے دام زمین میں چھپایا ہوا ہے۔
(ایوب۱۸: ۱۱۔۲۱) میں ایوب کو بتلاتا ہے کہ وہ ہر طرف دہشتوں سے گھبرا جائے گا۔اور اس کا زور بھوک سے جاتا رہے گا۔اس کے بھروسے کی جڑ اس کے خیمے میں سے اُکھاڑ پھینکی جائے گی۔اوراس کی یاد گاری زمین پر سے مٹائی جائے گی۔لوگوں میں نہ بیٹا نہ بھتیجارہے گا۔اور ان سب کا حال جو خُدا کو نہیں پہچانتے ایسا ہی ہو گا۔
بلدد سوخی کو ایوب کا دوسرا جواب۔
(ایوب۱۹: ۱۔۶) میں بلدد سوخی کو ایوب ملامت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی اذیت کی حالت میں اس کواور بھی تنگ اور پریشان کرتا اور کچھ شرم نہیں کھاتا۔ایوب کہتا ہے کہ اگر مجھ سے خطا ہوئی تو بھی میرا قصورمیرے ہی ساتھ ہے۔اور میری اذیت خُدا کی طرف سے ہے۔(ایوب۱۹: ۱۷۔۲۰) میں ایوب کہتا ہے میری حالت اس سبب سے ایسی بگڑی ہوئی ہے کہ خُدا نے میری حُرمت اُٹھا لی اورمیرے سر پر سے تاج اُٹھالیا ہے اس نے مجھ کو ہر طرح سے برباد کیا ہے۔سو مَیں فنا ہو چلا ہوں درخت کی مانند اس نے میری اُمید کو اکھاڑا ہے۔اور مجھ پر اپنا غضب بھڑکایا ہے۔وہ مجھ کو اپنے دشمنوں میں شمار کرتا ہے۔(ایوب۱۹: ۲۱۔۲۹) میں وہ اپنے دوستوں سے رحم چاہتا ہےاور عرض کرتا ہے کہ ا سے آرزو ہے کہ اس کی باتیں کسی دفتر میں قلم بند کی جائیں۔یاکسی چٹان پر نقش کی جائیں تاکہ وہ ابد تک قائم رہیں۔ایوب اپنے ایک عجیب یقین کو ظاہر کرتا اور کہتا ہے کہ ہرچند میرے پوست کے بعد یہ جسم نیست کیا جائے گا۔لیکن مَیں اپنے گوشت میں سے خُدا کودیکھوں گا۔اسے میں مَیں اپنے لیے دیکھوں گا۔میری ہی آنکھیں دیکھیں گی نہ کہ بیگانے کی ایوب کی اس اُمید سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا متعقد اور منتظر تھا۔
ضوفرنعماتی کا ایوب کو جواب
(ایوب ۲۰باب) ضوفر اپنے جواب میں شریروں کی بدکرداری کا حشر بیان کرتا ہے۔چنانچہ(ایوب۲۰: ۱۔۱۹) وہ شریروں کی خوشی اور خوش حالی کو چند روزہ اور بے ثبات ظاہر کرتا ہے کہ شریروں کی صرف تھوڑے دنوں کے لیے ہے۔اور بے دنیوں کی شادمانی ایک لمحہ کی ہے۔شریر خواب کی مانند اُڑ جائے گااور پایا نہ جائے گا۔(ایوب۲۰: ۱۰۔۱۶) میں وہ بیان کرتا ہے کہ شریروں کی شرارت ان کے جسم میں سے مصیبت انگیز ہوگی۔اور ان کے اندر زہر ِقاتل ثابت ہوگی۔اور(۲۰: ۲۔۳) میں دو سے تین میں کہتا ہےکہ ان کو کامیابی نہ ہو گی کیونکہ اُنہوں نے مسکینوں کودبایا۔اور گھر جوان کے ہاتھ سے نہ بنا تھامے لیا تھا۔اور(ایوب۲۰: ۲۴۔۲۹) میں کہ اگر وہ آسودہ بھی ہو تو خُدا اس پر شدید قہر نازل کرے گا۔اور آسمان ان کی بدکاری کو آشکارا کرے گا۔اور زمین ان کے برخلاف اُٹھے گی۔
ایوب کا جواب ضوفر نعماتی کو
(ایوب ۲۱: ۱۔۲) میں ایوب اپنے دوست کو کہتا ہے کہ میری فریاد کسی انسان کے سامنے نہیں اور(ایوب ۲۱: ۷۔۱۴) میں کہتا ہے کہ شریروں کو البتہ برکت ملتی ہےان کی زندگی دراز ہوتی اور ان کے فرزندان کے ساتھ برقرار رہتی ہے۔ان کے گلے بڑھتے اور وہ عیش و عشرت میں اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔(ایوب ۲۱: ۱۵۔۲۱) میں کہتا ہے کہ گو شریر خُدا کو ترک کرتےہیں۔لیکن کامیابی ان کے قبضے میں نہیں ہے۔اور وہ بھوسے کی مانند ہیں جو کہ ہوا سے اُڑایاجائے۔خُدا ان کی بدکاری کو ان کے بچوں کےلیے جمع کرتا ہے۔(ایوب۲۱: ۲۲۔۳۴) ایوب ضوفر کی تسلّی کو اس سبب سے کہ ان سب کو جوابوں میں دغاہے۔عبث ٹھہراتاہے۔
تیسرا دور
سوال۔ 19 :۔ تیسرے دور کی تفصیل کریں؟
جواب:۔ اس حصے میں دس یعنی(۲۲۔۳۱) ابواب ہیں ۔
بائیسویں باب میں الیفزتیمانی کی تیسری تقریر ہےچنانچہ(ایوب۲۲: ۱۔۵) میں وہ ایوب کو سخت شریر قرار دیتا ہے اور خُدا کے سامنے مجرم اور ملزم قرار ٹھہراتا ہے اور کہتا ہے کہ خُدا کو انسان سے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتااور نہ اس کی راستبازی سےخوشی حاصل ہوتی ہے کیونکہ اس کی شرارتیں اور بد کاریاں بے حد ہیں۔(ایوب۲۲: ۶۔۱۱) وہ ایوب کی خطا کاریوں کی تفصیل اور نتائج بیا ن کرتا ہےکہ غالباً اس نے اپنے بھائی سے گرو مانگ(ادھار) لیا اور ننگے کے کپڑے کو اُتار لیا۔تھکے ماندے کو پانی نہ پلایا نہ بھوکے کو کھانا کھلایا۔زبردستی سے وہ زمین کا مالک بن بیٹھا۔اور صاحبِ عزت کی طرح اس میں بسا رہا۔ نیز کہتا ہے کہ تونے بیواؤں کو خالی ہاتھ لٹا دیا ہوگااور یتیموں کے بازوں توڑے ہوں گے اس سبب سے تیرے چاروں طرف پھندے ہیں، اور تیرے اچانک ہول تجھ پر پڑے ہیں۔اور ایسی تاریکی کہ جس کے سبب تو دیکھ نہیں سکتااور پانی ایسی باڑ لایا کہ جس نے تجھ کو چھپا لیا ہے۔
(ایوب۲۲: ۱۲۔۲۰) میں وہ ایوب کو تاکید کرتا ہے کہ اپنی بُری راہ سے پھرے اور ان شریروں کی مانند نہ ہو جنہوں یہ خیال کیا کہ خُدا ان کی بدکاریوں سے واقف نہیں ۔اور جان رکھ کہ خُدا آسمان کی بلندی پر ہے۔توبھی وہ انسان کے احوال سےآگاہ اور خوب واقف ہے۔اور(ایوب۲۲: ۲۱۔۳۰) میں ایوب کو اصلاح دیتا ہے کہ وہ خُدا سے آشنائی کرے تو اس کی خیر ہو گی اور وہ سلامت رہے گا۔اور وہ خُدا کے منہ سے اس کی شریعت کو لے اور اس کے کلام کو دل میں جگہ دے اور قادرِ مطلق کی طرف پھرے تو وہ بحال ہو گا اور کہتا ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے لیے اس کو بدکاری کو اپنے ڈیرے دور پھینکنی ہو گی۔تب خُدا اس سے راضی ہو گا اور وہ اس سے دُعا مانگے گا تو وہ سنے گا۔اور اس کو اس کے منصوبوں میں کامیاب کرے گا۔اور اس کی راہوں میں روشنی چمکے گی۔
(1) (ایوب۲۳۔۲۴) ابواب ایوب الیفزتیمانی کو جواب دیتا ہے۔
(ایوب۲۳: ۱۔۹) میں ایوب الیفزصلاح کے بموجب اپنی آرزو پیش کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ مَیں خدا کو ملنا چاہتا ہوں تاکہ اپنا معاملہ خُود اس کے سامنے پیش کروں۔اوراس کے جواب کا منتظر ہوں۔کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ وہ اپنی بڑی قدرت سے میرا مقابلہ نہ کرے گا بلکہ مجھے طاقت بخشے گا۔مَیں افسوس کرتا ہوں کہ اب تک مجھ کو اس کی آشنائی اور شناسائی حاصل نہ ہوئی(ایوب۲۳: ۱۰۔۱۷) تاہم مجھ کو اس بات سے تسلّی ہے کہ گو میں خُدا سے خوب واقف نہیں ہوں پر وہ مجھ سے بخوبی واقف ہے۔اور اس کو معلوم ہے کہ مَیں نے اس کی راہ کو حفظ کیا ہے اوراس نے کنارہ نہیں کیا اور اس کے لبوں کے حکم سے منہ پھیرا بلکہ ان کو اپنی زندگی ضررویات سے زیادہ عزیز جان کر محفوظ رکھا تو بھی جب مَیں خُداوند کی قدرتوں کو خیال میں لاتاہوں تو مجھ پر خوف چھا جاتا ہے۔
چوبیسویں باب میں ایوب کہتا ہے کہ از بسکہ انقلابات قادرِ مطلق سے پوشیدہ نہیں تو وہ جو اس کے آشنا ہیں اس کے ایام کو نہیں دیکھتے ۔ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو کہ کھیت کے ڈانڈوں کو سرکاتے اور زبردستی گلوں کو لے جاتے ہیں۔وہ مسکینوں کو رہ سے ہٹا دیتے اور زمین کے غریب غرباؤں کے خوف سے چھپتے ہیں ۔وہ طرح طرح کے ظلم اور نارستی کرتے ہیں۔تو بھی راستبازوں اور ان کے انجام میں کوئی نمایاں فرق معلوم نہیں ہوتا کہ قبر ان دونوں کو یکساں لے لیتی ہے۔ان سب باتوں کی نسبت وہ اپنی لا علمی کا اعتراف کرکے اپنے دوستوں سے اس کا جواب طلب کرتا ہے ۔
(2) بلدد سوخی کی تیسری تقریر
(3) (ایوب۲۵باب):۔ اس میں بلدد سوخی خُدا کی عظمت اورانسان کی بے قدری کی نسبت کہتا ہے کہ سلطنت اور محبت اس کی ہے۔وہ اپنے اونچے مکانوں میں صلح کراتا ہے پس خُدا کے حضور انسان کیوں کر صادق سمجھا جائے اور وہ جو عورت سے پیدا ہوا ہے کیوں کر پاک ٹھہرے دیکھ اس کی نظر میں نہ چاند کی روشنی اور نہ ستارے پاک ہیں۔اور انسان جو کہ کیڑا اور آدمزاد ہے۔وہ کیوں کر پاک ٹھہر سکتا ہے۔
(4) ایوب کی آخری تقریر (ایوب۲۶۔۳۱)ابواب:۔ اس تقریر میں کئی ایک باتیں ہیں۔ مثلاً
(الف) ۔(ایوب۲۶: ۱۔۵) میں وہ بلدد سوخی کی کمک کو عبث ٹھہراتا ہے۔
(ب)۔(ایوب۲۶: ۱۴) میں وہ خُدا کی قدرت اور دانش اور فیض عام کی تعریف کرتا ہے۔
(ج) ۔(ایوب ۲۷: ۱۔۱۲) میں ایوب خُدا کی قسم اُٹھا کر بلدد سوخی کو کہتا ہے کہ مَیں تجھے صادق نہیں ٹھہرا سکتا۔کیونکہ مجھ کو اپنی صداقت قائم رکھنا ضرور ہے۔ریا کاروں کو خُدا سے کیا اُمید ہو سکتی ہے؟سو مَیں نہیں چاہتا کہ میرا دل مجھے ملامت کرے۔
(د) ۔(ایوب ۲۷: ۱۳۔۲۳) میں شریر کی بدحالی اور اس کا انجام پیش کرتا اور کہتا ہے کہ ہر حالت میں اس کی کامیابی لاحاصل ہے کیونکہ اس کو خُدا اور انسان کی طرف سے کسی طرف کی مدد نہیں مل سکتی۔
(ر)۔(ایوب۲۸: ۱۔۱۹) میں وہ دُنیوی علوم میں انسان کی لیاقت اور قابلیت کی تعریف کرتا ہے۔خاص کر اس واسطے کہ زمین میں مدفون اور چھپے ہوئے خزینے (خزانہ کی جمع)دریافت کرکےنکلاتا ہے۔لیکن پھر کہتا ہے کہ اس کو معلوم نہیں کہ دانائی کہاں سے مل سکتی ہے۔وہ فہمیدہ(سمجھ دار) کےمکان اور اس کی قیمت سے ناواقف ہے۔کیونکہ وہ زندوں کو زمین سے حاصل نہیں ہوتی۔ گہراؤ کہتا ہے کہ دانائی مجھ میں نہیں اور سمندر کہتا ہے کہ میرے پاس بھی نہیں۔وہ بیش قیمت ہے اور سونے چاندی یا قیمتی پتھروں کے مقابلے میں خریدی نہیں جاسکتی۔
(س)۔(ایوب۲۸: ۲۰۔۲۸) میں ایوب سوال پیش کرتا ہے دانائی کہاں سے آتی ہے؟اور فہمیدہ کی جگہ کہاں ہے ؟ وہ انسان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے ۔پھر وہ اس کو کہا ں سے مل جاتی ہے۔ہلاکت اور موت دونوں کہتی ہیں کہ ہم نے اپنے کانوں سے اس کی شہرت سنی خُدا اس سے واقف ہے اور اس کے مقام کو جانتا ہے۔کیونکہ وہ زمین کی انتہا تک نظر کرتا ہے۔اور آسمان کے نیچے سب جگہ دیکھتا ہے۔اس نے انسان کو کہا کہ خُدا کا خوف دانائی ہے۔اور بدی سے دور رہنا فہمید ہے۔
(ص)۔(ایوب۲۹: ۱۔۲۵) میں ایوب اپنی پہلی حالت کا خواہش مند ہے۔اور کہتا ہے کہ جب خُدا میری نگہبانی کرتا تھا ۔اس کا چراغ میرے سر پر روشن تھا۔اور مَیں اس کی روشنی میں چلتا تھا۔قادرِمطلق میرے ساتھ تھا ۔میرے بچے میرے آس پاس تھے۔جوان اور بڈھے میری تعظیم کرتے تھے۔یتیم اور بیوائیں مدد کے لیے میرے پاس آتی تھیں۔مَیں ظالموں اور بے انصافوں کے بازوں توڑ ڈالتا تھا۔لوگ میری سنتے اور میرے منتظر رہتے تھے۔مَیں ان کے درمیان سردار تھا۔اور غم زدہ کو تسلّی دیتا تھا۔
(ط)۔(ایوب۳۰: ۱۔۱۵) میں وہ اپنی موجودہ حالت کا گزشتہ حالت سے مقابلہ کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ اب میری حقارت ان سے کی جاتی ہے جن کے باپ دادا اگر میرے گلے کے کتوں میں بٹھائے جاتے تو بھی اسے غنیمت سمجھتے۔ اب گو وہ نہایت ہی حقیر ہیں تو بھی وہ مجھ سے گھن کھاتے (نفرت کرنا)اور میرے منہ پر تھوکنے سے باز نہیں آتے۔
(ع)۔(ایوب۳۰: ۱۶۔۳۱) ایوب اپنی اذیت کے سبب سے خُدا کے سامنے فریاد کرتا ہے۔اور گو وہ جانتا ہے کہ سب مصیبت خُدا کی طرف سے اور اس کو بہت کم اُمید ہےکہ اس کی سنی جائے گی۔تو بھی کہتا ہے کہ جب آدمی گرتا ہے تو خواہ مخواہ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہےکہ شائد کسی نہ کسی طرح سے سنبھل جائے۔
(ف)۔(ایوب۳۱) باب میں ایوب اپنی وفا داری،دیانت داری،فیاضی،ہمدردی اور مسافر پروری سے اپنی زندگی کی صداقت ثابت کرتا ہے۔اور خُدا کو اپنا گواہ قرار دیتا ہے۔
الیہو کی تقریر ابواب(۳۲۔۳۷) ۔
سوال۔ 20:۔ الیہو کی کیفیت بیان کرو اور اس کی تقریرکی تفصیل کریں؟
جواب:۔(ایوب ۳۲: ۲) میں ذکر ہے کہ الیہو براکیل بوزی کا جو رام کے خاندان میں تھابیٹا تھا۔براکیل کا بہت ذکر نہیں لیکن اس کا باپ نحور کا بیٹا اور ابراہیم کا بھتیجا تھا۔
(ایوب۳۲: ۲۰۔۲۱) الیہو بیٹھا بیٹھا مختلف تقریریں سن کر جوش میں آگیا اور ایوب پر اظہارِ ناراضگی کیا کیونکہ وہ اپنے آپ کو خُدا سےزیادہ صادق ٹھہراتا تھا۔اور ایوب کے دوستوں پر اس واسطے کہ وہ ایوب کو بغیر کسی دلیل یا ثبوت کے خطا کار ٹھہراتے تھے جب کہ وہ خود اس کا قائل نہ تھا۔
(ایوب۳۲: ۱۔۵) میں وہ اپنے خفا ہونے کے اسباب بیان کرتا ہے۔
(ایوب۳۲: ۶۔۲۹) میں وہ کہتا ہے کہ بزرگوں کی ناکامیابی گو میں نوجوان ہوں مجبور کیا کہ ان کا مقابلہ کروں۔
(ایوب۳۳: ۱۰۔۱۱) میں الیہو ایوب سے مخاطب ہو کو کہتا ہے کہ مَیں دل کی راستی سے بولوں گااور معرفت کی صحیح باتیں کہوں گا۔اور ایوب کے اس دعویٰ کی کہ وہ پاک ہے اور خُدا اس سے دشمنی رکھتا اور اس پر سختی کرتا ہے اور اس کے پاؤں کاٹھ میں ڈالتا ہے،تردید کرتا ہے۔
(ایوب۳۳: ۱۶۔۳۳) میں ایوب کو جتاتا ہے کہ اس نے منصفی (انصاف،عدل)نہیں کیا اور کہتا ہے کہ خُدا ایک با رانسان سےبولتا ہے۔اور اگر وہ نہ سنے تو دوبارہ اور بعض اوقات رات کے وقت رویا میں یا خواب میں وہ انسان کے کان کھولتاہے اور اس کے ذہن میں تعلیم نقش کرتا ہے اور اس کو بچاتا ہے ۔خُدا انسان سےایسا عالی قدر ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی راہ انسان پر ظاہر نہیں کرتابلکہ حکم کرتا ہے بعض دفعہ خُدا انسان کو ایسے درد کے ذریعے تنبیہ دیتا ہے کہ وہ بستر پر پڑ جاتا اور روٹی کھانے سے بھی عاجز رہ جاتا ہے اور اس کا گوشت یہاں تک سوکھ جاتا ہےکہ اس کی ہڈیاں نظر آنے لگتی ہیں۔اور وہ قبر کے نزدیک پہنچ جاتا ہے۔اگرایسے وقت میں کوئی پیغمبر یا ناصح (نصیحت کرنے والا)پاس ہو جو اس کو اس کے فرائض سے آگاہ کرے تو خُدا اس پر رحم فرماتا ہے۔اور قبر میں گرنے سے بچاتا ہے وہی خُدا سے دُعامانگتا اور خُدا اس پر رحم فرماتا ہے۔اور آدمیوں کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار بھی کرتاہے۔خُداوند انسان سے تین بار اس قسم کا سلوک کرتا ہےتاکہ وہ قبر سے بچا رہےاور زمین کی روشنی سے روشن رہے۔ اس نے ایوب کو دوبارہ تاکید کی کہ وہ خاموش ہو کر اس کی بات سنے۔
(ایوب۳۴: ۱۔۹) میں وہ ان اشخاص کی توجہ ایوب کی راستبازی کے دعویٰ کی طرف لگاتا ہے۔اور کہتا ہے کہ حالانکہ ایوب شریر کے ہمراہ ہو کر شرارت کرتا ہے۔تو بھی وہ اپنے آپ کو صادق ٹھہراتا اور خُدا پر الزام لگاتا ہے۔
(ایوب۳۴: ۱۰۔۱۶) الیہو ان کے سامنے خدا کے انصاف کی تعریف کرتا اور کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ بے انصافی کرے یا قادرِمطلق ایسا کرتا ہے؟بلکہ وہ ہر ایک آدمی کو اس کے چال چلن کے مطابق پھل دیتا ہے۔ہر ایک انسان اپنے اعمال کے بموجب اجرپاتا ہے۔خدا قادرِ مطلق ہے۔اورعدالت میں خلل نہیں ڈالتا۔اور خاص ان ہی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہاس کی آنکھیں انسان کی راہوں پر لگی ہیں۔اور وہ اس کی سب روشوں پر نظر کرتا ہے۔بدکار اپنے آپ کو ہرگز چھپا نہیں سکتا۔اور وہ اس واسطے کہ وہ ان کے کاموں سے واقف ہے ان کو سزا اور جزا دیتا ہے۔(۳۴ باب ۲۹ سے ۳۷ )آیت میں وہ کہتا ہے کہ ایوب کو خدا نے خاص اس واسطے اس حالت میں مبتلا کیا کہ اس کو اپنے ماتحتوں کو تنگ کرنے اور ان پر ظلم کرنے کا موقعہ نہ ملےسو اس واسطے وہ کہتا ہے کہ مناسب ہے کہ ایوب خُدا کے سامنے توبہ کرکے اقرار کرے کہ وہ پھر اس طرح نہ کرے گا۔
الیہو چاہتا ہے کہ خدا ایوب کوآخر تک آزمائے۔
(ایوب۳۵) باب میں الیہو ایوب سے سوال کرتا ہے کہ کیا تونے جو کچھ کہا ہے اسے واجب سمجھتا ہے؟کیا تیری صداقت سچ مچ خُدا کی صداقت سے بڑی ہے؟اور اسے متنبہ کرتا اور کہتا ہے کہ خُدا کا مرتبہ انسان کے مرتبے اس لیے اعلیٰ اور عالیٰ قدر ہے کہ وہ انسان سے بہت بڑااور افضل ہے۔اور انسان اس کے سامنے کچھ حقیقت نہیں رکھتا ۔اس کی راستبازی اور بدی سے خُدا کو کچھ نفع اور نقصان نہیں پہنچتا۔ہاں البتہ تیری شرارت سے انسان کو ضرور ضرر اور صداقت سے نفع پہنچ سکتا ہے۔تیری دُعا اور تیری بد کرداری غرور اور ذاتی بھروسے کی وجہ سے لائق قبولیت اور نہیں کیونکہ خُدا ریا کار اور مغرور کی دُعا نہیں سنتا۔
(ایوب۳۶: ۱۔۱۶) میں الیہو انسان کے خُدا کے ہر ایک سلوک کو جائز ٹھہرا کر کہتا ہے کہ وہ شریروں کو جینے نہیں دیتا۔پر مظلوموں کا انصاف کرتا ہے۔وہ راستبازوں سے چشم پوسی نہیں کرتا۔بلکہ انہیں ان کی مصیبتوں سے چھٹکارادیتا اور ان کے گناہوں کوان پر ظاہر کرتا اور ان کے کاموں کو کھولتاہےکہ ان کی تربیت ہو وہ ان کو حکم کرتا ہے کہ وہ بدی اور بدکاری سے باز آئیں۔اور وعدہ کرتا ہے کہ اگر وہ متوجہ اور میری بندگی کریں تو وہ اپنے دنوں کو عیش اور برسوں عشرت میں بسر کریں گے ۔لیکن اگر وہ فرمانبرداری نہ کریں تو وہ تلوار سے ہلاک کیے جائیں گے۔اور بے وقوفی میں مریں گے۔بے دینوں کی جان جوانی میں جاتی ہے لیکن وہ مصیبت کے قیدیوں کو رہائی بخشتا ہے۔
(ایوب۳۶: ۱۷۔۳۳) الیہو ایوب کو کہتا ہے کہ شرارت سے بھرا ہو اہے سو عدل و انصاف نے تجھ کو گفتار کیا ہے۔اور تاکید کرتا ہے کہ خُدا کی تنبیہ صبر سے برداشت کر کیونکہ وہ عادل ہے اس کی عدالت اوردانائی میں ہرگز نقص دخل نہیں پاتا۔
(ایوب۳۷: ۱۔۱۳) وہ ایوب کے سامنے خُدا کی دانشمندی اور حکمت اور قدرت ظاہر کرتا اور اس سے استفسار(دریافت ) کرتا ہے۔کہ کیا اس کا علم رکھتا ہےکہ انسان قادرِ مطلق کے بھید تک نہیں پہنچ سکتاکہ اس کی عدالت اور قدرت عظیم ہے اور اس کا انصاف فراواں (بہت زیادہ) ہے۔اور چاہئے کہ لوگ اس سے ڈریں کیونکہ وہ ان میں سے کسی پر جو اپنے دل میں عقل مند ہیں،پر نگاہ نہیں کرتا اور تصدیعہ (تکلیف)نہیں دیتا۔
سوال۔ 21 :۔دوسرے حصے کی چوتھی بات کی تشریح کریں؟
جواب: ۔اس چوتھی بات میں چار ابواب ہیں یعنی(باب۳۸۔۴۲: ۱۔۶آیت تک) ۔
ان ابواب میں خداوند کی تقریر بہ تفصیل درج ذیل ہے۔
(الف)۔(ایوب۳۸ باب) میں خُداوند بگولے میں سے ایوب کو دُنیا کی پیدائش اور اس کے انتظام کے سلسلے کےبارے میں چند سوالات کے ذریعےعلم و عقل میں قاصر ہونےکا قائل کرتا ہے۔چنانچہ خُداوند اس سے سوال کرتا ہے کہ جب مَیں نے دُنیا کی بنیاد ڈالی تو کہاں تھا؟ کیا اس کی پیدائش اور اس کی تنظیم (انتظام)میں شریک وشامل تھا؟ کیا تو مقدور رکھتا ہے کہ صبح پر بارش پر سمندر پر یابجلی پر اپنا حکم چلائے؟ کیا تو جنگلی جانوروں اور کوئے کی غذا تیار کرسکتا ہے؟جب کہ ان کے بچے خُدا کے سامنے چلاتے اور خورش(خوراک) کے محتاج ہو کر بھٹکتے پھرتے ہیں۔
(ب)۔(ایوب ۳۹باب) میں خُداوند ہرنی، گورخر،گینڈے اور شتر مرغ کی عادات پیش کرکے ایوب سے سوال پیش کرتا ہے۔کہ کیا تو ان سے واقف ہے؟کیا تونے گھوڑے کو ایسا زور بخشا ہے کہ وہ دہشت پر ہنستا ہےاور جنگ میں ہرساں نہیں ہوتا؟کیا باز تیری ہوشیاری سے اڑتا ہے؟ یا عقاب تیرے ہی حکم سے بلندی پر پرواز کرتا اور اُنچائی پر گھونسلہ بناتا ہے۔
(ج) ۔(ایوب۴۰: ۱۔۵) خُداوند ایوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تیرا مجھ سے جھگڑنا اور مقابلہ کرنا عبث ہے ۔ایوب نے اس سے قائل ہو کر کہا کہ مَیں اپنے منہ پر ہاتھ رکھتا ہوں۔اور خاموش ہو رہا۔
(د)۔(ایوب۴۰: ۶۔۱۴) میں گردباد میں ظاہر ہو کرایوب سے سوال کرتا ہےکہ کیا تو میری عدالت کو باطل ٹھہرانا چاہتا ہے؟ کیا تو مجھے مجرم قرار دے گا کہ تو صادق ٹھہرے؟ تو اپنے تئیں شوکت اور فضلیت سے سنواراور جلال سے ملبوس ہو۔اپنے غصے کا جوش بڑھا اور مغروروں کو پست کر ۔اور شریروں کو ان کئے مکان میں لتاڑ ڈال تو مَیں تیرا اقرار کروں گا۔کہ تیرا دہنا ہاتھ تجھے رہائی دے سکتا ہے۔
(ر)۔(ایوب۴۰: ۱۵۔۲۴) میں خُداوند ایوب کی توجہ دریائی گھوڑے کی طرف لگاتا ہے کہ وہ اس کی عادات اور اس کے زور پر غور کرے اور پوچھتا ہے کہ کیا وہ انسان کے قابو میں آسکتا ہے؟
(س)۔(ایوب۴۱باب) میں ایوب کی توجہ لویاتان کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ وہ بھی ہرگزانسان کے قابو میں نہیں آسکتا۔سو جب کہ انسان کو جرات نہیں کہ اس کو جو مخلوق چھڑے تووہ کون ہے جو اس کے خالق کا مقابلہ کرے؟
(ص)۔(ایوب۴۲: ۱۔۶) میں ایوب ان سب کے جواب میں کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ تو سب کچھ کرسکتا ہے۔اور یہ ممکن نہیں کہ تیرا اور کوئی ارادہ انجام کو نہ پہنچے۔اس قابلیت پر ایوب نے اپنے قصور مان لیے۔اور کہا کہ مَیں نے تیری خبر کانوں سے سنی تھی۔لیکن اب میری آنکھیں تجھے دیکھتی ہیں۔سومَیں اپنے سے بے زار ہوں خاک اور راکھ پر بیٹھاہوا توبہ کرتا ہوں۔
تیسرا حصہ تتمہ
سوال۔ 22: ۔ایوب کی کتاب کے تیسرے حصے یعنی تتمے(بقیہ) کا مختصر بیان کریں؟
جواب:۔ یہ ایوب کی کتاب کا تتمہ( ایوب۴۲: ۶۔۱۷) اس حصے میں ایوب کی بحالی سرفرازی اور خُداوند کی طرف سے اس کے دوستوں کو سوختنی قربانیاں گزراننے کا حکم دیا۔اور ایوب کو اس کی خاطر قبولیت کے وعدے پر اپنے دوستوں کے لیے دُعا مانگنے کا حکم ملنا مندرج ہے۔ایوب کی حالت کی تبدیلی اس وقت ہوئی جب اس نے اپنے دوستوں کو معاف کیا۔اور ان کے لیے دُعا مانگی۔خُداوند نے ایوب کو اس کی آخری عمر میں یعنی آزمائش کے بعد اس کی پہلی زندگی کی بانسبت زیادہ متمول (دولت مند)اور بابرکت بنایااور وہ عمر رسیدہ ہو کر مر گیا۔
سوال۔23:۔ ایوب کی کل کتاب کو بحث کرنے والوں کے لحاظ سےتقسیم کریں۔
جواب:۔اس کتاب میں(۴۲) ابواب ہیں۔جن میں سے(۱۔۲) تمہیدی ہیں۔
(۲۰) ابواب یعنی(۳، ۶، ۷، ۹، ۱۰، ۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۶، ۱۷، ۱۹، ۲۱، ۲۳، ۲۴، ۲۶، ۲۷، ۲۸، ۲۹ اور ۳۰) میں ایوب کی تقاریر ہیں۔(۴) ابواب یعنی(۴، ۵، ۱۵، ۲۲) میں الیفزتیمانی کی قیل و قال(گفتگو،بات چیت) ہے۔
(۳) ابواب یعنی(۸، ۱۸، ۲۵) میں بلدد سوخی کی(۲) یعنی(۱۱، ۲۰) ابواب میں ضوفر نعماتی کی(۶) یعنی(۳۲، ۳۳، ۳۴، ۳۵، ۳۶ اور ۳۷) میں الیہو کی اور (۵) یعنی(۳۸، ۳۹، ۴۰، ۴۱اور ۴۲) میں خُداوند کی تقاریر ہیں۔
نوٹ:۔
ایوب شیطان کے سوال کا جواب دیتا ہے۔اس کی وفاداری اس بات کی شاہد و ثبوت ٹھہری کہ وہ اس کی خود غرضی کے سبب سے خُدااسے پیار نہ کرتا تھا۔اور اس سوال کا جواب ایوب کے دوستوں کی طرف سےتھا۔کہ دُنیا میں دُکھ اور مصیبت کا کیا سبب ہے؟اورکہ انسان ان میں کیوں مبتلا ہوتا ہے؟اس کا جواب خُداوند کی طرف سے دیا گیا۔کہ انسان اس کا مخلوق اور خادم ہے۔سووہ اس کو اپنی خدمت کے واسطےتیار کرتا اور اپنا جلال اس وسیلے سے ظاہر کرتا ہے۔لہٰذا انسان کا فرض کلی یہ ہے کہ وہ خُدا سے ڈرے اور بدی سے باز رہے۔اور فرض کو پہچان کر فرمانبرداری اور اطاعت کرے۔
( تمام شد)
زبور کی کتاب
باب اوّل
تمہید اور تواریخ
سوال۔1: ۔زبور کی کتاب کی تعریف کریں؟
جواب:۔زبور کی کتاب عبرانی کے حصے اوّل کی سوئم کتاب ہے۔اور ہیگیاگرافی یعنی نوشتہ کہلاتی ہے۔اس سبب سے باقی تما م نظمی کتب زبور کی کتاب پر مشتمل ہیں۔پرانے عہد نامے میں قوم اسرائیل کی دینی تواریخ اور زبور کی کتاب میں اس قوم کے بانی مبانی نجات دہندہ اور بادشاہ کی تعریف اور کیفیت ہے۔یہ اس قوم کی خاص عبادتی کتاب ہے۔جس کے وسیلے وہ قوم خُدا کے حضور پہچانی جاتی تھی۔اور یہ ان کے لیے خُدا کی طرف سے خاص روحانی برکات حاصل کرتی تھی۔اس کتاب کے مطالعہ سے ہم کو ناصرف اس قوم کی روحانی برکات کا علم ہوتاہے۔بلکہ ہم خُدا کی بھی واقفیت حاصل کرتے ہیں۔جس نے اس قوم کو برکتیں دیں۔علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب صرف اس قوم کے لیےنہ تھی بلکہ خُدا کے کل برگزیدہ لوگوں کے لیے ہے۔جو فی زمانہ ہر قوم وملت میں سے بلائے جا تے اور اس کے گلے میں شمولیت پاتے ہیں۔ چنانچہ یہ کتاب ہمارے پاس بھی ہے۔کہ اس کے مطالعہ اور تشخص سے ہم بھی خُدا کاپاس پہنچنے کا قابل ہوں۔اور روحانی برکات کے بانی واقف ہوں اور ابدی زندگی حاصل کرکےروحانی برکتیں حاصل کریں۔
سوال ۔2:۔اس کتاب کے مصنفین کی کیفیت بیان کریں؟(۰۱۲۳۴۵۶۷۸۹)
جواب:۔ زبور کی کتاب ایک ہی مصنف سے ایک ہی زمانے میں تصنیف نہیں ہوئی۔اس کے کئی ایک مصنف ہیں جو کہ اس کی تصنیف میں موسیٰ سے لے کر عزرا تک ایک ہزار سال تک مصروف رہے۔یہ کتاب باوساطت روحِ القدس کلیسیا سے کلیسیا کے واسطے مرتب ہوئی۔اس کتاب میں کل( ۱۵۰ )زبور ہیں جن میں سے ایک سو ایسے ہیں جن کے مصنفوں ان کے سرناموں میں مندرج ہیں۔ چنانچہ ان میں سے(۷۳) داؤد کے(۱۱) بنی قورح کے (۱۲)آسف کے دو سلیمان کے اور ایک موسیٰ کا باقی(۵۰) بباعثِ گمنام ہونے کے یتیم کہلاتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ان میں سے زیادہ داود کی تصنیف ہوں۔
سوال۔3:۔بنی اسرائیل کے زمانے میں یہ کتاب کن ناموں سے مشہورتھی؟
جواب:۔بنی اسرائیل کے زمانے میں یہ کتاب عبرانی زبان میں تحلم یا سفر تحلم یعنی تعریف و حمد کی کتاب کہلاتی تھی۔اس کو تیفلوتھ یعنی دُعاؤں کی کتاب بھی کہتے تھے۔زبور 72 آیت اور سپوجنٹ یعنی ہفتادی ترجمہ پسالماس کہا گیا ہے۔اور یہ لفظ مزمور کا ترجمہ ہے۔ یہودیوں کے زمانے کے بعد ویٹیکن ترجمے میں لفظ سالماہے استعمال ہوا ہے اور یونانی زبان میں پسالٹر یا پسالیٹر کہلائی۔
سوال۔4:۔زبور کی کتاب کی تقسیم کریں؟
جواب:اس کتاب میں پانچ حصےہیں۔
ہر ایک حصہ ایک کتاب ہے۔اس لیے بعض نے اس کو پینٹی ٹیوک بھی کہا ہے۔زبور کی کتاب مخصوص بالعبادت ہےاور ہیکل کی کتاب میں استعمال ہوتی تھی۔اس کی پانچ کتابیں حسب ذیل ہیں۔
(۱لف)۔(زبور۱۔۴۱) یعنی شروع کے (۴۱) زبور ماسوائے(۱، ۲، ۱۰، ۳۳) زبوروں کے باقی سب کے سب داؤد کی تصنیف ہیں۔اس کا خاتمہ تمجید۔تثلیث اور دہرائی آئین سے ہوتاہے۔یہ کتاب سلیمان کے ایام میں ہیکل کی عبادت کے لیے تالیف ہوئی تھی۔
(ب)۔(زبور۴۲۔۷۲) یعنی(۳۱) زبوروں کا مجموعہ ۔ان میں سے اٹھارہ تو داؤد کے ہیں۔چار (۴)گمنام سات(۷) بنی قورح کی تصنیف اور ایک آسف کا اور ایک سلیمان کاہے۔یہ کتاب بھی کتاب اوّل کی طرح تمجید، تثلیث اور دہرائی آئین سے ختم ہوتی ہے اوراس کے اختتام پر بھی آیا ہے کہ داؤدبن یسی کی دعائیں ختم ہوئیں۔یہ کتاب سلیمان کے وقت میں ہیکل کی عبادت کے لیے تالیف ہوئی۔
(ج)۔(زبور۷۳۔۸۹) یعنی سترہ(۱۷) زبوروں کی کتاب ان میں سے صرف ایک داؤد کا ہے۔(۱۱) آسف کے۔(۴) بنی قورح کا اور(۱) ایتان اروخی کا ہے۔ یہ بھی کتاب اوّل اور دوئم کی طرح ختم ہوتی ہے۔غالباً حزقیاہ بادشاہ کے دنوں میں جب کہ اس نے یہودیوں کی اصلاح کرکےہیکل کی عبادت پھر شروع کی تصنیف ہوئی دیکھو(۲۔تواریخ ۲۹: ۲۰۔۳۰) ۔
(د)۔اس میں(۱۷) یعنی(زبور۹۰۔۱۰۶)ہیں ۔ان میں سے زبور (۹۰) تو موسیٰ کا ہے۔یہ سب سے پرانا زبور معلوم ہوتا ہے۔(۱۴) زبور گمنام ہیں۔(۲) زبور داؤد کےہیں۔یہ تمجید،تثلیث اورثم آمین سے ختم ہوتی ہے۔ان (۴۰) زبوروں میں سے کئی زبور یہوسفط اور حزقیاہ بادشاہ کےایام کی تصنیف ہیں۔یہ کتاب اسیری کے بعد تالیف ہوئی اور اس کا زبور(۱۰۲) ایام اسیری کی تصنیف ہیں۔جو کہ غالباً عزرا کاہے۔
(ر)۔اس میں (۴۴) یعنی(زبور۱۰۷۔۱۵۰)ہیں۔ان میں سے(۲۸) تو گمنام ہیں اور یعنی ان کے مصنفین کا کچھ پتہ نہیں کہ کون تھے؟اور کب ہوئے؟(۱۵) داؤد کے اور(۱) سلیمان کا یہ گمان کیا جاتاہے کہ یہ کتاب غالباً اسیری کے بعد عزرا کے ہاتھ سے تالیف ہوئی اس کے خاتمے پر کئی ایک ہالیلویاہ ہیں۔
سوال۔5:۔مضمون کے لحاظ سے زبور کی کتاب کی تقسیم وتفصیل کریں؟
جواب:۔بلحاظ مضمون اس کتاب کے چھ حصے ہیں۔(۱) دُعائیہ حصہ۔(۲) شکرانہ وحمد۔(۳) عبادتی۔(۴) اُصولی وتعلیمی ۔(۵)مسیحانااور(۶) تواریخی۔
حصہ اوّل:۔دعائیہ ۔اس کی یوں تقسیم کی گئی ہے۔
(الف)۔ گناہ کی معافی اور رحم کے واسطے دُعا (زبور۶، ۲۵، ۵۱، ۱۳۰) ۔اس زبور میں( زبور۳۲، ۱۰۲) نادمی(پشمان،شرمسار) زبور ہیں ۔
(ب)۔غمزدگی کی دُعائیں خاص کر اس وقت کی جب کہ خُدا کا پرستار اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔(زبور۴۲، ۴۳، ۶۳، ۸۴)۔
(ج) ۔مدد اور رہائی کے لیے دُعائیں جب کہ دُکھ، تکلیف اور خطرے میں ہو۔(زبور۴، ۵، ۲۸، ۴۴، ۵۵، ۶۴، ۷۹، ۸۰، ۸۳، ۱۰۹، ۱۲۰، ۱۴۰، ۱۴۱، ۱۴۲) ۔
حصہ دوئم:۔ شکرانہ وحمد۔اس میں دو چھوٹے ؟حصے ہیں۔
(الف)۔ شخصی برکتوں کے واسطے شکر گزاری (زبور۹، ۱۸، ۲۷، ۳۰، ۳۴، ۴۰، ۱۰۸، ۱۱۶، ۱۱۸، ۱۳۸، ۱۴۴، ۱۴۵) ۔
(ب)۔عام کلیسیائی برکتوں کے لیے شکر گزاری۔(زبور۴۶، ۴۸، ۶۸، ۸۱، ۸۵، ۹۸، ۱۱۷، ۱۲۴، ۱۲۶، ۱۲۹، ۱۴۹) ۔
حصہ سوئم:۔عبادتی۔ اس میں بھی دو چھوٹے حصے ہیں۔
(الف)۔خُدا کی صفات کی تعریف اور بزرگی اوراس کے جلال اور کاملیت کے بارے میں (زبور۸، ۱۹، ۲۴، ۲۹، ۳۳، ۴۷، ۵۰، ۶۵، ۶۶، ۷۶، ۹۳، ۹۶، ۹۹، ۱۰۴، ۱۱۱، ۱۱۳، ۱۱۴، ۱۱۵، ۱۳۴، ۱۳۹، ۱۴۸، ۱۵۰) ہیں۔
(ب)۔خُدا کی محافظت اس کی تعریف۔(زبور۲۳، ۹۱، ۱۰۰، ۱۰۳، ۱۰۷، ۱۲۱، ۱۴۶) ہیں۔
حصہ چہارم:۔اُصولی تعلیمی۔یہ بھی کئی ایک حصوں میں منقسم ہے۔مثلاً
(الف)۔پاک کلام کی خوبیاں (زبور۱۹، ۱۱۹) ۔
(ب)۔فانی انسان کی بطالت( زبور۳۹، ۴۹، ۹۰) ۔
(ج) ۔ نیک و بد اشخاص کے خصائل(زبور۱، ۵، ۷، ۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۴، ۱۵، ۱۷، ۳۶، ۳۷، ۵۲، ۵۸، ۷۳، ۷۵، ۹۲، ۹۴، ۱۱۲، ۱۲۵، ۱۲۷، ۱۲۸، ۱۳۵)۔
حصہ پنجم:۔ مسیحانہ۔ اس حصے میں خُداوند مسیح کی آمد ،عہدے، خدمت اور اذیت کی پیش گوئی اور اس کی تعریف ہے۔جو کہ (زبور۲، ۲۰، ۲۱، ۲۲، ۳۵، ۴۱، ۴۵، ۶۱، ۶۸، ۷۲، ۸۷، ۸۹، ۱۱۰، ۱۳۲) ۔
حصہ ششم:۔ تواریخی۔اس حصے میں بنی اسرائیل کی تواریخ ہے۔اس میں پانچ زبور ہیں۔یعنی( زبور۷۸، ۱۰۵، ۱۰۶، ۱۳۵، ۱۳۶) ۔
سوال۔ 6:۔ ہمیں داؤد کا کیوں احسان منداور شکر گزار ہونا چاہیئے؟
جواب:۔ ہمیں داؤد کے احسان منداور شکر گزار اس لیے ہونا چاہئے کہ
(الف)۔اس نے گانے کے ذریعے حمد و ثنا کو عبادت کا اوّل و ضروری حصہ ٹھہرایا۔جس میں سب خواندہ اور ناخواندہ سب شمولیت کرسکتے ہیں۔
(ب)۔ اس کے ذریعے خُدا نے حمدو ثنا کی کتاب عطا فرمائی۔جس کے استعمال سے ہم کو خُدا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔اور ہم کو ایسی برکتیں ملتی ہیں کہ جن سے ہماری زندگی تروتازہ اورو بحال و پھل دار بنی رہتی ہے۔
(ج)۔داؤد کے زمانے تک خُدا کی عبادت میں ثنا خوانی شازو نادر ہوتی تھی۔لیکن داؤد نے اس کو عبادت کا ضروری حصہ قرار دیا۔جو کہ آج تک جاری ہے۔داؤد صرف شاعر ہی نہ تھا۔علمِ موسیقی میں اس کو کافی دسترس و ملکہ(مہارت) تھا۔اس صفات وباکمال کا کتاب کو داؤد نے ملہم ہو کر لکھا۔
(د)۔ یہ ضروری بات ہے کہ ہادی و پیشوا اشخاص خود خُدا شناس خُدا کی صفاتِ کاملہ کو اوروں پر ظاہر کرنے کے قابل ہوں۔داؤد کے زبوروں کے علاوہ ددیگر لکھنے والے بھی ملہم اشخاص تھے۔اس لیے وہ اوروں کے رہبر ہونے کے قابل تھے۔
(ر)۔ غیر ملہم اشخاص کے گیتوں میں ایک خاص نقص ہوتا ہے کہ ان کے مضمونوں کا بڑا حصہ خُدا نہیں ہوتااور نہ ہوسکتا ہے۔زبوروں میں جو کہ الہٰامی ہیں خُدا مخاطب ہے جو کہ انسان سے کلام کرتا ہے اس لیے تمام زبور بے نقص صحیح ہیں۔ان کی تعلیم میں بھی کسی قسم کا نقص نہیں۔وہ خُدا کی سب صفات صحیح اور واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔اور اس تک رسائی حاصل کرنے کے ضروری اور واجبی طریقےاور طریقے بھی بتاتےہیں۔سو صرف زبور ہی خُدا کی عبادت معقول اور مقبول ہو کیونکہ خُدا جو اپنی صفات میں کمال رکھتا ہے۔انسان سے کامل عبادت طلب کرتا ہے۔خواہ علامتی ہو خواہ معنوی۔
سو اس کتاب کے لیے ناصرف داؤد کی بلکہ اس سے پیشتر خُدا کی شکرگزاری بہت ضروری ہے۔
سوال۔7 :۔ زبور کی کتاب میں کن باتوں کی تعلیم ہے؟
جواب:۔ زبور کی کتاب کل بائبل کا جمال اور خلاصہ ہے۔کیونکہ زبور کی کتاب غرض وغایت مسیح کی کلیسیاء کی آراستگی و اصلاح ہے۔اس میں علمِ الہٰی کی کل تعلیم درج ہے۔تاکہ وہ خُدا کی ذات و صفات کو صفائی سے ظاہر کرے۔اور انسان کی گناہ آلودگی،تنگ دستی،برگشتگی اور مستوجب سزا ہونے کو بخوبی بیان کرے۔اور اس کی توجہ راہِ نجات کی طرف لگائے اور نجات کی خوبیاں انسان پرعیاں و بیان کرے۔اس لحاظ سے اس کتاب کا مطالعہ غور اور دل سے کرنا چاہئے۔
سوال۔8:۔ زبور کی کتاب کے نظمی ترجموں کی تواریخ بیان کرو۔
جواب: ۔(۱۵۱۸ء) میں مائبلترکو ورڈیل صاحب نے اس کتاب کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا۔اس کے بعد ٹامس سٹرن ھولڈ اور ہاکنز صاحبان نے ایک منظومی ترجمہ انگریزی میں تیار کیا۔اور(۱۵۶۳ء) میں انگلستان کی ملکہ الزبتھ نے اس ترجمے کو منظور فرما کر انگلستان کی کلیسیا ءمیں جاری کروایا۔اور(۳۵) سال کے عرصے میں اس ترجمے کی چھپوائی (۳۰۹) دفعہ ہوئی۔اس کے بعد ٹیٹ اوربریڈی صاحبان نے ایک اور ترجمہ کیا جو کہ سٹرن ھولڈ اور ہاکنزترجمہ کی جگہ چرچ اور انگلینڈ میں استعمال ہونا شروع ہوا۔دیگر کلیسیائیں گیتوں کی آمد تک سٹرن ھولڈ اور ہاکنز ترجمہ ہی استعمال کرتی رہیں۔(۱۶۴۶ء) میں فرانسس روز صاحب نے جو کہ چارلس اوّل شاہ انگلستان کے عہد میں پارلمنٹ کا ممبر اور بعد میں کرام ویل کے مشیروں میں شمار ہوا۔زبوروں کا منظومی ترجمہ کیا۔جو کہ پہلے تراجم سے بڑھ کر تھا۔چنانچہ ویسٹ منسٹر اسمبلی نے ترجمہ کلیسیا ءانگلستان کے لیے منظور کیا۔اور کچھ عرصے کےبعد ملک سکاٹ لینڈ کی پرسٹرن کلیسیا ءکی جنرل اسمبلی نے بھی ترجمہ کلیسیاء سکاٹ لینڈ کے لیے منظور کیا۔اور امریکہ کی ریفاریڈ اور یونائٹڈل پیرسٹرین کلیسیاؤں نے بھی اس کو عبادت میں استعمال کرنا شروع کیا۔(۱۷۱۵ء) میں آئزک واٹس صاحب نے ایک گیت مالاعین زبوروں کی مثل تیار کیا۔چندبرس ہوئے کہ امریکہ کی یونائیٹڈ پرسٹرین جنرل اسمبلی روز صاحب کے ترجمے کی نظر ثانی کروائی اور اسے اپنی کلیسیاؤں میں رائج کیا۔ (۱۸) صدی کے شروع میں واٹس اور ویزلی صاحبان کے بنائے ہوئے گیت زبوروں کی جگہ جو کہ ہر ایک مسیحی جماعت کے لیے خُدا کی خاص بخشش اور روحانی برکات کاسبب ہیں استعمال ہونے لگے ۔اس سے کلیسیاؤں میں ایک بدعت قیام پکڑ گئی۔جس کا نتیجہ موجودہ زمانے میں یہ نظر آرہا ہے۔ہر ایک مسیح فرقہ اپنی مرضی کے موافق گیت تیار کرکے عبادت میں استعمال کرتا ہے۔ ملکِ پنجاب میں داؤد کے زبوروں کا اُردو ترجمہ ڈاکٹر اینڈروگارڈن ،ڈاکٹر آئی ۔ڈی شہباز اور پادری لٹمن صاحبان کا تیار کیا ہواہے ،جو کہ کچھ عرصے تک یو۔ پی کلیسیا ءمیں جاری رہا۔اور آج کل جو پنجابی ترجمہ یو۔ پی کلیسیاء میں رائج ہے۔وہ پادری ڈی ۔ایس لائیٹنل اور ڈاکٹر آئی۔ڈی شہباز صاحبان کا تیار کیا ہوا ہے۔اس کا استعمال یو۔ پی جماعت کی دوسری مسیحی جماعتوں میں بھی ہوتا ہے۔
سوال۔9:۔ زبوروں کے استعمال کی تواریخ بیان کریں؟
جواب:۔ داؤد، یسعیاہ، یرمیاہ اور کل انبیا ءنے خُدا کی عبادت کے اوقات پر صرف زبوروں کا استعمال کیا کرتے تھے۔بادشاہ اپنی فتح مندی کی خوشی پر ان زبوروں کو گاتے تھے۔اور یہودی لوگ اسیری سے واپس آتے ہوئے گا کر خُدا کی حمد و ثنا، تعریف اور تمجید کرتے تھے۔اس طرح سے وہ ایک دوسرے کا حوصلے بڑھاتے اور دلوں کو تقویت دیتے تھے۔تاکہ وہ دلیر ہو کر اپنے مالک خُدا اور قوم کے لیے جنگ کریں ۔ہمارے خُداوند یسوع مسیح اور اس کے شاگردوں نے عشائے ربانی کےموقع پر جب کہ مسیح صلیب کے واسطے تیار ہو رہے تھے زبور گائے۔پولُس اور سیلاس جب کہ وہ دونوں قید خانے کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں زنجیروں سے جکڑے ہوئے اور پاؤں شکنجے میں تھے۔زبور گاتے ہو ئے حمدو ثنا کی صدا بلند کی۔اور دُعا مانگی جس کے جواب میں ایک بڑا بھونچال آیا۔قید خانے کی نیوہل گئی اور سب دروازے یک دم کھل گئے۔اور سب کی بیڑیاں خود بخوداُتر گئیں۔اور وہ رہا کیے گے۔رسولی کلیسیا برابر ان زبوروں کواستعمال کرتی رہی۔ مسیحی شہید جب کہ وہ طرح طرح کی صعوبتیں اُٹھاتے اور زندہ آگ میں جلائے جاتے تھے۔تو زبور گاتے ہوئے اپنی روحیں خُدا کے حضور پیش کرتے تھے۔بزرگ آگسٹین نے جب وہ مسیح ہوا تو شکر گزاری اور حمد میں زبور گائے۔کرساسٹم نے جلا وطنی میں ان زبوروں سے تسلی و تشفی پائی۔ برنارڈ حس جیروم آف پریگ نے دَمِ نزاع(قریب المرگ) زبور گائے تسلّی پائی اور باتمام اطمینان جان بحق ہوئے۔ مارٹن لوٹھر اپنے مقدمہ کی پیشی پر زبور گاتا ہوا وجد اور سرور اوردل جمعی کے ساتھ شہر روم میں داخل ہوا۔یہ ہے مشتے نمونہ از خیروارے (ڈھیر میں سے مٹھی بھر مثالیں)ان زبوروں کی تاثیر کے مطلق۔زبوروں کی تواریخ کلیسیا ءاور کلیسیاء کے ہر فردکے دل کی تاریخ ہے۔جس میں خُدا کی روح سکونت پذیر ہے۔ اس طرح ان زبوروں کا جو کہ روحانی غزلیں ہیں۔مسیحی جماعتوں اور ہر مسیحی جماعت کے افراد کے واسطے ضروری ، مفید اور موثرہے۔
باب دوئم
زبور کی پہلی کتاب
سوال۔10: ۔ زبور کی پہلی کتاب کی تفصیل وتشریح بیان کرو۔
جواب: ۔ زبور کی پہلی کتاب میں کل(۱۵۰) زبوروں میں سے پہلے(۴۱) زبور ہیں ان میں سے (۱۲) یعنی(۳، ۴، ۵، ۶، ۱۳، ۱۶، ۲۵، ۲۶، ۲۸، ۳۱، ۳۲، ۳۴) دُعائیہ ہیں۔(۶) یعنی(۹، ۱۸، ۲۷، ۳۰، ۳۳، ۴۰) شکر گزاری کے ہیں۔(۵) یعنی (۸، ۲۳، ۲۴، ۲۹، ۳۳) عبادتی ہیں۔(۱۲) یعنی(۱، ۷ ۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۴، ۱۵، ۱۷، ۱۹، ۳۶، ۳۷، ۳۹) اُصولی اور تعلیمی ہیں۔اور(۶) یعنی(۲، ۲۰، ۲۱، ۲۲، ۳۵، ۴۱) مسیحانہ ہیں۔
ہم زبوروں کی تشریح بلحاظ مضمون نہیں بلکہ ترتیب کریں گے۔(زبور۱)۔ یہ زبور تمہیدی سمجھا جاتا ہےاور خیال کیا جاتا ہےکہ عزرا نے اس کو تصنیف کیا بےشک یہ مسیحانہ زبوروں میں سے نہیں۔ یہ نیک و بدکار آدمی کی خاصیت، حالت اور انجام پیش کرتاہے۔آیات(۱۔۳) میں نیک آدمی کی خصلت(عادت) اور اس کی مبارکبادی ہے۔آیات(۴۔۶) بُرے آدمی کاحال اور انجامِ بد ملتا ہے۔
(زبور۲)۔ یہ پہلا مسیحانہ زبور سمجھا جاتا ہے۔اس کی تاریخ (۱۰۴۴) قبل از مسیح ہے۔آیات (۱۔۹) میں مسیح کا شاہانہ تقرر اور دُنیا کے بادشاہوں کا اس کو تسلیم کرنا۔اور اس کے خلاف باطل منصوبے باندھتے ہیں۔آیات(۱۰۔۱۲) میں ان بادشاہوں کو تاکید ہے کہ وہ بیٹےیعنی مسیح کو چومیں یعنی مسیح کو قبول کریں تاکہ وہ برباد نہ کیے جائیں کیونکہ وہی لوگ مبارک ہیں۔جن کا توکل خُداوند پر ہے۔
