#

اورہم نے اسی سے موقوف کئے معجزے بھیجنے کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا تھا۔ (سورہ اسرائیل آیت 59)

Muhammad without Miracles

An argument based on the denial in the Quran of miracles by Muhammad.

Allama G.L. Thakur Dass

محمد بے کرامت

ازروئے قرآن


ازتصنیف پادری علامہ جی ۔ایل ۔ٹھاکرداس صاحب


بجواب


رسالہ معجزات محمدیہ از قرآن مولف مولوی غلا م نبی صاحب امرتسری




پنجاب رلیجس بُک سوسائٹی

انار کلی ۔لاہور


ء1895
#

G. L. Thakkur Dass

1850-1910



دیباچہ

چند ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ مولوی غلام نبی صاحب امرتسری نے ایک رسالہ بنام (معجزات محمدیہ24 صفحہ ) کا مشتہر کیا ۔ہم نے غور سے اس کتاب کو پڑھاتا کہ محمد صاحب بھی کسی صورت نبیوں میں شامل ہوسکیں اور کوئی معجزہ قرآن سے ثابت ہوجائے مگر پھر بھی مایوس ہی ہونا پڑا۔ ناظرین پر واضح رہے کہ جھگڑا تو محمد صاحب اور اُن کے پیروؤں میں ہے اور ہم تو صرف منصف ہیں ۔کیونکہ حضرت تو قرآن میں مکررسہ (کئی بار)انکار کرتے ہیں مگر اُن کے پیرو پریشان سے ہوکر معجزے اُن کے ذمے لگاتے ہیں ۔عجیب معاملہ ہے کہ پیشوا تو کہے نہیں نہیں اور پیرو کہیں ہاں صاحب ہاں باوجود اس کے ہم نے اُن باتوں پر غور کیا ہے جن کو مولوی صاحب نے معجزے کرکے پیش کیا ہے ۔اور اپنی تحقیق کا نتیجہ مولوی صاحب کے اور ناظرین کے نذرکرتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوجائے گا کہ غلبہ پیشوا کو ہی یا اُن کے پیروؤں کو ہماری دلی التماس ہے کہ محمدی برادران کمترین کے اس رسالہ کو بھی خوب غور اور تحقیق سے پڑھیں۔

شروع میں مولوی صاحب نے اہل عرب کے زمانہ جہالت کا جو محمد صاحب کے دنوں میں اور اس سے پہلے تھا ایسا حال کسی کی نظم میں پیش کیا ہے اور اُس پر آپ نے اپنی کئی ایک باتوں کا بہت مدار رکھا ہے خصوصاً ان کا جس کو آپ نے محمد صاحب کے علمی معجزات کرکے بیان کیا ہے جس سے ناظرین دھوکا کھا سکتے ہیں۔ اس میں محمد صاحب کے بغیر اہل عرب کا ایسا حال بیان کیا ہے کہ گویا اُن کو اُس وقت کےمذاہب اورعلوم کی کچھ بھی واقفیت نہ تھی ۔مگر اس میں دھوکا ہے ۔کیونکہ بہتری باتیں اہل عرب جانتے تھے جن کی تقلید پر قرآن میں بھی بہتیر ے بیان درج ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ ستاروں کا علم اُس وقت کی روشنی کے مطابق کم وبیش جانتے تھے۔ خصوصاً وہ جو صائبین (صائب کی جمع ،پہنچانے والا،درست ٹھیک)کہلاتے تھے ۔اور خُدا کو واحد اور خالق مانتے تھے۔اور اُسے اللہ تعالیٰ کہتے تھے۔مگر اس کے سوائے اور ادنیٰ الہٰوں کو بھی مانتے تھے۔یعنی ستاروں اور سیاروں کو اور فرشتوں کی مورتوں کو اور اُن کو الہٰات کہتے تھے یعنی دیویاں ۔اہل عرب کی جہالت بیشتر اسی بات میں تھی۔ اور لوگوں کو ان دیویوں سے ہٹانے کے لیے محمدصاحب درپے ہوئے اور پھر آتش پرست فارسیوں کی بہتیری باتیں عرب میں پہنچ گئی تھیں۔(دیکھو سیؔل صاحب کا انگریزی ترجمہ قرآن دیباچہ اور تفسیر)یہ باتیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اہل عرب ایسے جاہل نہ تھے جیسا مولوی صاحب کا گمان ہے۔انہوں نے بہت سا سامان قرآن کے لیے تیار کررکھا تھا جو محمد صاحب کے کام آیا ۔حتیٰ کہ قرآن میں صرف چند ایک باتیں نئی معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً محمدصاحب کا اپنے تئیں نبی کہنا اور اپنی عورتو ں کی نسبت قواعد مقرر کرناوغیرہ ۔بدیں وجہ ظاہر ہے کہ محمد صاحب اپنے دین کی روشنی اور جہالت میں سوائے چند ایک باتوں کے عموماً شریک تھے۔

مولوی صاحب نے اپنے رسالہ کے آخر میں محمد صاحب کے ایک قول کی خاطر بے فائدہ ڈاکٹر سپرنگر صاحب کا ایک قول نقل کیا ہے۔ہم بھی صاحب موصوف کا ایک قول جو ہمارے دیباچہ کے ساتھ نسبت رکھتا ہے نقل کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے ۔اہل یہود وعیسائیوں کے اثر سے واجبی رائے بابت خُداکے ملک عرب میں پھیل گئی تھی ۔ایک عربی عالم بنام فوس نے بڑی جانفشانی سے خُدا کی وحدانیت سکھلائی ۔محمد صاحب وقت جوانی اس عالم کا جان پہچان تھا۔اغلب ہے کہ اس نے عالم مذکور سے اُس تعلیم کی بابت تربیت پائی ہو۔اُمیہ اور عالموں نے بھی یہی تعلیم دی اور ایسے مشہور معلموں کی باتیں اہل عرب پر یقیناً تاثیر ہوئی ہوں گی۔اسلام محمد صاحب کاکام نہیں ہے وہ اہل عرب کا مشترک قول ہے۔اور محمد صاحب نے اپنے بداخلاق اور ضد اور فریب سے اُس کی ساری تعلیمات کو خراب کیا اور قرآن کی اکثر زشت (بدنما)تعلیمات محمد صاحب کی ہیں۔

مولوی صاحب نے معجزات محمدیہ کو تین قسم میں بیان کیا ہے ۔علمی ،قدرتی اور عقلی۔


معجزات علمی

اس عنوان کے تحت میں مولوی غلام نبی صاحب نے کئی ایک معجزات تحریر کئے ہیں مگر غور وتحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جن باتوں کو آپ نے معجزہ کرکے پیش کیا ہے وہ آپ کے مقصد کے مخالف ہیں۔

قولہ:۔ تین سو سال کی تحقیق کے بعد زمانہ حال کے علمائے سائنٹسٹ اور جیالوجین نے زمین کے بارے میں یہ نتیجہ حاصل کیا ہے کہ یہ اپنے کناروں سے سکڑتی جاتی ہے۔وجہ اس کی یہ بیان کرتے ہیں کہ اول مادہ کشش جو اس میں موجود ہے ۔دوم یہ کہ اُس کی گرمی کے سبب سے سمندر کا پانی کم کرتا جاتا ہے نہیں صاحب سمندر کا پانی نہیں لیکن ہوا سے زمین کی گرمی ہی ہے۔حضرت محمد رسول اللہ نے یہ بیان الہٰام اس مذکورہ حقیقت اور بغیر کسی کی تعلیم ومحنت کے تیرہ سو (1300)برس پہلے بیان فرمادیا۔اور اس نے قریباً آٹھ سو برس اور بھی پہلے اور مصنف جیوفیروں نے تقریباً چھ سو (600)برس پہلے۔یعنی محمد صاحب سے پہلے جیسا کہ (سورہ مائدہ کے 5 رکوع ) میں کیا نہیں دیکھا اُنہوں نے یہ کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو کھٹاتے ہوئے اُس کے کناروں سے ۔بے شک یہ ایک علمی معجزہ ہے۔

اقول:۔ اگر قرآن کا یہی مصنف ہے تو واضح ہوکہ کشش سے اور زمین کی گرمی کم ہونے سے زمین کا وجود سکڑتا ہے ۔بلینڈ فورڈ صاحب اپنے جغرافیہ طبعی میں لکھتے ہیں کہ اس کا اثر بہتیرے صدہا ہزاروں برس تک معلوم نہیں ہوتا لہٰذا یہ حالت قرآن کے بیان کے لیے دلیل نہیں ہوسکتی ۔ باقی رہا خشکی کا کناروں سے گھٹنا سووہ سمندر اور مینہ کے پانیوں سے ہوتا ہے ۔مگر اس صورت میں زمین کا وجود نہیں گھٹتا۔کیونکہ اس سے وہ خشکی جو پانی کے اوپر ظاہرہے اس کے نیچے چھپ جاتی ہے۔زمین کا وجود کٹتا ہی رہتا ہے ۔لہٰذا یہ بھی قرآن کے بیان کے لیے دلیل نہیں ہے ۔

___________________________

1 ۔حاشیہ:۔ یہاں مولوی صاحب نے اپنے فٹ نوٹ میں لکھا ہے کہ یہ فلاسفی قرآن کی روشنی میں کہاں کہ زمین کناروں سے کھستی چلی آتی ہے ۔اور یہ بالکل سچ نہیں ہے اور ثانیاًمعلوم ہو کہ بائبل میں پیدائش باب 11، زبور 104۔اوپر باب علم جیالوجی کے لیے متن ہوچکے ہیں۔ ایسی فلاسفی سے پڑہیں جس سے عقل حیران ہوتی ہے ۔ مگر قرآن میں بیان ہے

اب رہا زمین کو فقط گھٹاتے ہی جانا سو وہ بھی درست نہیں ہے۔اگر زمین اس طور سے کناروں سے صرف گھٹتی ہی رہتی تو سرجان ہرسٹل صاحب لکھتے ہیں کہ اگر پہلے دُنیا ایسی بنائی جاتی جیسی اب ہے تو کافی عرصہ گذر چکا ہے اور اس بات کی صرف کافی قوت زور کرتی رہی ہے کہ مدت سے خشکی کا ہر ایک حصہ تباہ کردیتی اگر اُن اندرونی طاقتوں کی نوپیدا کرنے والی تاثیر نہ ہوتی جو ہمیشہ پرانی کے بدلے نئی زمین نکالتی رہتی ہے۔سو زمین کو کناروں سے گھٹاتے ہی جانے کا یہ نتیجہ ہوتا جس کی محمدصاحب کو خبر ہی نہیں۔اور پھر جغرافیہ طبعی سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اس تباہی کے برخلاف بحال کرنے یا قائم رکھنے والی قوت ہے جس کی طرف ہر سٹل صاحب کا اشارہ ہے جو خشکی کو گرنے کی صورت ہو جانے سے روکتی ہے اور اس کی سطح پر ناہمواریاں پیدا کرتی ہے۔جن کے سبب سے پانی زمین کی سطح سے نیچے رہتا ہے اور وہ قوت زمین کی اندرونی آگ ہے۔پس محمد صاحب کو اس بات کی خبر نہ تھی ۔اس لیے کہہ دیا کہ ہم زمین کو کناروں سے گھٹا جاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ زمین اس طور سے اگر ایک جگہ سے گھٹتی ہے تو دوسری جگہ سے بڑھتی ہے (اس کے لیے دیکھو بلینڈفورڈ صاحب اور نکل صاحب کی طبعی جغرافیہ )۔پس محمد صاحب کا الہٰام کچا الہٰام معلوم ہوتا ہے جس میں معجزہ ندارد(خالی ،کورا) ہے ۔

