#


CHRIST THE CRUCIFIED

BY

THE LATE REV. BUTA MALL


کیونکہ مَیں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ تمہارے درمیان یسوع مسیح بلکہ مسیح مصلوب کے سوا اور کچھ نہ جانوں گا
(۔1-کرنتھیوں2:2)


مسیح مصلوب

ازقلم

پادری بُوٹا مل صاحب

مصنف

فضیلت مسیح،خاتم النبین،مسیح کی دوسری آمد
پنجاب رلیجیس بُک سوسائٹی
انکار کلی ۔لاہور
سنہ 1962ء



پیش لفظ

مسیح کی صلیب مسیحی مذہب کی بُنیاد ہے ۔اگر صلیب کا واقعہ مسیحی مذہب سے نکال دیا جائے تو بس مسیحیت کا خاتمہ ہے۔مسیح کے مخالفوں نے اُس کی صلیب کو اُس کی شان کے خلاف سمجھا اور کئی طرح سے اس کا انکار کیا۔کسی نے کہا وہ مصلوب ہوا ہی نہیں ۔کسی نے کہا اس کا جسم نوری تھا۔صلیب ایک دھوکا رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مصلوب تو ہوامگر مرا نہیں ۔ایسے لوگ سب مسیح کے مخالف ہیں۔ جب خُداوند یسوع نے اپنے مصلوب ہونے کی خبر رسولوں کو دی تو پطرس نے جھنجھلا کر کہا ''ا ے خُداوند تجھ پر یہ ہر گز نہ ہوگا''۔خُداوند یسوع مسیح نے اُس سے کہا ''اے شیطان دور ہو''۔شیطان نے پطرس کے ذریعہ خُداوند کے سامنے ٹھوکر کھانے کا پتھر رکھا۔خُداوند مسیح کی آمد کی غرض ہی تصلیب تھی۔کیونکہ اس کے بغیر نجات ناممکن تھی۔مسیح مصلوب ہوا۔دُنیا کی نجات بخش ایمان یہی ہے کہ مسیح ہمارے گناہوں کے لیے موااور دفن ہوا اور تیسرے دن مردوں میں سے جی اُٹھا ۔چونکہ ان دنوں ایسے مخالف پیداہوگئے ہیں جو خُداوندکی صلیب کے منکر ہیں اس لیے ضرور تھا کہ اس مسئلہ کو تشریح کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جائے ۔اور اس ضرورت کو پادری بُوٹا مل مبشر انجیل چکوال نے پُورا کردیا ہے۔آپ نے ''مسیح مصلوب''میں براہین سامع اور دلائل قاطع سے ثابت کیا ہے کہ مسیح مصلوب ہوا ۔خُداوند یسوع کے اقوال سے۔یہود کے دُعاوی (دعویٰ کی جمع)سے ۔یہودی تاریخ اور رومی تاریخ سے ثابت کیا ہے کہ مسیح فی الحقیقت صلیب پر موئے ۔یقین ہے، کہ یہ رسالہ مسیحیوں اورغیر مسیحیوں دونوں کے لیے مشعل راہ بنے گا۔

آر۔ایم ۔واعظ

۔12-اکتوبر 1934ء

تمہید

مسیح خُداوند کی حیات اوروفات کے متعلق اس وقت تین گروہ معرکتہ آلارا(جنگ آور،زبردست،زور آور)ہیں ۔تیرہ سو (1300) سال سے تواس جنگ میں صرف مسیحی اور محمدی فریقین رہے مگر چودہویں صدی ہجری کے سر پر ایک تیسرے گروہ نےبھی ۔اس رزمگاہ (میدان جنگ) میں قدم ٹکایا ہے ۔یہ گروہ مسیحیوں اور محمدیوں کے درمیان کھڑا ہوگیا ہے ۔اس گروہ کے خالق مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔جنہوں نے مسیح موعود اور مہد ی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

مسیحیوں نے تو کُتب مقدسہ کی سند اور الہٰام کی روشنی میں مسیح خُداوند کی صلیبی موت اور قیامت اور صعود اور آمدثانی کا اظہار کیا ہے ۔اور غیر مسیحی اقوام کی تاریخی شہادتوں کو بھی اپنے دعویٰ کے اثبات میں پیش کیا ،اور ثابت کردیا کہ اس تاریخی واقعہ کا انکار عقل اور انصاف کی ضِد محض ہے۔ ساتویں صدی مسیحی میں حضرت محمدعربی نے مسیح کی صلیبی موت کا انکار کیا اور قرآن کی آیت (وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ)کواس انکار کی دلیل بنایا۔مسیح خُداوند کی وفات اور جی اُٹھنے اور آسمان پر اُٹھائے جانے کاتو قرآن میں صریحاً اقرارموجود ہے۔ملاحظہ ہو(اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ)(سورہ عمران آیت 55)۔( فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ)(سورہ مائدہ آیت117)۔ (وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوۡمَ وُلِدۡتُّ وَ یَوۡمَ اَمُوۡتُ وَ یَوۡمَ اُبۡعَثُ حَیًّا)(سورہ مریم آیت 15)۔لہٰذا مسیح کی وفات اورحیات اور صعود کا قرآن میں انکار نہیں ہے مگر صلیبی موت کا صریح انکار قرآن میں پایا جاتا ہے۔اور حدیثوں کی آڑ میں علماء محمدیہ نے اور بھی اس مسئلہ کی حقیقت کے انکار کے لیے قسم قسم کے قصے اور فسانےتراشے ہیں ۔اور گذشتہ صدی میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے ایک انوکھا راگ الاپا ہے۔

مرزا صاحب کی ساری الہٰامی تصنیفات کالُبِ لباب یہ ہے کہ مسیح ناصریہودی شرارت اور رومی حکومت کے عہد میں صلیب پر تو چڑھائے گئے اور اُس نے سارے دُکھوں کی بھی برداشت کی ۔مگر وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ زندہ ہی صلیب پر سے اُتارے گئے ۔اور وہ غشی کی حالت تھی۔ اس لیے وہ بعد علاج اور معالجہ کے تندرست ہوکر جلیل کو چلے گئے ۔اوربعدہ(اس کے بعد)مُلک کشمیر میں تشریف لے گئے اور عنقریب صد سال وہاں اپنا دین چلا کر شہر سری نگر میں وفات پاگئے۔اور دوسرے مردوں کی طرح زمین میں ہی مدفون ہیں۔اور جس مسیح کی آمد ثانی کا ذکر انجیل اورقرآن اور احادیث محمدیہ میں پایا جاتا ہے، وہ مَیں ہی ہوں اور اپنے دعووں کی تصدیق کے لیے یہودی اور مسیحی کتب مقدسہ کے علاوہ مہدی قادیانی نے قرآن کی تیس آیات پیش کی ہیں اور قادیانی الہٰام کی رمز میں مرزا صاحب نے علماءمحمدیہ کے خیالات اور اعتقادات کی خوب اصلاح کی ہے۔دیکھو (ازالہ اوہام صفحہ 327)لیکن اس (رسالہ اوہام کے صفحہ 273)میں یہ فرماچکے تھے کہ یہ سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن جلیل میں جاکر فوت ہوگیا۔مرزا صاحب اپنے وحی کے فہم کی کمی کی وجہ سے عمر بھر اپنے اقوال کی ترمیم میں مصروف رہے۔

رسالہ ہذا مسیح خُداوند کی صلیبی موت کے اثبات اور حقیقت کا ذمہ دار ہے۔مسیح کی صلیبی موت یروشلیم شہر کا واقعہ ہے۔یہ شہر یہودی قوم کا مذہبی مرکز اور ہمیشہ دُنیاکی تاریخ کاعنصر بنا رہا ہے۔

مذہبی فضا میں یہ شہر ایسا مشہور ہے جیسے نظام شمسی میں آفتاب عالمتاب اور صلیبی واقعہ یہودی اور یونانی اوررومی تواریخ کا ایک ضروری عنصر ہے۔

خُداوند اس رسالے کے وسیلے سے اپنے بندوں کو اپنی معرفت اور نجات کے علم اور فضل کے روح سے معمور کرے ۔آمین

خاکسار

بُوٹامل ۔چکوال

باب اول

دلیل اول

یہودی کتب مقدسہ کی شہادت

مسیح خُداوند کتاب مقدس کے بوجب ہمارے گناہوں کے لئے موا (1۔کرنتھیوں 15: 3)دیکھو (یسعیاہ 53باب؛دانی ایل 9: 24۔27؛ زکریاہ 13: 7؛ زبور 22: 15)یسعیاہ نبی کو یہودی عہد کا انجیلی مبشر کہاجاتا ہے جو نقشہ اس اسرائیلی نبی نے مسیح کی صلیبی موت کا اور مسیح مصلوب کا پیش کیا ہے اُس میں اس بات کا صریح اظہار کیا گیا ہے کہ مسیح موعود گنہگاروں کی نجات کے لیے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ۔اور اُسکی جان گناہوں کی قربانی کے لیے گُزرانی گئی۔داود نبی نے جن دُکھوں اور اذیتوں کا زبور میں ذکر کیا ہے ،وہ مسیح ناصری کےدُکھوں اور اذیتوں کے سوائے کسی اور پر عائد نہیں کئے جاسکتے اورنہ ہی یہودی تاریخ کسی اور شخص کاپتہ دیتی ہے جس پر یہ حادثہ واقع ہوا ہو۔اور دانی ایل نبی کی نبوت میں مسیح موعود کی موت زمانوں کے حساب کے مطابق بتائی گئی ہے۔اور وہ ایسا صاف حساب ہےکہ یروشلیم کی دوبارہ تعمیر کے حکم جاری ہونے سے مسیح کی صلیبی موت تک پورا اُترتا ہے، یعنی (457ق م)سے (33ء)تک (70)ہفتوں کا حساب پورا ہوجاتا ہے۔جو (490)سال کا عرصہ ہے تمام یہودی اور مسیحی اس حساب میں متفق ہیں۔ پھر زکریاہ نبی نے مسیح کی موت کے بارے میں یوں نبوت کی ہے کہ ''اے تلوار میرے چرواہے پر جو میرا ہمتا ہے بیدار ہو۔رب الافواج فرماتا ہے ۔ چرواہے کو مار کہ گلہ پراگندہ ہوجائے ''۔اور نیز موسوی شریعت کی قربانیاں اس بات کی تشبیہ تھیں کہ انسان کی ابدی حیات کسی افضل جان کی موت کے سبب سے ہے۔اگر توریت شریف کی قربانیاں اور رسم ورواج کسی آنے والی حقیقت کی علامت مانی نہ جائے تو اُن کا گُزراننا اور گزراننے کاحکم دینا بے معنی اور بے حقیقت رہ جاتا ہے ۔ان سب رسم ورواج اور جانوروں کی قربانیوں کی تکمیل مسیح ناصری کی صلیبی موت میں دکھائی گئی ہے(لوقا 24: 27۔47)۔