(زبور۳)۔ یہ زبور غالباً قبل از مسیح(۱۰۲۳) میں لکھا گیا۔جب کہ داؤد ابی سلوم کے سامنے سے بھاگا۔اس میں داؤد خُداوند کی توجہ اپنے دشمنوں کی کثرت پر لگاتا ہے۔اور کہتا ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے لیے خُدا سے رہائی نہیں اور وہ خُداوند کو یقین دلاتا ہے کہ اے خُدا مَیں تجھ پر کامل بھروسہ رکھتا ہوں کہ مَیں لیٹ رہا اور سو رہااور میں جاگ اُٹھا۔کیونکہ تو مجھ کو سنبھالتاہے۔
(زبور۴)۔ یہ قبل از مسیح(۱۰۲۳) میں تصنیف ہوا۔آیت اوّل میں داؤد خُدا سے عرض پروازہےکہ خُدا اس کی دُعاسنے اور آیات (۲۔۵) وہ مخالفوں کی فہمائش(نصیحت) کرکے ان کو تاکید کرتا ہےکہ وہ کاپنتے رہیں۔آیات(۶۔۸) میں وہ ان کو جتاتا ہے کہ انسان کی خوشحالی خُدا کی رضامندی پر موقوف ہے۔
(زبور۵)۔ یہ(۱۰۲۳) قبل از مسیح میں تصنیف ہوا۔اس میں داؤد ظاہر کرتا ہے کہ اس کا توکل خُداوند پر ہے۔ چنانچہ آیات(۱۔۶) میں وہ اپنے توکل کا سبب بیان کرتا ہےکہ خُدا ایسا نہیں کہ جو انسان کی شرارت سے خوش ہو اور شریر اس کے ساتھ رہ سکے وہ جھوٹ بولنے والوں کو نابود کرئےگا۔کیونکہ وہ خونی اور دغاباز سےنفرت رکھتا ہے۔آیات(۷۔۱۲) میں داؤد دُعا کرتا ہے کہ خُداراستبازوں کی حفاظت کرےاور یقین کرتا ہے کہ خُدا ایسا ہی کرے گا۔اس پر وہ اس پر عرض کرتا ہے کہ خُدا اپنی صداقت میں اس کی راہبری کرے اور اس کے دشمنوں کے سامنے اس کی راہ کو سیدھا رکھے۔
(زبور۶)۔ یہ غالباً(۱۰۱۵) قبل از مسیح لکھا گیا۔اور اسے داؤد نے اپنی عمر کے آخری حصے میں تصنیف کیا۔آیات(۱۔۷) وہ اپنی بیماری کی حالت میں خُدا سے فریادکرتا ہے۔آیات(۸۔۱۰) میں وہ ایمان سے کہتا ہے کہ خُداوند نے میری فریادسن لی اور وہ اپنےدشمنوں پر فخر کرتا اور کہتا ہے کہ وہ شرمندہ ہوں۔
(زبور۷)۔ یہ زبور(۱۰۲۳) قبل از مسیح میں لکھا گیا۔ جب کہ سمعی نے داؤد پر لعنت کی تو تب یہ تصنیف کیا گیا۔آیات(۱۔۹) میں اپنامقدمہ خُدا کے سپرد کرتا ہے کہ اگر مَیں نے اس سے جو مجھ سے میل رکھتا تھا بدی کی ہو تو دشمن درپر ہو کر میرا جی لے۔اور میری جان کو زمین پر پامال کرے اور میری عزت خاک میں ملا دے۔آیات(۱۰۔۱۱) معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ہی کے وسیلے اس کی رہائی ہوئی اور اس کے دشمنوں کی بربادی ہوگی۔
(زبور۸)۔ یہ(۱۰۱۵) قبل از مسیح میں لکھا گیا ۔داؤد اس میں کہتا ہے کہ خُدا کا جلال اس کی کاری گری اور اس کی محبت سے ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ آیت اوّل میں وہ کہتا ہے کہ اے خُداوند ہمارے کیا ہی بزرگ ہے تیرا نام تمام زمین پر ہو اور تونے اپنی شوکت آسمان پرظاہر کی ہے۔پھر وہ انسان کے بارے میں کہتا ہے کہ تُونے اسے فرشتوں سے تھوڑا ہی کم پیدا کیا ہے۔اور شان و شوکت کا تاج اس کے سر پر رکھا اور اس کو اپنے ہاتھوں کے کاموں پر حکومت بخشی ہے۔
(زبور۹)۔ یہ زبور اس وقت لکھا گیاجب داؤد نے جاتی جولیت کومغلوب کیا۔اس کی تاریخ تصنیف(۱۰۱۸) قبل از مسیح ہے۔آیات(۱۔۱۰) میں داؤد خُداوند کی ستائش کرتا ہےکہ اس نے اس کے دشمنوں کو شکست دی اور اس کی تعریف میں کہتا ہے کہ خُداوند مظلوموں کے لیے محکم مکان ہے اور مصیبت کے وقت میں دُشمنوں سے پناہ گاہ ہے۔آیات(۱۱۔۱۲) وہ ان کو جو صیحون میں کرسی نشین ہیں۔اُبھارتا ہے کہ وہ خُداوند کی ستائش کریں اور لوگوں کے درمیان اس کے عجائبات کا ذکر کریں ۔ آیات(۱۳۔۲۰) میں وہ دُعا کرتا ہے کہ خُدا اس پر ایسا رحم کرے کہ وہ صیحون کی بیٹی کے دروازوں پر اس کی ستائش کرسکےاور اس کی نجات سے شادمان ہو۔اور وہ کہتا ہے کہ مسکین ہمیشہ فراموش نہ کیے جائیں۔اور اس کے حضور میں قوموں کی عدالت کی ۔
(زبور۱۰)۔ یہ( زبور۹) سے خاص نسبت رکھتا ہے۔اس میں داؤد خُداوند کے آگے شریروں کی شکایت کرتا ہے۔اس سبب سے کہ وہ خُدا کے غریبوں پر ظلم کرتے ہیں۔چنانچہ آیات(۱۔۱۱) میں وہ خُداوند سے سوال کرتا ہے کہ وہ ان کو ان کی شرارت سے کیوں باز نہیں رکھتا؟وہ دیہات کی گھاتوں میں بیٹھتے اور خلوت خانوں میں بے گناہوں کو قتل کرتے۔وہ اپنے دل میں کہتے ہیں کہ خدا بھول گیا ہےاور اس نے چھپایا ہے۔سو اس نے ہرگز نہیں دیکھا۔آیات(۱۲۔۱۸) میں خُداوند سے عرض کرتا ہے کہ وہ اُٹھے اور اپنا ہاتھ بڑھائیں اور خاکساروں کو نہ بھولے نیز کہ شریربُرے آدمی کا بازو ایسا توڑا جائے کہ پھر اس کی شرارت ڈھونڈنے سے نہ ملے۔
(زبور۱۱)۔اس میں داؤد اپنا ،توکل خُداوند پر ظاہر کرتا ہے۔اور ایک سوال کرتا ہے کہ اس کی جان کو یہ کیوں کہا جاتا ہےکہ یہ چڑیا سی ہے۔ اپنے پہاڑ پر جاتی رہے اور کہتا ہے کہ خُداوند اپنی مقدس ہیکل میں ہے اور اس کاتخت آسمان پر ہے۔ اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں۔اور اس کی آنکھیں ہیں اور اس کی پلکیں بنی آدم کو آزماتی ہیں۔اور خُداوند جو صادق ہے۔صداقت طلب کرتا ہےاور اس کا منہ سیدھے لوگوں کی طرف متوجہ ہے۔
(زبور۱۲)۔ اس کی پہلی دو آیات میں داؤد خُداوند سے مدد کا ملتجی (التجاء کرنے والا)ہے۔اور کہتا ہے کہ دیندار اور خُداپرست لوگ جاتے رہے۔اور دیانت داربنی آدم میں غائب ہوجاتے ہیں۔آیات(۳۔۸) میں کہ خُداوند اُٹھا ہوا ہے۔اور اس کا کلام چوکھا کلام ہے اور کہ وہ اپنے لوگوں کا محافظ ہے۔تسلّی پذیر ہوتاہے۔
(زبور۱۳)۔آیت(۱۔۲) میں داؤد خُداوند سے ملتمس ہےکہ وہ اس کو نہ بھولے تاکہ دشمنوں کی سربلندی قائم نہ رہے۔اورآیت(۳۔۴) میں دُعاکرتا ہے کہ خُداوند اس کی طرف متوجہ ہو۔اور اس کو دشمنوں سے رہائی بخشے۔اورآیت(۵۔۶) میں رہائی پاکر خُداوند کی حمدوثنا کرتا ہے۔
(زبور۱۴)۔ اس کی پہلی دو آیات میں داؤد احمق کی کیفیت بیان کرتا ہواکہتا ہے۔کہ خُداوند آسمان پر سے بنی آدم پر نگاہ کرتا ہے کہ دیکھے کہ ان میں کوئی دانش مند اور خدا کاطالب ہے یا نہیں۔اور پھر کہتا ہے کہ وہ سب گمراہ ہوئے ہیں وہ ایک ساتھ بگڑ گئے ہیں۔کوئی نیکوکار نہیں ایک بھی نہیں۔آیات(۴۔۶) میں وہ یہ سوال کرتا ہے۔کیا ان بدکاروں کو سمجھ نہیں جو میرے بندوں کو یوں کھا جاتے ہیں۔جیسا کہ روٹی کھاتے ہیں۔اور بیان کرتا ہے کہ خُداوند کا نام نہیں لیتے سو وہ بڑے خطرے میں ہیں۔کیونکہ خُدا صرف صادقوں کی نسل کے درمیان ہے۔ساتویں آیت میں وہ یہ آرزو کرتا ہے۔کہ اسرائیل کی نجات صیحون میں ہے۔
(زبور۱۵)۔اس میں داؤد صیحون کے باشندوں کی سیرت اور ان کے چال چلن پر طنز کرتا ہے۔ چنانچہ آیت پنجم میں وہ خُداوند سے سوال کرتا ہے کہ اے خُداوند تیرے خیمہ میں کون رہےگا۔اور تیرے کوہِ مقدس پر کون سکونت کرے گا اور خود ہی اس کا جواب دوحصوں میں دیتا ہے۔حصہ اوّل میں وہ کہتا ہے کہ وہ داخل ہو گا اور سکونت کرے گا۔جو سیدھی چال چلتا صداقت کے کام کرتا اوراپنے دل سے سچ بولتا ہے گویا یہ اس کی ثباتی (مضبوط)تعریف ہے۔پھر نفی میں یوں تعریف کرتا ہےکہ وہ جو کہ اپنی زبان سےچغلی نہیں کرتااور اپنے پڑوسی پر عیب نہیں لگاتا۔
حصہ دوئم میں وہ داخل ہونے والے شخص کی سیرت اور عادت کاذکر کرتا ہے۔یعنی وہ کہ جس کی نظر میں وہ نکما آدمی ذلیل وخوار ہے۔اور جو کہ انھیں جو خُداوند سے ڈرتے ہیں عزت دیتا ہے۔اور اپنے آپ پر قسم کھا تا ہے اور بدلتا نہیں۔نفی میں اس کی یوں تعریف کرتا ہے،کہ وہ جو کہ سود کے لیے قرض نہیں دیتا۔اور بے گناہوں کو ستانے کے لیے رشوت نہیں لیتا۔آخر میں کہتا ہے کہ جو ایسے کام کرتا ہے ہرگز نہ ٹلے گا یعنی سلامت رہے گا۔
(زبور۱۶)۔ داؤد کا مکتام۔ اس میں اپنا کامل بھروسہ خُدا وند پر ظاہر کرتا ہے۔آیات(۱۔۴) میں وہ خود کو حفاظت کا مستحق ٹھہراتا ہے۔اس لیے کہ اس کی جان نے یہوواہ کو اپنا خُداوند تسلیم کیا ہے اور کہتاہے اس کے بغیر میری بھلائی ممکن نہیں۔وہ بیان کرتا ہے کہ اس نے غیر معبودوں سے قدر الگ کیا ہے کہ ان کے نام کو بھی اپنےلبوں پر نہیں لاتا۔
آیات(۵۔۱۱) میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میری جان کو کبھی جنبش نہ ہو گی۔کیونکہ میری نگاہ خُداوند پر ہے۔وہ میرے دہنےہے۔سو میرا دل خوش ہے۔اور میری زبان شادہے۔میرا جسم اُمید میں چین کرے گا۔وہ میری جان کو قبرمیں نہ رہنے دے گا۔اور اپنے قدوس کو سڑنے نہ دے گا۔ان آیات میں وہ صرف قیامت کی نسبت اپنا اعتقاد ظاہر نہیں کرتا۔بلکہ یسوع مسیح کےقبر سے جی اُٹھنے کا ذکر بھی کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ وہی اس کو زندگی راہ دکھائے گا۔اور کہ وہ اس کے حضور میں خوشیوں سے سیر ہوگا۔نیز اس کے دہنے ہاتھ میں ابد تک عشرتیں موجودہیں۔
(زبور۱۷)۔یہ داؤد کی ایک دُعا ہے۔
آیات(۱۔۹) میں داؤد اپنی دیانت داری پیش کرکے خُدا کی حفاظت کا ملتجی ہے۔تاکہ وہ اپنے دشمنوں کے ہاتھ نہ آئے۔
(آیات۱۰۔۱۲) میں وہ اپنے دُشمنوں کی یوں کیفیت بیان کرتا ہے۔کہ وہ اپنی چربی میں چھپ گے ہیں۔اور اپنے منہ سےبڑابول بولتے ہیں۔ہمارے ہرایک قدم پر ہم کو گِھرلیتے ہیں کہ ہمیں زمین پر گرا دیں۔آیات(۱۳۔۱۵) میں یقین کرتاکہ خُداوند ضروربالضرور مجھ کو ان سے بچائے گا۔اور مَیں صداقت سے اس کا چہرہ دیکھوں گا۔اور جب مَیں اس کی صورت پر ہو کرجاؤں گا۔تو مَیں سیر ہوں گا۔
(زبور۱۸)۔سردار میرمغنی کے لیے خداکے بندہ داؤد کا زبور۔
اس زبور کی باتیں داؤد نے اس وقت خُداوند سے کہیں کہ جب کہ خُداوند نے اسے اس کے تمام دُشمنوں اور ساؤل کے ہاتھ سے بچایا۔اس میں خُداوند کاشکر اور اس کی تعریف اپنے عجیب بچاؤ اور مختلف نعمتوں کے لیے کرتا ہے۔اورخُدا وند کو یقین دلاتا ہے کہ مَیں تجھ کو پیار کرتا ہوں۔اور مَیں قوموں کے درمیان تیراا قرار کروں اور تیرے نام کےگیت گاؤں گا۔
(زبور۱۹)۔اس میں خُداوندداؤد کی تعریف۔آیات(۱۔۶) میں وہ کہتا ہے کہ فطرت اورخاص کر آسمان اس کا جلال ظاہر کرتا ہے۔اور فضا اس کی دست کاری دکھاتی ہے۔
آیات(۷۔۱۱) میں بتاتا کہ اس کاکلام اس کے فضل کا اظہار کرتا ہے۔اور کہتا ہےکہ خُداوند کی توریت کامل ہے۔وہ دل کےپھیرنے والی خُداوند کی شہادت سچی ہے۔وہ سادہ دلوں کو تعلیم دینے والی ہے۔وہ سونے بلکہ کندن یعنی سونے سے بھی نفیس ہے۔وہ شہد اور چھتے کے ٹپکو سے بھی شیریں تر ہیں۔
آیات(۱۲۔۱۴) رہائی کے لیے اس طرح عرض کرتا ہے کہ اے خُداوند میری چٹان اورمیرا فدیہ دینے والے میرے دل کی سوچ اور میرے منہ کی باتیں تیرے حضور پسندآیئں۔
(زبور۲۰، ۲۱، ۲۲) ۔یہ تینوں مسیحانہ زبور ہیں۔(زبور۲۰) ۔مسیح کے شاہی عہدے کو ظاہر کرتا ہے اس کی پہلی پانچ آیات میں کلیسیاکے شرکا کی اپنے بادشاہ کے لیے سفارش پائی جاتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی مقابلہ کی تیاری ہے ۔یہ سفارش اس موقعہ کی ہے جب بادشاہ کاہن کی حیثیت سے قربانی گزرنتا ہے۔آیات(۶۔۸) میں کوئی بول اٹھتا ہے۔کہ اب مَیں چاہتا ہوں کہ خُداونداپنے مسیح کا چھڑانے والا ہے۔کیونکہ ذبیحہ کی منظوری ہوئی ہے۔
(۹ آیت) میں کل جماعت پکارتی ہے کہ اے خُداوند ہم پکاریں تو ہم کورہائی دےاور ہمارے بادشاہ کی سن۔(زبور۲۱،اور ۲۲) سے ایک خاص برکت رکھتا ہے (زبور۲۰) مقابلے سے پہلے سےہے۔اور (زبور۲۱) اس سے بعد کا ہے(زبور۲۰) میں سفارش ہے۔اور( زبور۲۱) میں شکرگزاری ہے۔(زبور۲۱: ۱۔۷) ہیں۔داؤد یہ کہتا ہے کہ اے خُداوند تیری توانائی کے باعث بادشاہ خوش ہے۔تیری نجات کیا ہی دل شاد ہےکہ بادشاہ کی شوکت عظیم خُداوند کی نجات ہی سےہے۔فتح مندی کے موقع پر لوگوں کے دل کے جو کیفیت تھی۔اس کا یوں بیان ہے کہ ان کو یقین ہوا کہ اس فتح مندی کا یہ سبب تھا کہ بادشاہ نے خُداوند پرتوکل رکھااور حق تعالیٰ کی رحمت سے اس کو جنبش نہ ہوئی۔
آیات(۸۔۱۲) میں رعایا بادشاہ کو یقین دلاتی ہے۔کہ یہ فتح آئندہ فتح کا بیعانہ ہے۔آیت (۱۳) میں خُداوند کی یوں تعریف کرتا ہےکہ اے خداوند تو اپنی قوت سے بلند ہو ہم تیری قدرت کی مدح اور ثنا گائیں گے۔
(زبور۲۲)۔ پہلا زبور ہے جس میں مسیح کی صلیبی موت کی اذیت کا ذکر ہے مسیح نے جب وہ مصلوب ہواتھا۔(۹) گھنٹے کےبعداس زبور کی پہلی آیت استعمال کی۔اور بڑے زور سے چلا کر فرمایا کہ ’’ایلی ایلی لماشبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرےخدا تونے مجھے کیوں چھوڑ دیا‘‘۔اس زبور کے دو حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۲۱) پہلی(۱۰) آیات داؤد ایک خاص بات یعنی خُدا کی حضوری کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔اور سوال کرتا ہے کہ اس نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اور(۱۱۔۲۱)آیت میں وہ داد خواہ (فریادی)ہے۔اور ملتمس (التماس کرنے والا)ہے کہ خُداوند اس سے دور نہ رہے۔کیونکہ تنگی پہنچ رہی ہےاور مددگار کوئی نہیں۔
حصہ دوئم۔آیات (۲۲۔۳۱) میں وہ پختہ اُمید کا ذکر کرتا ہےکہ سارے جہاں کو یہ یاد آئے گا اور وہ خُداوند پر رجوع کریں گے۔سب قوموں کے گھرانے اس کے آگے سجدہ کریں گے۔کیونکہ سلطنت خُداوند کی ہےاور قوموں کے درمیان وہی حاکم ہے۔
(زبور۲۳ )۔اس میں ایک شخص کی دو مختلف تصویریں نظر آتیں ہیں۔چنانچہ تصویرمیں اوّل میں وہ آیات(۱۔۴) میں ایک چوپان کی حیثیت میں دکھایا گیا ہے۔وہ اپنے گلہ کے آگے چلتا نظر آتا ہے۔جب کہ وہ اسے بھیڑخانے سے نکالتا ہے۔اور عمدہ سے عمدہ چراگاہوں میں لے جاکر ان کی تمام جسمانی حاجات و ضروریات کو بہم پہنچا جاتا ہے۔وہ اپنے گلہ کی رہنمائی اوررکھوالی کرتا ہے۔اور اسے آرام دیتا اور آسودہ کرتا ہےاوراس طرح اس کی زندگی بحال رکھتا ہے۔اور اپنےنام کی خاطر ان کو اپنی راہوں کی طرف لے چلتاہے۔
تصور دوئم میں وہ ایک میزان (ترازو)ہے اس میں وہ شخص یعنی خُداوند یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ میز پر کھانا کھاتے دکھائی دیتا ہے۔ جب کہ اُن کے گردا گرد دشمن شیروں کی مانند بیٹھے ہوئے ہیں۔اور چاہتے ہیں ان کو پھاڑڈالے لیکن برگزیدہ لوگ بڑی دل جمعی اور اطمینان میں مشغول ہیں۔میزبان ان کے لیے خوراک ہی مہیا نہیں کرتا۔بلکہ تمام ممکن طریقوں سے ان کی خاطرتواضع و مدارات کرتا ہے۔چنانچہ ایک مہمان کی شہادت ہے کہ تو میرے سر پر تیل ملتا ہے۔میرا پیالہ لبریز ہو کر چھلکتا ہے۔کلام، مہربانی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ رہیں گی۔اور مَیں خُداوند کے گھر میں رہوں گا۔
(زبور۲۴)۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبور اس وقت کی تصنیف ہے۔جب داؤد شہر یروشلیم پر قابض ہوا۔اور اپنا دارالسلطنت مقرر کیا۔اور اس یعنی یروشلیم سے نظر اٹھا کر آسمانی یروشلیم کی طرف نگاہ کرتا ہے۔اور خُداوند کو اس پر چڑھتا ہوا دیکھتا ہے۔
آیات(۱۔۲) میں وہ کہتا ہےکہ چونکہ خُداوند کل زمین کا خالق ہے۔اور اس کی سب معموری اور اس کے رہنے والوں کا مالک ہے۔اس کو حق حاصل ہے کہ وہ اہلِ یروشلیم پر چڑھے۔
آیات(۳۔۶) میں مسیح کی روحانی بادشاہت کی حیثیت و کیفیت بیان کی گئی ہے۔جب داؤد نے سوال کیا کہ خُداوند کےپہاڑپر کون چڑھ سکتا ہے۔اوراس کے مکان مقدس پر کون کھڑا رہ سکتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ملا کہ جس کا ہاتھ صاف ہے۔اور دل پاک ہے۔اور اپنا دل بطلان پر نہیں لگاتااور مکر سے قسم نہیں کھاتا۔
آیات(۷۔۱۰) میں اس بادشاہت کے اہلکار پکارتے ہیں کہ اے پھاٹکو اپنے سر اونچے کرو اور وہ ابدی درو دروازے اونچے ہوں کہ جلال کا بادشاہ داخل ہو۔اور جب استفسار(دریافت کرنا) ہوتا ہے کہ یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟تو جواب دیتے ہیں کہ وہ قوی اور قادر ہے وہ جنگ میں زور آور اور لشکروں کاخُداہے۔
(زبور۲۵)۔یہ زبور ایک دھیانی یعنی گہری سوچ کی ایک دُعا ہے۔جو کہ عبرانی حروف تہجی کے سلسلے پر ہے۔چنانچہ عبرانی حروفِ تہجی کی تعداد کے مطابق اس زبور کی(۲۲) آیات ہیں۔جو کہ تین حصوں میں منقسم ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۷) میں داؤد اپنا بھروسہ خُداوند پر ظاہر کرتاہے۔اس سےرہنمائی حفاظت اور معافی کے لیے دُعا کرتاہے۔
حصہ دوئم۔آیات (۸۔۱۴) میں وہ خُداوند کی قدرت اور صفات پر غور کرکے پھر گناہ کی معافی اور مغفرت کے لیے دُعا کرتا ہے اس کو یقین ہے کہ خُداوند کی راہیں۔ان کے لیے جو اس کے عہد اور اس کی شہادتوں کویاد کرتے ہیں رحمت اور صداقت ہیں۔
حصہ سوئم۔آیات (۱۵۔۲۲) میں وہ دعوے سےکہتا ہے کہ میری آنکھیں ہمیشہ خُداوند کی طرف لگی رہتی ہیں۔کیونکہ وہ میرے پاؤں کو پھندے سے نکالے گا۔اوردُعا گو ہے کہ راستی اور سدھائی میری نگہبان ہوں کہ مجھے تجھ سے اُمید ہے کہ غرض وہ تکلیف سے رہائی چاہتا ہے۔
(زبور۲۶)۔یہ (زبور۲۵) زبور سے کچھے نسبت رکھتا ہے۔داؤد اس کی پہلی تین آیات میں اپنی صداقت کا دعویٰ کرکے خُداوند کے سامنے آرزو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسے آزمائے۔اور کہتا ہے کہ مجھ کو یقین ہے کہ میرا توکل خُداوند پر ہےاور کہ میں اس کی شفقت کو یاد رکھتا ہوں۔
آیات(۴۔۷) میں اپنے دعوے کے ثبوت میں یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ مَیں بے ہودہ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھتا اور ریا کاروں کے ساتھ نہیں چلتا۔اور وعدہ کرتا ہے کہ مَیں شریروں کے ساتھ نہ بیٹھوں گا اور بے گناہی میں اپنے ہاتھ دھوؤں گا۔
آیات(۸۔۱۲) میں ابتدائی آیات لا کر کہتا ہے کہ اے خُداوند تیری سکونت کا گھر بلکہ وہ مکان جہاں تیرا جلال رہتا ہے۔مجھ کو دل پسند آیا اور دُعا کرتا ہے کہ اے خداوند میری جان کو گنہگاروں میں شامل نہ کر اور میری حیات کو خون ریز آدمیوں کے ساتھ نہ ملا۔
(زبور۲۷)۔ آیات(۱۔۲) میں داؤد خُداوند پر اپنا فخر ظاہر کرتا ہے چونکہ خُداوند میری روشنی اور میری نجات ہے۔مَیں کسی سے خوف نہ کھاؤں گا۔اگر ایک لشکر بھی میرے خلاف خمہ زن ہو۔تو میرےدل کو کچھ خوف نہ ہو گا۔ اگر میری مخالفت میں جنگ برپا ہو جائے تو بھی میرا توکل خُداوند پر ثابت رہےگا۔کیونکہ مصیبت کے وقت وہ مجھ کو چھپائے گا۔ اپنے ڈیرے کے پردے میں وہ مجھ کو پوشیدہ رکھے گا۔اور مجھ کو چٹان پر چڑھائے گا۔آیات(۷۔۱۴) میں وہ دُعا مانگتا ہے۔کہ اے خُداوند مجھ کو اپنی راہ بتا۔اور اپنے دشمنوں کے سبب اس راہ میں جو کہ برابر ہے۔یعنی ہموار ہے لے چل مجھے دشمنوں کی مرضی پر مت چھوڑ آخر میں وہ اپنے آپ سے کہتا ہے کہ خُداوند کی انتظاری کر اور مضبوط رہ۔
(زبور۲۸)۔آیات(۱۔۵) داؤد عرض کرتا ہے کہ خُداوند اس کی سنےورنہ وہ ان کی مانند ہوجائے گا۔جو کہ گھڑے میں گرنے والےہوں۔ وہ نہیں چاہتا کہ خُداوند اسے شریروں اور بدکاروں میں شریک و شامل کرے۔جن کے دلوں میں شر ہوتا ہے۔اپنے ہمسایہ سے سلامتی کی باتیں کرتے ہیں۔
آیات(۶۔۸) میں وہ خُداوند کو مبارک کہتا ہے کیونکہ اس نے اس کی سنی اور کہتا ہے ،کیونکہ خُداوند میری سپر اور میرا زور ہے۔میرا دل نہایت شاد ہے مَیں گیت گا کراس کی مدح کروں گا۔(۹) آیت میں عرض کرتا ہے کہ خُداوند اپنے لوگوں کو نجات عطاکرےاور اپنی میراث کو برکت بخشےان کی رعایت فرمائیں اور ان کو ہمیشہ تک سرفرازرکھے۔
(زبور۲۹)۔ آیت (۱۔۲) میں داؤد لوگوں کی توجہ خُداوند کی قدرت اور جلال کی طرف یہ کہہ کر معطوف (موڑا ہوا)کرتا ہے۔کہ خُداوند کی قدرت اور اس کےجلال پر لحاظ کرواور حسنِ تقدس سے اسے خُداوند کہا کرو۔
آیات(۳۔۹) میں وہ خُداوند کی تعریف کرتا اور کہتا ہےکہ وہ بادلوں میں ہے۔اور زورآور اور جلالی ہے۔اور وہ لبنان کی دیوداروں کو توڑتا ہے۔اور انہیں بچھڑوں کی مانند کوداتا ہے۔اور لبنان اور سریون کے جوان بھینسوں کی مانند۔اس کی آوز آگ کے شعلوں کو چیرتی ہے۔دشت کو لرزاتی ہے۔اس سے ہرنیوں کے حمل گرتے ہیں۔اور وہ جنگلوں کوصاف کرتا ہے۔خُداوند ہمیشہ کے لیے سلطنت کے تخت پر بیٹھا ہےاور اپنے لوگوں کو زور بخشتا ہے۔اور ان کو سلامتی کی برکت دیتا ہے۔
(زبور۳۰)۔ داؤد کا زبور جو کہ گھر کو مخصوص کرنے کے وقت گایا جاتاہے۔ وہ اس میں خُداوند کی تعظیم کرتا ہے۔اوراس کے سرنامے سےمعلوم ہوتاہے کہ یہ زبور کسی گھر کی مخصوصیت کے وقت گایا گیا۔ممکن ہے کہ ہیکل یا داؤدکے شاہی محل کی مخصوصیت پر گایا ہو۔لیکن اس سے یہ بات ظاہر نہیں ہے کہ داؤد اس کو ایسے موقع کے لیے تصنیف کیا تھا بلکہ ایسے موقع کے لیے مخصوص کیا گیاہے۔ داؤد اس میں خُداوند کی تعظیم کے اوصاف یوں بیان کرتا ہے۔
آیت اول میں اس کی سرفرازی کےلیے کہ اس کے دشمنوں کو موقعہ نہیں ملا کہ وہ اس پر خوشی کریں۔اور یہ گویا اس کی دُعا کے جواب میں تھا۔
آیات(۲۔۳) سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیماری میں وقت نزاع خُداوند نے اس کی شفاعت کی یا یہ کہ وہ اپنی گنہگاری اور بدکرداری کے سبب غم میں مبتلاتھا۔اور خُداوندنےاسے معافی بخشی ۔چنانچہ وہ چوتھی آیت میں سب مقدسوں کو طلب کرتا ہے کہ خُداوند کی تعظیم کریں اور کہتا کہ اس کی قدوسیت کی یادگاری میں اس کا شکر ادا کرو۔
آیات(۵۔۱۲) میں خُداوند کے رحم اور مہربانی کی تعریف کرتا ہے۔
(زبور۳۱)۔ داؤد تکلیف اور مصیبت کی حالت میں خُود کو خُداوند کے سپرد کرتا ہے۔اور اس کاایمان اس کو سنبھالتا اور خُداوند کے چہرے کی روشنی اس کو نجات بخشتی ہے اس میں تین حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۸) میں وہ اپنا توکل خُداوند پر ظاہر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خُداوند تو میری چٹان اور میرا گڑھ ہے۔اپنے نام کے لیے تو میری رہبری ا ور رہنمائی کر۔
حصہ دوئم۔ آیت(۹۔۱۸) میں وہ اپنی محتاجی پر زور دیتا اور کہتا ہے کہ میری نوبت یہاں تک پہنچی کہ مَیں اس شخص کی مانند ہوں جو کہ مرا اور اسے کوئی یاد میں لائے ۔مَیں ٹوٹے ہوئے باسن کی مانند ہوں اور دُعا کرتا ہے کہ خُداوند اسے شرمندہ نہ ہونے دے۔
حصہ سوئم۔آیات(۱۹۔۲۴) میں وہ خُداوند کے احسان کے لیے اس کی بڑی تعریف کرتا ہےاور کہتا ہے کہ اے خُداوند تیرا کیا ہی مجھ احسان ہے۔جو تو اپنے ڈرنے والوں کےلیے۔چھپائے رکھتا ہے۔اور خُداوند کے سب مقدس لوگوں کو کہتا ہے کہ اس سے محبت رکھو کہ خُداوند دینداروں کا نگہبا ن ہے۔ اور مغروروں کو بدلہ دیتا ہے۔تب ان سب کو تاکید کرتا ہے کہ وہ جو خُداوند سےاُمید رکھتے ہیں زور پکڑیں۔تو وہ ان کے دلوں کو مضبوطی بخشے گا۔
(زبور۳۲)۔ خیال ہے کہ یہ زبورداؤد نے اس وقت لکھا جب کہ اس کو معلوم ہواکہ خُداوند نے حتی اوریا اور بت سبع کی نسبت اس کا گناہ معاف کر دیا۔ یہ زبور مشکیل داؤد کہلاتا ہے۔زبور کی کتاب میں(۱۳) زبور اس نام کے ہیں اس لفظ کے ٹھیک معنی معلوم نہیں بعض کہتے ہیں اس کے معنی تعلیمی زبور کےہیں۔اور بعض دھیانی زبور۔بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی عقلمندی کے ہیں۔اور بعض خیال کرتے ہیں کہ اس کے راگ بہت ہی عجیب اور علمِ موسیقی کی رو سے بہت ہی عمیق و عاقلانہ ہیں۔اور یہ کہ یہ نام صرف راگ سےہی نسبت رکھتا ہے۔یہ زبور نادمی زبوروں میں سےدوسرا زبورہے۔چھٹا زبور پہلا نادمی زبور ہے۔
پہلے زبور سے ظاہر ہے کہ اس شخص کی مبارکبادی کامل ہے۔جس نے گناہ نہ کیا ہو۔اور( زبور۲۲) کی پہلی آیات سے معلوم ہوتاہے کہ وہ شخص بھی جس نے گناہ کے بعد سچی اور اصلی توبہ کی ہے۔وہ مبارک ہے۔چنانچہ آیت(۱) میں ذکر ہے کہ مبارک ہے وہ جس کاگناہ بخشاگیا۔اور خطا ڈھانپی گئی۔(۵) آیت میں وہ خُداوند سے مخاطب ہو کرکہتا ہے کہ مَیں نے تیرے پاس اپنے گناہ کا اقرار کیا۔ مَیں نے اپنی بدکاری نہیں چھپائی۔مَیں نے کہا کہ اپنے خُداوند کے آگے اپنے گناہ کا اقرار کروں گا۔سو تونے میری بد ذاتی کا گناہ دیا ہے۔
آیات(۸۔۹) خُداونداسے فرماتا ہے کہ مَیں تجھے تعلیم دوں گا۔اور تاکید کرتاہے کہ تو گھوڑوں اور خچروں کی مانند نہ ہو جن کی راہنمائی باگ اور لگام سے کی جاتی ہے۔(۱۱) آیت میں وہ صادقوں کو تاکید کرتا ہےکہ خُداوند کے سبب خوش ہو اور شادمانی کرو اورتم جو راست دل ہو خوشی سے چلاؤ۔
(زبور۳۳)۔آیت (۱۔۳) میں صادق طلب گار ہیں کہ خُداوند کی حمد کریں۔اور بربط کو چھڑتے ہوئے اس کی ستائش کریں۔اور اس کےلیے ایک نیا گیت گائیں۔کیونکہ
( زبور۳۳: ۱) آیت حمد کرنا سیدھے لوگوں کوزیب دیتا ہے۔
(زبور۳۳: ۴۔۵) آیات خُداوند کاکلام سیدھا ہے۔اور اس کے سب کام باوفا ہیں۔وہ دُنیا کا خالق ہے۔جو اس نے کہا وہ ہو گیا۔اس نے تو سب کچھ برپا ہوا۔
(زبور۳۳: ۱۲۔۱۹) آیت میں وہ آسمان پر سے دیکھتا اور سب بنی نوع انسان پر نگاہ کرتا ہے۔
(زبور۳۳: ۲۰۔۲۲) آیت داؤد صادقوں کی رضامند ی ظاہرکرتا ہے۔اور ان سب کی طرف سے عرض کرتا ہے کہ اے خُداجیسا کہ ہمیں تجھ پر توکل ہے۔ویسے ہی تیری رحمت ہم پر ہو۔
(زبور۳۴)۔اس کے سرنامہ سے معلوم ہوتاہے کہ داؤد یہ زبور اس وقت تصنیف کیا جب ابی ملک یعنی کہ جب داود نے اپنی وضع بدلی اور اپنے آپ کو دیوانہ بنایا (۱۔ سموئیل۲۱: ۱۰۔۱۵)۔
یہ( زبور۲۵) زبور کی طرح عبرانی حروفِ تہجی پر ہے۔آیت(۱۔۱۰) میں داؤد خُداوند کی ستائش کرتا ہے۔اوروں کو بھی طلب کرتا ہےکہ وہ اس کے ساتھ مل کر خُداوند کی ستائش کریں اور بڑائی کریں۔اور مل کر اس کے نام کو سرفراز کریں(۸ آیت) ایک دعوتِ عام کا اشتہار دیتا ہے۔آؤ چکھو کہ دیکھو کہ خُداوند مہربان ہے۔وہ! جس کا بھروسہ اس پر ہے وہ مبارک ہے۔
(۹ آیت) میں وہ اس کے مقدسوں کو کہتاہے کہ خُداوندسے ڈرو کیونکہ جو اس سے ڈرتے ہیں۔انہیں کچھ کمی نہیں۔
آیات(۱۰۔۲۲) ایک استاد کی حیثیت میں لڑکوں کو بلاتا ہے کہ آؤ اور میری سنو میں تمہیں خُدا ترسی سکھاؤں گا۔اور خُداوند کے خوف کے اوصاف بیان کرکے کہتا ہے کہ وہ جو زندگی کا مشتاق ہے۔اور بڑی عمر چاہتا ہے۔چاہیے کہ اپنی زبان کو بدی سے اور اپنے لبوں کو دغا کی بات بولنے سےباز رکھے۔پھر نصیحت کرتا ہے کہ بدی سے بھاگ نیکی کر اور سلامتی کو ڈھونڈوجو خُداوند کے نزدیک ہے۔ وہ جو شکستہ اوران کوجوخستہ جان ہیں بچاتا ہے۔
(زبور۳۵)۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبور اس وقت کی تصنیف ہے جب ساؤل داؤد کا دشمن بن گیا۔اوراس کو رگیدتاتھاکہ اسے جان سے مارے۔آیت(۱۔۸) داؤد خُود کو خُدا کے سپرد کرکے عرض کرتا ہے کہ خُداوند ان سے جھگڑے جو اس سے یعنی داؤد سے جھگڑتے ہیں۔اور اُن سےلڑے جو اس سے لڑتے ہیں۔وہ اس سبب سے کہ ساؤل خُداوند کا مقرر کیا ہوا تھا۔اسے مارنا نہ چاہتا تھا۔(۱۔ سموئیل۲۲: ۵۔۱۱)۔
آیات(۹۔۱۰) میں وہ رہائی پر خُداوند کی شکر گزاری کرتا ہے۔اور(۱۱۔۲۱) میں اپنی عصمت کا دعویٰ کرکےخُداوند سے عرض پرداز کہ اس کو ان سب دشمنوں سے بچائے کہ جو سلامتی کی باتیں نہیں کہتے۔بلکہ ملک کے سلیم طبع لوگوں پر مل کر منصوبے باندھتے اور مجھ پر منہ پسارتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ آہا۔ہاہا۔ ہماری آنکھوں نے یہ دیکھا ہے۔یعنی میری رسوائی۔
آیات(۲۲۔۲۸) میں وہ پھر عرض کرتا ہے کہ خُداوند اس سے دور نہ ہو۔بلکہ اپنی صداقت کے مطابق اس کا انصاف کرے۔
(زبور۳۶)۔ خُداوند کے بندے داؤد کا زبور۔ ہم ان زبوروں کو دل جمعی و بغیر کسی شک وشبہ کے استعمال کرسکتے ہیں۔کیونکہ ان کا مصنف خُداوند کا بندہ ہے۔اس کی پہلی(۴) آیات داؤدظاہر کرتا ہے۔کہ شریروں کی شرارت ان کی دہریت(خُداکونہ ماننا) کی وجہ سے ہے۔وہ خُداکا خوف اپنے دلوں میں نہیں رکھتےسو وہ بدی اور بدکرداری میں ترقی کرتے ہیں۔
آیات(۵۔۹) میں وہ خُداوند کی ماہیت کے جلال کی تعریف کرتا ہےکہ اس سے خُداوند انسان کو فیض پہنچاتا ہے۔اور(۱۰۔۱۲) میں وہ برکت اور حفاظت کے لیے دُعاگو ہے اور یقین سے کہتا ہے کہ خُدا ضرور بد کرداروں کو گرادے گا۔
(زبور۳۷)۔یہ زبور بھی حروفِ تہجی کے سلسلہ کی طرح ہے۔اس میں خاصیت یہ ہے کہ اس میں اکثر حروف دو شعروں کے شروع میں آئے ہیں۔اس حساب سے اس میں کل(۴۰) شعر ہیں کیونکہ چند ایک حروف سے صرف ایک ہی شعر شروع ہوا ہے۔اور ہر ایک میں خاص بات پیش کی گئی ہے۔مثلاً (الف) کا شعر صرف اتنا مطلب بیان کرتا ہے کہ تو شریروں سے مت کڑھ اور (بیتھ) کا کہ خُدا پر توکل رکھ ہر ایک حرف سے ایک نئی بات شروع ہوتی ہے۔اس طرح اس زبور میں (۲۲) باتیں ہیں۔اور وہ چار حصوں میں منقسم ہے۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۱۱) میں یہ تعلیم ہے کہ کڑکڑاہٹ کو دور رکھیں اورایمان میں مضبوط رہنا چاہیے۔
حصہ دوئم۔آیات(۱۲۔۲۰) میں بیان ہے کہ شریروں کی فتح کی خوشی چندروز ہے۔اور جلد اختتام کو پہنچتی ہے۔
حصہ سوئم۔آیات(۲۱۔۳۱) میں ذکر ہے کہ راستبازوں کا اجر یقینی اور دائمی ہے۔
حصہ چہارم۔آیات(۳۲۔۴۰) میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نیکو کاروں اور شریروں کے انجام میں بہت فرق ہے۔
(زبور۳۸)۔ نادمی(پشمانی) زبور کے سلسلے میں یہ تیسرا زبور ہے۔زبور کی کتاب میں سات یعنی زبور(۶، ۳۲، ۳۸، ۵۱، ۱۰۲، ۱۰۳، ۱۴۳) نادمی زبور ہیں۔داؤد کا یہ زبور تذکیر یعنی یاد دلانے کے واسطے ہے۔اور یہ تین حصوں میں تقسیم ہے۔
حصہ اول۔آیات(۱۔۸) میں داؤد اپنی جسمانی تکالیف اور دردوں کوخُداوند کے آگے پیش کرتا ہے۔(۸) آیت میں وہ کہتا کہ مَیں بے تاب ہو گیا ہوں اور دل کی گھبراہٹ سے چلاتا ہوں۔
حصہ دوئم۔آیات(۹۔۱۴) داؤد خُداوند کے آگے فریاد کرتا ہے۔کہ اے خُدا میرے دوست اور آشنا میری تکلیف کے وقت مجھ سے الگ کھڑےرہے۔ اور میرے رشتے دار مجھ سے دور جاکھڑے ہوئے۔یہ زبور غالباً ان دنوں کی یاد میں ہے۔جب داؤد ابی سلوم بھاگا تھااور اس کی اس حالت میں اس کے جانی دوست اور رشتے داروں نے بھی اسے چھوڑ دیا۔
حصہ سوئم۔آیات (۱۵۔۲۵) میں وہ خداوند سے رہائی کی درخواست کرتا ہے۔اور عرض کرتا ہے کہ وہ اس کو ترک نہ کرے۔اوراس سے دور نہ رہے۔ اور کہتا ہے کہ اے خُدا میرے نجات دینے والے میری مددکے لیے جلدی کر۔داؤد کی اس وقت کی حالت ایوب کی حالت کے برابر ہے۔
(زبور۳۹)۔یہ زبور(۳۸زبور) سے ایک خاص نسبت رکھتا ہے۔تو اس میں مندرجہ ذیل چار خاص باتیں ہیں۔
(1) آیات(۱۔۳) میں داؤد ظاہر کرتا ہے کہ اس کا ارادہ تھا کہ چپ ہو رہے۔لیکن جب اس نے اپنی حالت شریروں کی سی دیکھی تو وہ بے اختیار ہو گیا۔اور خاموشی قائم نہ رکھ سکا۔
(2) آیات(۴۔۶) میں وہ دُعا کرتا ہےکہ اے خُداوند مجھ کو بتا کہ میرا انجام کیا ہے؟اور میری عمر کتنی ہے؟تاکہ مَیں جانوں کہ اس کی کتنی مدت ہے؟گویا وہ اپنے آپ کو تیار و آراستہ کرنا چاہتا ہے۔
(3) آیات(۷۔۹) میں وہ کہتا ہے کہ میری اُمید صرف یہواوہ پر ہی ہے۔ سو وہ اس سے عرض کرتا ہے۔مجھ کو میرے سارے گناہوں سے نجات دے۔اور مجھ کو جاہلوں کی طرح ننگ نہ کر۔
(4) آیات(۱۰۔۱۳) میں وہ خُداوند کی رہمنائی کا خواہشمند ہے۔اور کہتا ہے کہ اے خُداوند میری دُعا سن۔اور میرے نالے پر کان دھر۔میرے آنسوں دیکھ کر چپ نہ رہ کیونکہ تیرے سامنے میں پردیسی اور اور اپنے سارے باپ دادوں کی مانند مسافر ہوں۔
(زبور۴۰) ۔اس کے دو حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۱۱) داؤد مندرجہ ذیل باتیں پیش کرتاہے۔
(الف)۔ا سے ( ۳آیت) میں وہ کہتا ہے کہ مَیں نے صبر سے خُداوند کی انتظاری کی۔اور وہ میری طرف مائل ہوا۔ اس نے میری فریاد سنی اور مجھے ہولناک گھڑے اور دلدل کی کیچ(دلدل،کیچڑ) سے باہر نکالا۔اس نے میرے پاؤں چٹان پر رکھے اور ان کو ثابت قدمی بخشی۔
(ب)۔(۴۔۵) آیت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خُداوند پر بھروسہ رکھنا انسان کی مبارکبادی کا ایک خاص سبب ہے۔
(ج)۔(۶۔۸) آیت میں وہ کہتا ہے کہ خُداوند انسان سے ہدیہ اور ذبح طلب نہیں کرتابلکہ اس کی شخصیت کا خواہش مندہے۔
(د)۔(۹۔۱۱) آیت میں وہ کہتا ہے کہ یہ بہت ہی مناسب ہے کہ خُداوند کی صداقت اور اس کی خوبیوں ہم اپنے میں چھپا نہ رکھیں بلکہ جماعت میں ان کی بشارت دیں۔
حصہ دوئم۔ آیات(۱۲۔۱۷) میں وہ فریاد کرتا ہے کہ دشمن متواتر اس کا پیچھا کرتے اور متواتر اس کو تنگ کرتے ہیں۔سو وہ خُداوند سےمحافظت کاخواہشمند ہے۔ اور اس کاشکریہ ادا کرتا ہے۔
(زبور۴۱)۔آیات(۱۔۳) داؤد ظاہر کرتا ہے کہ وہ شخص مبارک ہے جو مسکین کا فکر رکھتا ہے۔خُداوندمصیبت کے وقت اس کو رہائی دےگا۔
آیات(۴۔۹) میں داؤد بحالی کے واسطے دُعا کرتا ہے۔اور دشمنوں کے خلاف ایک شکوہ بیان کرتا ہے۔
آیات(۱۰۔۱۲) وہ اپنا منہ دُشمنوں کی طرف سے پھر کر خُداوندکی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اور اس کی رحمت چاہتا ہے۔اور اپنی دیانتداری کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔
آیت(۱۳) میں وہ خُداوند کی تمجید میں یہ کہتا ہے کہ خُداوند اسرائیل کا خُداازل سے ابد تک مبارک ہے۔آمین ثم آمین۔
باب سوئم
زبور کی دوسری کتاب
زبور(۴۲۔۷۲)
سوال۔11: زبور کی دوسری کتاب کی کیفیت بیان کریں؟
جواب:زبور کی دوسری کتاب (۳۱) یعنی(۴۲۔۷۲) زبور ہیں۔ غالباً سلیمان کی ہیکل کی عبادت کے لیےتالیف ہوئے تھے۔ان میں(۸) یعنی (۴۲۔۴۹) بنی قورح کے ہیں۔
(۵۰زبور)۔آسف کا ہے۔(۱۸) یعنی(۵۱۔۶۵، ۶۸۔۷۰) زبور کے ہیں۔زبور(۶۶، ۶۷، ۷۱) گمنام ہیں۔اور (زبور۷۲) سلیمان کا ہے۔اس کتاب کی یہ خاصیت ہے کہ کسی نا معلوم وجہ سےلفظ ایلوہیم بجائے یہوواہ کے بکثرت استعمال ہوا ہے۔زبور کی پہلی کتاب میں لفظ یہوواہ (۷۲) دفعہ اور ایلوہیم(۱۵) دفعہ استعمال ہوا ہے۔اور دوسری کتاب میں لفظ ایلوہیم(۶۔۷) دفعہ استعمال ہو ہے۔اور یہوواہ(۷۴)بار استعمال ہوا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب میں کئی ایک قابل اور قادرِ کلام شاعروں کی فکر رسا ئی کے نتائج ہیں۔جن کی مفصل کیفیت پر حتی المکان غور کریں گے۔اوپر ذکر ہوا ہے کہ اس کتاب کے (۳۱) زبوروں میں سے(۸) زبور بنی قورح کے ہیں ۔اب دریافت کرنا چاہیے کہ یہ بنی قورح کون تھے؟اور ان زبوروں کی خاص وجہ اور موقع کیا تھا؟
( خروج۶: ۱۶) آیت سے معلوم ہوتاہے کہ بنی لاوی جیر سوم ،مراری اور قہات تھے۔اور اس باب کی (۱۸) آیت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ بنی قہات عمرام ۔ اور اضہار اور عزُئیل تھے۔پھر (۲۱) آیت سے ظاہر ہے کہ بنی اضہار قورح نفج اور زکری تھے چنانچہ قورح بن قہات بن لاوی تھے۔
( گنتی۱۶: ۱۔۳۵) میں ذکر ہے کہ یہ وہ قورح ہے جس نے داتن اور ابیرام سے مل کر موسیٰ کے ساتھ فتنہ سازی کی تھی۔اور عجیب طرح سےمارا گیا۔اور( گنتی ۲۶: ۱۱) سے ظاہر ہے کہ قورح کے لڑکے اس ہلاکت سے محفوظ رہے چونکہ وہ لاوی تھےاور گانے بجانے میں کافی دسترس رکھتے تھے۔داؤد نے ہیکل کی عبادت کے لیے مقرر کیا۔چنانچہ(۱۔ تواریخ ۱۶باب)۔میں ذکر ہے کہ جب داؤد نے یروشلیم میں عہد کے صندوق کے لیے جگہ تیار کی تواس نے لایوں کےسرداروں کوفرمایا کہ اپنے بھائیوں میں سے گانے والوں کو مقرر کریں کہ موسیقی کے سازیعنی بربطیں ،ستار اور منجیر بجاو اور بلندآواز سے گائیں سو لایوں نے ہمیان بن یوایل کو اور اس کے بھائیوں میں سے آسف بن برکیا ہ کو اوربنی مراری میں سے ایتان کو مقرر کیا۔اور ان کےساتھ کئی ایک اور بھی تعینات ہوئے اور عہد کے صندوق کو عوبیدادوم کے گھر سےنکال کریروشلیم میں بخوشی چڑھائیں۔اور (۱۔ تواریخ ۲۵: ۱) سے ظاہر ہے کہ داؤد اور لشکر کے سرداروں نے آسف اور ہیمان یدوتون کے بیٹوں میں سے بعض کو عبادت کے لیے تعین کیا۔اور بربطوں اور ستار اور جھانجوں سے نبوت کریں۔اس باب کی(۵) آیت میں ہیمان بادشاہ کا غیب بین بتلایا گیا ہے۔اور ذکر ہے کہ ہیمان کے بیٹے خُدا کے معاملوں میں سینگ بلند کرنے کو تھے۔
سینگ کا باجا زور سے اور بلند آواز سے بجاتے تھے۔اور خدا اس کو(۱۴) بیٹے اور (۳) بیٹیاں دی۔اور وہ اپنے باپ کی صلاح و ہدایت کےمطابق خُداوند کے گھر میں جھانجھ ، بربط اور ستار سے گانے کو حاضر تھے۔کہ خُدا کے گھر کی خدمت کریں۔جیسا کہ ہیمان یدوتون اور آسف کو خُداوند کی طرف سے حکم ہوتا تھا۔(۱۔ تواریخ ۶: ۳۱۔۳۲) میں مرقوم ہے کہ یہ وہ ہیں جنہیں داؤو نے بعد اس کے کہ آرام گاہ میں پہنچا۔ گانے والوں کے گروہوں پر مقرر کیا۔سو وہ خیمہ کے مسکن کے آگے جب تک کہ یروشلیم میں سلیمان نے خُداوند کا گھر تعمیر نہ کیاوہ گانے کی خدمت کرتے تھے۔اوراپنی اپنی باری پر خدمت کے لیے حاضر ہوتے تھے۔(۱۔تواریخ۶: ۲۳) میں مرقوم ہے کہ وہ جو اپنے لڑکوں سمیت خدمت گزاری کرتے تھے۔یہ ہیں بنی قہات میں ہیمان سرودی اور(۱۔تواریخ۶: ۴۳۔۴۴) سے ظاہر ہے کہ آسف لاوی کے بیٹے جیرسون سے نکلا اور ایتان مراری کے خاندان میں سے تھا۔یہ سب کے سب لاوی تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ جب ضرورت پڑی تو انہوں نے موقعہ کے مطابق ملہم (الہٰام کیا گیا)ہو کرزبور تصنیف کیے۔
سوال۔ 12:۔دوسری کتاب کے بنی قورح کےآٹھ زبوروں کی تفصیل بیان کریں؟
جواب:۔(زبور۴۲، ۴۳) ۔کی ترکیب اور ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں یہ ایک ہی زبور تھا۔(زبور ۴۲) کا سرنامہ یہ ہے کہ ’’سردار معنی کے لیے بنی قورح کا مشکیل جب کہ (زبور ۴۳) کا بالکل کوئی سرنامہ نہیں۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ( زبور ۴۳، زبور ۴۲) کا تیسرا حصہ ہے۔یہ دونوں (زبور۴۲: ۵) کے ان الفاظ سے تینوں حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں کہ ’’میرے دل تو کیوں گرا جاتا ہے اور تو مجھ میں کیوں بے آرام ہے۔خُداپر بھروسہ رکھ کہ مَیں آگے کو بھی اس کی ستائش کروں گا۔کہ اس کا چہرہ نجات دینے والا ہے۔ان زبوروں کا حصہ اوّل (زبور۴۲: ۱۔۵) میں ہے کہ جس میں مصنف خُدا کی حضوری کے لیےایک ہرنی کی طرح جو کہ پانی کے سوتوں کی پیاسی ہو۔پیاسا اورآرزومند ہے۔اب معلوم ہوتا ہے کہ مصنف گانے والوں میں سے تھا۔اور ان دنوں یروشلیم سے دور اور ہیکل کی عبادت سے محروم تھا۔اور عید کے ایام میں اس گروہ کے ساتھ جو کہ خوشی کی آواز سے گاتا ہوا اور شکرگزرای کرتا ہوا خُداوند کے گھر کو جاتا تھا۔شریک و شامل نہ ہو سکا۔
حصہ دوئم۔ یعنی آیات(۶۔۱۱) میں مصنف اپنی حالت پر غور کرتا اور خُدا سے فریاد کرتا اور کہتاہےکہ اے میرے خُدا میرا جی گرا جاتا ہے۔مَیں دوسروں کی زمین میں اور حرموں میں کوہِ مصفاپر تجھے یاد کروں گا۔گو وہ ہیکل میں عبادت نہ کرسکا۔تو بھی یہاں ہی سے خُدا کو یاد کرتا ہے۔