قطع نظر اس سے قرآن کابیان غلط ہے کیونکہ اسٹسرانومی ثابت کرتی ہے کہ زمین بڑھتی ہے۔چنانچہ پروفیسر اے ۔ایچ نیوٹن ایک مشہور امریکن اسٹرانوم نے حساب کیا ہے کہ ایک دن کے عرصہ میں پچھتر لاکھ(7500000)ہیٹی آر یعنی شہاب سے اس قدر بڑے کہ آنکھ کو دیکھائی اور قریباً (400000000)چالیس کروڑ ایسے جو معمولی دوربین سے دیکھے جاسکتے ہیں زمین کی فضا میں روشن ہوتے ہیں اور کہ یہ شہابی گرو زمین کی سطح پر گرتی ہے۔اسیرڈاکرکش صاحب لکھتے کہ اگر ان کو جو آنکھ سے دیکھے جاسکتے ہیں ہم وزن میں ایک گرین یا چاول بھر اور اُن کو جو صرف دوربین کے ذریعے سے دیکھے جاسکتے ہیں گرین کا پچاسواں حصہ خیال کریں تو پندرہ بلین (15000000)گرین یا ایک ٹن سے کچھ کم زمین کی روزانہ بڑھتی ہے۔پھر تیس (30)برس کے عرصہ میں زمین کا وزن ایک ہزار ٹن ۔اور تین ہزار برس کے عرصہ میں دس لاکھ ٹن بڑھ جاتا ہے۔اس طرح ہم اس وقت تک حساب کرسکتے ہیں جب زمین اپنے موجودہ وزن سے نصف وزن رکھتی تھی۔ اور اُس سے بھی پرے تک جب ایسے شہاب زمین کو بڑھانے لگے تھے۔ صاحب موصوف یہ بھی لکھتے ہیں کہ ایک ایک شہاب گرین سے بڑ ھ کر اور ہوجاتے ہیں ۔(ڈاکٹر کنس ،موزس اینڈ جیالوجی۔دوسرا باب صفحہ 52) ۔ پس قرآن کا قول کہ زمین کناروں سے گھٹتی ہے اس فلاسفی کی رو سے غلط ٹھہرتا ہے جو زمین کا بڑھنا ثابت کرتی ہے۔

قولہ(2):۔اس وقت بڑے بڑے فلسفہ دانوں کی محنت اور تجربہ کا یہ نتیجہ ہے کہ زمین اور آسمان گٹھری (انبار)تھے۔یعنی اس موجودہ شکل سے پہلے (صاحب من کسی ایک کا بیان نقل تو کیا ہوتا)حضرت محمد رسول اللہ نے تیرہ سوبرس پہلے ہی یہ زبان الہٰام بیان فرمادیا ہے ۔جیسا (سورہ انبیاء رکوع 3آیت 30) میں ہے ۔''کیا نہیں دیکھا انہوں نے کہ کافر ہوئے یہ کہ آسمان اور زمین تھے گٹھری پس جدا کیا ہم نے ان دونوں کو اور کیا ہم نے پانی سے ہرچیز کو زندہ ''۔واقعی ہر ایک چیز کی زندگی پانی ہی سے ہے ۔یہ بے شک علمی معجزہ ہے۔

__________________________________

2 ۔دیکھو ۔(Light Soience vol, 1.)(لائٹ سائنس )مصنف ڈاکٹر پراکٹر صاحب صفحہ 22 سے

اقول(1):۔واضح ہوکہ اس آیت کا بعض یوں ترجمہ کرتے ہیں (عبدالقادر کاترجمہ)کہ آسمان اور زمین مُنہ بند تھے پر ہم نے اُن کو کھولا اور بنائی ہم نے پانی سے جس چیز میں جی ہے۔مطلب یہ ہے کہ پہلے بارش نہیں ہوتی تھی مگر اس ترجمہ سے ہمارے مولوی صاحب کی تاویل کا مطلب حاصل نہیں ہوتا ۔

(2):۔معلوم ہوکہ اسٹرانمی اُس ابتدائی زمانہ کا کچھ حال نہیں بتلاتی اور نہ بتلاسکتی ہے جب خُدا نے آسمان اور زمین کو عدم سے پیدا کیا لہٰذا اُس سے قرآن کے بیان کے لیے اصل نہیں نکل سکتی کہ زمین اور آسمان پہلے گٹھری تھے۔اس لیے فلسفہ دانوں کا آسراڈھونڈنا عبث ہے۔

(3):۔مگر زمخشری مفسر کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین اور آسمان پہلے پانی تھے جو خُدا کے تخت کے نیچے تھا۔اُس پانی سے دُھواں نکلا اور بہت بلند ہوگیا اور اُس دُھوئیں سے آسمان بنے اور اُس پانی اور اُس پانی کے خشک ہوجانے سے زمین بنی ۔شاید زمین اور آسمان کی اس پہلی آبی حالت کو مولوی صاحب بھی گٹھری کہتے ہیں ۔دیکھو سیل صاحب کا ترجمہ قرآن (سورہ فصلات رکوع 2آیت 11)۔سورہ مذکور میں یہ بیان ہے کہ ''ساتواں آسمان پہلے دھواں تھے ''۔مگر زمین اور آسمان کے پہلے پانی ہونے کا کچھ ذکر نہیں ہے ۔نہیں معلوم یہ لوئسی اسٹرانمی سے ثابت ہے۔

(4):۔ برخلاف اس کے واضح ہوکہ اسٹرانومرہمارے سولر سسٹم اور ہزار ہا ایسے اوروں کا بیان کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ سب پہلے ایک ہی مادہ تھے جس کو نبولی کہتے ہیں ۔ہمارے سولر سسٹم میں یہ زمین بھی شامل ہے ۔حالانکہ قرآن آسمان کو اور ہمارے سولر سسٹم کے سیاروں کو جدا بتلاتا ہے ۔(سورہ ملک رکوع 1آیت 3)۔اور (سورہ فصلات رکوع 2)مگر اسٹرانومی کی رو سے زمین اور سورج وغیرہ ایک مادہ ثابت ہوتے ہیں نہ کہ قرآن والا جُدا آسمان اور یہ زمین ایک گٹھری ٹھرتے ہیں ۔اور لفظوں میں یوں کہیں کہ یہ زمین سورج اور دیگر سیاروں اور ستاروں کے ساتھ پہلے ایک قسم کا آتشی وجود رکھتی تھی نہ کہ قرآن والے آسمانوں کے ساتھ موجود تھی۔

اس حالت کے بعد یہ عالم کہتے ہیں کہ زمین بالکل پانی سے گھر گئی تھی ۔ اوریہ وہ حالت تھی جس کو موسیٰ لکھتا ہے کہ گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خُدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی ۔ اور پھر جب یہ فرمان صادر ہو کہ خشکی نظر آئے تو خشکی نظر آئی ۔پانیوں کے سوکھ جانے سے خشکی نہیں بنی تھی ۔لیکن زمین کی اندرونی گرمی کے جوش سے زمین پانیوں کے اوپر نکل آئی ۔نظر آئی جیسا حضرت موسیٰ لکھتے ہیں اور پانی ایک جگہ جمع ہوگئے ۔اس سے آپ معلوم کرلیں کہ اسٹرانومر اور جیالوجسٹ بائبل کی لفظ بہ لفظ تصدیق کرتے ہیں یہاں قرآن کا کیا دخل ہے۔

اوریہ جو کہا ہے کہ ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندہ کیا۔اگر اس کے یہ معنی ہیں جو آپ بتلاتے ہیں تو یادرہے کہ ہر زمانے کے لوگوں کو بغیر الہٰام کے اس بات کا تجربہ ہے کہ پانی سے زمین سرسبز ہوتی ہے اور جاندار پانی کے قطرہ سے بنتے ہیں ۔یہ تو ایک عام معلومات میں سے ہے اور اگر اس کے معنی میں (اورحقیقت میں بھی ہیں)کہ پہلے ہر جاندار پانی سے پیدا کیا گیا کیونکہ زندگی پہلے پانی سے نہیں ہوئی تھی ۔غرض یہ کہ آپ کا دوسرا حوالہ بھی آپ کے مقصد کے برخلاف ثابت ہوا اور معجزہ ندارد(خالی ،کورا)۔

قولہ ۔3:۔تین سو صدی سے ایک علم جیالوجی نکلا ہے علم تجربہ اور مشاہدہ سے یہ امر ثابت کرتا ہے کہ زمانہ کے برسوں کی قدامت بے حد ہے (نہیں صاحب خُدا اس کو محدود کرتا ہے )مگر ہمارے پیغمبر نے ہم کو اس علم سے اشارۃً تیرہ سو برس پہلے آگاہ کردیا ہے جیسا (سورہ الکف رکوع 7 آیت 51) میں ہے ۔نہیں شاہد کیا تھا مَیں نے ان کو وقت پیدا کرنے آسمانوں کے اور زمین کے اور نہ وقت پیدا کرنے جانوں ان کی کے۔اس مضمون کوعلمی معجزہ لکھنے میں شک نہیں ۔

اقول:۔یہ آیت بھی آپ کی کھینچ کھانچ کے برخلاف ہے کیونکہ جیولوجی کا بیان اس میں بالکل ندارد ہے اور زمانہ کے برسوں کا کچھ اشارہ نہیں۔لیکن نہ لینے کا ذکر ہے۔یعنی مَیں نے ان کو یعنی جنوں کو وقت پیدا کرنے آسمانوں اور زمین کے حاضر نہیں کرلیا تھا نہ اُن کو اپنا مدد گار لیا تھا۔ یہاں آسمان اورزمین پیدا کرنے کے وقت جنوں کی ہستی اور مدد سے انکار ہے ۔جن کو مُنکر لوگ خُدا کے بھیدوں کے محرم کہتے تھے ۔اور زمانہ کے برسوں کی قدامت کا خیال بالکل متروک ہے اور آپ کا فرضی معجزہ اس میں نداردہے۔سوائے اس کے جب توریت کی یہ بات پہلے ہے کہ آسمان اور زمین جانداروں سے پہلے بنائے گئے تھے تو اگر محمد صاحب نے بھی ویسا ہی کہہ دیا تو یہ اُن کا کوئی علمی معجزہ نہ ٹھہرا ۔دیکھو بھی (ایوب 38: 4)۔

قولہ۔ 4:۔یونانی علم ہیئت (وہ علم جس میں نظام شمسی زمین کی کشش اور بناوٹ کا مطالعہ کیا جاتا ہے )میں سیارات کی نسبت یوں تحقیق کرتے تھے کہ یہ آسمان میں ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے کہ نگینے یا ہیرے جُگنی میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔مگر اس زمانے کی تحقیق جدیدہ نے جس کے ساتھ تجربہ اور مشاہدہ بھی ہے اس کو بالکل غلط ثابت کیا ہے اس وقت کے علم ہیئت کی یہ تحقیق ہے کہ سیارات بوسیلہ قوت جاذبہ فضائے بسیط میں معلق ہیں ۔قرآن شریف نے اس حقیقت کو اس تحقیق سے تیرہ سو (1300)برس پہلے بیان فرما یا جیسا (سورہ یٰسین )میں ہے ہر ایک سیارہ بیچ دائرے کے تیرتا ہے۔ (لفظ ہر ایک سیارہ کہنے میں دھوکا ہے۔کیونکہ اس آیت میں مراد صرف سورج اور چاند سے ہے ،فی الحقیقت یہ ایک معجزہ ہے)۔

