#


“How shall we escape if we neglect so great a salvation?” —
Hebrews 2:3 (KJV)

ہم کیونکر بچیں گے اگر اتنی بڑی نجات سے غافل رہیں''(عبرانیوں 2: 3)''

The Way of Salvation
Late M. Hanif

راہِ نجات

مصنف

ایم۔ حنیف مرحوم
پنجاب رلیجس بُک سوسائٹی
انار کلی۔ لاہور
1892



نذر

بوجہ اُن احسانات و فوائد کثیر کے جو رائیٹ ریورنڈ ٹی ۔وی فرنچ بشپ آف پنجاب کی تعلیم ،نمونہ اور ذات سے پنجاب کی مسیحی کلیسیا کو بہ حیثیت مجموعی حاصل ہوئے ہیں ہپچمپرز مصنف بہ سبب کلیسیا کافروہونے کے اس حقیر تصنیف کو نہایت ادب ، عجز اور شکر گزاری کے ساتھ اُن کی نذر کرتا ہے۔

ایم۔ حنیف مسیحی مصنف

جولائی 1892ء



راہِ نجات

خُدا باپ ، بیٹے اور روح القدس تین اقنوم اور ایک خُدا کی حمد وستائش ابد تک ہو۔

دیباچہ

کتاب ہذا شروع کرنے سے پہلے ہم صرف چند کلمے ناظرین کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں ۔اور وہ یہ ہیں کہ جس دن سے ہم نے مسیحی دین کی نورانی صداقتوں کو دیکھا اور جانچا اور ثابت کیا کہ یہی دین اللہ سے ہے اور یہی دین ہے جس میں ہو کے گنہگار نجات ابدی اور قربت خُدا حاصل کرتا ہے اُس دن سے ہمارا یہ مصمم (پختہ، مضبوط )ارادہ رہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو تو ہم یہ بتائیں گے کہ ہم نے مسیحی دین میں کیا کیا فضیلتیں اور خوبیاں دیکھیں اور بالخصوص کیا کیا برکتیں اس دین سے حاصل ہوسکتی ہیں ۔اب خُدا کے فضل نے جو حقیقی اور سچا ہادی ہے ہم کو موقعہ دیا ہے کہ اپنے خیالات اور تجربوں کو اور اور اور لوگوں کے تجربوں کو بھی جو کہیں کہیں سے ہم کو دستیاب ہو سکے اس کتاب میں درج کریں اور اس کا نام راہِ نجات رکھیں۔

ہم نے اس کتاب کے متن میں جہاں تک ممکن ہوا ہے مباحثہ اوردیگر مذاہب کی تردید کو نظر انداز کیا ہے۔ہماری رائے میں اُن لوگوں نے جو ہم سے پہلے لکھ چکے ہیں ان معاملوں کو ایسی خوبی اور خوش اسلوبی سے طے کر دیا ہے کہ اب پھر سے اُن پر لکھنا عبث نہیں تو لاحاصل تو ہوگا۔ہم سر خم کر کے تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے بحث مباحثہ وغیرہ میں میدان جیت لیا ہے اور کوئی ا دق (نہایت مشکل)ہمارے واسطے باقی نہیں چھوڑا ہے۔ تو بھی ہم نے ایک نئی صورت سے اس امر کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ گنہگار کے فائدہ اور بھلائی کا دین یہی ہے جسے مسیحی دین کہتے ہیں ہم نے کتاب ہذا میں یہ نہیں کیا کہ دیگر مذاہب پر نکتہ چینی یا حرف گیری کریں بلکہ اُن فضیلتوں کو جو مسیحی دین میں موجود ہیں سلسلہ وار بیان کرکے عام اصولوں سے اس امر کا اظہار کیا ہے اور دکھایا ہے کہ مسیحی دین کے سوائے یہ فضیلتیں دنیا بھر میں کسی اور دین خواہ اُس کا نام کیا ہی ہو پائی نہیں جاتی ہیں۔ اور خصوصاً اجمالاً یہ ثابت کیا ہے کہ اُن مذاہب میں جن کا رواج ہمارے مُلک میں ہے ان فضیلتوں کا نام ونشان بھی نہیں ہے۔ اور آخر میں ناظرین سے درخواست کی ہے کہ مسیحی دین کی اندرونی خوبیوں کو نظر انصاف سے دیکھیں اور اسے قبول کریں۔

اس پر بھی مان لیتے ہیں کہ بے شمار اور فضائل بھی مسیحی دین میں موجود ہیں جن کا بیان ہم سے نہیں ہوا اور تعجب نہیں ہے کہ جو بیان ہم نے بعض کا کیا وہ بھی قاصر ہو لیکن جو کچھ ہم نے خُدا کی مدد سے کہا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف کرنے والے کو سمجھانے کے لیے بس ہے ۔

ان صفحوں میں ہمارا محض یہی مدعا نہیں ہوا کہ مسیحی دین کے بالمقابل دیگر مذاہب کی تکذیب (جھٹلانا، جھوٹ بولنے کا الزام لگانا)کریں بلکہ ساتھ ہی اور خاص کر اپنے دینی بھائیوں کے فائدہ اور تقویت کو بھی اپنے سامنے رکھا ہے اور بتایا ہے کہ خُداوند مسیح نے ہمارے لیے کیا کیا اور اب ہم کو اُس کے واسطے کیا کرنا ضرور ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ کیوں کر اور کن کن اطوار سے یہ کام ہم کر سکتے ہیں۔

جو دلائل ہم نے اس کتاب میں استعمال کئے ہیں اُن کی نسبت صرف اتنا کہنا ہے کہ اکثر وہ عقل عام پر منحصر ہیں اور جہاں تک تحریر کی پابندی نے ہم کو اجازت دی ہے ہم نے اکثر ان کو اصطلاحات میں بیان نہیں کیا بلکہ ایسے طور پر تحریر کیا ہے کہ عام فہم لوگ بھی اُن کو آسانی سے سمجھ سکیں ۔لیکن ہم پھر بھی جانتے ہیں کہ بعض مقامات میں ہم کو معرب(وہ لفظ جسے عربی بنالیا گیا ہو اور دراصل وہ لفظ دوسری زبان کا ہو،اعراب لگایا گیا) اور اصطلاحی الفاظ استعمال کرنے کی ضرور ت لاحق ہوئی اور ہم نے مجبوری میں اُن کو استعمال کیا۔

اس خدمت کے کام کو جو ہم نے اپنے دل بہلانے اور فرصت کے وقت کو کاٹ چھانٹ کے محض خُداوند یسوع مسیح کے جلال کی خاطر کیا ہے۔ اب ہم ادب عاجزی معافی کی درخواست اور دلی دُعا کے ساتھ مشتہر کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ خُداوند جو نہایت مہربان ہے اس خدمت کو نہ صرف قبول کرے گا بلکہ اپنی روح پاک کے وسیلہ کسی نہ کسی بھٹکی ہوئی روح کو اپنی طرف پھیر لائے گا اور اُس کو جو آگے باغی تھی اپنی فرزندیت کا رتبہ اور درجہ بخشے گا۔

یہاں مناسب ہے کہ ہم صاحبان ذیل کا شکریہ ادا کریں جن کی تصنیفات و تالیفات سے ہم نے کتاب ہذا کی نوشت میں بہت سا فائدہ اُٹھایا اور بہت سی مدد حاصل کی۔
(1)۔ پادری جان مورن صاحب کا لکچر مسمی بہ کیریکٹر آف کرایسٹ۔
(2)۔پادری ڈاکٹر آرچی بلڈالیگزنڈر کا رسالہ ۔ایویڈ نسز آف کرسچینٹی۔
(3)۔ پادری جی ایس بونر کی نادر تالیفات السٹریس گیدرنگز۔

صاحبان مندرجہ بالا کی تحریرات سے جہاں تک کہ اب مجھ کو یا د ہے میں نے کچھ نقل نہیں کیا نہ کوئی ترجمہ کیا ہے ۔مگر مجھ کو یاد ہے کہ ان رسالوں کے مطالعہ سے تحریر رسالہ ہذا کے وقت مَیں نے بہت سی مدد حاصل کی اور یہی وجہ شکرگزاری کی ہے مگر مَیں خاص کر صاحبان ذیل کی تصنیفات کے استعمال کے واسطے نہایت شکریہ اور پر لے درجہ کا احسان ظاہر کرتا ہوں ۔ یعنی پادری پریسزیڈنٹ سموئیل ڈیویر مرحوم کے وعظ مفید مضامین پر۔

پادری ہنری فارسر بنڈر ڈی ڈی مغفور کا رسالہ ۔وی آف سالویشن۔

ان ہر دو صاحبان کی تصنیفات میں سے بہت کچھ لیا اور اُس کا کتاب ہذا میں استعمال بھی کیا حتیٰ کہ نام بھی ''وی آف سالویشن''یعنی راہ نجات رکھا۔