حصہ سوئم۔ یعنی( زبور ۴۳) میں دُعا کرتاہےکہ خُداوند اس کو اس کے دشمنوں سے رہائی بخشے تاکہ وہ پھر بدستور عبادت میں شریک ہو سکے اور کہتا ہے کہ تب مَیں خُدا کے مذبح کے پاس خُداکے حضور کمال خوشی سے بربط بجا کر ستائش کرتا ہوا جاؤں گا۔اس حصے کی پانچویں آیت میں وہ اپنے جی کو تقویت دے کر کہتا ہے کہ اے میرے جی! تو کیوں گرا جاتا ہے۔اور تو مجھ میں کیوں بے آرام ہے۔خُداوند پر توکل کر کہ مَیں آگے کو بھی اس کی ستائش کروں گا۔جو میرے چہرے کی نجات اور میراخُدا ہے۔
(زبور۴۴)۔بنی قورح کا مشکیل جو سردار مغنی کے سپرد کیاگیا۔خُدا کے حضور میں گایا جائے۔اس میں بنی قورح بنی اسرائیل کا وکیل ہو کر بیان کرتا ہے کہ گو اسرائیل کی صداقت اور وفا داری مستقل رہی تو بھی خُدا نے ان کو مصائب میں گرفتار کیا۔اور وہ خُدا کی مہربانی کا طلب گار ہے۔
اس زبور میں پانچ مختلف باتیں ہیں۔
(1) آیات(۱۔۳) میں وہ خُدا کو یاد دلاتا ہےکہ سابق زمانہ میں باپ دادوں کی شہادت کی وجہ سےاس نے اس کے ساتھ نیک سلوک کیا اور اس ملک سے قوموں کو نکال کر انہیں بسایا۔
(2) آیات (۴۔۸) میں وہ خُدا کو اپنا بادشادہ تسلیم کرکےدعوے کرتا ہےکہ اس کی مدد سے میں اپنے دشمنوں کو دھکیل دوں گا۔اور اس کے نام سے ان کو جو مجھ پر چڑھتے اور حملہ کرتے ہیں۔پامال کروں گا۔نیز وہ یہ بھی گمان رکھتا ہے کہ خُداوند خود بغیران کی مدد کےبچانے والاہے۔اور کہتا ہے کہ وہ ان کو جو ہم سے کینہ رکھتے ہیں رسوا کرتاہے۔کہ ہم ابد تک اسی کی ستائش کریں گے۔
(3) آیات (۹۔۱۶) میں وہ خُدا کے سامنے فریادکرتا ہے کہ وہ گزشتہ کی طرح ان کی مدد نہیں کرتا۔اس نے ان کو ترک کر رکھا ہے۔اور ان کو ان کے دشمنوں کے آگے بھگا دے گا۔اور مفت میں بیچ ڈالا ہےاور ہم کو قوموں کے درمیان ضرب المثل کیا ہے۔
(4) آیات(۱۷۔۲۲) میں اسرائیل دعوے کے کہتے ہیں کہ ہم ایسے سلوک کے سزاوار نہ تھے۔کیونکہ ہم خُدا کو نہیں بھولے۔اور اس کے عہد میں بے وفائی نہیں کی بلکہ ہم خُدا کے لیے سارا دن مارےجاتے ہیں۔اور ذبح کی ہوئی بھیڑوں کی مانندگنےجاتے ہیں۔
(5) آیات(۲۳۔۲۶) میں وہ سب مل کر عرض کرتے ہیں۔کہ خُدا جاگے اور بیدار ہو۔اور ان کو ہمیشہ کے لیے ترک نہ کرے۔نیز وہ ایک سوال بھی کرتے ہیں۔کہ ۔وہ اپنا منہ کیوں چھپاتاہے؟اور اس ظلم کو جو ہم پرہوتا کیوں بھلا دیتا ہے۔آخر میں عرض بھی کرتے ہیں۔و ہ اپنی رحمتوں کے واسطے ان کو رہائی دے۔
(زبور۴۵)۔ بنی قورح کا مشکیل یعنی غزل معشوقوں کی بابت جو سوسنوں کے سر پر گائی جائے۔اس میں دُلہا اور دُلہن کی تشبیہ سے مسیح اور کلیسیاء کے مبارک اتحاد کا تصور دلایا گیا ہے۔اس کی پہلی آیت تمہیدی ہے۔اس میں مصنف وجہ تصنیف بیان کرتا ہے۔ آیات(۲۔۹) میں وہ بادشاہ کا حسن،عزت ،جلال اور صداقت ظاہر کرتا ہے۔اور اس کی شاہانہ خوبیوں اور اوصافِ کاملہ کا بیان کرکے تاکیدکرتاہے۔کہ وہ اپنی بزرگواری سے سوار ہو۔اور سچائی، ملائمت اور صداقت کےواسطے آگے بڑھے۔اور کہتا ہے کہ تیرا دہنا ہاتھ تجھ کو مہیب کام سکھائے گا۔
آیات(۱۰۔۱۲) میں مصنف دُلہن کی طرف مخاطب ہو کر تاکید کرتا ہے کہ اے بیٹی سن سوچ اور اپنا کان ادھر لگا۔اپنے لوگوں اور اپنے باپ کے گھر کو بھول جا۔غرض کہ کلیہ مخصوصیت طلب کیا گیا ہے۔ آیات(۱۳۔۱۵) میں وہ آراستہ دُلہن خوشی اور شادمانی کے ساتھ دولہا کے ساتھ پہنچائی جاتی ہے۔اوروہ بادشاہ کےمحل میں داخل ہوتی ہے۔
آیات(۱۶۔۱۷) میں مصنف بادشاہ کو کہتا ہے کہ تیرے بیٹے تیرے باپ دادا کے قائم مقام ہوں گے۔اور تو ان تمام زمین کے سردار مقرر کرے گا۔اور سب لوگ ابدالاباد تیری ستائش کریں گے۔(زبور۴۶، ۴۷، ۴۸) بنی قورح کے یہ تین زبور جوکہ بنی اسرائیل کی ایک خاص رہائی کی یادگار اور اس کی شکر گزاری میں تصنیف ہوئےجو کہ باسلسلہ ہیں۔(زبور۴۶) میں یہ حقیقت پیش ہے کہ یروشلیم کی حفاظت کی وجہ اس میں خُدا کی حضوری تھی۔(زبور ۴۷) خُدا کی تعریف ہےکہ وہ مہیب ہے۔اور تمام زمین کے اوپر بادشاہ عظیم ہے۔اور (زبور ۴۸) میں بیان ہے کہ یروشلیم کی فوقیت اس سبب سے کہ یہوواہ اس میں بودو باش کرتا ہے۔اور کہ وہ شاہِ عظیم کا شہرہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ زبور اس وقت تصنیف ہوئےحزقیاہ نے خُداوند سے دُعاد مانگی۔اور شاہِ اسور سنہیرب سے بچ گیا۔(۲۔ سلاطین ۱۹: ۲۴۔۲۷) اگر یہ خیال درست ہے تو ان زبوروں کی تالیف کا وقت جیسا کہ بعض مصنفوں کا گمان ہےیہ زمانہ سلیمان ہو سکتا ہے۔ان تینوں زبوروں کی تفصیل اس طرح ہے۔(زبور۴۶: ۱۔۳) میں یقین دلایا گیا ہے کہ اگر خداوند موجود ہو تو زمین کے انقلابات سے کچھ بھی خوف و خطر نہیں ہو سکتا۔
آیات(۴۔۷) میں شہر یروشلیم کی حفاظت کا سبب یوں بیان کیا گیا ہے۔کہ خدا اس کے بیچوں بیچ ہے۔سو اس کو ہرگز جنبش نہ ہو گی۔ اور اہلیانِ شہر کمال خوشی اور اطمینان سے بودو باش کریں گے۔
آیات(۸۔۱۱) میں تاکید ہے کہ خُدا کی کارروائی پر غور کیا جائے۔اور (۱۰) آیت میں خُدا فرماتا ہے کہ تھم جاؤ۔اور جانو کہ مَیں خُدا ہوں۔مَیں قوموں میں بلند اور زمین پر سر بلند ہوں گا۔
(زبور۴۷)۔میں بنی قورح سردار مغنی کی معرفت سب لوگوں کو طلب کرتا ہے۔کہ تالیاں بجائیں اور کہتا ہے کہ خوشی کی آواز سے خُداوند کے حضور نعرہ مارو۔ اس کی پہلی چار آیات میں ایک دعوتِ عام ہے۔کہ یہوواہ کی جو کہ کل دُنیا کا بادشاہ ہے۔ستائش کرو اور خوشی سے للکارتے ہوئےاوپر چڑھاتے ہیں ۔وہ سب جہان کا بادشاہ ہے۔سو چاہیے کہ سوچ سمجھ کر اس کی ستائش کے گیت گائیں۔
آیات (۸۔۹) ظاہر کرتی ہے کہ دُنیا کی سب اقوام خُدا کی عالمگیر حکومت کو تسلیم کرکے ابرہام کےخُدا کے لوگوں کے ہمراہ جمع ہوئی ہیں۔
(زبور۴۸)۔ میں بنی قورح صیحون کی خوش نمائی اور جلال کی تعریف کرتے ہیں۔اس کی پہلی دو آیات میں وہ یہوواہ کی بزرگی کی تعریف کرکےکہتے ہیں کہ وہ اس قابل ہے کہ ہمارے خُدا کے شہر میں اس کے مقدس پہاڑ پر اس کی ستائش کی جائے۔اور اس کی تعریف تمام زمین پر ہو۔
آیات(۳۔۸) میں وہ کہتے ہیں کہ یہوواہ کاجلال اس شہرمیں اس قدر موجود تھاکہ دشمن دیکھ کر فوراً دنگ ہوئے۔اور گھبرا کر بھاگ گئے۔ آیات(۹۔۱۴) میں وہ بیان کرتا ہے کہ اس رہائی کا ان پر کیا اثر ہونا چاہیے۔ یعنی یہ کہ وہ اس کی ہیکل میں خُدا کی مہربانی پر غور کرکے اس کی عدالتوں کے سبب خوشی کریں،نیز چاہیے کہ وہ اس شہر پر خوب اپنادل لگائیں۔ تاکہ آنی والی پشتوں کواس کی خبر دینے کے قابل ہوں گے۔اور بتا سکیں کہ یہ خُدا ابدالآبادتک ہمارا خُدا ہےاور مرتے دم تک ہماری ہدایت کرے گا۔
(زبور۴۹)۔بنی قورح کا زبورپہلی چار آیات میں دبیاچہ ہے۔جس میں سب اُمتیں طلب کی گئیں ہیں۔کہ کان لگائیں اور سنیں کیونکہ وہ ایک راز کی بات پیش کرنا چاہتے ہیں۔اور وہ راز یہ ہے کہ دولت انسان کی بہبود کے لیے لاحاصل ہے۔کسی فضول شخص کو مقدور نہیں کہ وہ بھائی کو اس کا کفارہ دے کر چھڑا سکے۔چنانچہ آیات(۵۔۱۳) میں وہ دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مصیبت کے ایام میں دولت بالکل بے سود اوربے اثر ہے۔کیونکہ دولتمند بھی اوروں کی طرح مرتےہیں۔اور اپنی دولت اوروں کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔
آیات(۱۴۔۱۵) میں متمول(مال دار) ملحدین(کافر) کی کیفیت پیش کرکے اس کا دینداروں کی آخری حالت سے مقابلہ کرتا ہے۔یہ دو آیات بہت ہی غور طلب ہیں۔ان میں ذکر ہے کہ بے دین دولتمند بھیڑوں کی طرح پاتال میں ڈالے جاتے ہیں۔اور کہ موت انہیں چیر جائے گی۔راست رو صبح کے وقت ان پر مسلط(غالب) ہوں گےاوران کا جمال پاتال ہی کھولے گا۔ اور ان کا کوئی گھر نہ رہے گا۔لیکن اپنی بابت وہ یقین سے کہتا ہے کہ خُداوند میری جان پاتال سے چھڑا دے گا۔اور مجھے لے رکھے گا ۔آیات(۱۶۔۲۰) میں وہ ایک تاکید کرتے ہیں کہ جب کوئی آدمی دولت مند ہونے لگے۔تو یہ خوف و ہراس کا باعث نہیں۔ لوگ اس کی تعریف کریں گے۔مگر موت کے وقت وہ کچھ ہمراہ نہ لے جائے گا۔اس کی شوکت اس کے پیچھے قبر میں نہ اترے گی۔ آخری آیت میں ذکر ہے کہ وہ انسان جو حشمت والے ہیں مگر بےسمجھ ہیں بالکل حیونوں کی مانند ہیں جو کہ فنا ہوجاتے ہیں۔
(زبور۵۰)۔آسف کا زبور ہے چونکہ آسف لاوی کے خاندان اور مشہور ماہرینِ موسیقی میں سےتھا۔ہم اس کے زبور کا مطالعہ بنی قورح کے زبوروں کے ساتھ کریں گے۔زبور کی کتاب میں بنی قورح کے بارہ(۱۲) زبور ہیں۔یعنی زبور(۵۰، ۷۳، ۸۳) یہ سب زبور کتاب کے تیسرے حصے میں ہیں۔ہم ان زبوروں کے مطالعہ کےوقت آسف کی کیفیت پر غور کرتے ہیں۔
آسف کے سب زبور خصوصاً نبوت سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں مصنف کل بنی آدم سے مخاطب نہیں بلکہ صرف یہوواہ کے لوگوں سے مخاطب ہے۔زبور پچاس(۵۰) میں وہ ان لوگوں کی توجہ عدالت کی طرف لگاتا ہےاور ان کو بتاتا ہے کہ خُداوند مدعی اور قاضی ہے۔
(1) (۱۔۶)آیات میں وہ خُداوند کی عدالت کے واسطے آنے کا ذکر کرکے بتاتا ہے کہ جس طرح کوہِ سینا پر بادل گرجتے اور بجلی تھی۔ویسے ہی عدالت کے لیےاس کی آمد ہو گی۔چنانچہ آیات(۲۔۴) میں بیان ہے کہ ہمارا خُدا آئے گا۔اور چپ چاپ نہ رہے گا۔آگ اس کے آگے فنا کرتی جائے گی۔اور اس کے گردا گرد شدت سے طوفان ہوگا۔اس میں وہ آسمان و زمین کوطلب کرتا ہے،تاکہ وہ اپنے لوگوں کی عدالت کرے۔یہ عدالت خاص انہیں کی ہے۔جن سے کہ اس نے عہد کیا۔دیکھو (آیت۵)۔
(2) آیات(۷۔۱۲) میں خُدا قاضی کی حیثیت ان سے مخاطب ہوتا ہے۔جو کہ رسم پرستی سے اس کی عبادت کرتے ہیں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کہ قربانیاں پیش کرتے اور اس وہم میں ہیں کہ چونکہ بپتسمہ یافتہ ہیں۔اگر صرف گاہے بگاہے وہ عبادت میں شریک اور حاضر ہوں تو بس وہ خُدا کے لوگ ہیں۔لیکن خُدا ان پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان کی قربانیوں کا محتاج نہیں۔کیونکہ سب جاندار اسی کے ہیں۔
سو مصنف کہتا ہے کہ شکر گزاری کی قربانیاں خُداکے آگے گزارواور حق تعالیٰ کے حضور اپنی نظریں ادا کرو۔اور خُدا خود فرماتا ہے کہ مصیبت کے دن مجھ سے فریاد کرو۔میں تمہیں مخلصی دوں گا۔اور تم میرا جلال ظاہر کرو گے۔غرض کہ خُدا اپنے لوگوں سے رسمی اور ظاہری نہیں بلکہ روحانی پرستش طلب کرتا ہے۔خُدا روح ہے اس کے پرستاروں پر لازم ہے کہ رُوح اورراستی سے اس کی پرستش کریں۔
(3) آیات (۱۶۔۲۱) خُداریاکاروں سے مخاطب ہوکر فرماتا ہے،کہ تم کیوں اپنے منہ سے میرے عہد کاذکر کرتے ہو۔حالانکہ تربیت سے نفرت رکھتے ہو۔اور میرے کلام کو پیچھے پھنکتے ہو۔وہ لوگ دینی اور روحانی معاملات میں تو بہت کچھ خرچ کرتے تھے۔یعنی ہونٹوں سے خداکی بزرگی اور ستائش کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔لیکن بدی اور بے دینی سے اپنے آپ کو باز نہیں رکھتے تھے۔سو خُداکہتا ہے کہ میں تمہیں تنبیہ دوں گا۔اور تمہارے کاموں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ایک ایک کرکے دکھاؤں گا۔
سوال۔13۔زبور کی دوسری کتاب داؤدکے جو( ۱۸)زبور ہیں۔ان کی تفصیل بیان کریں؟
جواب۔اس کتاب کے باقی ماندہ زبور داؤدکے ہیں۔اور ان میں(۱۸) کے سر ناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کسی خاص تواریخی واقعہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان(۱۸) زبوروں کے علاوہ باقی تعلیمی اور نصیحت دینے پر مبنی ہیں۔ان (۱۸) زبوروں میں زبور(۵۱) نادمی زبور ہے۔یاد کہ کل سات یعنی(۶، ۳۲، ۳۸، ۵۱، ۱۰۲، ۱۳۰، ۱۴۳) زبور نادمی ہیں۔یہ زبور دعائیہ بھی ہیں۔
(زبور ۵۱) ۔کے سرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زبور میں پائی جانے والی دُعا داؤد نے اس وقت مانگی جب ناتن نبی نے اس کو حتی اوریا اور بت سبع کے گناہوں کی نسبت قائل کیا۔(۲۔سموئیل ۱۲باب) ۔زبور (۵۱) پانچ حصوں میں منقسم(تقسیم ) ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۴) آیات میں داؤد اپنے گناہوں اور گنہگاری کا اقرار اس طرح کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں اپنے گناہوں کو مان لیتا ہوں۔اور میری خطا ہمیشہ میرے سامنے ہے۔مَیں نے تیرا گُناہ کیا ہے۔اور تیرے حضور بدی کی ہے۔
حصہ دوئم۔(۵۔۸) آیات میں وہ اپنی سر گزشت کی اخلاقی ناقابلیت کا اس کامل سر شت سے مقابلہ کرتا ہے کہ جو کہ خُدا اس سے طلب کرتاہے۔ اورعرض کرتا ہے کہ اے خُدا میرے باطن میں دانائی سکھلا۔اور زوفہ سے مجھ کو پاک کرکہ مَیں صاف ہو جاؤں۔مجھ کو دھو تو مَیں برف سے زیادہ سفید ہو جاؤں۔
حصہ سوئم۔(۹۔۱۲) آیات میں پھر وہ معافی کے واسطے عرض کرکے کہتا ہے کہ اے خُدا میرے اندر ایک پاک دل پیدا کراور ایک مستقیم روح نئے سرے سے میرے باطن میں ڈال دے۔اور مجھ کو اپنے حضور سے مت ہانک اور اپنی پاک روح مجھ سے نہ نکال ،بلکہ مجھ کو اپنی آزاد روح سے سنبھال۔
حصہ چہارم۔آیات (۱۳۔۱۷) میں وہ وعدہ کرتا ہے کہ جب تو میری عرض کے مطابق مجھ سے سلوک کرے گا۔تو مَیں تیری رہیں خطا کاروں کو سکھلاؤں گا۔اور گنہگارتیری طرف رجوع کریں گے۔وہ یہ بھی عرض کرتا ہے کہ اے خُدا مجھ کو خون کے گناہوں سے رہائی دےکہ میری زبان تیری صداقت کے گیت بلند آواز سے گائے۔
حصہ پنجم۔آیات (۱۸۔۱۹) کل جماعت سے فرماتا ہے کہ خُدا صیحون کے ساتھ بھلائی کرے گا۔اور یروشلیم کی حفاظت کرے۔
(زبور۵۲)۔اس زبور کے سر نامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کی تصنیف ہے۔ جب ادومی دویئگ نے سال کو اطلاع دی کہ داؤد نے اخیملک کے پاس جا کر اس سے مقدس روٹی یعنی نذرکی روٹیاں لی۔اس زبورکے دو حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۵) آیات میں بد کردار کو ملامت کی جاتی اور اس کے حق میں کہا جاتاہے کہ اس کی زبان خرابیاں ایجادکرتی ہےاور نیز اُسترے کی مانند دغا بازیاں پیدا کرتی ہے۔نیز اس کی بد کرداری کا نتیجہ بھی مذکورہے۔کہ خُدااس کو ابد تک برباد کرے گااور وہ زندگی کی زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا۔
حصہ دوئم۔(۶۔۹) آیات میں دکھایاگیا ہے کہ اس کااثر صادقوں پر کیا ہو گا۔کہ وہ ڈریں گے اور خُدا کے گھر میں ہرے بھرے درخت مانند ہوں گے۔اور خُدا کی رحمت پر ابد تک بھروسہ رکھیں گے۔بھروسے کی دلیل دُعا اور عبادت ہے۔
(زبور۵۳)۔ داؤد کا مشکیل جو کہ بانسریوں کے ساتھ گایا جائے۔ اس زبور کا مضمون احمق کی جماعت اور شرارت ہے۔اس کی پہلی تین آیات میں اس کی حالت کا سبب یوں بیان ہے۔کہ چونکہ وہ خُدا کا منکر ہےاور اس کا طالب نہیں وہ خراب ہوا ہے۔اس کا کام مکروہ ہے۔ان میں سے کوئی نیکو کار نہیں۔
آیات(۴۔۵) میں سوال ہے کہ کیا ان بدکاروں کو عقل نہیں کہ وہ خُدا کے لوگوں سے بے ڈھرک بدی کرتے ہیں۔اور یہاں خوف کا مقام نہیں وہاں ڈرتے ہیں۔خُدا کی حضوری کا عدم احساس باعثِ خوف و ہراس ہے۔(۶آیت) میں دُعا ہے کہ اسرائیل کی نجات صیحون ہی سے ہو تواس کی شادمانی ہوگی۔
(زبور۵۴)۔اس کے سرنامہ سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ زبوراس وقت کی اور اس واقعہ کی یادگارہے جب کہ زیؔف کے لوگوں نےجبعؔہ میں آکے ساؤل کو خبردی کہ داؤدان کے ہاں چھپا ہواہے۔(۱۔سموئیل ۲۳: ۱۹) آیت یہ زبور لفظ سلاہ سے حصوں میں منقسم ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۳) آیات میں داؤد اپنے دین کے دشمنوں سے رہائی پانے کےلیے دُعا کرتا ہےکہ خُدا اپنے نام کی خاطر مجھ کو بچا اور اپنی قوت سے میرا انصاف کر۔
حصہ دوئم۔(۴۔۷) میں مصنف اپنا یقین ظاہر کرتا ہے۔خُداضرور ہی اس کو بچائے گا۔اور کہتا ہے کہ دیکھو خُدا میرا مدد گار ہےاور وہ ان کے درمیان ہے ۔میری جان کو سنبھالتے ہیں۔
(زبور۵۵)۔ اس کےسرنامے سے اس کے موقع تصنیف کا کچھ پتہ نہیں لگتا۔تو بھی خیال ہےکہ یہ اس موقع کی یاد گاری میں تصنیف ہوا۔ جب ابی سلوم نے داؤد سے بغاوت کرکے اجلونی اخیتیفل کو جو داؤد کا مشیر تھا۔اس کے شہر اجلون میں سے جب کہ وہ قربانیاں گزرانتا تھا بلایا۔ (۲۔سموئیل ۱۵: ۱۲۔۳۱)شائد داؤد کو اپنے بیٹے کی محبت مجبور کرتی ہےکہ اس کو بدنام نہ کرے۔ اس زبور کے چار حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۸) آیات میں داؤد خُدا سے عرض کرتا ہےکہ اس کی دُعا سن لے۔اور اس کی منت سے منہ نہ پھیرےاور کہتا ہے کہ مجھ پر ظلم کیا چاہتا ہےاور غضب سے مجھ سے کینہ رکھتا ہےاور مَیں موت کے ہولوں(خوف) میں پڑا ہوں۔ڈرنا اور کاپننا مجھ پر پڑا کپکپی مجھ پر غالب آئی۔کاش کہ کبوتر کے سے میرے پنکھ ہوتے تو مَیں اڑ جاتا اور آرام پاتا۔
حصہ دوئم۔(۹۔۱۱) آیات میں وہ خُدا سے اپنے دشمنوں کی ہلاکت کے واسطے عرض کرتا ہے۔اور چاہتا ہے کہ ان کی زبانوں میں تفرقہ ڈالا جائے۔کیونکہ ان ہی کے سبب شہر میں ظُلم اور جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔
حصہ سوئم۔(۱۲۔۱۵) آیات میں وہ دشمنوں کی کیفیت بیان کرتا ہے۔ان میں سے ایک کے حق میں وہ یوں کہتا ہے کہ وہ میرا ہم درجہ آدمی ہے۔ یہ غالباً اس کا بیٹا ابی سلوم ہے۔ایک اور کی نسبت کہتا ہے کہ وہ میرا رفیق اور دلی دوست تھا۔ہم مل کر اختلاطی(پیار اور محبت کی باتیں ) کرتے تھے۔اور گروہ کے ہمراہ خُدا کے حضور جایا کرتے تھے۔یہ شخص غالباًا خیتیفل اس کا مشیر تھا۔جس کے حق میں داؤد نے دُعا بھی مانگی تھی کہ اے خُدا مَیں تجھ سے منت کرتا ہوں کہ اخیتیفل کی اصلاح کو حماقت اور بطالت سے بدل دے ۔
(۲۔سموئیل ۱۵: ۳۱)آیت ۔۔۔وہ اپنے سب دُشمنوں کے واسطے مجموعی طور پر یہ منصوبہ رکھتا ہے کہ ان سب پر ناگہاں موت آ پڑے۔وہ جیتے جی پاتال میں اُتریں۔کیونکہ ان کے گھروں میں اور ان کے بیچ میں شرارت ہے۔
حصہ چہارم۔ آیات(۱۶۔۲۳) میں اس کا بھروسہ جاتا رہتا ہے۔اور وہ بلکل مایوس ہوجاتا ہے۔اور کی طرف توجہ کرنے سے اس کا اطمینان بحال ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ مَیں خُدا کو پکاروں گاتو خُداوند مجھ کو بچا لے گا۔کیونکہ جو کوئی اپنا بوجھ خُداوند پرڈالتا ہے وہ ضرور ہی سنبھالا جاتا ہے۔وہ صادق کو لغزش کھانے نہ دے گا۔
(زبور۵۶)۔اس کے سرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس موقعہ کی تصنیف ہے جب فلسطینیوں نےجات میں داؤد کوپکڑا (زبور۳۴، ۵۶) داؤد کی آوارہ گردی کی حالت بتاتے ہیں۔جب وہ ساؤل سے رگیدہ جارہاتھا۔یہ زبور آیات(۴، ۱۱) کے ان الفاظ سے کہ میرا بھروسہ خُدا پر ہے۔میں ڈرنے کا نہیں۔انسان میرا کیا کرسکتا ہے۔دو حصوں پر مشتمل ہے۔
حصہ اوّل۔ آیات(۱۔۴) ۔ حصہ دوئم آیات(۵۔۱۱) آخری دو یعنی(۱۲۔۱۳) میں تتمہ ہے۔حصہ اوّل وہ خُدا پر اپنا توکل رکھنے کا پہلا سبب بیان کرتاہےکہ خُدا نے اپنے لوگوں کی حفاظت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ داؤد کو کامل یقین ہے کہ خُدا ضرور بالضرور اپنے قول اور فرمودہ کو پورا کرے گا۔اس کو اس بات کا علم ہے کہ خُدامیں صرف ارادہ ہی نہیں بلکہ وہ قادرِ مطلق ہے۔اسے کل قوموں پر قدرت حاصل ہے۔اس واسطے وہ کہتا ہے کہ میرا توکل خدا پر ہےمَیں ڈرنے کا نہیں انسان میرا کیا کرسکتا۔
حصہ دوئم۔داؤداپنے دُشمنوں کی کل کارروائی اور اس کی تفصیل خُدا کے سامنے پیش کرتا ہے۔اور یقین رکھتا ہے کہ خُدا ان کی تمام حیلہ سازیوں کو باطل و بے کار کرے گا۔چنانچہ وہ پکار اُٹھتا ہے کہ میرا توکل خُدا پر ہے۔مَیں ڈرنے کا نہیں۔انسان میرا کیا کر سکتا تتمہ(باقی حصہ جو آخر میں ہو) میں خُدا کی شکر گزاری یہ کہہ کر کرتا ہے۔کہ اے خدا تیری منتیں مجھ پر ہیں۔مَیں تیرا شکر ادا کروں گا۔کیونکہ تونے میری جان موت سے بچائی۔ اور میرے پاؤں پھسلنے نہ دیا۔تاکہ مَیں تیرے آگے زندوں کے نور میں چلوں۔
(زبور۵۷)۔جیسا کہ اس کے سرنامے سےظاہر ہے۔ داؤد نے یہ زبور اس وقت لکھا کہ سلیمان نےاس رگیدہ اور وہ اپنی حفاظت کے لیے مغارے میں بھاگ گیا۔جہاں کہ اس نے یہ زبور لکھا۔وہ اس میں اپناکامل بھروسہ خُدا پر ظاہر کرتا ہے۔(زبور۵۶) میں وہ اپنی نسبت خیال کرتا اور کہتا ہے کہ میرا توکل خُدا پر ہے۔مَیں ڈرنے کا نہیں۔انسان میرا کیا کرسکتا ہے۔لیکن اس زبور میں وہ اپنے دل میں خُدا کا خیال مقدم رکھتا۔اور اس کی فرازی (بلندی)محسوس کرکے کہتا ہے کہ مَیں تیرے پروں کے سایہ کے تلے پناہ لیے رکھوں گا۔جب تک کہ یہ آفتیں ٹل نہ جائیں۔یہ زبور ان الفاظ سے کہ تو آسمانوں پر سرفرازہو اے خُدا۔اور ساری زمین پر جلال ظاہر ہو۔دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔مصنف چاہتا ہے کہ الوہیم ایل یوں اپنی فوقیت اور عالمگیر حکومت ظاہر کرے۔ اس کےحصہ اوّل میں (۱۔۵) آیات ہیں۔جن میں داؤد خُدا کی رحمت کےواسطے خُدا سے دُعاکرتا ہے۔اور اگرچہ وہ کہتا ہے کہ میری جان شیروں کے بیچ میں ہے۔اور میں آتش مزاج لوگوں میں رہتا ہوں۔تو بھی اس کو یقین ہے کہ خُدا اس کے ہر ایک انجام دے گا۔
حصہ دوئم۔(۶۔۱۱) آیات وہ خُدا سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میرا دل قائم ہے۔میں لوگوں کے درمیان تیرا شکر ادا کروں گا۔ اوراُمتوں کے درمیان تیری مدح سرائی کروں گا۔اے خُدا تو آسمانوں پر سرفراز ہواور کل زمین پرتیرا جلال ظاہر ہو۔
(زبور۵۸)۔داؤد کا زبور جو کہ التشت کے سر پر گایا جائے۔التشت کے معنی ہیں’’ برباد نہ کرنا‘‘ اس کے سر نامے کے کچھ ظاہر نہیں کہ یہ زبور کس خاص واقعہ کی یاد کی تصنیف ہے۔مگر بعض لوگوں کاخیال ہے کہ یہ زبور ابی سلوم کی مکاری سے نسبت رکھتا ہے۔جب کہ اس نے کوشش کی یروشلیم کے باشندوں کو ورغلائے(۲۔سموئیل ۱۵: ۲۔۶) ۔اس میں دو تین خاص باتیں ہیں۔
(1) آیات (۱۔۵)میں مصنف شریروں کی مکاری کی خاصیت پیش کرتا ہے۔اور ان کے حق میں کہتا ہے کہ ان کا زہر سانپ کا زہر ہے۔وہ اس بہرے ناگ کی مانند ہیں جواپنے کان بند رکھتا ہے۔اور منتر پڑھنے والوں کی آواز نہیں سنتا۔
(2) آیات(۶۔۸) میں اس نے شریروں کی بربادی کے بارے کے عرض کرتا ہے۔
(3) آیات (۹۔۱۱) میں اپنا یقین ظاہر کرتا ہےکہ خُدا ان کو ضرور برباد کرےگا۔اور کہتا ہے کہ صادق ان کی بربادی سے خوش ہوں گے۔اور وہ یقین کریں گےکہ ایک خُدا ہے جو زمین پر انصاف کرتا ہے۔
(زبور۵۹)۔ اس کےسر نامے ہی سے معلوم ہوتاہے کہ یہ زبور اس وقت کی تصنیف ہے کہ جب ساؤل نے داؤد کے گھر پر ہرکارے (قاصد)بھیجے کہ اس کی خبر رکھیں اور صبح اسے مار ڈالیں۔مگر اس کی بیوی میکل نے کھڑکی کی راہ اسے نکال دیااور وہ بھاگ کر بچ گیا۔(۱۔سموئیل ۱۹: ۱۱۔۱۲) آیات سو یہ زبور داؤد کی دُعا ہے۔جس میں وہ دشمنوں سے حفاظت کے واسطے عرض کرتا ہے۔اس کی تقسیم آیات(۹۔۱۷) کی یکساں عبارت سے دو حصوں میں ہوئی ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۹) آیات میں دو باتیں ہیں۔
(1) (۱۔۵) آیات میں وہ خطرہ محسوس کرکے بچاؤ کے لیے عرض کرتا ہے۔کیونکہ اس کو معلوم ہواتھا کہ اس کے دشمن زور آور لوگ ہیں۔اور کہ وہ دوڑتے ہیں اور خود کو تیار کرتے ہیں۔اور اس کے در پہ ہوتے ہیں۔حالانکہ وہ بے قصور ہے۔
(2) آیات(۶۔۹) میں وہ کہتا ہے کہ شریر لوگ بڑے استقلال سے اس کے تعاقب میں مشغول ہیں۔وہ شام کو لوٹتے ہیں اور کتے کی مانند بھونکتے ہیں۔اور شہر میں ہر طرف پھیلتے ہیں۔باوجود اس کے اس کو کامل یقین ہے۔خُدا اس کو ان کے ہاتھوں سےمحفوظ رکھے گا۔کیونکہ وہ اس کی پناہ ہے۔اور وہ پناہ گیری کے لیے اس پر بھروسہ رکھتا ہے۔
حصہ دوئم۔(۱۰۔۱۷) آیات میں وہ پہلے عرض کرتا ہے کہ خُدا ان شریروں کو بالکل ہلاک نہ کرے بلکہ صرف پست کردے۔ تاکہ و ہ لوگوں کے لیے نمونہ اور باعثِ عبرت ٹھہریں۔(۱۳) آیت میں وہ خُدا سے عرض کرتا ہے۔کہ وہ ان کو اپنے قہر فنا کرےکہ وہ باقی نہ رہیں۔ اور لوگ خُدا کی حکومت عالمگیر دیکھیں۔
آیات(۱۴۔۱۷) میں وہ کہتا ہے کہ اگرچہ وہ کتے کی مانند شام کو لوٹیں۔ اور بھونکتے ہوئے شہر کے ہر طرف پھریں۔ تو بھی اے خُدا مَیں تیری ثناگاؤں گاکہ تو میرا محکم قلعہ اور مصیبت کے روز میری پناہ ہے۔
(زبور۶۰)۔اس کے سر نامے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبور اس وقت لکھا گیا۔جب داؤد آرام نہرائیم اور آرام کےصوبے سے لڑا۔اور یوآب پھرا نمک کی نشیب وادی میں بارہ ہزار آدمیوں کومارا (۲۔سموئیل ۸: ۱۳۔۱۴؛ ۱۔سلاطین ۱۱: ۱۵۔۱۷) ۔
دوسری تواریخ سےمعلوم ہوتا ہے۔کہ جب داؤد شمال میں آرام نہرائیم اور آرام صوبے سے جنگ کررہا تھا۔تو جنوب میں ادوم یہوداہ کے جنوبی حصے پر لشکر کشی کی اور جب اس کی تباہی میں مشغول تھا۔تو داؤد کو اپنی فوج کی تقسیم کرنی پڑی اور ایک حصہ یواب کو دے کر بھیجاکہ وہ ادومیوں کا مقابلہ کرے۔چنانچہ وہ گیا اور ادومیوں کو نیست کردیا۔(۱۔سلاطین ۱۱: ۱۵۔۱۷) آیات پیشتر اس کے کہ وہ دُشمنوں پر قابض ہوئے۔داؤد نے یہ زبور بنایا۔اس وقت اسے ایسا محسوس ہوا کہ گویا خُدا نے اس کو رد کردیا۔ اور ضرور فوج کی تقسیم کے سبب سے برباد ہوں گے۔سو وہ اس زبور میں فریاد پیش کرتا ہے۔اس زبور کے تین حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۴) آیات میں داؤد اس واسطے خُدا سے حجت کرتا(تکرار کرنا،دلیل دینا)ہے کہ اس کے خیال میں خُدا نے ان کو رد کرکے پراگندہ کردیا تھا۔وہ عرض کرتا ہے کہ خُدا ان کی طرف پھر متوجہ ہو۔
حصہ دوئم۔(۵۔۸) آیات میں وہ خُدا کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔کہ وہ ملکِ کنعان ان کے قبضے میں کر دے گا۔اور ان کو قوموں پر فتح بخشے گااور عرض کرتا ہےکہ خُدااپنے وعدے کے مطابق ان سے سلوک کرے۔جلعاد دریائے یردن کے یورپ کی طرف یہاں روبن، جد اور منسی کا نصف فرقہ بسایا گیا تھا۔افرائیم اور یہوداہ یردن کے پچھم کی طرف دلالت کرتے ہیں۔ مواب اس برتن کی مانند ہوگا۔اور ادوم اس غلام کی مانند ہے جس کی طرف فتح مند بادشاہ اپنا جوتا اتار کر پھینک دیتا ہےکہ وہ اُٹھا لے۔مطلب یہ ہے کہ ادوم ضرور ان کے قبضے میں آئے گا۔
آیات(۹۔۱۲) میں وہ دعویٰ سے کہتا ہے۔ کہ رہائی صرف خُدا کی طرف سے ہو سکتی ہے۔کیونکہ اس نے اسے رد کردیا تھا۔ سو بحالی بھی اس کی طرف سے ہو گی۔وہ رہائی جو انسان کی طرف سے ہے عبث ہےکہ صرف خُدا ہی اس کے دُشمنوں کو پامال کرسکتا ہے۔
(زبور۶۱)۔ اس کے سر نامے سے اس زبور کی وجہ تصنیف یا تواریخی موقعہ نہیں بتایا گیا۔تو بھی خیال ہے کہ یہ اس وقت تصنیف ہوا جب داؤد منہائیم میں تھا۔اس کے بعد کہ ابی سلوم شکست کھا کر مارا گیا۔اورداؤد منتظر تھا کہ اس کی رعایا اس کو یروشلیم لے جا کرتخت نشین کرے۔(۲۔سموئیل ۱۹: ۱۱۔۱۵) آیت میں داؤد صرف رعایا کی رضامندی سے بحالی کا ہی خواہش مند نہیں بلکہ یہ یہ بھی چاہتا ہے کہ خُدا خود اس کو اپنے مسکن میں لے چلے۔اس زبور کے(۲) حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۴) آیات میں مصنف اپنا اعتماد خُدا پر ظاہر کرکے عرض پرداز ہے کہ جس طرح ایامِ سابقہ میں وہ اس کی دُعا قبول ومنظور فرماتا تھا۔اسی طرح اب بھی کرے۔اور اس کو اس چٹان تک جو کہ اس سےاونچی ہےپہنچا دے۔اس سے اس کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ خُدا اس کو اس جائے محفوظ سے میں پہنچا دے جہاں کہ خود اپنی طاقت اوربل بوتے پہ پہنچ نہیں سکتا۔اور وہ جگہ خُدا کے سایہ میں ہے۔
چنانچہ( یوحنا۶: ۴۰) آیت میں مسطور ہے کہ کوئی شخص میرے پاس آنہیں سکتا۔اس حال میں کہ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے۔ اسے کھینچ نہ لائے۔
حصہ دوئم۔(۵۔۸) آیت میں وہ اپنی گزشتہ دُعاؤں اور عرضوں کی قبولیت کو یاد کرکے تسلی پذیر ہوتا ہےاور یقین کرتا ہے کہ خُدا اس کی زندگی بہت بڑھائے گا۔وہ خُدا سے عہدکرتا ہے کہ اے خُدا مَیں ابد تک تیری ثناگاؤں گا۔اور ہر روز اپنی نذریں گزرانوں گا۔زندگی بھر کی مستقل بحالی زندگی بھر کی شکر گزاری طلب کرتا ہے۔
(زبور۶۲)۔ خیال ہے کہ یہ زبور بھی ابی سلوم کی بغاوت کےدنوں میں لکھا گیا۔چنانچہ داؤد اس کے شروع ہی میں کہتا ہے کہ میری جان فقظ خُدا ہی کی منتظر ہے۔مصنف انسان پر بھروسہ نہیں کرتا۔بلکہ اپنی دل جمعی اور تسلّی صرف خُدا ہی میں دیکھتااور پاتاہے۔کیونکہ وہی اس کی مضبوط چٹان، اونچا برج ،حفاظت، نجات اور اُمیدہے۔اس زبور کے تین حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۴) میں مصنف کہتا ہے کہ اس کا بھروسہ صرف خُدا پر ہی ہے۔کیونکہ وہی اکیلا قابلِ اعتماد و لائق و اعتمادہے۔ انسان منصوبے باندھتے ہیں اور جھوٹ سے خوش ہوتے ہیں۔
حصہ دوئم۔آیات(۵۔۸) میں وہ اپنی جان کو تاکید کرتا ہے کہ چھپ کر فقط اسی کے انتظار میں رہ۔کہ میری اُمید اسی سے ہے۔وہی اکیلا میری چٹان اور میری رہائی اور میرا گڑھ ہے۔سو مجھ کو جنبش نہ ہو گی۔مصنف اوروں کو بھی تاکیداً کہتا ہے کہ سب لوگ ہر ایک اس پر توکل رکھیں۔
حصہ سوئم۔آیات(۹۔۱۲) وہ بڑے یقین سے کہتا ہے کہ زور صرف خدا کاہے۔سو لازم و انسب(مناسب) ہے کہ صرف اسی پر بھروسہ رکھا جائے کہ عالی قدر اشخاص جھوٹے ہیں اور ظلم اور لوٹ پاٹ پر تکیہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
(زبور۶۳)۔ داؤد کا زبور۔جب وہ دشت یہوداہ میں تھا۔جب کہ وہ اپنے بیٹے ابی سلوم کی بغاوت سے بھاگا۔تو تھکا ماندہ دشت یہوداہ میں مقیم ہوا(۲۔سموئیل ۱۵۔۱۶ ابواب)۔(۲۔سموئیل ۱۵: ۱۴) میں وہ اپنے ہمراہی ملازموں کو جو کہ یروشلیم میں تھے۔کہتا ہے کہ اُٹھو بھاگ چلیں ورنہ ہم ابی سلوم کے ہاتھ سے نہیں بچیں گے۔جلد چلو ایسا نہ ہو کہ وہ اچانک ہمیں پکڑ لیں ہم پر آفت لائے اور تلوار کی دھار سے شہر کو غارت کرےغرض کہ وہ شہر میں ٹھہرنے سے کل شہر کی بربادی و تباہی کا موجب نہیں بننا چاہتا۔
چنانچہ(۲۔سموئیل ۱۵: ۲۴۔۲۵) کاہن کو جس نے خُدا وند کے عہد کا صندوق لیا ہوا تھا۔کہتا ہے کہ عہدکا صندوق شہر میں پھر لے جا۔اگر خُدا کے کرم کی نظر مجھ پر ہو گی تو وہ مجھے بچا لے گا۔اور پھر لے آئے گااور اپنا آپ اور اپنامکان مجھ کو پھر دکھائے گا۔یہ زبور خاص طور پرروحانی زبور ہے۔اس کی روحانیت کے سبب قدیم کلیسیا نے اس کو صبح کے واسطے استعمال کیا تھا۔
اس میں ایک ہی مضمون ہے۔یعنی خُدا کی صحبت کے واسطے داؤد کی خواہش مندی اس لحاظ سےاس کی تقسیم تو نہیں ہو سکتی تو بھی تفصیل کے لیےمصنف کی خواہش تقسیم ہوسکتی ہے۔پہلی دوآیات میں وہ الوہیم کو اپنا خُداوند تسلیم کرکے شخصی طور اس سے ملاقات کا خواہش مند ہے۔ اور کہتا ہے کہ میری جان تیری پیاسی ہے۔اور میرا جسم تیرا مشتاق ہے۔آیات(۳۔۵) میں وہ کہتا ہے کہ خُدا کی مہربانی زندگی سے بہتر ہے۔سواے خُدا جب تک مَیں جیتا ہوں تجھ کو مبارک کہو ں گا۔
آیات(۶۔۷) میں وہ گزشتہ برکتوں کے لیے شکر گزاری کرتا اورکہتا ہے کہ مَیں تیرے پروں کی چھاؤں کے نیچے خوشی مناؤں گا۔
آیات(۸۔۱۱) میں وہ اپنے یقین کی بنا پر دعوے کرتا ہے کہ خُدا اس کو بچائے گا۔اس کے دُشمن تلوار سے کھیت رہے گے۔ بادشاہ خُدا سے مسرور ہوگا۔
(زبور۶۴)۔ داؤد کا زبور سردار مغنی کے لیے اس کے دو حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۶) آیات میں مصنف خُدا سےعرض کرتا ہے کہ وہ اس کی فریاد سن لے اور اس کی جان دہشت سے جو کہ دُشمنوں کے سبب سے بچا لے اور خُدا کے آگے شریروں کی پنہانی (پوشیدہ)مشورت اور حملہ آوری کی تحریکوں کی تفصیل کرتار ہے۔
حصہ دوئم۔آیات(۷۔۱۰) میں وہ یقین کرتا ہے کہ گو شریر خفیہ طورپر اپنے کارو بار کرتے ہیں۔تو بھی ان کو کامیابی نصیب نہ ہو گی۔ کیونکہ خُدا ان پر ایک تیر چلائے گا۔اور وہ ناگہاں گھائل ہو جائیں گے۔دیکھنے والے بھاگیں گے۔اور سب لوگ ڈریں گے۔اوراس کے کام بیان کریں گےاور صادق خُدا کے سبب خوش ہوں گے۔
(زبور۶۵)۔اس کے سر نامے میں اس کی تصنیف کی وجہ یا موقعے کا کوئی ذکر نہیں۔تو بھی اس کی چند ایک آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کی غرض یہ تھی کہ یہ زبور اس وقت گایا جائے جب لوگ فصل کے پہلےپھل لا کر خُدا کے حضور پیش کریں۔ چنانچہ اس دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ مسکن میں فراہم ہوا کرتے تھےکہ خُدا کے لیے نذریں گزاریں۔آخری آیت سے ظاہر ہے کہ فصل کے شکرانے کے لیےوہ فراہم ہوا کرتے تھے۔اس میں تین حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۴) آیات میں مصنف خُدا سے مخاطب ہو کر اس کو یقین دلاتا ہے کہ صیحون میں اس کا انتظار چپکے سے ہوتاہےاور اس کی حمد وثنا ہوتی ہے۔اور اس کو اور نذر کی جائے گی۔
حصہ دوئم۔(۵۔۸)آیت میں خُدا کی تعریف اور تعریف کے اسباب بیان ہیں کہ وہ صداقت سے ہولناک چیزیں میں جواب دیتا ہے اور کہ وہ ان کا جواب دینے والا ہے۔اور زمین کے سب کناروں اور ان سب کا جو کہ دریا کے بیچ میں ہیں بھروسہ ہے۔
حصہ سوئم۔(۹۔۱۳) آیات میں مصنف اس بات پر زور دیتا ہے کہ چاہیے کہ اسرائیل اس کی شکر گزاری کرے۔کیونکہ اس نے زمین کو سیرابی بخشی ہے۔اور اس کی ریگھاریوں کو خوب تر کیا ہے۔اور مینہ سے نرم کیا ہے۔اور اپنے لطف سے سال کو تاج بخشا ہے۔یہاں تک کہ بیابان پر چراگاہوں پر قطرے ٹپکتے ہیں۔اور پہاڑیاں ہر طرف خوشی سے گھری ہوئی ہیں۔اور چراگاہیں گلوں سے ملبس ہیں۔اور نشیب گلے سے ڈھک گئے۔اور خوشی سے للکارتے بلکہ گاتے ہیں۔
(زبور۶۶)۔ یہ ایک گمنام زبور ہے۔کیونکہ اس کے مصنف اور موقعہ تصنیف کا کچھ پتہ نہیں۔اس میں مصنف خُدا کے عجیب کاموں کے لیے اور خصوصاً اس واسطے کہ اس نے اس کی دُعا سن لی۔اس کی شکر گزاری ادا کرتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ( زبور۵۶) کی طرح عیدِ فسح کے ایام کے استعمال کے لیے تھا۔اور چونکہ اس کی نسبت( زبور۶۵) سے ہے۔ضرور ہے کہ اس کامصنف بھی داؤد ہی ہے۔اس کے دو حصے ہیں۔
حصہ اول:میں متکلم کے لیے صیغہ جمع اور حصہ دوئم میں صیغہ واحد آیا ہے۔ان ہر دو حصوں میں کئی ایک باتیں ہیں۔مثلاً حصہ اوّل۔
(1) آیات(۱۔۴) میں کل دُنیا کے باشندگان طلب ہوئے ہیں کہ خُدا کی حمد کریں۔اور حمد کرتے ہوئے اس کی حشمت ظاہر کریں۔اور اس کی حکومت تسلیم کریں۔
(2) آیات(۵۔۷) میں ان کو کہا گیا ہے کہ خُدا کا کام دیکھو کہ وہ سب بنی آدم حق میں مہیب ہیں۔اس نے سمندر کو خشکی بنا ڈالا۔اس کی سلطنت ابدی ہے۔
(3) (۸۔۱۲) آیات میں لوگوں کوتاکید ہے کہ وہ اسرائیل کے خُدا کو مبارک کہیں کیونکہ اس نے ان کو آزمائش کرکے سیراب جگہ میں پہنچایا۔
حصہ دوئم۔
(1) آیات(۱۳۔۱۵) میں لوگوں کاوکیل کہتا ہے کہ مَیں سوختنی قربانی کے لیے تیرے گھر میں جاؤں گا۔مَیں تیرے لیے اپنی نظریں ادا کروں گا۔جو کہ مَیں نے بپتا کے وقت اپنے لبوں سے مقرر کی تھیں۔اور اپنے منہ سے مانی تھیں۔
(2) (۱۶۔۲۰) آیات میں وہ خُدا ترسی کی طرف مائل ہو کر ان لوگوں کو کہتا ہے کہ آؤ اور جانو کہ اس سبب سے کہ خدا نے اس کی سنی اور اسے رہائی بخشی۔اس کامقدمہ معقول ہے۔اور وہ خُدا کو جس نے اس کی دُعا کونہ پھیرااور اپنی رحمت سے محروم نہ مبارک کہتا ہے۔
(زبور۶۷)۔یہ بھی گمنام زبوروں کے سلسلے میں سے ہے۔اور گیت یا زبور کہلاتا ہے۔جو کہ بین کے ساتھ گایا جائے۔اس کی نسبت خیال ہے یہ عید پینتکوست کے واسطے تصنیف ہوا تھا۔یعنی اس موقع کے واسطے جب لوگ فصل کے بعد عبادت گاہ میں فراہم ہوتے تھے۔ کہ خُداکی شکر گزاری کریں۔اس میں تین حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۲) میں مصنف کاہن کے طور پر برکت چاہتا ہے کہ خُدا کی راہ زمین پر جانی جائے۔اور کہتا ہے کہ اے خُدا تیری نجات سب قوموں پر ہو(گنتی۶: ۲۱) ۔
حصہ دوئم۔(۳۔۴)آیت میں وہ اپنی خواہش ظاہر کرتا ہےکہ کل اقوام خُداکی عبادت میں شریک ہوں۔اور اس بادشاہت دُنیا پرقیام پزیر ہو۔اور سب اس پر خوش و خرم ہوں۔کیونکہ اس کی حکومت راستی سے ہو گی۔اور وہ زمین پر اُمتوں کی ہدایت فرمائے گا۔
حصہ سوئم۔آیت(۵۔۷) میں وہ مندرجہ بالا برکات اور واقعات کی تاثیر جو کہ دُنیا پر ہو گی بیان کرتا ہے۔کہ زمین اپناحاصل پیدا گی۔اور خُدا ہم کو برکت دے گا۔اور زمین کے کنارے اس کاڈر مان مانیں گے۔
(زبور۶۸)۔ اس کے سرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی داؤد ہی کا زبور ہے۔لیکن اس میں اس کی تصنیف کا موقع یا سبب نہیں بتایا گیا۔ اس زبور سے بعض کا گمان ہے کہ مصنف خُدا کی سابقہ کارروائی پر غور کرتے ہوئے تسلی پزیر ہو کہ وہ ضرور بالضرور سب اقوام مطیع و مسخر کرکے اپنی بادشاہت عالمگیر بنائے گا۔(زبور۶۷) مرشدانہ یا کہانت کی برکات کے کلمات سے شروع ہوتا ہے۔اور (زبور۶۸) کے مطلع میں وہ الفاظ ہیں جو کہ موسیٰ جب عہد کا صندوق کوچ کے موقع پر اٹھایا جاتاتھا۔اوراستعمال کرتا تھا(گنتی۱۰: ۳۵) میں مرقوم ہے کہ اُٹھ اے خُدا تیرے دشمن تتر بتر ہوں۔اور وہ جوتجھ سے کینہ رکھتے ہیں تیرے سامنے سے بھاگیں۔اس میں تین خاص حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیت(۱۔۶) میں تمہید ہے۔اس میں پہلی بات یہ ہے کہ خُدا کی آمد اس کے دُشمنوں کے خوف اور بربادی اور اپنے برگزیدوں کی مبارک حالی اور خوشی کا موجب ہے۔اور دوسری بات(۴۔۶) آیت میں اس طرح ہے۔کہ خُدا کے لوگ طلب ہوتے ہیں اور خُدا کی آمد پر اس کے گیت گائیں۔اور اس کے نام کی تعریف کریں۔جو کہ اپنے نام یاہ سے سوار ہو کربیابانوں سے گزر جاتا ہے۔اور اس کے حضور خوشی کریں۔اور اس کے راستوں کو سیدھا بنائیں۔ خُدا کے لوگوں کا یہ ضروری کام اور فرض ہے کہ خُدا کے لیے راستہ تیار کریں۔یہ یوحنا بپتسمہ دینے والے کا کام ہےاور ہمارا بھی۔
حصہ دوئم۔(۷۔۱۸)اسرائیل کے گزشتہ احوال کا جائزہ لیتا ہے۔اور اس کو کامل یقین ہو جاتا ہےکہ خُدا ضرور اس قوم کے ذریعے اپنے کام کو انجام دے گا۔چنانچہ(۸۔۱۰) آیات میں خُدا کی کمال رحمت اس میں دیکھتا ہے کہ اس نے اسرائیل کو ملکِ مصر سے نکال کر اپنے آپ کو ان پر کوہِ سینا پر ظاہر فرمایا۔اوران کو شریعت دی اورملکِ کنعان میں پہنچا دیا۔اور(۱۱۔۱۴) آیات میں ملکِ کنعان پر ان کے غلبہ اور ظفریابی پر غور کرتا ہے۔اوراس میں ان کو خُداوند کی رحمت و برکت سے مال دار پاتا ہے۔ وہ خُداِ صیحون کو اپنی جائے سکونت کے واسطے منتخب کرنے پر بھی سوچتا ہے۔