اقول۔ 1:۔اس بیان سے بھی آپ نے قرآن کو فضیحت ہی کیا ۔اگر آپ اپنی پیش کردہ آیت کو (سورہ نوح آیت 14، 15)کے ساتھ مقابلہ کریں تو معلوم ہوگا کہ قدیم یونانیوں اور قرآن کے بیان میں کچھ بہت فرق نہیں ہے۔اور وہ یہ ہے کہ رکھا چاند اُن میں (یعنی آسمانوں میں مراد درے آسمان سے ہے) اُجالا اور رکھا سورج چراغ جلتا (بمقابلہ سورہ یٰسین والی آیت) ہر ایک بیچ دائرے کے تیرتا ہے۔اب معلوم ہوکہ قدما سب سیاروں کی نسبت ایسا نہیں کہتے تھے مگر صرف اُن کی نسبت جن کو اب ( Fixed Star)(فِکسڈ اسٹار ) یعنی غیر متحرک ستارے کہتے ہیں ان کا ایسا گمان تھا۔لیکن سورج اور سیاروں کی گردش مانتے تھے ۔بمعہ اپنے اپنے دائرے کے ۔اور ٹپالی کی تعلیم سے بھی ظاہر ہے کہ سیارے زمین کے گردگردش کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے اپنے دائرے میں ۔ مگر اس بات کو تو آپ غلط ٹھہراتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ محمد صاحب کا بھی یہی حال ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کے خیالوں کے موافق آپ نے بھی کہہ دیا تھا اور کہ محمد صاحب کو سیاروں وغیرہ کی نسبت لوگوں کے خیالات کی خبر تھی اس بات سے اور بھی مُصرح (تفصیل کیا گیا،تصریح کیا گیا)ہوتا ہے کہ حضرت کو آسمان کے بُرجوں کی خبر تھی ۔اور سیاروں کو برجوں میں تقسیم کرنا انسانی تجویز تھی جس سے محمد صاحب واقف معلوم ہوتے ہیں ۔(دیکھو سورہ فرقان آیت 62)۔

(2):۔ قطع نظر اس سے قرآن کا بیان اسٹرانومی کے عین برخلاف ہے کیونکہ اس آیت میں ہے کہ ہر کوئی یعنی سورج اور چاند ایک ایک دائرے میں پھرتے ہیں مگر زمین کوسیارہ نہیں سمجھا ہے اور نہ اس کی گردش کا ذکر کیا ہے ۔حالانکہ اسٹرانومی سے ثابت ہے کہ سورج نہیں پھرتا۔لیکن سیارے اور زمین سورج کے گردپھرتے ہیں ۔لہٰذا سورج کو مثل چاند کے ایک دائرے میں گردش کرتے بتلانا اس وقت کے علم ہیئت کی تحقیق سے غلط ہے اور محمد صاحب کا علمی معجزہ ایک پُرانا جہل ٹھہرا ۔

بایں ہمہ (ا ن باتوں کے باوجود) واضح ہوکہ یہ صداقت پہلے فشاغورث مصری نے مسیح سے پانچ سو (500)برس پہلے بیان فرمائی تھی ۔اور اس کے بہت مدت بعد اسٹرانومی کے تاریک زمانہ میں کوپرنیکس نے اس کو بحال اور ثابت کیا۔ سو اگر بہ لحاظ اس نئی اور صحیح تعلیم کے کسی کو صاحب معجزہ کہہ سکتے ہیں تو یہ دونوں بیشتر مستحق ہیں نہ کہ محمد صاحب جو پٹالمی کی تعلیم کے پھیر میں معلوم ہوتے ہیں ۔

قولہ۔ 5:۔یہ امر اس وقت کی تحقیق میں مسلم الثبوت ہوچکا ہے کہ آفتاب کی تابش اور حرارت جب سارے روئے زمین کی تری پر پڑتی ہے اور بخارات پیدا کرتی ہے تو ہوا بخارات کو اوپر لے جاتی ہے اور وہاں اُن کے مختلف بادل بنتے ہیں اور ہوا کے اندر سے ہوکے پانی برساتے ہیں جس کو مینہ کہتے ہیں ۔اس حقیقت کو حضرت رسول مقبول نے تیرہ (1300)سو برس پہلے بیان فرمادیا جیسا کہ (سورہ ہود رکوع 3) میں ہے اور کہا گیا اے زمین نگل جا پانی اپنا اور ا ے آسمان بس کر ۔اس آیت میں یہ خوبی مطابق جغرافیہ طبعی کے ہے کہ پانی کا تعلق زمین سے رکھا گیا ہے یعنی کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا۔حالانکہ اُس وقت آسما ن سے پانی برس رہا تھا کیا خوب علمی بات نکلتی ہے۔

اقول :۔ آیت مذکور میں جغرافیہ طبعی والی خوبی بالکل نہیں ہے اور زمین کو اس لیے نہ کہا گیا کہ اپنا پانی نگل جاکہ وہ اُس کے بخارات میں سے تھا کیونکہ قرآن تو طوفان کے پانیوں کی نسبت کہتا ہے کہ وہ ایک تنور سے نکلتے تھے۔چنانچہ دیکھو اُسی (سورہ ہود آیت 40)میں ہے کہ جب پہنچا حکم ہمارا اور جوش مارا تنور نے الخ ۔اس کے بعد( آیت 44)میں وہ بیان ہے جو آپ نے نکل کیا ہے اس سے آپ اور ناضرین بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ کیوں زمین کو کہا گیا کہ اپنا پانی نگل جا اس لیے کہ زمین کے کسی تنور یا چشمے سے نکلا تھا نہ کہ بخارات تری روئے زمین سے جیسا آپ کہتے ہو،

اور معلوم ہوا کہ یہ تنور والا قصہ محمد صاحب نے فارسی مے جائی سے حاصل کیا تھا جو خیال کرتے تھے کہ طوفان کے پانی ایک بُڑھیا عورت کے تنور سے نکلے تھے (دیکھو سیل صاحب کا ترجمہ انگریزی قرآن آیت ہذا پر تفسیر)پس یہ علمی معجزہ بھی ایک پُرانا جہل ثابت ہوتا ہے ۔

پر معلوم ہوکہ پانی یعنی بادل کا زمین کی اطراف سے بطور بخارات کے اُٹھنا بائبل مقدس میں پہلے ہی سے بتلایا گیا ہے دیکھو (زبور 135: 7) ''بخارات زمین کی اطراف سے وہی اُٹھاتا ہے'' وغیرہ (واعظ 1: 7)''ساری ندیاں سمندر میں بہہ جاتی ہیں پر سمند ر بھر نہیں جاتا ۔اُسی جگہ جہاں سے ندیاں نکلتی ہیں اُدھر ہی کو پھر جاتی ہیں'' ۔کیا دریاؤں کا یہ آغاز محمد صاحب کو معلوم ہوا ۔ اور بھی دیکھو (یرمیاہ 51: 16)۔

علاوہ اس کے کئی ایک اور صداقتیں بائبل میں ہزاروں برس سے مندرج ہیں جن کو زمانہ حال کا علم ثابت کرتا ہے ۔ایک یہ ہے کہ ہوا روشنی کے سبب سے چلتی ہے (ایوب 38: 24)۔کسی طریق سے روشنی بانٹی گئی ہے جس کے سبب سے زمین پر پوربی ہوا چلتی ہے ؟ایک اور یہ ہے کہ وہ نہروں کو صحرا اور پانی کے چشموں کو سوکھی زمین کرڈالتا ہے (زبور 107: 33)اب زمانہ حال کا علم ثابت کرتا ہے کہ زمین کی اندرونی بھاپ کی حرکت سے زمین کی سطح پر اس قسم کی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں اور ہوتی ہیں ۔کہ صحرا کسی زمانہ میں نہریں یا سمندر تھے ۔ایک اور صداقت یہ ہے کہ یہ زمین بے سہارا لٹکی ہوئی ہے (ایوب 26: 7)''اُس نے زمین کو بے علاقہ لٹکایا''۔یعنی کسی چیز پر دھری ہوئی نہیں ہے لیکن ہوا میں لٹکی ہوئی ہے اور وہ بھی قانون کشش کے باعث سے جو خُدا تعالی نے عالم میں موضوع کردیا ہے ۔قرآن میں بھلایہ صداقتیں کہاں ہیں اور اگر ہوں بھی تو تقلید میں داخل ہوں گی نہ کہ اُس کی اپنی نئی معلومات ہیں۔

باقی رہیں وہ آئتیں جو آپ نے مضمون ذیل کے پیش کی ہیں۔(سورہ اعراف )وہ اللہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے جو مژدہ رساں (خوشی کی خبر)ہوتی ہیں آگےاُس کی رحمت کے یہاں تک کہ جب وہ اُٹھاتی ہیں بادل بھاری ہانک لے جاتے ہیں ہم اس بادل کو کسی شہر مُردہ کی طرف اور نازل کرتے ہیں۔ بواسطہ اس ابر کے پانی ۔واضح ہوکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر زمانہ لوگ اس سےواقف ہیں کہ بادلوں کو اِدھر اُدھرلے جاتی ہے۔جن لوگوں کو جغرافیہ طبعی کی واقفی نہیں اُن کو بھی یہ کہتے سنتے ہیں کہ پوربی ہوا بادل اور مینہ لاتی ہے اور پچھمی ہوا بادلوں کو اُڑا لے جاتی ہے یا پراگندہ کرتی ہے۔ کیا محمد صاحب نے یا اہل عرب نے ہوا کے ذریعہ سے بادلوں کی رفتار کبھی نہیں دیکھی تھی ؟ بڑے افسوس اور شرم کی بات ہےکہ آپ ایسی عام مشاہدہ کی بات کو بھی علمی معجزہ سمجھتے ہیں۔

حاصل ِکلام ہم نے معلوم کیا کہ وہ باتیں جن کو مولوی غلام نبی صاحب نے محمدصاحب کے معجزے بیان کیا ہے اُن میں سے ایک بھی مفید مطلب نہ نکلی اور ذیل میں ہم چند ایک اور ایسے ہی بیان قرآن سے پیش کرتے ہیں ۔جن سے حضرت کا الہٰام ویسا ہی جاہلانہ ٹھہرتا ہے جیسا عرب جیسی قوم سے اُمید ہوسکتی تھی ۔دیکھو (ایوب 28: 25۔27)۔


معجزات جاہلانہ

(الف):۔(سورہ حجر رکوع 2) میں ہے اور زمین کو ہم نے پھیلایا ۔پھر (سورہ سیا رکوع 1)کیا ہم نے نہیں بنائی زمین بچھونا ؟اس سے معلوم ہوتاہے اور محمدیوں کا بھی اس کی بنا پر یہی گمان ہے کہ زمین ایک پھیلاؤمثل تختہ کے ہے نہ کہ گول مثل نارنج کے ۔ جیسا علم طبعی سے ثابت ہے یہاں سےمحمد صاحب کی بے علمی ثابت ہے آپ کے قول کو زمانہ حال کی تحقیق رد کرتی ہے۔

(ب):۔ (سورہ انبیاء رکوع 3۔آیت 32) میں ہے ۔ اور رکھے ہم نے زمین میں بوجھ (یعنی پہاڑ)کبھی ان کو لے کر جھک پڑے یا حرکت کرے ۔ایسا ہی (سورہ نحل )میں اور کئی ایک اور مقاموں میں مرقوم ہے مگر حضرت کے اس تیرہ سو (1300)برس کے فرمودہ کو زمانہ حال کی تحقیق رد کرتی ہے ۔کیونکہ پہاڑوں کا بجائے خود اسطور سے ڈالا جانا جیالوجی غلط ثابت کرتی ہے اور اس کا یہ بیان ہے کہ جب زمین کی گرمی کم ہوئی تو کشش سے زمین سکڑی اور پہاڑ اوپر کو نکل آئے ۔ اس زمین کی آبادی کے پہلے ایسا ہوا اورپھر پہاڑوں کو ایک ہی وقت کے اُبھار نہیں بتلاتی لیکن بعضوں کو پُرانے اور بعضوں کو نئے کہتی ہے۔ اور اُن کے فائدے اور ہی بتلاتی ہے نہ کہ وہ جو محمد صاحب نے بیان کیا ہے اور پھر اگر جھک پڑنے کے بجائے(سیل صاحب کا ترجمہ )اختیار کریں کہ تمہارے ساتھ گردش یا حرکت کرے تو اس سے حاصل ہوگا کہ پہاڑ زمین کی حرکت کو روکنے کے لیے ڈالے گئے تھے مگر یہ بھی اسٹرنومی کے رو سے غلط ہے کیونکہ وہ زمین کی حرکت کو ثابت کرتی ہے ۔