اس کے سوائے مَیں نے تحریر کے وقت اور بھی بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا جن کے نام اب مجھ کو یاد نہیں اور جہاں تک کہ مجھ کو یاد ہے مندرجہ بالا صاحبان کے سوائے مَیں نے کسی اور صاحب کی تصنیف سے چنداں فائدہ نہیں اُٹھایا نہ اُس میں سے کچھ کتاب ہذا کی تصنیف میں لیا۔ اس لیے اُن کا نام لکھنا بھی کچھ ضرور نہیں ہے۔

ہر دو آخر الذکر صاحبان اس دار فانی (دُنیا)سے کوچ کرگئے ہیں اور ناظرین اور راقم بھی ایک دن وہی راہ لیں گے۔ پس مناسب ہے کہ ہم سب موت کے واسطے ہمیشہ تیار رہیں اور خُداوند یسوع کو جو ہمارا نجات دہندہ اور ایمان کا مدعا ہے اپنے سامنے زندگی بھر رکھیں۔ اُسی کا جلال ابد تک ہو۔ آمین۔

ایم حنیف

گورداس پور

جولائی 1887ء


تمہید

اگر انسان چاہے کہ خُدا کی طرف پھر سے رجوع کرے جس کی اُس نے بغاوت کی تو توبہ ایک لابدضروری بات ہے۔ اگر سرتا پا مستغرق (سر سے پاؤں تک ڈوباہوا)معصیت (گناہ ،نافرمانی)انسان خواہش کرے کہ کسی طرح نجات کی خوشخبری میں شریک ہو تو ایمان ویسے ہی ضروری شے ہے ۔
اگر انسان جو گناہ کی گندگی سے بھرا ہوا ہے ابدی خوش حالی حاصل کرے تو پاکیزگی ایک لازمی بات ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ہم مذہب کی ذاتی اور حقیقی معانی ومقاصد کا خلاصہ کریں تو مختصر مگر پُر معانی الفاظ میں یوں ہوگا تو بہ کرکے خُدا کی طرف لوٹنا۔ ایمان خُداوند یسوع پر لانا اور قدوسیت حاصل کرنا جس کے بغیر کوئی شخص خُداکی قربت حاصل نہیں کرسکتا ۔تو بہ میں دل کی سرگرمی اور جوش شامل ہے۔ جو گنہگار کو مجبور کرتا ہے کہ گناہوں سے منہ پھیر کے خُدا کی طرف لوٹ آئے ۔ ایمان وہ اکیلا وسیلہ ہے جس سے انسان خُدا کی طرف پھر سکتا ہے ۔ پاکیزگی حقیقی ایمان کا لازمی نتیجہ ہے جس میں انسانی نیک خصائص شامل ہیں جو روز مرہ کے برتاؤ مزاج اور خواہش میں ظاہر کرتے ہیں کہ توبہ اور ایمان خالص ہے یا ناخالص ۔چنانچہ ظاہر ہے کہ نجات کاحصول صرف ان تین امروں پر موقوف ہے اور بہت مناسب ہے کہ حق جو ان باتوں پر غور کرے جن کا ذکر مختصراً ذیل میں کیا جاتا ہے۔


1 ۔حاشیہ:۔ ہم نے اس امر کو تسلیم کرلیا ہے کہ انسان گنہگار ہے اور اسی سبب سے اس امر پر بحث کرنا اور اُس کے ثبوت میں دلائل لانا عبث ہے ۔ کیونکہ تاریخ تجربہ اور مشاہدہ اس کی تصدیق میں سینکڑوں لاجواب دلائل پیش کرتے اور کرسکتے ہیں ۔چشم نظر ہیں کہ کسی اور نظیر (مثال )کی ضرورت نہیں ۔سلیم عقل (سمجھ دار، دانا)کو کسی شاہد کی حاجت نہیں۔ مسلم امر کو ثابت کرنا محض تضیع اوقات ہے مگر انسان کے دل کی فریب دہی کا عجب ڈھنگ ہے گنہگار بایں ہمہ (ان تمام باتوں کے باوجود)کہ دن رات گناہوں میں مبتلا رہتا ہے تو بھی ہمیشہ اپنی تسلی یوں کر لیا کرتا ہے کہ فلاں فلاں وجہ سے یہ گناہ ہوگیا یا یہ کہ یہ خاص گناہ کچھ بہت خراب نہیں ہے۔اور اکثر اپنے دل کی تسلی ایسی ایسی باتوں سے کرلیا کرتا ہے کہ خیر میرا اس امر میں کچھ قصور نہیں ہے۔ اور اگر کچھ ہے بھی تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔ فلاں فلاں اشخاص تو مجھ سے زیادہ گناہ کرتے ہیں ۔مَیں تو پھر بھی اُن سے اچھا ہوں ۔حتیٰ کہ اُس کی عقل ایسی تاریک اور ضمیر ایسی کُند ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی کمبخت اور خراب حالت کو پہچان بھی نہیں سکتا اور بدی کی بدی سے بھی ناواقف ہو جاتا ہے اور بسا اوقات بدی میں فخر کرتا اور اُس کی اپنی بھلائی نیکی یا عزت کی شے خیال کرتا ہے ۔ اس لیے اگر چند کلمے انسان کی برگشتگی کی حالت کی نسبت کہے جائیں تو غالباً نازیبا نہ ہوں گے ۔ کسی ملک اور کسی قوم میں جاؤ۔ کسی زبان کی لغت کو دیکھو لفظ نیک وبد یا اُن کے ہم معنی دوسرے الفاظ ضرور مستعمل اور موجود پاؤ گے ۔ یہ بات عالمگیرہے اور ظاہر ہے کہ جو بات عالمگیر ہو اُسے سچ اور برحق ماننا پڑتا ہے۔ ورنہ یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ کیوں اور کس وجہ سے سب کے سب آدمیوں نے جو عادت ،مزاج ،خیالات وغیرہ میں ایک دوسرے سے بالکل مخالف اور متضاد صفات سے موصوف ہیں۔ہم پوچھتے ہیں کہ کیوں اورکیوں کر سب کے سب نے کسی خاص امر کو مسلم کرکے قبول کرلیا کیا یہی وجہ نہیں کہ اُسے تسلیم کئے بغیر وہ لوگ رہ نہیں سکتے تھے۔ دوسرے الفاظ میں جسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ طبیعت اور سرشت نے ہی اُن کو مجبور کیا کہ اس امر کو قبول کرلیں کہ انسان گنہگار ہے۔ اب وہ لوگ کیا کہہ سکتے ہیں جو اکثر اپنے دلوں کی فریب دہی کے سبب کہا کرتے ہیں کہ گناہ کوئی چیز نہیں ہے۔ صرف انسانی تمدنی تعلقات اور روز مرہ کے برتاؤ کے سبب ایسے لفظوں کی ایجاد اور استعمال کرنے کی ضرورت لاحق ہوگئی ورنہ فی نفسہ (اپنی ذات میں، دراصل)نہ کوئی بھلا ہے ہ بُرا ۔ہم کہتے ہیں سارے جہان میں سارے ملکوں اور قوموں نے کیوں اتفاق کرلیا کہ مثلت مثلاً چوری ،زناکاری وغیرہ گناہ ہیں ۔ اگر صرف تمدنی تعلقات کے سبب ایسے ایسے لفظ ایجاد کئے جاتے تو ظاہر ہے کہ مختلف ممالک اور مختلف اقوام میں ضرور مختلف خیال چوری ،زناکاری وغیرہ کی نسبت رکھے جاتے۔ یقیناً یہ عالمگیر اتفاق ہم کو کچھ تو سکھاتا ہے اور وہ یہی نہیں سکھاتا کہ اگر چوری بذاتہ مکروہ یا بد نہ ہوتی تو ظاہراً اس عالمگیر اتفاق کی اور کوئی وجہ نہ تھی ۔ اس کے سوائے ہم معترض سے یہ بھی پوچھتے ہیں کہ سب سے پہلے آدمی کو نیک وبد کا خیال کیوں کر آگیا ۔ انسان طبعی حالت سے ایسا تعلق رکھتے ہیں کہ اُس کی ضمیر اُن کو طوعاًکرہاً(چاروناچار، جبراً ،خواہ مخواہ)نیک یا بد کے لفظ سے موسوم کرتی ہے ۔ یہ قوت ممیزہ (تمیز کرنے اور پہچاننے کی قوت)جسے ضمیر کہتے ہیں انسان کی ہادی اور رہنما اس دُنیا میں ہے ۔(یعنی کلام خُدا اور روح پاک جو دو بڑے ہادی ہیں اُن کے سوائے ) اس کے فیصلہ میں کسی کو قیل وقال (گفتگو، بحث ومباحثہ)کی مجال نہیں رہتی ورنہ ضمیر ضمیر نہیں نہ انسان میں تمیز کرنے کی طاقت ہے اور وہ جنگلی حیوانات کے برابر بلکہ ادنیٰ تر ہوگیا۔
بعض ایک اورقسم کا خیال رکھتے ہیں کہ بعض بعض خُدا کے برگزیدہ اور حضرت قدوسیت کے پیارے گناہ سے مبرا ہوتے ہیں۔ ہم اس امر پر بحث کرنا فضول سمجھتے ہیں کیونکہ خُدا کے پاک کلام کی شہادت اس امر پر صاف اور کامل ہے۔ اگر خُدا نے کبھی کسی برگزیدہ کو کہا ہو کہ تو بے گناہ ہے تو معاملہ طے ہولیا۔ پر اگر اس کے خلاف صاف صاف کلموں میں بلارائے ورعایت کہہ دیا ہوکہ سب کے سب گنہگار اور بدکار ہیں۔کوئی نیکوکار نہیں ایک بھی نہیں تو بحث ختم ہوچکی ۔ پادری ولیم ہوپر صاحب نے کتاب موسومہ ''حقیقت گناہ '' میں اور پادری ای ایم ویری صاحب نے اپنے نادررسالہ ''نبی معصوم'' میں اس مسئلہ پر کافی بحث کی ہے۔ اور خوب ثابت کردیا ہے کہ یہ خیال عبث ہے۔ جو لوگ زیادہ مدلل طور سے اس امر کو طے کرنا چاہتے ہیں وہ ڈاکٹر ہارجز ''نیھبالوجی ''۔بشپ ہوکرس ایکلی'' ری اسٹیکل پالٹی ''اور دیگر ایسی کتابوں کو مطالعہ کریں ۔
مسیحی مذہب کے بنیادی سچے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے جد امجد باباآدم نے گناہ کیا اور اُس کے گناہ کا اثر اُس کی اولاد میں پھیل گیا حتیٰ کہ فرداً فرداً ہر ایک گناہ آلودہ ہوگیا ۔ منصف مزاج حق پسند محقق اس مسئلہ کے ثبوت کی نظیر خود ہیں اور دیگر ہر ایک میں دیکھتا ہے خواہ وہ کسی رُتبہ درجہ اور عہدہ اور عزت کا کیوں نہ ہو۔ اور یہ بدیہی ہے کہ جو لوگ زیادہ بھلے ہوتے ہیں وہی زیادہ تر اپنے گناہوں کے واقف اور مقر (اقرار کرنے والا)ہوتے ہیں۔ چنانچہ انبیائے سلف اپنی عاصی اور سرتا پا گنہگار ہونے کا (نہ صرف حالت عجز میں جیسا کہ بعض کا گمان ہے بلکہ الفاظ کے حقیقی اور اصلی معانی میں )صاف صاف زبان حال ومقال سے اقرار واظہار کرتے ہیں ۔جب خُدا کے مقربین کا یہ حال ہے تو ماوشماکی نسبت کای اور کہنا مناسب اور جائز نہیں ہے۔ کم سے کم اس میں تو کلام نہیں کہ ہر ایک خُدا پرست اس بات کا اقرار کرے گا کہ کبھی نہ کبھی اُس نے اپنے اس حقیقی خالق کو (جس کی طرف ضرور ہے کہ ہر ایک کا دلی پیارا ور محبت ہو )جتنا اُس کا حق تھا اُتنا پیار نہیں کیا ۔کبھی نہ کبھی اُس ذات بابرکات کی جو لائق سجود تعظیم ہے اُتنی عزت نہیں کہ جتنی لازم اور فرض تھی۔ اگر اس کتاب کے پڑھنے والے کو راقم الحروف کا یہ خیال درست معلوم ہوتو یہی کافی ہے کہ انسان کی گنہگاری اور برگشتگی کی پوری دلیل ہوجائے ۔ فی الجملہ صرف اتنا کہنا باقی ہے کہ کتاب ہذا کا خاص خطاب گنہگاروں سے ہے اور صرف ایسوں ہی کے فائدہ تسلی ہدایت اور تعلیم کے واسطے لکھی گئی ہے جو خود کو گنہگار مانتے ہیں۔ لہٰذا اور دلائل جو آسانی سے پیش کئے جاسکتے تھے اس سبب سے اب نظر انداز کئے جاتے ہیں۔