یہودی قوم نے مسیح کی صلیبی موت کی ماہئیت کا نہ جانا اور کلام الہٰی کے حقیقی معنی اورمنشاء کے سمجھنے میں سخت قاصر رہے ،اور بڑی غلطی کا شکار ہوئے ۔اور کتاب مقدس کو اپنی مرضی کے ماتحت بنا کر اس بڑی حقیقت سے محروم رہے حالانکہ اُن کی کتب مقدسہ میں اس حقیقت کا اعلانیہ اظہار کیا گیا تھا ۔اس لیے مسیح خُداوند کی صلیبی موت کا انکار کتب مقدسہ سماویہ سابقہ کی تکذیب اور ہتک(بے عزتی، رسوائی) کا ارتکاب (عمل کرنا)ہے اور خُداکی نظر میں کفر اور الحاد (دین حق سےپھر جانا)اور بے ایمانی ہے۔


۱ ۔اور آج تک جب کبھی موسیٰ کی کتاب پڑھی جاتی ہے تو اُن کے دل پر پردہ پڑا رہتا ہے۔لیکن جب کبھی اُن کا دل خُداوند کی طرف پھرے گا ۔تو وہ پردہ اُٹھ جائے گا (2۔کرنتھیوں3: 15۔16 )۔

دلیل دوم

مسیح خُداوند کی شہادت

انجیل جلیل میں مسیح خُداوند کی اپنی شہادت اپنی صلیبی موت کے بارے میں یہ ہے کہ مجھے ضرور ہے کہ یروشلیم کو جاوں اور بزرگوں اورسردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دُکھ اُٹھاوں اورقتل کیا جاوں ۔اورتیسرے دن جی اُٹھوں (متی 16: 21، 20: 17۔19، 20: 28)مسیح نے اپنی خدمت کے شروع میں اپنی موت کا ایک عجیب اشارہ دیا کہ اس مقدس کو ڈھا دو او ر مَیں اُسے تین دن میں کھڑا کروں گا۔ یہ اُس نے اپنےبدن کے بارے میں کہا تھا (یوحنا 2: 19۔20)صلیبی موت سے پہلے خُداوند مسیح نے کئی اشاروں اور تمثیلوں سےاپنی حقیقی موت کا اظہار کیا(یوحنا 10: 17۔18)اور جب اُس کا وقت نزدیک آیا تو اُس نے اپنے شاگردوں کو صاف صاف کہنا شروع کیا کہ میری موت یقینی ہے (متی 26: 12، 28) اور مسیح نےاپنی موت کی یاد گار میں ایک ایسی رسم مقرر کردی جو اُس کی دوسری آمد تک صلیبی موت کا اظہار کرتی ہے(1۔کرنتھیوں 11: 26)اور تمام دُنیا میں یہ رسم ایمان کے ساتھ مانی جاتی ہے اور اس کانام عشاربانی کی پاک رسم ہے۔اورتمام مسیحی اُمت کاایک متبرک سیکرامنٹ ہے۔یوحنا کی انجیل میں مسیح کو پیتل کے سانپ سے تشبیہ دی گئی ہے جو بیابان میں بنی اسرائیل کی حیات کا باعث بنا اور نیزے پر لٹکایا گیا۔اس تشبیہ میں وجہ شبہ صلیب پر اُٹھایا جانا ہے (یوحنا 3: 15)۔(اَن یَرفع ابن الانسان)اُس نے اپنےتئیں گیہوں کے دانہ سے تشبیہ دی جو زمین پر جاکر مرجاتا ہے۔پس اگر مسیح صلیب پر مرا نہیں تو اس تشبیہ کے کیا معنی ؟ زندگی کی روٹی اور آب حیات کو مسیح کے بدن اور لہو سے تشبیہ دینے کا بھی یہ اشارہ ہے کہ وہ ضرور اپنی موت سے روحوں کوحیات بخشے گا۔مسیح خُداوند کی تعلیم اور کلام کی طرز اور ہر تشبیہ اُس کی صلیبی موت کا اظہار کرتی تھی۔

صلیبی مو ت کا انکار مسیح کے کلام کو نہ سمجھنےکی وجہ سے ہے ۔اور کم فہمی کی دلیل ہے۔مسیح خُداوند کا اپنا قول اور فرمان اور تعلیم سب اُس کی صلیبی موت کا اظہار تھا۔اوراس حقیقت کاانکار مسیح کے کلام کی توہین اور ہتک ہے۔ اور نجات کے مقررہ انتظام کی بے قدری ہے (1۔پطرس 1: 18۔20)اور جو لوگ مسیح کی صلیبی موت کا انکار کرتے ہیں وہ ان یہودی مخالفوں اور راہگیروں کے ہم آغازہیں جوطنزاً کہتے تھے کہ اگر تُو مسیح ہے تو صلیب پر سے اُتر آ اور ہمیں بچا۔اس آواز نے یہودی قوم کو دُنیا میں ایسا ذلیل وخوار کیا ہے کہ اب وہ قوم ایک طعن بن گئی ہے۔لہٰذا صلیبی واقعہ کا انکار ایک ہولناک بات ہے۔

دلیل سوم

صلیبی واقعہ

مسیح خُداوند کی صلیبی موت کا بیان انجیل شریف کے پہلے چار صحیفوں میں تفصیلاً پایا جاتا ہے ۔دیکھو (متی 26۔ 27باب؛ یوحنا 18۔19باب؛مرقس 14۔15؛ لوقا 22۔23باب)یہ بڑا واقعہ مسیح خُداوند کے کام کے آخری ہفتے سے تعلق رکھتا ہے ،اور یہودی اور رومی تواریخ کا غیر معمولی جزو ہے۔اس ہفتے کے سارے واقعات چشم دید گواہوں کی معرفت پاک نوشتوں میں الہٰام سے قلم بند کئے گئے اورتما م بیانات میں ایسی موافقت اور مطابقت ہے کہ یہ ایک ہی آدمی کی قلم سےلکھے ہوئے معلوم ہوتےہیں۔حالانکہ یہ حالات چار مختلف طبعیت اور مختلف لیاقت کے آدمیوں سے مختلف اوقات میں لکھے گئے ۔

متی رسول نے اپنی انجیل(58ء)میں یروشلیم میں لکھی گئی اور مرقس نے (68ء)شہرروم میں اور لوقا نے (60ء)میں قیصریہ میں اوریوحنا رسول نےانجیل یوحنا (90ء)میں افسس میں ۔یہ صلیبی واقعہ یہودیوں کے مشہور اور متبرک شہر یروشلیم میں ہوا ۔یروشلیم شہر یہودی قوم کا مذہبی مرکز اور قدیم دارالسلطنت بھی تھا۔اور ہر زمانہ میں ہر مشہور اور تاریخی واقعہ یہودی تاریخ کا عنصر اور ریکارڈ بن جاتا تھا۔اور یسوع مسیح ناصری بھی اسی شہر میں صلیب پر مارا گیا جیسا اُس نے پیشتر فرما بھی دیا تھا۔دیکھو(لوقا 13: 31۔33)اسی شہر میں مسیح خُداوند یہودی سردار کاہنوں اور یہودی قوم کی بڑی مذہبی مجلس اور ہیرودیس اور پلاطوس حاکموں کی عدالتوں میں یکے بعد دیگر سے حاضر کیا گیا ۔اور اس سارے مقدمہ کی کارروائی گورنمنٹ روم کے دفاتر کی روزانہ یادداشت اور عدالتی اورسیاسی معاملات کا ایک تاریخی عنصر اورریکارڈ قرار دی گئی اورسارے رومی حاکم اس واقعہ کی تصدیق کرنے میں متفق ہیں ۔اور سلطنت روم کے ہر حصے میں یہ صلیبی واقعہ مشہورہوگیاکیونکہ یہ بات کونےمیں نہیں ہوئی (اعمال 25: 19، 26: 26؛ لوقا 24: 18) اور علاوہ ازیں خُداوند مسیح کی موت کے وقت نظام شمسی میں غیر معمولی انقلاب اور عالمگیر ظلمت اور قبروں سے مردگان کا ظہور اوریہودی مقدس کے پردے کا پھٹنا وغیرہ اور اس واقعہ کی حقیقت پر علم ہئیت کےماہرین کی شہادتیں اور اُن کی جنتریوں میں اس ہولناک تاریکی کاتذکرہ اس واقعہ کی حقیقت پر بین دلیل ہے کہ وہ موت ایک عظیم الشان حقیقت کااظہار تھی۔اور مسیح خُداوند کے دُشمنوں کی چشم دید شہادتیں کہ اُس نے اوروں کو بچایا پرآپ کو نہ بچاسکا اس

-------------------------

2۔یہ لوگ مسیح خُداوندکے حواری تھے جن کو مصنف قرآن نے انصار اللہ قرار دیا ہے ۔(قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ)(سورہ عمرا ن آیت 52)۔ (قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ)(سورہ صف آیت 14)۔پس جو لوگ اللہ کی راہ میں اللہ کی راہ میں اللہ کے مددگار تھے ان کی چشم دید شہادتوں کو جھٹلانا اور اُن کے نوشتوں کو غیر معتبر قرار دینا سخت نادانی اور بے ایمانی ہے۔

3۔صلیبی واقعہ کے بعد کی کسی صدی میں ایک رومی ہئیت داننے اس عالمگیر تاریکی کو سورج گرہن قرار دیا۔ مگریہ بات علم ہئیت کے اصول کے خلاف ہے۔کیونکہ پورن ماشی کے دن سورج گرہن نہیں لگ سکتا مسیح خُداوند یہودی عید کےروز چودہ (14)تاریخ کو مصلوب ہوا۔اور یہودی حساب چاند کے حساب کے مطابق تھااور (14)تاریخ چاند کے بدر کاروزتھااور وہ پورن ماشی کا دن تھا۔لہٰذا وہ تاریکی سورج گرہن ہرگزنہ تھا۔بلکہ ایک غیر معمولی حقیقت کا اظہار اور دُنیا کی تاریخ میں معجزانہ انقلاب تھااور کتب مقدسہ سابقہ میں بھی اس کا ایک عجیب اشارہ ہے(عاموس8: 9)۔