(ج):۔ (سورہ حجر رکوع 2)اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں برج اور رنق دی اُس کو دیکھتوں کے آگے او ربچا رکھا ہم نے اس کو ہر شیطان مردود سے جو چوری سن گیا سو اُس کے پیچھے بڑا انگارا چمکتا ۔(سورہ ملک رکوع 1) او ر ہم نے رونق دی درلے آسمان کو چراغوں سے اور رکھی اُن سے بھینک مارشیطانوں کی ۔

سیل صاحب لکھتے ہیں کہ

''جب کوئی ستارہ گرتا یا ٹوٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے تو محمدی اس آیت کی بنا پر خیال کرتے ہیں کہ فرشتے جو برجوں کے محافظ ہیں وہ ستاروں یا انگاروں کو شیاطین کے پیچھے پھینکتے ہیں ''۔

اب اسٹرانومی کے رو سے ظاہر ہے کہ اُن گرتے ہوئے ستاروں کی یہ کیفیت نہیں ہے مگر حسب ذیل ہے کہ جب دُمدار ستارے کے دائرہ گردش پر اُس کی دُم کے اجزا پھیل جاتے ہیں (اور یہ اس لیے کہ اُس کا سربہ نسبت دُم کے جلد ی گردش کرتاہے )تو وہ سیاہ اجزا زمین کی کشش سے اپنے دائرے سے کھینچے جاتے ہیں اور ہوا میں اپنی تیز رفتاری کے سبب ایسے گرم ہوجاتے ہیں کہ ایک چمکتی گیس میں منتشر ہوجاتے ہیں اور یہ ذرے رتی سے لیکر منوں تک وزن میں ہوتے ہیں دیکھو (Dr Kinn, s Moses and Geology Pg.40)پس محمد صاحب کا تیرہ سو (1300)برس کا یہ بیان بھی غلط ثابت ہوا ۔ یونانی بھی مثل محمد صاحب کے اُنہیں قدرت سے کچھ علیحدہ چیز سمجھتے تھے ۔اب ہم اتنے ہی پر اکتفا کرتے اور مولوی صاحب کی ترتیب کے بموجب معجزات کی دوسری قسم یعنی معجزات قدرتی کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔


معجزات قدرتی

ان کو مولوی صاحب دو قسم پر تقسیم کرتے ہیں ۔ایک اجمالی اور دوسرے تفصیلی یہ حسب ذیل ہیں۔

اجمالی معجزات

آپ نے صرف دو آیات اس مطلب کی پیش کی ہیں مگر وہ بھی آپ کے اُمید اور گمان کے برخلاف ہیں۔

قولہ۔1:۔ (سورہ الصافات رکوع اول )میں ہے ۔جس وقت نصیحت دی جاتی ہے نہیں قبول کرتے اور جب دیکھتے ہیں کوئی معجزہ ٹھٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جادو ہے ظاہر۔اس آیت کے ظواہر الفاظ کے قرینہ سے یہ بات ٹپکتی ہے کہ آنحضرت نے کفار مکہ کو تعلیم اور معجزے دونوں سُنائے اور دکھائے ۔ اور کفار مکہ نے عوض اُس کے نہ صرف ٹھٹھا ہی کیا بلکہ ترقی دے کے یوں کہا کہ یہ ہمیشہ کا جادو ہے۔

اقول:۔ آیت منقولہ میں حضرت کے کسی کئے ہوئے معجزے کا احتمال (شک وشبہ)بالکل نہیں پایا جاتا بلکہ یہ ویسی ہی بات ہے جیسی (سورہ حجر رکوع اول آیت 14، 15) میں ہے۔ اور اگر کھول دیں اُن پر دروازے آسمان سے اور سارے دن اس میں چڑھتے رہیں یہی کہیں گے کہ ہماری نگاہ ہی بند ہوگئی ہے ۔ نہیں ہم لوگوں پر جادو ہوا ہے ۔کہئے صاحب کیا محمد نے یہ کام کئے تھے یا کرنے کا کچھ بھی احتمال ہے؟ شرطاً کہتے ہیں کہ اگر لوگ دیکھیں اور تجربہ بھی کریں تو بھی کہیں گے کہ ہم پر جادو ہوا ہے ۔آپ نے لفظ دیکھنے کے لحاظ سے اپنی پیش کردہ آیت میں معجزہ فرض کرلیا ۔مگر بات تو یہ تھی کہ اگر دیکھیں تو کہیں جادو ہے۔مگر دیکھا تو کچھ نہیں تھا۔ایسے ہی شرطیہ فقرے قرآن میں اور جگہ بھی پائے جاتے ہیں ۔دیکھو (سورہ انعام رکوع 13۔ آیت 111)۔مولوی صاحب ایسی آیت کو ثبوت معجزہ کے لیے پیش کرتے آپ شرمندہ نہیں ہوتے اور نہیں دیکھتے کہ کس کس ڈھب سے محمد صاحب نے معجزوں سے انکار کیا ہے ۔

قولہ۔ 2:۔ (سورہ آل عمران رکوع )میں ہے کیوں کر ہدایت کرے اللہ اُس قوم کو پیچھے کافرہوں ایمان اپنے کے اور گواہی دیں کہ رسول مسیح ہے۔اور اُن کے پاس آئے معجزے ۔اس آیت سے بھی آنحضرت کے اجمالی معجزات ثابت ہیں۔

اقول :۔واضح ہوکہ آپ نے اجمالی معجزات کے بیان میں لکھا ہے کہ جہاں بینہ اور آیت کے ساتھ لفظ دیکھنے کا آتا ہے وہاں اُن سے مراد معجزہ ہے۔ سو معلوم ہوکہ آیت مذکورہ میں تو بینہ کے ساتھ دیکھنا نہیں آتا ہے لہٰذا یہ آیت آپ کے مطلب کو مفید نہیں ہے۔اور وہ یاتو اگلے نبیوں کی باتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یا قرآن کی باتوں کی طرف آپ اس کی ماقبل آیات کو پھر دیکھیں ۔اور مترجم سیل صاحب اس جگہ بینہ کے معنی یہ کرتے ہیں یعنی (Manifest declarations)ظاہربیان ۔پس اس آیت سے آنحضرت کے اجمالی معجزات بالکل ثابت نہیں ہوتے۔

بایں ہمہ (ان تمام باتوں کے باوجود)واضح ہوکہ چونکہ لوگ محمد صاحب کی نسبت جادو اور جادوگربولا کرتے تھے لہٰذا آپ لوگ یا تو خود ہی دھوکا کھاتے ہو اور یا فقط اوروں کو فریب دیتے ہو کہ یہ بلحاظ دیکھنے کسی معجزہ کے کہا جاتا تھا۔چنانچہ آپ نے بھی اجمالی معجزات نمبر (1)میں اور بعد ازیں تفصیلی معجزات کے نمبر(1) میں اس بات پر زور دیا ہے۔مگر قرآن سے ظاہر ہے کہ لوگ قرآن کی آیتوں یا تعلیم کو عموماً جادو اور ازاں موجب محمد صاحب کو جادو گر کہا کرتے تھے مثلاً دیکھو۔

(1):۔ (سورہ انبیاء آیت 3)کوئی نصیحت نہیں پہنچی اُن کو اُن کے رب سے نئی مگر اُس کو سُنتے میں کھیل میں لگے ہوئے ۔کھیل میں پڑے ہیں دل اُن کے اور چپکے مصلحت کی بے انصافوں نے یہ شخص کون ہے ؟ ایک آدمی ہے تم ہی سا ۔پھر کیوں پڑتے ہوجادو میں آنکھو دیکھتے ۔یہاں سے ظاہرہے کہ لوگوں نے کوئی معجزہ دیکھ کر اپنے تئیں جادو میں پڑنا نہیں کہا تھا لیکن بلحاظ نصیحت کے۔

(2):۔ (سورہ یونس آیت 1، 2)یہ آئتیں ہیں پکی کتاب کی ۔کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ حکم بھیجا ہم نے ایک مرد کو اُن میں سے کہ ڈر سُنائے لوگوں کو اور خوشخبری سنائے جو کوئی یقین لائیں کہ اُن کو ہے پایا سچا اپنے رب کے یہاں کہنے لگے مُنکر بے شک یہ جادوگر ہے صریح۔ دیکھو محمد صاحب کہتے ہیں کہ قرآن کی آیتوں کے یا خوشخبری دینے کے سبب سے لوگ مجھے جادوگر کہتے ہیں۔

(3):۔ (سورہ ہود رکوع پہلا آیت 8) اور اگر تو کہے کہ تم اُٹھو گے مرنے کے بعد تو تب کافر کہنے لگیں یہ کچھ نہیں مگر جادو صریح۔ اس سے ظاہر ہے کہ لوگ تعلیم قیامت کو جادو کہتے تھے۔

(4):۔ (سورہ احقاف رکوع پہلا آیت 6) اور جب سُنائیے اُن کو ہماری باتیں کھلی کہتے ہیں منکر سچی بات کو جب اُن تک پہنچی یہ جادو صریح۔ یہاں سے بھی ہمارا قول بالکل ثابت ہے ۔ لہٰذا محمد صاحب کے حق میں جادو یا جادوگر بولاجانا اُن کے معجزات کی دلیل نہیں ہے۔


معجزاتِ تفصیلی

تفصیلی معجزات کا اجمالیوں سے بھی بدتر حال ہے ۔اس کی بھی مولوی صاحب نے دو مثالیں پیش کی ہیں اور وہ یہ ہیں۔

قولہ۔ 1:۔(سورہ قمر پہلی آیت)قریب آئی وہ گھڑی اور پھٹ گیا چاند ۔اور اگر دیکھیں کوئی نشانی منہ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیشگی کا جادو ہے۔اس آیت کے صریح الفاظ سے چاند کا پھٹنا جو ایک معجزہ آنحضرت کا تھا ثابت ہوتاہے اس کے لیے دو قرائین ہیں ۔ اول یہ کہ انشق ماضی کا صیغہ ہے اور اپنے فاعل سے قائم ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم شروع کلمہ میں اُس کے مستقبل کے معنی لیں۔

اقول :۔ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ آنحضرت کا معجزہ تھا اور یہ وجہ جو مولوی صاحب نے لکھی ہے بالکل ضیعف(کمزور) ہے۔ ڈاکٹر فانڈر صاحب ''میزان الحق ''میں لکھتے ہیں کہ

''جملہ انشق القمر واو عطف کے سبب جملہ اقربت الساعت کے ساتھ مُلحق ہوکر معطوف اور معطوف علیہ دونوں ایک جملہ کےحکم میں ہیں ۔اور اسکے سوا دونوں جملوں میں دو فعل ماضی آئے ہیں تو جیسا پہلا فعل مستقبل کے معنی دیتا ہے یعنی قیامت کا دن آئے گا اُسی طرح انشق بھی ۔ یعنی چاند پھٹ جائے گا انتہی''۔

اور فاعل کی بابت ظاہر ہے کہ چاند ہے نہ کہ محمد صاحب ۔لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ فاعل سے قائم ہے فضول اور عبث ہے۔پھاڑنے والا معین نہیں ہے۔ آنحضرت کے ذمے کیوں کر لگ سکتا ہے۔ حضرت کے فرضی معجزہ کو اس آیت سے نسبت نہ دینی چاہیے ۔

قولہ ۔2:۔ان نیرو آیت الخ یعنی یہ کہ جب دیکھتے ہیں کوئی معجزہ وغیرہ ۔یہ مضمون بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اول کفار نے کوئی معجزہ دیکھا تھا اور بعد میں یہ کلمات کہے۔ ورنہ جب اُنہوں نے کوئی معجزہ ہی نہیں دیکھا تھا تو منہ کس سے پھیرا اور جادو کس کو کہتے تھے۔