حصہ سوئم۔(۱۹۔۳۵) آیات میں وہ گزشتہ باتوں کو چھوڑ کر حال اور مستقبل کے واقعات دریافت کرتا ہے۔چنانچہ(۱۹۔۲۳) آیات میں وہ اس بات سے تسلی پذیر ہوتا ہےکہ خُدا ہرحالت میں اپنے لوگوں کاشاملِ حال ہوتا ہے۔اور ضرور ان کو تمام اعدا سے محفوظ رکھتا ہے۔(۲۴۔۲۷) آیت میں وہ اپنے اپنا یقین ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل یک دل ہو کر خُدا کی حمد و تعریف کریں گے۔(۲۸۔۳۱) آیت میں وہ دُعا کرتا ہے کہ خُدا اپنی قدرت اس طرح ظاہر کرے کہ دُشمنوں کی تمام مخالفت اور مخاصمت موقوف کردے۔وہ کامل بھرسہ رکھتا ہےاور کہتا ہے کہ اقوام جمع ہو کرخُدا کی تعریف کریں گی۔آیت (۳۲۔۳۵) میں وہ سب قوموں کو طلب کرتا ہےکہ وہ خُدا کی تعریف و توصیف میں اسرائیل کے ہم آواز ہمنوا ہوں۔اور خُدا کی حکومت کو تسلیم کریں۔ اور نیز کہ اقوام اس بات کا اقرار کریں کہ خُدا اپنی مقدس ہیکل میں مہیب ہے اور اسرائیل کا خُدا وہ ہےجو اپنے لوگوں کو زور اور طاقت بخشتا ہے۔اور وہ مبارک ہے۔
(زبور ۶۹)۔ اس زبور کے سر نامے میں صرف یہ آیا ہے کہ ’’داؤد کا زبور جو کہ سوسنوں کے سر پر گایا جائے‘‘۔بعض کا دعویٰ ہے کہ یہ زبور داؤد نے نہیں لکھا۔بلکہ یرمیاہ نبی نے لکھا ہے کیونکہ اس کے مصنف کی حالت یرمیاہ کی حالت سے کچھ نہ کچھ نسبت رکھتی ہے۔ مثلاًوہ لوگ بے سبب اس سے کینہ رکھتے ہیں۔لیکن اس کی چند ایک آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فی الحقیقت داؤد کا ہے۔مثلاًآیت (۳۰) میں مصنف کہتا ہے کہ میں گیت گاکر خُدا کے نام کی حمد کروں گا۔اور شکر گزاری کرکے اس کی بڑائی کروں گا۔یرمیاہ نوحہ کرنےوالا تھا۔تعریف کرنے والا نہیں۔یہ زبور خاص کر خُداوند یسوع مسیح کی اس حالت پر دلالت کرتا ہے۔ جب کہ وہ اکیلا بغیر مونس (دوست)غم خوار مصلوب ہونے کو تھا۔اور اس کے پاس کوئی تسلی دینے والایاہمدردنہ تھا۔اور اس کی پیاس بجھانے کو سرکہ پلایا گیا۔یہ زبور کسی گناہ آلودہ شخص سے بھی نسبت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کا مصنف اپنی نادانی اور تقصیروں کو تسلیم کرکے عرض کرتا ہے کہ خُدا کی نجات اسے سرفراز کرے۔پانچویں آیت میں وہ یہ دُعا کرتا ہےکہ خُدا کی نجات اسے سرفراز کرے۔ اور اے خُدا تو میری نادانی سے واقف ہےاور میری تقصیریں تجھ سے چھپی نہیں۔اس کتاب کے آخری زبور میں یعنی(۷۲) میں یہ مسطور ہے کہ داؤد کی دعائیں تمام ہوئیں۔اور چونکہ یہ زبور ان زبوروں کےسلسلے میں ہےہم اس کو داؤد کا زبور تسلیم کریں گے۔اس زبور میں دو خاص حصے ہیں۔آیات(۱۔۱۸) اور(۱۹۔۳۶) ۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۱۸) کی تفصیل ذیل میں ہے۔(۱۔۶) میں وہ خُدا سے عرض کرتا ہے کہ وہ اس کو بچا لے۔کیونکہ وہ ایسی حالت میں مبتلا ہےکہ اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔وہ کہتاہے کہ پانی میری جان تک پہنچے ہیں۔مَیں گہرے کیچڑمیں دھنس چلا ۔یہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں۔مَیں گہرے پانی میں پڑا ہوں۔سیلاب میرے اوپر سے گزر چلے۔اور مَیں چلاتے چلاتے تھک گیا ۔دُعا ایسےموقع پر کار گر ہوتی ہے۔جب کہ انسان اپنی بے کسی کی حالت کو محسوس کرتا ہےاور صرف خُدا ہی پر بھروسہ رکھتا ہے۔
آیت(۷۔۱۲) میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی مصیبت اور خطرہ اس سبب سے ہے کہ وہ خُدا کو پیار کرکے اس کی تابعداری کرتا ہے۔چنانچہ ساتویں آیت میں وہ کہتا ہے کہ تیرے لیے مَیں نے ملامت اٹھائی۔اور نویں آیت میں کہتا ہے کہ تیرے گھر کی غیرت نے مجھ کو کھا لیا۔اور ان کی ملامتیں جو تجھ کو ملامت کرتے ہیں مجھ پر آ پڑیں۔(۱۳۔۱۸) آیت میں وہ جانفشانی سے کرتا ہے کہ خُدا اس کو اس کیچڑ سے نکالے کہ وہ غرق نہ ہواور کینہ پروروں سے محفوظ رہے۔
حصہ دوئم۔دوسرے حصے کی تفصیل اس طرح ہے۔(۱۹۔۲۱) آیت میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ خُدا اس کی رسوائی اور بدنامی سے واقف ہے۔ اس کی ملامت کرنے والوں نے اس کے دل کوپھوڑا۔اور وہ اس سبب سے بیماری میں گرفتار ہوا۔(۲۲۔۲۸) آیت میں عرض کرتا ہے کہ خُدا اپنا غضب ان پر انڈیلے اور قہر شدید سے ان کو پکڑ لے کیونکہ اُنھوں نے اس کو جو تیر مارا ہوا ہے ستایا ہے۔اور میرے زخموں کی تکلیف دہ باتوں سے بڑھاتے ہیں۔اور(۲۹۔۳۶) آیت میں وہ خُدا کی تعریف اس سبب سے کرتا ہے کہ وہ پریشان لوگوں کو تسلی دیتا ہےاور مسکینوں کی سنتا ہے کہ وہ ان کو جو کہ صحیح ہیں ان کو ضرور بچائے گا۔
(زبور۷۰)۔ اس کے سرنامے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مصنف داؤد ہے۔اور کہ یہ تذکیر(مرد ہونا) کے لیے تصنیف ہواہے۔یہ زبور کی(۱۳۔۱۷) آیت انتخاب کیا ہوا ہے۔اس میں کچھ الفاظ تبدیل ہیں۔مگر مطلب وہی ہے۔اس زبور میں صرف پانچ آیات ہیں۔اور داؤد کی دعا کے واسطےہے۔اور اس کے سرنامہ میں لکھا ہے کہ تذکیر کے واسطے ہے۔تو معلوم ہوتا ہے کہ داؤد نے خُدا کو یاد کرنے کے لیے اس زبور میں چالیس (۴۰)زبور میں سے چند آیات لے کر انہیں دوبارہ خُدا کے حضور پیش کیاہے۔کیونکہ اس کو ازحد رہائی کی ضرورت تھی۔اس کی پہلی آیت میں وہ خُدا سے عرض کرتاکہ اس کی رہائی کے واسطے جلد آئے۔اور خُدا کی طرف مخاطب ہو کر عرض کرتا ہےکہ میری کمک کے واسطے جلد آ۔(۲۔۳) آیت میں وہ اپنی آرزو ظاہر کرتا ہے کہ جو اس کی جان کے درپہ ہیں۔وہ شرمندہ اور خجل کیے جائیں۔اور پھر اپنی بے کسی کو یاد کرکے عرض کرتاہے کہ خُدا اس کی طرف جلد آئے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے کہ وہی اس کا چارہ ہے۔اور خُداوند کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اس سے عرض کرتا ہےکہ وہ دیر نہ کرے۔
(زبور۷۱)۔یہ زبور(۲۲، ۳۱، ۳۵، ۴۰) سے انتخاب کیا ہوا ہے۔جن کا مصنف داؤد ہے۔سو ہم اس کو بھی داؤد کا ہی کہیں گے۔اگرچہ یہ بات ممکن ہے کہ کسی دوسرے کے ہاتھ سےتالیف ہوا ہو۔یہ زبور اس شخص کے مستقل ایمان کو ظاہر کرتا ہے۔جس نے بہت دُکھ اور مصیبت سہہ کر خُدا کی عجیب محبت اور وفاداری کو خوب آزما کر معلوم کیاکہ وہ قابل بھروسہ ہے ۔اس زبورکی یہ خاص تقسیم نہیں ہے۔کیونکہ ہر ایک آیت اس کی قرین آیت سے پیوستہ ہے۔اورایک ہی مضمون کو پیش کرتی ہے۔تا ہم کے واسطے اس کو دو حصوں میں تقسیم کی گیا ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۱۳) آیات میں خاص کر دُعا ہے۔حصہ دوئم(۱۴۔۲۴) میں تعریف زیادہ ہے۔
حصہ اوّل۔اس کی آیات(۱۔۳)( زبور۳۱) کی آیات (۱۔۳) الفاظ اور معنی میں نسبت رکھتی ہیں۔اس میں مصنف خطرے کے موقع پر پورے بھروسے سے خُدا سے دعا کرتا ہے کہ جس طرح پہلی آیت سے ظاہر ہے۔اس میں وہ کہتا ہے کہ اے خداوند میرا بھروسہ تجھ پر ہے۔تو مجھ کو کبھی شرمندہ نہ ہونے دے۔میرے رہنے کی چٹان ہوجہاں میں جایا کروں۔
آیات(۴۔۸) میں یہ کہہ کر اپنی التماس کی وجہ پیش کرتا ہےکہ اے خُداوند یہوواہ تو میری اُمید ہے۔میرے لڑکپن سے ہی میرا بھروسہ تجھ پر ہے۔اس حصے کی پانچ سے چھ آیات زبور(۲۲) کی آیات(۹۔۱۰)سے ملتی ہیں۔
(۹۔۱۳) میں وہ عرض کرتا ہے کہ خُداوند اس کو بڑھاپے میں نہ پھینک دے۔اور ضعیفی(کمزوری) کے وقت اس کو ترک نہ کرے۔نہ اس سے دور ہو۔
تفصیل حصہ دوئم۔آیات (۱۴۔۱۶) میں وہ وعدہ کرتا ہے کہ مَیں ہر دم اُمید رکھوں گا۔تیری ساری ستائش زیادہ کرتا جاؤں گا۔اور آیات (۱۷۔۲۰) میں وہ اپنے آپ کو اس سےمستحقِ حفاظت جانتا ہےکہ خُدا اس کی طفولیت (بچپن)سے تربیت کرتا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مَیں تیری عجیب قدرتیں بیان کرتا رہا ہوں۔
(۲۱۔۲۴) آیت میں وہ ان الفاظ میں دعویٰ کرتا ہے کہ مَیں بین بین(متوسط،درمیانی) تیری ستائش اورتیری امانت کی ستائش کروں گا۔ اور اسرائیل کے قدوس کی طرف مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ مَیں بربط بجا کر تیرے گیت گاؤں گااوراپنی زبان سے سارا دن تیری صداقت کی باتیں کہتا رہوں گا۔
(زبور۷۲)۔ اس زبور کےسرنامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سلیمان کاہے۔تاہم بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ داؤد نے اس وقت تصنیف کیا جب کہ اس نے سلیمان کو بادشاہ مقرر کیاتھا۔لیکن اکثر یہ زبور سلیمان کا سمجھا جاتا ہےاور معلوم ہوتا کہ اس نے اس وقت تصنیف کیا جب کہ وہ بادشاہ ہو کر چاہتاتھا کہ خُدا اس کو ایسی برکت بخشے کہ وہ اپنی بادشاہی کے فرائض اچھےطریقے سےسرانجام دے۔یہ زبور راستبازی کے نتائج کو ظاہر کرتا ہے۔اس میں تین حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیات (۱۔۷) میں وہ بادشاہ کے لیے دُعاکرتاہےکہ وہ خُدا کی عدالتوں سے خوب واقف ہوکر ان کے مطابق چلے۔اور اپنے مسکینوں کا انصاف کرےاور محتاجوں کے فرزندوں کوبچائےاور ظالم کو ٹکڑے ٹکڑےکرےاور لوگ ہمیشہ خُدا سے ڈرتے رہیں۔
حصہ دوئم۔(۸۔۱۴) آیات میں وہ اس بات کے لیے عرض کرتا ہے کہ اس کی حکمرانی سمندر سے سمندر تک اور دریا سے انتہا زمین تک ہو۔اور سارے بادشاہ اس کے تابع ہو کر اس کے حضور سجدہ کریں۔اور ساری گرہیں(نوستارے) اس کی بندگی کریں۔چنانچہ یہ سب کچھ وقوع پذیر ہوا۔
حصہ سوئم۔(۱۵۔۱۷) آیت میں بادشاہ کے وسطے دُعا ہے کہ اس کی عمر دراز ہو۔پیش گوئی ہے کہ صبا کا سونا اسے دیا جائےگا۔اور اس کے حق میں سدا دُعا کی جائے گی۔اس کتاب کے تتمہ یعنی(۱۸۔۲۰) آیات میں خُدا کی جو کہ اسرائیل کا ہےتمجید ہے۔کیونکہ وہی اکیلا عجیب کام کرتاہے۔ اس کا جلیل نام ابد تک مبارک ہے۔سارا جہاں اس کے جلال سے معمور ہو۔آمین ثم آمین۔اور کہا جاتا ہے کہ داؤد بن یسی کی دعائیں تمام ہوئیں۔
باب چہارم
زبور کی تیسری کتاب کے بیان میں
(۷۳۔۸۹زبور)
سوال۔14:۔اس تیسری کتاب کی کیفیت بیان کریں؟
جواب:۔اس میں(۱۷) زبور ہیں جن میں سے صرف ایک ہی یعنی زبور(۸۶) داؤد کا ہے۔(۱۱) آسف کے ہیں۔(۷۳۔۸۳) چار یعنی(۸۴، ۸۵، ۸۷، ۸۸) بنی قورح کے ہیں۔اور ایک یعنی(۸۹) ایتان ارروخی کا ہے۔خیال ہے کہ حزقیادہ بادشاہ نے اس کتاب کو تالیف کیا۔جب اس نے صلاح جاری کرکے ہیکل کی مرمت کروائی۔اور عبادت کو پھر جاری کیا(۲۔تواریخ۲۹: ۲۰۔۳۰) ۔
سوال۔15:۔آسف کی مختصر کیفیت بیان کریں؟
جواب:۔جب ہم کسی کی تصنیفات پر غور کرنا چاہتے ہیں۔تو ہم کو اوّل یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کون ہے؟اور کیاحیثیت رکھتا ہے؟
(1) آسف نے (۱۲) زبور تصنیف کیے۔اور وہ داؤد کے زبوروں کے ہم پلہ سمجھے جاتے ہیں۔پاک کلام میں سے ہم آسف کی نسبت کئی ایک باتیں معلوم کرسکتے ہیں۔مثلاً (۱۔تواریخ ۱۵: ۱۶۔۱۹) آیات سے معلوْم ہوتا ہے کہ داؤد عہد کے صندوق کو عوبیدا دوم کے گھر سے نکال کر یروشلیم میں پہنچانے لگا۔تو اس نے لاویوں کوحکم دیا کہ اپنے بھائیوں میں سے گانے والوں کو مقرر کریں۔ موسیقی کے ساز یعنی بربطیں ،کنارتیں،اور منجرے چھڑیں۔اور بلند آواز سے خوشی سے گائیں۔چنانچہ لاویوں نے ہیمان بن یوایل کو مقرر کیا۔اور اس کے بھائیوں میں سے آسف بن برکیا کو اور بنی مراری میں سےایتان بن قوسیاہ کواور گانے والے ہیمان ایتان مقرر ہوئےکہ پیتل کی جھانجوں سے گاتے بجاتے رہیں۔ اور(۱۔تواریخ ۱۶: ۴، ۵، ۷، ۳۷) آیات سے معلوم ہوتا ہے داؤد نے لاویوں میں سے بعض کو مقرر کیاکہ خُداوند کے صندوق کےآگے خادم مقرر ہوں۔اور خُداوند اسرائیل کے خُدا کا ذکر شکر اور حمد کریں۔سوآسف سردار مقرر ہوا۔اور وہ جھانجھ سے گاتا بجاتا اور سناتا تھا۔اس وقت داؤد نے آسف اور اس کے بھائیوں کے ہاتھ میں یہ گیت کہ جس سے وہ خُداوند کا شکر کریں پہلی دفعہ سپرد کیا۔ یہ گیت(۱۰۵) آیت(۱۔۱۵) اور زبور(۹۶) آیات(۱۔۱۳) ،زبور(۲۹) آیات(۱۔۲) زبور(۹۸) آیت (۷) ،زبور (۷۲) آیت (۱۸) سے بنا ہے۔اور(۱۔تواریخ ۱۶: ۳۷) آیت میں ذکر ہے۔کہ داؤد نے خُدا کے عہد کے صندوق کے آگے آسف اور اس کے بھائیوں کوچھوڑا کہ روزانہ ضروری کام کے مطابق ہمیشہ کی خدمت کریں۔
(2) (۱۔تواریخ ۲۹: ۳۰) میں مرقوم ہے کہ حزقیاہ بادشاہ اور امیروں نے لاویوں کوحکم دیا کہ خُداوند کی حمدو ثناکےلیے۔داؤد اور آسف غیب بین کے زبور استعمال کیا کریں۔
(۱۔تواریخ ۲۵: ۱۔۷) آیات معلوم ہوتا ہے کہ آسف ہیمان اور یدتون کے بیٹوں میں سے بعض داؤد کے لشکر کےسرداروں کی طرف سے تعینات ہوئےکہ اپنے والدوں کی ہدایت کے بموجب خُدا کے گھر میں خدمت کریں۔
(۲۔تواریخ ۳۵: ۱۵) آیت میں ذکر ہے کہ جب یوسیا بادشاہ نے عید فسح منائی تو گانے والے یعنی بنی آسف اور ہیمان اور بادشاہ کے غیب بین یعنی یدتون کے حکم اور صلاح کے بموجب اپنی جگہوں پر ٹھہرے اور دربان ہر ایک دروازہ پر حاضر تھےکہ انہیں اپنے اپنےمنصبی فرائض کی ادائیگی لازم اور ضروری تھی۔اور ان کے واسطے ان کے دیگر لاوی بھائیوں نے فسح تیار کی۔آسف کے سب زبور قریباً قومی ہیں،نہ کہ شخصی۔بعض تواریخی یا پیغمبرانہ جن میں التماس، شکر گزاری ، نصیحت اور تعلیم ہے۔
سوال۔16:۔آسف کے گیارہ زبوورں کی تفصیل باترتیب کریں۔
جواب:۔(زبور۷۳) ۔کا مضمون ایمان کی آزمائش اور فتح یابی ہے۔اور اس مضمون کے مطابق یہ زبور دو حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۱۴) آیات میں مصنف اپنی تکلیف اور آزمائش کا مفصل بیان کرتا ہے۔چنانچہ (۱۔۱۱) آیات میں وہ بیان کرتا ہے کہ جب مَیں نے شریروں کی کامیابی اور ترقی دیکھی اور اسرائیل کی خستہ حالی اور کس مپرسی(ایسی حالت جس میں کوئی پُرسان حال نہ ہو) پر غور کیا تو ان میں قریب خُدا کی وفاداری اورمحبت کی نسبت اپناایمان کھو بیٹھا۔میرے پاؤں کالغزش کھانا اور پھنسنا نزدیک تراور میرے قدموں کا اکھڑناقریب تھا۔کیونکہ مَیں نے نادان مغروروں پر جب کہ مَیں نے شریروں کی کامیابی دیکھی حسد کرتا تھا۔
آیات(۱۳۔۱۴) میں کہتا ہے کہ جب مَیں نے دیکھا کہ شریر ہمیشہ اقبال مند رہتے ہیں۔اور اپنی دولت فراوان کرتے ہیں تو مَیں پیشمان ہوا۔اور اپنے دل میں کہا کہ مَیں نے عبث اپنے دل کو صاف کیا اور بے گناہی سے اپنے میں بے فائدہ دن بھر بے آرامی کی حالت میں رہتا ہوں اور صبح کو تنبیہ پاتا ہوں ۔غرض کہ مصنف پر یہ آزمائش آئی کہ وہ روحانی برکات کے مقابلےمیں دُنیاوی مال و متاع پر دل لگائے۔
حصہ دوئم۔آیات(۱۵۔۲۸) میں وہ بیان کرتا ہے کہ اس کا ایمان کس طرح راسخ اور بحال رہا۔چنانچہ(۱۵۔۱۶) آیات میں اس کا خیال گزرا کہ وہ اسرائیل کو ان خیالات کے بموجب جن کا اظہار حصہ اوّل میں کیا ہے۔تعلیم دے تو گویا وہ خُدا کے گروہ کی اولاد سے بے وفائی کرے گا۔اور یہ اس کو بہت ہی ناگوار معلوم ہوا۔
(۱۷۔۲۰) آیات میں وہ بیان کرتا ہے کہ جب مَیں خُدا کے مسکن میں داخل ہوا تو مَیں نے سمجھ لیا کہ جسمانی برکات حقیقی نہیں بلکہ چند روزہ اورباعثِ خطرہ ہیں۔
(۲۱۔۲۲) آیات میں وہ کہتا ہے کہ ایسے لوگوں یعنی شریروں سے کینہ وری کرنا محض جہالت ہے۔
(۲۷۔۲۸) آیات میں وہ اپنے ایمان کا اظہار کرتاہے کہ دیکھو جو تجھ سے یعنی جو خُدا سے دور ہیں ،فنا ہوجاتے ہیں۔اور میری بھلائی خُدا کے نزدیک رہنے سے ہوتی ہے۔مَیں نے خُداوند یہوواہ پر توکل کیا ہے۔تاکہ مَیں اس کے سب کاموں کو شہرت دوں۔
(زبور۷۴۔۷۹)۔ یہ دونوں مضمون اور عبارت میں ایک دوسرے سے موافقت رکھتے ہیں۔اور بموجب سرناموں کے دونوں ہی آسف کی تصنیف ہیں۔موقعہ تصنیف کی نسبت بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دونوں زبور یروشلیم کی بربادی پر تصنیف ہوئے۔جو کہ شاہ نبو کد نظر نے مسیح سے(۵۸۶ ق م) سال پہلے کی۔بعض گمان رکھتے ہیں کہ ان کی تصنیف کا موقع اہالیانِ یروشلیم کی ایذایابی ہے۔جو کہ قبل از مسیح(۱۶۸ یا ۱۶۵ ق م) میں واقع ہوئی۔ جب کہ انٹی اوکس اپفینی نے ہیکل کو ناپاک کیا اوریہودیوں میں سے ہزارہاتلوار کی گھاٹ اتار دیئے۔اگر یہ زبورجو کہ آسف کے کہلاتے ہیں۔قبل از مسیح پانچ سو چھیاسی (۵۶۸ء)یا ایک سو ستر(۱۷۰ء) میں تصنیف ہوئے۔تو کسی صورت میں آسف کی تصنیف نہیں ہوسکتے۔آسف تو داؤد کا ہمعصر تھا۔البتہ ممکن ہو سکتا ہے کہ آسف کیفیتِ بنی ازراہ نبوت اسرائیل کے مستقبل کا بیان کرتا ہے۔یا ملہم ہو کر ان کی روحانی حالت پیش کرتا ہے۔یہ زبور تین حصوں میں منقسم ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۹) آیات میں مصنف اس لیے کہ خُدا نے اپنےلوگوں کو درماندگی اور مصیبت کی حالت میں چھوڑا ہے۔اس لیے حجت وہ حجت کرتا ہے۔اور عرض کرتا ہے کہ خُدا آ کر ان کی مدد فرمائے۔چنانچہ دوسری آیت میں کہتا ہے کہ اپنی اس قوم کو جس تونے قدیم سے خریدا ہے۔اور اپنے میراثی فرقہ کوجسے تونے خلاصی بخشی۔اور کوہِ صیحون کو جس میں تونے سکونت کی یاد فرما۔ گویا کہ اپنے استحقاق اور حقوق کا دعویٰ کرتا ہےکہ واجب اور ضروری ہے کہ خُدا اپنے لوگوں کو رہائی بخشے۔ساتویں آیت میں وہ اپنے دشمنوں کی کارروائی کا یوں بیان کرتا ہے کہ اے خُدا انہوں نے تیرے مسکن میں آگ لگائی ہے۔اور تیرے نام کے مسکن میں آگ لگائی ہے۔اورتیرے نام کے مسکن کو زمین پر گرا کر ناپاک کیا ہے۔سو ان دو باتوں یعنی بنی اسرائیل کی پستی اور ذلت ان کے دشمنوں کی کارروائی کو پیش کردہ خُدا کو اُبھارتا اور مشتعل کرتا ہےکہ وہ کچھ کرے۔ اور اپنی بے کسی کا یوں اعتراف کرتا ہے کہ ہم لا چار ہیں۔ہمارا کوئی نبی نہیں اورہمارے درمیان کوئی شخص نہیں جو معلوم کرے کہ یہ حالت کب تک جاری رہے گی۔
حصہ دوئم۔(۱۰۔۱۷) آیت میں وہ خُدا کو جتاتا ہے کہ اس کی عظمت اور بزرگی اس بات میں ہے کہ وہ مقتضی ہے اپنے لوگوں کو بچائے اور یاد دلاتا ہے کہ اس نے سابق زمانے میں اپنے لوگوں سے کیسا سلوک کیا۔جب ان کو ملکِ مصر سے نکال کر کنعان کی سر زمین میں پہنچا دیا۔
حصہ سوئم۔آیات(۱۸۔۲۳) میں وہ اپنے دلائل کو دھر کر اپنے خُدا سے خوب عرض کرتا ہےکہ اپنی فاختہ کی جان بھیڑے کے قابو میں نہ دے۔اور اپنے مسکینوں کے گروہ کو ہمیشہ نہ بھول بلکہ اپنے عہد پر لحاظ کر اور ایسا نہ ہونے دے کہ مظلوم رسوا ہو کر اُلٹا پھرے۔بلکہ ایسا ہو کہ مساکین و محتاج تیرے نام کی ستائش کریں۔
(زبور۷۵)۔سردار مغنی کے لیے آسف کا زبور جو کہ التشیت کے سر پر گایا جائے۔معلوم ہوتاہے کہ (زبور۷۵، ۷۶) زبور(۷۴) کے جواب میں ہیں۔چنانچہ (زبور۷۵) کی پہلی تین آیات میں بنی اسرائیل ان الفاظ میں خُدا کی تعریف کرتے ہیں کہ اے خُدا ہم تیری حمد کرتے ہیں۔کیونکہ تیرا نام ہم سے نزدیک تر ہے۔اور تیرے عجیب کاموں کی منادی ہوتی ہے۔اس کے جواب میں خُدا فرماتا ہے کہ جب موقع ہوتا ہےمَیں عدالت کرتاہوں۔ اور اگرچہ سرزمین اور اس کے کل باشندے پِگل گئے ہیں۔تو بھی مَیں نے اس کے ستونوں کو سنبھالاہے۔
آیات(۴۔۸) مصنف مغرور مخالفین سے مخاطب ہو کر ان سے کہتا ہے کہ گھمنڈ نہ کرو اور شریروں سے کہتا ہے کہ سینگ نہ اٹھاؤ۔کہ سر فرازی نہ پورب سے آتی ہے نہ پچھم سے اور نہ دکھن سے بلکہ خُدا عدالت کرنےوالا ہے۔وہ ایک کو پست کرتا ہےدوسرے کو سرفراز یعنی کہ وہ ایک کو اس کے کام کے مطابق سزا اور جزا دیتا ہے۔
(۹۔۱۰) آیات میں وہ دعویٰ سے کہتا ہے کہ جو ہو اابد تک بیان کروں گا۔اور یعقوب کے خُدا کی حمد گاؤں گا۔اور شریروں کے برخلاف ہو کر ان کا مقابلہ کروں گااور صادقوں کی مدد کروں گا۔
(زبور۷۶)۔یہ بھی آسف کا زبور ہے اور اس کی عبارت سے ظاہر ہے کہ یہ بھی دُعا کا جواب ہے۔اس میں چار حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔آیات (۱۔۴) میں بیان کرتا ہے کہ خُداوند نے پھر سے اپنے آپ کو صیحون پر ظاہر کیا۔اور اس کے دُشمنوں کوتتر بتر کیا۔ چنانچہ زبور (۷۶) میں مسطور ہے کہ اس نے کمانوں کے تیر ،سپریں اور تلواریں توڑیں اورلڑایاں موقوف کردیں۔
حصہ دوئم۔(۴۔۶) آیات میں خُدا کی فتح مندی اور نصرت کی تعریف ہے۔ آیات (۳۔۶) میں لکھا ہےکہ تیری ڈپٹ سے اےیعقوب کے خُدا گاڑیاں اور گھوڑے نیند سے مستغرق ہوئے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔یہ آیت سنہریب کی افواج کی بربادی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔جب کہ حزقیاہ نبی نے خُداسے دُعا کی تھی(۲۔سلاطین ۱۹: ۳۵۔۳۶) ۔
حصہ سوئم۔آیت(۷۔۹) میں مصنف کہتا ہے کہ خُدا انتظام کے لیے اُٹھےتو کوئی اس کےحضور نہیں رہ سکتا کہ اس کا مقابلہ کرنا محال مطلق ہے۔
حصہ چہارم۔(۱۰۔۱۲) آیات میں بیان ہے کہ آدمی کا غضب بھی کا خُدا کی ستائش کا باعث ہے۔اس میں مصنف سب کو تاکیدسے کہتا ہے کہ خُداوند خُدا کی نذر میں اور انہیں ادا کرواور سب لوگ اس کے حضور جس سے کہ ڈرنا چاہئےہدئے لائیں۔
(زبور۷۷)۔یہ دو تین سردار مغنی کے لیے آسف کا زبور ہے۔اس زبور کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کی حالت تصنیف کے وقت حبقوق نبی کی حالت کی سی تھی۔ جب کہ اس نے وہ دُعا مانگی جو اس کی کتاب کے تیسرے باب میں ہے۔اب چونکہ یہ زبور حبقوق کے باب سوئم سےموافقت رکھتا ہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔آسف نے حبقوق کی دُعا کے مطالعہ کے بعد یہ زبور تصنیف کیا۔اور بعض برعکس اس کے یہ گمان رکھتے ہیں کہ حبقوق نے اس زبور کو دیکھ کر اپنی دُعا تصنیف کی۔ممکن ہے کہ دونوں کی حالت یکساں تھی دونوں ہی نے ملہم ہو کر علیٰحدہ علیٰحدہ بغیر ایک دوسرے کے صلاح مشورے یا ایک دوسری تصنیف کے مطالعہ سے اپنی حالت بیان کی ہو۔اس زبور کے دو حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔اس حصے میں ایک مسئلہ پیش ہے۔اور حصہ دوئم میں اس کا اصل ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۹) آیات پہلی تین میں اپنی گھبراہٹ کایوں بیان کرتا ہے کہ اگرچہ بپتہ کےروز میں مانے خُداوند کی تلاش کی اور میرے ہاتھ رات کو اُٹھے اور گرے نہیں تو بھی میری جان نے تسلّی سے انکار کیا۔مَیں خُدا کو یاد کرتا اور گبھراتا ہوں۔مَیں سوچتا ہوں اور میرا جی ڈوبتا جاتا ہے۔
آیات(۴۔۹) میں مصنف بنی اسرائیل کی گزشتہ حالت پر غور کرکے اپنے سے سوال کرتا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ خدا اپنے لوگوں کو ہمیشہ کے واسطے ترک کرے؟(۹) آیت میں یہ سوال ہے کہ کیا خُدا اپنے رحم کو بھول گیا؟کہ کیا اس نے اپنی رحمتوں کو بند کردیا؟
حصہ دوئم۔(۱۰۔۲۰) اور(۱۰۔۱۲) آیات میں مصنف دعویٰ کرتا ہے کہ مَیں خُداوند کی گزشتہ کارروائیوں پر خوب غور کروں گا۔(۱۲آیت )میں کہتا ہے کہ مَیں تیرے سب کاموں کے بارے میں ہمیشہ سوچوں گا۔اور تیرے فعلوں پر دھیان کروں گا۔
(۱۳۔۱۵) آیت میں وہ اسرائیل کے بچاؤ اور ان کی حفاظت یاد کرکے کہتا ہے کہ تونے اپنے بازوں سے اپنے لوگوں بنی یعقوب اور بنی یوسف کو مخلصی بخشی۔
آیات(۱۶۔۲۰) میں مخلصی کی نسبت خُدا کی عجیب کارروائی کا بیان کرکے کہتا ہے کہ تیری راہ سمندر میں ہے۔اور تیرا گزر پانیوں میں۔تیرا نقشِ قدم معلوم نہیں۔
آیت(۲۰) میں وہ کہتا ہے کہ تونے گلے کی مانند موسیٰ اور چاروں کے ذریعےاپنے لوگوں کی راہنمائی فرمائی۔ان سب باتوں پر غور کرکے وہ تسلّی پاتا ہے۔اوراُمید رکھتا ہے کہ خُدا آئندہ بھی اپنے لوگوں کی حفاظت اور راہنمائی فرمائے گا۔خُداچاہتا ہے کہ ہم اس کی کل کارروائی کابغورمطالعہ کریں۔اوراسےسوچیں۔
(زبور۷۸)۔ یہ زبور آسف کا مشکیل ہے۔
( زبور۷۷) ۔میں خُداکے عجیب کام اس غرض کے لیے بیان ہیں کہ آدمی بپتا اور مصیبت کے وقت ان پر غور کرے اور ایمان کی تقویت حاصل کرے۔(زبور۷۸) بھی تواریخ کےذریعے خُدا کا وہ عجیب سلوک بیان کرتا ہے جو کہ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ روا رکھا۔تاکہ اسرائیل اس پر غور کریں۔اور باپ دادوں کی سر کشی اور شرارت سے اجتناب کریں۔اور اپنی زندگی خُدا کی نیک مرضی اور ارادوں کے مطابق بسر کریں۔اس زبور میں داؤد کے اس عہد کے اس وقت تک جب کہ خُدا نےافرائیم اور سیلاہ کو ترک کردیا۔اور یہوداہ اور یروشلیم کو دینی و دُنیاوی دارالخلافہ کے واسطے کے لیے منتخب کیا کی تاریخ ملتی ہے۔اس تاریخ میں سات باسلسلہ باتیں ملت ہیں۔
(1) (۱۔۸) آیات میں اس زبور کا مقصد پیش کیا گیا ہےکہ لوگ ان تواریخی واقعات سے تعلیم اور تربیت حاصل کریں۔اور دوسروں کو بھی آراستہ کریں۔چنانچہ پہلی آیت میں رقم ہے کہ خُدا اپنے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اےمیرے گروہ میری تعلیم پر کان رکھ اور میرے منہ کی باتیں تم کان لگا کر سنو۔
آیات(۶۔۸) میں اس کا مقصد یوں بیان کیا گیا ہے۔کہ آنے والی پشت نیز وہ فرزند جو پیدا ہوں سیکھیں۔اُٹھ کر اپنی اولاد کو سکھائیں۔خُدا پر توکل رکھیں اور خُدا کے کاموں کو بھلا نہ دیں۔بلکہ اس کے احکام حفظ کریں۔اور اپنے باپ دادوں کی طرح شریر اور سرکش نہ ہوں بلکہ جن کے دِل خُدا سے مانوس نہ رہے۔
(2) (۹۔۱۶) آیت میں مصنف بنی اسرائیل کی تاریخ سے ان کی فراموشی اور بے وفائی ظاہر کرتا ہے۔کہ انہوں نے خُدا کے عہد کوحفظ نہ کیا بلکہ اس کی شریعت پر چلنے سے انکار کیا۔اور اس کے کاموں اور عجیب قدرتوں کو بھلادیا۔
(3) آیات(۱۷۔۳۱) میں وہ بیان کرتا ہے کہ گو خُدا نے ان کی حفاظت کی اور ان کے واسطے خوراک بھی مہیا کرتا رہا۔تو بھی وہ اس سے کنارہ کرتے گئے۔اور بیابان میں حق تعالیٰ سے بغاوت کی یہاں تک اس کا غضب ان پر بھڑکا۔اور ان میں سے تناوروں کا قتل کیا۔اور اسرائیل کے جوانوں کو گرا ڈالا۔
(4) آیات(۲۹۔۴۲) میں دکھایا گیا ہے کہ بیابان میں خُدا کی دھمکیوں اور سزا نے چند روزہ آراستگی اور اصلاح اور توبہ پیدا کردی اگر خُدا اپنی بے پایاں رحمت سے موسیٰ کی سفارش منظور نہ کرتا تو البتہ وہ ان کو یک لخت ہلاک کر ڈالتا۔
(زبور۷۸) اس کی (۳۸) آیت میں وہ رحیم ہے۔اور اس نے ان کی بدکاریاں بخشیں اور ہلاک نہ کیا۔ہاں بارہا اس نے اپنے قہر کو روکا۔اوراپنےسارے غضب کو نہ بھڑکایا کیونکہ اس نے یاد کیا کہ وہ بشر ہیں۔
(5) آیات(۴۰۔۵۵) میں مصنف ان دس(۱۰) آفات میں سے جو کہ مصریوں پر اس وقت واقع ہوئیں۔جب خُدا نے بنی اسرائیل کو مصر میں سے بچا کر نکالاسات (۷)آفات پیش کرتا ہے۔یعنی کہ خُدا نے ان کو ملکِ کنعان میں پہنچانے کے لیے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا۔تاکہ خُدا کی رحمت اور مہربانی کے مقابلہ میں بنی اسرائیل کی بے وفائی، غداری اور ناشکر گزاری بخوبی و عیاں بیاں ہوجائے۔
(6) آیات(۵۶۔۶۴) میں دکھایا گیا ہے کہ ملک کنعان میں پہنچ کر وہ از سرِ نو گناہ میں یہاں تک مصروف و مبتلا ہوئے۔کہ اس نے سیلاہ کو یہاں عہد کا صندوق رکھا تھا۔چھوڑ کر ان کو ان کے دُشمنوں کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔
(7) آیات(۶۵۔۷۲) میں خُدا نےاسرائیل پر پھر رحم فرمایا۔اور افرائیم کی بجائے یہوداہ اور سیلا کی بجائے یروشلیم منتخب کیا۔چنانچہ لکھا ہے کہ اس نے انہیں اپنے دِل کی راستی سے چھڑایا اور اپنے ہاتھوں کی چالاکی سے ان کی رہنمائی کی۔
(زبور۷۹)۔آسف کا زبور( زبور۷۹، ۷۴) ایک ہی موقع کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اور ایک دوسرے سے کچھ منافقت بھی رکھتے ہیں۔اس زبور کے تین حصے ہیں۔جن میں مصنف اپنی غم آلودگی اور غم کا سبب کا بیان کرکے خُدا سے اپنے گناہوں کی معافی اور رہائی کی عرض کرتا ہے۔
حصہ اوّل۔(۱۔۴) آیات مصنف دُشمنوں کی چڑھائی اور حملہ اور ہیکل کی تحقیر و بے حرمتی اور یروشلیم کی بربادی ان الفاظ میں پیش کرتاہےکہ خداغیر اقوام نے تیری میراث میں داخل کیا اور تیری مقدس ہیکل کو اُنہوں نے ناپاک کیااور یروشلیم کو ڈھیر کردیا۔
حصہ دوئم۔(۵۔۷) آیات میں مصنف عرض کرتا ہے کہ خُدا اسرائیل پر رحمت فرمائے اور ان کی سزا کو موقوف کرے۔اور اپنا غصہ ان اقوام پر جنہوں نے نہ پہچانااور ان بادشاہوں پر جنہوں نے اس کانام نہ لیا،انڈیلے۔
حصہ سوئم۔(۹۔۱۳) آیات میں مصنف خُدا سے امداد چاہتا ہے کہ اور اس میں وہ اپنے کو مدد و تعاون کا مستحق اقرار نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ اپنے نام کی خاطر ہمارے گناہوں کو ڈھانپ دے۔یعنی خُدا کے جلال کی بنا پر وہ عرض کرتا ہے۔
نوٹ:۔تالمود کے قلمی نسخے بنام (سو فریم )میں بتایا گیا ہے۔کہ زبور(۷۹) ماہ اب (اگست) کی نویں تاریخ پرجب کہ ہیکل کی پہلی دوسری بربادی یاد گاری کی جاتی تھی( زبور۱۳۷) کے ساتھ استعمال ہوتا تھا۔
(زبور۸۰)۔سردار مغنی کے لیے آسف کا زبور سوسنیم عدوت کے سُر پر گایا جائے۔اس کےسر نامے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موقع تصنیف نہیں ہو سکتا۔لیکن مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبور سلطنت کی تقسیم کےبعد جب کہ یہوداہ اور افرائیم ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہوئے تو تب یہ لکھا گیا۔کیونکہ اس میں مصنف خاص طور پر یوسف کے گھرانے کے لیے دُعا مانگتا ہے۔یہ زبور چار حصوں میں منقسم ہے۔
حصہ اوّل۔آیات(۱۔۳) مصنف یوسف کے واسطے یوں دُعا کرتا ہے کہ اے اسرائیل کے گڈریے تو یوسف کو گلے کی مانند لے چلتا ہے۔ اور خود تو کروبیم پر تخت نشین ہے۔جلوہ گرہو اور افرائیم اور بنیامین اور منسیؔ کے آگے اپنی قوت کو حرکت دے اور آکر ہم کو بچا۔
حصہ دوئم۔(۴۔۷) آیات میں وہ خُدا سے استفسار کرتا ہے کہ اے خُدا وند خُدا لشکروں کے خُدا کب تک تیرے قہر کا دھواں تیرے لوگوں کی دُعا کے برخلاف اُٹھتا رہے گا۔مصنف چاہتا ہے کہ خُدا کی رحمت ان پر نازل ہو۔اور کہ وہ ان کو دشمنوں ہاتھوں سے بچائےاور کہتا ہے کہ اگر تو اپنا چہرہ روشن کرے تو۔ہم بچ جائیں گے۔
حصہ سوئم۔(۸۔۱۳) آیات میں مصنف قوم اسرائیل کوتاک سے تشبیہ دیتا ہے کہ اور کہتا ہے کہ اے خُدا تونے اسے ملکِ مصر سے نکال کنعان میں لگایا۔یہاں کہ وہ خوب جڑ پکڑ کر بڑھا اور پھلا۔اور وہ عرض کرتا ہے۔خُدا اپنی خود لگائی ہوئی تاک کی حفاظت نگہبانی کرے۔
حصہ چہارم۔(۱۴۔۱۹) آیات میں مصنف پھر منت کرتا ہے کہ خُدا آسمان پر سے نگاہ کرے۔اور اس تاک کی طرف متوجہ ہو۔کیونکہ وہ کہتا ہے کہ وہ آگ سے جلائی گئی اور کاٹی گئی ہے۔اورتیرے چہرے کی ڈپٹ سے ہلاک ہوئی ہے۔آخر میں وعدہ کرتا ہےکہ اے خُدا اگر تو پھر ہماری طرف متوجہ ہو توہم تجھ سے نہ پھریں گے۔
(زبور۸۱)۔یہ زبور سردار مغنی کے نام پر آسف کی طرف سے ہے۔اس کی تیسری آیت سے ظاہر ہے کہ وہ نئے چاند کی عید کے واسطے تصنیف ہوا تھا۔مصنف اس خواہش سے کہ وہ عید بوجہ احسن اور کمال خوشی سے منائی جائے۔اس زبورسے لوگوں کو تحریک دلاتا ہے کہ وہ خوشی سےآئیں اور عیدمیں شمولیت کا استحقاق حاصل کریں۔اس میں تین حصے ہیں۔
حصہ اوّل۔(۱۔۵) آیات میں مصنف گانےوالوں کو جوش دلاتا اور کہتا ہے کہ پکارکر خُداوند کی مدح گاؤوہ ہمارا زور ہے۔یعقوب کےخُدا کے لیے خوشی سے للکارواور سُر باندھ کر ایک گیت گاؤ۔پھروہ کاہنوں کو یہ کہہ کر اُبھارتا ہے کہ قرنائی(سینگ کا بگل،تُرہی) پھونکوتاکہ سب لوگوں کو معلوم ہو کہ ہماری مقدس عید کا ہے۔کیونکہ یہ خُدا کی سنت اور شرع ہے۔اور یہ شہادت کے لیے ٹھہرائی گئی ہے۔جب کہ ہم نے ملکِ مصر سے خروج کیا۔
حصہ دوئم۔(۶۔۱۰) آیات میں مصنف اپنے خروج کے ایام میں تصور کرکے اسرائیل کی رہائی کےواسطے خُدا کافتویٰ سنتا ہے کہ اور کوہِ خُدا کو یہ کہتا ہوئے سُنتا ہے کہ اے میرے لوگوں سنو۔تمہارے درمیان کوئی دوسرا معبود نہ ہو۔اور کسی اجنبی معبود کو سجدہ کروکہ خُداوند تمہارا خُدا مَیں ہوں، جو تم کو مصر کی غلامی سے نکال لایا۔
حصہ سوئم۔آیات(۱۱۔۱۶) میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس کی آواز پر کان نہ دھرا۔اور اس کےطالب ہوئے۔اور خُدا کی یوں ظاہر کرتا ہے کہ اے کاش میرے لوگ میری سنتے۔اور اسرائیل میری راہوں پر چلتا تو مَیں جلدی ان کے دشمنوں کو مغلوب کرتا۔اور ان کے بیڑیوں پر اپناہاتھ پھیرتاہے۔
(زبور۸۲)۔اس زبور میں آسف ایک مقدسہ کی تصویر کھنچتا ہے کہ جس میں خُدا قاضیوں کا قاضی ہو کراسرائیلی حاکموں کا جنہیں وہ الوہیم کہتا ہے مقدمہ کرتاہے۔وہ ان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ انصاف چھوڑ کر طرف داری کرتے ہیں۔اور ان کو یاد دلاتا ہے کہ لوگوں کے سامنے خُدا کی طرف سے نمائندے ہیں۔سو چاہیے کہ ان کے فیصلے خُدا کی طرف سے سمجھے جائیں۔چنانچہ پہلی چار آیات میں وہ لوگوں کو دکھاتا ہے کہ وہ اپنی جماعت میں کھڑا ہو کر حاکموں کی بے انصافی کے لیے ان کی فرمائش کرتا ہے۔
آیات(۵۔۷) تک وہ لوگوں کو بتاتا ہے کہ ایسی طرف داری سےزمین کی ساری بنیادیں جنبش کھائیں گی۔اور ان کو تاکید کرتا ہے وہ مسکینوں اور یتیموں کا انصاف کریں۔دل گیر اور حاجت مندوں کی دل جوئی اور حاجت روا کریں۔اور محتاج اور مسکین کو رہائی دیں۔وہ حاکموں کی عدالت اور ان کے انصاف سے بے زار ہوکر خُدا کو پکارتا ہے۔کہ اے خُدا اُٹھ۔تو خودآ اور زمین کی عدالت کر کہ تُو کُل اُمتوں کا مالک ہے۔
(زبور۸۳)۔آسف کازبور اس میں یروشلیم کے حاکموں کی فرمائش کے بعدمصنف غیر اقوام کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اور عرض کرتا ہے کہ خُدا ان کا فیصلہ کرے۔کیونکہ وہ اسرائیل کو برباد کرناچاہتے ہیں۔اس میں دو حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔(۱۔۸) آیات میں خُدا سے عرض کرتا ہے کہ اے خُدا چپ نہ رہ۔خاموشی اختیار نہ کر۔اور چین نہ لے۔دیکھ تیرے دُشمن دھوم مچاتے ہیں ۔انہوں نے جو تجھ سے کینہ اور عداوت رکھتے ہیں۔سر اُٹھایا ہے۔وہ آپس میں منصوبہ باندھ کرکہتے ہیں کہ آؤکہ ان کو اُکھاڑ ڈالیں کہ وہ آئندہ قوم نہ رہیں۔اور اسرائیل کے نام کا پھر ذکر تک نہ ہو۔انہوں نے اپنے دل میں مشورت کی ہے اور تیری مخالفت میں عہد باندھا ہے۔
(حصہ دوئم)۔(۹۔۱۸) آیات میں مصنف عرض کرتا ہے کہ اے خُدا ان کو گرد باد کی مانند کر۔اور ہوا کے سامنے بھوسے کی مانند بنا۔جس طرح آگ جنگل کو جلاتی ہے اور شعلہ پہاڑوں کو جھلس دیتا ہے۔ اسی طرح اپنی آندھی سے تو ان کاپیچھا کر اور اپنے طوفان سے ان کو پریشان کر۔ایسا کہ وہ جانیں کہ توہی اکیلا ہے۔جس کا نام یہوواہ ہےاور ساری زمین پر بلندو بالا ہے۔یہ آسف کا آخری زبور ہے۔
(زبور۸۴)۔بنی قورح کا زبور ہے۔بعض مورخین مصر کہتے ہیں کہ یہ زبور بنی قورح کی تصانیف میں نہیں۔بلکہ بنی قورح کے لیے ہے۔یہ عبارت اور ترکیب میں(۴۲۔۴۳) زبوروں سے ملتا جلتا ہے۔لیکن کچھ فرق بھی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ زبور(۴۲۔۴۳) میں مصنف اس بات کر مغموم(غم زدہ) اور آرزودہ خاطر ہے کہ وہ ہیکل کی عبادت میں شریک نہیں ہوسکتا۔لیکن اس زبور میں وہ خوشی کا اظہار کرتا اور کہتا ہے کہ ہم شریک ہوسکتے اورہوتے ہیں۔جملہ مفسرین اس کی تصنیف کے وقت کی نسبت متفق الرائے نہیں ہیں۔چنانچہ بعض خیال کرتے ہیں۔یہ زبور تعمیرِ ہیکل سےبھی پہلے لکھا گیا۔اور بعض یہ کہ یہ زبور زمانہ داؤد کے بعد تصنیف ہوا۔بشپ وسکاٹ صاحب زبور کی کتاب نسبت فرماتے ہیں کہ ''اس کی روحانی معموری قیدِوقت سے بالا و برتر ہے۔اور ہر زمانے کے واسطے روحانی زندگی کاگیت ہے۔اس کی تصنیف اورموقعہ کی دریافت کی کچھ بہت اہمیت نہیں رکھتی ''یہ زبور لفظ سلاہ سے جو کچھ چوتھی اور آٹھویں آیت کے اخیر میں ہے۔تین حصوں میں منقسم ہے جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
(حصہ اوّل)۔آیات(۱۔۴) خُداوند کے مسکن کی تعریف کرتا اور ان کی نسبت اپنے اشتیاق کا یوں بیان کرتاہے۔کہ خُداوند تیرے مسکن دل کش ہیں۔میری روح خُداوند کی بارگاہوں کے لیے آرزومند بلکہ گداز ہوتی ہے۔میرا من اور میرا تن زندہ خُدا کے لیےللکارتا ہے۔مبارک وہ ہی جو تیرے گھر میں سکون پزیر ہیں۔مصنف ان چڑ یوں کی جنہوں نے خُدا کے مسکن میں آشیانوں کے لیےجگہ پائی ہےکہ اپنے بچے وہاں باحفاظت رکھیں تعریف کرتا اور ان کو مبارک کہتا ہے۔
(حصہ دوئم)۔آیات(۵۔۸) میں مصنف کہتا ہے کہ مبارک وہ ہے جس میں الہٰی قوت موجودہے۔اور جس کے دل میں تیری راہیں ہیں کہ وہ سب مشکلات پر غالب آکر خُدا کے حضور میں رسائی پاتے ہیں۔جہاں وہ اپنی دُعائیں پیش کر سکتے ہیں۔وہ قوت سے قوت ترقی کرتے چلےجاتے ہیں۔اور خُدا کے آگے صیحون میں پہنچ جاتے ہیں۔
(حصہ سوئم)۔(۹۔۱۲) آیات میں خُداکی حضوری کی مبارک حالی کی تعریف و توصیف کرتااور کہتاہےکہ ایک دن جو تیری بارگاہوں میں گزرے،ایک ہزار سے بہتر ہے۔میرے لیے خُداکے گھر کی دربانی شرارت کے خیموں میں رہنے سے بہتر ہے۔کیونکہ خُداوند ایک آفتاب ہے۔اور ان لوگوں سے جو کہ سیدھی چال چلتے ہیں۔کوئی اچھی چیز دریغ نہ کرے گا۔
(زبور۸۵)۔بنی قورح کا زبور ہے۔اس کے مضمون سے سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم اسرائیل اسیری سے مخلص ہو کر ملک کنعان میں آگئی تھی اور باوجود خُدا کی بے حد رحمت کےان کے حالت میں کوئی نمایاں تبدیلی اور ترقی کے آثار نہ تھے۔اور اس حالت کا سبب خود ان ہی میں تھا۔اگر یہ اسیری بابل والی اسیری تھی تو عزرا اور نحمیاہ نے ان کی اس حالت کا سبب بیان فرمایا ہے۔اور کہا ہےکہ اسرائیل اسیری تو لوٹ آئے تھے۔لیکن خُدا کے طرف نہ لوٹے تھے۔بلحاظ مضمون اس زبور کے دوحصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔(۱۔۷) آیات میں مصنف بنی اسرائیل پرخُدا کی رحمتوں اور مہربانیوں کو دیکھتا اور ان کا اعتراف کرتا ہے۔اور ان کے واسطےخُدا کی تعریف کرتا ہے۔اور آخر میں خُدا سے دُعا کرتا ہےکہ اے خُدا! ہم کو پھرااور اپنے قہر کو ہم پر سے دفعہ کر اور جلااور اپنی رحمت دِکھا اور نجات بخش۔یہ دُعا وہ کل اسرائیل کے لیے گزرانتا ہے۔خُدا اپنے لوگوں کو نجات بخشتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ بھی اپنی نجات میں کام کیے جائیں۔کیونکہ بزدلی اور پست ہمتی موجب برکت نہیں ہے۔