صلیبی موت کی صداقت پر آفتاب نمادلیل ہے۔یوحنا حواری اورحضرت مریم اور یوسف ارمتیہ کا رہنے والا اورنیکودیمس یہودیوں کا سردار اورایک رومی صوبہ دار جوصلیبی واقعات کی انجام دہی کا ذمہ دارافسر تھا، اور راہ گیر جو مسیح مصلوب کی تحقیر کرتےاور رومی سرکار کی پولیس کے سپاہی جنہوں نے مسیح کو مصلوب ہوتے دیکھا۔ جب اُس نےسرجھکاکر جان دی (یوحنا19: 30)اس واقعہ کا کیونکر انکار کرسکتے تھے کیونکہ اس واقعہ کے انکار کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔لہٰذا صلیبی واقعہ کا انکارعقل اور کتب مقدسہ کی ضد محض ہے۔


دلیل چہارم

یہودی قوم کی شہادت

ساری دُنیا کے یہودی صلیبی واقعہ کےدن سے ہر زمانہ اورآج تک یسوع ناصری کی موت کو جواُن کے بزرگوں کی معرفت اور رومی گورنمنٹ کے عہدمیں ہوئی مانتے چلے آتے ہیں۔اور بڑے فخر سے اقرارکرتے ہیں کہ قیصر طبریاس کے عہد میں جب پنطس پلاطس یہودیہ کاحاکم تھا ،ہمارے مذہبی سرداروں اور قوم کے حاکموں نےیسوع ناصری کو جس نےمسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا صلیب پر مروا ڈالا۔دُنیا کےجس یہودی سےچاہو دریافت کرسکتے ہو۔اور نیز یہودی قوم کے ایک نہایت مشہور اور عالم اور زبردست فاضل یوسیفس جو (37ء) کےقریب پیدا ہوا اور (70ء)میں یروشلیم کی تباہی کے وقت اس لڑائی میں موجود تھا۔یہ شہادت دیتا ہے کہ

ایک مشہور آدمی یسوع ناصری کو جس نے یہودیوں کے موعود بادشاہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا پنطس پلاطُس
رومی گورنر کی معرفت ہماری قوم کے سرداروں اور فریسیوں نے صلیب پر مروا ڈالا۔

دیکھو کتاب تواریخ یوسفی، جلددوم ،صفحہ 74، مطبوعہ نیویارک۔

پس ایک زندہ قوم کی شہادت جن کے اباواجداد کی معرفت مسیح مصلوب ہوا ۔اس واقعہ کی صداقت پر زبردست دلیل ہے۔اس موقعہ پر ایک اور ضروری بات کا اظہار بھی قابل غور اور دلچسپی سے خالی نہیں ہے ۔اور وہ یہ ہے کہ بعض نادان اورکم فہم لوگوں نے عناد اور حسد کی وجہ سےیہ بات جُہلاء (جاہل کی جمع)میں مشہور کررکھی ہے کہ ایک اورشخص مسیح کی گرفتاری کے وقت پکڑا گیا اور اس کی شکل مسیح کی صورت میں تبدیل ہو گئی۔ اور اُسی نقلی آدمی کو رومی سپاہیوں نے مصلوب کردیا۔عقل مندوں کے نزدیک یہ بات محض مضحک سی ہے۔یہودی لوگ ایسے جاہل اور نادان نہ تھے اور اُن کے سردارکاہن اورفریسی عالم بھی بے وقوف نہ تھے کہ یسوع ناصری کی صلیبی موت کے بارے میں کافی اطمینان نہ کرلیتے۔ انہوں نے تو مسیح کی موت کا پورا یقین کرلیا، اور نہ رومی حاکم جاہل تھے کہ اصلی آدمی کی جگہ نقلی کو پکڑ کر موت کے گھاٹ اُتار دیتے اور نہ ہی اس نقلی آدمی کے جان پہچانوں اور رشتہ داروں کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور نہ ہی مسیح کے حواریوں اور دوستوں اور خویش واقارب کی ساری عمر کی دیداورشنید فوراً جاتی رہی ۔بھلا کسی عقل مند آدمی کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ اس نقلی آدمی نے چار بڑی عدالتوں میں اپنے بچاو کے لیے کوئی داد اور فریاد نہ کی ہو۔

اسی قسم کےبعض نادان لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو شخص صلیب کے دن راستے میں بیگار پکڑاگیا جس کانام شمعون کرینی تھا۔اور مسیح کی صلیب اُ س پر تھوڑی دیر کے لئے رکھ دی گئی ،اسی کو رومی سپاہیوں نے مصلوب کردیا۔بھلا جو آدمی تھوڑی دیر کے لیے بیگار پکڑا جائے اور پھر اُسی کو مسیح کی جگہ صلیب پر لٹکا کر مارا جائے ،وہ پاگل اور مخبوط الحواس تھا جس نے شور نہ کیا۔یا اس کا کوئی واقف کار اور رشتہ دار یروشلیم میں یا اُس کے گردونواح میں نہ تھا جس نے کچھ واویلا نہ کیا ہو،کہ کیوں اس بے قصور غریب پر ظلم کرتے ہو۔کیونکہ وہ کوئی گمنام اور مجرد محض نہ تھا ۔بلکہ کسی نزدیک کے دیہات کانام اور اہل عیال تھا(مرقس 15: 21)اگر کہو کہ یہ سب خُدا کی خفیہ تدبیریں تھیں تو ایسا کہنا خُدا تعالیٰ کی شان کی توہین اور سخت تحقیر کا ارتکاب ہے،کیونکہ خُدا نہ کسی کو فریب دیتا ہے ۔اور نہ کوئی انسان اُس کو فریب دے سکتا ہے ۔خُدا پاک ہے اور اس کے حق میں ایسا کہنا کہ اُس نے یہودیوں کو فریب دیا سخت گُستاخی اوربے ادبی اور بے ایمانی ہے۔یہ بات کسی (خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ)کے حق میں کہی جاسکتی ہے۔

دلیل پنجم

غیر اقوام کی شہادت

یہودی قوم کا خاص تعلق رومیوں اور یونانیو ں کے ساتھ مُدتوں سے چلا آتا تھا۔وہ سب لوگ ایک دوسرے کے تاریخی واقعات کے چشم دید گواہ تھے۔ جن دنوں میں مسیح کی صلیبی موت واقع ہوئی ان دنوں میں یہودی قوم تو رومیوں کے ماتحت تھی اور یونانی لوگ بھی یہودیوں اوررومیوں کے درمیان چولی دامن کا تعلق رکھتے تھے اور رومی اور یونانی لوگ یہودیوں کے غیر قوم اور بُت پرست تھے ۔یونانی لوگ جو عقل اور دانش اور فلسفہ اور منطق کے موجد اور ماہر تھے ،اور ہر بات کی تحقیق میں بال کی کھال اُتارتے تھے اور علم تاریخ اور ہئیت میں اُس وقت کی ساری دُنیا میں بڑھے ہوئے تھے۔ اور دُنیا کی کوئی قوم اُن دنوں میں اُن کے برابر گنی نہ گئی ۔اُنہوں نے اس صلیبی واقعہ کو صحیح تسلیم کیا ۔اُس زمانے اور اُس کے بعد کے سارے یونانی مورخوں نے اس واقعہ کی تصدیق کی کہ یسوع ناصری نامی ایک بڑا مشہور شخص ہوا ہے جس کی پرستش مسیحی لوگوں میں جاری ہے۔کہ جوملک فلسطین میں مصلوب ہوا۔یونانیوں کے نزدیک یہ واقعہ صحیح اور تاریخ کا ایک جزو ہے ۔اور جب مسیحی مشنری اول ہی مُلک یونان میں وارد ہوئے جو دانش اور حکمت میں ضرب المثل تھا تو وہ یہی صلیبی پیغام لے کر وہاں گئے (1۔کرنتھیوں 2: 2)مسیح کی صلیبی موت کے قریب ایک دن جب بعض یونانی لوگ مسیح کو دیکھنے کے لیے یہوداہ دیس میں گئے ۔تو مسیح خُداوند نے اپنی صلیبی موت کا یہ اشارہ اُن کے سامنے پیش کیا گیا گیہوں کا دانہ اگرزمین میں گِر کرمرنہ جائے تو اکیلا رہتا ہے ۔اس عجیب اشارے میں اُس بڑی حقیقت کا اظہار ہے کہ مسیح اپنی موت سےدُنیا کو نجات دے گا۔یونانی دُنیا نے اس واقعہ کو سچا مانا اورقبول کیا اور اس موت کو اپنی اور ساری دُنیا کی نجات کا باعث جانا۔

صلیب کے ابتدائی پیغام میں یونانی عالم ذرا جھجک تو گئے (اعمال 17: 33)مگر بعد میں وہ بہت جلد مسیح خُداوند کے مطیع اورمعتقد ہوگئے ۔اور خُدا کی قدرت کے اسیر ہوکر صلیب کے فتح مند جھنڈے کے آگے ادب سے جھک گئے۔

حُکمائے یونان کاصلیبی واقعہ کی تصدیق کرنا اور مسیحیت کا دامن گیر بننا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ صلیبی واقعہ کا انکار محض جہالت اورنادانی ہے اوریونانی لوگوں کے ساتھ ہی رومی گورنمنٹ کے بڑے بڑے ذمہ دار افسروں کی چشم دید شہادتیں بھی قدر کے قابل ہیں، کیونکہ وہ صلیبی واقعہ کے ذمہ دار بھی تھے ۔اُن دنوں کی چشم دید شہادتوں کے علاوہ بعد کے رومی گورنر اور صوبہ دار جو ملک فلسطین میں حکمران تھے،اور پہلی صدی مسیحی کے حال اور قال سے بخوبی واقف تھے، اُنہوں نے بھی صلیبی واقعہ کی ایسی ہی تصدیق کی جیسی اگلوں نے جن کےوہ جانشین تھے۔اور رومیوں کے ایک مشہور مورخ طاسیطس جس نے رومی قوم کی ابتدا اور سلطنت رومہ کے عروج وزوال پر ایک محققانہ قلم اُٹھائی ہے اورپہلی صدی مسیحی کا آدمی ہے۔ جو (55ء)میں پیدا ہوا۔اُس نے (68ء)تک کے واقعات کا اپنی کتاب میں ذکر کیا۔اُس نے رومی سلطنت کے ہر ایک مشہور واقعہ کا بیان لکھا ہے وہ بھی مسیح کی صلیبی موت کاان الفاظ میں اظہار کرتا ہے کہ مسیحی نامی فرقہ کا بانی ایک شخص مسیح نام کا طبریاس قیصر کے عہد میں پنطس پلاطُس کے ایام میں اور اُس کے حکم سے مارا گیا ۔اُس زمانے کی رومی دُنیا میں اس واقعہ کی بڑی شہرت تھی ۔ملحد فوفری اور سیلس نے بھی مسیحیت کے سخت مخالف ہونے کے باوجود مسیح کی صلیبی موت کا اقرار کیا ہے۔ جو لوگ رومی سلطنت کے اُن ایام کی صحیح تاریخ سے واقف اورعلم تاریخ کے ماہر اور مشتاق ہیں ، وہ خوب جانتے ہیں کہ صلیبی واقعہ کوئی افسانہ نہیں ہے اور نہ ہی بناوٹی کہانی ہے ۔