اقول:۔ہم نے اوپر بیان کیا کہ پہلی آیت آئندہ کے معنی دیتی ہے اور مراد قیامت سے ہے ۔ اب اگر دوسری آیت کا پہلی کے ساتھ رشتہ ہے تو یہ بھی آئندہ کو وقوع میں آئے گی۔ورنہ اس فقرہ کو شرطیہ طرز میں بیان نہ کرنا تھا اور صاف کہنا تھا کہ لوگوں نے ایک آئے وقت پر میرا یہ معجزہ دیکھا تھا اور اس کو جادو کہاتھا۔ اور اس میں ایک اور قباحت یہ ہے کہ اشارہ کسی خاص نشان یا شق القمر کی طرف نہیں کیا ہے مگر عموماً کہا ہے کہ اگر کوئی نشانی دیکھیں وغیرہ جس کا صریح نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں نے چاند کا پھٹ جانا دیکھا نہ تھا۔اور یہ جو کہتے ہو کہ اگر دیکھا نہ تھا تو جادو کس کو کہتے تھے ۔اس کی بابت معلوم ہو کہ تعلیم قیامت کو لوگ بغیر دیکھے جادو کہتے تھے (سورہ ہود رکوع پہلا) اگر تو کہے کہ تم اُٹھو گے مرنے کے بعد تو البتہ کافر کہنے لگیں کہ یہ کچھ نہیں مگر جادو ہے صریح ۔پس مُردوں کے فی الواقعی جی اُٹھنے کو دیکھے بغیر اُس کو جادو کس طرح کہتے تھے جبکہ ویسا وقوع میں آتے دیکھا نہ تھا ۔ یادرہے کہ یہ سب حضرت کے جواب ہیں جو آپ ہی لوگوں کے منہ میں ڈالتے تھے۔ اور لوگوں نے دیکھا کچھ بھی نہیں تھا۔آپ اس آیت کو تفصیلی معجزات کے ثبوت میں پیش کرتے ہو جس کا کچھ ٹھکاناہی نہیں ہے۔علاوہ ازیں دکھلانا چاہیے کہ قرآن میں کہاں اس کی تفصیل آئی ہے ۔کہیں بھی نہیں۔ اس کانام آپ معجزہ نامعلوم کہیں ۔

پھر آپ کہتے ہیں کہ ایسے عظیم الشان کا ایسا ہی معجزہ ہونا چاہیے ۔مَیں کہتا ہوں کہ کیا ایسے عظیم الشان کے ایسے معجزہ کا بے ثبوت ہونا بھی اُس کی شان کے ساتھ لازمی ہے ؟چاند کا پھٹ جانا کوئی ایسا بات نہیں جو کسی کوٹھری میں ہوسکے جہاں کوئی دیکھ نہ سکے ۔بلکہ یہ واقعہ کُل عالم کے لیے یادگار ہونا چاہیے ۔اس لیے اُس کا ثبوت اُن ملکوں کی تواریخ نجوم سے ملنا چاہیے ۔جو ملک عرب کے سوائے ہیں ۔ اہل ہند اور اہل چین اور اہل فارس اور اہل یونان جو اس علم میں دسترس رکھتے تھے کیا انہوں نے اس واقعہ کا اپنے طور پر ذکر کیا ہے ؟ اور یاد رہے کہ انگریزی نجومی گذشتہ تواریخ یا کیفیت سیاروں کی گردش اور سورج اور چاند گرہن کی نسبت بھی معلوم کرسکتے ہیں ۔مگر چاند کا دو ٹکڑے ہونا اب تک کسی نے بیان نہیں کیا ۔کہ فلاں زمانہ میں چاند دو ٹکڑ ے ہوگیا تھا ۔مگر اور کتابوں میں کیوں کر اس بات کا ثبوت ملے جب کہ خود محمدی مفسر کہتے ہیں کہ بادلوں کے باعث خُدا نے اوروں کو نہ دکھایا تھا (شاید ساری دُنیا پر ایک ہی وقت بادل کرکے صرف خُدا اور محمد صاحب نے یہ واقعہ دیکھا ہوگا!!!)مولوی صاحب آپ نے کیوں کر کہا کہ لوگوں نے شق القمر دیکھا تھا اور اس لیے اُسے جادو کہا تھا ۔یہاں تو کیفیت کچھ اور ہے ۔

پس صاحب اس واقع کے عدیم الثبوت ہونے کے سبب سے ہم آپ کو آگاہ کرتے ہیں کہ قرآن کا بیان جھوٹھا ٹھہرتا ہے۔اور اس لیے صلاح بھی دیتے ہیں کہ اگر قرآن کی خیرچاہو تو اس بات کو آنحضرت کا معجزہ نہ گمان کرو اور قیامت کے متعلق ہی رہنے دو کیونکہ اس حال میں عیب چھپا رہے گا ۔پر اگر گذشتہ کے متعلق کہتے ہو تو پھر اس کے جھوٹا ہونے کا کلام ہی نہیں۔

قولہ۔2:۔(سورہ انفال رکوع 2)میں ہے ۔سو تم نے اُنہیں نہیں قتل کیالیکن اللہ نے ۔اور تو نے نہیں پھینکی تھی مُٹھی خاک کی جس وقت پھینکی تھی لیکن اللہ نے ۔اس آیت سے دو باتیں نکلتی ہیں ۔ایک یہ کہ مسلمانوں نے اپنے مخالفوں کفار کو تلوار یا پتھر وں سے قتل کیا۔ دوم یہ کہ آنحضرت نے ایک مُٹھی خاک سے کفار مشرکین کو ہلاک کردیا۔یہ بھی ایک معجزہ میں داخل ہے۔

______________________________________

3 ۔دیکھو تحقیق ایما۔مصنف پادری عمادالدین صاحب ۔طبع سوم ۔صفحہ 4۔مگر سیل صاحب ایک شخص ابن مسود کا ذکر کرتے ہیں جس نے کوہ ہرا کو دونوں ٹکڑوں کے درمیان آتے دیکھا ۔پر یہ بیان اپنی آپ ہی تردید کرتا ہے ۔
4۔ حاشیہ :۔ واضع ہوکہ قرآن کی آیت میں اس کی تفصیل نہیں کہ کیا پھینکا تھا۔مفسروں کا اتفاق نہیں ہے ۔اور مولوی غلام نبی صاحب کی تحریر اُن کی تقلید پر ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت نے ایک مشت خاک کفار کی طرف پھینکی تھی اور وہ اُن کی آنکھوں میں جاپڑی ۔مگر پادری عمادالدین صاحب تحقیق ایمان میں بیضاو ی سے دو اور معنی اس پھینکنے کے بتلاتے ہیں ۔یعنی جنگ جنگ اُور میں حضرت نے ایک نیزہ ابی بن خلف کی طرف پھینکا تھا۔اور دوسرے یہ کہ اس قہر کی بابت جو حضرت نے خیبرکی لڑائی میں قلوکی طرف پھینکا تھا۔

اقول:۔ واضح ہو کہ جتنی لڑائیاں محمد صاحب لڑے تھے اور اُن میں جس قدر فتح یابیاں آپ کو ہوئیں اُن کی نسبت آپ کا (اور آپ کے پیروؤں کا بھی ) یہ گمان ہوگیا تھا کہ اللہ مسلمانوں کی طرف سے لڑتا ہے (بلکہ اپنے کُل بھلے بُرے کی نسبت خُدا کے ساتھ کا خیال تھا ) اوریہ گمان اُن کو اپنی پے درپے فتوحات کے سبب زیادہ محکم بھی ہوگیا ۔اور اس لیے محمد صاحب اس آیت والی لڑائی میں مسلمانوں کی فتح کو خُدا کی طرف سے کہتے ہیں ۔ یادرہے کہ یہ فتوحات آپ کو اپنے تئیں رسول اللہ جتلانے کا بڑا موقع دیتی تھیں ۔اور آپ نے اُن موقعوں کو ضایع نہ کیا ۔اور یہی وجہ ہے کہ بعد فتح کے اس مقام میں کہہ دیا کہ تم نے اُنہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ نے ۔اور جب کامیابی ہوگئی اور یا کسی ایک مخالف کا کام ہوگیا تو خاک یا نیزہ یا تیر خواہ کسی غرض سے پھینکا گیا تھا مگر الہٰی وسائل فتح میں گردانا گیا ۔اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ فرشتوں کو مددگار بتلادیا اور اگرچہ مسلمانوں نے فرشتوں کو نہ دیکھا تھا تو بھی فتح کے لحاظ سے محمد صاحب کی بات مان گئے ۔ اور راویوں نے اس کو روائت کرنے میں تامل نہ کیا ۔ہمارے بیان کی تائید قرآن کے اور مواضع سے بھی ہوتی ہے ۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے احزاب کو دیکھا وغیرہ اور اُن پر غالب ہوئے تو یوں کہا کہ پھیر دیا اللہ نے منکروں کو اپنے غصہ میں بھرے اور ہاتھ نہ لگی کچھ بھلائی ۔اور آپ اُٹھالی اللہ نے مسلمانوں کی لڑائی ۔(سورہ احزاب رکوع 3) مگر جب جنگ اُحد میں شکست ہوئی جس میں محمد صاحب زخمی ہوگئے تھے۔ اور لوگ اس شکست کے سبب کُڑکڑائے تو اور طرح کی تسلیوں کے بعد یہ کہہ دیا کہ کوئی جی نہیں مرتا بغیر حکم اللہ کے ۔(سورہ عمران رکوع 15)۔یعنی ان کو اپنے مقدر پر شاکر ہونے کو کہہ دیا ۔اور بھی دیکھو (رکوع 16۔ آیت 105)اس سے ظاہر ہے کہ محمد صاحب کا فتوحات کی نسبت وہی خیال تھا جو ہم نے بیان کیا ہے ۔

پوشیدہ نہ رہے کہ اس خیال کی بنا تھوڑوں کا بہتوں پر غالب ہونا تھا۔اپنے پیروؤں کے تھوڑے شمار کو کفار کے بہتوں پر غالب ہوتے دیکھا تو ایسے غلبوں کو لوگوں کے لیے اپنی رسالت کی دلیل بنانے میں توقف (وقفہ، دیر)نہ کیا ۔اور لوگ جنہوں نے ایسی فتوحات اپنی اور غیروں کی دیکھی سُنی نہ تھی محمد صاحب کے کہے کو مان گئے ۔مگر دُنیا کا تجربہ اس بات کے ماننے میں تامل کرواتا ہے۔کیونکہ بہت ایسی قومیں اور نامور شخص ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے تھوڑے شمار سے مخالفوں کی کثرت پر غلبہ پایا۔ سکندر اعظم نپولی ان ،سرچالس نے پیئر۔لارڈ کلایووغیرہ وغیرہ کای ان کی فتوحات معجزوں میں داخل ہیں ؟اور ازیں موجب ان کو رسول خُدا کا مانا جائے ؟ اگر نہیں تو محمد صاحب کی فتوحات کو کیوں کر ان کا معجزہ ماناجائے ۔کچھ نہیں مگر خُدا جس کو چاہتا ہے غلبہ دلواتا ہے ۔کبھی بہتوں کو تھوڑوں پر اور کبھی تھوڑوں کو بہتوں پر ۔یہ خُدائی کے معمولی کام ہیں ۔دیکھو بخت نصر شاہ بابل جو خدا کے لوگوں سے لڑتا اور اُنہیں ذلیل کرتا کیا اُس کو خُدا کی مدد نہ تھی اور کیا اس لیے اُس کی فتوحات معجزہ نہیں اور وہ خود رسول خُدا نہ ٹھہرا۔

الحاصل مولوی صاحب آپ کے ان حوالوں میں بھی معجزہ ندارد پایا ۔ اب ہم آپ کو اس امرپر کچھ اور بھی لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن میں محمد صاحب نے معجزے دیکھانے سے بار بار انکار کیا ہے ۔اور انکار اُن لوگوں کے سامنے کیا جن کو کفاراور شرک کہا کرتے تھے۔اور جن پر اپنے تئیں کرامتوں سے رسول ثابت کرنا واجب تھا ۔نہ کہ غلبوں سے نبوت کا گمان کرنا تھا۔ البتہ پیروؤں کے لیے یہ بڑی بات تھی اوروہ جو پیرو نہ تھے اُن کو دوسری طرح پیرو بنالیا ۔اور اس لیے وہ بھی محمد صاحب کو رسول ماننے لگے۔ اور کیا کرتے ۔وہ انکار حسب ذیل ہیں ۔اور ان کا آپ نے ذکر تک نہیں کیا۔