ایم حنیف


فصل اول

توبہ کے بیان میں

واضح رہے کہ توبہ کے ضروری اور مفید ہونے کا خیال ہم کو تب ہی ٹھیک اور درست طور پر آسکتا ہے جب ہم غور کریں کہ کتنے توار د اور تواتر اور کس قدر سنجیدگی اور سرگرمی سے کتب الہٰامی میں اس کا ذکر آتا ہے ۔ چنانچہ ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یوحنا اصطباغی کے مدلل پر پُرزور اور پُر تاثیر منادی کا لب لباب انہیں چند حرفوں میں تھا کہ ''تو بہ کرو کیوں کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک ہے ''(متی 3: 2)۔علاوہ ازیں خود ہمارا خُداوند یسوع مسیح ہم کو زبان مبارک سے یقین دلاتا ہے کہ اُس کی اس دنیا میں خادموں کی سی حالت اختیار کرنے کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ گنہگاروں کو توبہ کی طرف بُلائے (متی 9: 13)۔ایک ممتاز ملہم (الہٰام کیا گیا)رسول یوں فرماتا ہے کہ خُدا نے اُس کو (یسوع )اس لیے بادشاہ اور منجی کیا کہ وہ گنہگاروں کو توبہ اور گناہوں کی معافی بخشے (اعمال 5: 31)۔ پھر مرقوم ہے کہ حضرت پولُس رسول جب افسس کی کلیسیا کے سامنے اپنی کامیاب خدمت کا ذکر کرتے اور اُن صداقتوں کا بیان فرماتے تھے جن کی تعلیم انہوں نے خود خُداوند سے پائی تھی ۔تو آپ نے فرمایا کہ پہلی بات توبہ ہے جیسا کہ (اعمال 20: 21) میں مسطور(اوپر لکھا گیا) ہے خُدا کے آگے توبہ کرو اور ہمارے خُداوند مسیح پر ایمان لاؤ۔

توبہ کے بیان میں صرف دو مفید اور ضروری امر ہیں جن کا ذکر ضرور ہے ۔ یعنی

اول توبہ کی ماہیت ۔ دوم وہ خواہش جو توبہ کی طرف لے جاتی ہے۔

جو لفظ ملہم (الہٰام کیا گیا)رسولوں نے تو بہ کی جگہ استعمال کیا ہے اُس سے نیت کی تبدیلی مفہوم ہے اور اُس کا زیادہ درست ترجمہ یوں ہوگا۔ دل کی تبدیلی خُدا کی طرف خصوصاً ان گناہوں سے جو خُدا ئے قدوس کے خلاف ہیں اور عموماً ان الفاظ کا مفہوم وہی ہے جو لفظ توبہ سے ہوا کرتا ہے۔یعنی اپنے گناہوں سے پچھتانا اور اُن سے نفرت کرکے خُدا کی طرف رجوع کرنا کتب الہٰامی میں دل کی اس تبدیلی سے وہ تبدیلی مراد ہے جو بالضرور عادت اور زندگی کے اطوار پر ایک بڑا اثر پیدا کرتا ہے اور اس میں پانچ دلی حالتیں شامل ہوتی ہیں ۔
(1)۔اپنی خستہ حالی اور خرابی کو دیکھنا۔
(2)۔دل سے یقین کرنا کہ مَیں سرتا پا گنہگار ہوں۔
(3)۔اپنی خستہ حالی اور بربادی پر نادم اور غمزدہ ہونا۔
(4)۔اپنے گناہوں کا بلا عذر وحیلے اقرارکرنا۔
(5)۔بدل جانا۔

چنانچہ ظاہر ہے کہ یہ پانچوں ایک یا دوسری صورت میں محض دلی تبدیلات ہی ہیں۔ یعنی اول خیالات کی تبدیلی۔ دوم ضمیر کے فیصلہ کی تبدیلی ۔ سوم دل کی حالت کی تبدیلی۔ چہارم زبان کے اقرار کی تبدیلی ۔پنجم عادات واطوار کی تبدیلی ۔حقیقی توبہ ان پانچ تبدیلیوں کے بغیر ہونہیں سکتی۔ اب ان پانچوں کا مختصراً ذکر کیا جاتا ہے ۔