(حصہ دوئم)۔اس حصے میں مصنف کہتا ہے کہ مَیں سنوں گاکہ خُدا کیا فرماتا ہے۔مصنف کو کامل یقین ہے کہ خُدا اپنے بندوں اور پاک لوگوں کو سلامتی کی باتیں ضرور کہتا ہے۔اور چاہتا ہے کہ وہ پھر جہالت کی طرف مراجعت (رجوع)نہ کریں۔سلامتی کی راہیں موجودہیں اگر ہم اس کے سب لوگ اس میں چلیں تو خُدا جو کچھ بہتر اور خوب ہےضرور دے گا۔کیونکہ جسمانی برکات اخلاقی اورروحانی کاملیت پر منحصر ہیں۔آخر میں مرقوم ہے کہ صداقت اس کے آگے آگے چلے گی۔اور صادقوں کے واسطے ایک راہ بنائے گی۔
(زبور۸۶)۔داؤد کی نماز۔ زبور کی تیسری کتاب داؤد کا یہی ایک زبور ہے۔جیسا کہ اکثر ہوتاہے۔حسبِ ضرورت دوسرے زبوروں اور پاک نوشتوں کے مقاماتِ مختلف سے منتخب کیا گیا ہے۔اس کے تین حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔(۱۔۵) آیات میں کئی ایک عرضیں (درخواستیں)ہیں۔اور ان میں اسباب بھی جو کہ ان کی منظوری کو ضروری اور لازمی ٹھہراتے ہیں بیان ہیں۔مثلاً آیت اوّل میں عرض ہے کہ’’ اے خُداوند اپنا کان جھکا اور میری سن کیونکہ میں پریشان اور مسکین ہوں‘‘۔
(حصہ دوئم)۔(۶۔۱۰) آیت میں وہ خُدا کی صفات میں اپنی دعاؤں اور عرضوں کی قبولیت کا ثبوت اور امکان پاتا ہے۔مثلاًساتویں آیت میں وہ کہتا ہے کہ اپنی بپتا (مصیبت)کے روز تجھے پکاروں گا۔تو میری سنے گا۔غرض کہ وہ خُدا میں ہمدردی اور ترسی کی صفات دیکھتا ہے۔اور ان کو مناجاتوں کی قبولیت کا کافی بہانا مانتا ہے۔
(حصہ سوئم)۔آیات(۱۱۔۱۷) میں وہ خُدا کی شفقت اور رحمت پر تکیہ کرکے عرض کرتاکہ اس کو ایسی برکت عطا کرے کہ اس کے دشمن معلوم کریں کہ وہ ضرور خُدا کی حفاظت میں ہے۔چنانچہ آیت(۱۷) میں مذکور ہے کہ مجھے بھلائی کا کوئی نشان دکھلاتاکہ جو مجھ سے کینہ رکھتے ہیں وہ دیکھیں اور شرمندہ ہوں۔کیونکہ تونے اے خُداوندمیری مدد کی۔اور مجھ کو تسلی دی۔
(زبور۸۷)۔بنی قورح کا زبور: یہ زبور سب زبوروں سے نرالا ہے۔اور عجیب معلوم ہوتاہے۔اس واسطے کہ اس میں دکھلایا گیا ہے کہ اسرائیل کے جانی دشمن مصر اور بابل خُدا کی بادشاہت میں داخل ہوں گے۔بنی اسرائیل کو بتاکید حکم ہواتھاکہ وہ دیگر اقوام یعنی غیر لوگوں اسرائیل لوگوں سے الگ رہیں۔اوران کے ساتھ بلکل میل جول نہ کریں۔جیسا کہ مسیح کلیسیا کو حکم ہوا ہے کہ نکل آؤ، جُدا رہو اور ناپاک کو نہ چھوؤ (۲۔کرنتھیوں ۶: ۱۷)۔ اس زبور سے صاف صاف ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی روز کل اقوام اسرائیل میں شامل ہوں گی۔صرف ظاہری طور پر نہیں بلکہ اس میں پیدا ہوں گی۔یعنی نئی پیدائش کے ذریعے اس میں شامل وشریک ہوں گی اور استحقاق و برکت میں مساوی حقوق رکھیں گی۔نیز یہ کہ یروشلیم گویاتمام لوگوں کی ماں ہے(گلتیوں ۴: ۲۶) میں یوں لکھا ہے کہ اوپر کا یروشلیم آزاد ہے اور وہی ہم سب کی ماں ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زبور حزقیاہ کے ایام میں تصنیف ہواکیونکہ یسعیاہ نبی کی کئی ایک پیش گوئیاں اس کے مضمون سے اور ان کا طرزِ بیان اس کی عبارت سے مطابق رکھتا ہے۔مثلاً (یسعیاہ۲۰: ۲۰۔۲۲) میں مصر کی نسبت پیش گوئی ہے۔اس زبور میں مصر کو راہب کہا گیا ہے۔کہ یاد کرو تم آگے کی نسبت غیرقوم والے تھے۔ ایسے کہ وہ جو آپ کومختون کہتے ہیں۔یعنی جس کا جسمانی ختنہ ہاتھ سے ہوا ہے۔تم کونامختون کہتے تھے۔اور یہ بھی کہ تم اس وقت مسیح سے جُدا۔اسرائیل کی جمہوری سلطنت سے الگ وعدے کے عہدوں سے باہر نااُمیداور دُنیا میں سے جُدا تھے۔سو اب تم بیگانےاور مسافر نہیں۔بلکہ مقدسوں کے ساتھ اور خُدا کے گھرانے کےہو۔اور رسولوں اور نبیوں کی نیو پر یہاں یسوع مسیح خود کونے کےسرے کا پتھرہے۔وعدے کی طرح اٹھائے گئے ہو۔اس زبور میں تتمے کے علاوہ دو خاص حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔(۱۔۳) آیات میں ذکر ہے کہ یروشلیم یعنی صیحون خُدا کا شہر ہے۔اس نے اس کی بنیاد مقدس پہاڑ پر ڈالی ہے۔اور جلال والے وعدوں کا وارث ہے۔جیسے کہ تیسری آیت میں مذکور ہے کہ اے خُدا کے شہر تیری بابت جلال والی باتیں کی جاتیں ہیں۔
(حصہ دوئم)۔(۴۔۶) آیات میں خُدا اس بات کا اشتہار دیتا ہے کہ مَیں مصر یعنی راہب اور بابل کو جو کہ یہودیوں کے پرانے دشمن تھے۔ مذکور کروں گاکہ وہ میرے پہچاننے والوں میں شامل ہیں۔دیکھ فلستی ،صوراور کوش سمیت وہاں پیدا ہوا۔اور صیحون کی بابت کہا جائے گا کہ فلاں فلاں اس میں پیدا ہوا۔اور حق تعالیٰ آپ اس کو قیام بخشے گا۔اور خُداوند قوموں کا نام لکھے گا۔تو گن کر کہے گا،کہ یہ شخص وہاں پیدا ہوا تھا۔
تتمہ(آخری بقیہ)۔ ساتویں آیت میں مذکور ہے کہ گانے والے بھی ہوں گے۔میرے سب چشمے تجھ میں موجود ہیں۔یہ انجیلی زبور ہے۔ (زبور۸۸)۔ سردار مغنی کے لیےقورح کا زبویا گیت۔جو کہ محلت سے گایا جائے۔
ہیمان از راخی کا مشکیل
چونکہ اس زبور میں اُمید کا نام تک نہیں یہ سب زبوروں سے زیادہ غم آلودہ اور اندوہناک (رنج سے بھرا ہوا)سمجھا گیاہے۔بعض مفسرین خیال کرتے ہیں کہ یہ زبور اس وقت لکھا گیا کہ جب اسرائیل اسیری میں تھے۔اور بعض گمان رکھتے ہیں۔اس میں مصنف خود کو ایوب کی سی حالت میں تصور کرکے اپنی مایوسی کو ایوب ہی کے الفاظ میں بیان کرتاہے۔یہ زبور اس شخص کا مرثیہ (رونا)ہے کہ جس مطلقاً روحانی تنویر نہیں ہے۔اور وہ اپنی گناہ آلودگی سے ناواقف ہو کر خدا کی رسائی کی کوشش کرتا ہے۔اس زبور کی تفصیل اس طرح ہے۔
(1) آیات(۱۔۸) میں مصنف اپنی ابتر حالت خُدا کے سامنے اس مقصد سے پیش کرتا ہے کہ خُدا اس پر ترس کھائے۔اور وہ کہتا ہے کہ مَیں نے دن رات خُداوند کے آگے فریاد کی لیکن بجائے مدد اور رحمت کے اس نے مجھے اسفل (نہایت نیچے)میں اندھیرے مکانوں میں اور گہرائیوں میں ڈالااور اس نے میری جان پہچان کو مجھ سے دور کیا۔اس زبور سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف اپنی ابتری کےاسباب خودمیں نہیں دیکھتا۔اور نہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔بلکہ خُدا کو اس کا سبب گردانتا ہے۔
(2) (۹۔۱۲) آیات میں وہ اپنی زندگی سے بے زار ہو کر خُدا سے سوال کرتاہے کہ کیا تو مردوں کے لیے عجیب کام کرے گا؟کیا مردے اُٹھیں گے۔اور تیری ستائش کریں گے؟ کیا گور میں تیری رحمت اور ہلاکت میں تیری سچائی کا چرچا ہوگا؟ کیا تیرے عجائبات اندھیرے میں اور تیری صداقت فراموشی کی سر زمین میں معلوم ہو گی۔
(3) آیات(۱۳۔۱۸) میں مصنف کہتا ہے کہ اے خُدا مَیں تیرے آگے چلاتااور دہائی دیتا ہوں۔میری دُعاصبح کوتیرے حضور پہنچے گی۔اور استفسار کرتا ہے کہ کیا سبب ہے کہ خُدا نے خُدا نے اس کو ترک کردیا؟اور قہر سے اس کو ایسا گھیرا کہ اس کو ذرا بھی آرام نہیں۔اورنہ ہی کچھ تسلی ہے۔بغیر سچی توبہ کے معافی محال ہےاور مسیح جُدا اور دور رہ کرنجات کی خوشی سے محروم رہنا ہے۔
(زبور۸۹)۔ایتان ازراخی کا مشکیل۔
گمان ہے کہ یہ زبور اس ستر (۷۰)سالہ اسیری کے ایام میں تصنیف ہوا کہ جب یہودیوں کا درالسلطنت تباہ و برباد ہو گیا۔اور سب کے سب بمعہ بادشاہ کے اسیر و مقید ہوگئے اور جلا وطن کیےگئے۔اس زبور میں وہ سب اپنی بڑی حکمت سے بچشم غور نظر کرتےہوئے۔خُداوند کا وہ وعدہ یاد کرتے ہیں کہ جو اس نے داؤد سے باندھا تھا۔جب وہ خُداوند کے لیے ایک ہیکل کی تعمیرکی کوشش میں تھا۔(۲۔سموئیل ۷: ۱۵۔۱۶) خُداکے گھرانے کی نسبت کہتا ہے کہ میری رحمت اس سے ہرگز جُدا نہ ہوگی۔بلکہ تیرا گھر اور تیری سلطنت ہمیشہ سامنے موجود اور قائم رہیں گے۔تیرا تخت ہمیشہ ثابت رہے گا۔وعدہ تو یہ تھا لیکن حالت دگر گوں (اُلٹ)تھی۔کہ بادشاہ بموجب ساری رعایا اسیر تھا۔یروشلیم بمعہ بادشاہ کے تخت اور ہیکل کے تہ و بالا کیا گیا۔کیا خُدا قادراور وفادار نہیں؟پھر یہ حالتِ زار کیونکر ہے؟
مصنف اس زبور میں خُداوند کی تعریف کرتااور کامل بھروسےرکھتاہے اور کہتا ہے کہ خداوندقابلِ اعتبار ہے۔اور اس کے ثبوت ذیل کے دلائل پیش کرتا ہے۔
(1) آیات(۱۔۴) میں وہ خُداوند کا وعدہ دھراتا ہےکہ اپنے برگزیدہ سے ایک عہد کیا ہے۔مَیں نے اپنے منہ سے داؤد سے قسم کھائی ہےکہ مَیں تیری نسل کو ابدتک قائم رکھوں گا۔اور تیرے تخت کو پشت در پشت قیام بخشوں گا۔
(2) آیات(۵۔۷) میں خُدا کی وعدہ وفائی کے ثبوت میں وہ کہتا ہے کہ آسمان خُداوند کے عظیم کاموں کی ستائش کریں۔اور مقدس لوگوں کی جماعت اس کی وفاداری کی۔وہ آسمان پر نبی اللہ میں بے نظیر (بے مثل)ہے۔اور قدوسوں کی مجلس میں نہایت مہیب ہے۔
(3) آیات(۸۔۱۸) میں دکھایا گیا ہے کہ خُداوند دُنیا کا منتظم ہے۔اور اپنی قدرت اور حسنِ انتظام سے دُنیا کو قائم رکھتا ہے۔لوگ اس سبب سے خوشی مناتے ہیں کہ عدالت اورصداقت اس کے تخت کی بنیاد ہے۔اور رحمت اور سچائی اس کے آگے آگے چلتے ہیں۔سو خُداوند قابلِ بھروسہ ہے اور اس کی وفا داری میں کلام نہیں۔
(4) آیات(۱۵۔۱۸) میں مصنف کہتا ہے کہ وہ مبارک ہے جو عبادت کی قرنائی آواز کا شناساں(پہچاننے والا) ہے۔کہ وہ خُداوند کے چہرے کے نُور میں خراماں ہوگا۔
(5) آیات(۱۹۔۳۷) میں خُداوند کہتا ہے کہ مَیں نے داؤد سے عہد کیا۔سو مَیں اس میں وفادار رہوں گا۔اوراس عہد پر کاربند رہوں گا۔لیکن اگر اس کے فرزند میری شریعت کو ترک کردیں گے۔اور میرے احکام پر نہ چلیں گے۔تو مَیں چھڑی سے ان کے گناہوں کی اور کوڑوں سے ان کو ان کی بدی کی سزادوں گا۔مَیں اپنے عہد کو نہ توڑوں گا۔اور اس سخن کو جو میرے منہ سے نکل گیا اس کو نہ بدلوں گا۔اس کی نسل تاابدقائم رہے گی۔اور اس کا تخت میرے آگےسورج کی مانند ہوگا۔وہ چاند کی مانند آسمان پر سچے گواہ کی مانندابدتک قائم رہے گا۔
(6) آیات(۳۸۔۴۵) میں مصنف خُدا سے فریاد کرکے اس کو جتاتا ہے کہ اس نے اس عہد کو جو کہ اس نے اپنے بندے داؤد سے کیاتھا۔باطل کیا اور کہتا ہے کہ تونے اس کے تاج کو زمین پر پھینک کر اسے ناپاک کیا ہے۔
(7) آیات(۴۲، ۵۱) میں وہ خُداوند سے منت کرتا ہے کہ وہ ان پر رحم کرے۔پیشتر اس سے کہ وہ اس دُنیا سے معدوم(ناپید ، برباد) ہوجائیں۔اور کہتا ہے کہ تو اگر ان کو نہ بچائے تو تیری پہلی مدارات اور مہربانیاں کس حساب و شمار میں ہوں گی۔الغرض اس زبور کا مقصد یہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا کی کارروائی اس کے وعدوں کے بموجب پہلو بہ پہلو ہے۔خُداوند کی مہربانی اس کی وفاداری اس زبور کی خوبی ہے۔اور یہ الفاظ اور مناجات بارہا اس زبور میں آئے ہیں۔محبت سے خُداوند کو مجبور کیا ہےکہ وہ داؤد کے گھرانے سے عہد باندھے اور وفاداری اس کو وعدہ وفائی پر مجبور کرتی ہے۔اس زبور میں مسیح کی نسبت کوئی وعدہ نہیں تو بھی یہ باتیں اس کی آمد پر دلالت کرتی ہے۔اس جگہ زبور کی تیسری کتاب۔تمجید تثلیث اور دہرائی آئین سے ختم ہوتی ہے۔
باب پنجم
کتاب چہارم
(زبور۹۰۔۱۰۶)
سوال۔17:۔ زبور کی چوتھی کتاب کی کیفیت بیان کریں؟
جواب:۔ اس کتاب میں سترہ(۱۷) یعنی(۹۰۔۱۰۶) زبور ہیں۔ پہلا یعنی (زبور۹۰) موسیٰ کا ہے۔ سب زبوروں سے قدیمی ہے۔(۱۴) زبور گمنام (محروم مصنف) ہیں۔(۲) زبور یعنی(۱۰۱، ۱۰۳) زبور داؤد کے ہیں۔اس کتا ب کے اکثر زبور یہوسفط اور حزقیا ہ بادشاہوں کے زمانے کی تصنیفات ہیں۔اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب اسیری کے بعد تالیف ہوئی کیونکہ زبور(۱۰۲) اسیری کے ایام کا ہے۔اور غالباً عزرا کی تصنیف ہے۔
سوال۔18:۔چوتھی کتاب کےزبوروں کی تفصیل کریں۔
جواب :۔(زبور۹۰)۔ سب زبوروں سے قدیم اور مضمون کے لحاظ سے سب سے عالیٰ اور قابل مصنف کی بلند پردازی (خود ستائی،عالیٰ خیالی)کا نتیجہ ہے۔اس میں خُدا کی بےبیانی اور ازلیت اور انسان کے ضعیف البیان(جس کی بنیاد کمزورہو) کی بےثباتی دکھائی گئی ہے۔اس کے سرنامے سے ظاہر کے کہ یہ زبور موسیٰ کی نماز ہے۔جوکہ عموماً مسیحی مردوں کے دفن کے موقع پر پڑھی جاتی ہے۔اور انسانی زندگی کی بے ثباتی دکھائی جاتی ہے۔یہ زبور دو حصوں میں منقسم ہے۔
( حصہ اوّل)۔(۱۔۱۲) آیات میں خُدا کی لافانی کے ثبوت اور انسان کا فانی ہونا پیش ہے۔
(حصہ دوئم)۔(۱۳۔۱۷) آیت میں انسان کی بے ثباتی کی وجہ بیان کی ہے۔
حصہ اوّل کی(۱۔۶) آیات میں خُدا کی ازلیت اور بے پایانی(بے حد) کی نسبت یہ آیا ہے کہ پیشتراس کے پہاڑ پیدا ہوئے۔اور زمین اور دُنیا کو تونے بنایاازل سے ابدتک توہی خُدا ہے۔انسان کی بے ثباتی کی نسبت ذکر ہے۔کہ تو انہیں یوں لے جاتا ہے کہ جیسے سیلاب۔وہ گویا نیند ہیں۔وہ فجر کی اس گھاس کی مانند ہیں جو اُگتی ہے اور صبح کو ترو تازہ ہوتی اور لہلہاتی ہے۔اور شام کو جب کہ وہ کاٹی جاتی ہے۔بلکل سوکھ جاتی ہے۔
آیات(۷۔۱۲) میں انسان کی بے ثباتی کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے گناہ ہی سے خُداوند کا قہر اپنے اوپر لایااور اس کی گنہگاری کی وجہ سے اس کی زندگی کے برس ستر (۷۰)برس ٹھہرائے گئے۔جو کہ اگر قوت ہو تو اَسی(۸۰) تک پہنچ سکتے ہیں۔لیکن یہ سب دن سراسر توانائی محنت اور مشقت ہیں۔کیونکہ ہم جلد جاتے رہتے ہیں اور اُڑ جاتے ہیں۔(۱۲) آیت میں عرض ہے کہ اےخُدا ہمیں اپنی ہماری عمر کے دن گننا سکھا۔کہ ہم دانا دل حاصل کریں۔
(حصہ دوئم)۔اس حصے میں مصنف عرض کرتا ہے کہ اے خُدا اپنے بندوں کی طرف پھر متوجہ ہو۔اور ہم کو سویرے اپنی رحمت سے سیر کر تاکہ ہم اپنی عمر بھر خوشنود اور خوش وقت رہے۔اور ہمارے ہاتھوں کا کام ہم پر پھر قائم ہو۔ہاں تو ہمارے ہاتھوں کے کام کو پر پھر قائم کر۔اس سے یہ مراد ہے کہ چاہئے کہ جب تک دن ہے۔ہم خُداوند کے کام میں مشغول ومصروف رہیں۔کیونکہ رات آنی ہے۔جس میں کوئی کام نہیں کرسکتے۔ہاں ہمارے کام کے قائم ہونے پر ہماری روحانی زندگی کی خوش وقتی اور خوشحالی موقوف و منحصر ہے۔
(زبور۹۱)۔زبوروں کی عبرانی کتاب میں گمنام ہےلیکن سپٹواجنٹ یعنی ترجمہ ہفتادی میں داؤد سے منسوب ہے۔یہ زبور اس شخص کی حالت کو پیش کرتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے پردے تلے رہتا ہے۔اور ظاہر کرتا ہے کہ ایسے شخص کی سب برکات اس کی اس حالت سے پیدا ہوتی ہیں۔اور اسی پر انحصار رکھتی ہیں۔یہ زبور خُداوند یسوع مسیح پر بھی دلالت رکھتا ہے۔شیطان نے اس زبور کے بارے میں اقتباس کیا کہ جب اس نے مسیح کو ہیکل کے کنگر ے پر کھڑا کیا۔اور کہا کہ'' اگر تو خُدا کا بیٹا ہے تو اپنے تئیں یہاں سے گِرا دے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیرے واسطے فرشتوں کو فرمائے گا کہ وہ تیری خبر داری کریں۔اور تجھ کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیں کہ مبادہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے''(لوقا۴: ۹۔۱۱)۔
اس زبور کی تقسیم نہیں کی گئی۔اس کے بارے مترجم ڈیلش کا خیال ہے کہ اس میں تین متکلمین ہیں۔اور گانے کے واسطے اس کو ایسی ترتیب دی ہے کہ وہ تینوں اس کو حصہ بہ حصہ عبادت کے وقت ہیکل میں گائے۔اس طرح کہ پہلا متکلم پہلی آیت اور دوسرا متکلم دوسری آیت اس کے جواب میں گاتا ہے۔پھر دوسری بار متکلم اوّل آیت(۳۔۸) گاتا ہے۔اور دوسرا (۹)نویں آیت پہلا مصرہ گاتا ہے۔پھر تیسری بار متکلم اوّل (۹)نویں آیت کے بقیہ سے شروع کرکے (۱۳)تیرہویں کے آخر تک گاتا ہے۔اور تیسرا متکلم آیات(۱۴۔۱۶) گاتا ہے۔
مترجم کے اکثر تراجم متفرق ہیں۔مثلاً آیت اوّل اور دوئم کا ترجمہ اس طرح ہے کہ وہ جو خُدا تعالیٰ کے پردے تلے سکونت کرتا ہے اور قادرِ مطلق کے سائے میں رہتاہے۔وہ یہوواہ کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ وہ میری پناہ اور میرا گڑھ ہے۔میرا خُدا جس پر میرا توکل ہے۔اور بقیہ آیات میں یہوواہ کی حفاظت کی تفصیل ہے۔کہ تجھے صیاد کے پنجے اور مہلک وبا سے بچاتا ہے۔
آیات(۱۰۔۱۱) میں مرقوم ہے کہ کوئی وبا تجھ پر نہ آئے گی۔اورکوئی آفت تیرے خیمے کے پاس نہ پہنچے گی۔وہ تیرے لیے اپنے فرشتوں کو حکم کرے گا کہ وہ تیری سب راہوں میں تیری نگہبانی کریں۔ایسا کہ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے۔ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔مسیح کے سب لوگ اس کے ساتھ میراث میں شریک و شامل ہیں۔وہ ان کو محفوظ رکھتا ہے۔
(زبور۹۲)۔سبت کے دن کے ایک زبور یا گیت۔تالمود سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبور سبت کی صبح ہیکل میں عبادت کے وقت گایا جاتا تھا۔ جب کہ پہلا برّہ گزارنے کے وقت ہیکل میں اس پر مے انڈیلی جاتی تھی۔اس زبور سے لے کر (زبور۹۹) تک ہیکل کی عبادت میں شامل ہیں۔جو کہ بروز سبت میں استعمال ہوتے تھے۔اس کی تفصیل یوں ہے۔کہ
(حصہ اوّل)۔پہلی پانچ آیات میں خُداوند کے عظیم کاموں کے سبب اس کی ستائش کی گئی ہے۔اور مصنف اس سے خوش وقت ہے۔
(حصہ دوئم)۔ آیات(۶۔۹) میں مصنف شریروں اور بد کرداروں کی حالت پر روشنی ڈالتا ہے۔اور کہتا ہے کہ وہ سب فناہوں۔
(حصہ سوئم)۔آیات(۱۰۔۱۵) میں صادقوں کی خوش وقتی اور خوشحالی کا بیان ہے۔کہ وہ کھجور کے درختوں کی مانند لہلہائیں گے۔اور لبنان کے دیوداروں کی طرح بڑھیں گے۔ اور وہ جوخُداوند کے گھر میں لگائے گے ہیں۔ہمارے خُداوند کی درگاہوں میں پھولے وہ بڑھاپے میں بھی میوہ دیں گے۔اور شاداب و ترو تازہ ہوں گے۔اور ظاہر کریں گے کہ خُداوند سیدھا ہے۔اس میں نارستی نہیں وہ میری چٹان ہے۔
(زبور۹۳)۔یہ بھی زبور(۹۹) کی طرح یہودیوں کےسلسلہ نماز میں شامل تھا۔اور ہفتے کے چھٹے روز استعمال ہوتا تھا۔اس میں یہوواہ بادشاہ کی تعریف کی گئی ہے۔چنانچہ آیت اوّل میں آیا ہے کہ یہوواہ باد شاہت کرتا ہے۔اس نے خود کو شوکت کی خلعت سے ملبس کیا ہے اور اپنی کمر قوت سے کس لی ہے۔اس سبب سے جہاں قائم رہتا ہے۔اس سے ظاہرہے کہ یہوواہ ازل ہی سے بادشاہ ہے۔اور ابد تک بادشاہ رہے گا۔اس نے جہان کو قائم رکھا ہے۔اور وہ ٹلتا نہیں۔آیت( حصہ دوئم) میں لکھا ہے کہ تیرا تخت قدیم سے مستحکم ہے۔
اور تو ازل سےہے۔آیات(۳۔۴) میں لکھا ہے کہ یہوواہ ندیوں کے جوش و خروش اور سمندرکے طلاطم سے بھی قوی تر ہے۔(۵) آیت میں یہ آیا ہے کہ تیری شہادتیں یقینی ہیں۔اے خُداوند قدوسی تیرے گھر کو زیب دیتی ہے۔
(زبور۹۴)۔ہفتادی ترجمے میں یہ زبور داؤد سے منسوب ہے۔اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کا استعمال ہفتے کے روز پرہوتا تھا ۔اس زبور کا مقصد یہوواہ کی حکومت کی صداقت دکھانا ہے۔چنانچہ اس کی تمہید پہلی دو آیات میں مصنف یہوواہ کی طرف مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے یہوواہ کے انتقاموں کے خُدا جلوہ گر ہو۔اے جہان کے منصف خود کو بلند کراور متکبروں کوبدلہ دے۔
آیات(۳۔۷) میں مصنف اپنی مذکور الصدر عرض کے اسباب بیان کرتا ہےکہ شریر شادیانہ بجاتے اور ڈکارتے ہیں۔اور گستاخی باتیں بولتے ہیں۔اور سب بد کردارلاف زنی کرتےہیں۔وہ خُداوند کے لوگوں کو پیش ڈالتےاور تیری میراث کو دُکھ پہنچاتے ہیں۔ وہ بیوہ اور پڑوسی کو جان سے مارتے اوریتیم کو قتل کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ خُداوند نہ دیکھے گا اور خُدا خیال نہیں کرے گا۔
آیات(۸۔۱۱) میں کہتا ہے کہ ان کے ایسے کاموں کامقصد خُداوند کی تحقیر و تکفیر ہے کہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ انسان سے ناواقف ہے۔اور اس کو جانتا،سمجھتا اور پہچانتا نہیں ہے۔
آیات(۱۲۔۱۵) میں وہ ان لوگوں کی جو خُداوند سے تعلیم پائے ہوئے ہیں۔مبارک حالی اور فارغ البال(خوش حال) کا بیان کرتا ہےکہ عدالت ضرور صداقت کی طرف پھیرے گی۔اور وہ جو سب راست دل ہیں۔خُداوند کے پیچھے ہو لیں گے۔
آیات(۱۶۔۱۹) میں مصنف کہتا ہے کہ مَیں اپنے تجربہ سے خُداوندکو صادق پاتا ہوں۔
آیات(۲۰۔۳۰) میں(۲۳آیت) میں مصنف یقین کامل رکھتا ہے کہ خُدا ضرور شریروں کی بد کاری ان پر ڈالے گا۔اور ان ہی کی برائی میں ان کو فنا کرےگا۔ہاں خُداونداہمار خُدا ان کو فنا کرےگا۔
(زبور۹۵)۔یہ بھی ہیکل کے عبادت کے سلسلے میں شامل ہے۔خیا ل کیا جاتا ہے کہ یہ زبور کسی خاص عید کے واسطے ہوا تھا۔ہفتادی ترجمہ میں یہ زبور داؤد کا زبور کہا گیا ہے۔پولُس اپنے عبرانیوں کے نام خط کے تیسرے باب میں جہاں وہ خاص دن کے ٹھہرائے جانے کا ذکر کرتا ہے۔اس زبور کی ساتویں اور آٹھویں آیت سے اقتباس لے کر کہتا ہے کہ خُدا اتنی مدت کے بعد داؤد کی معرفت فرماتا ہے کہ اگرآج کے دِن تم اس کی آواز سنو تو اپنے دلوں کو سخت نہ کرو۔سو یہ زبور اگر داؤد کا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کے سلسلے کے سب زبور بغیر شک و شبہ داؤد ہی کی تصنیفات ہیں۔یہ زبور دعوت کا کہلاتا ہے۔اور اس میں دو حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔ آیات(۱۔۷) میں ایک خوشی کی دعوت ملتی ہے۔کہ آؤ ہم خُداوند کی مدح سرائی کریں۔اپنی نجات کی چٹان کو خوش ہو کر للکاریں وغیرہ۔کیونکہ خُداوند بڑا اور قادر خُدا ہے۔وہ بڑا بادشاہ ہے۔اور سب معبودوں پر مقدم ہے۔آؤ ہم سجدہ کریں اور جھکیں۔اور اپنے خُداوند کے حضور زانوے عجزو نیاز تہ(سجدہ ریز ہوں) کریں۔وہ ہمارا خُدا ہے۔اور ہم اس کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں۔
(حصہ دوئم)۔آیات(۹۔۱۱) میں ایک موثر نصیحت کے بعد تاکید ہے کہ اگرآج کے دن تم اس کی آواز سنو تواپنے دلوں کو سخت مت کروجس طرح تمہارےباپ دادا نے آزمائش کے وقت مریبہ میں کیاجن کی نسبت میں نے غصے میں قسم کھائی کہ وہ میری آرام گاہ میں داخل نہ ہوں گے۔(عبرانیوں۴: ۱) میں پولُس اس زمانے کے عبرانی لوگوں تاکیداً کہتا ہے کہ جب کہ اس کے آرام میں داخل ہونے کاوعدہ باقی ہے۔تو چاہیے کہ ہم ڈریں۔تا ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے کوئی پیچھے رہ جائے۔
(زبور۹۶)۔اس زبور کی تحریر اوّل(۱۔تواریخ ۱۶ باب) میں پائی جاتی ہے۔اور وہ اس موقعہ کی تحریر ہے کہ جب داؤد عہد کا صندوق عوبید ادوم کے گھر سے نکال کریروشلیم میں لے آیا۔سو ہم اس کو داؤد کا زبور کہیں گے۔بعض مفسرین کا یہ خیال ہے کہ یہ زبور اسیری کے بعد تصنیف ہوا۔اس کے چار حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔آیت(۱۔۳) میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ کی تعریف کل عالم پر ہر جگہ اور ہر وقت ہونی چاہیے۔اور اس کی بشارت بھی ضروری ٹھہرائی گئی ہے۔تیسری آیت میں مذکور ہے کہ اُمتوں کے درمیان اس کا جلال اورساری قوموں کے درمیان اس کی عجیب قدرتیں کرو۔
(حصہ دوئم)۔آیات(۴۔۶) میں بیان ہے کہ صرف یہوواہ ہی تعریف و ستائش کے لائق ہے۔کیونکہ اُمتوں کے سب معبود ہیچ ہیں۔مگر آسمانوں کو بنانے والاخُداوند ہے۔عظمت اور حشمت اس کے آگے ہیں۔اور توانائی اور جمال اس کے مقدس میں ہیں۔
(حصہ سوئم)۔آیات(۷۔۹) میں مصنف لوگوں کو تاکید کرتا ہے کہ خُداوند کو جانو۔اور کہتا ہے کہ اے لوگوں کے گھرانوں خُداوند کی حشمت اور قوت کو جانو۔اور اس کے نام کےلائق اس کی بزرگی کرو۔ہدیہ لاؤاور اس کی بارگاہوں میں آؤاور حسنِ تقدس کے سجدہ کرو۔
(حصہ چہارم)۔آیات(۱۰۔۱۳) میں مصنف چاہتا ہے کہ قوموں کے درمیان منادی کی جائےکہ یہوواہ سلطنت کرتا ہے۔اور اس سے جہان قائم ہے۔اور جنبش نہیں کھاتا۔اور کہ آسمان اور زمین پر کی کل موجودات خوشی کرے۔اور شادیانہ بجائےاور سمندر اور اس کی معموری بھی شورو غل کرے۔
(زبور۹۷)۔اس زبور کا مضمون یہ ہے کہ یہوواہ صداقت کے ساتھ عالمگیر بادشاہ ہے۔مصنف اس میں اپنی آرزو ظاہر کرتا ہےکہ چونکہ یہوواہ اپنی بادشاہت میں آیا ہوا ہے۔لوگ خوشی سے منادی کریں۔کہ یہوواہ بادشاہ ہے۔اس زبور میں چار حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔(۱۔۳) آیات میں مرقوم ہے کہ خُداوند سلطنت کرتا ہے کہ زمین خوشی کرے۔چھوٹے بڑے جزائر شاد ہوں وغیرہ۔
(حصہ دوئم)۔آیات(۴۔۶) میں اس کی حکومت کے نتائج بیان ہیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ آسمان اس کی صداقت کی منادی کرتے ہیں۔اور سب اُمتیں اس کاجلال دیکھتی ہیں۔
(حصہ سوئم)۔(۷۔۹) میں کہا گیا ہے کہ وہ سب جو بت پوجتے ہیں اور مورتوں پر پھولتے ہیں وہ شرمندہ ہوں۔ لکھا ہے کہ صیحون نے سنا اور مگن ہوا اور یہوداہ کی بٹیاں یہوواہ کی عدالتوں سے خوش وقت ہوئیں کیونکہ وہ سب معبودوں سے کہیں عالیٰ اور برتر ہے۔
(حصہ چہارم)۔(۱۰۔۱۲)میں راستبازوں کو نصیحت ہے کہ وہ بدی سے اجتناب کریں ۔اور مقدسوں کی جانوں کی نگہبانی کریں۔اور ان کوشریروں کے ہاتھوں سے چھڑائیں۔کیونکہ نُور صداقوں کے لیے بویا گیا ہے۔اور خوشی ان کے لیے جن کے دل سیدھے ہیں۔ آخر میں تاکید ہے کہ خُداوند میں خوش رہو۔اور اس کی قدوسی کو یاد کرکے خوشی کریں۔
(زبور۹۸)۔یہ زبور نمبر(۹۶) اور یسعیاہ نبی کی کتاب سے موافقت رکھتا ہے۔بعض گمان رکھتے ہیں کہ یہ زبور یسعیاہ کی کتاب میں منتخب کیا گیا ہے۔اور اس کے برعکس کہ یسعیاہ نے اپنی کتاب میں اس زبور میں سے انتخاب کیا ہوا ہے۔اس کا مضمون یہوواہ کی فتح مندی ہےجو نہ صرف یہودیوں سے بلکہ کل اُمتوں سے نسبت رکھتی ہے۔اس کے عنوان میں لفظ صرف مزمور ہی آیا ہے۔ اس کے دوحصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔آیات(۱۔۳) میں گانے والے طلب ہیں۔کہ خُداوند کا اس کے عجائبات کے سبب سے ایک نیا گیت گائیں۔ان عجائبات میں ذیل کی باتیں ہیں۔
(الف)۔ اس کے دہنے ہاتھ اور مقدس بازُو نے اس کو فتح بخشی ہے۔
(ب )۔ اس نے اپنی نجات ظاہر کی اور اپنی صداقت اُمتوں کو کھول کر دکھائی۔
(ج)۔ اس نے اسرائیل کے گھرانے کی نسبت اپنی رحمت اور امانت کو یاد فرمایا۔اور زمین کے سب کناروں نے ہمارے خُداوند کی نجات دیکھی۔
(حصہ دوئم)۔(۴۔۹) آیات میں زمین سمندراور ندیاں مدعو ہیں کہ خُداوند بادشاہ کے آگے خوشیاں منائیں۔کیونکہ وہ زمین کی عدالت کو آتا ہے۔وہ صداقت سے دُنیا کی اور راستی سے اُمتوں کی عدالت کرے گا۔
(زبور۹۹)۔یہ زبور شاہانہ زبوروں کے سلسلے کا آخری زبور ہے۔اس میں یہوواہ بادشاہ کی حیثیت میں پیش کیا گیاہے۔اور اس کی بڑی تعریف کی گئی ہے۔اس سلسلے کا پہلا زبور(۹۳) ہے۔جس میں اعلان کیا ہےکہ یہواہ سلطنت کرتا ہے کہ وہ شوکت کی خلعت (وہ پوشاک جو بادشاہ کی طرف سے بطور عزت افزائی ملے)پہنے ہے۔اور تخت قدیم تک مستحکم ہے۔(زبور ۹۴) اس سلسلے میں نہیں۔(زبور ۹۵) اس باد شاہ کی فضیلت اور فوقیت کو ان الفاظ میں ظاہرکرتا ہے۔یہوواہ بڑا بزرگ خُدا ہے۔اور عظیم الشان بادشاہ ہے۔جو سب معبودوں پر مقدم ہے۔(زبور۹۶) میں ایک فرمان ہے کہ قوموں کے درمیان کہو کہ یہوواہ سلطنت کرتا ہے۔اور اس سے جہان قائم ہے۔اور جنبش نہیں کھاتا۔وہ صداقت سے لوگوں کا انصاف کرے گا۔اگر یہوواہ کا تخت گرانا کہیں ممکن ہوتا تودُنیا دوزخ بن جاتی۔(زبور۹۷) میں بیان ہے کہ یہوواہ سلطنت کرتا ہے۔سو خوشی کرے۔اور خوردوکلان جزائر شاد ہوں۔(زبور ۹۸) میں آیا ہے کہ نرسنگے اور قرنائی پھونکتے ہوئے یہوواہ بادشاہ کے آگے خوشی سے للکاریں۔
(زبور ۹۹) میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ سلطنت کرتا ہے۔ اُمتیں کانپیں۔وہ کروبیم کے اوپر تخت نشین ہے۔سو زمین لرزے۔یہ سب زبور بتاتے ہیں کہ دُنیا میں ایک الہٰی حکومت قائم کی گئی ہے۔جس کے بغیر دُنیا مستقل نہیں رہ سکتی نیز ظاہر کرتے ہیں کہ زمین میں اطمینان سلسلے میں ہے۔کمال خوشی اور خُرمی موجود ہوگی بھی۔بعض مفسرین (زبور۱۰۰) بھی اسی سلسلے میں شامل کرتے ہیں۔اس سلسلے میں سات زبور ہیں۔جن میں سے ہر ایک ہفتے سات دنوں میں سے ایک دن استعمال ہوتا تھا۔سلسلے کے اختتام پر بزرگ مہیب اور عادل بادشاہ کی شکر گزاری ادا کی گئی ہے۔اس کی تفصیل اس طرح سے ہے۔آیت اوّل میں بتایا گیا ہے۔کہ
(1) یہوواہ سلطنت کرتا ہے۔سو اُمتیں کانپتی ہیں۔
(2) آیات (۲۔۴) میں اس تاکید کی وجوہات بیان ہیں۔اوّل یہ اس کانام بزرگ اور مہیب ہے۔دوئم اس کی توانائی عدل کو چاہتی ہے۔اور صداقت کو قائم کرتی ہے۔
(3) آیات(۵۔۹) میں تاکید ہے کہ تم یہوواہ ہمارے خُدا کو بزرگ جانوں اور اس کے پاؤں کی کرسی کے پاس سجدہ کرو۔اور ہمارا خُدا قدوس ہے۔
(زبور۱۰۰)۔یہ ایک شکر گزاری کا زبور ہے۔مفسرین کا فیصلہ ہے کہ یہ زبور شکرانے میں سب زبوروں سے اوّل اور برتر ہے۔اور چونکہ اس کا سراسر ایک ہی مضمون ہے۔کہ کُل زمین شکر گزاری کرے۔اس کی تقسیم نہیں کی گئی۔
اس کی پہلی دو آیات میں مصنف کی طرف سے کل سر زمین مدعو و مطلوب ہے۔کہ یہوواہ کےواسطے خوشی کا نعرہ ماریں۔خوشی سے اس کی تعریف کرے۔اور گاتی ہوئی اس کے حضور میں حاضر ہو۔
آیات(۳۔۵) میں مصنف اس نسبت کا جو ہمارے اور خُدا کے مابین ہے۔اور جس کی وجہ سےاس کی شکر گزاری ہم پر لازم ہے۔بیان کرتا ہے۔ کہ اور وہ یہ ہے کہ وہ ہمارا خلق کرنےوالا ہے۔اور اس کے لوگ اور اس کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں۔سو واجب اور لازم ہے کہ اس کے دروازوں میں اور حمد کرتے ہوئے اس کی بارگاہوں داخل ہوں۔اس کا احسان مانیں اور اس کے نام کو مبارک کہیں۔کیونکہ یہوواہ بھلا ہے۔اور اس کی رحمت ابدی ہے۔اور اس کی وفاداری پشت در پشت ہے۔
(زبور۱۰۱)۔سرنامے میں یہ زبور داؤد سے منسوب ہے۔اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے پیشتر کہ عہد کا صندوق عوبیدا دوم کے گھر سے نکالا یہ زبور تصنیف ہوا۔یہ زبور ایک شاہوار (بادشاہوں کے لائق،نہایت عمدہ نفیس چیز)آئینہ مانا گیا ہے۔جو کہ ایک عادل اور راست بادشاہ کی سیرت اور خوبیوں کا انکشاف کرتا ہے۔اس کی پہلی آیت شاہ کا میلان و رجحان خُدا کی طرف دکھایا گیا ہے۔اور اس میں وہ کہتا ہے کہ میں رحمت اور عدالت کےگیت گاؤں گا۔اور یہی باتیں جو سلاطین کی آراستگی کے لیے۔ضروری اورلازمی ہیں۔
آیات(۲۔۶) میں وہ اپنی نسبت ایک ارادے کوتصمیم (مضبوطی)دیتا ہے۔کہ میں کامل راہ میں دانش مندی سے چلو۔اور اپنے گھر میں کامل دل سے ٹہلتا پھروں گا۔اور یہوواہ کی حضوری اور بارگاہ عالیہ کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔کہ مَیں اپنی آنکھوں کے رو برو کوئی چیز نہ رکھوں گا۔اور کج رو لوگوں کےکام سے متنفر اور مجتنب رہوں گا۔یہاں تک سے کچھ ہرگز واسط یا تعلق نہ رکھوں گا۔اور شریر سےآشنائی نہ کروں گا۔
آیات(۵۔۸) میں وہ ندما اور صنا دید(بزرگ) مملکت کی نسبت کہتا ہے کہ میری آنکھیں ملک کے ایمانداروں پر ہیں۔کہ وہ میرے ساتھ رہیں کیونکہ وہ کامل راہ پر چلتا ہے وہ میری خدمت کرے گا۔لیکن دغا باز میرے گھر میں نہ رہنے پائے گا۔اور دروغ گو میری نظر تلے نہ ٹھہرے گا۔مَیں ملک سے سب شریروں کوسویرے (جلدی) ہی فنا کردوں گا۔اور خُداوند کے شہر سے سب بد کرداروں کوکاٹ ڈالوں گا۔
(زبور۱۰۲)۔ایک مصیبت زدہ کی بحالتِ مجبوری اپنی بد حالی خُداوند سے بیان کرتا ہے۔نماز ہے، گمان ہے کہ یہ زبور اس وقت تصنیف ہوا جب یہودیوں کی اسیری ختم ہونے والی تھی۔اس کی پہلی آیات میں نمازی اپناشخصی حال خُداوند سے بیان کرتا ہے۔اور عرض کرتا ہے کہ خُدا اس کی سنے اور کہتا ہے کہ اے خُدا اپنا منہ مجھ سے نہ چھپاکہ میرا دِل کھیتی کی مانند مارا پڑا ہے۔اور وہ سوکھ گیا ہے۔مَیں روٹی کھانا بھی بھول جاتا ہوں۔بلکہ مَیں روٹی کی جگہ خاک پھانکتا ہوں اور اپنے پانی میں آنسوں ملاتا ہوں ۔تیرے غضب اور قہر کے سبب سے تونے مجھ کوبرپا کیا اور پھر گرا دیا۔گیارہویں آیت کے آخری حصے میں اوردیگر آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فریاد قومی اور یہ نماز اسیروں کی ہے۔
آیات(۱۲۔۲۲) میں خُداوند کی برقراری کی تعریف کو تُو اٹھے گا۔اور صیحون پر رحمت کرےگاکہ اس پر رحمت کرنے کاوقت ہے۔ہاں اس پر رحمت کرنے کا وقت آچکا ہے۔اس نےا پنے مقدس مسکن پر سے نگاہ کی خُداوند خُدا نے آسمان پر سے زمین پر نظر کی کہ قیدی کاکراہنا سنے۔ آیات(۲۳۔۲۸) میں نمازی کہتا ہے کہ راہ میں اس نے زور گھٹا دیا۔اور میری عمر کو کوتاہ کیا۔تب مَیں نے کہا اے میرے خُدا میری نیم گزشتہ عمر میں مجھ کو نہ اٹھا لے۔جب کہ تیرے برس پشت در پشت ہیں۔
اسرائیل کی قومی زندگی(۴۹۰) سال تھی۔اور اسیری کے وقت سےرہائی پانے کے وقت(۴۹۰) سال اور بڑھائی گئی تھی۔تاکہ وہ اپنے آپ کو آراستہ کریں اور اپنی اصلاح کریں۔
آخر میں پھر خُداوند کی تعریف ہے۔تُونے قدیم سے زمین کی بنیاد ڈالی۔آسمان پر بھی تیرے ہاتھ کی صنعتیں ہیں۔وہ نیست ہو جائیں گے۔پھر تو باقی رہے گا۔ہاںوہ سب پوشاک کی مانند پرانے ہو جائیں گے۔پر خُداتو وہی ہے۔اور تیرے برسوں کی انتہا نہ ہو گی۔تیرے بندوں کے فرزند بسے رہیں گے۔اور ان کی نسل تیرے حضور قائم رہے گی۔
(زبور۱۰۳)۔یہ داؤد کا زبور ہے۔اس میں تین حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔آیات(۱۔۵) میں تمہید ہے۔جس میں مصنف خُدا وند کی خاص رحمتوں پر غور کرکے اپنے میں احسان مند پیدا کرتا ہے۔چنانچہ (۱۔۲) آیات میں وہ کہتا ہے کہ میری جان اور سب جو مجھ میں ہے وہ سب خُداوند کے قدوس نام کومبارک کہہ اور اس کی نعمتوں کو فراموش نہ کر۔آیات(۳۔۵) میں ان نعمتوں کی ا یک تفصیل ہے۔
(حصہ دوئم)۔آیات(۶۔۱۸) میں یہوواہ کی صداقت، انصاف اور رحمت کی تعریف کی گئی ہے۔مصنف اعتراف کرتا ہے کہ اس نے ہم سے نیک سلوک کیا ہے۔کہ اس ہمارے گناہوں کےموافق ہم سے سلوک نہیں کیا۔اورہماری بدکاریوں کے مطابق ہمیں بدلہ نہیں دیا۔بلکہ جس طرح کہ آسمان زمین کے اوپر بلند ہے۔خُداوندکی رحمت ان پر پڑی جو اس سے ڈرتے ہیں۔اور جس طرح باپ بیٹوں پر ترس کھاتا ہے۔اسی طرح خُداوند ان پر جو اس ڈرتے ہیں ترس کھاتا۔اس شرط پر کہ وہ اس کے عہد کو حفظ (زبانی یاد)کریں۔اوراس کے احکام یاد کرکے ان پر عمل پیرا ہوں۔
(حصہ سوئم)۔آیات(۱۹۔۲۲) میں مصنف یہوواہ کی بادشاہت پر اپنی کمال خوشی ظاہر کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ یہوواہ نے آسمانوں پر اپنا تخت قائم کیا ہے۔اور اس کی بادشاہت سب پر مسلط ہے۔اور سب فرشتگان اور ان کو جو کہ زور میں سبقت لے جاتے ہیں اور اپنے لشکر اور خدمت گزاروں کوکہتا ہے کہ اس کو مبارک کہواور آخر میں اپنی خودکلامی کرتا ہواخود کو مشورہ دیتا ہے کہ کہ تو بھی یہوواہ کومبارک کہہ۔
(زبور۱۰۴)۔بانر صاحب کہتا ہے کہ
’’اس زبور کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ زمین کی پیدئش اور اس کی ساری تازگی اور بحالی سے یہوواہ کا جلال ظاہر ہوتا ہے‘‘۔
جان کیلون صاحب کہتا ہے کہ
’’یہ زبور یہوواہ کی خاص برکات اور روحانی زندگی کی طرف کلیسیا کا خیال نہیں لگاتا۔بلکہ یہوواہ کی بے پایا دانائی،قدرت اور خیر اندیشی کو ظاہر کرتا ہے۔کہ وہ قدرت کی خوش نمائی سے انسان کی زندگی کوخوشی اور خُرمی سے بھرپور کرتا ہے۔اس میں تین خاص باتیں ہیں۔
اوّل۔ فطرت کی بحالی اور یہوواہ کی موجودگی اور اس کی قدرت کے ظہور کی محتاج ہے۔
دوئم۔ یہوواہ بحیثیت پیدا کنندہ ہمیشہ مصروف لگا رہتا ہے۔وہ اپنے کام میں کبھی سستی، کوتاہی یا التوا نہیں کرتا۔بلکہ انتظام میں مصروف رہتا ہےتاکہ کل کام با رونق رہے اور اس کو جنبش نہ ہو۔
سوئم۔ پیدائش کی کتاب سےکیفیت تخلیق عیاں ہے۔اور اس زبور میں پیدائش کی نسبت یہوواہ کی خیر اندیشی ہے۔اور اس کے بارونق رہنے اور تازگی پانے کا ذکر ہے۔جس کے لیے کل مخلوقات کوہمیشہ اس کی ستائش کرنی لازم وملزوم ہے۔اس زبور کی کوئی خاص تقسیم نہیں۔مصنف اس کی اوّل آیت میں اپنی جان کو اُکساتا ہے۔کہ یہوواہ کو مبارک کہہ وہ میرا خُدا ہےاور وہ نہایت ہی بزرگ ہےاور حشمت اور جلال کا لباس پہنے ہے‘‘۔
آیات(۲۔۴) میں یہوواہ نور میں ملبوس نظر آتا ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ سب سے پہلے اس نے روشنی بنائی۔
آیات(۵۔۹) میں وہ زمین اور پانی کو ایک دوسرے سے جُدا کرتا ہے۔
آیات(۱۰۔۱۸) میں بیان ہے کہ یہوواہ چشموں کو جاری کرکےان میں ندیاں رواں کرتا ہے۔جو پہاڑوں میں بہتی ہیں۔ تاکہ وہ میدان کے چوپائیوں کو پانی دیں۔اور درختوں کو اُگائیں،کہ پرندے ان پر بسیرا کریں۔اور نغمہ خانی سے انسان کو خوش اور مسرور کریں۔یہوواہ پہاڑوں کو سیراب کرتاہے۔کہ یہ زمین سے آسودہ ہوں۔چوپائیوں کےلیے گھاس اور انسان کے سبزی اُگائے۔اس نے اونچے پہاڑو ں بکروں اور چٹانوں کو جنگلی خرگوشوں کے لیے بنایا۔
آیات(۱۹۔۲۴) میں چاند و سورج کا ذکر ہے۔کہ یہوواہ نے متعدد اوقات کے لیے بنایا ہے۔یہاں تک کہ آفتاب اپنے غروب کی جگہ جانتا ہے۔وہ اندھیرا کرتا ہے تو رات ہو جاتی ہے۔اور سب جنگلی حیوان سیر کرتے ہیں۔جب کل بنی نو آدم اپنے گھروں میں ان سے محفوظ رہتے ہیں۔وہ آفتاب کے طلوع پر جمع ہوتے اور اوراپنی ماندوں میں چھپ جاتے ہیں۔لیٹ رہتے ہیں۔اور انسان سے امن اور محفوظ رہتے ہیں۔
آیات(۲۵۔۳۱) میں سمندر اور اس میں رہنےوالوں کاذکر ہے۔اس میں بے شمار چھوٹے بڑے جانور رہتے ہیں۔اس پر جہاز بھی رواں ہیں۔ سمندر کےسب جانداریہوواہ کی طرف اپنی نظر اٹھاتے ہیں۔اور ان کو وقت پر خوراک بہم پہنچاتا ہے۔اس جگہ مصنف یہوواہ سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تو جب منہ پھیر لیتا ہے کہ وہ حیران ہوتے ہیں۔اور جب تو ان کا دم واپس پھیر لیتا ہے تو وہ مر جاتے اور اپنی مٹی میں مل جاتے ہیں۔خُداوند کاجلال ابدی ہے۔اور خُداوند صنعتوں سے خوش ہے۔
آیات(۳۲۔۳۵) میں وہ بیان کرتا ہے کہ یہوواہ زمین پر نگاہ کرتا ہے۔وہ سراسر کانپ جاتی ہے۔یعنی متزلزل ہوتی ہے۔وہ پہاڑوں کو چھوتا ہے اوران سے دھواں اٹھتا ہے۔یعنی کہ آتش فشاں پہاڑوں کو بناتا ہے۔آخر میں مصنف کہتا ہے کہ جب تک مَیں زندہ رہوں گا۔خُداوند کے گیت گیت گاؤں گا۔اور ایک خواہش ظاہر کرتا ہے کہ گنہگار زمین پر سے فنا ہوں۔اور شریر بھی باقی رہیں۔اس کے بعد مصنف اپنی جان سے یوں سخن طرازی (شاعری)کرتا ہے۔کہ اے میری جان خُداوند کو مبارک کہہ اور اس کی ستائش کر ہیلیلویاہ۔ یہ لفظ اس زبور میں اوّل دفعہ مشتمل ہے۔اور یہ (زبور۱۰۵) کے اختتام پر آیا ہے۔