دلیل ششم

مسیحی عالمگیر اتفاق

صلیبی واقعہ کے دن سے زمانہ حال تک کے تمام مسیحی اس بات میں متفق ہیں کہ اُن کا مسیح یہودیوں کے ہاتھ سے مصلوب ہوا۔ مسیحی دُنیا کی کوئی جماعت اس واقعہ کی منکر اور اس سے متحرف نہیں حالانکہ مسیحی لوگ ہر مُلک اور ہر قوم اور دُنیاکے ہر حصہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور کئی باتوں میں وہ ہر زمانہ میں ہم خیال اور ہم عقیدہ نہیں ہوسکے ۔اور دین کی اُصولی باتوں کے علاوہ وہ بھی فروعات کے تنازعات میں ایک دوسرے سے ہر زمانہ ''ہم چُوما دیگر سے نیست''کے مصداق بنے رہے ۔بلکہ بعض فرقوں میں ایسی بدعتیں بھی پائی جاتی ہیں جو دین کی باتوں میں نقصان دہ ہیں۔اور ان کا رواج اورنفاذبھی کلام الہٰی کے منشاء اور مقصد کے خلاف ہے تاہم تمام دُنیا کے مسیحی صلیبی واقعہ کے دل سے معتقد اور مُقرہیں اور ان میں کسی زمانہ میں بھی اختلاف نہیں ہوسکا ۔بلکہ ساری دُنیا کے مسیحی متفق ہیں کہ یسوع مسیح خُدا کے ازلی علم اور انتظام کے مطابق ہمارےگناہوں کے کفارے میں صلیب پر مارا گیا (اعمال 4: 28؛ 1۔پطرس 1: 18۔19؛ اعمال 2: 23) ۔


4 ۔ آج کل آثار قدیمہ کے ماہرین نے رومی سلطنت کے واقعات کی خوب کھوج کی ہے اور زمین دوز کتبوں سے عجیب بات دریافت کی ہیں جن سے اظہر من الشمس ہے کہ وہ لوگ ہر عجیب اور دلچسپ اور مشہور تاریخی بات کا ضروری ریکارڈ رکھتے تھے ۔گذشتہ سالوں میں ایک یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی کہ قیصر ان روم کے دفتر سے ایک اپیل کا کاغذ برآمد ہوا ہے جس میں یہودیوں کے سردار کاہن اور پنطس پلاطس حاکم کے خلاف ایک نالش ہے کہ اُنہوں نے حسد اور ضد کی وجہ سے بغیر تحقیق کے یسوع ناصری کو صلیب پر مار ڈالا اور اس اپیل کے کاغذ پر مسیح کے رشتہ داروں اور دوستوں کے دستخط ہیں۔

صداقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے کہ خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذکے پھولوں سے

رومی اور یونانی اورنسطوری اور سیرین اور پروٹسٹنٹوں کی تمام شاخیں مسیح مصلوب پر ایمان رکھتی ہیں جن لوگوں کی آنکھوں کےسامنے مسیح مصلوب ہوا۔اور جن کو روح القدس کا الہٰام بخشا گیا ۔جن کی شہادت اور جان نثاری اور وفاداری اور الہٰامی نوشتوں نے ایک عالم کو بیدار کرکے عالم میں غیر معمولی انقلاب پیدا کردیا۔اُن کی باتوں کو ترک کرکے کسی ایسی روح پر اعتبار کرنا جو شمس کو قمر اور بدر کو ہلال قرار دے کاہیکی ایمان داری ہے۔

دلیل ہفتم

صلیبی اثر اور غلبہ

مسیحی دین کی ترقی اور عالمگیری اور غلبہ اور اثر صلیبی واقعہ کی آسمانی شہادت ہے۔قدرت نے مسیح خُداوند کے دُکھوں کی وہ قدر کی ہے کہ انسانی حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی۔ اس واقعہ کے بعد جلد ترہی یہودی اُمت کا شیرازہ بکھرگیا۔اور خُدا نے اُن کو رومی سلطنت کی معرفت سخت ذلیل اور پامال کردیا۔اُن کا شہر اورہیکل اور عبادت مٹادی گئی ۔اور وہ دُنیا کی ہر اطراف جلاوطن اور پراگندہ کئے گئے ۔

اس کے بعد مسیحیت اور یونان میں جنگ چھڑ گئی اور مسیحیت نے اس معرکہ میں یونانی حکمت اور دانش وفلسفہ کے دانت توڑ دئیے اورایک صدی کے اندر مُلک یونان کے تمام مندر اورمعبد مسمار ہوکر مسیحی عبادت خانوں میں تبدیل ہوگئے ۔اور جہاں زیوس اور مشتری اور وینس اور جیوپیٹر کے لیے بخور جلائے جاتےتھے وہاں صلیبی ایمان کا جھنڈا لہرانے لگا۔اور بڑے بڑے عالم اور نامور خادم الدین سرزمین یونان نے مسیحیت کی خدمت اورصلیبی ایمان کی بشارت اور جانفشانی کے لیے مرد مصلوب کو دے دئیے ۔اور اس کے ساتھ ہی خُدا نے روم جیسی حشمت اورعالمگیر سلطنت کو مسیح مصلوب کا اسیر اورحلقہ بگوش اور دامن گیر بنا دیا ۔رومی معرکہ میں روم کے قیصروں نےاور سلطنت روم کے ہر حصے میں مسیحیت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور مسیحیت کو خون کےلباس میں ملبس کردیا گیا۔اور رومی قوم کی ساری قوت اور شا ن وشوکت مسیح مصلوب کے خلاف استعمال کی گئی ۔مگر صلیب کی شا ن نے رومی اقبال کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا کر دم لیا۔اور دو صد سال کے اندر ہی ساری رومی دُنیا مسیح مصلوب کے آگے جھک گئی ۔اور قسطنطنیہ کا بڑاگرجا اس فتح کی یاد گار اور مسیحیت کے سرپر سُنہری تاج ہے۔اور اس صلیبی پیغام نے تما م مغرب مغرب اورمشرق اور تمام دُنیا کےتخت اور تاج کو اپنا مطیع اور معتقدبنا لیا۔اور اس صلیبی واقعہ اور اس کے عاشقوں کی صلیب برداری نے کروڑ ہا انسانوں کو ہر قسم کے ظلم وستم اور مصیبت اور دُکھ برداشت کرنےکے لیے دلیر بنادیا ۔اور ہر طرح کی ایذارسانیوں میں بہادر بنے رہے ۔اور اپنے مال اور جانوں کو صلیب کے نام پر نثار کردیا ۔اور ایمان کی اچھی لڑائی لڑتے رہے۔اور ہر زمانہ میں اپنے جسموں پر یسوع کے داغ لیےپھرے۔


5 ۔دوسری صدی کے ایک شخص مارشین نامی نے صلیبی واقعہ کا انکار کیا اور اپنی تعلیم کو عوام میں پھیلایا۔مگر وہ بدعت بہت جلد دُنیا سے مٹ گئی ۔اور مارشین خود جامع کلیسیا سےخارج کیاگیا۔

ساتویں صدی مسیحی میں عرب کی وحدت محضہ نے مسیحیت کامقابلہ کیا۔اور مسیح مصلوب کی مخالفت میں ہر ممکن کوشش کی مگر اپنی اُصولی خامیوں اور اخلاقی کمزوریوں کی وجہ سےعربی ملت اس معرکہ میں مسیحیت سےنبردآزمانہ ہوسکی اور شکست کھا کرمسیحیت سے دور ہٹ گئی۔

باب دوم

حقیقتِ صلیب

مسئلہ کفارہ

مسئلہ کفارہ کی قدامت اور حقانیت اور عالمگیری کا کل عالم گواہ ہے۔دُنیا کے شروع سےیہ مسئلہ انسان سے بغل گیر اور اُس کے دین اور ایمان کا ستون بنا ہوا ہے۔ مسئلہ کفارہ انسان کے دل اور دماغ کے ساتھ لگا ہوا ہے اور فطری طورپر یہ انسان کے مذہب کی مضبوط چٹان بن چکا ہے اور ہر شخص کی جبلت میں یہ اعتقاد سمایا ہوا ہے کہ ایک جان کا دُکھ ضرور دوسرے کےسُکھ کا کارن (وجہ)ہے۔اور روزمرہ کے تجربوں اور مشاہدوں میں گزرتارہتا ہے۔موجودات کے ہر طبقے میں اس حقیقت کی نمایاں جھلک اور رمز موجود ہے اور اس مسئلہ کی صداقت پر قدر ت کے ہر کارخانے میں صد ہا اثبات پائے جاتے ہیں اور وہ شخص جو مذہب کا متعقد اور خُدا کی ہستی کا قائل اور اُس معبود حقیقی کا عابد اور خُدا اور انسان کے روحانی تعلقات کا قائل ہے وہ فدیے اور مسئلہ کفار ہ کی حقانیت کو رد نہیں کرسکتا۔انسان مذہبی شخص ہے اور انسان کے مذہب میں اس مسئلہ کو خاص جگہ حاصل ہے اور اس مسئلہ کے انکار سے مذہب کے جگری حصے پر زد پڑتی ہے اور عبادت کے بعض عنصر بے معنی اور غیر موثر اور بے حقیقت رہ جاتے ہیں۔ مذہبی دُنیا میں جانوروں کی قربانیاں اس مسئلہ کی پیش نشانی اور بھاری علامت ہے اور جانوروں کے قربان ہونے سے اس مسئلہ کا حل شروع ہوجاتا ہے ۔لوگ اپنے گناہوں اور تقصیروں کی معافی پانے اور خُدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بکروں اور بچھڑوں وغیرہ کو قربان کرتے تھے اور اب تک بعض مذاہب میں اس قسم کی قربانیوں کا رواج اور نفاذ(لاگو ہونا،جاری ہونا) ہے ۔قربانی کی رسم انسان کو وحی سے حاصل ہوئی ہے اور خُدا نے انسان پر یہ بات ظاہر کردی کہ بغیر لہو بہائے معافی نہیں۔ قبل از طوفان نوح انسان کا دین اور ایمان یہی تھا۔ اور حضرت نوح سے یہ اعتقاد سام کی نسل میں تو اگلوں کی طرح قائم رہا مگر باقی قبیلے اس کے منشا اور مقصد کو قدرے بھول گئے۔آخر ابراہیم اور اُس کی موعودہ نسل یعنی بنی اسرائیل میں تو قربانی ہی کہ رسم مذہب کی جان اور عبادت کا حقیقی عنصر قرار دی گئی اور دُنیا کے دیگر مذاہب اور اقوام میں بھی اس مسئلہ کا اقرار اور قربانی گُزراننے کارواج عالمگیر بنارہا۔البتہ قربانیوں کے طریقوں اور دستوروں میں افتراق (جدائی پیداکردینا، اختلاف)ضروررہا۔