اوّل :۔ ضرور ہے کہ گنہگار اپنی خستہ حالی اور خطرہ سے واقف ہو اور اُس پر خوب غورو خوض کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ایک روحانی قانون ہے کہ جب تک جسمانی مریض کی طرح وہ اپنی روحانی بیماری سے واقف نہ ہو تب تک اُس کا علاج نہیں ہوتا۔ پس ضرور ہے کہ گنہگار اپنے گناہوں کو نہ صرف مجملاً(مختصر طریقے سے )منفرداً(تنہا)سوچا کرے۔ اوریہ کام ہر ایک شخص خود اپنے واسطے کرسکتا ہے۔ پر عام قاعدہ یہ ہے کہ گنہگار کی یادداشت اور خُدا کے کلام پاک میں ضرور مطابقت ہوتی ہے۔ چنانچہ (زبور50: 21) میں لکھا ہے کہ ''مَیں تیرے کاموں کو تیری آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے دکھاؤں گا ''۔ اور (حزقی ایل 20: 43، 36: 31) میں یہ مضمون آیا ہے کہ ''تم اپنی روشوں کو اور اپنے سب کاموں کو جن سے تم ناپاک ہوئے ہو یاد کرو گے اور تم اپنی ساری بدکاریوں کے سبب جو تم نے کی ہیں اپنی نظر میں گھنونے ہوگئے ''۔حضرت سلیمان بھی اپنی پُر مضمون دُعائیں یوں فرماتے ہیں (1۔سلاطین 8: 47) ''اگر وہ اُس زمین میں جس میں وہ اسیر ہوکے رہیں سوچنے لگیں اور توبہ کریں ۔۔۔۔اور کہیں کہ ہم نے گناہ کیا ہم نے گستاخی کی ہم نے شرارت کی ''وغیرہ ۔علی ہذا القیاس اس خوبصورت اور موثر تمثیل میں جو نافرمانبردار لڑکے کی تمثیل کے نام سے مشہورہے اُس بے پرواہ اور نادان لڑکے کا خود ہمارا خُداوند یوں ذکر فرماتا ہے کہ ''تب و ہ ہوش میں آکے بولا''(لوقا 15: 17)۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ پہلے وہ مدہوش تھا۔ جو کچھ اُس نے کیا وہ ہوشیار اور صاحب فکر شخص ہرگز نہیں کرتا۔ہوش میں آنے سے پہلے وہ گویا حماقت کا کھیل شیطان کا کھلونا اور گناہ کا غلام بنا ہوا تھا۔ اُسے حال کے آرام اور آسائش کے سوائے کسی اور چیز کا فکر نہ تھا نہ آیندہ کا فکر نہ حال کی بدحالی کا خیال ۔ اسی طرح افسوس ہے کہ اس دُنیا میں جو دلفریب اور مدہوش کرنے والی ہے کتنوں کا یہی حال ہوتا ہے کتنے ہیں جن کو اُن کی ذات کے نہایت ضروری امور (مثلاً وہ امور جن سے اُن کی روحانیت کا علاقہ ہے یا جن سے اُن کی تقدیس وابستہ ہے) بالکل وہم وگمان میں بھی نہیں آتے ۔ بلکہ کتنے ایسے ہیں جو اس دُنیا کی بیرونی شان وتزک یا دولت یا درجہ غرور وعزت یا اپنے دل کی خواہشوں اور ہوسوں یاعلمی عقلی اور جسمانی حصولات میں ایسے غلطاں پیچاں ہو رہے ہیں کہ اُن کو اپنی آیندہ زندگی کی بھلائی یا برائی کا خیال بھی نہیں آتا۔اور وہ بھی اس لڑکے کی طرح مدہوش اور بے فکر ہورہے ہیں۔ پر تو بہ کرنے والا خُدا کی روح کی مدد سے جاگ اُٹھتا ہے اور بڑی فکر کے ساتھ اپنے آپ سے یہ پوچھتا ہے کہ مَیں کیا کرتا رہا ہوں۔ اب تک میری زندگی کس بات میں خرچ ہوئی مَیں نے کیا حاصل کیا میری ہستی کا مطلب کیا تھا اور مَیں کیا تھا اور مَیں نے کیا کیا ۔ کیا اُس مدعا اور مقصد کو جو میرے خالق اور میرے انصاف کرنے والے کا مجھ سے تھا مَیں نے اپنی آنکھوں کے سامنے رکھا۔ کیا مَیں نہایت بُری سزا کے لائق نہیں ہوں کہ مَیں اُس خُدا کو جس نے مجھے پیدا کیا یوں بھول گیا مجھے ضرور تھا کہ اُس کی اطاعت کروں اور اُس کی خدمت میں زندگی بسر کروں مَیں نے کیا ایسا کیا ہے۔ کیا میرے خیالات خُدا کی طرف بہت کم اور بہت لاپرواہ نہیں ہوئے۔

وہ دل جو آگے بے پرواہ تھا جب اتنی ترقی کرے تو کہا جاتا ہے کہ اب وہ ہوش میں آگیا ۔ اب وہ جاگتا ہے۔ اب اُس میں سنجیدگی سے سوچنے اور غور کرنے کا شوق اور طاقت پیدا ہوگئی ہے۔ تب وہ خُدا کےکلام کو بنظر نصیحت وہدایت پڑھتا یا سنتا ہے۔ تب وہ خُدا کے بندوں سے صلاح لیتا ہے اور اُن کی صلاح پر عمل کرتا ہے۔ مردہ دل جب پھر سے جان پکڑے اور مدہوش دل جب پھر سے ہوش میں آئے تو ہم کہتے ہیں کہ اُس کی حالت مبارک ہے پر یہیں ٹھہر جانا بس نہیں ہے۔ آیندہ ترقی ضروری ہے۔ انسانیت کا دستور ہے کہ ایک جگہ قائم نہیں رہتی یا تو آگے کو بڑھے گی یا پیچھے کو ہٹے گی۔ یہ حالت مبارک حالت تو ہے پر خطرہ اب تک بنا ہوا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ اسی حالت میں رہ جاتے ہیں پر یہ بڑا مضر (نقصان دہ)ہے ۔ اُن کی نجات کی امید اتنی ہی کم ہو سکتی ہے جتنے زیادہ وہ اس حالت میں رہنا چاہتے ہیں ۔ پس بہت ضرور ہے کہ جہاں تک ہوسکے اس حالت سے نکل کے آگے بڑھے ۔اور دوسرے درجہ میں آئے جس کا ذکر ذیل میں ہے۔


1 ۔ہائے اس کمبخت گناہ کی بدحالی ۔ہائے اس خانماں آوارہ کرنے والے کی سنگ دلی ہائے اس ظالم خونخوار کی سختی ۔یہ دل کو اپنی لذت کے نشہ میں ایسا مدہوش کردیتا ہے کہ اُسے کچھ بھی نہیں سوجھتا ۔اُسے اپنی ہی بھلائی بُرائی کا خیال بھی نہیں آتا۔اس جادو نظر سحر نگاہ کی ایک نظر ہی متاع (اثاثہ)عقل واخلاق کا فور کردیتی ہے روحانیت اور تقدیس کا تو نام ونشان بھی باقی نہیں چھوڑتی ۔ یہ بد بخت پہلے میٹھی نیند سلادیتی ہے اور انسان کو کچھ ہوش نہیں رہتی ۔حتیٰ کہ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ اُس کے فائدہ کے خلاف کون کون سی شے ہے۔ غرض کہ یوں بھی کہنا بجا ہے کہ اُس کی قوت ممیزہ (ہر چیز کا فرق جاننے کی قوت)کو بھی ایک قسم کی روحانی نیند میں ڈال دیتا ہے ۔یہ ظالم بے خبر ی میں لوٹتا ہے یہ دشمن بے فکری میں دھاوا کرتا اور سب کچھ جو بھلا ہے لے جاتا ہے ۔
جب انسان کی یہ حالت ہوتی ہے تو خُدا کی پاک روح طرح طرح کے وسائل سے اُسے جگانے لگتی ہے اور اُن میں سے پہلا یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی حالت سے واقف ہوتا ہے۔ پھروہ اپنی آنکھیں کھولتا ہے اور اپنی نہایت خطر ناک حالت کو دیکھ لیتا ہے۔پس اے پڑھنے والے اگر خُدا کی روح اس کتاب کے وسیلہ تجھے تیری بری حالت سے جگائے تو دیکھ تو ہوشیار ہوجانا ورنہ تیرا بڑا نقصان ہوگا۔