انکار معجزات

قرآن میں معجزوں کا انکار معہ طرح طرح کے عذروں کے آیا ہے۔

(1):۔ (سورہ انعام رکوع 4۔آیت 36)اور کہتے ہیں کیوں نہیں اُتری اُس پر کوئی نشانی اُس کے رب سے ۔تو کہہ اللہ کو قدرت ہے کہ اُتارے کچھ نشانی ۔لیکن ان بہتوں کو سمجھ نہیں۔
(2):۔(سورہ انعام رکوع 7) تو کہہ مجھ کو شہادت پہنچی میرے رب کی اورتم نے اُس کو جھٹلایا ۔میرے پاس نہیں جس کی شتابی (جلدی) کرتے ہوتو فیصلہ ہوچکے کام میرے اور تمہارے بیچ ۔اصل بات سے قطعی انکار ہے۔
(3):۔ (سورہ انعام رکوع 13۔آیت 109)اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی تاکید سے کہ اگر اُن کو ایک معجزہ پہنچے البتہ اس کو مانیں توکہہ معجزے تو اللہ کے پاس ہیں ۔اور تم مسلمان کیا خبر رکھتے ہو؟ کہ جب وہ آئیں گے تو وہ نہ مانیں گے ۔(لوگوں کے سر پہلے ہی سے قصور یہ تینوں عذر ناداری معجزے کے لیے اہل مدینہ کے سامنے کئے گئے )۔
(4):۔ (سورہ عمران رکوع 19) وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم کو کہہ رکھا ہے کہ ہم یقین نہ کریں کسی رسول کا جب تک نہ لائے ہم پاس ایک نیاز جس کو کھاجائے آگ۔تو کہہ تم میں آچکے کتنے رسول مجھ سے پہلے معجزے لے کر اور یہ بھی جو تم نے کہا ۔پھر کیوں قتل کیا تم نے اُن کو اگر تم سچے ہو۔ پھر اگر تجھ کو جھٹلادیں تو آگے تجھ سے جھٹلائے گئے بہت رسول جو لائے معجزے ۔(یہ عذر اہل یہود کے آگے کیا)۔
(5):۔ (سورہ رعد رکوع پہلا )اور کہتے ہیں منکر کیوں نہ اُترا اُس پر کوئی معجزہ اُس کے رب سے ۔تُوتو ڈر سُنانے والا ہے اور ہر قوم کو ہوا ہے راہ بتانے والا۔(یہ عذر اہل مکہ سے کیا تھا)۔
(6):۔(سورہ بنی اسرائیل رکوع 10)بولے ہم نہ مانیں گے تیرا کہا جب تک تو بہانکالے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ ۔ یا ہوجائے تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا پھر بہالے تو اس کے بیچ نہریں چلاکر ۔یاگرادے آسمان ہم پر جیسا کہاکرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے ۔یا لے آ اللہ کو اور فرشتوں کو ضامن ۔یا ہو جائے تجھ و ایک گھر ستھرا ۔یا چڑ ھ جائے تو آسمان میں اور ہم یقین نہ کریں گے تیرا چڑھنا جب تک نہ اُتار لائے ہم پر ایک لکھا جو ہم پڑھیں ۔تو کہہ سبحان اللہ مَیں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا ۔(لوگ تو چاہتے ہیں کہ کچھ ہی دکھلادے مگر آپ صریح انکار کرتے ہیں)۔ یہ عذر اہل مکہ سے کیاتھا۔
(7):۔ (سورہ بنی اسرائیل رکوع 6۔آیت 61)اور ہم نے اسی سے موقوف کئے معجزے بھیجنے کہ اگلوں نے اُن کو جھٹلایا تھا۔یہ عذر بھی اہل مکہ سے کیا ۔کہو صاحب اور انصاف کرو اے ناظرین کہ ناداری معجزہ کا کسی طرح کا عذر باقی رہ گیا ۔نہیں ہر طرح سے انکار کیا۔
اب معلوم کرو کہ ان میں سے کوئی سی ایک آیت لے لو اور وہی غلام نبی صاحب کے سارے رسالہ کی تردید کے لیے کافی ہے۔ اور کاہے کو محمدی محمد صاحب کے پیچھے ہاں ہاں کرکے پڑگئے ہیں جس بات کی نسبت وہ نہیں نہیں کہہ گئے تھے۔اور کیوں نہیں فقط خُدا کے قدرتی کاموں اور اگلے نبیوں کے معجزوں ہی پر قناعت کرتے جن پر محمد صاحب نے صبر سے یقین کیا تھا اور لوگوں کو بھی وہی سُنائے تھے؟ چنانچہ دیکھو (سورہ مومن رکوع 9) پھر جب پہنچے اُن کے پاس رسول اُن کے کھلے معجزے لے کر وغیرہ اور بھی دیکھو (سورہ عمران رکوع 19۔پھر سورہ ہذا رکوع 19 ۔آیت 191) آسمان اور زمین کا بنانا اور رائدن کا بدلتے آنا اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو۔ اس کے مطابق دیکھو (سورہ نمل رکوع 6۔آیت 88۔سورہ یٰسین آیت 33، 37، 41۔سورہ روم آیت 20)وغیرہ ۔مگر آپ اس نعمت وسند الہٰی سے محروم ہونے کا مکررسہ (کئی بار)اقرار کرتے ہیں ۔یادرہے کہ حضرت محمد صاحب نے اپنی رسالت کا دعویٰ اپنے ہم عصروں کے سامنے معجزوں کے ساتھ نہ کیا تھا لیکن قرآن کو بے مثل کہہ کے اپنے تئیں نبی اللہ باور کروانے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ لوگ کس گردآب (بھنور،پانی کا چکر،گھمن گھیری)میں بھولے ہو اور قرآن کا معجزہ ہونا بھی ہمارے مسیحی برادران نے ۔ (دیکھو بھی عدم ضرورت قرآن ) بے طرف رد کیا ہے ۔سو آپ لوگ اپنی ایسی تحریروں سے اپنے پیشوا کو جھوٹھا ٹھہراتے ہو جیسا آپ کے محدث پہلے کرگئے ہیں۔ اور اُس کی رہی سہی عزت بھی برباد کرتے ہو۔ ورنہ محمد صاحب کو معجزات سے کیا نسبت ہے۔


معجزاتِ عقلی

اس عنوان کے تحت میں مولوی صاحب نے محمد صاحب کی عقلی اور فراست کی باتوں کو عقلی معجزات یعنی آنحضرت کی پیش گوئیاں کرکے بیان کیا ہے ۔اگر یہ عام لوگوں یعنی غیر الہٰامی لوگوں کی باتوں سے کچھ بڑھ کر معلوم ہوئیں تب تو اُن کو الہٰامی مانا جائے گا پر اگر نہیں تو اس صورت سے بھی ان کا نبی ہونا مشکل ہے ۔ مولوی صاحب نے چار قول اس مطلب کے پیش کئے ہیں۔

قولہ ۔1:۔ (سورہ روم کی پہلی آیت)میں یہ مذکور ہے۔مغلوب ہوگئے ہیں رومی بیچ بہت نزدیک زمین کے اور وہ پیچھے مغلوب ہونے اپنے کے شتاب غالب آئیں گے ۔خُدا تعالٰی نے اس آیت میں بطور پیش گوئی کے یہ فرمایا۔چنانچہ مطابق اس کے اگرچہ فارس والوں کا کیسا ہی عمدہ انتظام کیوں نہ تھا مگر رومی غالب آہی گئے۔

اقول:۔ (1)۔یہ بات آپ نے لکھی ہے کہ اہل روما کی شکست سے مسلمانوں کو نہایت رنج وقلق ہو کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ اہل روم غالب آئیں ۔تو اس پر خُدا نہیں لیکن خود محمد صاحب نے اپنی فراست اور موقعہ بینی سے مسلمانوں کی تسلی کے لیے یوں ہی کہہ دیا جیسا حکیم بیماروں کو اور سردار فوج اپنے لشکر کو رنج وحیرانگی کے وقت کہا کرتے ہیں اور بعض اوقات اُن کا کہا پورا ہوجاتاہے ۔تو کیا ان لوگوں کی ایسی باتوں کو الہٰامی مانا جائے ۔

(2):۔معلوم ہوکہ محمد صاحب کو ایسی تسلی کی بات کہنے کی وجہ گذشتہ تواریخ تھی ۔یعنی محمد صاحب کو معلوم تھا کہ پہلے خُدا نے اپنے لوگوں کو باوجود مغلوب ہونے کے پھر بھی فتح مند کیا تھا۔ تو اسی خیال سے اہل روم کی نسبت بھی جو خُدا کے لوگ اور اہل کتاب تھے غالب ہونے کی بابت کہا۔ چنانچہ آنحضرت خود ہی کہتے ہیں کہ (آیت ) کیا پھرے نہیں مُلک میں جو دیکھیں آخر کیسا ہوا اُن سے اگلوں کا؟زیادہ تھے اُن سے زور میں اور زمین اُٹھائی اور بسائی اُن کے بسانے سے زیادہ اور پہنچے اُن پاس رسول اُن کے کھلے حکم لے کر وغیرہ ۔پھر ہوا آخر بُراکرنے والوں کا بُرا اس پر کہ جھٹلادیں باتیں اللہ کی ۔پس اس بنا پر محمد صاحب اپنی عقل سے ایسی علی الحساب پیش گوئی کرسکتے تھے کہ اہل فارس جو مثل عربوں کے بمقابلہ اہل روما کے بُت پرست اور خُدا کی باتوں کو جھٹلانے والے ہیں سو آخر اُنہیں کا بُرا ہوگا۔وہی مغلوب ہوں گے جیسا اگلوں کا حال ہوا تھا۔نہیں معلوم کیوں محمدی اس آیت میں پیش گوئی بوسیلہ الہٰام تلاش کرتے ہیں ۔کیونکہ یہ تو گذشتہ واقعات کے لحاظ سے کہاگیا ہے جیسا آج کل گذشتہ تجربہ یا علم کی بنا پر اخباروں میں آئندہ کی خبریں اُڑائی جاتی ہیں ۔چنانچہ دیکھو (وکٹوریہ پیپر جلد 6۔صفحہ 2544، مطبوعہ 11۔دسمبر 1885ء)معاملہ مصر ۔شاید موسم سرما کے شروع ہوتے ہی پھر مفسدوں نے ہاتھ پاؤں نکالے ہیں مگر تابکے وہ جلد ترپائمال ہوں گے۔پھر (وکٹوریہ پیپر مطبوعہ 20 ۔دسمبر 1885ء صفحہ 3)لعل موہن گھوس ۔ لارڈرپن صاحب رائے ہے کہ گواس وقت بابو گھوس صاحب کامیاب نہیں ہوئے مگر ایک نہ ایک وقت بالضرور کامیاب ہوں گے ۔ کیا یہ شخص الہٰام سے ایسی خبریں دیتے ہیں ؟ ایسا ہی محمد صاحب کا قول ہے۔

(3):۔ اس آیت میں ہے کہ اہل روما بعد مغلوب ہونے کے جلد غالب ہوں گے ۔یہ بات غیر معین سی معلوم ہوتی ۔لفظ بعد اور جلد کا خیال رکھا جائے ۔کیونکہ اہل روما کے مغلوب ہونے کے بعد جلد پھر وہ ہی مغلوب رہے تھے۔ چنانچہ سیل صاحب لکھتے اور گبن صاحب کی ''تواریخ روم ''سے بھی ظاہر ہے کہ اس فتح کے بعد آئندہ برسوں میں فارسیوں نے زیادہ پر زیادہ ترقی کی اور آخر کار خود قسطنطنیہ کا محاصرہ کرلیا اور بعد اس کے اہل روما غالب ہوئے تھے۔ اس سے اظہر (ظاہر)ہے کہ وہی بات ٹھیک ہے جو ہم نے تحریر کی ہے کہ محمد صاحب کو یہ خیال تھا اور وہ بھی گذشتہ علم کی بنا پر کہ آخر بُروں کا بُرا ہوگا اور اس نے ایسی علی الحساب بات کہہ دی نہ کہ الہٰام سے نبوت کی تھی۔