مگر اس مسئلہ کی غرض وغایت میں جملہ بنی آدم کا اتفاق کلی ہے اور سب آدم زاد اس اعتقاد میں متفق ہیں کہ انسان کی جان کا صدقہ دوسری جان ہے گذشتہ زمانوں کی قربانیاں ایک ہی افضل قربانی اور عالمگیر فدئیے کی پیش نشانیاں تھیں۔مگر وہ افضل قربانی جانوروں کی قربانیوں سے قدیم اور خُدا کے ازلی ارادے اورمشورت میں ٹھہر چُکی تھی(1۔پطرس 1: 18۔19)اور یہ بکروں اور بچھڑوں کی قربانیاں آب اور تمیم برخاست کی مصداق تھیں۔انسان کی جان کا فدیہ اور انسانی روح کی قدراور قیمت کا عوضانہ جانوروں کی قربانیوں سےپورا نہیں کیا جاسکتا۔انسان کے گناہوں کی معافی کے لیے برابری کی قربانی کی ضرورت تھی اور انسان کے بدلے انسان کا فدیہ درکار تھا۔مگر وہ انسان جو جملہ بنی آدم کا فدیہ اور بدلہ ہو وہ کیسا اور کس حیثیت کی انسانیت کا مالک ہونا چاہیے تھا۔جس طرح موسوی شریعت میں فسح کا برہ بے داغ ہوتا تھااسی طرح افضل اورحقیقی قربانی کا برہ بھی کامل انسان اور بے گناہ درکارتھا ۔یہودی فسح کا برہ صرف قومی اور عارضی تھا مگر خُدا کا برہ عالمگیر اور تمام بنی آدم کے گناہوں کا کامل کفارہ ہے (یوحنا1: 29؛1۔یوحنا2: 2) موروثی گناہ اور انسانی فطرت کے ضعف (کمزوری)کے باعث سب آدمی گنہگار ہیں کوئی نیکوکار نہیں (رومیوں 13: 10۔18)صرف ایک ہی ہستی گناہ سے پاک اور انسانی فطرت کی کمزوریوں سے مبرا اور مطلق معصوم ہے اور وہ یسوع مسیح ہے جس کی ذات میں گناہ نہیں (1۔یوحنا 3: 15)۔

وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تاہم بے گناہ رہا(عبرانیوں 4: 15)اُس نے حقیقی قربانی کا برہ ہوکر گنہگاروں کے لیے صلیب پر اپنی جان قربان کردی (1۔کرنتھیوں 15: 3؛یوحنا 19: 30؛ رومیوں 8: 3؛ مکاشفہ 5: 19؛ عبرانیوں 13: 13؛ 1۔پطرس 1: 19)اس افضل قربانی کی خبریں انبیاء اسرائیل کی معرفت اس کے ظہور سے صدیوں پیشتر دی جاچکی تھیں (یسعیاہ 53باب؛زکریاہ 13: 7؛دانی ایل 9: 24۔27؛ زبور22: 15)۔اور جو کام شریعت جسم کی کمزوریوں کی وجہ سےکمزور ہوکر نہ کر سکی وہ خُدا نے کیا اور اپنے بیٹے کو انسانی جسم کی صورت میں بھیج کر گناہ پرسزا کا حکم کردیا (رومیوں 8: 3)۔

(2)۔انسان گنہگار ہے مگر اس کی حس میں ایک تمناہے ۔ابدی زندگی اور وہ زندگی فانی چیزوں سےحاصل نہیں ہوسکتی(1۔پطرس 1: 18۔20)باوجود گنہگار ہونے کے بھی انسان خُدا کے فضل اور کرم کی دولت سے مایوس نہیں ہوتا ۔اُسے اپنی محتاجی کا احساس ہےاور وہ سمجھتا ہے کہ نجات خُدا کے مفت فضل سے ملتی ہے اور فضل بھی اس کے ازلی انتظام کے ماتحت گنہگار کو حاصل ہوتا ہے اور خُدا کے برے کےذبح ہونے اور کفارہ دینے سے وہ انتظام کامل ہوا، کیونکہ بغیر لہو بہائے معافی نہیں (عبرانیوں 9: 27)اس لیے مسیح خُداوند نے اپنی جان بہتوں کے لیے فدئیے میں دے دی اور اُس کا خون ہمارے سب گناہوں کومٹا دیتا ہے (1۔یوحنا 1: 17، 2: 2) انسان نافرمانی اور برگشتگی کے باعث الہٰی قُرب اور رفاقت سے محروم ہوگیا (پیدائش 2: 23؛ لوقا 15: 14؛ افسیوں 2: 12) اب وہ محض اپنی کوشش اور مردانگی یعنی اعمال حسنہ سے خُدا کے پاس آنہیں سکتا۔اُس نے مسیح میں ہوکر انسان کے ساتھ اپنا میل ملاپ کرلیا اوراس ملاپ کے باعث ایمان کی شرط پر اُن سب کی تقصیریں معاف کردیں (2۔کرنتھیوں 5: 19)مسیح خُداوند جو ۔۔۔۔خُدا اور انسان کا درمیانی ہے اُس نے اپنے خون سے جُدائی کی دیوار کو مسمار کردیا ۔اور انسان کو خُدا کی قربت اور حضوری کا شرف بخش دیا۔اور ہبوطِ نسل انسانی کا بدنما داغ ایمان داروں کی ذات سے اُڑ ا دیا گیا ۔خُدا کی قربت کا احسن اور افضل وسیلہ قربانی ہی ہے (عبرانیوں 9: 7)مسیح کی صلیبی موت کے وقت ہیکل کے درمیانی پردے کے پھٹ جانے سے یہ ظاہر کیا گیا کہ اب سب گنہگاروں کےخُدا کے پاس آنے کی راہ کھل گئی ہے (متی 27: 51) کیونکہ جس پاک اور آسمانی مسکن کی یہ زمینی ہیکل علامت تھی اُس میں حقیقی سردار کاہن گنہگاروں کی شفاعت کے لیے اپنا ہی خون لے کر ایک ہی بار داخل ہوگیا ہے ، تاکہ گنہگار انسان کی مخلصی کی راہ کھول دئے (عبرانیوں 9: 10)اس لیے جو یسوع مسیح کے وسیلے خُدا کے پاس آتے ہیں وہ کامل اور ابدی نجات میں اور مسیح خُداوند کی شفاعت سے جت کے وارث بن جاتے ہیں (عبرانیوں 6: 25)۔

(3)۔گناہ ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے ۔اور ساری دُنیا اس بوجھ تلے تڑپ رہی ہے او ر درد زہ میں تڑپتی ہے (رومیوں 8: 22؛ عبرانیوں 12: 1)اگر انسان کے گُناہ بخشے نہ جائیں تو وہ ان گناہوں کے تلے دب کرابدی موت یعنی جہنم میں ڈالا جائے گا۔یہ سچ ہے کہ جو بوجھ کسی ناتوان اور کمزور کی طاقت سے بڑھ کر اور اس کی برداشت سے باہر ہو اُس سے رہائی اور خلاصی پانے کے لیے دوسری طاقتور اور توانا ہستی کی امداد کی ضرورت ہے۔گناہ بھی ایک بھاری بوجھ ہے اور کوئی گنہگار کسی دوسرے گنہگار کا بوجھ اُٹھا نہیں سکتا مگر وہی جو خود گناہ کے بس میں ہیں کوئی نیکوکار نہیں یہ فتویٰ خُدا کا اپنا صادر کیا ہوا ہے (زبور 14: 2؛ زبور 53: 72؛ رومیوں 3: 10۔18)یسوع مسیح خُدا کا بے داغ برہ ہے جس نے جہان کے گناہ اُٹھا لیے (یوحنا 1: 29) اس لیے اس نے یہ دعوت دی کہ جو گناہ کے بوجھ تلے کراہتا ہے میرے پاس آئے اور گناہ کے بوجھ سے خلاصی پاکر ابدی آرام میں داخل ہو(متی11: 28)۔

(4)۔انسان گناہ آلودہ حالت میں اندھا ہولناک تاریکی میں بھٹکتا پھرتا ہے اور بذاتہ خُدا کی معرفت میں بے بس اور لاچار ہے۔کوئی اور اندھا کسی اور اندھے کو راہ راست پر نہیں لاسکتا ۔مسیح جہان کا نور ہے اور نور تاریکی میں چمکتا ہے اور اُس نےاپنی موت سے گناہ کے اندھیرے کو مٹا دیا (یوحنا 1: 9؛ رومیوں 13: 12۔13) اُس نے موت کو نیست اور زندگی اور بقا کو انجیل سے روشن کردیا(2۔تیمتھیس 1: 10)۔

(5)۔انسان نے نافرمانیوں کے باعث خُدا کوبے حد ناراض کررکھا ہے۔ اس لیے انسان پر خُدا کا غضب اور غصہ بھڑک اُٹھا ہے اور اس ناراضگی کے باعث انسان کے سر پر خُدا کے قہر اور غضب کی تلوار جھوم رہی ہے اورانسان اپنی ذاتی خوبی اور اعمال صالح سے اس قہر اور غضب کو ٹھنڈا نہیں کرسکتا۔انسان کے اعمال حضرت آدم کے خود ساختہ انتظام یعنی انجیر کے پتوں جیسے اور قابیل کے کھیت کے حاصل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ خُداکا مفت فضل مسیح کی قیمتی قربانی کے طفیل حاصل ہوتا ہے (طیطس 3: 5)خُدا بیلوں اور بچھڑوں اور نذر کی قربانیوں سے خوش نہیں ہوتا ۔مسیح کی ازلی اور برابری کی قربانی سےخُدا کا قہراور غضب تھم جاتا ہے، اور خُدا اس مرغوب قربانی سے اپنی محبت کا اظہارکرتا ہے۔(یوحنا 3: 16) اور انسان اس قیمتی فدیے کے طفیل خُدا کی خوشنودی حاصل کرسکتا ہے (عبرانیوں 9: 14، 10: 1۔14)۔