(زبور۱۰۵)۔اس کا مضمون (زبور۷۸، ۱۰۶) کی طرح ہے۔بنی اسرائیل کی قومیت کےشروع میں یہوواہ کے عجیب کاموں کا ذکر ہے۔لیکن اس کا مقصد ان کے مقاصد سے مختلف اور متفرق ہے۔زبور ایک تعلیمی مقصد رکھتا ہے۔(زبور۱۰۶) اسرائیل کے توبہ آمیزاقرار کا بیان کرتاہے۔ لیکن (زبور۱۰۵) کی(۱۔۱۵)، (۱۔تواریخ ۱۶: ۸۔۲۲) کا انتخاب یہ وہ باتیں ہیں۔جو داؤد نے آسف کو اس وقت کہیں جب عہد کا صندوق یروشلیم میں پہنچایا گیا۔چنانچہ یہ سب سے اوّل زبور ہے۔جو یہوواہ کی شکر گزاری سے ہوتا۔ اور ظاہرکرتا ہےکہ یہوواہ کا شاہی فضل سب پرہے۔جس کو وہ چاہتا ہے برگزیدہ کرتا ہے۔اور جسے چاہتا ہے چھوڑتا اور رد کردیتا ہے۔یہ دونوں کام اس کے فضل کا ظہور ہے۔
تواریخی زبور میں یہوواہ اپنی محبت اور فضل بنی اسرائیل کے سب واقعات میں ظاہر کرتا ہے۔اس زبور کے چھ حصے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔(۱۔۲) آیات میں تمہید ہے اور اس میں مصنف ابراہیم کی نسل اور یعقوب کو تاکید کرتا ہےکہ یہوواہ کا شکر کریں۔اور لوگوں کےد رمیان چرچا کریں۔اس کی کارگزاری کا بیان کریں اور اس کے مقدس نام پر فخر کریں۔
(حصہ دوئم)۔(۷۔۱۱) آیات میں ظاہر کیا گیا ہے۔یہوواہ نے اب تک اپنے عہد کو یعنی اس سخن کو جو اس نے ہزار پشتوں کے لیے فرمایا ہےیاد رکھا۔اور اس نے یعقوب کے لیے ایک شریعت اور اسرائیل کے لیے ایک ابدی عہد ٹھہرایا۔اور وعدہ کیاکہ مَیں ملکِ کنعان کی سرزمین تجھ کو دیتا ہوں۔ یہ تیرا موروثی حصہ ہے۔
(حصہ سوئم)۔(۱۲۔۱۵) آیات میں دکھایا گیا ہے کہ یہوواہ نے بنی اسرائیل پر اس سے پیشتر کہ وہ قوم بنے وہ نہایت ہی کمزور چھوٹااور کم سن تھا۔اس پر فضل کیا اور اس کو سنبھالا اور اس کے ساتھ ملکِ کنعان کا وعدہ فرمایا۔
(حصہ چہارم)۔(۱۶۔۲۴) آیات میں مصنف یوسف کا حال بیان کرکے دکھاتا ہےکہ یہوواہ نے اس پر کس قدر فضل کیا۔
(حصہ پنجم)۔(۲۵۔۳۶) آیات میں بنی اسرائیل کی غلامی اور ان کے ساتھ یہوواہ کے عجیب کام اور اس کا فضل و کرم دکھایا گیاہے۔
(حصہ ششم)۔(۳۷۔۴۵) آیات میں مصنف بنی اسرائیل کی رہائی کی تعریف کرتا اور کہتا ہے کہ وہ خود کو خوشی کے ساتھ اور اپنے برگزیدوں کو شادیانے کے ساتھ نکال لایا ۔اور انہیں قوموں کی زمین دیتاکہ وہ اس کے حقوق کو حفظ کریں۔اور اس کی شرطوں کو یاد رکھیں۔اس کے اختتام پر لفظ ہالیلویاہ ہے۔
(زبور۱۰۶)۔ یہ زبور ہالیلویاہ زبوروں کے سلسلے کا اوّل زبور ہے۔اس سلسلے میں کل گیاراں(۱۱) یعنی زبور(۱۰۶، ۱۱۱، ۱۱۲، ۱۱۳، ۱۱۷، ۱۳۵، ۱۴۶، ۱۴۷، ۱۴۸، ۱۴۹، ۱۵۰) زبور ہیں۔
اس میں بھی اسرائیل کی تاریخ ملتی ہے۔اور ان کی گردن کشی ،گناہ آلودگی، ناشکر گزاری تنبیہ اور سرزنس اور آخرکار ان کی اسیری کا ذکر بڑی خصوصیت سے ملتا ہے۔اور اس کے سا تھ ان کی توبہ تائب بھی ہے۔وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے گناہوں ہی کی وجہ سےوہ اس ابتر حالت کو پہنچے۔
اس زبور کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ یہوواہ کی عجیب برداشت اس کے جلال کے باعث ہے۔چنانچہ آیت اوّل میں جوکہ تمہیدی ہے۔یہوواہ کی تعریف ہے۔کہ وہ بھلا ہے ۔اس کے مطلع میں لفظ ہیلیلویاہ ہے۔جس کے معنی ہیں کہ ''یہوواہ کی ستائش کرو''۔چوتھی اور پانچویں آیت میں مصنف عرض کرتا ہے کہ یہوواہ تیری خاص مہربانی مجھ پر ہو۔تاکہ مَیں تیرے برگزیدہ لوگوں کی بھلائی دیکھوں۔اور تیری قوم کی خوش وقتی سے خوش ہوں۔ اور تیری میراث پے فخر کروں۔
آیات(۶۔۳۳) میں مصنف بنی اسرائیل کا گناہ ،شرارت، گردن کشی اور نادانی کا بیان کرتا اور کہتا ہے کہ ہمارے باپ دادا ملکِ مصر میں عجیب قدرتوں کو نہ سمجھےانہوں نے تیری رحمتوں کی کثرت کو یاد نہ کیا۔بلکہ دریائے یردن اور دریائے قلزم پر بغاوت کی لیکن یہوواہ نے اپنے نام کے لیے انہیں بچایا۔تاکہ اپنی قدرت ظاہرکرے تب وہ انہیں دریائے قلزم عبور کرنے اور مصریوں کی ہلاکت اور ان کے جنگل میں حرص کرنے اور خیمہ گاہ میں موسیٰ اور یہوواہ کے مقدس مرد ہارون پر حسد کرنے اور حوریب میں بچھڑا بنانے، نجات دینے والے خُدا خُدا کو بھلادینے اور موسیٰ کی سفارش اور ان سب کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا۔لکھا ہے کہ اُنہوں نے اس دل پذیر کی تحقیر کی اور یہوواہ نے ان کے درمیان وباہ بھیجی ۔اور اُنہوں نے موسیٰ کو مریبہ کے پانیوں پر غصہ دلایا۔اور موسیٰ ان کی وجہ سے گنہگار ٹھہرا۔کیونکہ اُنہوں نے اس کی روح کو دق کیا۔ایسا کہ وہ اپنے لبوں سے نامناسب بولا۔
آیات(۲۴۔۴۴) میں ذکر ہے کہ جب وہ ملکِ کنعان میں پہنچے تواُنہوں نے ان اقوام کو جن کی بابت خُدا نے ان کو حکم دیا تھا کہ ان کو بلکل خارج کردو انہوں نے نہ مارا بلکہ غیر اُمتوں سے میل کیا۔اور ان کے کام سیکھے۔اور ان کے بتوں کی پرستش کی اور اپنے بیٹے اور بیٹیاں شیطان کے لیے قربان کیے۔ تب خُدا نے اپنے غصے میں ان کو غیر اقوام کے قبضے میں کردیا۔اور وہ مغلوب وزیرودست ہو کران کے مطیع و تابع ہوئے۔لیکن خُداوند نے رحم کرکے اُن کو دُشمنوں کے ہاتھوں سے چھڑایا اور ان کا ایسا انتظام کیا کہ انہوں جو ان کو اسیر کرکے لے گئے تھےان پر ترس کھایا اور ان سے نیک برتاؤ کیے۔سومصنف آخری آیت میں کہتا ہے کہ خُداوند اسرائیل کا خُداابد تک مبارک ہو۔ اس پر سب لوگ ایک زبان ہو کر بولے کہ آمین۔ ہیلیلویاہ۔ زبور کی چوتھی کتاب ختم ہوئی۔
کتاب پنجم
(زبور۱۰۷۔۱۵۰)
سوال۔ 19:۔زبور کی پانچویں کی کیفیت بیان کریں۔
جواب:۔پانچویں کتاب میں(۴۴) یعنی(۱۰۷۔۱۵۰) زبور ہیں۔جن میں(۲۸) گمنام یعنی محروم المصنف ہیں۔(۱۵) داؤد کے اور سلیمان کا ہے۔ یہ کتاب غالباً عزرا فقیہ کے ہاتھ سے اسیری کے بعد تالیف ہوئی اورکئی ایک ہیلیلویاہ سے ختم ہوئی ہے۔
سوال۔20:۔اس کتاب کے زبوروں کی تفصیل کریں۔
جواب :۔(زبور۱۰۷)۔ بعض مفسرین اس کو تواریخی (زبور۱۰۶) کا جواب مانتے ہیں لیکن وہ حیران ہیں کہ یہ زبور پانچویں کتاب میں ہے۔اور بعض کہتے ہیں یہ زبور تواریخی نہیں ہے۔بلکہ کئی ایک ایسے واقعات پیش کرتا ہے کہ جو کہ عملی طور پرصریحاً اور ظاہری طور پرانسانی زندگی میں اکثر آتے ہیں۔اس کاخاص مقصد یہ بتانا ہے کہ یہوواہ دُعا کا جواب دیتا ہے۔اوّل اس سبب سے کہ لوگ یعنی اس کے لوگ تنگی میں اس کو پکارتے ہیں ۔
اور دوئم اس سبب سے کہ وہ بھلا ہے۔اس کی رحمت بدی ہے ۔اور اس کی نگاہ ہمیشہ انسان پر لگی ہے۔اور اس سبب سے بھی بنی آدم برکاتِ جسمانی کے لیے اس سےعرض کرسکتے ہیں کہ اور وہ عرضوں کا جواب بھی ضرور دیتا ہے۔ان تمام باتوں کی بنا پراس کی شکر گزاری کی جائے ۔
اس زبور میں تمہید کے علاوہ(۶) خاص حصے بھی ہیں۔جن میں سے ہر ایک حصہ ایک خاص واقعہ پیش کرتا ہے۔اس کی تمہید پہلی تین آیات میں ہے۔جن میں مصنف رہائی یافتہ لوگوں سے شکرگزاری لازمی بتاتا ہے۔
ان چھ حصوں میں ہر دوحصوں کے مابین الفاظ ستائش کریں آتے ہیں۔اور ایک دوسرے سےجُدا کرتے ہیں۔
(حصہ اوّل)۔(۴۔۹) آیات ان لوگوں کاذکر ہے جو کہ بیابان میں بھٹکتے پھرتے تھے۔اور جب بھوک اور پیاس سے تنگ آ کراُنہوں نے خُداوند کو پکارا تواس نے انہیں رہائی بخشی۔
(حصہ دوئم)۔(۱۰۔۱۶) آیات میں دکھایا گیا ہے کہ ان کو جو تاریکی اور موت کے سایہ کی وادی میں بیٹھے تھے۔اور مصیبت اور لوہے سےجکڑے ہوئے تھے۔رہائی ملی۔چونکہ ان لوگوں کوخُدا کے حکام سے بغاوت کی۔اور حق تعالیٰ کی مصلحت(بھلائی) کی تحقیر کی۔اس نے ان کے دلوں کو مشقت سے عاجز کیا۔اور وہ گر پڑےاور ان کا کوئی مدد گار نہیں تھا۔ایسی حالت میں جب اُنہوں نے خُداوند کو پکارا تواس نے ان کو تمام مصائب رہائی بخشی۔
(حصہ سوئم)۔(۱۷۔۲۷) آیات میں ایک بڑی حوصلہ افزادِل پسند بات ہے۔کہ اگر کوئی اپنی کجروی ،بد چال او ر بد کرداریوں کے سبب مصیبت میں مبتلا ہوجائے ۔یہاں تک کہ موت کے دروازوں کے نزدیک پہنچ جائے تو بھی اگر ایسی حالت میں وہ دُعا کرے تو خُداوند اپنا کلام بھیجتااور خلاصی بخشتا ہے۔
(حصہ چہار م)۔آیات(۲۳۔۳۲) میں ان لوگوں کا بیان ہے۔جو کہ جہازوں میں سمندر کی سیر کرتے ہیں کہ جب طوفانی ہوا اٹھتی ہے۔اور ان کی جانیں پریشان ہوتی اور پگل جاتی ہیں۔لیکن جب وہ یہوواہ کو پکارتے ہیں تو وہ ان کو خلاصی بخشتا ہے۔ان کے واسطےمناسب ہے کہ جب وہ آبادی میں سلا متی سے جائیں تو لوگوں کے مجمع میں ایسے واقعات اور غائبانہ ہاتھ سے اپنے بچنے کا چرچا کریں اور یہوواہ کی ستائش شخصی طور پر اور بزرگوں کی جماعت میں بھی کریں۔
(حصہ پنجم)۔(۳۳۔۴۱) آیات میں بیان ہوا ہے کہ یہوواہ نہروں کو صحرا اور پانی کے چشموں کو سوکھی زمین کردیتا ہے۔اور جید زمین کو شوربنا دیتا ہے۔اور یہ ان کی جو وہاں بستے ہیں۔شرارت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ساتھ اس کے اس کا رحم بھی بے پایاں ہے۔کہ بیابان کو جھیل اور خشک زمین کو چشمہ بناتا ہے۔اور اسی جگہ بھوکوں کو بساتا ہےکہ وہ اپنے رہنے واسطے شہر تیار کریں۔
آیات(۴۰۔۴۱) میں کہ وہ انسان کی حیثیت و قدر میں بھی تمیز و تفریق کرتا ہے۔یعنی کہ وہ امیروں کو ذلیل اور رسوا کرتا اور خاک ساروں کو ان کی عاجزی میں سے اٹھا کرتا ہے۔اور ان سب باتوں سے خُداوند کا انتظام ظاہر ہوتا ہے۔اور یہ انسان سے خُداوند کی شکر گزاری طلب کرتا ہے۔
(حصہ ششم)۔آیات(۴۲۔۴۳) سے مصنف دکھاتا ہے کہ متذکرہ تصدرباتوں کا نتیجہ صادقوں اور بد کرداروں پر کیاہوتاہےوہ کہتا ہے کہ صادق مسرور ہوں گے۔لیکن بدکاروں کا منہ بند ہوجائے گا۔دانا دل اور صاحبِ تمیز ان باتوں پر غور وفکرکرکے خُداوند کی رحمتوں پر خوب سمجھ سکتا ہے۔
(زبور۱۰۸)۔ یہ ایک انتحابی زبور ہے۔اس کی پانچ آیات (زبور۵۷: ۷۔۱۱) کا اور( زبور۱۰۸: ۶۔۱۳) اور( زبور۶۰: ۵۔۱۲) کا تخاطب ہیں۔اس کے سرمانے(حیران ہونے ) سے ظاہر ہے کہ یہ داؤد کا گیت اور زبور ہے۔لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ کیوں تین زبوروں سے انتخاب کیا ہوا ہے۔اس کا مقصد یہوواہ کی عظیم رحمتوں اور امانتداری کے واسطے اس کی تعریف اور ستائش کرنا ہےچونکہ اس کی تفصیل ۵۷ اور ۶۰ زبوروں حصہ بحصہ ہو چکی ہیں۔ اس پر جگہ علیحدہ غور کرناچنداں ضروری نہیں ۔
(زبور۱۰۹)۔سردار مغنی کے لیے داؤد کا زبور۔ اس زبور سے ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے۔جو کہ چار یعنی( ۱۰۹ سے ۱۱۲)زبوروں پر مشتمل ہے۔اس کل سلسلے میں مسیح ۔پیش ہوا ہے۔اس زبور میں اس کی اذیت کا ذکر ہے۔قدیم آبا نے اس کا سکریوتی کا زبور رکاتھا۔کیونکہ پطرس نے (اعمال ۱ : ۱۶ سے ۲۰ )میں اس کو یہوداہ اسکریوتی سے منسوب کیا گیا ہے۔اگر ہم یہودیوں کی علامت سمجھ سکیں تویہ بھی صفائی کے ساتھ سمجھ میں آ جائے گا۔کہ وہ فتویٰ جو اس پرجو مسیح کے کام کو روکنا اور اسے تخت سے گراناچاہتا تھا۔لگایا گیا۔یہودیوں کی قوم پر مجموعی طور پر عائد ہوتا اس زبور کا نقشہ اس طرح ہے ۔کہ( آیات ۱سے ۵) مسیح اس شخص کی مانند بولتا ہے کہ جو دشمنوں سے مسحور(جس پر جادو کیا جائے) ہو۔ (آیات ۶ سے ۲۰ ) میں ایسی حالت میں اس کی نظر دشمنوں پر پڑتی ہے۔اور وہ اس پر فتویٰ دیتا ہے کہ جو فتویٰ یہوداہ اسکریوتی پر لگایا تھا۔عین اس فتویٰ کی مانند ہے۔جو کہ ا س باپ کی طرف سے ہوچکا۔کہ لختِ جگر تیس روپے پر فروخت ہوجائے۔
یہ زبور لعنت کناں زبوروں میں شامل ہے کہ ایسا معلوم دیتا ہے کہ اس کی اٹھاریں آیت ایک بے وفا بیوی کی اشارہ کرتی ہے۔جس کا ذکر (گنتی ۵باب ۲۱ سے ۲۴ )آیات اس طرح ہوا کہ وہ لعنت اس کی انتڑیوں میں دخل پا کر اس کو پٹا دیتی ہے۔نیز( متی ۲۶ با ب ۲۴ آیت) پر دلالت کرتا ہے۔جس میں مسطور ہے کہ ''افسوس ہے اس پر جس کی وجہ سے بنی آدم گرفتار کرایا جاتا ہے۔اگروہ شخص پیدا ہی نہ ہوتا تو اس کے لیے یہ اچھا تھا'' زبور دراصل راستی کی اس وقت کی جب کہ وہ راستی سرسے تنگ آتی ہے۔اوراس پر فتویٰ لگاتی ہے فریاد ہے۔یہ زبور مسیحا کی دعائیں اور شکر گزاری ہے۔اس بات پر کہ یہوداہ اسکریوتی اور اس کے ہم جنس آدمیوں کی عدالت کی گئی ہے۔اور کی جارہی ہے۔
(زبور۱۱۰)۔یہ داؤد کا زبور ہے۔اس میں داؤد مسیح کو خُدا کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہوا دکھاتا ہے۔جو کہ اس بات کا منتظر ہے کہ کب اس کے کل دشمن اس کے پاؤں کی چوکی بن جائیں۔خُداوند مسیح نے خود جب فریسی جمع تھے۔یہ زبور استعمال کیا۔جب اس نے اس سے استفسار(بات چیت) کیا۔کہ مسیح کے حق میں تمہارا کیا خیال ہے؟وہ کس کابیٹا ہے؟ تو وہ بولے کہ داؤد کااس پر مسیح نے فرمایا کہ پھر داؤد روح کی ہدایت سے کیوں اسے خداوند کہتا ہے؟جب وہ کہتا ہے کہ خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا کہ میری دہنی طرف بیٹھ جب تک میں تیرے دشمنوں کوتیرے پاؤں کی چوکی نہ بناؤں ۔سو پس جب داؤد اسے خُداوند کہتا ہے تو وہ اس کا بیٹا کیونکر ٹھہرا''۔دیکھو (متی ۲۲ باب ۴۱ سے ۴۵ آیت اور مرقس ۱۵ باب ۳۵ سے ۳۷ آیت پولوس نے (عبرانیوں ۱ باب ۱۳ آیت) میں اسی زبور سے اقتباس لیا۔اور مسیح کو فرشتوں پر فوقیت دی۔اور ان سے بزرگ تر ٹھہرایا۔نیز جب پطرس نے (اعما ل ۲ باب ۲۴ آیت )میں مسیح کو خُداوند ثابت کرنا چاہا تو اس زبور کی آیات اول کو لیا۔جس میں لکھا ہےکہ ''خُداوند نے میرے خُداوند سے کہا کہ تو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ''۔پھر جب پولوس (عبرانیوں کے نام ۱۰ باب اس کی ۱۲ سے ۱۳ )آیات میں ظاہر کرتا ہے کہ مسیح نے اپنے کام کو بوجہ احسن انجام دیاوہ کہتا ہے کہ وہ یعنی مسیح خُدا کے دہنے جا بیٹھا۔اور اس وقت سے منتظر ہے کہ اس کے دشمن اس کے پاؤں کی چوکی بنیں۔اس کی تفصیل آیت بہ آیت کریں گے۔
پہلی آیت سے یہوواہ کی طرف سے مسیح کی سرفرازی کی جاتی ہے۔کہ وہ خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھے ۔دوسری آیت میں یہوواہ اس سے وعدہ فرماتا ہے کہ اس کے سب دشمن اس کے تابع فرمان کیے جائیں گے۔تیسری آیت میں مسیح کو ایک وعدہ ملتا ہے۔کہ اس کے لوگ بے شمار ہوں گے۔ اور اس کے روز حسنِ تقدس کے ساتھ آپ سے مستعد ہوں گے۔چوتھی میں لکھا ہے کہ وہ ملک صدق کے طور پر ابد تک کاہن ہے۔
آیات(۵۔۶ اور۷) میں عدالت دکھائی گئی ہے۔جس میں مسیح کی کامیابی از خود نظر آرہی ہے۔
(زبور۱۱۱)۔ (زبور۱۱۱ ، ۱۱۲ )حروف تہجی کے زبور ہیں۔اور ترکیب میں یکساں ہیں۔حروف تہجی کے لحاظ سے ان کا ہر ایک شعر بلکہ ہر ایک مصرع ترتیب وار حروف تہجی سے شروع ہوتا ہے۔عبرانی حروف تہجی کے لحاظ ان میں بائیس بائیس اشعار ہیں۔یہ دونوں ہالیلویاہ کے زبور ہیں۔
آیات( ۱سے ۸ )میں ہر ایک شعر کے دو مصرے ہیں۔اور آیات( ۹ تا۱۰ )میں ہر ایک شعر تین تین مصروں کا ہے۔(زبور ۱۱۱ ) میں خُداوند کی صفاتِ عالیہ اور اس کے کل کام کی تعریف ہے۔اور (زبور ۱۱۲) میں اس کے لوگو ں کی تعریف ہے اور بیان ہے کہ وہ کئی ایک باتیں خُدا کے مشابہ ہیں۔مثلاً( زبور ۱۱۱ : ۳) میں لکھا ہے کہ اس کا کام جاہ و جلال ہے۔اور اس کی صداقت ابد تک قائم ہے۔اس طرح (زبور ۱۱۲ : ۳) میں بھی آیا ہے کہ ان کے گھروں میں مال و دولت ہو گی۔اور ان کی صداقت ابد تک قائم ہے۔(زبور ۱۱۱ : ۱)میں یہواہ کی تعریف کرنے کی جگہ بتائی گئی ہے۔کہ اس کی تعریف صادقوں کی محفل میں ہونی چاہیئے۔(زبور۱۱۱: ۲)میں اس کا مضمون یہ ہے کہ یہواہ کے کام بڑے اور عظمت والے ہیں۔اور وہ جو ان کا اشتیاق رکھتے ہیں۔ان کی تفتیش کرتےہیں۔( زبور ۱۱۱ : ۳۔۹) میں یہواہ کے عجیب عجیب کاموں کی تفصیل کی گئی ہے۔( زبور ۱۱۱ : ۴) میں لکھا ہے کہ اس نے اپنے عجیب کاموں کی یاد گاری رکھی۔وہ رحیم اور مہربان ہے۔(زبور۱۱۱: ۵) میں آیا ہے کہ وہ اپنے ڈرنے والوں کو کھانا دیتا ہے۔اور اپنے عہد کو ابد تک یاد رکھتا ہے۔(زبور۱۱۱: ۶) میں لکھا ہے کہ اس نے کاموں کا زور اپنے لوگوں کو دکھایا کہ انہیں قوموں کی میراث بخشے۔(زبور۱۱۱: ۷) بتاتی ہے کہ اس کے ہاتھ کے کام حق اور عدالت اور اس کے کل احکام یقینی ہیں۔
(زبور۱۱۱: ۸) میں بیان ہے کہ اس کے احکام ابد تک قائم رہتے ہیں۔اور(زبور۱۱۱: ۹) میں آیا ہے کہ اس نے اپنےلوگوں کےواسطے مخلصی بھیجی ہے۔اوراس کا نام قدوس و مہیب(زبور۱۱۱: ۱۰) میں مصنف کہتا ہے کہ خُداوند کا خوف دانائی کا شروع ہے۔(ایوب ۲۸: ۲۸ ، امثال ۱: ۷)۔ اس زبور میں یہ نادر حقیقت ہے کہ خُداوند کا خوف دانائی کا شروع ہےصادقوں کی محفل میں گایا جاتاہے۔
(زبور۱۱۲)۔ اس میں یہواہ کے لوگوں کی تعریف ہے۔اور یہ بھی ہالیلویاہ کا زبور ہے۔یہ زبور اصل میں(زبور۱۱۱: ۱۰) کی کہ خُداوند کا خوف دانائی کا شروع ہے۔چنانچہ پہلی آیت میں آیا ہے کہ وہ آدمی جو کہ خُداوند سے خوف رکھتاہے۔اور اس کے فرمان سے نہایت مسرور ہے۔مبارک ہے۔اور نہ صرف وہ ہی بلکہ اس کی نسل بھی اس مبارک بادی میں شامل اور حصہ دار ہے۔اس واسے دوسری آیت میں لکھا ہے کہ ا س کی نسل زمین پر زورآور ہو گی۔اور صادقوں کی اولاد مبارک ہو گی۔(زبور۱۱۲: ۳) میں ایسے شخص کے گھر کی آسودگی ظاہر کی گئی ہے۔ کہ اس میں مال و دولت ہو گی۔اوراس کی صداقت قائم رہے گی۔چوتھی آیت کہتی ہے کہ راست کار، مہربان ،درد مند اورصادق ہیں۔اور ان کے لیے تاریکی میں نور چمکتا ہے۔ پانچویں آیت میں یہ ہے کیوں کہ نیک آدمی اپنا کام وقوف امتیاز سے انجام دیتا ہے اور وہ اوروں پر مہربان ہو سکتا ہے اورقرض بھی دیتا ہے تو(زبور۱۱۲: ۶۔۸) میں ذکر ہے کہ اس کو ہرگز جنبش نہ ہو گی۔بلکہ صادق کی یاد گاری ابد تک ہو گی۔اور اس سبب سے کہ اس کا توکل خُداوند پر ہے۔وہ بری خبروں سے حراساں نہیں ہوتا۔بلکہ اس کا دل بر قرار رہتا ہے۔اور اگرچہ وہ بکھراتا اور کنگالوں کو دیتا ہے۔تو بھی اس کی صداقت ابد تک قائم رہتی ہے۔اس کا سینگ جلال کے ساتھ سرفراز ہو گا۔(زبور۱۱۲: ۱۰) اس کا نتیجہ اور اثر جو کہ شریروں پر ہوتاہےکہ وہ دیکھے گااور کڑھے گا۔اپنے دانت پیِسے گا اور پگل جائے گا۔اور شریروں کی تمنافنا ہو جائے گی۔
(زبور۱۱۳)۔سلسلہ ہلیل کا شروع ہے۔اس میں کل چھ یعنی(۱۱۳۔۱۱۸) زبور ہیں ۔یہ زبور عیدِفسح ، پینتی کوست اور عیدِ خیام کے ایام میں استعمال ہوتے تھے۔ان موقوں کے علاوہ نئے چاند اور مخصوصیت کی عیدوں میں عیدِ فسح کے موقع پر بھی استعما ل کیے جاتے تھے۔(زبور۱۱۳۔۱۱۴) عید کے شروع میں گائے جاتے تھے۔اور(زبور۱۱۵۔۱۱۸) فسح کی ضیافت کے ختم ہونے پراس گیت کا مذکور( متی ۲۶ : ۳۰ ؛ مرقس ۱۴: ۲۶) میں ملتا ہے۔اس میں دو حصے ہیں۔
(حصہ اول)۔ میں پہلی تین آیات ہیں۔شروع میں لفظ ہا لیلویاہ ہے۔اور اس کے بعد یہواہ کے سب بندوں کو کہا جاتا ہے کہ یہواہ کے نام کی ستائش کرو کہ اور ایک دعا ہے کہ یہواہ کا نا م اس دم سے لے کر آخر تک مبارک ہو۔
(حصہ دوئم)۔( ۴سے ۹)میں یہواہ کی صفات پیش کی گئی ہیں۔جن کے ان کی ستائش لازم آتی ہے۔مثلاً
(1) یہواہ کل اُمتوں پر بلندو بالا ہے۔اور اس کا جلال آسمانوں پر ہے۔
(2) وہ بے مثال ہے۔اور کوئی دوسرا اس کی مانند نہیں اور اس کو بدل سکتا ہے۔
(3) وہ اپنے تئیں پست کرتا ہے اور کہ آسمان اور زمین پر نگاہ کے۔
(4) وہ مساکین کو زمین سے اٹھاتا ہے۔اور محتاج کو مزبلہ پر سےاونچا کرتا ہے۔
(5) اور اس میں اس کا انتہا منشا ہوتا ہے۔کہ ان کو امیروں بلکہ اپنے ہی لوگوں کے امیروں کےساتھ بٹھائے۔
(6) وہ بانجھ عورت کو گھر میں بساتا ہے۔ایسا کہ وہ خوشی سے بچوں کی ماں ہوتی ہے۔یہ زبور ہیلیلویاہ سے ختم ہوتا ہے۔(زبو ۲۶: ۱) یہ زبور فسح کی ضیافت پر گایا جاتا تھا۔تاکہ اسرائیل کا ملکِ مصر نکلنے کا واقعہ ان کو خوب یاد رہے۔اس میں ان کے مصر سے نکلنے کل واقعات مختصراً پائے جاتے ہیں۔لیکن ان کے مصر سے نکلنےواسطے ان کے لیے سمندر میں خشک راستہ بننےاور کنعان میں داخل ہونے کے لیے یردن کا ان کے لیے راسطہ کھولنے کا احوال خصوصیت کے ساتھ ملتا ہے۔چنانچہ سمندر اور دریاؤں سے استفسار ہے کہ اے سمندر تجھے کیا ہوا کہ تو بھاگا۔اور اے یردن کیا ہوا کہ تو الٹی پیر نکلا۔اور کیا ہوا اے پہاڑوں کہ تم مینڈوں کی طرح چھلانگیں مارتے ہو۔اور اے ٹیلو کہ تم بھیڑ کے بچوں کی طرح کودتے ہو۔اے زمین تو یہواہ کےحضور ہاں یعقوب کے یہواہ کےحضور تھر تھرا جو پتھر کو پانی کا حوض اور چقماق کے پتھر کو پانی کا چشمہ بناتا ہے۔
(زبور۱۱۵)۔ یہ زبور فسح کھانے کے بعد سب سے پہلے گایا جاتا تھا۔اس کی اول آٹھ آیات میں کل جماعت اپنی نالائقی کا اقرار کرکے یہواہ کی تعریف کرتی ہے۔اور یہواہ کا جو اَن دیکھا خُدا ہے۔اُمتوں کے دیدنی معبودوں کے ساتھ مقابلہ کرکے اس کی قدرت اور دیگر معبودوں کی بے کسی دکھائی گئی ہے۔
آیات( ۹سے۱۱)میں گانے والے اسرائیل اور ہارون کے گھرانےاور یہواہ کےڈرنے والوں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ یہواہ پر توکل رکھیں۔کہ وہی ان کا مدد گار اور ان کی سپر ہے۔
آیات( ۱۲سے ۱۵ )میں سردار کاہن ان کو یہ کہہ کر یقین دلاتا ہے کہ یہواہ جس نے ہم کو یاد کیا وہی ہم کو برکت بھی دے گا۔وہ اسرائیل گھرانے اور ہارون کے گھرانے کو برکت دے گا۔سو تم یہواہ کی طرف سے بھی جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا مبارک ہو۔
آیات( ۱۶ سے ۱۸ )میں جماعت گا کر کہتی ہے کہ آسمان یہواہ کے ہیں۔اور اس نےزمین بنی آدم کو عطا کی ہے۔سو ہم اس وقت سے لے کرابد تک یہواہ کو مبارک کہیں گے۔ہالیلویاہ۔
(زبور۱۱۶)۔اس کے موقعہ تصنیف کا کچھ پتہ نہیں لیکن چونکہ سلسلہ ہلیل میں ہے۔اور عید پر گایا جاتا تھا۔اس کا تعلق عید سے ہے۔ یہ زبور خصوصیت سےشخصی ہے۔کیونکہ سو پانچویں اور انیسویں آیت کے۔اس کی ہر ایک آیت کے الفاظ میں مجھے یا میرا استعمال ہوئے ہیں۔اس میں چار حصے ہیں۔
(حصہ اول)۔ پہلی چار آیات میں مصنف یہ دعوےٰ کرتا ہے کہ میں محبت رکھتا ہوں یا پیار کرتا ہوں۔عبرانی زبان میں اس فعل کے ساتھ کوئی مفعول(جس پر کام کیا جائے) نہیں آیا۔مصنف کا صرف یہ دعویٰ ہے کہ مجھ میں محبت ہے۔اس محبت کے رکھنے کا یہ سبب ۔بیان کرتا ہےکہ خُدا نے میری آواز اور منتیں سنی ہیں۔اس بیان سےیہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ تکلیف میں تھا اور رہائی پائی۔اور چونکہ اس کی عرض مقبول ہو گئی۔اور وہ کہتا ہے کہ مَیں جب تک زندہ رہوں گا۔اس کا نام لیے جاؤں گا۔ تیسری آیت میں وہ اپنی شدت کا یوں بیان کرتا ہے کہ موت کے دکھوں نے مجھ کو گھرا۔ اور قبر کےدردوں نے مجھ کو پکڑا۔مَیں دکھ اور غم میں گرفتار ہوا۔پھر وہ کہتا ہے کہ مَیں نے خُداوند کانام لیا۔اور عرض کی کہ اے خُداوند مجھ پر رحم کراور میری جان بچا۔
(حصہ دوئم)۔آیات( ۵ سے ۹) میں وہ اپنی رہائی کا اظہارِ شکر گزاری اور خُداوند کی شکر گزاری کرتا ہے۔اور وعدہ کرتا ہے کہ مَیں خُداوند کے آگے زندگی میں چلوں گا۔
(حصہ سوئم)۔ آیات( ۱۰ سے ۱۴) میں اپنی عرض اور شکر گزاری کے اسباب بیان کرتا ہے کہ چنانچہ اس کی عرض کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسان پر بھروسہ نہیں رکھ سکتا۔بلکہ صرف خُداوند ہی پراور شکر گزاری کا سبب یہ ہے کہ اس نےایمان سے عرض کی کہ اور خُداوند اسے جواب دیا۔اس پر وہ کہتا ہے کہ مَیں نجات کا پیالہ اٹھاؤں گا۔اور خُداکا نام پکاروں گا۔
(حصہ چہارم)۔ آیات( ۱۵ سے ۱۹)مصنف پھر اپنے شکریہ کی ادائیگی کی وجہ بیان کرتا ہے کہ یہواہ نے اس کے بندھن کھولے۔اخیر میں وہ ہالیلویاہ پکارتا ہے۔
(زبور۱۱۷)۔یہ زبور سب سے چھوٹا ہے کہ ایک مصنف نے اس کی نسبت کہا کہ اس کی ضخامت بہت چھوٹی ہے۔لیکن وہ بہت بیش بہا اور قیمتی اشیاء سے پُر ہے۔اس میں سب قوموں کو دعوت ملی ہے۔کہ وہ خُداوند کی حمد کریں۔دعوت کا اشتہار دینے والا کہتا ہے کہ وہ اس واسطے خُداوند کی حمدکریں کہ اس کی رحمت ہم پر غالب ہوئی ہے۔اور ہم کو معلوم ہوگیا ہے کہ خُداوند کی رحمت کل اُمتوں کے لیے ہے ناکہ صرف ہمارے لیے ہے۔(خط بنام رومیوں ۱۵: ۱۱ ) وہ اس کے لیے ہالیلویاہ پکارتا ہے۔
(زبور۱۱۸)۔ایسا معلوم پڑتا ہے کہ یہ زبور کسی عید کے لیے تصنیف ہواتھا۔اور ہیکل کی عبادت میں گایا جاتا تھا۔خُداوند یسوع مسیح اور اس کےشاگردوں نے یہ زبور اس وقت جب وہ گتسمنی باغ میں جانے کو تیار تھےگایا۔جناب مارٹن لوتھراپنے دفتر کی دیور پر اس زبور کی بابت لکھاتھا کہ زبور یعنی (زبور ۱۱۸)میرا ہے۔یعنی یہ وہ زبور ہے کہ جس کو مَیں پیار کرتا ہوں۔بغیر اس زبور کے بادشاہ اور شہنشاہ باوجود اپنی ساری دانائی اور دور اندیشی کے میری مدد نہ کرسکتے تھے۔بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ زبور اس عید خیام کے لیے تصنیف ہوا تھا ۔جس کاذکر( نحمیاہ ۸: ۴ ۱۔۱۸ )آیت کہ یہ زبور اس عید میں پہلی بار گایا تھا۔اس طرح یہ زبور(۴۴۴) قبل از مسیح ٹھہرتا ہے۔لیکن بعض یہ گمان کرتے ہیں کہ یہوداہ میکبیز کے ایام کی تصنیف ہے۔اکثر مصنفوں اسے دو حصوں میں تقسیم کیاہے۔یعنی حصہ اول آیات (۱ سے ۱۶اور حصہ دوئم ۱۷ سے ۱۹ )ایولڈ(ای ولڈ ) اس کی یوں تقسیم کی ہے کہ آیات( ۱سے۴) گانے والے گاتے تھے۔(۵ سے ۲۳) تک سردار مغنی گاتا تھا۔
( ۲۴ سے ۲۵ )پھر گانے والے گاتے تھے۔(۲۶ سے ۲۷) کاہن گاتے تھے۔(۲۸ )سردار مغنی اور (۲۹) پھر گانےوالے۔لیکن اس پر یہ اعتراض آتا ہے کہ کاہن لو گ گاتے نہیں تھے۔صرف لاوی ہی گاتے تھے۔لہٰذا اس کی تقسیم لایوں اور جماعت کے مابین ہی ہونی چاہیے۔ڈیلش صاحب کا خیال ہے کہ اس میں دو حصے ہیں۔ حصہ اول( ۱ سے ۱۹)اور حصہ دوئم(۲۰سے ۲۹ )حصہ اول کاہن اور لاوی ہیکل کو جاتےوقت گاتے اور حصہ دوئم وہ لاوی جو ہیکل کے دروازے پر کھڑے رہتے تھے۔اور کاہنوں اور لایوں کے دوسرے فریق کے آنے پر ان کا استقبال کرتے تھے۔گاتے تھے۔ اٹھائیسویں آیت دوسرا فریق گاتا تھا۔اور انتیسویں آیت دونوں فریق مل کر گاتے تھے۔اس کی تشریح اس طرح سے ہے۔کہ پہلی چار آیات میں شکرگزاری کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
(۵ سے ۹)آیات میں یہ بیان ہے کہ یہواہ پر توکل رکھنا انسان پر بھرسہ رکھنا سے بدر جہاں بہتر ہے۔(۱۰ سے ۱۴ )میں منصف اس واسطے یہواہ کی مدح (تعریف)کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کے ہمراہ ہے۔اور اس کا نام لینے سے اس کو کامل یقین ہو جاتا ہےکہ یہواہ اس کے دشمنوں کو نابود کرے گا۔ کیونکہ وہ کہتا ہے کہ وہی میری قوت ،فخر اور نجات ہے۔آیات( ۱۵ سے ۲۱) میں وہ بیان کرتا ہے کہ یہواہ ہی سے صادقوں کے خیموں میں خوشی اور نجات کی آواز ہے۔اور کہتا ہے کہ وہ زندہ رہے گا اور یہواہ کا شکریہ ادا کرے گا۔آیات( ۲۲ سے۲۹ )میں یہ آیا ہے کہ مبارک وہ ہے جو یہواہ کے نام سے آتا ہے۔یہواہ کے گھر سے یہ آواز آتی ہے۔کہ ہم تجھے برکت دیں گے۔کسی مفسر نے کہا ہے کہ اس زبور سے یہ عیاں کیا گیا ہے کہ مسیح کے خون خریدے اس کے جنگ و جدل ،فتح مندی اور جلال میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
(زبور۱۱۹)۔ا یہ زبوروں سے بڑا ہے۔اور اس میں عبرانی حروفِ تہجی کے شمار سےبائیس حصے ہیں۔ہر ایک حصے میں آٹھ آٹھ آیات ہیں۔اور ہر ایک آیت ایک ہی حرف سےشروع ہوتی ہے۔ مثلاً حصہ اول کی ہر آیت عبرانی حروفِ تہجی اول حرف یعنی الف سے شروع ہوتی ہے۔اور حصہ دوئم میں حرف ثانی یعنی حرف ب سے و علی ہذالقیاس اس میں( ۱۷۶)آیات یا اشعار ہیں۔ہر ایک آیت میں سوائے آیات( ۸۴،۲۲ )کے خُدا کے کلام یا شریعت کا ذکر ہوا ہے۔اور ذیل کے ایک اور درجن الفاظ خُدا کی مرضی یا شریعت کے اظہار کے لیے خصوصیت کے استعمال ہوئے ہیں۔شریعت ۱؎۔شہادت۲؎۔راہ ۳؎۔ حکم۴؎۔ قواعد۵؎ ۔ انفال۶؎۔کلام۷؎۔حقوق۸؎۔ عدالت۹؎۔فرایض۱۰؎صداقت۱۱؎اور نام۱۲؎۔بونر صاحب اس زبور کی نسبت فرماتے ہیں
''یہ مسیحی مسافر کا زبور ہے۔جو کہ روحانی زندگی کے شروع سے آخر تک یہواہ کی شریعت کی رہنمائی میں چلتا ہے۔یہاں تک کہ مقدس شہر میں پہنچ جاتاہے''۔
اس کی تفصیل اس طرح سے ہے۔
(الف)۔( ۱ سے ۸) میں نوزاد آدمی نئے سفر کے لیے تیاری کے موقعہ پر معلوم کرتا ہے۔ چاہیے کہ خُداوند کی شریعت پر چلنے والا کامل رفتار ہو۔
(بیتھ)۔( ۹سے۶ ۱) میں چنانچہ وہ سفر شروع کرتا ہے۔اور کہتا ہے کہ جوان اپنی راہیں کس طرح صاف رکھ سکتا ہے۔جواب ملتا ہے کہ خُدا کے کلام کے موافق اپنی راہ پر خوب نگاہ کرنے سے۔
(گیمل)۔( ۱۷ سے ۲۴ )میں وہ خُداوند کے احسان کا محتاج ہے۔تا کہ وہ زندہ رہے۔
(دالتھ)۔( ۲۵ سے ۳۲ )میں اسے مشکلات نظر آتی ہیں۔اور اس کے ذوق و اشتیاق میں تکسر(برابر ) واقعہ ہوتا ہے اور وہ عرض کرتا ہے کہ خداوند اپنے قول کے مطابق اسے جلاوے۔
(ہے)۔( ۳۳ سے ۴۰ )میں ترو تازہ ہو کر پھر خُداوند سے عرض کرتا ہے کہ وہ اسے اپنے حقوق کی راہ بتلائے۔اور وعدہ کرتا ہے کہ مَیں آخر تک انہیں یاد رکھوں گا۔
(واؤ)۔ (۴۱ سے ۴۸ )میں تکلیف و مصیبت میں مبتلا ہو کر دُعا کرتا ہے کہ خُداوند اپنے قول کے بموجب اپنی رحمتوں اور نجات سے اس کو پہرہ اندوز فرمائے۔
(زین)۔( ۴۹سے ۵۶) وہ گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں خُداوند سے عرض کرتا ہے۔اپنے بندے کی خاطر اپنے قول کو جس کا تونے مجھ کو اُمید وار کیا یاد کرکہ یہ میرے واسطےدُکھ میں تسلی ہو گئی۔
(خیتھ)۔( ۵۷ سے ۶۴) میں وہ خُداوندکو اپنابخرا جانتا اور آگے بڑھتا ہے۔کہ اس کے چہرے کی توجہ ڈھونڈے ۔
(تیتھ)۔( ۶۵ سے ۷۲)وہ خُدا کی خوش سلوکی کی بناپر چاہتا ہے کہ خُداوند اسے اچھا امتیاز اور دانش سکھلائے۔
(یود)۔( ۷۳ سے ۸۰ )میں وہ خُداوند کو اپنا پیدا کنندہ اور آراستہ کرنے والا جان کر اس سے فہم کے لیے عرض کرتا ہے۔تاکہ وہ اس کے احکام سیکھیں۔
(کاف)۔( ۸۱ سے ۸۸ )میں وہ ستائے جانے کی وجہ سے وہ خُداوند سے لپٹا رہتا ہے۔اور کہتا ہے کہ اے خُداوند میری جان تیری نجات کے شوق میں غش کھاتی ہے۔مَیں تیرے قول پر اعتماد رکھتا ہوں ۔
(لامد)۔( ۸۹ سے ۹۶ )میں خداند کی تعریف اور شکریہ کرکے اگر تیری شریعت میری خوشی کا باعث نہ ہوتی تو۔میں اپنی مصیبت میں ہلاک ہو جاتا۔
(میم)۔( ۹۷ سے ۱۰۴) میں وہ خُداوند کا شکریہ ادا کرتاہے۔اور کہتا ہئے کہ چونکہ تیری شریعت کا شیدہ ہوں مَیں ۔اپنے تمام اعداد پر دانشمندی میں فائق ہوں مَیں ۔
(نون)۔( ۱۰۵ سے ۱۱۲) میں وہ خُداوند کی شریعت کو نہایت فائدہ بخش دیکھ کر کہتا ہےکہ تیرا کلام میرے پاؤں کے لیے چراغ اور میری راہ کی روشنی ہے۔اور وعدہ کرتا ہے کہ میں تیری صداقت کے انفالوں کو حفظ کررکھوں گا۔
(سامک)۔( ۱۱۳ سے ۱۲۰ )میں چونکہ وہ خُداوند کی شریعت سے خاص انس رکھتا ہے۔تمام بدکاروں کو اپنے سےدور رکھتا ہے۔
(عین)۔( ۱۲۱ سے ۱۲۸ )میں عرض کرتا ہے کہ اے خُداوند مجھ کو ظالموں سے محفوظ اور مامون(بے خوف) رکھ ۔کیونکہ وہ خود بھی عدالت کو پیش نظر رکھتا ہے۔
(پے)۔( ۱۲۹ سے ۱۳۶ )خُداوند کی شہادتوں یاد کرکے کہتا ہے کہ تیرے کلام کا مکاشفہ روشنی بخشتا ہے۔اور سب سادہ لوگوں کو فہم عطا کرتا ہے۔
(صادے)۔( ۱۳۷ سے ۱۴۴ )اپنے جذبات وحمیت(غیرت) کا یوں اظہار کرتا ہےکہ میری غیرت مجھے اس لیے کھا گئی کہ میرے دُشمنوں نے تیری باتوں کو فراموش کیا ہے۔
(قوف)۔( ۱۴۵ سے ۱۵2 )میں وہ خُداوند پر بھروسہ رکھتا ہے ۔اور کہتا ہے کہ چونکہ میرا بھروسہ تجھ پر ہے ۔مَیں تیرے حقوق حفظ کروں گا۔اور تجھ سے عرض بھی کروں گا۔
(ریش)۔( ۱۵۳ سے ۱۶۰) میں اس سبب سے کہ اس نے شریعت کو فراموش نہ کیا۔مصیبت میں خُداوندکی مہربانی اور ترس کا محتاج و طالب ہے اور کہتا ہے کہ اے خُدا! مجھ کو اپنی رحمت کے مطابق زندگی بخش۔
(شین)۔( ۱۶۱ سے ۱۶۸ )میں کہتا ہے کہ ان کو جو تیری شریعت رکھتے ہیں۔بڑا چین ہے۔اور کسی طرح سے ٹھوکر نہیں لگتی۔
(تاؤ)۔( ۱۶۹ سے۱۷۶ )میں کہتا ہے کہ جب تو مجھے حقوق سکھائے گا۔میرے لبوں سے تیری ستائش نکلے گی۔اور میری زبان تیرے کلام کا چرچا کرتی رہے گی۔کہ تیرے سب کام صداقت ہیں۔بعض مفسرین کا گمان ہے کہ یہ زبورمسیح خُداوند کی کمال کاملیت پر دلالت کرتا ہے۔کہ جس طرح عبرانی ہجہ کے اول وآخر حروف میں کل حروف محدود ہیں۔اس طرح مسیح میں الوہیت اور انسانیت کی کاملیت اورکمالیت موجود ہے۔چنانچہ (مکاشفہ ۱: ۸ )مسیح خود یونانی حروف کے ہجہ کے اول و آخر حروف لے کر اپنی نسبت کہتا ہے کہ میں الفا اور اومیگا ،اول اور آخر جو ہے اور جو آنے والا ہے۔قادرِ مطلق ہوں۔
(زبور۱۲۰)۔ معلات یعنی چڑھنے کا زبور ہے۔اس زبور سے زبوروں کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔جو اس وقت استعمال ہوتے تھے۔جب بنی اسرائیل قافلوں میں سالانہ عیدوں کے لیے یروشلیم کوجاتے تھے۔اس سلسلے میں( ۱۵) یعنی( ۱۲۰سے ۱۳۴ )زبور ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ان ایام میں یہ ( ۱۵) زبور ایک چھوٹی کتاب میں مجلد (جلد بندھا ہوا)تھے۔تاکہ لوگ اسے ہمراہ رکھ سکیں۔اور اس کو گاتے ہوئے بخوبی سفر طے کریں۔اور کہ عزرا فقیہہ نے ان کو اسیری کے بعد موجود صورت میں تالیف کیا تھا۔یہ سب زبور سوائے( زبور ۱۳۲ )سے چھوٹے چھوٹے ہیں۔اور ایسے دل چسپ ہیں کہ باآسانی ازبر(زبانی یاد) ہو سکتے ہیں۔ملک اسپین کے ایک مفسر نے ان زبوروں کی نسبت کہا کہ
''یہ( ۱۵) زبور دوسرےزبوروں کی نسبت ایسے ہیں کہ جیسے باغِ عدن دوسری زمیں کی نسبت زیادہ سرسبز و شاداب ہےو خوشنما تھاجاتری لوگ یعنی یہ اسرائیل یروشلیم کو جاتے ہوئے سفر کے موقع پر روانگی( زبور۱۲۰ )گایا کرتے تھے۔کیونکہ وہ خواہش مند تھے کہ ان کا سفر بابرکت اور نیک انجام ہو۔اور وہ اس بات پر افسوس کرتے تھے کہ ان کی سکونت ان لوگوں کے درمیان تھی۔جن سے وہ روحانی امداد حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ایسی حالت میں وہ یہواہ کو پکارتےتھے۔اور وہ ان کو جواب دیتا تھا۔تب وہ روانہ ہوتے تھے۔اور ہر ایک شخصی طور پر عرض کرتا تھا کہ اے خدا! میری زبان کو جھوٹے ہونٹوں اور دغاباز زبان سےرہائی دے''۔
اورخود بھی ایسی زبان سے مخاطب ہو کر اسے ملامت کرتا تھا۔اور اس بات پر کہ مسکن میں سکونت پذیر تھا۔اور قیدار کے خیموں کے پاس رہتا تھا۔جو کہ جنگ جو تھے افسوس بھی کرتا تھا۔الغرض وہ اس سفر میں وہ کامل خوشی و مسرت اور مسکن کی برکات کے حصول کے لیے وہ ظاہری اور باطنی صفائی چاہتا تھا۔
(زبور۱۲۱)۔ اس میں جاتری سفر کے دوران میں کہتا ہے کہ مَیں پہاڑوں کی طرف آنکھیں اٹھاتا ہوں۔یعنی چلتا ہوا اپنی آنکھیں پہاڑوں کی طرف اٹھاتا ہوں۔جن پر شہر یروشلیم آباد ہے۔جس میں خُداوند کا مسکن ہے۔یہاں یہواہ سکونت کرتا ہے۔جاتری بائیں یا دائیں سمت نہیں بلکہ سیدھا اپنے سامنے یہواہ کی طرف دیکھتا ہے۔کیونکہ اس کی کمک اس کی طرف سے آتی ہے۔کیونکہ وہی اسرائیل کا محافظ جو ہرگز نہ جاگے گا نہ سوےگا۔سو رات کو یا دن کو اسے کوئی ضرر نہ پہنچے گا۔
چنانچہ (۶سے ۸ )آیت میں لکھا ہے۔دن کو آفتاب سے اور رات کو ماہتاب سے کچھ ضرر نہیں پہنچے گا۔اورخُداوند ہر ایک برائی سے تیری جان کو محفوظ رکھے گا۔اور اس وقت سے لے کر ابد تک تیری آمدو رفت میں تیرا نگہبان ہوگا۔
(زبور۱۲۲)۔ اس میں جاتری اس بات پر اظہارِ مسرت کرتا ہے کہ اس قافلے نے جو کہ یروشلیم کو جارہا تھا۔اسے مدعو کیا تھا۔کہ وہ بھی ان کے ہمراہ جائے۔ چنانچہ آیت( ۱) میں کہتا ہے کہ جس وقت وہ مجھے کہتے تھے کہ آؤ خُداوند کے گھر جائیں۔مَیں خوش ہوا۔معلوم ہوتا کہ جاتری یہواہ کے گھر کی برکات سے خوب واقف و آگاہ ہے۔کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی وہاں گیا تھا۔اس واسطے وہ یروشلیم کی تعریف میں کہتا ہے۔کہ وہ اس شہر کی مانند ہے جو خوب باہم پیوستہ ہے۔اور جس میں فرقے اور یاہ کےفرقے اسرائیل کی شہادت کو چڑھ جاتے ہیں کہ یہواہ کے نام کی ستائش کریں۔یروشلیم صرف عبادت کا ہی مرکز نہیں تھا۔بلکہ اس میں عدالت کے تخت داؤد کے خاندان کے تخت رکھے ہوئے تھے۔آخر وہ یروشلیم کی سلامتی کے لیے دعائے خیر کہتاہے کہ مَیں خُداوند اپنے خُدا کے گھر تیری طرف سے خیریت کا طالب ہوں۔
(زبور۱۲۳)۔ کسی مفسر نے کہا کہ (زبور ۱۲۰)کا نفسِ مضمون غم میں اُمید ۔(زبور۱۲۱ )کا مسافرت میں ایمان۔(زبور۱۲۲) کا محبت اور خوشی۔اور (زبور۱۲۳) کا رحمت کی انتظاری ہے۔
چنانچہ اس کی دوسری آیت میں یہ آیا ہے کہ جس طرح غلاموں کی آنکھیں اپنے آقاؤں کے ہاتھوں کی طرف اور لونڈیوں کی آنکھیں اپنی بیبیوں کے ہاتھوں کی طرف جب تک کہ وہ ہم پر رحم نہ فرمائے لگی ہیں۔تیسری و چوتھی آیات میں جاتری خُداوند سے عرض پرداز ہے۔کہ وہ ان سب پر یعنی قوم اسرائیل پررحمت فرمائےکیونکہ وہ تحقیرو تضحیک خوب سیر ہوگئے ہیں۔
(زبور۱۲۴)۔ اس کا مضمون ہے۔‘‘یہواہ اسرائیل کا کامل مدد گار’’آیات (۱سے۵) جاتری کہتاہے۔اسرائیل کہیں کہ اگر یہواہ کی توجہ ہماری طرف نہ ہوتی تودشمن ہم کونگل جاتے ہیں۔ہم غرقاب (پانی میں ڈوبا ہوا)ہوجاتے۔اور امڈتے ہوئےپانی ہماری جان پر سے گزر جاتے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ملکِ مصر کی غُلامی سے آزاد ہونے کا کل واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔
آیات( ۶سے ۸)وہ یہواہ کو اس واسطے مبارک کہتا ہے کہ اس نے اسرائیل کو چھٹکارا دیاہے۔اور کہتا ہے کہ اس نے ہماری جان کو چڑیا طرح صیاد کے جال سے چھڑایا۔کہ جال ٹوٹ گیا اور ہم نکل بھا گے۔ یہواہ کی گذشتہ برکات وعنایات اور احسان پر غور کرنا از بس مفید ہے۔
(زبور۱۲۵)۔ یہ زبور یہواہ پر توکل و اعتماد کرنے والوں کا استقلال اور سلامتیِ یروشلیم کی تشبیہ سے ظاہر کرتا ہے۔چنانچہ پہلی دو آیات میں ذکرہے کہ جن کا توکل یہواہ پر ہے۔وہ کوہِ صیحون کی مانند مستقل رہتے ہیں۔یعنی جس طرح وہ پہاڑوں میں گھیرا ہوا ہے۔اور دشمن سےمحفوظ ہے۔اس طرح وہ بھی جو یہواہ پر توکل رکھتی ہیں ۔اس کی پناہ میں ہر طرح سے محفوظ و مامور رہتے ہیں۔آخر میں مصنف جاتریوں سے عرض کرتا ہے۔کہ بھلے لوگوں اور وہ جو کہ سیدھے دل ہیں بھلائی کرو۔اور وہ جو ٹیڑھی راہ پر بھٹک جاتے ہیں۔انہیں بدکاروں کے ساتھ روانہ کروں اسرائیل کی نسبت وہ کہتا ہے کہ اس پر سلامتی ہو۔