ایم حنیف

دوم :۔ تو بہ کرنے والا گنہگار یقین کرتا ہے کہ مَیں سرتا پا گنہگارہوں یعنی یہ کہ وہ اپنے گناہوں سے قائل ہوتا ہے ۔ اسے ضمیر کے فیصلے کی تبدیلی کہتے ہیں ۔ اس کے دو خاص نشان ہوا کرتے ہیں ۔
(1)۔ پورے طور پر معلوم کرلینا کہ میرے گناہ کیسے بد ہیں اور اُن کی سزا کیسی بھاری ہے اُن کی تعداد کیسی بیشمار اور اُن کی حد کہاں تک ہے۔ حضرت پولُس ایک مقام پر اپنی نسبت یوں فرماتے ہیں کہ '' مَیں آگے بے شرع ہوکے جیتا تھا''(رومیوں 7: 9) ظاہر ہے کہ حضرت پولُس نے اپنی زندگی بھر میں جب سے ہوش سنبھالی شریعت کے احکام سے کبھی بھی ناواقف نہ تھے ۔ البتہ اُس کی روحانی معنی سے وہ ایک مدت تک ناواقف رہے۔ اور اسی سبب سے اپنے گناہوں کی کثیر تعداد اور اُن کے حقیقی معانی سے بالکل نابلد اور ناواقف رہے۔اخرالامرجب شریعت کی اصلی اور حقیقی معنی زور سے اُن کے دل پر آشکار ہوئے اور اُن کے ضمیر پر جواب تک ایک قسم کی تاریکی میں تھی ایک قسم کی روحانی روشنی چمکی تو اُن کی کثیر التعداد گناہ اور اُن کی بدی انہیں معلوم ہوگئی اور شریعت پر تکیہ کرنے کی فریسیوں کی سی امید جاتی رہی ۔تب وہ بول اُٹھے کہ گناہ جی اُٹھا اور مَیں مرگیا ۔حضرت پولُس کی حالت کا بیان حقیقی توبہ کا عام نمونہ کہا جا سکتا ہے ۔خُدا کی شریعت کا ترازو ہم کو دکھادیتا ہے کہ ہم جتنا خیال کیا کرتے تھے ۔اس سے کہیں زیادہ گنہگار ہیں جن گناہوں کو ہم آگے ذرہ سی بات سمجھا کرتے تھے وہ اب ہم کو بڑے بڑے اور بھاری معلوم ہونے لگتے ہیں۔ تب ہم ضمیر کی عدالت گاہ کے سامنے نہ صرف فعلی بلکہ خیالی اور دلی اور قولی گناہوں کے بھی مجرم قرار دئیے جاتے ہیں۔ تب ہماری یادداشت ہمارے گناہوں کی ایک بھاری فہرست ہمارے سامنے پیش کرتی ہے اور ہم اُن کے قبول کرنے میں دم نہیں مار سکتے ۔ ہم اپنے ضمیر کی اور خُدا کی شریعت کی ترازو میں تولے جاتے ہیں اور کم نکلے (دانیل ایل 5: 27)۔تب ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ جس نیکی پر ہم فخر اور شیخی کیا کرتے تھے اُ س میں بھی خطا اور قصور ہے۔ غرض کہ جتنا زیادہ ہم اپنے آپ کو بنظر تعمق وانصاف دیکھتے ہیں اتنا ہی زیادہ ہم اپنی زندگی کی بدیوں اور اپنے دل کے فریب اور دغا سے واقف ہوجاتے ہیں ۔ اور ہماری ضمیر ہم کو ہر لحظ کہتی ہے کہ ایک بار اور پھر اور تو اس سے بھی زیادہ گندگیاں دیکھے گا(حزقی ایل 8: 3، 6، 15)۔
(2)۔ گناہوں سے حقیقی طور پر قائل ہونے کا ایک یہ بھی نشان ہے کہ گنہگار قائل ہوجاتا ہے کہ سزا کا بیان کرنے اور گنہگار کو سزا دینے میں خُدا بالکل راست اور عادل ہے ۔ ایک طور پر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ خُدا کی بے حد مہربانی کا قائل ہوتا اور کہتا ہے کہ خُدا مہربان ہے کیونکہ اُس نے ہم کو شریعت دی اور شریعت کی عدول کی سزا ہم کو بتا دی ۔ اور حق اور جائز بلکہ عین انصاف ہے کہ ہمارے گناہوں کی سزا ہم کودے ۔اب اُسے صاف دیکھائی دیتا ہے کہ خُدا کا عدل اُس کی مہربانی کے متضا د نہیں ۔ وہ دیکھتا ہے کہ عدل سے جو کچھ نکلتا ہے وہ الہٰی ذات کے جلال الہٰی عرش کی عزت اور دُنیا کی بھلائی کا باعث ہوتا ہے ۔تب وہ یقین کرتا ہے کہ گناہ نہ صرف خالق کی بے عزتی بلکہ خود مخلوق کا نقصان ہے تب وہ دیکھتا ہے کہ ضرور ہے کہ گناہ کی سزا دی جائے نہ اس لیے کہ گناہ کسی غیر ضروری اور واہی (بیہودہ، فضول) سے قانون کا عدول (انکار، منہ پھیرلینا)ہے بلکہ اس لیے کہ شریعت تمام اخلاقی اور انتظامی حکومت قائم رکھنے کے واسطے بالکل لازمی ہے چنانچہ زبور نویس یونہی گناہ سے قائل ہوا اور تب اُس نے اپنے خیالوں کا اظہار یوں کیا۔ '' مَیں نے تیرا ہی گناہ کیا ہے اور تیرے ہی حضور بدی کی ہے۔ تاکہ تو اپنی باتوں میں صادق ٹھہرے اور اگر تو عدالت کرے توتو پاک ظاہر ہو ''(زبور 51: 4)۔ بجائے خُدا کے عدل وانصاف پرجو گناہوں کی سزا دینے میں ظاہر ہوتا ہے الزام لگانے کے حضرت داؤد اس جگہ اقرار کرتے ہیں کہ سب سے بھاری سزا بھی گناہ کی واجبی عوض سے بڑھ کر نہیں ہے ۔یہ بیان کرنا کچھ آسان نہیں ہے کہ انسان کس درجہ تک گناہ سے قائل ہوتا ہے درحال یہ کہ اُس کے دل میں تو بہ نہ ہوپر ایک بات تو یقینی ہے کہ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ضمیر کے فیصلہ کے سبب انسان اپنے گناہوں سے قائل ہوتا ہے اور اکثر ابتدائی تعلیم دُنیاوی مصیبت اور اور ماجرے بھی یہ اثر پیدا کیا کرتے ہیں پھر بھی کبھی کبھی دل میں تبدیلی نہیں ہوا کرتی ۔ پس اسی حالت پر قناعت کرنا اور آگے نہ بڑھنا بھی خطر ناک ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے جو گناہ سے قائل ہو اور پھر بھی گناہ کے بوجھ سے نکالا نہ جائے وہ بہت دکھ میں ہوتا ہے پس تیسرا درجہ یہ ہے ۔
سوم :۔ اپنی گنہگاری اور خستہ حالی پر نادم اور غمزدہ ہونا یہ بھی دل کی ایک تبدیلی ہے اور اس کا علاقہ پیشتر ہمارے گناہ اور ہماری ناشکرگزاری کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ عموماً یہ خیالات اُس دل کے ہوتے ہیں جو خستہ اور شکستہ ہوتا ہے (زبور 51: 17)۔
گناہوں کی ندامت دو خیالات سے ہوتی ہے اوّل یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے غم کھائے ۔دوسرا اپنی عاجزی کی حالت کو پہچانے ۔ اور اگر کوئی اور خیال بھی اس کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ایسی حالت میں دل الہٰی مہربانی اور الہٰی فضل کے حصول کی امید سے تھما ہو۔ گناہ سے قائل ہونا اور گناہ کے واسطے غم کرنا دو جدا امر ہیں جو کبھی کبھی ایک دوسرے کے ساتھ اور کبھی کبھی جُدا ہوا کرتے ہیں۔ گناہ سے قائل ہونے میں فی الحقیقت گناہ کے لیے غم کرنے سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاسف (افسوس)اور غم گناہ کے ساتھ ہمیشہ ہوا کرتا ہے یعنی جب کوئی شخص اُس گناہ کو جس کا اُسے بڑا شوق تھا پورا کرچکے توایک قسم کا غم اس کے ساتھ ہی اُس شخص کے دل میں پیدا ہوتا پر وہ غم جو گناہوں سے حقیقتاً قائل ہوجانے سے نکلتا ہے ایک بالکل نرالی قسم کا غم ہے جس کی کیفیت کا بیان احاطہ تحریر سے باہر ہے۔ المختصر یہ غم اللہ کا عطیہ کہنا چاہیے دیکھو (2۔کرنتھیوں 7: 10)جس سے توبہ پیدا ہوتی ہے ۔ مثلاً اگر کوئی اپنی حماقت یا فضول خرچی سے خود کو برباد وغریب کردے تو ممکن بلکہ اغلب ہے کہ اُس کے دل میں ایک قسم کا غم خود کردہ افعال کی طرف سے پیدا ہو ۔ممکن بلکہ ضرور ہے کہ جو شخص جان بوجھ کے اپنے پاؤں پر تیشہ (لوہے کا ایک اوزار) مار ے وہ بعد میں اپنی کم عقلی اور نادانی پر تاسف کرے۔ جس شخص کو اُس کے کسی گناہ نے زندان خانہ میں قید کرادیا ہو ممکن ہے کہ اپنی بدی اور خصوصاً اُس کے نتیجہ پر بہت ہی تاسف کرے۔ پر اس قسم کے افسوس سے توبہ نہیں نکلتی ۔ایک اور قسم کا غم بھی ہوا کرتا ہے۔ یعنی یہ کہ جس شخص کے دل میں خُد ا کی عمداً اور ارادتاً بغاوت کرنے کا خیال ہو ممکن ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی آیندہ سزا پر بڑے غم اور جانکنی کے دُکھ سے خیال کرے پر تو بھی وہ غم جو الہٰی غم کہلاتا ہے اُس کے دل میں نہ ہو جس سے توبہ پیدا ہوتی ہے۔ ایک طرح پر یہ کہنا درست ہے کہ یہوداہ اسکریوتی نے بھی گناہ کا غم اور افسوس کیا اُس نے اپنے بُر ے قبیح گناہ پر بڑے غم اور خوف سے نظر کی اور اُس کے نتائج کو بڑی ناامیدی سے دیکھا ۔ پر ضمیر کے غم اور شیطان کے فریب نے اُسے ایسا ناامید کردیا کہ وہ ہلاکت کے خوفناک گڑھے میں گر گیا ۔ اس کے بالمقابل حضرت ایوب کا غم دیکھو ۔اپنے یاروں کی دلائل سے تنگ ہوکر وہ اُسی خُدا کی طرف جس کا قصور اُس نے زبان اور مزاج سے کیا تھا یوں مخاطب ہوکے بولا ۔''مَیں نے تیری خبر اپنے کانوں سے سُنی تھی پر اب میری آنکھیں تجھے دیکھتی ہیں ۔ اس لیے مَیں اپنے آپ سے بیزار ہوں اور خاک اور راکھ میں بیٹھ کے توبہ کرتا ہوں ''(ایوب 42: 5۔6)۔وہ خُدا کے جلال وعظمت کو دیکھ کے اور اپنی نالائقی پر نظر کرکے مغلوب ہوگیا۔ اُس نے خُدا کی قدوسیت کو دیکھا اور اپنی ناپاکی سے بیزار ہوگیا۔ اُس نے خُدا کے رحم اور فضل پر نظر کی اور اُمید کی خوشنما روشنی کو اپنے دل میں آنے دیا۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تائب ہوا۔ اسی طرح اُس محصول لینے والے کا حال یہی ہے جس نے آسمان کی طرف آنکھ تک نہ اُٹھائی بلکہ چھاتی پیٹ کے اور غم کرکے یوں بولا اے خُداوند مجھ گنہگار پر رحم کر(لوقا 18: 13)۔ وہ غم جو توبہ پیدا کرتا ہے نااُمیدی میں اُمید سے ملا ہوتا ہے ۔ اور غم کے ساتھ خواہش بھی پیدا کرتا ہے کہ خُدا کی طرف پھر سے رجوع ہو۔
خُدا کے فضل کے خیال سے دو طاقتور تاثیریں نکلتی ہیں جو دل کی سختی کو نرم کرکے اُس میں گویا توبہ کا بیج لگادیتی ہیں۔