قولہ۔2:۔ (سورہ نور رکوع 7 ۔آیت 54)میں مرکوز ہے ۔وعدہ دیا ہے اللہ نے جو لوگ تم میں ایمان لائے ہین اور کئے ہیں کام نیک البتہ پیچھے حاکم کرے گا اُن کو ملک پر جیسا حاکم کیا تھا اُس نے اگلوں کو ۔چونکہ یہ فرمودہ اور وعدہ اُس عالم الغیب کا تھا جس نے آنحضرت کو تبلیغ رسالت پر ممتاز فرمایا اس اس بادیہ نشیں قوم نے اس قدر وسعت سلطنت کی بادشاہت کی کہ ہمارے مخالف بھی اس پر عش عش اور انصاف کی داد دے گئے ہیں۔

اقوال :۔(1)۔تجربہ سے ظاہر ہے کہ لشکر کشوں کو اپنی فوج کی دلیری اور تسلی کے لیے فتح کی پیش گوئیاں کرنی پڑتی ہیں ۔اور وہ پوری بھی ہوجاتی ہیں۔ کبھی بالکل اور کبھی کسی قدر۔چونکہ محمد صاحب ایک لشکرکش تھے۔لہٰذا اُن کو بھی ایسی پیش گوئیاں کرنے کی ضرورت ہوتے تھی (لشکرکشوں جیسا نبی محمد صاحب بھی ہوسکتا ہے ان میں اور دوسروں میں یہ فرق ہے کہ محمد صاحب اپنی باتوں کو خُدا کی بتلائی کہہ دیا کرتے تھے)۔معلوم ہوتا ہے کہ جنگ بدر والی فتح نے آپ کو ایسا کہنے کے لیے اور بھی دلیر کردیا تھا۔کیونکہ بعد اس اگر مسلمان شکست بھی کھاتے جیسا جنگ اُحد میں تو بھی ان کو تسلی دیا کرتے تھے کہ سُست نہ ہو اور غم نہ کھاؤ اور تمہیں غالب رہوگے ۔(سورہ عمران رکوع 14۔ آیت 139)یہ بالکل سپاہسالاروں کی سی بات ہے۔ اس سے الہٰام ثابت نہیں ہوتا۔

(2):۔ اس پیش گوئی میں یہ بڑا نقص ہے اور اس کے پیش گوئی ہونے کے بہت ہی برخلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں اہل عرب کی یا اور مُلکوں کے مسلمانوں کی (بھی) اقبالمندی کی خبردی ہے گویا کہ زوال کبھی نہ ہوگا۔زوال کا قرآن والی آیت میں ذکر نہیں ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ محمد صاحب نے الہٰام سے یہ بات نہیں کہی تھی مگر سپاہسالاروں والے خیال سے صرف دلیری کی بات کہی۔ تواریخ سے ثابت ہے کہ فرانس اور سپین اور روم میں عربوں کو کیسی کیسی شکست ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ عربی آگے نہ بڑھ سکے بلکہ ان کو ایشائی زمین پر پھر واپس آنا پڑا ۔اور پھر ایام کروسیڈ میں یعنی عیسائیوں کی دینی لڑائیوں میں بھی وہی حال گذرا ۔جس سے یہ بات غلط ٹھہرتی ہے کہ تمہیں غالب رہوگے۔اور اگر اسی قدر ردوبدل اب تک ہوتا رہا ہے حتیٰ کہ اب صرف روم میں ترکی مسلمانوں کی حکومت برائے نام رہ گئی ہے۔اس سے یہ قول باطل ٹھہرتا ہے کہ پیچھے حاکم کرے گا تم کو یعنی عربوں کو دیا اور مسلمانوں کو بھی ،زمین میں یہ پیچھے حاکم ہونا عربوں کو سو دیگر مسلمان قوموں کا ا ب کہاں رہ گیا ۔ایک آدھ جو ہیں وہ بھی انجام کو پہنچے ہوئے ہیں۔ اگر محمد صاحب کہتے کہ پہلے تم کو حاکم کرے گا اور پھر ذلیل کرے گا تب تو ٹھیک تھا اس لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ یک طرفہ کوتاہ اندیشی پیش گوئی نہیں لیکن لشکرکشوں کیسی دلیری ہے۔

قریباً اسی طرح پوپ اربن ثانی نے کونسل کلرمنٹ میں کروسیڈس کی نسبت لوگوں کو یوں دلیری دی تھی کہ گویا نبوت کی راہ سے بولا تھا ۔ کہ ان معتدل مُلکوں میں تم پیدا ہوئے اور اس لیے تم فتح کے مستحق ہوجو تمہارے دشمنوں کو حاصل نہیں ہوسکتی ۔تمہارے پاس دانائی اور تربیت اور تجربہ کاری اور بہادری ہے اورتم خُدا کی بخشش اور مقدس پطرس کے اقتدار سے اپنے گناہوں سے معافی پاکے مشہور ہوگے۔معافی کا یہ خیال تمہارے سفر کی محنت کو ملائم کرے گا ۔اور موت تم کو مبارک شہادت کی نعمتیں دے گی ۔ دُکھ اور اذیت تم کو ہوں گی مگر تمہاری تکلیفیں تمہاری روحوں کا فدیہ دیں گی ۔پس اپنے محبت کے کام پر جاؤ ۔اگرتم یہاں اچھی میراث چھوڑتے ہوتو مقدس زمین (کنعان )میں تمہیں بہتر میراث ملے گی ۔ وہ جو مارے جائیں آسمانی مکانوں میں داخل ہوں گے اور زندہ خُداوند کی قبر کو دیکھیں گے ۔دیکھو سرجارج کاکس صاحب کی کتاب بنام (کروسیڈس ۔دوسرا باب) یہ ٹھیک محمد صاحب کی دلیری کے اور تسلی کے موافق ہے۔ اور اس تقریر نے لاکھوں عیسائیوں میں دینی جوش بھڑکایا اور وہ اپنی لڑائیوں میں کبھی کامیاب اور کبھی ناکامیاب ہوئے تھے۔ محمد صاحب کی بات کا بھی عربوں کے حق میں ایساہی نتیجہ ہواتھا۔مگر یہ الہٰام کی بات نہ تھی اگرچہ لوگ پوپ اربن کے جواب میں پکار اُٹھے تھے کہ یہ خُدا کی مرضی ہے ! یہ خُدا کی مرضی ہے۔

(3):۔ معلوم ہوتا ہے کہ (سورہ انبیاء کے آٰت 105)والے وہم یا فریب میں اُن کے ایسا بے روک دعویٰ کردیا تھا۔کہ ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت سے پیچھے آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے۔(دیکھو زبور 37: 29)مگر نہ جانا کہ وہ خبر مسلمانوں کی نسبت نہ تھی لیکن اُن کی نسبت تھی جن کو خُداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ مبارک وہ ہے جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے ۔(متی 5: 5؛ بمقابلہ زبور 37: 11، 29) سوچو کہ مسلمانوں کو راستبازی اور حلیمی سے کیا نسبت ہے۔ زمانہ شاید ہے کہ کون لوگ زمین کے وارث ہیں ۔غرض یہ کہ پیش گوئی بہر صورت محمد صاحب کے الہٰام کے برخلاف ہے ۔

قولہ ۔3:۔(سورہ فتح رکوع 4) میں ہے ۔البتہ تحقیق سچ دکھایا اللہ نے رسول اپنے کو خواب ساتھ سچ کے۔ (کہ سچ تھا)البتہ داخل ہوگئے تم مسجد حرام میں اگر چاہا اللہ نے امن سے مُنڈاتے ہوئے سروں اپنے کو اور کتراتے ہوئے نہ ڈرتے ہوگے۔

اقوال:۔ واضح ہو کہ اس میں تو کچھ پیش گوئی نہیں ۔کیونکہ مطلب حاصل ہوجانے پر اپنا ایک گذشتہ خواب اسی مضمون کابیان کردیا ہے۔ (خواہ خواب دیکھا تھا یا نہیں ) کہ اللہ نے سچا کیا اپنے رسول کے لیے خواب کہ سچ تھا ۔اور وہ خواب یہ تھا کہ تم داخل ہوگے ادب والی مسجد میں وغیرہ ۔ خیال کرو کہ یہی آیت پیش گوئی ہے اور یہی تکمیل ہے۔یہ خوب ہے!!۔

علاوہ ازیں معلوم ہو کہ یہ قید کہ اگر اللہ نے چاہا اس بات کو پیش گوئی ہونے نہیں دیتی ۔کیونکہ الہٰامی پیش گوئی تو ہوتی ہے اللہ کی مرضی سے ہے ۔یہ طرز تو صاف غیر الہٰامیوں کی ہے ۔ایسی سینکڑوں پیش گوئیاں ہمارے دوستوں اور ہماری اپنی بھی پوری ہوگئی ہیں گو کہنے کے وقت نہ جانتے تھے کہ آئندہ کیا کچھ ہوجو اُن کا مانع ہو۔ پس صاحب اس آیت سے بھی محمد صاحب اسی فہرست میں آئے جس میں غیر الہٰامی شامل ہیں۔

قطع نظر اس سے جاننا چاہیے کہ اگر ایک آدھ خوابوں کے سچ ہونے سے محمد صاحب کا الہٰام منتج (نتیجہ )کیا جاتا ہے تو ہر زمانہ اور ہر قوم میں جتنوں کو ایسے خواب آئے ۔ان کو الہٰامی اور رسول خُدا ماننا پڑے گا۔خواہ وہ کیسے ہی نالائق کیوں نہ ہوں ۔چنانچہ نان پز اور ساقی (پیدائش 40: 5)اور بخت نصر بادشاہ (دانی ایل باب دوسرا اور چوتھا) کی خوابی پیش گوئیا ں پوری ہوگئی تھیں۔سسرو ذکر کرتا ہے کہ دوارکیدیہ کے رہنے والے مگارہ میں جُدا جُدا کوٹھریوں میں آکے ٹھہر ے ان میں سے ایک دو دفعہ خواب میں دوسرے کو نظر آیا ۔پہلے مدد مانگتا ہوا اور پھر مقتول ہوکر ۔اور اپنے ساتھی کو کہا کہ میری لاش صبح سویرے ایک ڈھپنی ہوئی گاڑی میں فلانے دورازہ سے شہر کے باہر لے جائیں گے ۔ وہ دوسرا شخص بے قرار ہو کے صبح کو اُس جگہ گیا۔ گاڑی پائی لاش معلوم کی خونی کو پکڑا اور حاکم کے حوالے کیا۔پھر لنڈن ٹائمز میں ذکر ہے کہ مسٹر ولیمسن کرکے ایک شخص کا رنوال میں رہتا تھا اُس نے ایک ہی رات میں تین دفعہ خواب دیکھا کہ چانسلر آف انگلیند ہوس آف کامنس کی ڈیوڑھی میں مارا گیا ہے ۔ اس خواب نے اس پر ایسا اثر کیا کہ اُس نے اپنے کئی ایک جان پہچانوں کو بتلایا ۔بعد اس کے معلوم ہوا کہ اُسی دن کی شام کو چانسلرمسٹر پرسی دل خواب کے مطابق قتل کیا گیا تھا۔ (دیکھو پروفیسر جوزف ہی دن صاحب کی منٹیل فلاسفی ۔چوتھا حصہ ضمیمہ باب 2۔فصل 2)۔یہ امریکن مصنف ہے صاحب موصوف نے کئی ایک ایسے خواب ڈاکٹر مور اور ڈاکٹر ابرکرامبی کی فلاسفی سے بیان کئے ہیں ۔اور سبب ایسے نبوی خوابوں کا یہ بتلاتے ہیں کہ یہ ہمارے حس یا خیالوں کے سبب سے جو موجود ہوں یا دن کے وقت دل کی پرجوش اور فکر مند حالت اور خیال کے سلسلہ کے سبب سے آتے ہیں ۔پس معلوم ہوکہ محمد صاحب کے خواب کا بھی یہی سبب ہوسکتا تھا۔کیونکہ اُسی سورہ کی آیت 25 میں مذکور ہے کہ پہلے لوگوں نے آنحضرت اور اُن کے پیروؤں کو مسجد حرام میں جانے نہیں دیا تھا اس کے بعد حضرت کو یہ خواب آیا ۔اس مزاحمت کے سبب دل پر جوش اور فکر مند ہوگا جس کا نتیجہ یہ خواب ہوا نہ کہ الہٰام الہٰی سے اُن کو بتلایا گیا تھا ۔اور اگر مذکورہ بالا لوگوں کو ایسے نبوی خواب دیکھنے کی وجہ سے الہٰامی کہہ سکتے ہیں تو محمد صاحب کو بھی ہم ناحق خارج نہیں کرتے ۔مگر یاد رہے کہ یہ خواب الہٰامی نہ تھی پس بہرصورت اس آیت سے بھی مولوی صاحب کا مقصد حاصل نہ ہوا۔