(زبور ۱۲۶)۔اس زبور میں اسیر اپنی آزادی و رہائی پر اظہارِ مسرت کرتے ہیں۔ان کی حالت عین پطرس کی اس موقعہ کی حالت کی سی ہے۔جب فرشتہ اس کو قید سے باہر لایا۔اور وہ اس وہم میں تھا کہ خواب دیکھ رہا ہے۔رہائی یافتہ لوگ یہواہ جس نے ان سے ایسا بڑا سلوک کیا شکرگزاری کرتے اور کہتے ہیں کہ غیر اقوام کے درمیان کہ یہواہ ان سے اس امر کا بڑا نیک سلوک کیا۔چرچا ہوتا ہے۔اور عرض کرتے ہیں کہ یہواہ باقی ماندہ تمام اسیروں بھی پھر لائے۔آخر میں مصنف کہتا ہے کہ جو آنسوؤں سے بوتا ہے وہ خوشی سے گاتا ہوا فصل کاٹے گا۔اور خوشی سے پولیاں اُٹھائے ہوئے گھر آئے گا۔
(زبور۱۲۶)۔ سلیمان کا زبور معلات۔
بعض مفسر کہتے ہیں کہ یہ زبور سلیمان کی تصنیف نہیں ہے۔گو سر نامے میں اس کے نام وسرنامہ اس سے نامزد ہے۔اس میں ایک محاورات و اصطلاحات ہیں۔جو کہ امثال کی کتاب کے محاورات و اصطلاحات سے عین مطابقت رکھتے ہیں۔مثلاً( ۲۲: ۲۲ اور ۲۴ : ۷)آیت۔
نیز یہ زبور (امثال ۱۰ : ۲۲)جس میں لکھا ہے کہ خُداوند کی برکت ہی دولت بخشتی ہے۔اور اس پر کچھ مشقت نہیں ٹھہراتاکی تفصیل ہے۔اس طرح گمان گزرتا ہے کہ یہ سلیمان کی علیحدہ تصنیف نہیں۔بلکہ اس کی تصنیفات میں سے لیا ہوا ہے۔اس کا لبِ لباب یہ معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کی ہر ایک صورت خُداوند کی طرف سے ہے۔چنانچہ اس کے مطلع میں یہ آیا ہےکہ جب خُداوند ہی گھر نہ بنائے تو بنانے والے کی محنت عبث ہے۔اور اگر خُداوند ہی شہر کا نگہبان نہ ہو تو پاسبان کی بیداری عبث ہے۔حاصلات سخت محنت پرموقوف نہیں ہیں۔اور فرزند خُداوند کریم کی طرف سے میراث ہیں۔وہ مرد مبارک ہے۔جس نے اپنے گھر کو اس سے بھرلیا۔ کیونکہ وہ دُشمنوں کے مقابلے میں پیشمان نہیں ہوگا۔کیونکہ جس طرح کہ اس کی چوتھی آیت میں لکھا ہے کہ بچے تیروں کی طرح ہیں۔جو کہ ایک پہلوان کے ہاتھ میں ہوں۔
(زبور۱۲۸)۔ یہ زبور بخصوصیت خاندانی ہے۔اس میں ایک خاندان کی تصویر ملتی ہے۔جس میں سب افراد خُداوند کا خوف رکھتے اور اس کی راہوں پر چلتے ہیں۔اس کنبے کی نسبت لکھاہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی کھائے گا۔اور اس میں خاوند کی جورو اس تاک کی مانندہوگی۔جو کہ میوہ سے بھرپوراور بآور ہو۔اور گھر کے ارد گرد پھیلی ہو۔اوراس کے بچے زیتون کے پودوں کی ماننداس کے میز کے ارد گرد ہوں گے۔مصنف کی طرف سے دُعا ہے۔کہ خُداوند اس کو صیحون کی طرف سے برکت دے۔اور اس کی نسبت پیش گوئی کے طور پر کہتا ہے کہ تو یروشلیم کی کامیابی اور اپنے بچوں کے بچے دیکھے گا۔
(زبور۱۲۹)۔ اس میں اسرائیل اپنے گزشتہ احوال کا جائزہ لے کراپنے دُشمنوں کی بدسلوکی یاد کرتا ہے۔اور اس کے مطلع ہی میں کہتا ہے میری جوانی سے اُنہوں نے بارہامجھ کو ستایا اور دُکھ دیا۔ہلواہوں نے میری پیٹھ پر ہل جوتا اور لگھاریاں لمبی کیں اور خُداوند کی تعریف میں وہ کہتا ہے۔کہ وہ صادق ہے اور اس نے شریروں کی رسیاں کاٹ ڈالیں۔وہ چاہتا ہے کہ وہ سب جو صیحون سے بغض رکھتے ہیں۔ شرمندہ ہوں اور اُلٹے پھریں۔اور چھت کی گھاس کی مانند ہوں جو پیشتر اس کے کہ اکھاڑی جائے۔خشک ہو جاتی ہے۔اور جس سے کہ کاٹنے والا اپنی مٹھی نہیں بھرتا۔اور نہ پولیاں باندھنے والا اپنے دامن کوآخر میں یعنی مقطع میں اسرائیل کہتا ہے کہ ہم خُداوند کا نام لے کر یروشلیم کے لیے دُعاکرتے ہیں۔
(زبور۱۳۰)۔ ایک دفعہ کسی نے مارٹن لوتھر سے سوال کیا کہ زبوروں میں سب سے اعلیٰ کون سا زبور ہے۔لوتھر نے جواب دیا کہ ''سالیمی پالینی'' یعنی کہ پولُس کے زبور ۔اور جب سوال ہوا کہ وہ کون سے ہیں تو اس نے کہ (زبور۳۲، ۵۱، ۱۳۰، ۱۴۳) پولُس کے ہیں کیونکہ ان میں یہ تعلیم ہے کہ گناہوں کا ازالہ اور تلافی ، شریعت یااعمال کے صالح پر نہیں بلکہ ایمان پر مبنی ہے ۔اور نادر اور صحیح اور تسلی بخش تعلیم خصوصیت کےساتھ پولُس کی ہے۔ اس نے سکھایا کہ ہم فضل ہی سے بچیں گئے۔نجات، ثواب اور کار خیر پر نہیں۔بلکہ فضل اور صرف فضل ہی پر موقوف ہے۔بعض لوگ خود مانتے ہیں کہ تیر تھ اور حج میں ثواب ہے۔لیکن اسرائیل جاتری جو کہ یروشلیم کی طرف سفر کرتا ہے۔اس بات کا قطعی منکرہے۔اور کہتا ہے کہ اے خُداوند میں گہرائیوں میں سے تجھے پکارتا ہوں ۔کیونکہ ازالہ ذنوب(گناہ کی معافی ) تجھ ہی سے ہو سکتا ہے۔اس زبور میں دو حصے ہیں۔
حصہ اول۔( ۱ سے ۴ )میں وہ شخص جو کہ اپنی گناہ آلودگی ،معلوم کرتا ہے ۔ملتمس ہے اور زاری سے پکارتا ہے کہ اے خُداوند میری آواز سن اور میرے منت کی آواز پر کان متوجہ ہوں۔اگر تو گناہ کا حساب لے تو کون کھڑا رہے گا۔ سو وہ فضل کا محتاج اور طالب ہے۔اور کہتا ہےکہ اے خُداوند تیرے پاس۔مغفرت ہے تاکہ لوگ تیرا خوف رکھیں۔
حصہ دوئم۔( ۴سے۸ )آیت میں وہ کہتا ہے کہ مَیں خُداوند کا منتظر ہوں اور میری جان اس کی انتظاری کرتی ہے۔ مجھے اس کے کلام کا بھروسہ ہے۔اور میری پاسبانوں کی بانسبت جو صبح کے منتظر ہوتے ہیں زیادہ خُداوند کا انتظار کرتی ہے۔وہ اسرائیل کو مزیدتاکید کرتا ہے ۔کہ وہ خُداوند پر توکل کریں۔کیونکہ رحمت اس کے پاس ہے۔اور اس کے پاس کثرت سے مخلصی ہے سو وہ اسرائیل کو رہائی دےگا۔
(زبور ۱۳۱)۔ داؤد کا زبور معلات ۔یہ ۔بچوں کا زبور ہے۔مسیح نے شاگردوں سے فرمایاتھا کہ ''مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم لوگ توبہ نہ کرو اور چھوٹے بچوں کی مانند نہ بنو تو تم آسمان کی بادشاہت میں ہرگز داخل نہ ہوں گے''۔(مقدس متی ۱۸ : ۳)۔
اس زبور میں متعدد خواص کا بیان ہے جو کہ بچوں میں خصوصیت سے پائے ہیں۔اورا ن کے واسطے موجب برکت ہوتے ہیں ۔ مثلاً فروتنی بچوں کی فروتنی میں بلند پائیگی کا خیال مقصود ہوتا ہے۔اس زبور کے مطلع یعنی آیت اول میں لکھا ہے کہ اے خُداوند میرادل مغرور نہیں۔اور مَیں بلند نظر نہیں ہوں۔مَیں دقیق(گہرے ،پوشیدہ) معاملات اور ان میں جو کہ میرے لیے عجوبہ ہیں دخل نہیں کرتا۔بچوں میں عین اطاعت اور فرمانبرداری ہوتی ہے۔یہ صفت اکثر مصیبت سے پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ خُداوند مسیح نے اذیت سے ہی سیکھی۔دیکھو( عبرانی ۵: ۸ )میں لکھا ہےکہ'' اگرچہ وہ بیٹا ہے تو بھی اس نے ان دکھو ں سے جو اس نے اٹھائےفرمانبرداری سیکھی''۔منصف اس زبور میں کہتا ہے کہ مَیں اس بچے کی مانند ہوں جس کا دودھ چھڑایا گیا ہو۔مَیں نے اپنے جی کو ٹھنڈا کیا تو اسے اقرار ہواجس طرح کہ دودھ چھڑائے ہوئے بچے کو ہوتا۔جو کہ اپنی ماں کے پاس ہوتا ہے۔مقطع(زبور کا آخری شعر ) میں قوم اسرائیل کو ہدایت ہے کہ اس دم سے ابد تک خُداوند پر توکل کر۔
(زبور۱۳۲)۔ یہ زبور سلسلہ معلات میں سب سے لمبا زبور ہے۔اس کا مقصد تصنیف یہواہ کواس کے صیحون کو برکت دینے کا وعدہ یاد دلانا ہے۔اوراسرائیل کا قابلِ برکت ہونا دکھلانا ہے۔اس میں دو حصے ہیں۔
حصہ اول۔ آیات( ۱ سے ۱۰ )میں اسرائیل خود کو برکت کا مستحق سمجھتا ہے۔
حصہ دوئم۔آیات( ۱۱ سے ۱۸)میں یہواہ کی طرف سے اس کا جواب ہے۔حصہ اول میں دو خاص باتیں ہیں۔
(1) (۱سے ۵ )آیات میں داؤد کا جو کہ اسرائیل کا بادشاہ تھا۔منت ماننے کا بیان ہے۔جس میں یہواہ کے ساتھ اس کی وفا داری ظاہر کی گئی ہے۔داؤد نے چاہا کہ وہ یہواہ کے لیے گھر بنائےچنانچہ ان آیات میں کہتا ہے کہ یقیناً میں رہنے کے ڈیرے میں نہ جاؤں گا۔اور پلنگ کے بچھونے پر نہ چڑھوں گا۔جب تک کہ یہواہ کے لیے ایک مکان نہ اور یعقوب کے القادر کے لیے ایک مسکن نہ بناؤں۔
(2) آیات( ۶ سے ۱۰)میں عہد کےصندوق کے لیے اسرائیل کا تفکر دیکھایا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ دیکھو ہم نے اس کی خبر فراتا میں سُنی۔ ہم نے اس کو بیابان کے میدانوں میں پایا۔ اس پر یہواہ کو دعوت دی گئی ہے کہ اُٹھا لاے یہواہ تو اور تیرے عہد کا صندوق اپنی آرام گاہ میں داخل ہوتیرے کاہن صداقت سے ملبس ہوں اور تیرے مقدس لوگ خوشی سے للکاریں۔پھر دُعا ہے کہ خُداوند اپنے داؤد کی خاطر اپنے چہرے کو نہ پھیرے۔
حصہ دوئم۔ کی آیات گیارہ اور بارہ میں یہواہ اسرائیل کو وعدہ وفائی یاد دلانے کو کہتا ہے کہ مَیں نے سچائی سے داؤد کے لیے قسم کھائی ہے۔سو بے وفائی نہ کروں گا۔مَیں تیرے پیٹ کے پھل میں سے کسی کو تیرے تخت پر بٹھاں گا۔اور اگر تیرے لڑکےمیرے عہد کو اور میری شہادت کو حفظ کریں تو ان کے لڑکے بھی ابد تک تیرے تخت پر بیٹھے چلے جائیں گے۔
آیات( ۱۳ سے ۱۸ )میں ذکرہے کہ یہواہ نے صیحون کو پسند کیا۔اور اسے چن لیا کہ وہ اس کے لیے مسکن ہو۔اور کہا کہ میرےچین کا یہ ابدی مکان ہے۔مَیں اس میں بسوں گاکہ مَیں اس پر ر اغب ہوں۔اس کے اسباب مال میں بہت برکت دوں گا۔اس کےمسکینوں کو روٹی سے سیر کروں گا۔اور اس کے کاہنوں کو نجات کا لباس پہناؤں گا۔اور اس کے مقدس لوگ خوشی سے للکاریں گے۔وہاں میں ایسا کروں گا کہ داؤد کے لیے ایک سینگ پھوٹ نکلے گا۔مَیں نے اپنے ممسوح کے لیے ایک چراغ تیار کررکھا ہے۔اور خجالت کو اس کے دُشمن کا لباس کروں گا۔لیکن اس کے سر پر اس کا تاج چمکتا رہے گا۔
(زبور ۱۳۳)۔ داؤد کا زبور معلات۔
اس زبور میں ان لوگوں کی تعریف ہے۔جو کہ یروشلیم میں جمع ہو کر محبت کے بودباش کرتے ہیں۔جاتری اس نظارہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے ۔اور اس یگانگت کی تعریف میں کہتا ہے کہ دیکھو! کیا خوب اور سہانی بات ہے کہ بھائی ایک ساتھ بودو باش کریں۔یہ سب لوگ مختلف ممالک اور ملکِ کنعان کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔ایسی جماعت کی ا یک تصویر( اعمال ۲: ۹۔ ۱۱) میں ہے۔ کہ یہاں ان اقوام اور ممالک کے نام کہ جن میں سے وہ درج ہیں۔یعنی کہ پارتھی ،۔مادی ۔عیلامی کے رہنے والے۔مسوپتامیہ ۔ کپدوکیہ۔پنطس۔ایشیا کےفروگیہ۔پمفولیہ۔مصراور لبوا کے اس حصے کے باشندے جو کہ کرینی علاقوں ہیں۔اور رومی مسافر اور یہودی مریداور کرینی اور عرب سب کے سب محبت اور اطمینان کے ساتھ رہتے ہیں۔جاتری یروشلیم میں پہنچ کر اور یہ سب کچھ دیکھ کر اس حالت کو عطر اور حرموں کی اس سے تشبیہ دے کر کہتا ہے کہ یہ اس امنگ ملے عطر کی مانند ہے کہ جو کہ سر پر ڈالا جائے اور با کردار پر ہی بلکہ ہارون کی ڈاڑھی سے ہو کر اس کے پیراہن کے گریبان تک پہنچے۔اس سے یہ سب اہالیانِ یروشلیم کا یہواہ کی خدمت کے لیے مخصوص ہونا مرادہے۔پھر ذکر ہے کہ جس طرح کوہِ حرمون کی اوس زمین کو شاداب اور زرخیز بناتی ہے۔اس طرح مسیحی محبت مسیحی جماعت یک جہتی اور کامیابی کا باعث ہے۔کیونکہ ایسی محبت والی جگہ کی نسبت خُداوند نے برکت اور حیاتِ ابدی کا حکم فرمایا ہے۔
(زبور ۱۳۴)۔ یہ معلاتی سلسلے کا آخری زبور ہے معلوم ہوتا ہے کہ سب جاتری یروشلیم سے معراجعت (بلندی)کے موقع پر ان کو خدمت گزاروں کو جو کہ را ت کو خداوند کے حضور خدمت میں کھڑے رہتے تھےتاکید کرتے ہیں کہ یہواہ کے سب بندوں جو کہ رات کو یہواہ کے گھرکھڑے رہتے ہو یہواہ کو مبارک کہو۔چاہیے کہ وہ جو ہمیشہ یہواہ کے گھر میں رہتے ہیں۔اس استحقاق کے لیے یہواہ کی شکر گزاری کریں۔اس تاکید کے جواب میں وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہواہ جو آسمان اور زمین کا خالق ہے تجھے صیحون میں سے برکت بخشے۔
(زبور ۱۳۵)۔ یہ ہالیلویاہ کا زبور ہے۔اس میں خاص طورپر یہواہ کی تعریف کی ستائش کی گئی ہے اوران سب کو جو کہ اس کے گھر اور اس کی باگاہوں میں کھڑے رہتے ہیں تاکید ہے کہ یہواہ کی ستائش کریں۔اوراس کی کئی ایک وجوہات بیان ہیں۔مثلاً
(1) ( ۱سے ۳) آیات میں یہواہ اپنی ذات ہی سے تعریف کے لائق اور مستحق ہے۔وہ نیک ہے اور اس کی تعریف کرنا پسند ہے۔
(2) (۴ سے ۱۲) آیات میں اس کا شاہانہ اختیار دکھا یا گیا ہے۔اور بیان ہے کہ یہواہ نے یعقوب کو اپنے لیے چُن لیا۔اور اسرائیل کو اپنے خاص خزانے کے لیے منتخب کیا ہے۔وہ بزرگ ہے اور جو کچھ اس نے چاہا سو آسمان زمین دریاؤں اور گہراؤں میں کیا ۔اس نے مصر کے پہلوٹھوں کو مارا۔فرعون او ر اس کے کل خدمت گزاروں کو عجیب و غریب کام دکھلائے۔اس نے بڑی بڑی قوموں کو مارااور زبر دست یعنی اموریوں کے بادشاہ سیحون اوربسن کے شاہ عوج او ر ملکِ کنعان کی کل مملکتون کو قتل کیا۔اور ان کی زمین اپنے لوگوں کو میراث میں دی۔
آیات (۱۳ ۔ ۱۴ )میں یہواہ کی تعریف ہے۔کہ وہ ابدی ہے۔اور اس کا ذکر پشت در پشت رہےگا ۔کیونکہ وہ اپنے لوگو ں کا انصاف کرے گا۔اور اپنے بندوں کی حالت کی وجہ پچھتائے گا۔
آیات(۱۵ سے ۱۸ )میں غیر اقوام کے بتوں کی کیفیت بیان کی گئی ہےکہ ان کے بنانےوالے بھی ان ہی کی مانند ہیں۔اور ہر ایک جن کو ان کابھروسہ ہے۔ایسا ہی ہے۔اسرائیل اور ہاررن اور لاوی کے گھرانوں کو اور ان سب کو جو کہ یہواہ سے ڈرتے ہیں ۔تاکید ہے کہ یہواہ کو مبارک کہیں۔آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہواہ صیحون میں مبارک ہے۔وہ یروشلیم میں بستا ہے۔ ہالیلویاہ۔
(زبور ۱۳۵۔ ۱۳۶)۔ زبور میں یہواہ کے لوگوں کی نسبت ایک خواہش ہے کہ وہ یہواہ کی ستائش کریں اور( ۱۳۶ )میں خواہش ہے کہ اس کے لوگ اس کی شکر گزاری کریں۔اور اس کے کئی ایک سبب بتائیں گئے ہیں۔
(1) یہواہ بھلا ہے اور اس کی رحمت ابدی ہےاور الہٰوں کا الوہیم ہے اور اس کی شفقت ابد تک ہے(۱ سے۳ )۔
(2) وہی اکیلابڑے عظیم کام کرتا ہے(آیت ۴)
(3) اس ننے نہایت خوش اسلوبی اور کاملیت کے ساتھ کائنات خلق کی اور یہ کام دانائی سے ہوا ہے(آیت ۵سے ۹)۔
(4) اس نے اسرائیل کو غلامی سے رہائی دی اور قوی ہاتھ اور بڑھائے ہوئے بازوں سے چھڑایا(آیات۱۰ سے ۱۵)۔
(5) اس نے عجیب طریق سے اس کی پرورش فرمائی ۔بیابان میں اس نے ان کی رہنمائی کی اور نامور سلاطین جان سے مارے اور ان کی سر زمین میراث میں بنی اسرائیل کو دی (آیات ۱۶ سے ۲۲ )۔
(6) اس نے ان کی راندہ (دھتکارہ ہوا،خارج)اور پستی میں اس کو یاد فرمایااور دشمنوں سے رہائی دی (آیات ۲۳ سے ۲۴)۔
(7) وہ جانداروں کو بھول نہیں جاتا۔بلکہ ان میں سے ہر ایک کا روزی رساں ہے(آیت ۲۵)۔
(8) وہ آسمانوں کا خُدا سب سے عالیٰ اور قوی ہےاور اس سب پر مسلط ہے۔سو اس کی شکر گزاری ضروری ہے(آیت ۲۶)۔
(زبور۱۳۷)۔ یہ زبور اسرائیلی اسیروں کا اس وقت کاہے۔جب وہ اسیر ہوکرکے ملک بابل میں پہنچائے گئے تھے۔اس وقت ان کے اسیرکرنے والوں نے ان سے کہا کہ وہ صیحون کے گیتوں میں سے کوئی ایک گائیں۔اس زبور میں ان کی ایک عجیب تصویر ہے۔ہم ان کو بابل کی ندیوں کے کنارے بیٹھے دیکھتے ہیں۔وہ مغموم (غم زدہ)ہیں۔اور صیحون اپنے ملک کی یاد میں روتے ہیں۔اور اس کی بربطیں اورموسیقی کے ساز بید کے درختوں سے لٹک رہے ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ ملک چاردریاؤں یعنی افراط، دجلہ، اولائی اور خیبور میں سے جس کا ذکر بائبل میں ہوا ہے۔کون سے دریاؤں پر وہ بیٹھے ہوئےتھے۔وہ مغموم نظر آتے ہیں۔اور اپنے ستانے والوں کو جو چاہتے تھے کہ وہ خوشی منائیں۔جواب دیتے ہیں کہ ہم یہواہ کے گیت غیر ملک میں کیونکر گائیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ہر حالت خوش رہنا بلکل نہیں سیکھا۔اور ادوم کی مخالفت یاد کرتے اور اُن پر لعنت کرتے ہیں۔کیونکہ وہ یروشلیم کی بربادی پر راضی تھے۔عبدیاہ نبی کی کتاب میں ان کی مخالفت کی خوب تفصیل ہے۔چنانچہ (عبدیاہ ۱: ۱۰) میں لکھا ہے اس قتل کے باعث اور اس ظلم کے سبب جو تونےاپنےہاں یعقوب پر کیا ہے۔تو خجالت سے ملبس ہو گا۔اور ابد تک نیست رہے گا۔
آیات( ۵ اور ۶) میں وہ سب یروشلیم سے اپنی محبت ظاہر کرتے ہیں۔اور ان میں ہر ایک یہ کہتا ہے کہ اے یروشلیم مَیں تجھ کوبھول جاؤں تو ایسا ہو کہ میرا دہنا ہاتھ اپنا ہنر بھول جائے۔اور اگر مَیں تجھ کو یاد نہ رکھوں۔اوراپنی عزیز تر خوشی سے زیادہ نہ جانوں تو میری زبان میرے تالوں سے چمٹ جائے۔آیات(۷ سے ۹) میں وہ ادوم اور بابل کی بد سلوکی کے باعث ان پر لعنت کرتے ہیں چاہتے ہیں کہ خُدا خود اِن سے انتقام لے۔
(زبو ر ۱۳۸) ۔ یہ داؤد کا زبور ہے اس سے آٹھ زبوروں کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے۔جو(زبور ۱۳۸ سے ۱۴۵) تک باسلسلہ یکے بعد دیگرے آتےہیں۔اس کا نفسِ مضمون( ۲۔سموئیل ۷ باب ۲۸ )آیات کا وعدہ ہے جو یہواہ نے داؤد سے فرمایا کہ نجات دینے والا اس کی نسل سے پیدا ہو گا۔اس وعدےکی بنا پر سزا بھی جو کہ سانپ کو ملی جب کہ اس نے حوا کو بہکایااور خُدا نےاس پر لعنت کی کہ عورت کی نسل اس کو کچلے گی۔ اس زبور کی چابی دوسرے سموئیل کے ساتویں باب میں ہے۔اس میں تین حصے ہیں۔
حصہ اول۔( ۱۔۳ )آیات میں قابل مصنف خدا سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ مَیں اپنے سارے دل سے تیری ستائش کروں گا۔الہٰوں کے آگے تیری رحمت اور سچائی کے سبب تیری ثنا خوانی کروں گا۔کیونکہ اس ایک وعدے سےتونے اپنے نام کو اپنے سب عجیب اور قدرت والے سے زیادہ عزت اور جلال بخشا ہے۔
بے شک خُداوند نے بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے رہائی بخشی۔اور اپنے نام کو عزت دی ۔لیکن اس کے بیٹے کے تجسم سے اس کو زیادہ عزت ملی جب کہ اس نے اس کے وسیلے سے اپنے سب برگزیدہ لوگوں کو رہائی بخشی۔
حصہ دوئم:( ۴سے ۶ )آیات میں مصنف کہتا ہے کہ کسی بادشاہ نے اس سے پیشتر ایسی خوشخبری نہیں پائی تھی کہ جب یہ وعدہ پورا ہاگا توساری دنیا کے لوگ فراہم ہوں گےکہ یہواہ کے لوگ فراہم ہوں گےکہ یہواہ کی ستائش کریں۔چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اے خُداوند زمین کے سب بادشاہ تیرے منہ کا کلام سنیں گے۔اورتیری ستائش کریں گےیہاں وہ خُدا کی راہوں میں گائیں گےکہ خُداوند کا جلال بڑا ہےوہ بلند ہے اور پست پر توجہ کرتا اور مغرورں کو دور سے پہچانتاہے۔
حصہ سوئم۔آیات( ۷سے ۸)میں مصنف عرض کرتا ہے کہ یہواہ اس کے لیے اس کے کام کو انجام دے یعنی کہ یہواہ اسے بچائے اوراسےترک نہ کرے۔مصنف اس عجیب وعدے کے لیے خُداوند کی ستائش کرتا ہے۔
(زبور۱۳۹)۔ داؤد کا زبور۔ اس میں یہواہ کی چند صفات بیان ہوئی ہیں۔ مصنف دکھاتا ہے کہ یہواہ ہمہ دان ہےاور ہر جگہ حاضر ہےاور قادرِ مطلق ہے۔مصنف محسوس کرتا ہے کہ یہواہ نے سراسر گھیر لیا ہے۔یعنی کہ وہ اس کے اوپر نیچے اورباہر بھیتر ہے۔اور کہ وہ بغیر یہواہ کے مطلقاً کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کی فعل مختاری بھی قائم اور بحال رہتی اور یہواہ بطور ایک مالک رحیم کے اس پر حکومت کرتا ہے۔اس زبور میں چار حصے ہیں۔
حصہ اول۔آیات(۱ سے۶)میں مصنف یہواہ کی ہمہ دانی اور اس کے علیمِ کل ہونے کا بیان کرتا ہے کیونکہ وہ معلوم کرتا ہے کہ یہواہ نے اس کو بخوبی پہچان لیا ہے ۔سو وہ کہتا ہے کہ تو اے یہواہ تو مجھ کو جانتا اور پہچانتا ہے۔تو میرا اٹھنا اور بیٹھنا جانتا ہے۔تو میرے اندیشے کو دور سے یعنی پیشتر اس سے کہ وہ میرے دل میں آئے ۔دریافت کرلیتا ہے ۔اس طرح یہواہ کی صفات کا بیان ہے۔چھٹی آیت میں وہ کہتا ہے کہ ایسا عرفان میرے لیے ایک عجوبہ ہے۔وہ بلند ہے اور مَیں اس تک پہنچ نہیں سکتا۔
حصہ دوئم۔آیات(۷سے ۱۳) میں مصنف یہواہ کے ہر جگہ پر ہونے کا ذکر کرتا اور کہتا ہے کہ وہ ہر کہیں موجود ہے۔ اور تسلیم کرتا ہے کہ وہ کسی طرح بھی اس سے بھاگ نہیں سکتا۔اور کہتا ہے کہ اگرچہ مَیں آسمان پر چڑھ جاؤں۔تو اے یہواہ تو وہاں ہے۔اگر مَیں اپنابستر پاتال میں بچھاؤں گا۔تو دیکھ تو وہاں بھی ہے۔اگر صبح کے پنکھ لگا کر سمندر کی انتہا میں جارہوں۔تو وہاں بھی تیرا ہاتھ مجھے لے چلے گا۔اور تیرا ہاتھ مجھے سنبھالے گا۔کہ تاریکی مجھے چھپا نہ سکے گی۔کیونکہ یہواہ کی حضوری کے سامنے تاریکی ٹھہر نہیں سکتی اس کی تجلی کے سامنے وہ کافور ہوجاتی ہے۔
حصہ سوئم۔آیات(۱۳ سے ۱۸) میں منصف کہتا ہے کہ یہواہ کا علیم کل اور ہر جگہ حاضر ہونااس کی قدرت مطلق پر منحصر ہے۔کہ وہ انسان سے اس باعث سے واقفیت رکھتا ہے۔اس نے اس کو خلق کیا بدن کی وجہ سے وہ یہواہ کی ستائش کرتا اور کہتا ہے کہ اے یہواہ تیری آنکھوں نے میرے بے ترتیب مادے کو دیکھا اور تیرے سب دفتر میں یہ سب چیزیں لکھی ہوئی ہیں۔اور ان کے دنوں کا حال بھی اسی وقت جب کہ ان میں سے کوئی بھی تحریرنہیں ہوا کہ وہ کب وجود میں آئیں گی۔
حصہ چہارم۔آیات(۱۹سے ۳۴) میں مصنف اس وجہ سے کہ وہ یہواہ کی صفات سے واقف ہے۔یہواہ کے سب دشمنوں سے کینہ رکھتاہے۔اور اس خیال سے کہ شاید اس میں بھی کچھ کسر ہوپکار کر کہتا ہے کہ اے یہواہ مجھ کو جانچ اور میرے دل کو جان اور مجھ کوآزما۔اور میرے اندیشوں کو پہچان۔دیکھے کہ مجھ میں کوئی درد انگیز عادت ہے کہ نہیں۔ اور مجھ جو اب دہ راہ میں چلا۔
(زبور ۱۴۰)۔ داؤد کا زبور سردار مغنی کے لیے۔
اس میں ایک راستباز شخص کو شریروں میں گھیرا ہوا دیکھتے ہیں۔وہ کامل اطمینان میں ہے۔اور شریروں کی رسوائی اور اپنے بچاؤ کا منتظر ہے۔اس کے توکل اور اطمینان کی وجہ اس کا توکل ہے۔جو کہ وہ یہواہ پر رکھتا ہے۔اس میں چار حصے ہیں۔کیونکہ لفظ ''سلاہ ''سے ایک دوسرے سے جُدا ہوئے ہیں۔ لفظ سلا ہ (زبور ۸۹)میں استعمال ہوا ہے ۔اور اس کے بعد اس زبور میں ہے۔چنانچہ ان پچاس زبوروں میں جو کہ( ۸۹ اور۱۴۰)کے درمیان ہیں یہ لفظ نہیں آتا۔اس کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں قریباً کل(۴۰) زبوروں میں یہ لفظ ہے۔
حصہ اول۔آیات( ۱سے ۳)میں مصنف یہواہ سے دعا گو ہے کہ اسے ان شریروں سے رہائی دے جن سے وہ گھیر اہوا ہےکیونکہ سانپوں کی مانندوہ اپنی زبانیں تیز کرتے ہیں ۔اور ان کے ہونٹوں کے تلے افعی کا ظاہر ہے۔(سلاہ)
حصہ دوئم۔آیات( ۴ سے ۶) میں مصنف رہائی کے واسطے یہ کہہ کر دُعا کرتا ہے کہ مغرروں نے چھپ کر میرے لیے پھندے اور رسیاں تیار کیں ہیں۔انہوں نے رہ گزر میں جال بچھا یا ہے۔انہوں نے میرے لیے دام لگا ئے ہیں۔(سلاہ)
حصہ سوئم۔آیات( ۶ سے ۸ )میں مصنف خُداوند کو اپنا شخصی نجات دہندہ تسلیم کرکے اس سے عرض کرتا ہےکہ وہ شریر کے مطلب کو پورا نہ کرے۔بلکہ اس کے برے منصوبوں کو انجام تک پہنچنے نہ دے ۔تاکہ وہ سر نہ اٹھائے ۔(سلاہ)۔
حصہ چہارم۔( ۹سے ۱۳)آیات میں وہ عرض کرتاہے کہ اے خُدا جنھوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ان سے ایسا کر کہ ان کےہونٹوں کی زناکاری ان ہی کے سر پر آپڑے ۔اور وہ یہواہ کی طرف مخاطب ہو کر اپنے یقین کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ مظلوموں کا انصاف کرے گا۔اور مسکینوں کا بدلا لے گا۔اور کہتا ہے کہ تب صادق لوگ فی الحقیقت تیرا نام لے کر شکر گزاری کریں گے۔اور راستباز سکونت کریں گے۔
(زبور ۱۴۱)۔ داؤد کا زبور ۔ اس زبورکی نسبت مفسرین کہتے ہیں کہ اس کا مطلب صفائی کے ساتھ عیاں نہیں ہے۔تو بھی مصنف کی دُعا کا مقصد یہ معلوم ہوتاہے۔کہ ہر طرح کے بُرے کام سے بچا جائے۔اورخود کو خُدا کی بادشاہت میں استعمال کیا جائے ۔یہ زبور تین حصوں میں منقسم ہے۔
حصہ اول ۔آیات( ۱ سے ۴)میں مصنف دُعا کرتا ہے کہ اس کی دُعا بخور کی طرح خُدا کے حضور پہنچائی جائے۔اور کہتا ہے کہ میرے ہاتھو ں کا اُٹھانا شام کی قربانی کی مانند ہو۔اور عرض کرتا ہے کہ وہ اپنے ہونٹوں سے قصور نہ کرے۔اور اس غرض سے وہ خُداوند سے یہ دُعا کرتا ہے کہ اے خُداوند! میرے منہ پر نگہبان بٹھا۔میرے ہونٹوں کے درازوں کی دربانی کر میرے دل کو کسی بُری بات کی طرف مائل نہ ہونے دے۔کہ وہ بدکاروں میں شامل ہو کر بد کاری نہ کرے۔
حصہ دوئم۔آیات( ۵سے ۶ )میں وہ کہتا ہے کہ اگر صادق مجھ کو مارے تو وہ مہربانی ہے۔اور اگر وہ مجھ کو تنبیہ دے تو میرے لیے سر کاروغن ہے۔اگر وہ دوبارہ بھی کرے تومیرا سر اس سے انکار نہ کرے گا۔بلکہ جب کہ وہ مصیبت میں گرفتار ہو تومَیں اس کے لیے دُعا مانگوں گا۔
حصہ سوئم۔آیات( ۷ سے ۸ )میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگرچہ دشمن ہم پر غالب بھی آئے توبھی میری آنکھیں تیری طرف لگی ر ہیں گی۔ میرا توکل تجھ پر ہے۔تو مجھ کو اس جال سے بچا جو انہوں نے میرے لیے بچھایا اور بد کاروں کےجالوں سے بھی ۔
(زبور ۱۴۲)۔ مشکیلِ داؤد اس موقع کی دُعا ہے کہ جب وہ مغارہ میں تھا۔(۱۔ سموئیل ۲۲باب۱ آیت اور۲۴ )سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دودفعہ غاروں میں پناہ گیر ہوا۔پہلی بار ادولا م میں اور دوسری دفعہ عین جدی کے غار میں۔اس زبور سے یہ معلوم نہیں ہوتاہے کہ اس وقت وہ کس مغارہ میں تھا۔صرف اس قدر معلوم ہے کہ مغارے میں اس نے دُعا مانگی اور ساؤل کے ہاتھ سے عجیب ڈھنگ سے بچ گیا۔ وہ پولُس اورسیلاس کی مانند تھاجنھوں نے قید میں گیت گائے ۔اور قید خانے کے دروازے ان کے لیے کھل گئے۔اس زبور میں کوئی خاص حصہ نہیں۔داؤد تنگی اور خطرے میں پڑ کر دُعا کرتا ہے اور بچایا جاتا ہے ۔اس نے دُعا مانگنے سے پیشتر اپنی طرف سے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو پایا۔چنانچہ اس کی (۴ اور ۵) آیات میں مرقوم ہے کہ مَیں نے اپنے دہنے ہاتھ پر نگاہ کی اوردیکھا مگر کوئی نہ پایا۔جو مجھ کو پہچانتا ہو۔مجھے کہیں پناہ نہ ملی۔کوئی میری جان کا حال پوچھتا نہیں۔تب مَیں خداوند کے حضور چلایا اور اس سے کہا کہ تو میری پناہ گاہ ہے۔میری روح کو قید سے رہائی بخش ۔تاکہ تیرے نام کی ستائش ہو۔تب صادق لوگ میرے آس پاس جمع ہوں گے جب تو مجھ پر احسان کرے گا۔
(زبور ۱۴۳)۔ یہ زبور بھی داؤد کا ہے۔یہ نادمی زبوروں کا آخری زبور ہے۔اور قدیم نسخوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کی تصنیف اس وقت ہوئی جب داؤد ابی سلوم کی بغاوت کے ایام میں یروشلیم سے بھاگا۔اس زبور میں نہ مصنف حفاظت و رہنمائی اور معافی کے لیے یہواہ سے ملتمس ہے۔اس کو یقین ہے کہ گناہ کے سبب اس پر یہ مصیبت آئی اور وہ شرمندہ ہو کر کہتا ہے کہ یہواہ اس کو راستی میں لے چلے۔اس زبور میں دو حصے ہیں۔
حصہ اول۔ آیت( ۱سے۶) یہ حصہ خاص کر فریادی آیت(۱ سے ۲ )میں مصنف یہواہ کی توجہ اپنی طرف کھینچنا چا ہتا ہے۔اس واسطے نہیں کہ وہ اس کو عدالت میں لائےبلکہ وہ اس پر رحمت کرے چنانچہ وہ کہتا ہے کہ اپنے بندے کو اپنے ساتھ عدالت میں نہ لا۔کیونکہ کوئی انسان جیتی جان تیرے حضور کھڑا نہیں رہ سکتا۔
آیات( ۳ سے۶ )وہ دشمن کی شکایت کرکے کہتا ہے کہ وہ میری جان کے پیچھے پڑا ہے۔کہ اس نے میری زندگی کو خاک پر پائمال کیا ۔ اس نے مجھ کو اس کی مانند جو مدت سے مر گیا ہو تاریکی میں بٹھایا ہے۔اس لیے میرا جی اداس ہو گیا ہے۔اورمَیں اپنے ہاتھ تیری طرف بڑھاتا ہوں۔کیونکہ میری روح خشک زمین کی مانند تیری پیاسی ہے۔(سلاہ)
حصہ دوئم۔آیات( ۷سے ۱۲) مصنف اپنی التماس پیش کرتا ہے اورکہتا ہے کہ اے یہواہ جلد میری سن کہ میری روح تمام ہونے پر ہے۔مجھ سے منہ نہ موڑ نہیں تومَیں ان کی مانند ہو جاؤں گا جو گڑھے میں گرتے ہیں۔صبح کے وقت اپنی شفقت کی آوازسنا کیونکہ میرا توکل تجھ پر ہے۔اور اپنی راہ کہ جس میں چلومجھے بتا کیونکہ مَیں اپنی روح کو تیری طرف اُٹھاتا ہوں۔
آخری آیت میں وہ دشمن سے رہائی پانے کے واسطے پھر دُعا کرتا ہے کہ مجھ کو اپنی مرضی کی راہ دکھلادےاور کہتا ہے کہ تیری نیک روح مجھ کو راستی کے ملک میں لے چلے۔اس سبب سے مَیں تیرا بندہوں ان سب کو جومیرے جی کو دُکھ دیتے ہیں نابود کر۔
(زبور ۱۴۴)۔ اس زبور کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہواہ کی تعریف کی جائے ۔اس سبب سے اس نے بادشاہ کو اس قابل کیا کہ وہ اپنےسب دُشمنوں کو مغلوب کرے۔اور رعایا کے امن و ایمان کا باعث ہو۔یہ زبور دو حصوں میں منقسم ہے۔
حصہ اول ۔ آیات(۱ سے ۱۱) یہ حصہ اور زبوروں سے منتخب ہوا ہے۔آیت اول میں مصنف یہواہ اکوجو اس کی چٹان ہے۔مبارک کہتا ہے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اس نے میرے ہاتھوں کو جنگ کرنا سکھایااور انگلیوں کو لڑنا سکھایا ہے۔پھر اپنی ذاتی ناقابلیت کا خیال کرکے اور یہوواہ کی طرف مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے یہواہ انسان کیا ہے کہ تواسے یاد فرمائے؟اور آدم زاد کون ہےجوتو اسے کچھ شمار کرے؟
آیات(۵سے ۱۱)میں وہ اپنے دُشمنوں کی بربادی اور اپنی رہائی کے لیے یہوواہ سےملتمس ہے۔
حصہ دوئم۔ آیات( ۱۲ سے ۱۵) میں وہ اپنے دُشمنوں کی بربادی کے نتائج بیان کرتا ہے۔ کہ رعایا خوش و خرم ہو گی ۔اور ہمارے بیٹے اپنی جوانی میں پودوں کی مانند اور ہماری بیٹاں زاویہ کی گھڑیوں کی مانند ہوں گی۔جو کہ محل کے اندازہ سے خوش تراش ہوں۔اور کہ ہمارے مسکن مالا لال ہوں گے۔اور گائے بیل اور بھیڑ بکریاں بکثرت ہوں گی۔اور ہمارے بازاروں میں کسی طرح کی نالش نہ ہوں گی۔اور آخر میں وہ کہتا ہے کہ مبارک ہے وہ گروہ جس کا یہ حال ہے۔مبارک ہے وہ گروہ جس کا خُداوند ہو۔
(زبور ۱۴۵ )۔ داؤد کا ثنا خوانی کا زبور ۔ یہ حروف ِ تہجی کا آخری زبور ہے۔(۹ ، ۱۰ ، ۲۵ ، ۳۴ ، ۳۷ ، میں وہ۱۱۱ ، ۱۱۲ ، ۱۱۹ ، ۱۴۵) حروفِ تہجی کے زبور ہیں۔(زبور ۱۴۵ )تہلیم یعنی ثنا یا حمد کا گیت کہلاتا ہے۔عبرانی زبان میں زبور کی کتاب تہلیم یعنی ثنا کی کتاب کہلاتی ہے۔یہودیوں نے اس زبور کی بہت قدر کی ۔ اس کی نسبت تالمود میں مذکور ہے ۔کہ اگر کوئی داؤد کی تہلیم تین مرتبہ روز سنائے تو اس کو روز تیقن(یقین) ہو سکتا ہےکہ وہ خُدا کی بادشاہت کا فرزند ہے ۔اس لیے اس زبور کی قدرصرف تہجی زبور ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس واسطے ہے کہ اس میں ظاہر کیا گیا ہےکہ خدا کی پروردگاری میں کل مخلوق شامل ہے۔
تہجی زبور ہونے کے باوجود اس زبور میں کل (۲۱ )آیات ہیں صرف نو کسی وجہ سے حذف ہیں۔یہ زبور خاص الخاص تعریفانہ ہے۔اور ستائش کے زبوروں سلسلے کا شروع ہے۔جو کہ( ۱۵۰) زبور پر ختم ہوتا ہے۔اس میں یہواہ کی ستائش اس کی شاہانہ حیثیت اور اس کی حکومت کے سبب سے کی جاتی ہے ۔اس میں کوئی خاص حصہ نہیں۔بلکہ یہ کی نسبت چار خاص باتوں کو پیش کرتا ہے۔جن کے سبب اس کی خوانی ہوتی ہے۔
(۱سے ۶)آیات میں یہواہ کی ذاتی خوبیا ں پیش ہیں چنانچہ آیات(۳ سے ۴ )میں ذکر ہے کہ یہواہ بزرگ ہے۔اور نہایت ستائش کے لائق ہے۔اور اس کی بزرگی تحقیق سے بالا تر ہے اورلکھا ہے کہ ہر ایک پشت دوسری پشت سے تیرے کاموں کی ستائش کرے گی۔اور تیرمی قدرتوں کا بیان کرے گی ۔
آیات( ۷سے ۱۰) میں یہواہ کے احسان کی رحمت کی تعریف ہے۔چنانچہ آٹھویں آیت میں آیا ہے کہ یہواہ مہربان اور رحیم ہے غصہ کرنے میں دھیما اور شفقت میں بڑھ کر ہے ۔آیت دس میں لکھا ہے کہ تیری ساری دستکاریاں تیری ثنا خوانی کرتی ہے۔اور تیرے مقدس لوگ تجھ کو مبارک باد کہتےہیں۔
آیات (۱۱ سے ۱۳) میں اس کی سلطنت کی نسبت کہا گیا ہے کہ تیرے مقدس لوگ تیری سلطنت کا بیان کرتے اور تیری قدرت کا چرچا کرتے ہیں۔تاکہ آدم زاد پر تیری قدرت اورتیری سلطنت کی جلیل شوکت ظاہر کرے ۔تیری بادشاہت ابدی ہے۔اور تیری حکومت پشت در پشت قائم رہتی ہے۔
آیات( ۱۴ سے ۲۱) میں یہواہ کی پروردگاری اور اس کی صداقت کا بیان ہے۔چنانچہ پندرھویں آیت میں لکھا ہے کہ سب کی آنکھیں تجھ پر لگی ہیں۔تو انہیں وقت پر اُن کو روزی دیتا ہے۔
(آیت ۱۷ )میں لکھا ہے کہ یہوواہ اپنی کل راہوں میں صادق اور سب کاموں میں رحیم ہے۔(۲۱) آیت میں مصنف کہتا ہے کہ میرا منہ یہواہ کی ستائش کا مضمون کہے گا۔ہاں ہر ایک بشر اس کے مقدس نام کو مبارک کہا کریں۔
(زبور۱۴۶)۔ یہ ہالیلویاہ کا زبور ہے۔اور دیگر زبوروں کی مانند سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔اس سے ہالیلویاہ کا آخری سلسلہ شروع ہوتا ہے۔جس میں زبور کی کتاب کے آخری پانچ زبور ہیں ۔اس زبور کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی بہبودی یہوواہ پر یقین رکھنے سے ہے۔اس کے مضمون میں متفرق حصے نہیں ہیں۔اس میں صرف یہوواہ کی تعریف ہے۔ مصنف اس کی ایک اور دو آیات میں اپنا ہی ذکر کرتا ہے۔اور اپنی جان کو کہتا ہے کہ یہواہ کی تعریف کرنیز دعوے کرتا ہے کہ جب تک مَیں جیتا ہوں تب تک مَیں یہوواہ کی ستائش کروں گا۔اور جب تک موجود ہوں اس کی ثنا خوانی کروں گا۔
آیات( ۳سے ۵ )میں وہ کہتا ہے کہ امیروں پر اور آدم زادوں پر توکل نہ کرو۔کہ ا ن میں نجات دینے کی طاقت نہیں ہے۔کہ جس وقت ان کا دم نکل جاتا ہے تو وہ اپنی مٹی میں پھر جاتے ہیں۔اور اس دن ان کے منصوبے فنا ہو جاتے ہیں۔اور کہتا ہے کہ مبارک ہے وہ جس کی کمک یعقوب کا خدا ہے اور جس کا توکل یہواہ اس کے خُدا پر ہے۔آیات( ۶ سے ۹ )میں وہ نو وجوہات پیش کرتا ہے۔جن کے باعث یہوواہ ہی پر توکل اور بھروسہ رکھنا ضرور ہے۔
وہ پیدا کنندہ ہے اور ہمیشہ اپنی سچائی کو برقرار رکھتا ہے۔
وہ اسیروں کو چھڑاتا ہے۔
وہ خیر اندیش ہے۔
وہ اندھوں کی آنکھیں کھول دیتا ہے۔
یہواہ ان کو جو خم دار یا پست ہو گئے ہیں۔سیدھا کھڑا کرتا ہے۔
وہ صادقوں کو عزیز رکھتا ہے۔
وہ پردیسوں کا نگہبان ہے اور یتیموں اور بیواؤں کو سنبھالتا ہے۔
یہواہ ابد تک سلطنت کرے گا۔ہاں تیرا خُدا اے صیحون پشت در پشت۔ ہالیلویاہ۔
(زبور۱۴۷)۔ یہ زبور بھی ہالیلویاہ سے شروع اور ختم ہوتا ہے۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ زبور بمعہ( زبور ۱۴۸ ، ۱۴۹اور ۱۵۰ ) کےاس وقت تصنیف ہوا جب کہ یروشلیم شہر پناہ تیار ہو گئی۔اور تقدیس کے وقت لایوں کو ان کی سب جگہوں سےڈھونڈتے تھےکہ انہیں یروشلیم کو لائیں۔ خوشی اور شکر گزرای اور سرود اور طبلے اور بربط شہر پناہ کی تقدیس کریں۔ گانے والوں کے بیٹے ہر کہیں سے یروشلیم میں فراہم ہوئے تھے۔(نحمیاہ۱۱: ۳۷)۔
اس زبور میں یہواہ کی ستائش کے لیے تین بلاہٹیں ہیں۔
آیات(۱ سے ۶) میں کہا گیا ہے کہ یہواہ کی ستائش کرو۔کہ ہمارے خُدا کی ثنا خوانی کرنا بھلا ہے۔اس واسطے کہ وہ ہر دل عزیز ہے۔اس کی ستائش کرنا شائستہ ہے۔یہوواہ یروشلیم کو تعمیر کرتا ہے۔وہ اسرائیل کے بچھڑے ہووں کو جمع کرتا ہے۔وہ شکستہ دلوں کا علاج کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آیات( ۷ سے ۱۱) میں یہ کہ اس کی ستائش اس لیے کی جائے کہ وہ فائدہ عام کو مدِ نظر رکھ کر آسمان پر بدلیوں کا پردہ ڈالتا ہے۔جو کہ زمین کے لیے مینہ تیار کرتا ہے۔جو پہاڑوں پر گھاس اُگاتا ہےجو بہائیم اور کوؤں کے بچوں بھی جو چلاتے ہیں روزی مہیا کرتا ہے۔
آیات( ۱۲ سے ۲۰)میں یروشلیم کو دعوت دی گئی ہےکہ وہ یہوواہ کی ستائش کریں۔وہ ان سے مخاطب ہو کر کہتاہے کہ اے یروشلیم اس نےتیرے دروازوں کے بینڈوں کو مضبوطی بخشی۔اور تجھ میں تیرے بچوں کو برکت بخشی اور وہ تیری اطراف میں امن بخشتا اورتجھ کو ستھرے سے ستھرے گہیو ں سے آسودہ کرتا ہے۔وہ اپنا کلام یعقوب پراور اپنے حقوق اور عدالتیں اسرائیل پر ظاہر کرتا ہے۔اس نے کسی قوم سے ایسا سلوک نہیں کیا اور نہ کوئی اس سے آگاہ ہوا۔ہالیلویاہ۔
(زبور۱۴۸)۔ یہ بھی ہالیلویاہ کا زبور ہے اس میں کل مخلوقات یعنی آسمان اور زمین طلب کیے جاتے ہیں۔کہ یہوواہ کی ستائش کریں۔نہ صرف جاندار بلکہ بے جان ایشاء بھی مدعو ہیں۔کہ وہ اس حمدو ثنا میں شریک ہوں یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں۔ مصنف کا دل ثنا سے بھرا ہوا ہے۔اور وہ خواہش مند ہے کہ یہوواہ کی ستائش کی جائے۔وہ وقت آتا ہے کہ جب کل موجودات انسان کےساتھ مل کرنجات کی خوشی میں شریک ہوں گی جس طرح کہ وہ آدم زاد کی برگشتگی پر اس کی لعنت میں شریک ہوئی۔
حصہ اول۔ آیات( ۱ سے ۶)میں آسمان طلب ہیں کہ یہواہ کی ستائش کریں فرشتگان،سورج ،چاند ،ستارےاور آسمانوں کا آسمان اور پانی جو آسمانوں کے اوپر ہے۔سب کے سب طلب کیے گئے ہیں کہ یہوواہ کی ستائش کریں۔اس لیے کہ وہ سب کے سب اس سے خلق کیے گئے ہیں۔اور ان کا قائم رہنا اس پر منحصر ہے ۔
حصہ دوئم۔آیت( ۷ سے ۱۲) میں سب کچھ زمین پر ہے اور آسمندر میں ہے۔ یعنی آگ ، اولے ، برف ، بخارات ، ہوا ، پہاڑ، ٹیلے ، پھل دار درخت ،سب دیودار ،سب جانور ، کیڑے مکوڑےپردار چڑیاں، سب لوگ، بادشاہ ، شہزادے ،قاضی جوان مرد کنواریاں اور سب کے سب طلب کیے ہیں۔کہ یہوواہ کے نام کی ستائش کریں۔
حصہ سوئم۔ آیات( ۱۳ سے ۱۴ )میں اس کی ستائش کے اسباب بیان کیے ہیں۔لکھا ہےکہ وہ یہوواہ کے نام کی ستائش کریں۔کیونکہ اس کا نام اکیلا عالی شان ہے۔اس کاجلال زمین اور آسمان کے او پر پھیلا ہے۔اور کہ وہی اپنے لوگوں کو سینگ کو بلند کرتا ہےیہی اس کے پاک لوگوں بنی اسرائیل یعنی اس قوم کی جو اس کے نزدیک ہے۔شوکت ہے۔ہالیلویاہ۔
(زبور۱۴۹)۔ اس زبور میں یہواہ کی بلاہٹ ہے کہ وہ اس کی ستائش کریں اور اس کے لیے ایک نیا گیت گائیں کہ اس کی روح لوگوں کو پاک کرےکہ اسرائیل اپنے خالق سے شادمان ہوئےاور بنی صیحون اپنے بادشاہ کی وجہ سے خوشی کریں ۔کلیسیا کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبور عام معنوں میں سمجھا گیا ۔کلیسیا نے یہ زبور مسیحی لوگوں کو جنگ کےواسطے متحرک کرنے کے لیے استعمال کیا۔چنانچہ ۔۔۔۔کیسپر سیوپس(CASPER SCIOPIUS) نے اس زبور کے ذریعے سےرومن کیتھولک کلیسیا کو لوتھر کے ایام میں ترغیب دی۔کہ پروٹسٹنٹ لوگوں سے لڑائی کریں ۔کیونکہ کلیسیامستحق ہےکہ سب قوموں پر حکمرانی کریں۔چنانچہ(۶)سالہ جنگ چھڑ گئی ہے۔نیز انہیں دنوں میں تھامس منظر (THOMAS MUNZAR) نے بیپٹسٹ لوگوں کو اُبھارا کہ وہ رومن کیتھولک اور دیگر مسیحی کلیسیاؤں سے لڑائی کریں۔اور اپنے فرقہ کوقائم کریں۔اور اس کا نیتجہ زمینداروں کا جنگ کہلایاپولُس نے کیا خوب کہا ہے کہ ہم جسم میں چلتے ہیں۔ہم جسم کے طور پر نہیں لڑتے ۔اس لیے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جسمانی نہیں(۲۔ کرنتھیوں ۱۰: ۳۔۴)۔