(6)۔مسیح خُداوند کی کفارہ کی موت سے خُدا کا عدل اور رحم بھی ظاہر ہوتا ہے۔عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہر گناہ کا واجب بدلہ خُدا کا قہر اور لعنت ہے۔ انسان گناہ کے باعث جہنم کی سزا کا سزاوار ہے ۔مسیح کی موت سے الہٰی رحمت کا اظہار پایا جاتا ہے ۔مسیح خُدا کا بیٹا اور ہمتا اور محبوب ہے اور خُدا کی باطنی اور ازلی خوشی کا باعث اور تمام محدثات کی علت اور سبب ہے جسے خُدا نے اپنی رحمت اور محبت کے اظہار میں نجات دہندہ ہونے کے لیے بخش دیا اور وہ بخشش ہے بیان ہے(2۔کرنتھیوں 9: 15)۔

(7)۔گناہ کی مزدوری موت ہے (رومیوں 6: 23)آدم اول کی نافرمانی کے سبب سے اُس وقت سے تمام بنی آدم موت کے فتویٰ کے نیچے ہیں۔ (رومیوں 5: 12)اور اپنے فطرتی ضعف اور پیدائش گنہگاری اور قول اور فعل اور خیال کے قصوروں کے باعث اس موت کے بندھن سے آزاد نہیں ہوسکتے۔ موت پر فتح پانے کے لیے ایک فاتح کی ضرورت تھی۔سو یسوع مسیح اکیلا فاتح موت ہے ۔اگر وہ مر کر موت پر غالب نہ آتا اور مردوں میں سے جی نہ اُٹھتا تو اس ظالم موت کے منہ سے انسان کا چھٹکارا ممکن نہ تھا مگر یسوع مسیح کی فدیے کی موت سے انسان پر سے موت کا فتویٰ اُٹھ گیا اور اس کفارہ کی موت سے انسان ابدی حیات کا وارث بن گیا۔موت کا ڈنگ گناہ ہےاور گناہ کا زور شریعت ہے۔مگر خُدا کا شکر ہے جو ہم کو ہمارے خُدا کے وسیلے سے فتح بخشتا ہے (1۔کرنتھیوں 15: 56۔57؛ رومیوں 6: 8؛ 1۔تھسلنیکیوں 4: 14؛ مکاشفہ 2: 11؛ 21: 4)اُس نے موت کو نیست اور زندگی اور بقا کو انجیل سے روشن کردیا۔

مسیح مصلوب

کیا مسیح نے خوشی سے اپنی جان دی ؟

یہ ایک نہایت ضروری سوال ہے ،جس کا جواب مسیح کی اپنی باتوں اور صلیبی واقعات میں موجود ہے (1)۔یسوع مسیح کا اپنا قول ہے کہ مَیں اچھا گڈریا ہوں ،اور مَیں اپنی بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہوں ،اور کوئی مجھ سے چھین نہیں سکتا ۔بلکہ مَیں اُسے آپ دیتا ہوں۔مجھے اس کے دینے کا بھی اختیار ہے ،اور اس کو پھر لینے کا بھی اختیار ہے۔اور یہ حکم میرے باپ خُدا سے مجھے ملاہے۔(یوحنا 10: 15۔17)چنانچہ ابن آدم اس لیے نہیں آیا کہ خدمت لے۔بلکہ خدمت کرے ۔اور اپنی جان بہتیروں کے لیے فدیہ میں دیا(متی 20: 28)پس یہ مسیح خُداوند کا اپنا فرمودہ ہے کہ وہ جملہ بنی آدم کی نجات کے لیے اپنی خوشی سے جان دینے کے لیے دُنیا میں آیا۔اور مسیح خُداوند اپنے قول میں راست اور سچا گواہ ہے ۔(مکاشفہ 3: 14، 1۔یوحنا3: 14، 1۔یوحنا 1: 9؛ 1۔پطرس 2: 24)۔

(2)۔اس لیے وہ عین یہودی عید فسح پر جو بروں کی قربانی کی عید تھی اور مصری چھٹکار ے کی عظیم الشان یادگار تھی ، تیاری کے ساتھ یروشلیم میں داخل ہوا ۔(متی 26باب ؛ مرقس 14باب؛ لوقا 22باب)کو بھی پڑھو۔اگر مسیح خُداوند کو صلیب پر مرنا منظور نہ ہوتا، تو وہ کیوں جان بوجھ کر یروشلیم میں ایسےموقعہ پروارد ہوا ، جب کہ اُس کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس دفعہ یہودی سرداروں اور قوم کے حاکموں نے میرے قتل کا مشورہ کیا ہواہے جیسا کہ اُس نے اپنے شاگردوں کو پیشتر کہہ بھی دیا تھا (متی 16: 21)۔

(3)۔اگر مسیح خُداوند کو صلیبی موت گوارا نہ ہوتی تو اُس نے اپنے بچاو کی خاطر کیوں کچھ انتظام نہ کیا جب کہ اس بات کا کافی امکان تھا۔ کیونکہ اس کے شاگردوں کی تعداد ایسےانتظام کے لیے کم نہ تھی ۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ اُس کے معتقد تھے اور اُس کو مسیح موعود اوراسرائیل کا بادشاہ مان چُکے تھے (یوحنا 12: 12۔13)اور ایک دفعہ اُنہوں نے کوشش بھی کی کہ اُس کو زبردستی بادشاہ بنا دیں (یوحنا 6: 12۔15)اور بہت سے لوگ اُس کی طرف ہوگئے تھے اور یہودی سرداروں کا اقبا ل ہے، کہ دیکھو جہان اس کا پیرو ہوچلا ہے ۔ (یوحنا 6: 12۔15)اور وہ تلوار چلانے میں بھی بُزدل نہ تھے،مگر وہ محض مسیح کے حکم کے زیر فرمان تھے(یوحنا 18: 10)پلاطس کی عدالت میں مسیح کا یہ اشارہ کہ اگر میری بادشاہت اس دُنیا کی ہوتی ۔ تو ضرور میرے سپاہی لڑتے اس بات کی دلیل ہے کہ مسیح خُداوند کے پاس یہودیوں کے مقابلے کا کافی سامان تھا۔ اور اُس کے شاگردوں کی تعداد اُس مخالفت کی تاب لانے کے قابل تھی مگر مسیح نے ایسا نہیں کیا ، کیونکہ اُس کا مرنا ازلی انتظام میں ٹھہر چکا تھا۔(اعمال 2: 23، 4: 28)

(4)۔اگر ہمارے منجی یسوع مسیح کو صلیبی دُکھ منظور نہ ہوتے ، تو اُس نے کیوں عالم بالا کی امداد سے قصداً گریز کیا۔بلکہ اُس نے اپنے حواری کو ایسی مزاحمت سے منع کیا اور کہا کہ اپنی تلوار کو میان میں کر ۔کیا تُو نہیں سمجھتا کہ مَیں آسمان سے اپنے بچاو کے لیے فرشتو ں کے بارہ تمن طلب کرسکتا ہوں جو میرے دُشمنوں کو ہلاک کرسکتے ہیں ۔اور بعدہ (اس کے بعد)بخوشی تمام مسیح خُداوند دُشمن کے ہاتھ میں گرفتار ہوگیا۔یہ بات اُس کی رضا مندی کی بے نظیر دلیل ہے۔

(5)۔ہمارے خُداوند منجی عالمین یسوع مسیح نے یہودی اور رومی عدالتوں میں اس دعویٰ کا علانیہ اقرار اور اقبال کیا جس کے سبب وہ صلیب پر مارا گیا۔اگر اُس کو مرنا پسند اور منظور نہ ہوتا تو کیوں اُس نے مسیح موعود اور ابن اللہ ہونے کے دعوے کو چھوڑ نہ دیا ؟ اور کیوں اپنی رہائی اور خلاصی کا موقعہ کھو دیا؟ اور کیوں اپنے مخالفوں سے صلح اور صفائی نہ کی ،مگر حقیقت اس کے برعکس تھی ۔

(6)۔پلاطس رومی گورنر نے ایک خاص گنجائش یسوع مسیح کے سامنے پیش کی کہ کیا تو نہیں جانتا کہ مجھے تیرے چھوڑ دینے اور صلیب دینے کا بھی اختیار ہے ۔ اگر مسیح خُداوند کو خوشی سےجان دینا ۔منظور نہ ہوتا تو اس کے لیے یہ بڑا قیمتی موقعہ تھا اور وہ اپنی رہائی کے لیے معافی نامہ داخل عدالت کرسکتا تھا۔مگر اُس نے صاف کہہ دیا کہ یہ اختیار تجھے آسمان سے ملاہے اور میری موت ازل سے مقرر شدہ ہے۔

(7)۔جن دنوں میں یسوع مسیح ناصری کے خلاف یہودیوں نے پلاطس حاکم کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا، اُن دنوں رومی سرکار کا طرز حکومت اور قواعد عدالت اور ضابطہ تنظیم اور طریق سماعت ظالمانہ اور تحکم محض جیسا نہ تھا ،بلکہ اُس میں عدل وانصاف کا ضابطہ نظر آتا ہے ،مقدمات کی سماعت کا باقاعدہ انتظا م تھا۔اور عدالتوں میں انتقال مقدمات کا رواج ونفاذجاری تھا۔اور ہر ایک کے جائز حقوق کا پاس اور لحاظ رکھا جاتا تھا۔ اپیلوں کے لیے ہائی کورٹ میں فریاد کی راہ کھلی رہتی تھی۔ اور آخری فیصلہ کے لیے قیصر روم کا درکھلا رہتا تھا۔اور قانون وکالت کا رواج ونفاذتھا۔بیقاعدگی اور انتہائی ناانصافی اور بے ضابطہ کارروائیوں کے خلاف شہنشاہ عالی کے ہاں اپیل ہوسکتی تھی۔ اگر مسیح خُداوند کو جبراً اور اُس کی اپنی رضا مندی کے بغیر صلیب دیا جاتا تو یہ تو وہ کسی اعلیٰ عدالت میں انتقال قدمہ کی درخواست کرتا یا قیصر روم کے ہاں اپیل دائر کردیتا ۔جیسے مقدس حواری قیصر کے ہاں اپیل کرکے یہودیوں کی شرارت سے بچ گیا۔