اوّلاً:۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ ہمارے دور بغاوت وناشکری میں خُدا تعالیٰ کا کس قدر رحم اور فضل ہمارے شامل حال رہا۔ہم خود مقر (اقراری) ہوتے ہیں کہ ہم نے جناب باری تعالیٰ کا گناہ کیا۔ اُس نے تو ہم کو بچوں کی طرح پالا پوسا پر ہم نے اُس سے دشمنوں کی مانند سرکشی اور بغاوت کی (یسعیاہ 1: 2)۔ہم اقرار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ہم نے اُس احکم الحاکمین کی حکومت کو۔ اُس مہربان اور فیاض مربی کی فیاضی اور مہربانی کو اور اُس محبت کرنےوالے باپ کی محبت کو ناچیز جانا اور گویا اپنے پاؤں کے تلے روندا ۔ ہم مان لیتے ہیں کہ ہم گنہگار ہیں کہ ہم نے اُس کی دی ہوئی طاقتوں کو بد وضعی سے استعمال کیا جو خواہشیں ہم کو نصیب ہوئی ہم نے اُن کو بد استعمال کیا۔ ہم نے اپنی چند روزہ زندگی کے اکثر وقت کو بیہودہ مزرخفات (جھوٹی باتیں) میں تلف کیا اور اکثر نیکی کرنے کے موقعہ کو ہاتھ سے نہ صرف کھودیا بلکہ اُس کے بالعوض بدی بھی کی فی الجملہ کہ ہم نے نہ صرف وہ ہی نہ کیا جو کرنا ہم کو لازم تھا بلکہ جو ہم کو کرنا لازم نہ تھا وہ بھی کیا اور ناشکر ہوئے یہ خیال ہمارے غموں کو تلخ کر دیتے ہیں اور ہمارے دل کی ملامت ہم کو جانکنی (قریب المرگ)کے عالم میں لے آتی ہے۔ تب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم دونوں طرح سے قصور وار ہیں یعنی یہ کہ ہم نے آب حیات کے سوتوں کو چھوڑ دیا اور ٹوٹے پھوٹے حوض قبول کئے جن میں نہ تو پانی ہے اور نہ ٹھہر سکتا ہے (یرمیاہ 2: 13)۔
ثانیاً:۔ ہم کو یہ خیال ہوتا ہے کہ بایں ہمہ (ان تمام باتوں کے باوجود)ناشکر ی وناسپاسی(شکرگزاری کے بغیر) جناب باری تعالیٰ پھر بھی ہماری بدیوں سے گویا چشم پوشی کرکے ہم کو اپنے الہٰی فضل کا عافیت بخش پیغام سناتا ہے۔ جب دل اس حالت میں ہوتا ہے تو بڑے پُر جوش خیالات اس میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً اُس دل کی بابت خیال کرو جو نہ صرف یہ جانتا ہے کہ مَیں بے حد گنہگار ہوں بلکہ یہ بھی کہ مسیح مجھ جیسے بے دین کی خاطر موا (رومیوں 5: 6)۔یہ خیال اُس میں کیا کیا اُمنگ اور جوش پیدا نہ کرتے ہوں گے ۔ وہ کس حیرانی اور تعجب سے پڑھتا نہ ہوگا۔کہ خُدا نے اپنی محبت ہم پر یوں ظاہر کی کہ جب ہم گنہگار ٹھہرے تو مسیح ہمارے واسطے موا(رومیوں 5: 8)۔تب وہ کس ولولہ کس جوش اور کس محبت سے یہ کلام سنتا ہوگا کہ یہ بات بالکل برحق اور قبولیت کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گنہگاروں کے بچانے کو دُنیا میں آیا(1۔تیمتھیس 1: 15)۔ ہاں ایسے گنہگار کو بھی جیسا کہ مَیں ہوں ۔تب وہ دل سے یہ کہنے پر مستعد ہوتا ہے کہ ابن اللہ دُنیا میں آیا اور اُس نے اس قدر دُکھ اور بے عزتی کو گوارا کیا ۔ اور کس مطلب سے ۔ کیا یہی نہیں کہ وہ گنہگاروں کو توبہ کی طرف رجوع کرائے ۔راہ سے بھٹکے ہوؤں کو ڈھونڈ کے بچائے۔مجھ کو بھی ڈھونڈھتا ہے جو ایسا گنہگاروں کہ اُس کی حکومت کا باغی اُس کی محبت کے کلام کی تحقیر کرنے والا اور سالہا سال تک اُس سے ناواقف رہا ہوں۔ میرا چلن ایسا کہ مَیں خود ہی نادم ہوں ۔میرے دل میں بے ایمانی ناشکرگزاری اور ریاکاری بھری ہوئی ہے۔ اپنی ساری روش اور چلن سے خُدا کے قہر اور غضب شدید کا مستحق اور سزا وار ہوں ۔تو بھی اللہ تعالیٰ خود اپنے بیٹے کے وسیلے مجھے کہتا ہے کہ مَیں اُسے مقبول ہوسکتا ہوں۔ کیا پھر بھی مَیں اُس سے جُدا رہوں۔ نہیں نہیں مَیں اُٹھ کے اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور کہوں گا کہ اے باپ مَیں نے تیرا اور آسمان کا گناہ کیا ہے اور اب اس لائق نہیں ہوں کہ تیرا بیٹا کہلاؤں یا تیرا نوکر بھی ہونے کی عزت حاصل کروں ۔ پر تو اپنے نام کی خاطر مجھے معاف کردے اور اپنے عزیز بیٹے کی خاطر جو گنہگاروں کے بچانے کو موا میرے گناہوں کو مٹا ڈال ۔ یہ ایسی دُعا ہے جس کی طرف خُدا کبھی اپنے کان بند نہیں کرتا۔ کیونکہ اُس کا وعدہ لکھا ہے (اور ضرور ہے کہ پورا ہو)کہ جو کوئی خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لائے ہرگز ہلاک نہ ہوگا بلکہ حیات ابدی کا وارث ہوگا(یوحنا 3: 16)۔