اس زبور میں ساری کلیسیا طلب کی گئی ہےکہ خوشی کرےاور یہوواہ کے نام کی ستائش کرتے ہوئے ناچیں اور طبلہ اور بربط سے اس کی ثنا خوانی کرے۔کیونکہ خُداوند اپنے لوگوں سے خُوش ہوتا ہے۔وہ صیحون کو نجات کی راہ بخشتا ہے۔جسمانی جنگ جو مسیحی ان آخری آیات کو اپنی سند سمجھ کر اسے جسمانی ہتھیار سے لڑنے کی خیال کرتے اور پولُس کی ہدایت کا خیال نہیں رکھتے ۔اس لیے کہ وہ ان کی مرضی کے موافق نہیں ہے ۔خُدا کی بادشاہت کھانا پینا نہیں ہے۔بلکہ راستی اور سلامتی اور روح القدس سے خوش وقتی ہے۔ہالیلویاہ۔
(زبور ۱۵۰)۔ یہ زبور ہالیلویاہ سے شروع ہوتا ہے۔اور ہالیلویاہ سے اس کے ساتھ زبور کی کتاب ختم ہوتی ہے۔اس میں ہر ایک سانس لینے والی چیز سے طلب کیا گیا ہےکہ خُداوند کی ستائش کرے۔اس کی آیت اول میں بتا یا گیا ہے کہ اس کی ستائش کہاں کی جائے ۔یعنی کہ اس کے مقدس میں اور اس کی قدرت کی فضا میں دوسری آیت میں اس کی ستائش کرنے کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے۔اس کی قدرتوں اور اس کی بزرگی کے سبب اس کی ستائش کرو۔
آیات( ۳سے ۶) میں ذکر ہے کہ کس طرح اس کی ستائش کی جائے یعنی کہ قرنائی پھونکتے ہوئے۔بربط چھیڑتے ہوئےطبلہ بجاتے اور ناچتے ہوئے۔تاروں والے ساز اور بانسریاں بجاتے ہوئے۔بلند آواز والی جھانجھ بجا کر ہر ایک چیز جوسانس لیتی ہے۔یہواہ کی ستائش کرے۔ہالیلویاہ ۔ کسی مفسر نے کہا کہ اس زبور میں دس قسم کے باجوں کے نام ہیں۔اور ان دس اقسام میں تمام اقوام کے ساز شامل ہیں۔یعنی کہ ہر ایک قوم بجاتی ہوئی گانے والوں کے گروہ میں شریک ہو گی۔اور وہ سب ہم نوا اور ہم آہنگ ہوں گے۔اور یہ اس میں بارہ(۱۲) دفعہ کہا گیا ہے۔یہوواہ کی ستائش کروجس سے مراد ہے کہ اسرائیل کے بارہ(۱۲) فرقوں کو الگ الگ تاکید گی گئی ہے۔خُدا کرے کہ ہم بھی گانے بجانے والے گروہ میں شامل ہوں۔آمین ۔ثم آمین۔
تمت/ تمام شد
(خورشید پریس گوجرانوالہ میں بااہتمام ماسڑ غضنفر علی چھپا )
امثال کی کتاب
سوال۔1:۔ امثال کی کتاب کے مصنف کانام اور احوال بیان کریں؟
جواب:۔ امثال (۱باب ۱ )آیت میں لکھا ہے کہ داؤد کے بیٹے بنی اسرائیل کے بادشاہ سلیمان کی امثال گویاامثال سلیمان کے نام سے کہلاتی ہے۔تو بھی یہ اس کی طبع آزاد تصنیف نہیں ہے۔بلکہ اس نے ملہم ہو کر خُدا سے دانائی حاصل کی البتہ وہ دانائی کے سبب تمام دُ نیا میں شہرہ آفاق ہوا۔لیکن سلاطین کے تیسرے باب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دانش اس کی مساعی(کوششیں) کا نتیجہ نہ تھی۔بلکہ خُدا داد برکت تھی۔چنانچہ (سلاطین ۳ باب ۷سے ۱۴ )آیت میں سلیمان کی یہ دُعا ہے۔ کہ اے خُداوند خُدا تونے اپنے بندے کو میرے باپ دادا کی جگہ بادشاہ کیا۔مگر میں ہنوز لڑکا ہوں۔باہر جانے اور پھر آنے کا طور نہیں جانتا ۔اور تیرا بندہ تیرے بندوں کے بیچ ہے۔جنہیں تونے چن لیا وہ لوگ بہت اور غیر عابد ہیں ۔ کثرت کے باعث اس کا شمار نہیں ہوسکتا۔سو تو اپنے بندے کو ایسا سمجھنے والا دل عطا کر کہ مَیں لوگوں کی عدالت کرنے میں نیک و بد میں امتیاز کرسکوں کہ تیری اتنی بھاری قوم کا انصاف کون کر سکتا ہے۔چنانچہ یہ بات خُدا وند کو پسند آئی۔کہ سلیمان نے یہ چیز مانگی اورخُداوند نے اسے کہا کہ چونکہ تونے یہ چیز مانگی اور عمر کی درازی نہ چاہی اور نہ اپنے لیے دولت کا سوال کیااور نہ اپنے دشمنوں کے نابود ہونے کی دُعا چاہی۔بلکہ اپنے لیے عقل مانگی تاکہ عدالت میں خبردار ہو۔سو دیکھ مَیں نے تیری باتوں کے مطابق عمل کیا ہے۔دیکھ مَیں نے ایک عاقل اور سمجھ دار دل تجھ کو دیا ہے۔ایسا کہ تیرا مثل تجھ سے آگے نہ ہوا۔اور نہ تیرے بعد ہوگا۔اور مَیں نے تجھ کو اور کچھ بھی دیا ہے۔جو تونے نہیں مانگا۔یعنی اور دولت اورعزت ایسی کہ بادشاہوں میں سے تمام عمر کوئی تجھ سا نہ ہو گا۔ اگر تو میری راہوں پر چلے گا۔اور میرے قوانین حفظ کرے گا۔ جس طرح کہ تیرا باپ دادا چلتے رہے۔ تو مَیں تیری عمر دراز کروں گا۔ (۱۔سلاطین۴باب ۲۹ سے ۳۴ )آیات میں آیا ہے کہ خُدا نے اس دانش اور خرد بے حد عطا کی۔اور دل کی وسعت بھی عطا کی ایسی جیسی کہ سمندر کی ریت جو کہ سمندر کے کنارے پر ہو۔ اور سلیمان کی دانش کل اہلِ مشرق اور مصر کی ساری دانش سے کہیں زیادہ تھی ۔اس لیے کہ وہ سب آدمیوں سے یعنی ازراخی ایتان اور ہیمان اور کل کُول اور دردع سے جو بنی محول تھے۔زیادہ داناتھا۔اور گردو پیش کی ہر ایک قوم میں اس کا نام پہلا تھا۔اس نے تین ہزار امثال کہیں اور اس کے گیت ایک ہزار پانچ تھے۔اس نے درختوں کی کیفیت بیان کی سرو کے درخت سے جو لبنان میں تھا۔اس زوفے تک جودیواروں پر اُگتا ہے۔اور پرندوں اور چارپائیوں اور رینگنے والوں اور مچھلیوں کا حال بیان کیااور سب لوگوں اور بادشاہوں جن تک اس کی دانش کی شہرت پہنچاتھا۔اس کی حکمت سننے کو آئے تھے۔اس سے معلوم ہوتاکہ سلیمان دانش میں بے مثل تھا۔لہٰذا اس کی امثال قابلِ غور ومطالعہ ہے۔
سوال۔ 2:۔ امثال کی کتاب کی تعریف کریں؟
جواب:۔ امثال درحقیقت عبرانی دانائی یعنی کمال کا مجموعہ ہے۔کیونکہ اس میں ہر نوع کی دینی و دنیوی اخلاقی و بزمی کی مفید تعلیم موجود ہے۔جو کہ ہر صیغہ اور ہر عمر کے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہےخواہ وہ عمر رسیدہ ہوں یا کم سن دولت مند ہوں یا مفلس ۔حاکم ہوں یا محکوم ۔سب کے سب اس کتاب سے فہمید(عقل وفہم) اور راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔اس سلیمان کے کل گیت اور امثال ہی نہیں ہیں۔بلکہ صرف وہی جو کچھ کہ انسان کے اخلاق ،سیرت، فرائض اور برتاؤ سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی کہ اس کی تصنیفات کا انتخاب ہے۔چنانچہ (امثال ۲۵ باب ۱ )آیت میں لکھا ہےکہ یہ بھی سلیمان کی امثال ہیں۔جن کی نقل شاہ یہوداہ حزقیاہ کے لوگوں نے کی تھی ۔اس سے یہ بات بھی عیاں ہے کہ زبور کی کتاب کی طرح یہ بھی مختلف مروجہ زبانوں میں ترجمہ اور تالیف ہوئی۔خیال ہے کہ یہ کتاب سلیمان کی آخری زندگی میں تصنیف ہوئی اور کہ کئی ا یک اشخاص نے اس کی تصنیفات میں سے لے کر اِسے کتاب کی صورت میں مرتب مجلدکیا۔یہ کتاب شاہ خورس سے چار سوساٹھ سال اور سکندرِ اعظم سے چھ سو ساٹھ سال پہلے لکھی گئی۔ملکِ یونان میں کئی ایک حکیم مثلاً سقراط ،افلا طون اور ارسطو ہوئے ہیں۔جنہوں نے اپنے علم کی وجہ سےبہت شہرت پائی مگر سلیمان ان سب پر بہت فوقیت رکھتا ہے۔
سوال۔3:۔ سلیمان کی امثال کی خصوصیات بیان کریں؟
جواب:۔ مثل ایک چھوٹا اور مختصر جملہ ہے۔جس کا مفہوم و مطلب زبان اور الفاظ کی وضاحت میں عیاں ہوتا ہے۔اور فہم وتفہیم کے واسطے انسانی فکرو ادارک کامتقاضی (تقاضا کرنے والا)ہوتا ہے۔وہ سبق آموز اور موثر ہوتا ہے۔سلیمان کی امثال میں دو امثال میں دو خاصیتیں ہیں۔
حصہ اول۔ امثال کا مصنف خُدا کو سب علوم کا منبع تسلیم کرتا اورکہتا ہے کہ انسان کو دانش خُدا شناسی سے حاصل ہوتی ہے۔نیز کہ انسان کا سب سےاول کام یہ ہے کہ وہ خُدا کو پہچانے جیسے کہ (امثال ۹باب ۱۰)آیت میں آیا ہے کہ خُداوند کا خوف دانائی کا شروع ہے۔اور قدوس کی پہچان فہمید ہے۔خُدا علوم سے پہچانا نہیں جاتا۔بلکہ دانش مند بننے کے لیے خُدا کی پہچان کی ضرورت ہے۔خُدا محض زندگی ہی کا سرچشمہ نہیں۔وہ زندگی کو سب خوبیوں سے مزین و مرتب کرتا ہے۔
حصہ دوئم۔ سلیمان یہ بھی بیان کرتا ہے کہ عبادت میں جو کہ خُدا کی منظورِ نظر ہو۔انسانی فرائض کی ادائیگی بھی ہے۔یعنی کہ انسان اسی وقت خُدا کی عبادت کرسکتا ہے جب کہ پہلے وہ ایک دوسرے کے فرائض باہمی ادا کرے۔کیونکہ ہر نوع کی ناپاکی اور راستی خُدا کےسامنے نفرت انگیز ہے۔سو وہ انسان جو بدی کی پیر وی کرتا ہے وہ خُدا کےحضور جانے کے قابل نہیں اور اس کی دُعا بھی مقبولیت پذیر نہیں ہوتی۔سلیمان ان الفاظ میں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ علمِ اخلاق میں علمِ الہٰی بھی شامل ہے۔اور وہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہو سکتے۔کیونکہ یہ امر محال ہے۔کہ ہم خُدا سے پیار اور اس کی مخلوق سے دُشمنی اور بد سلوکی کریں۔اکثر علماء دنیا علمِ الٰہی کو دیگر علوم سے الگ کرتے ہیں۔لیکن سلیمان یہ ظاہر کرتا ہے کہ سب علوم ایک ہی چشمے سے نکلتے ہیں۔لہذا وہ ایک ہی ہیں۔
چنانچہ دنیاوی علوم اس لیے ناقص ہیں کہ وہ اصلی نہیں ہیں۔بلکہ تمام و کمال نقلی ہیں۔لہٰذا وہ پائیدار بھی نہیں وہ علم جو خُدا کی طر ف سے ہےاصلی ہے۔اور وہی ہماری زندگی میں جزو لازمی جزو لاینفک(وہ حصہ جو جُدا نہ ہوسکے) بن جاتاہے۔اوراس سےجُدا نہیں ہو سکتا ۔بلکہ اس کو زیباش(سجاوٹ) دیتا ہے۔
سوال ۔4:۔ اس کتاب کا خاص مقصد کیا ہے؟
جواب:۔ اس کا مقصد (امثال ۴باب ۱سے ۴ )آیات میں مذکور ہےکہ دانائی اور تادیب سیکھنے کو اور تمیز کی باتیں سمجھنے کو۔ عقل کی تربیت پانے کوصداقت عدالت اور ساری راستی بوجھنے کو۔سادہ لوگوں کو ہشیاری دنیے کے لیےاور جواں کو دانش اور امتیاز سیکھنے کے لیے اس کا مطالعہ کرنا نہایت ضروری ہے۔ انسان صرف خُدا کے فرائض کو ادا کرے۔بلکہ اپنے ہم جنس کےحقوق بھی۔چنانچہ اس کتاب کا خاص مقصد یہ ہے کہ یعنی ہر ایک انسان اپنی زندگی ایسے طور پر بسر کرے کہ وہ اس کے لیے برکت کا سبب ہو۔اور دوسرے لوگوں کا فائدہ بھی ا س سے نکلے۔خُدا کے حقوق انسا نی فرائض سےجُدانہیں ہیں بلکہ باہم و گر لازم و ملزوم ہیں۔
سوال ۔5: ۔امثال کن خاص لوگوں کو ہدایت کرتی ہے۔
جواب:۔ امثال کی کتاب درج ذیل لوگوں کو خاص ہدایت کرتی ہے۔ یہ سادہ لوح ، دانش مندوں اور نا دنوں کو یکساں ہدایت کرتی ہے۔ سلیمان کا خاص منشا یہ ہے کہ سادہ لوگ اور دانشمند انسان بھی آراستہ اور اصلاح یافتہ ہو جائیں۔اور عقل مندی میں ترقی کرتے ہوئےاپنی زندگی خُدا کی مرضی کی بجا آوری میں صرف کریں۔نیز یہ کہ جوان اپنی جوانی کے دنوں کو ان کوموں سے جن میں اس کی پچھلی زندگی کمزوری اور تباہی واقع ہوتی ہے بچائے رکھے۔مثلاً وہ اپنے آپ کو شراب خوری،بری صحبت،ناپاکی،دروغ گوئی اور چوری سے بچا رکھےاور غورو فکر سے اپنی راہ کی خبر گیری کرے۔سلیمان تاکید کرتا ہے کہ وہ ایسی باتوں سے اجتناب کرے۔اور خُدا کاخوف رکھتے ہوئے ہم جنس انسان سے پیار کرے۔اور پاک دامنی، فروتنی، صبرو انکساری اختیار کرے۔اور محنت سے اپنا گزرا کرے۔سلیمان اس کتاب میں دانائی اور صداقت پر بہت زور دیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ زبان کی بڑی خبر داری کرنی چاہئے۔چونکہ صادق کی زبان چوکھی چاندی ہے۔اور شریروں کادل کم قیمت ہے۔صداقوں کے ہونٹ بہتوں کو کھلاتے ہیں۔مگر جاہل لوگ بے دانشی سے مرتے ہیں۔چنانچہ (امثال ۱۰ باب ۲۰سے ۲۱ اور ۲۱ باب ۲۳ آیت) میں لکھا ہے کہ وہ جو اپنے منہ اور زبان کی نگہبانی کرتا ہے وہ اپنی جان کو دق دیواروں سے بچاتا ہے۔دل کی حفاظت کی نسبت یہ آیا ہے کہ اپنے دل کی بڑی حفاظت کر۔
کیونکہ زندگانی کے ایام اسی کے سبب سے ہیں(امثال ۴ باب ۲۳ آیت)۔
نوٹ:۔ یہ کتاب مسیحیوں کے لیے ازبس کہ مفید اور موزوں ہے۔اس کا مطالعہ غورو فکر سے کرنا چاہیے۔تاکہ رہنمائی اوردانش حاصل ہو۔ان امثال کی دل چسپی نظم کی موزوں عبارت سے دو بالا ہوگئی ہے۔اگر اس کا ترجمہ اُردو میں بھی نظم ہی میں ہو ۔تو زیادہ دل چسپ اور مفیدہو گا۔
سوال۔6:۔ سلیمان نے جوانوں کے لیے کون سی باتیں پیش کی ہیں جو ان کے لیے لازمی ہیں؟
جواب:۔ (1)۔ والدین کی فرمانبرداری(امثال ۱ باب ۸ )آیت میں کہتا ہے کہ ''اے میرے بیٹے اپنے باپ کی بات کا شنوا ہو۔اور اپنی ماں کی تاکید کو ترک مت کر''اور (امثال ۴ باب ۱۰)آیت میں وہ کہتا ہے کہ'' اے میرے بیٹے میری سن۔ اور میری باتیں مان تو تیری عمر کے برس بہت ہوں گے''۔یہ آیت پانچویں حکم پر دلالت کرتی ہے۔(امثال ۶ باب ۲۰ سے ۲۳ )آیت۔میں آیا ہے کہ'' اے میرے بیٹے باپ کے حکم کو حفظ کر۔اور اپنی ماں کی تاکید کو مت چھوڑ۔انہیں ہمیشہ اپنے دل میں باندھ رکھ۔اور انہیں اپنی گردن پر باندھ لےکہ جب تو کہیں جائے گا تو وہ تیری رہبری ہوگی۔اور جب تو سوئے گا تو وہ تیری نگہبانی کرے گی۔اور جب تو جاگے گا تو وہ تجھ سے باتیں کرے گی۔کہ حکم چراغ ہے۔اور تاکید نور ہے۔اور تربیت کی ملامت زندگی کی راہ ہے''۔
(2)۔ صداقت اس لیے ضروی ہے کہ صادق لوگ خُدا کی حفاظت میں رہتے ہیں چنانچہ (امثال ۱۰ باب ۳ )آیت میں آیا ہے کہ ''خُداوند صادقوں کی جان بھوک سے ہلاک نہ ہونے دے گا''۔اور( ۱۰باب ۲ ، ۷ اور ۱۱)آیات میں لکھا ہے کہ صادق کے سر پر برکتیں ہیں۔اور صادق کا ذکر بھی برکت کے لیے ہو گا۔کہ صادق کا منہ زندگانی کا چشمہ ہے۔(۱۰ باب ۳۰ )آیت میں یوں فرماتا ہے کہ ''صادقوں کو کبھی جنبش نہ ہو گی لیکن شریر ہرگز زمین پر کبھی نہ رہے گا''۔ پھر( ۱۱ باب ۳۰)آیت میں فرماتا ہے'' صا دق پھل جو ہے۔ سحر زندگی کا درخت ہے۔اور جو نیکی سے دلوں کو مو لیتا اور فریفتہ کرتا ہےدانا ہے''۔
چستی۔(امثال ۱۰ باب ۴ )آیت میں سلیمان کہتا ہے کہ ''وہ جو ڈھیلے ہاتھوں سے کام کرتا ہے۔کنگال ہو جائے گا۔پر محنتی کا ہاتھ دولت پیدا کرتا ہے''۔اور( ۱۲ باب ۲۴ )آیت میں کہتا ہے کہ ''محنتی آدمی کا ہاتھ حکمران ہو گا۔مگر سست آدمی خراج گزار رہے گا''۔پھر( ۱۸ باب ۹ )آیت میں کہتا ہے کہ ''وہ جو سستی کرتا ہے فضول خرچ کا بھا ئی ہے''۔اور( ۶ باب ۶ سے ۸)آیات میں کہتا ہے کہ'' اے کاہل آدمی چیونٹی کے پاس جا۔اس کی روشیں دیکھ اور دانائی حاصل کرکہ اس کا کوئی سردار جا حاکم نہیں پر اس کےباوجود بھی وہ خورش اور دروں میں خوراک جمع کرتی ہے''۔
خوش اخلاقی، زناکاری ، ہر طرح کی ناپاکی ،بد دیانتی ، بے وفائی ،دغابازی، فریب، چوری اور درو غ گوئی سے وہ مجتنب(اجتناب کرنے والا،پرہیز برتنے والا) ہو۔کیونکہ یہ ساری باتیں خُداوند کے حضور میں نفرت انگیز ہیں۔اور آدمی کو مجتنب لعنتی بناتی ہیں۔
راست روی ۔(امثال ۶باب ۱۶ سے ۱۹ )آیات میں سلیمان فرماتا ہے کہ'' خُداوند کو چھ چیزوں سے نفرت ہے۔ سات ہیں جن اس کی جان کو نفرت ہے۔اونچی آنکھیں، جھوٹی زبان ، بے گناہ کا خون بہانےوالے ہاتھ،دل جو برے منصوبے باندھتا ہے،پاؤں جو جلد برائی کے لیے دوڑتے ہیں،جھوٹا گواہ جو جھوٹ بولتا ہےاور وہ جو بھائیوں کے درمیان جھگڑا برپا کرتا ہے۔
سوال۔ 7:۔ امثال کی کتاب کی تقسیم کریں اور حصوں کی تفصیل کرو؟
جواب:۔ امثال کی کتاب میں پانچ حصے ہیں۔
حصہ اول ۔ (پہلے ۹ابواب )میں ہے۔اس میں تین خاص باتیں ہیں۔
(باب ۱ آیات ۱ سے۶)میں کتاب کا دیباچہ ہے۔جس میں مصنف کا نام عہدہ اور اس کی تصنیفات کے فوائد درج ہے۔
باب اول کی ساتویں آیت سے باب ساتویں آیت کے اخیر تک الٰہی دانائی کی طرف سے ایک عمدہ اور دل چسپ واعظ ہے۔جس میں باپ اپنے بیٹے کوخُدا کی اخلاقی حکومت کی نسبت تعلیم دیتا ہے۔شروع میں باپ بیٹے کی توجہ مندرجہ ذیل الفاظ کے ذریعے مبذول کرواتا ہے۔کہ خُداوندکا خوف دانائی کا شروع ہےاور کہ احمق دانائی اور تادیب کو حقیر جانتا ہے۔پھر خود اس سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے میرے بیٹے باپ کی تربیت کا شنواہو۔اوراپنی ماں کی تاکید کو ترک نہ کر کہ وہ تیرے سر کے لیے رونق کا تاج اور گردن کے لیے طوق ہے۔پھر اس حکمت کےاصول سمجھا کر کہتا ہے کہ خُدا کا تخت حکومت انسانی دل ہے۔جس سے وہ اپنی بادشاہت دُنیا میں مستحکم ، پائیدار اور مستقل رکھتا ہے۔جو کہ پھیلتے پھیلتے عالم گیر ہو جائے گی۔
(ابواب ۸ اور ۹) میں دانائی مجسم ہوتی اور جگہ بجگہ کھڑی ہو کر کل بنی نو آدم کی توجہ اپنی خوبیوں طرف متوجہ کراتی ہے۔تعلیم دیتی اور تاکید کرتی ہے کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کی پیر وی کریں۔بعض لوگ گمان رکھتے ہیں کہ یہ مجسم دانائی مسیح ہے۔اور بعض کہتے ہیں کہ خُداوند یسوع مسیح نہ صرف مجسم دانائی ہے بلکہ الوہیت کا سارا کمال اس میں مجسم تھا۔خیر ہم یہ بات تسلیم کر سکتے ہیں کہ مسیح خُداوند دانائی ہی مجسم تھا۔کیونکہ (۱۔کرنتھیوں۱ باب ۲۴سے ۳۰ )آیات میں مرقوم ہے کہ'' ان کے لیے جو بلائے گئے ہیں۔مسیح خُدا کی قدرت اور حکمت ہے۔یعنی وہ ہمارے لیےخُدا کی طرف سے حکمت اور رستبازی اورپاکیزگی اور خلاصی ہے۔یہ دانائی فی الحقیقت الہٰی ہے۔کیونکہ وہ ان کو جو اس کی تلاش کرتے ہیں برکت بخشی ہے''۔چنانچہ( امثال ۸ باب ۳۴سے ۳۵ )میں آیا ہے کہ سعادت مند ہے وہ انسان جو میری سُنتا ہے۔اور جو ہر روز میرے آستانوں پر راہ دیکھتا ہے۔اور میرے دروازوں کی چوکھٹوں پرانتظار کرتا رہتا ہے۔کیونکہ جو مجھ کو پاتا ہے۔وہ زندگی پاتا ہے۔اور وہ خُداوند کی طرف سے فضل حاصل کرے گا۔
حصہ دوئم۔ اس دس یعنی( ۱۰ تا ۱۹ ابواب) ہیں۔جن میں کہ سلیمان کی امثال شروع ہوتی ہیں۔اور اخیر میں شریر کی حماقت اور دانائی کی خوبیاں بیان ہیں۔حصہ دوئم و سوئم میں اخلاقی اصولوں کے عمل اوردرآمد کا طریقہ بیان ہوا ہے۔جن کا ذکر حصہ اول میں ہو چکا ہے۔امثال بتاتی ہیں۔انسان کی طرح اپنے روز مرہ کاروبار میں تو انائی استعمال کرسکتا ہے۔کہ اس کا کام اس کے لیے اور اس کے ہم جنس بھائیوں کے لیےکارآمد اور مفید ثابت ہو۔(امثال ۱۰ باب ۱ سے ۲ )آیات میں کہتا ہے کہ دانش مند بیٹا باپ کو خوش کرتا ہے۔مگر احمق اپنی ماں کے واسطے باعث غم ہے۔ شرارت کے خزانے کچھ فائدہ نہیں پہنچاتےمگر صداقت موت سے رہائی بخشتی ہے۔ناراستی ناصرف اس زندگی میں نقصان دہ ہے۔بلکہ ہم کو خُدا کے حضور بھی نامقبول ٹھہراتی ہے۔چنانچہ گیارہویں باب میں لکھا ہے کہ مکر کے ترازوں سے خُداوند کو نفرت ہے۔لیکن پورے ترازوں سے وہ خوش ہوتا ہے۔قہر کے دن دولت سے کچھ کام نہیں نکلتا ۔پر صداقت موت سے رہائی دیتی ہے۔جس طرح راستبازی زندگی بخشتی ہے۔اس طرح وہ جو بدی کا پیچھا کرتا ہے۔اپنی موت کو پہنچتا ہے۔جن کے دلوں میں برائی ہے۔ان سے خُداوند کو نفرت ہے۔مگر جن کی روشیں سیدھی ہیں۔وہ ان سے خوش ہے۔کہ دیکھ صادق کو زمین پر بدلہ دیا جائے گا۔تو کتنا زیادہ شریر اور گنہگار کو راست گوئی کی نسبت سلیمان کہتا ہے کہ وہ جو سچ بولتا ہے صداقت آشکارہ کرتا ہے۔پر جھوٹا گواہ دغا دیتا ہے۔سچے ہونٹ ہمیشہ قائم رہیں گے۔مگر جھوٹی زبان صرف ایک دم بھرکی(تھوڑی دیر) ہے۔جھوٹے لبوں سے خُداوند کو نفرت ہے۔پر وہ جو راستی سے کام رکھتے ہیں۔ان سے وہ خوش ہے۔
حصہ سوئم۔ اس میں پانچ یعنی(۲۰سے ۲۴ ابواب) ہیں۔یہ عبرت اور رتعلیم کے واسطے ہیں۔اور انسان کو نقصان دہ باتوں سے روکتا اور تاکید کرتا ہےکہ وہ ان باتوں کی تحصیل (حاصل کرنے)میں مصروف رہےجو کہ فائدہ مند اور برکت کا باعث ہیں۔مثلاً (امثال ۲۰باب پہلی آیت) میں ہے کہ ''مے مسخرہ بناتی ہےاور مست کرنے والی ہر ایک چیز غضب آلودہ کرتی ہے۔وہ جو ان کا فریب کھاتا ہے۔دانش مند نہیں''۔( ۲۰ : ۱۷)میں لکھا ہے کہ'' دغا کی روٹی آدمی کو میٹھی لگتی ہے۔پر انجام کار کا منہ کنکروں سے پُر کیا جاتا ہے۔(۲۱: ۶ )میں پھر آیا ہے کہ دروغ گوئی سے خزانہ جمع کرنا ان لوگوں کی جو موت ڈھونڈتے ہیں۔اڑائی ہوئی بطالت ہے۔( ۲۳ : ۲۳)میں نصیحت ہے کہ سچائی کو مول لے اور اس کو نہ بیچ۔اسی طرح حکمت اور تربیت خرد کوبھی۔( ۲۳ : ۲۶)میں لکھا ہے کہ ''اے میرے بیٹے اپنا دل مجھ کو اور تیری آنکھیں میری راہوں سے خوش ہوں''۔(۲۱: ۲۷)میں شریروں کی قربانی کی نسبت ذکر ہے۔کہ وہ نفرت ہےخصوصاً کہ جب وہ بد نشینی سےلائی جاتی ہے۔( ۲۱ : ۰ ۳)میں لکھا ہے کہ کوئی حکمت کوئی فہمید کوئی مشورت نہیں جو خُداوندکے مقابل پیش آئے۔دوسرے اور تیسرے حصوں میں تقربیاً( ۴۰۰ا)مثال ہیں۔جو کہ ہر قسم کی ناراستی انجامِ بد اور راستی کے نیک انجام پیش کرتی ہے۔
حصہ چہارم۔ اس میں پانچ یعنی( ۲۵سے ۲۹ )ابواب ہیں جن میں امثال کا وہ مجموعہ ہے۔جس کی نقل شاہ یہوداہ حزقیاہ کے لوگوں نے کی تھی۔( ۲۵: ۱) میں صاف لکھا ہے کہ اس میں( ۱۳۰) سے زیادہ امثال ہیں۔جو کہ تعلیمی اور نصیحت والی ہیں یہ حصہ سلیمان کی وفات کے دوسو سال بعد تالیف ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ جب حزقیاہ نے ہیکل آراستہ کرکے یہوداہ میں مذہبی بیداری اور اصلاح جاری کی۔(۲۔ سلاطین ۱۸ باب ۳ سے۷ آیات اور۲۔سلاطین ۳، ۱۹ )آیات۔تو اس وقت اس نے ان آیات کے فوائد و محاسن دیکھ کر ان میں سےکئی ایک کی نقل کروائی۔تاکہ وہ اس کے لوگوں میں مشہور اور رائج ہوں۔اور ان سے راہنمائی پائیں۔
اس حصے میں کئی ایک مفید اور سبق آموز باتیں ہیں جو کہ انسان کو بزمی فرائض و آداب کی تعلیم دیتی ہیں۔مثلاً ہمسایہ سے سلوک کی بابت آیا ہے کہ تو اپنے ہمسائے کے ساتھ اپنے دعویٰ کا چرچا کرمگر راز کی بات کبھی اس پر فاش نہ کرتانہ ہو کہ جو کوئی اسے سنے تجھےرسوا نہ کرے۔کسی طرح سے تیری رسوائی مٹانے سے نہ مٹے۔اپنے ہمسائے کے گھر جانے سے اپنے پاؤں اکثر روکے رکھ۔تاکہ وہ تجھ سے کہیں دق نہ ہو جائےاور تجھ سے نفرت نہ کرنے لگے۔وہ آدمی جو اپنے ہمسائے پر جھوٹی گواہی دیتا ہے۔ایک گوپال ،ایک تیز تیراور ایک تیز تلوار ہے ۔جس طرح شمالی ہوامینہ لاتی ہے۔اس طرح چغلی خوری ترش روی پیدا کرتی ہے۔جھوٹی زبان کی نسبت آیا ہے کہ وہ ان سے کینہ رکھتی ہے۔جن کو اس نے رنجیدہ کیا ہو۔اور خطرناک تباہی لاتا ہے۔
حصہ پنجم۔ اس حصے میں دو یعنی( ۳۰ اور ۳۱ ابواب) ہیں ۔جس میں دو نامعلوم اشخاص یعنی یا قہ کے بیٹے اجور اور لیموئیل بادشاہ کا ذکر ہے۔ان کی نسبت نہ تو پاک کلام میں اور نہ ہی موجودہ تاریخ میں کوئی ذکر ہے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔ان سے سلیمان ہی مراد ہے۔(امثال۳۰ : ۱ )سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرور کوئی ملہم شخص تھا۔اور اس نے اپنی نسبت یہ کہا کہ آدمی کی دانش مجھ میں نہیں ۔مَیں نے دُنیاوی حکمت نہیں سیکھی۔غرض کہ وہ مقدسوں کا علم رکھتا تھا۔لیموئیل کی بابت(امثال۳۱: ۱) میں یوں لکھا ہے کہ لیموئیل بادشاہ کی باتیں وہ الہٰامی کلام جو اس کی ماں نے اس کو سکھلایا۔تیسویں باب میں وہ نصائح (نصیحت کی جمع ،نیک مشورے)ہےجو کہ اجور نے اپنے دو شاگردوں اتی ایل اورا کال کو دیں۔ایکتسویں(۳۱) باب میں وہ نصیحت آمیز کلام ہے۔جو کہ لیموئیل کی ماں اس کو سکھلایا۔
سوال۔8:۔ اس کتاب سے ہم کو کیاخاص تعلیم ملتی ہے؟
جواب:۔ اول۔ خُدا کا خوف رکھیں۔کیونکہ خدا کا خوف دانش کی ابتدا ہے۔
حصہ دوئم۔ والدین کی اطاعت کریں۔کیونکہ حالات کا تطاول(دست درازی ،ستم، غرور) اس پر اثر رکھتا ہے۔نیز اخلاقی طور پر بھی یہ ضروری اور لازم وملزوم ہے۔
حصہ سوئم۔ حکمت اورمعرفت پر دل لگایا جائے۔کیونکہ دانائی لعلوں سے بھی بہتر ہے۔اور ساری چیزیں جن کی تمنا کی جاتی ہے۔اس کے برابرنہیں۔
چہارم۔ز ندگی کی غنایت(نغمہ،موسیقی) کو مدِ نظر رکھیں۔تاکہ ہماری زندگی سے خُدا کے مقاصد بوجہ احسن انجام پائے۔
حصہ پنجم۔ دِل کی بڑی سے بڑی خبرداری کریں۔کیونکہ زندگانی کے انجام اس سے ہیں۔
حصہ ششم۔ منہ کی حفاظت کی جائے کیونکہ وہ جو اپنے منہ کی نگہبانی کرتا ہے وہ اپنی جان کی نگہبانی کرتا ہے۔
حصہ ہفتم۔ انسان راستباز اور صادق و القول ہو۔کیونکہ شریر کی عاقبت(انجام) نیک نہ ہو گی۔شریر کا چراغ بجھایا جائے گا۔مکر کی ترازو سے خُداوند کو نفرت ہے۔مگر جو راستی کے کام کرتے ہیں ان سے وہ خوش ہے۔
حصہ ہشتم۔ شراب خوری سے پرہیز کیا جائے ۔(پرہیز گاری) کیونکہ انجام کار وہ سانپ کی طرح کاٹتی ہے۔اور بچھو کی طرح ڈنک مارتی ہے۔
حصہ نہم۔ والدین کے فرائض کی ادائیگی اشد ضروری ہے۔کیونکہ وہ جو اپنے ماں باپ کو لوٹتا ہےاور کہتا ہے کہ یہ گناہ نہیں وہ غارت گر کا ساتھی ہے۔
حصہ دہم۔ اولاد کی تربیت کی جائے ۔کیونکہ یہ لازم اور انسب ہےکہ لڑکے کی اس راہ میں جس میں اُس کو چلنا ہے۔سویرے یعنی بچپن میں تربیت پائیں کیونکہ جب وہ بوڑھے ہو جائیں گےتوا س راہ سے باز نہ آئیں گے۔وہ جو چھڑی کو باز رکھتا ہے۔بیٹے سے کینہ رکھتا ہے۔مگر وہ جو اس سے پیار کرتا ہے وہ اسے سویرے اس کی تادیب کرتا ہے۔
حصہ گیارہوں۔ برے آدمی کی صحبت سے پرہیز کریں کیونکہ وہ شرارت کی روٹی کھاتا ہےاور اندھیرےکی مے پیتا ہے۔
حصہ بارہواں۔ اپنی زندگی خُدا کے لیے مخصوص کریں کیونکہ زندگی اُسی کی طرف سے ہے۔اور اس سے بحال رہتی ہے۔سو چاہئے کہ اس ہی کی خدمت میں صرف کی جائے۔کیونکہ صادقوں کی روش اس چمکنے والے نیر کی مانند ہے۔جو پورے دن تک روشن ہوتا چلا جاتا ہے۔وہ جو خُداوند کے طالب ہیں کچھ جانتے ہیں۔
واعظ کی کتاب
سوال۔9 :۔واعظ کی کتاب کی تعریف کریں؟
جواب:۔ عبرانی زبان میں اسے'' کو ہلیتھ'' کہتے ہیں۔جو کہ'' کو ہیل'' سے مشتق مونث اسم فاعل ہے۔اس کے معنی ہیں ''مجمع عام میں واعظ کرنےوالا ''اس کے یہ معنی بھی ہیں یعنی '' فراہم کرنا یا دلیل سے کسی بات کو بلانا پایا تکمیل تک پہنچانا''چونکہ یہ لفظ مونث ہے۔ اس لیے بعض لوگوں نے خیال کیا کہ اس سے مراد''مجسم دانائی'' ہے۔واعظ کی کتاب سلیمان نے خُدا سے برگشتہ ہونے اور توبہ تائب کرنے کے بعد تصنیف کی۔برگشتگی کی حالت میں اس نے خود سر ہو کر روحانی تجلی اور برکت سے خود کو محروم رکھاایسی حالت میں وہ اس کتاب کے(۱ باب ۱۶۔۱۸ )آیت میں لکھتا ہے کہ مَیں نے یہ بات اپنے دل میں کہی کہ دیکھ مَیں نے بڑی ترقی کی بلکہ ان سبھوں سے جو کہ مجھ سے پہلے یروشلیم میں تھے۔زیادہ حکمت پائی ۔میرا دل حکمت اور دانش میں بڑا کار رواں ہوا۔پر جب میں نے حکمت کے جاننے اور حماقت اور جہالت کےسمجھنے پر دل لگایا تو پتہ چلا کہ یہ سب ہوا پر چلنا ہے۔کیونکہ اس میں بہت دقت ہے اورجس کا عرفان فراواں ہوتا ہے۔اس کا دکھ بھی زیادہ ہوتا ہے۔سو جب اس کو معلوم ہوا کہ اس کی زندگی حقیقی آرام و سکون سے اور خوشحالی سے مرحوم ہے تو پشیمان ہو کر اس نے توبہ کی اور اپنی بری حالت کی کیفیت دوسروں کی عبرت اور تربیت کے لیے قلم بند کی۔چاہئے کہ ایسے تجربہ سے ہم ہوش میں آئیں۔اور اپنی زندگی کو آراستہ کر یں۔اس کتاب میں یہوواہ کہیں نہیں آیاکیونکہ اس نے اپنی زندگی میں کچھ کام نہ کرنے دیا۔اور اس کی زندگی میں یسوع مسیح از توبہ بلکل کچھ حصہ نہ رکھتا تھا۔فی الواقع ایسی زندگی ایک بڑی بطلان ہے۔(امثال ۲باب ۴ سے ۹ )آیات سلیمان اپنی خود غرضی ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔کہ مَیں نے بڑے بڑے کام کیے۔اپنے لیے عمارتیں بنائیں۔تاکستان لگائے۔باغیچے اور باغ تیار کیے۔ درخت لگائے۔تالاب بنائے کہ ان میں درختوں کا ذخیرہ سینچوں۔ مَیں نے غلام اور لونڈیاں مول لیں۔اور میرے خانہ زاد میرےگھر میں پیدا ہوئے۔مَیں بہت سےگائے بیل اور بھیڑ بکریوں کے گلوں کا مالک تھا۔ایسا کہ مَیں ان سب سے جو میرے سے پہلے یروشلیم میں تھے۔زیادہ مال دار تھا۔مَیں سونا، روپیہ اور بادشاہوں کو دستاویزوں کا خوب خزانہ اپنے لیے جمع کیا۔مَیں نے گانے والےا ورگانے والیاں رکھیں۔اور بنی آدم کے اسباب عیش اور بیگمات اور حرمین فراہم کیں۔سو مَیں بزرگ ہوا۔اور سبھو کی بانسبت جو مجھ سے پہلے یروشلیم میں تھے۔زیادہ ترقی کی۔الغرض سلیمان نے یہ سب کچھ اپنے ہی نفس کے لیے کیارعایا اورملک کی خوشحالی ،فارغ البالی اور خُدا کے جلال اور شان کے لائق کچھ نہ کیا۔خود غرض شخص صرف اپنا ہی خیال ہی رکھتا ہے ۔خُدا سے دور ہو کر انسان ضرور خود غرض اورنفس پرست ہو جاتا ہے۔سلیمان کی خود غرضی( ۱۔ سلاطین ۷ باب ۱ سے۷ ) آیات میں بھی خوب مذکور ہے۔
سوال۔10:۔ واعظ کی کتاب کا خاص مقصد کیا ہے؟
جواب:۔ اس کا خاص مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو ایسا بنائے جا ئے کہ زندگی کی محنت ومشقت صرف اس حال میں برکت کا باعث ہو سکتی ہے کہ جب انسان راست روی اور راستبازی اختیار کرے۔اور اس پر قائم رہےکہ یہ کتاب صاف بتا دیتی ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی مجلسی،اخلاقی اور دینی فرائض کی ادائیگی میں صرف نہ کرے تو وہ بڑی بطلان اور یعنی بطلانوں کی بطلان ہو کر رہ جاتی ہے۔
ایوب کی کتاب ایک شخص پیش کرتی ہے جو کہ دینداری اور اقبال مندی کے لیے مشہور تھا۔شیطان نے خُدا کے حضور اس کی وفا داری پر شبہ کیا۔اور خُدا نے اس کو اجازت دی کہ وہ اس کی آزمائش کرے۔چنانچہ شیطان نے اسے ہر طرح کی ممکنہ مصیبت میں مبتلا کیا۔یہاں تک کہ وہ مصیبت میں مبتلا ہو کر اپنی دین داری اور وفاداری سے اور خاطر جمعی حاصل کرتا رہا۔اور پگلایا اور گلایا جا کرکندن کی طرح خالص اور نرمل نکل آیا۔واعظ کی کتاب بھی ایک شخص کا بیان کرتی ہے۔جو کہ دینی و دنیاوی برکات سے مالا مال اور اقبال مند اور مشہور تھا۔جو کہ عیش پرستی اور دُنیاوی اور لاحاصل لہو لعب میں پڑ کر دینداری اوروفا داری میں قائم نہ رہا۔اور اپنی زندگی کے حاصلات سے بے زار ہو کر پکارتا ہے کہ بطلانوں کا بطلان سب کچھ باطل ہے۔چنانچہ واعظ کی کتا ب یہ ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی خوشحالی اور اقبال مندی اور شہرت ودینداری اور خُداپرستی پر مبنی ہے۔(۱۲ باب ۱۳ )آیت اس کا حاصل کلام اس طرح ہے کہ ''خُدا سے ڈر اور اس کے حکموں کو مان کیونکہ یہ انسان کا فرض اولین ہے''۔
سوال۔11 :۔واعظ کی کتاب کی تقسیم کریں؟
جواب:۔ اس کتاب میں کل بارہ ابواب ہیں۔ جو کہ دو برابر حصوں میں منقسم ہیں۔حصہ اول میں حکمت دانائی اور عیش و عشرت کی بطالت پر ایک عالمانہ ہےاور عمیق تحقیقی نظر ڈالی گئی ہے۔اور نتیجہ یوں بیان ہے کہ ان سے دائمی خوشی اور حقیقی راحت مطلقاً حاصل نہیں ہوتی اورکہ وہ بطلانوں کا بطلان ہے۔حصہ دوئم میں آسمانی یعنی روحانی اور دانائی پیش کی گئی ہے۔اور اس کی نسبت بتایا گیاہے کہ وہ مستقل اور مفید ہےاور انسان کی بہتری و بہبودی کاانحصار اس پر ہے۔
سوال۔12:۔ اس کتاب میں کن باتوں کی تعلیم ہے؟
جواب:۔ (1)۔ ہر ایک نعمت ذاتی ہو خواہ منسوبی خُدا کی طرف سے ہے ۔(۲ باب ۲۴ )آیت میں مصنف کہتا ہے کہ ''انسان کے لیے اچھا ہےکہ وہ کھا ئے پیئے اوراپنی ساری محنت کےد رمیان خوش ہو۔اپنا جی بہلائے۔کچھ بہتر نہیں۔یہ بھی مَیں نے دیکھاکہ خُدا کے ہاتھ کا دیا ہوا ہے''۔
(2)۔ہر ایک کام کے لیے خُدا کی طرف سے ایک خاص موقع ہوتا ہے۔چنانچہ(۸ باب کی ۶ آیت )میں لکھاہے کہ'' اس لیے ہر کام کا ایک وقت اور ایک واجبی طور ہے''۔اور( ۳باب ۱سے ۳ )آیات میں وہ کہتا ہے کہ ہر ایک چیز کا ایک خاص موسم اور ہر ایک کام کا جو آسمان کے نیچے ہے ایک وقت ہےوغیرہ ۔سو چاہئے کہ انسان وقت کو غنیمت جانے اور موقع کی قدر کرےاور اسے ہاتھ سےجانے نہ دے۔
(3) ۔خُدا کی عبادت سنجیدگی سے کی جائے۔جس طرح کہ(۵باب ۱ سے ۸)آیات میں آیا ہے کہ جب تو خُدا کے گھر کو جاتا ہے تو اپنے قدم ہوشیاری سے رکھ۔اور سننے پر آمادہ رہ۔نہ کہ احمقوں کے سے ذبیحے گزرانےپر۔وہ نہیں جانتے کہ وہ زبونی(خرابی) کا کام کرتے ہیں۔اپنے منہ سے بولنے میں جلدی نہ کرو۔اور اپنے دل کو روک کہ وہ شتابی(جلدی) سے خدا کےحضور کچھ نہ کہے ۔کیونکہ خُدا آسمان پر ہےاور تو زمین پر ۔ سوتو اپنی باتیں تھوڑی کر۔
(4) ۔منہ کی خبر داری اشد ضروری ہے۔(۱۰باب ۱۲ سے ۱۳ )آیات۔میں مرقوم ہے کہ دانشمند کے منہ کی باتیں لطیف ہیں۔پر احمق کے ہونٹ اسی کو نگل جاتے ہیں۔اس کے منہ کی باتوں کی ابتدا احمقی ہے۔اور اس کی باتوں کی انتہا فاسد(جھگڑالو،خراب) اُگلتی ہیں۔
(5)۔ جوانی کے ایام میں خالق کی یاد ضروری ہے۔چنانچہ( ۱۲ باب۱)آیت میں تاکید ہے کہ'' اپنی جوانی میں اپنے خالق کو یاد کر۔جب کہ ہنوز برے دن نہیں آئے۔اور وہ برس نزدیک نہیں آئے۔جن میں تو کہے گا کہ ان سے مجھ کو کچھ خوشی نہیں''۔
(6)۔ عدالت کا دن یقینی ہے۔جیسے کہ( ۱۲ باب ۱۴ )آیت میں مذکور ہے ۔خدا ہر فعل کو ہر ایک پوشیدہ چیز کے ساتھ خواہ بھلی ہو خواہ بری عدالت میں لائے گا۔
سوال۔ 13: ۔ واعظ کی کتاب کو سمجھنے کے لیے کن باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے؟
جواب :۔مصنف کی حالت کا ۔مصنف اپنی وہ حالت پیش کرتا ہے کہ جب کہ اس نے خُدا کو چھوڑ کر کوشش کی کہ علم و دولت اور مرتبہ اور شہرت کے ذریعے خوش وقتی و راحت اور سکونِ قلب حاصل کرے۔اس وقت اس نے علم و عقل فیلسوفی اور نفس پر اعتماد کیا۔اور سب جسمانی خواہشوں کو پالااور آزمایااور معلوم کیا کہ یہ سب بطلان ہے۔آخر کاراس نے پھر خُدا کی طرف رجوع کیا۔اور اسے اپنا شاملِ حال کیا ۔اور جی میں سکون و اطمینان اور خوش وقتی حاصل کی۔
سوال۔ 14 :۔ہمیں اس کتاب سے کن خاص باتوں کی نصیحت ملتی ہے؟
جواب:۔ (1)۔ ہم خُدا کو اپنی زندگی سے ہرگز جدا نہ کریں بلکہ ہر بات و ارادہ میں اس کو شامل و شریک کریں۔اور اس کی رہنمائی میں زندگی بسر کریں۔
(2) ۔سوائے خُدا کے اور کوئی ہستی نہیں۔جس سے کہ انسان کےدل کی خواہشات حاصل ہوں اور کامل خوشی اور سلامتی حاصل ہوسکے۔ ہم خُداکا خوف رکھیں اور اس کے احکام مانیں کیونکہ انسان کا فرضِ اولین یہی ہے۔
غزل الغزلات
سوال۔15:۔ اس کتاب کی تعریف کریں؟
جواب:۔ یہ کتاب سلیمان کی تصانیف میں سے ایک ہے۔یعنی اس کے ایک ہزار پانچ گیتوں میں ایک ہے۔عبرانی میں اس کا نام ''شعر ہا سعریم'' یعنی گیتوں کا گیت یا سب سے عمدہ گیت ہے۔سلیمان کا یہ سب سے عمدہ گیت اس اتحاد پر دلالت کرتا ہے۔جو مسیح اور کلیسیا یعنی برگزیدوں کی جماعت کے درمیان ہے۔چنانچہ بائبل کے مولفوں نےاسے اس کو الہٰامی جان کر پاک نوشتوں میں مرتب کیا۔پہلی صدی عیسوی میں ایک یہودی بنام عقیبا نےاس کی نسبت کہا ہے کہ کسی اسرائیلی نے کبھی اس کے الہٰام پرشک نہیں کیا۔نیز کہ دُنیا کے کل ایام میں سے وہ دن سب سے مبارک ہےجس روز یہ گیت لکھا ہے۔اسی صدی میں اکولہ نے اس کا ترجمہ عبرانی سے یونانی میں کیا۔
سوال۔16:۔ اس کتاب کی تفصیل کے بارے میں مفسرین کا کیا خیال ہے؟
جواب:۔ مفسرین نے اس کو تین طرح سے سمجھا ہے۔
حصہ اول۔ بطور تمثیل کے یعنی اس کو تمثیلی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ مسیح کی اور کلیسیا کی باہمی محبت پر دلالت کرتی ہے۔خاص کر اس نسبت پر جو قوم اسرائیل اور خُداوند یسوع مسیح کے درمیان ہے۔اور باہمی اخلاص اور وفا کی مقتضی ہے۔نیز وہ کہتے ہیں کہ دولہا اور دولہن کا اتحاد سچا اور راسخ ہے۔اور اگر ممکن ہو تو ایک دوسرے کے لیے جان دینے اور فدا ہونے کو تیار ہوتے ہیں۔
حصہ دوئم۔ مفسرین اس کو علامتی بھی سمجھتے ہیں۔اور یہ قصہ بیان کرتے ہیں کہ سلیمان بادشاہ نے کہیں ایک دو شیزہ بنام سلومیت کو دیکھا۔جو کہ نہایت خوش منظر اور شکیل اور نسوانی خصوصیت سے مزین تھی۔تو وہ اس پر نہایت ہزار جان سے فریفتہ ہو گیا اورمحل میں لے جا کر چاہا کہ اسے بیگمات میں شامل کرے مگر اس کی نسبت کسی باغبان سے ہو چکی تھی۔اور اس باغبان اور اس جمیلہ میں غایت درجے(انتہائی،حددرجہ) کا تعشق و پیار تھا۔تو جب سلیمان نے اپنی خواہش اس لڑکی پر ظاہر کی تو اس نے تامل سے انکار کردیا۔اور اپنی محبت میں قائم اور محبت کے ساتھ وفادرا رہی ۔جب سلیمان نے اس لڑکی کی وفااور اس کے ایثار پر غور کیا تو مَیں تو پہلے خُدا کو عزیز کھتا تھا۔وہ مجھ پر مہربان تھا۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے بادشاہ بنا دیا۔اور ہر نوع کی ضروریات و برکات سے مالامال کیا۔مگر افسوس کہ میری وفادرای اور محبت کہاں گئی؟مَیں نے اس کو چھوڑا اورعور توں کی پیر وی میں بتوں کی پرستش کی۔غرض کہ وہ سخت نادم ہوا۔اور پھر خُدا کی طرف پھرا۔معافی مانگی اور از سرِنو خدا پر بھروسہ اور اعتماد رکھنے لگااور یہ کتا ب اسرائیل کی تربیت اور ہدایت کے لیے لکھی۔
سوئم۔ مفسرین اسے بطور ڈرامہ یا ناٹک کے سمجھتے ہیں۔اور اس کی یوں تقسیم کرتے ہیں کہ حصہ اول ۔میں پہلے چار باب اور حصہ دوئم میں پانچ سے آٹھ ابواب رکھتے ہیں۔اور کتاب کا مقصد یہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی قوم کثرت ازدواجی کو چھوڑ کر خاندانی زندگی کا لطف اٹھائیں۔ مکرر(دوبارہ)بحال کریں اور اس کا لطف اٹھا ئیں۔نیز وہ کہتے ہیں پہلے چار ابواب میں سلومیت کی محبت کی آزمائش کی جاتی ہے۔
اس طرح کہ محل کی بیگمات اس کے سامنے سلیمان کےوصف اور خوبیاں بیان کرکے چاہا کہ اس کو دام (جال)میں پھنسا دیں۔مگر اس نے ان کی قیل و قال (بات چیت)اور ان کی گفت و شنید سے تنگ آکر کہا کہ مَیں اپنے والدین کے ہاں جانا چاہتی ہوں۔تاکہ ان کی خدمت کروں۔اتنے میں سلیمان آیا اور چکنی چپڑی باتوں یعنی اس کی خوبصورتی اور خوشنمائی کی تعریف بامبالغہ کرکے اس کے سامنے عزت اور دولت کے وعدے کا جال پھلایا۔اور چاہا کہ وہ کسی طرح محل میں رہنے پر راضی ہو جائےمگر اس نے نہ مانا تھا۔سو وہ نہ مانی اور والدین کی عزت اور ناموس اور باغبان کی محبت میں وفادار ٹھہری۔اورسلیمان سے منہ موڑا اور اس کی دولت و حشمت پر قناعت کی لات ماری۔
ابواب پانچ سے آٹھ میں بتایا گیا ہے کہ سچی اور باوفا محبت لالچ یا شے مبادلہ سے کم یا محو نہیں ہو سکتی ۔دولت و عزت جیسی ناپائیدار باتیں اس کو مغلوب و مطیع نہیں کرسکتیں۔بلکہ وہ سب مصائب و مشکلات اور تمام آزمائشوں سے کہیں اعلیٰ اور بعید از تسخیر ہوتی ہے۔اور سب پر غالب رہتی ہے۔اوردائمی اور مستقل ہوتی ہے۔
سوال۔17:۔ اس کتاب کے مدعا تصنیف کی نسبت کیا خیال کیاجاتا ہے؟
جواب:۔ یہ کتاب خُدا کی دائمی محبت جو کہ اسے اپنے برگزیدوں سے اور وفاداری اور اخلاص جو کہ برگزیدوں کو اس سے ہوتاہے۔ ظاہرکرتی ہے۔یا با الفاظ انجیل یوں کہیے کہ دولہا کا تعشق دولہن یعنی کلیسیا کے لیے اور دولہن کا سوزو گداز دولہا یعنی مسیح یسوع کے لیے ظاہر کرتی ہے۔پینٹی ٹیوک یعنی موسیٰ کی پانچ کتابیں صاف و صریح طور پر بتاتی ہیں کہ قوم اسرائیل نے خود کو خُدا کے لیے مخصوص کیا۔
مگر باہمی عہد پر قائم نہ رہی۔بلکہ بتوں کی طرف مائل ہوگئی۔اور خُدا کو چھوڑ دیا۔اور یہ کتاب بتاکید بتاتی ہے کہ برگزیدوں پر لازم ہے کہ خُدا اور حرفِ خدائی کو چاہیں۔اسی سے محبت رکھیں اور اس کی پیر وی کریں۔آمین