(8)۔اگر مسیح خُداوند کی موت عام انسانوں کی سی ہوتی اور وہ اپنی خوشی اور رضامندی سے جان نہ دیتے تو اس وقت ایسی باتیں واقع نہ ہوتیں جو بے حد حیرت اور تعجب کا باعث تھیں ۔مثلاً ایک ہولناک اور عالمگیر تاریکی ۔زمین کی لرزش اور پتھروں کا پارہ پارہ ہونا اور قبروں کا کھل جانا اور یہودی مقدس کے پردے کا پھٹنا وغیرہ ایسے غیر معمولی واقعات ہیں جو کسی اعلیٰ حقیقت کے اظہار کی دلیل ہیں۔اور اس امر کی بین دلیل ہیں کہ وہ مورت نرالی اور خُدا کی ازلی مشورت اور تجویز کی موت اور جملہ بنی آدم کے گناہ کے کفارہ کی موت تھی۔ ورنہ ایسی غیر معمولی حقیقتوں کے اور کیا معنی ہوسکتے ہیں۔

(9)۔مسیح کے مقدس حواریوں کی زندگی کی تبدیلی اور جان نثاری اور صلیب برداری اور ایمان اور صبر اور اُمید اور دلیری اس بات کی بے نظیر دلیل ہے کہ اُن کے مالک نے اُن کی خاطر خوشی سے اپنی جان قربان کی ہے۔ اس موت کا حواریوں اور سب مسیحی مومنین پر ایسا اثر ہوا کہ وہ خُود بخود صلیب بردار ہوگئے ۔اور مرنے تک وفادار رہے۔حواریوں کے الہٰامی نوشتوں سے یہ آشکارا ہے۔کہ اُن کوکامل یقین ہوگیا کہ مسیح کی موت رضا الہٰی اوراُس کی اپنی خوشی سے تھی۔ اس لیے اُنہوں نے مسیح کی موت کو اپنی موت جانا اور وہ ہر وقت اپنے جسموں پر یسوع مسیح کے داغ لیے پھرتے تھے۔

(10)۔یہودی اور یونانی اور رومی دُنیا پر مسیح خُداوند کی فتح بھی اس بات کی آفتاب نمادلیل ہے کہ وہ موت دُنیاکی بطالت اور بُت پرستی اورجہالت کو مٹانے اور گنہگاروں کو خُدا کے ساتھ ملانے کے لیے تھی ۔اور مسیح کی صلیبی موت میں اس کی دائمی فتح کا راز تھا جواُسکے جی اُٹھنے سے افشاں ہوگیا۔پس اب جو یسوع مسیح میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں ۔کیونکہ زندگی کی روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کردیا ۔اس لیے جو کام شریعت جسم کے سبب کمزور ہوکر نہ کرسکی ،وہ خُدا نے کیا ۔اُس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلودہ جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لیے بھیج کر جسم میں گناہ کی سزا کا حکم دیا (رومیوں 8: 1۔2)۔مسیح کا خون جس نے اپنے آپ کو ازلی روح کے وسیلے خُدا کے سامنے قربان کردیا ،تو تمہارے دلوں کا مردہ کاموں سے کیوں نہ پاک کرے گا ۔تاکہ زندہ خُدا کی عبادت کریں(عبرانیوں 9: 14)اور وہی ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے (1۔یوحنا 2: 2)۔

یہودی کیوں مسیح خُداوند کے مخالف تھے؟

علمائے بنی اسرائیل اور اُن کےسرداروں نے یسوع ناصری کو مسیح موعود نہ جان کررد کیا وہ ہمیشہ اُس کی مخالفت میں لگےرہے اور اس عناد اور مخالفت کی وجہ سے اُنہوں نے اُسے رومی حکومت کی مدد سےصلیب پر مارڈالا۔اور جب یسوع خُداکی قدرت ومشورت ازلی کے موافق مردوں میں سے جی اُٹھا اور آسمان پر اُٹھایا گیا تووہ لوگ مسیح کے حواریوں اورپیرووں کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے اور جب تک اُن کی ہیکل اور شہررومیوں کے ہاتھوں تباہ نہ ہوئے وہ اپنی ضد اورشرارت سے باز نہ آئے اعمال کی کتاب زیادہ تر یہودی مخالفت کا اظہار کرتی ہے۔یہودی قوم کی اس مخالفت اور عناد کا بیان وجوہ سطور ذیل میں ہدیہ ناظرین ہیں جو ہر زمانہ کے مخالفین مسیح پر بھی عائد ہوسکتے ہیں:۔

پہلی وجہ مسیح کی تعلیم :۔

(1)۔خُداوند مسیح کی تعلیم توریت اور صحف انبیاء کے تو خلاف نہ تھی ۔ اُس کا اپنا قول ہے کہ ''مَیں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں ''(متی 5: 17)۔ہاں اُس کی تعلیم البتہ یہودی عالموں کی خود ساختہ تعلیم کے خلاف ضرور تھی،جنہوں نے کلام الہٰی کی تاویل کرنے میں اپنی روائتوں سے کام لے کر اور من مانی شرح کرکے کچھ کا کچھ بنادیا تھا۔ مسیح نے اُن کو علانیہ تنبیہ اور ملامت کی کہ تم نے اپنی روائتوں سے خُدا کا حکم ٹال دیا ہے(متی 15: 3)۔اور اُن فقیہوں اور فریسیوں نے مذہب کی حقیقت کی ظاہری رسوم سے موسوی شریعت کی منشاء کو نہ سمجھنے کی وجہ سےعام لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کردیا تھا ۔اور وہ خود غرضی اور خود پسند ی کے باعث اوروں کو حقیر اور ذلیل جانتے تھے (لوقا 18: 9۔14)ان ظاہر داریوں ،ریاکاریوں ،تکبراور تعصب کے سبب اُس نے اُن کو سخت ملامت کی تھی (متی 15: 1۔8؛لوقا 11: 52)ایسے لوگ دین داری کی صورت میں خُدا کی قدرت کے منکر اور منافق تھے۔ یرمیاہ نبی اور حزقی ایل نبی نےاُن کو لوگوں کےاندھے چرواہوں اور لومڑیوں سے تشبیہ دی ہے ،کیونکہ وہ اپنے مطلب کی تعلیم دیتے تھے۔ اُن کا پیٹ اُن کا خُدا تھا۔ اور وہ خُدا کے لوگوں کی ٹھوکر اور گرنے کا باعث اور خُدا شناسی کی راہ میں سدراہ (روک بننا)تھے۔

(2)۔یہودی اُمت غیر اقوام کو حقیر اور ذلیل جان کر اُن کو خُدا کی برکتوں اور وعدوں میں شریک نہ سمجھتی تھی ۔ اورابراہیم ،اسحاق اور یعقوب کی نسل ہونے کے باعث غیراقوا م دُنیا سے نفرت اور عناد رکھتی ۔مسیح نے اُن کی اس نادانی اور ناواقفی کے خلاف یہ تعلیم دی ، کہ خُدا کا فضل عالمگیر ہے۔اُس کی برکتوں اور وعدوں میں کل دُنیا کے لوگ شامل ہیں ۔اور قوم یہود ایک دروازہ قرار دی گئی ہے جس میں سےسب داخل ہوکر خُدا کی بادشاہی کی ضیافت میں شریک ہوں گے (متی 8: 8۔13؛لوقا 4: 25۔29؛ متی 20: 1۔16؛ لوقا 4: 22)۔

(3)۔خُداوند مسیح نے ایک عجیب تمثیل سے یہودیوں کو آگاہ کیا کہ تم نے خُدا کی مرضی بجالانے میں سخت سرکشی کی اور جو لوگ تمہارے پاس بھیجے گئے۔تم نے اُنہیں سخت بے عزت اور رسوا کیا۔اس لیے خُدا کی بادشاہی تم سے لے کر اوروں کو دی جائے گی ۔اور وہ اس تمثیل کے مطلب سے ایسے ناراض ہوگئے کہ اُس کی گرفتاری کی کوشش میں لگ گئے (متی 21: 33۔43)۔

(4)۔اُس نے یہودیوں کو اُن کے اباواجداد کی طرح عہد شکن اورنافرمان قرار دیا کیونکہ اُنہوں نے خُداوند سے عہد باندھ کی عہد شکنی اور بے وفائی کی اور غیر اقوام کو جو پہلے نافرمان تھے۔ تائب اورفرمانبردار قرار دیا (متی 21: 28۔32) اس تمثیل میں مسیح نے غیر اقوام تائب گنہگاروں کو فرمانبردای کی وجہ سے اُمت اسرائیل پر فضیلت دی اس لیے اگلی تمثیل سُنتے ہی وہ غصے اور غضب سے بھرگئے۔

(5)۔مسیح یہودی قوم کی تباہی اورزوال کی خبر دی اور اُنہیں آگاہ کیا کہ چونکہ تم نے اپنی سلامتی کے تمام موقعوں کو کھو دیا اور اپنے دلوں کو سختی کے باعث اپنے گناہوں کا پیالہ بھردیا ہے، اس لیے تمہارا گھر تمہارے لیے ویران چھوڑا جاتا ہے ۔اور سب زمانوں کے راستبازوں اور مقتولوں کا بدلہ تم سےلیا جائے گا (متی 23: 35۔38)اور خُدا کا تاکستان تم سے چھینا جائے گا۔اور اوروں کو جو تم سےزیادہ پھل لائیں دیا جائے گا(متی 21: 33۔43)۔

(6)۔علمائے یہود نے بہت دفعہ مسیح کو اُس کی باتو ں میں پھنسانے کی خاطر اُس سے ایسے سوال کئے جو اُن کی دانست میں لاجواب تھے ۔مگر مسیح کے جوابوں سے وہ ایسے دنگ اور حیران ہوگئے کہ دوبارہ بولنے کی جرات نہ کرسکے اور حسد اور کینہ کی وجہ سے اُس کے مارڈالنے کی کوشش کرنے لگے (متی 22: 15۔46؛ لوقا 10: 25۔37؛ لوقا 18: 18۔24؛ متی 19: 3۔9)۔

(7)۔جن نبیوں اور راستبازوں کی قبروں کو یہودی لوگ سنوارتے اور اُن کی تعظیم کرتے تھے مسیح نے اُن کی نسبت صاف کہا ،کہ اُن کو تمہارے باپ دادوں نے قتل کیا اور تم اُن قاتلوں کی اولاد ہو۔اس لیے وہ ناراض ہوگئے ۔اور صحیح باتوں کی برداشت نہ کرسکے ۔اُن کے دل تعصب ۔ حسد ۔ضد اور بغض سے سیا ہ اور سچائی سےمتنفر رہتے تھے ۔