چہارم :۔اپنے گناہوں کا بلاعذر وحیلہ اقرار کرنا ۔سچی تو بہ کی یہ ایک خاص نشانی ہوتی ہے کہ تائب گنہگار اپنے گناہوں کا بلاکم وکاست (کمی) اور بلا عذر وحیلہ صاف صاف اقرار کرتا ہے ۔ اور یہ امر دل کی ایک تبدیلی ہے جس کا اظہار زبان سے ہوتا ہے بے توبہ دل ہمیشہ خود کو بے گناہ اور جہاں تک ہوسکے راستباز خیال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی خطا یا قصور اُسے نظر بھی آئے تو اس یا اُس خاص سبب اورعلت کا بہانہ کیا کرتاہے ۔غرض کہ اپنی نیکی پر شیخی اور اپنی راستبازی پر ناز کرتا ہے ۔ پر جب توبہ پیدا ہوتی ہے تو یہ تمام گھمنڈ اور شیخی کافور ہوجاتی ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو شیشہ میں دیکھتا ہے اور خود ہی شرمندہ ہوتا ہے۔ جس خوبصورتی پر وہ آگے نازاں تھا۔ اب اُس کا حال اُسے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ بالکل گندگی تھی ۔اور حضرت ایوب کے یارعزکی الفاظ میں تائب ہوکے وہ یوں بول اُٹھتا ہے کہ ''اگر مَیں اپنی بے گناہی ظاہر کروں تو میرا منہ مجھے گنہگار ٹھہرئے گا اگر مَیں یہ کہوں کہ مَیں سچا ہوں تو اس سے میری کجروی ثابت ہوگی ''(ایوب 9: 20)۔اگر مَیں اپنے کو برف سے دھوؤں اور اپنے ہاتھوں کو صابن سے پاک کروں تو بھی تو مجھے گڑھے میں غوطہ دے گا اور خود میرے کپڑے مجھ سے نفرت کریں گے کیوں کہ وہ (اللہ) مجھ سا نہیں ہے کہ مَیں اس کی جواب دہی کروں اور ہم ایک ساتھ عدالت میں حاضر ہوں(ایوب 9: 30۔32)۔ ان خیالات کو اپنے دل میں لیے ہوئے وہ اپنے دل سے اور اپنے لبوں سے اُس تائب گنہگار اور شکستہ جان دل کے ہم آواز ہوتا ہے جس نے یوں کہا ''مَیں نے تیرا ہی گناہ کیا ہے اور تیرے ہی حضور بدی کی ہے ''(زبور 51: 3)۔تب وہ عجز سے کہتا ہے کہ اے میرے خُدا مَیں اپنے گناہوں کا نہ مجملاًبلکہ مفصلاً اقرار کرتا ہوں۔ میرے گناہ ہر وقت میرے روبرو ہیں ۔ اُس کے خیال اور اُس کا دل اُس رسول کے الفاظ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جس نے یوں کہا کہ اگر ہم کہیں کہ ہم بے گناہ ہیں تو ہم اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اور سچائی ہم میں نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ اُن کو معاف کرنے اور ہم کو ساری ناراستی سے پاک کرنے میں وفادار اور راست ہے(1۔یوحنا 1: 9)۔
یہ امر پُر ضرور ہے کہ اُس اقرار کی نسبت جو سچی توبہ کی نشانی ہے ہم صاف اور درست خیال رکھیں ۔


3 ۔ہم نے اس کل کتاب میں اس امر کو تسلیم کر لیا ہوا ہے کہ خُداوند یسوع مسیح کے نام کے سوائے اور کسی سے گنہگار کی نجات نہیں ہے نہ ہوسکتی ہے۔ یہ ہم کو ایک نورانی صداقت معلوم ہوتی ہے اور اگر تجربہ کچھ قدر رکھتا ہے تو ہم آسمان اور زمین کے روبر و اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے اس صداقت کو خود آزمالیا اور اُسے نورانی پایا۔ مباحثہ اور مناظرہ کی بہت سی کتا بیں موجود ہیں جو چاہے دیکھے ۔ ہم محض عقلی دلائل کو کام میں نہیں لاتے ۔ پر خُدا کے کلام کی ہدایت اور بیان کو قبول کرتے ہیں ۔ اس جگہ زیادہ طوالت کے ساتھ اس امر کا ذکر کرنا بے موقعہ ہے۔ حسب موقعہ آگے چل کر ہم مد لل اور قاطع دلائل سے اور اس پر یہ کہ ایک نئے ڈھنگ سے اس صداقت کا بیان کریں گے۔ اور دکھائیں گے کہ یہ مسئلہ عین صداقت ہے جس کا ماننا فرض ہے اور جسے اگر کوئی تسلیم نہ کرے تو آپ اپنی سزا کو اپنے پر بھڑکاتا ہے اور خُدا کے غضب کو اپنے پر اُکساتا ہے۔