قولہ۔4 :۔ یہ آیت چھٹے پارہ کے اخیر میں ہے ۔اور البتہ پائے تو نزدیک اُن کا دوستی ہیں واسطے اُن لوگوں کے کہ ایمان لائے ہیں اُن لوگوں کو کہ کہتے ہیں ہم اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے ۔(اس کے ثبوت میں مولوی صاحب نے محمد صاحب کے حق میں واشگٹن اردنگ ۔جان ڈیون پورٹب گاڈ فرے ہگنس ۔سرولیم میور ۔ڈاکٹر سپرنگر اڈدرڈ گبن اور جی ۔ایم راڈومل صاحبان کی رائے نقل کی ہے )۔

اقول :۔ (1)۔واضح ہو کہ اس کے یہ معنی نہیں معلوم ہوتے کہ بعض عالم نصاری کے میری نسبت اچھی رائے دیں گے ۔ لیکن وہ دوستی نصاریٰ کی مسلمانوں کے ساتھ ہوگی ۔مگر اس کی تفصیل نہیں کہ کس بات میں مُلکی معاملات میں یا باہمی برتاؤ میں اور یا سچ کو قبول کرنے میں جیسا سیل صاحب لکھتے ہیں ۔مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ۔

(2)۔یہ کوئی پیش گوئی ہی نہیں ،کیونکہ ایسی بات کہنے کی وجہ اس آیت میں ساتھ لکھی ہے آپ نے اس کا خیال نہیں کیا ۔اور یہ اس واسطے کی ان میں ہیں عالم اور درویش اور کہ دے تکبر نہیں کرتے ہیں ۔ جس حال کہ یہ سب خوبیاں نصاری کی محمدصاحب کو معلوم تھیں تو نصاری کو مسلمانوں کے سب سے نزدیک دوست کہتے کے لیے کچھ بہت سوچ اور دور اندیشی درکار نہ تھی ۔حتیٰ کہ الہٰام ہی بتلاتا تو یہ بات کہہ سکتے ۔چنانچہ یہود جن کی مخالفت کا آپ تجربہ کرچکے تھے ۔اُن میں یہ خوبیاں نہ پانے پر اسی آیت میں جو آپ نے (سورہ مائدہ )سے پیش کی ہے محمد صاحب نے کہا ہے کہ تو پائے گا سب لوگوں میں زیادہ دشمنی مسلمانوں سے یہود کو ۔یہ تو عام بول چال کی بات ہے۔ خوبی یا بُرائی دیکھ کر بھلا یا بُرا نتیجہ بتلادینا۔

(3)۔ جن عالموں کی رائے آپ نے نیک سمجھ کر نقل کی اُن میں سے اکثر وں کی رائے اصل میں قرآن اور اسلام کی بیخ کنی (جڑ سے اُکھاڑنا، برباد کرنا)ہیں آپ اُن کے مقصد کو سمجھے نہیں اور اُن پر صادر کردیا ہے۔چاہیے کہ اُن کی پوری آراء کا ملاحظہ کیا جائے ۔اُن سے سب سے مستند محقق سرولیم میور اور ڈاکٹر سپرنگر صاحب سمجھے جاتے ہیں ۔بالفعل ہم صرف ڈاکٹر سپرنگر صاحب کی رائے نقل کرتے ہیں ہم نے دیباچہ میں اُن کی ایک رائے تحریر کی ہے اور اُس میں سے یہاں اس قدر پھر نقل کرتے ہیں ۔ کہ

''اسلام محمد صاحب کاکام نہیں ہے ۔وہ اہل عرب کا عوام قول ہے اور محمد صاحب نے اپنے بداخلاق اور ضد اور فریب سے اُس کی ساری تعلیمات کو خراب کیا ۔اور قرآن کی اکثر زشت (بدنما، بھونڈا)تعلیمات محمد صاحب کی ہیں ''۔

پھر یہ صاحب موصوف لکھتے ہیں کہ

''محمد صاحب کا مزاج رنج آور تھا اور اُس کے عصب(نس) بہت کمزور تھے ۔پھر وہ بہت وسواسی تھا مثلاً بُرے خواب کے بے تاثیر کرنے کے لیے وہ اپنے بائیں کندھے کی طرف تین مرتبہ تھوکا کرتا تھا وہ شاعر تھا اور بہت مضبوط قیاس ۔پھر وہ بہت قوی دل اور سرگر م تھا اورعجب طرح کی قائم مزاج رکھتا تھا ۔اُس کے سارے کاموں میں عیاری ظاہر ہرتی ہے۔ قتل انگیز دینی حرارت اُس کی مشہور خاصیتوں میں عالی درجہ رکھتی ہے''۔

(دیکھو خطوط ہندوستانی جوانوں کے واسطے مصنف ڈاکٹر مرے مچل صاحب، 1869ء لکھنو)

اڈرومین صاحب اپنی ''تواریخ روم '' میں لکھتے ہیں کہ

'' قرآن قصے اور حکم اور سخن گوئی کا بے انتہا اور ناموافق کلام بے جوڑ ہے جو کبھی کبھی گرو میں رینگتا ہے اور کبھی کبھی بادلوں میں غائب ہوتا ہے ''۔

مَیں زیادہ آراء نقل نہیں کرتا اور بالفعل انہیں پر اکتفا کرتا ہوں الا (مگر) آگاہ کرتا ہوں کہ اس آیت کے ثبوت میں عالموں کی آراء بہتر نہیں ۔کیونکہ اس صورت میں محمد صاحب کی پیش گوئی غلط ٹھہرتی ہے ۔

محمد صاحب کی پیش گوئیوں کے پیش گوئی نہ ہونے کی نسبت جو کچھ ہم نے تحریر کیا ہے اُس کُل کی ذیل کی باتوں سے اور بھی تائید ہوتی ہے ۔ اول یہ کہ خود محمد صاحب نے اپنی نسبت کہا کہ مَیں نہیں جانتا غیب کی بات۔(سورہ انعام آیت 49) ۔دوسرے یہ کہ (سورہ فتح رکوع 4)میں مرقوم ہے کہ وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ پر اور سچے دین پر کہ اوپر رکھے اُس کو ہر دین سے۔ اگر اُس کو پیش گوئی سمجھیں تو بالکل غلط ہے کیوں کہ دین محمد ی دین عیسوی پر کسی بات میں سرفراز نہیں ہوا اور نہ ہے۔اور نہ ہوگا۔بلکہ جس قدر زوال اس کو ہے اُتنا چینیوں کے مذہب کو نہیں ۔اس سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ محمد صاحب پیروؤں کو محض اپنی عقل سے دلیریاں دیا کرتے تھے جن میں سے کوئی سچ ہوگئی اور کوئی جھوٹھی ۔عقل کی تحقیق ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ اورایسی پیش گوئیوں سے کسی کو الہٰامی نبی تصور کرنا کفر نہیں تو اور کیا ہے۔

الحاصل مولوی صاحب آپ کے تینوں قسم کے معجزے ثابت نہ ہوئے اور محمد صاحب میں یہ بھاری علامتیں رسالت کی ندارد نکلیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ محمد صاحب نبیوں میں شامل نہ کئے جائیں ۔اور آپ محمد ی لوگ کیوں آنحضرت کے لیے ادنیٰ ادنیٰ باتوں کو معجزہ بنانے کے لیے ایسے پریشان سے نظر آتے ہو۔ اس سے کیا حاصل ہے ۔اگر انہوں نے کوئی معجزہ نہیں کیا تو جانے دو اور مت گھبراؤ ۔اور بہت بہت ہیں جن کی رسالت کرامت ثابت ہے۔خصوصاً خُداوند یسوع مسیح کا خُدا کی طرف سے ہونا معجزوں اور اچنبھوں اور نشانیوں سے ثابت ہوا (اعمال 2: 22)پس اُس کی طرف آؤ ۔ اور جھوٹھے نبیوں سے خبردار رہو(متی 7: 15)۔

میر ی رائے میں آپ لوگ معجزات احمدیہ کے لیے بے فائدہ فکر مند ہورہے ہو کیونکہ محمد صاحب کو تو معجزے کرنے کی کچھ ضرورت نہ تھی چنانچہ (1) اس عدم ضرورت انہوں نے خود ہی پیش کیا تھا (سورہ بنی اسرائیل رکوع 6)

(2)۔معجزہ کی ضرورت ثبوت الہٰام کے لیے ہوتی رہی ہے جیسے موسیٰ اور خُداوند عیسیٰ نے کیا تھا۔ مگر محمد صاحب نے اپنے الہٰام کے ثبوت میں کتب مقدسہ سابقہ اور قرآن کی مطابقت کو پیش کردیا ہے (سورہ شعرا رکوع 11۔آیت 192، 196، 197)۔سورہ یوسف آخری آیت۔

(3)۔ اس حال میں محمد صاحب کو معجزہ منسوب کرنے کی کچھ ضرورت نہیں ہے اور جو معجزے احادیث میں لکھے گئے ہیں وہ (1) اور (2) والے مُدعا کو ضائع کرتے ہیں کیونکہ وہ مروجہ طریقوں کی تائید میں نہ کئے گئے تھے مگر اُن کی مخالفت کے لیے تھے ۔ حالانکہ احادیث کے معجزات خواہ وہ جو عیسائی مسیح کو یا اوروں کو منسوب کرتے یا ہندو اپنے بزرگوں کومنسوب کرتے اور یا محمدی محمد صاحب یا خلیفوں کو لڑائی کی آن منسوب کرتے وہ سب کسی نہ کسی مروجہ اور قائم شدہ دین میں کئے گئے تھے ۔اور اُن کے تذکرے اُن لوگوں کے درمیان اور ایسے وقت میں ایجاد ہوئے جن کو اُس وقت اپنے اپنے مذہب کے ساتھ پوری پوری ہمدردی ہوگئی تھی اور اپنے اُن ہم مذہب شخصوں کا تعظیماً اعتبار کرنا ہر طرح منظور ہوگیا تھا ۔جن کو معجزے منسوب کئے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں معجزہ صرف دل لگی کی بات ہے ۔ الہٰام کا ثبوت نہیں ٹھہرتا ۔اور اعتبار کے لائق بھی نہیں ہوسکتا ۔اُن معجزات کا خاص کر یہ حال ہے جو محمد صاحب کو منسوب کئے جاتے ہیں ۔ اُن کا تذکرہ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیروؤں کو ہر طرح اور ہر بات میں محمد صاحب کی تعظیم منظور تھی۔ ہر ایک چھوٹے چھوٹے کام میں بھی معجزہ کا دخل بتلایا ہے ۔ دیکھو ''تاریخ واقعہ''۔پس محمد صاحب کے حق میں کوئی معجزہ روا نہیں ہے ۔

تمام شد