دوسری وجہ ،مسیح کے دعوے:۔

(1)۔یہودی سردار اور قوم کے بزرگ مسیح خُداوند سے چِڑ گئے۔کیونکہ مسیح نے اپنے تئیں ہیکل کا مالک قرار دیا (یوحنا 2: 1۔17، متی 21: 12۔13)ہیکل یہوواہ کا گھر تھا۔اور مسیح نے یہوواہ ہونے کا دعویٰ کیا اس لیے یہودیوں کو یہ بات ناگوارمعلوم ہوئی۔اگر وہ لوگ کلام کی روشنی میں اس دعویٰ کی تحقیق کرتے تو اس ٹھوکر سے بچ جاتے ۔بہت سے لوگ اب تک دُنیا میں پائے جاتے ہیں جو اس دعویٰ کی حقیقت سے ناواقف ہونے کی وجہ سے صرف اعتراض کرنے کے عادی ہیں۔

(2)۔مسیح نے دعویٰ کی مَیں خُدا کے تاکستان کا مالک ہوں ۔جتنے مجھ سے پہلے آئے وہ سب نوکر تھے ۔اور مَیں بیٹاہوں (متی 21: 37) یسعیاہ 5 باب کی الہٰامی شرح کے مطابق بنی اسرائیل خُدا کا تاکستان تھے۔ اور مسیح نےاپنے تئیں اس تاکستان کا مالک قرار دے کر اپنی الوہیت کا دعویٰ کیا۔کتب مقدسہ کے صحیح معنی نہ سمجھنے کی وجہ سے یہودیوں نے اس دعویٰ کو کفر قرار دیا۔

(3)۔مسیح نے موسیٰ ،داود ،سلیمان اور یونس پر اپنی فوقیت ظاہرکی (متی 12: 41۔43؛ یوحنا5: 46؛ متی 22: 45۔46، متی 11: 30۔32) یہودی اُمت موسیٰ کو سب سےبڑا نبی ۔داود کو بڑا بادشاہ ۔سلیمان کوبڑا عاقل اور یونس کو بڑا معجزہ کہتے تھے ۔اس لیے وہ ناراض ہوئے اور اس میں اپنے نبیوں اور بادشاہوں کی ہتک اور توہین خیال کرکے مسیح کے مخالف ہوگئے ۔اگر وہ الہٰام کی روشنی میں پہلے بزرگوں اور مسیح موعود کا مقابلہ کرتے تو ایسے گناہ کے مرتکب نہ ہوتے ۔مگر وہ تو ظاہر کےمطابق فیصلہ کرنے کے عادی ہوچکے تھے ۔اور کتاب مقدس کی معنوی تحریف کرنے میں بڑے ہوشیار تھے (متی 23: 16۔22)۔

(4)۔مسیح نےبااختیار اور اسرائیل کا منجی ہونے کا دعویٰ کیا اوریہودی عالموں اور فریسیوں کے روبرو علانیہ کہا کہ زمین پر گناہ معاف کرنے کامجھے اختیار ہے(متی 9: 6، 11: 26۔30؛ یوحنا 10: 9،14: 16)۔اس دعویٰ کی تصدیق میں یسوع ناصری نےسینکڑوں نشان پیش کئے۔ مگر علمائے یہود کے دل ایسے پتھر ہوگئے تھے کہ آسمانی نشان بھی اُن پر موثر نہ ہوتے تھے۔اور اُنہوں نےمنجی کو ترک کرکے علانیہ کہہ دیا کہ اُس کو صلیب دو۔ اُس کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر(متی 27: 25)۔

(5)۔یسوع ناصری نے مسیح موعود اوراسرائیل کا بادشاہ اور چوپان ہونے کا دعویٰ کیا (یوحنا 10 باب؛ حزقی ایل 34: 23۔24؛ ہوسیع 3: 4؛ لوقا 4: 16۔22؛ متی 21: 15)۔یہودی قوم نے اس دعویٰ کو قبول نہ کیا ۔کیونکہ وہ غیر اقوام قیصروں کی حکومت اور غلامی سے سخت لاچار تھے،اور وہ کسی ایسے مسیح کی آمد کے منتظر تھے جو آکر جلد تر اُن کو رومیوں سے آزاد کرائے۔اور مطلق العنان(آزاد،خودسر) سلطنت کا مالک بنادے ۔اس لیے جب اس دعویٰ کے ساتھ مسیح ے کہا کہ '' لومڑیوں کے لیے بھٹ اور پرندوں کے لیے گھونسلے ہیں مگر ابن آدم کے لیے زمین پر سردھرنے کے لیے جگہ نہیں'' (لوقا 9: 58)تو وہ یہ سمجھے کہ یہ شخص ہمارے لیے کیا کرسکتا ہے؟ اگر یہودی اُمت اپنی کتب مقدسہ میں مسیح موعود کی آمد کے راز ورموز و عمیق معنوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی اور ان معنوں میں مسیح کی تلاش کرتی تو برگشتگی سے بچ جاتی ۔توریت اور انبیاء میں مسیح کی آمد اول اور ظہور ثانی ہر دو کا علانیہ تذکرہ ہے۔آمد اول میں مسیح کا تجسم اورکفارہ کی موت کا بھید تھا۔ اور ظہور ثانی میں اُس کی جلالی حکومت کا بیان ہے۔یہودی عالموں نے کلام اللہ کی تاویل میں تعصب اور ضد سے کام لیا اور مسیح کی دوسری آمد کو پہلی آمد سمجھ کر مسیح کا انکار کردیا۔اور رومی گورنر کی عدالت عالیہ میں پکار کرکہنے لگے کہ اس کو صلیب دے۔ قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔ افسوس ہے کہ مسیح کی مخالفت میں یہ قوم ایسی دیوانی ہوگئی کہ اپنے مسیح کے بجائے بے دین اور بُت پرست قیصر کو اپنا بادشاہ قبول کیا۔اس گناہ عظیم کی سزا یہودی قوم کو اس واقعہ سے (37) سال بعد مل گئی ۔جس قیصر کو مسیح کی جگہ دی گئی اُس کے جانشینوں کے ہاتھوں ان کے شہر ہیکل اور ساری قوم کی تباہی ہوئی ۔ اور اس وقت سے اب تک یہودی قوم اس گناہ کا خمیازہ اُٹھا رہی ہے۔ مسیح کے ہر مخالف کو اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

تیسری وجہ ، معجزات مسیح :۔

مسیح خُداوند کے عجیب معجزات سے یہودی سردار گھبراگئے (یوحنا 11: 45۔54، 12: 9)اُن کو یہ خدشہ پڑ گیا کہ ان معجزات کی وجہ سے سب لوگ اُس پر ایمان لے آئیں گے اور بڑا انقلاب واقعہ ہوگا ۔اُنہوں نے کئی طرح سےاُن معجزات کی مخالفت کی۔

(1)۔اُنہوں نے مسیح کے معجزوں کے خلاف یہ کفر بکا کہ بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سےبدروحوں کو نکالتا ہے ۔اُن کے دل ایسے خراب اور سیاہ ہو گئے کہ مسیح کے فوق العادت کا مول کوشیطانی عمل سےمنسوب کیا(متی 12: 24) اس کے جواب میں مسیح نے وہ دلیل دی کہ فریسیوں کا ناک میں دم آگیا (12: 25۔26، 29)۔

(2)۔اُنہوں نے بہت دفعہ شفا یافتہ لوگوں کو تنگ کیا اور اُن کو ورغلایا کہ وہ اُس بڑی حقیقت کا انکار کردیں (یوحنا 9: 24، 5: 10)مگر اُلٹا ایک شفا یافتہ یہودی نے اقرار کیاکہ مَیں ایک بات جانتا ہوں کہ پہلے اندھا تھا اب بینا ہوں (یوحنا9: 25)یہ کہہ کر مسیح کی قدرت کا اظہار کیا کہ ابتدائے عالم سے کبھی کسی نے اندھے کو شفا نہیں دی مگر صرف مسیح نے (یوحنا 9: 32)اس جواب سے وہ شرمندہ تو گئے،مگر اپنی ہٹ ،ضد اورشرارت سے بھی باز نہ آئے اور اُس شخص کو ہیکل سے خارج کردیا۔

(3)۔جب لعزر نامی ایک یہودی مرد کے چار دن کے بعد زندہ ہونے کی شہرت بجلی کی طرح پھیل گئی اور بہت یہودی مسیح پر ایمان لائے تواُن سرداروں نے اور فریسیوں نے مشورہ کیا کہ لعزر کو بھی جان سے مار ڈالیں (یوحنا 12: 9۔11)یہودی قوم مسیح کے خرق عادت کاموں کا انکار نہ کر سکی (یوحنا 11: 47)تاہم اُن کے دل پتھرہی رہے اور وہ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھتے تھے۔آخر اُنہوں نے رومی حکومت کی معرفت مسیح کو مصلوب کروایا اور جب وہ خُدا کے ازلی انتظام اور مشورت کے مطابق مردوں میں سے جی اُٹھا اور آسمان پر صعود فرما گیا تو یہودی اُمت نے مسیح کے حواریوں اور باقی شاگردوں کو ستانا اور ایذا پہنچانا شروع کردیا۔ستفنس کو پتھراو کیا (اعمال 7باب)اور یعقوب حواری کو تلوار سے قتل کرایا اور بعض قید اور کئی ایک کوڑوں سے پٹوائے گئے اور جب تک اُن کا شہر ہیکل اور قوم تباہ نہ ہوگئے وہ ہر جگہ مسیحیت کا مقابلہ کرتے رہے ۔آخر اُن کی سزا کے ساتھ اُن کی مخالفت کا خاتمہ ہوگیا۔مسیح کے مخالفوں کو یہودی قوم کی عداوت اور سزا سے عبرت پکڑنی چاہیے جو یہودیوں کے ساتھ دُنیا میں ہوا۔تاریخ اس کی شاہد ہے اور باوجود برگزیدہ اُمت ہونے کے وہ سزا سے نہ بچ سکےتو موجودہ مخالفوں کو خُدا تعالیٰ کی طرف سے کیوں ہولناک سزا نہ دی جائے گی جو ایڑی چوٹی کا زور لگاکر مسیح کی مخالفت پر تُلے ہوئے ہیں ۔ایسی ناپاک روحیں ضرور جہنم واصل ہوں گی ۔

چاہیے کہ لوگ تعصب سے پاک ہوکر مسیح کی تعلیمات دُعاوی اور معجزات کا مطالعہ کریں اور جانیں کہ وہ اپنی ہر بات میں کس قدر بے نظیر ہے اور اُس کی بے نظیری اُس کے دعویٰ کی زبردست دلیل ہے۔تعصب کی وجہ سے یہود کی آنکھوں پر پٹی بندھی رہی اور وہ ہلاک ہوگئے ۔پس چاہیے کہ برادران وطن اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اور ابدی راحت وحیات کے وارث بنیں۔

ختم شدہ