ایم حنیف

اوّلاً:۔یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اقرار ہمیشہ سار ے گناہوں کا اور بے عذر ہونے کا اقرار ہوا کرتا ہے ۔ دوسرے طور پر یوں کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا دل صاف کھول دیا جاتا ہے ۔ ضمیر اُس بوجھ سے جو گناہ کے سبب اُس پر آپڑتا ہے گناہ کا اقرار کرنے سے آپ کو ہلکا کرنا چاہتی ہے اور خواہش کرتی ہے کہ گناہوں کی تلخی کے دُکھ کم ہوجائیں تب سارے عذر دور ہوجاتے ہیں اور ساری پوشیدگی واخفا جاتی رہتی ہیں۔ خود راستی اور معصومی کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ضمیر کہتے ہیں کہ اگر ایک گناہ بھی ارادتاً بلا اقرار ہوجائے تو باقی سب اقرار بے سود وبے فائدہ ہو جائے گا۔
ثانیاً :۔ یہ اقرار خصوصاً چھوٹے چھوٹے اور خا ص خاص گناہوں کی نسبت ہوا کرتا ہے عام اور مجمل اقرار سے اُس دل کی جو گناہ کے بوجھ اور غم سے دبا ہو کچھ تسلی نہیں ہوتی ۔ جو بات پہلے چھوٹی سی معلوم ہوتی تھی اور جس کی نسبت خیال ہوتا تھا کہ کچھ بڑی بات نہیں ہے اب پہاڑ معلوم ہوتی ہے اور دل میں دکھ اور غم اور زبان میں اقرار پیدا کرتی ہے ۔ جو گناہ پہلے ہلکے اور ہیچ دکھائی دیتے تھے اب بڑی خطرناک صورت میں نظر آتے ہیں اور دل کو ڈراتے ہیں ۔ پس انسان مجبورہوتا ہے کہ اگر علانیہ نہیں تو خلوت میں ضرور اپنے خالق اور مالک کے سامنے اپنے دل کو کھول کے اس کی بدی اور خرابی کا اقرار کرے ۔ حضرات نحمیاہ ، دانی ایل اور داؤد کے اقرارات کا ملاحظہ کرو۔دیکھو (نحمیاہ 1: 5۔11، دانی ایل 9: 3۔19، زبور 51)۔
ثالثاً:۔ تائب گنہگار جب اس حالت میں ہوا کرتا ہے تو اپنی بُری ذات بُری زندگی اور بُرے مزاج کے واسطے بھی اقرار کرتا ہے ۔نہ صرف اُن گناہوں کا اقرار کرتا ہے جو فعل میں آتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کی ساری بدروش کا بھی مقر ہوتا ہے اور مان لیتا ہے کہ میرا رونگٹا رونگٹا گنہگار ہے۔ بدکاموں کی جڑ بد ارادے ہوتے ہیں اور ارادے دل کی حالت سے نکلتے ہیں۔ اچھا آدمی اپنے دل کے اچھے خزانے سے اچھے ارادے نکالتا ہے۔ بد آدمی اپنے دل کے بُرے خزانے سے بُری چیزیں نکالتا ہے۔ پس ضرور ہے کہ دل کی بدحالی اور خرابی کا بھی اقرار کیا جائے جو ساری بدیوں کی جڑ ہے۔ بد چشمہ بدمنبع سے نکلتا ہے ۔ اس لیے عاقل تائب اپنے اوپر فخر نہیں کرتا کہ اُس میں کچھ نہ کچھ نیکی ہے بلکہ بیشتر اتنی بدی دیکھتا ہے کہ حیران ہوکے کہتا ہے ۔ یا الہٰی مَیں کس گندگی میں ہوں ۔ میرا دل مجھے آج تک فریب دیتا رہا اور مَیں اپنی نیکی پر نازاں رہا۔ اب مجھے گندگی اور ناپاکی کے سوائے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ میرا دل سب سے بڑھ کے دغا باز اور نہایت ہی بدہے (یرمیاہ 17: 9)۔
رابعاً:۔ اس قسم کے اقرار نہ صرف اس لیے ضرور ہیں کہ ہم نے خُدائے عظیم الشان وپر جلال کی عظمت اور بزرگی کے خلاف گناہ کیا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ ہمارے اپنے آپ کو گنہگار واجب سزامان لینے سے خُدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کی عزت ہوتی ہے۔ چنانچہ مرقوم ہے کہ حضرت یشوع نے عکن کو یوں کہا کہ ''اے میرے فرزند خُداوند اسرائیل کے خُدا کی بزرگی کر اور اُس کے آگے اقرار کر''(یشوع 7: 19)۔جب گناہوں کا اقرار اُس وقت ضروری تھا جب کہ معافی کا وعدہ نہ تھا تو کتنا زیادہ ضروری فی زمانہ ہونا چاہیے درحالیکہ ہم سے نہ صرف گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے بلکہ ہم کو اُمید اور راہ بھی بتائی گئی ہے۔ اگر گناہوں کا اقرار کرلینا اس سبب سے ضرور تھا۔کہ ہم نے اپنی بدی سے خُدا کے عدل کو اپنے پر برانگیختہ کرلیا ہے تو کتنا زیادہ ضروری اس حالت میں ہونا چاہیے جب کہ ہمارے بے شمار گناہوں کی معافی کا وعدہ ہم سے ہوا ہے اور بجائے اس کے کہ ہم پر غضب الہٰی نازل ہو ہم سے صبر اوربرداشت کی جاتی ہے۔ پس چاہیے کہ ہم اُس حالت کو جو ہمارے واسطے زیبا ہے اپنے اوپر لے لیں اور اپنی حالت کے مطابق بولی بولیں یعنی وہ بات منہ سے نکالیں جو ہماری حالت کے موزوں ہے۔ تاکہ ہم اُس سے جس کے خلاف ہم نے بغاوت ،ناشکری اور بے وفائی کی ہے فضل اور رحمت کی اُمید رکھ سکیں ۔اگر یہ خیالات دل میں بسیں تو ہماری زبا ن کی باتیں کچھ اور ہی ہوجائیں گی ۔ تب ہم خُدا کے فضل کے تحت کے سامنے جو ہمیشہ رحم میں خوش ہوتا ہے (میکاہ 7: 18)کتنے عجز اور انکسار کے ساتھ آئیں گے اور اقرار کریں گے کہ اے خُداوند صداقت تیری ہے اور رسوائی ہماری (دانی ایل 9: 7)۔
پنجم :۔ ان سب کا نتیجہ ہماری عادات واطوار کی بالکل اور پوری تبدیلی ہوا کرتی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ گنہگار بدی سے بالکل پھر کے ارادہ مصمم وعزم جرم کرلیتا ہے کہ خُدا کی طرف رجوع کرے ۔یہ حالت گناہ کی عین ضد ہوا کرتی ہے کیونکہ فی الحقیقت گناہ روح کا خُدا سے پھر جانا ہے۔ ویسے ہی جس تبدیلی کا ہم اب ذکر کرتے ہیں یہ روح کا خُدا کی طرف پھر جانا ہے ۔یہی سچی توبہ ہے ۔ جیسا کہ گناہ گویا اپنے اصلی اور حقیقی معبود کی اطاعت اور حضوری سے پھرنا ہے ویسا ہی توبہ اُس کی طرف پھرنا اور اُس کی رضا وخوشنودی حاصل کرنا ہے۔ خُدا کا کلام کہتا ہے کہ ''وہ جو شریر ہے اپنے ارادہ کو ترک کرے اور بدکردار اپنے خیالوں کو اور خُدا کی طرف پھرے کہ وہ اُس پر رحم کرے گا اور ہمارے خُدا کی طرف کہ وہ کثرت سے معاف کرے گا '' (یسعیاہ 55: 7)۔ہمارے خُداوند اور نجات دہندہ نے حضرت پولُس کو یوں فرمایا کہ ''مَیں تجھے بھیجتا ہوں کہ تو اُ ن کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ اندھیرے سے اُجالے اور شیطان کے اختیار سے خُداکی طرف پھریں اور گناہوں کی معافی اور مقدسوں کی میراث حاصل کریں ''(اعمال 26: 18)۔ اور حضرت پولُس نے بھی اپنی رسالت کے مدعا اور مقصد کو اگرپا بادشاہ کے حضور یوں فرمایا کہ ''مَیں نے جتا دیا کہ وہ توبہ کریں اور خُدا کی طرف پھریں اورتوبہ کے موافق عمل کریں ''(اعمال 26: 20)۔غرض کہ توبہ اور خُدا کی طرف پھر نا بھی ہیں۔ جو شخص گناہ کرتا ہے خُدا سے جُدا رہتا ہے اور رہنا پسند کرتا ہے پر وہ شخص جو سچی توبہ کرتا ہے خُدا کی خوشنودی اور حضوری ڈھونڈھتا ہے ۔
اگر کسی دل میں گناہوں کا حقیقی غم ہو اتو وہ غم اُس میں گناہوں کی طرف سے نفرت پیدا کردیتا ہے ۔ اور اگر گناہ سے سچی نفرت ہوتو دل پورا ارادہ گناہ سے بھاگنے اور ڈرنے کا کرلیتا ہے ایسے دل میں ارادہ ہوتا ہے کہ جو بدی اُس آدمی نے بنی نوع انسان کے ساتھ کی ہے جہاں تک ممکن ہو سکے اُس کی تلافی کر دی جائے ۔مثلاً اگر کسی دولت یا عزت یا چلن یا کسی اور چیز کا نقصان کیا ہوتو دل میں یہ خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اور خواہ کیسا ہی نقصان اوردُکھ برداشت کرنا نہ پڑے جہاں تک ممکن ہے ایسے نقصان کی تلافی ضرور کر دی جائے ۔ اورجو گناہ خُدائے قدوس کے خلاف اپنے خیال اورقول اور فعل سے کئے ہوں اُن کی نسبت تائب گنہگار اقرار کرتا ہے کہ کوئی تلافی کرنا اُس کے امکان میں نہیں ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ قرض بے شمار اور بوجھ بڑا بھاری ہے اور پھر یہ کہ ادا کرنے کو اُس کے پاس ایک خر مہرہ بھی نہیں اور بوجھ اُٹھانے کی یا اُس کو پھینک دینے کی نہ طاقت ہے نہ جُرات ۔ اس حالت میں وہ خود کو بے وسیلہ پاتا ہے ۔ جب تک کہ امید کی روشنی اس کےدل پر نہ چمکے اوراُسے اُس کفارے کی نسبت جو گنہگاروں کی ضمانت اور شفاعت میں ہوا خبرنہ دے۔ تب وہ بڑی حیرانی سے دیکھتا ہے کہ بے گناہ نے گنہگاروں کے واسطے دُکھ اُٹھایا اور راستباز نے ناراستوں کے لیے (1۔پطرس 3: 18)۔تب حیران ہوکر بجائے اس کے کہ گناہوں میں زیادہ مصروف ہووہ تقدیس میں قائم ہونے کے نہایت تاثیرکرنے والے خیالات سے مغلوب ہوجاتا ہے۔ تب مسیح کی محبت اُس کے دل کو کھینچتی ہے۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اُسی کا تابع ہوجاتا ہے اور مسیح کی محبت اُسے مجبور کرتی ہے کہ آگے کو اپنے لیے نہ جیسے اور بدی جمع نہ کرے ۔ بلکہ اُس کی زندگی اورموت اُسی کے واسطے ہو جو اُس کے گناہوں کی واسطے مرا اور پھر جی بھی اُٹھا ۔ گناہ سے آزاد اور خُدا کا غلام ہوکے وہ پاکیزگی کا پھل لاتا ہے جس کا انجا م ہمیشہ کی زندگی ہے (رومیوں 6: 22)۔
اب تک جس مضمون پر ہماری توجہ رہی ہے اُس میں ہم نے خصوصاً خیالات اور بیانات کا ذکر کیا ہے ۔ اور ایک صورت سے اس فصل کا خاتمہ یہا ں پر ہوگیا ہے۔ پر ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ یہاں اُن توبہ انگیز تاثیرات کو جو خُداوند یسوع مسیح کی انجیل سے نکلتی ہیں بے ذکر چھوڑ دیں۔ ان کا مفصل بیان تو آیندہ کی فصلوں میں ہوگا ۔ہم یہاں مختصر اً ایک دو امروں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

اوّلاً:۔بڑا خوف ہے کہ لوگ جھوٹی توبہ اور سچی توبہ میں تمیز نہیں کرتے ۔بلکہ بسا اوقات جھوٹی کو سچی سمجھ لیتے ہیں ۔ اکثر یہ سنا جاتا ہے کہ وہ توبہ کرتا اور گناہ کرتا جاتا ہے ۔پر اُس کی توبہ حقیقی توبہ نہیں ہوتی ۔سچی توبہ سے ایسا شخص اب تک محض ناواقف ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ دل سے سچی توبہ کرتا تو گناہ سے اُسے نفرت ہوجاتی ۔اور پختہ ارادہ کرکے وہ اُسے چھوڑ دیتا۔ چاہیے کہ یہ بات دل پر نقش ہوجائے کہ وہ شخص توبہ سے ناواقف ہوتا ہے جو اُس کے علامات ضروری ہیں یعنی خُدا کی طرف رجوع کرنے کو ظاہر نہیں کرتا ۔سچا تائب وہ شخص ہوتا ہے جو گناہوں کو چھوڑنے کا مصمم ارادہ کرے اور دل اور چلن کی تبدیلی چاہے ۔ورنہ یوں تو کسی دنیاوی دُکھ اور غم سے بھی اکثر تو بہ کی ایک شکل دل میں پیدا ہوجایا کرتی ہے۔ مگر یہ چند دن بعد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اور دل آگے سے زیادہ ہلاکت کے لائق بن جاتا ہے۔

ثانیاً:۔ چاہیے کہ ہم خود اپنے واسطے اس بات کا فیصلہ کریں ،کیونکہ جیسا ہم اپنا آپ فیصلہ کرسکتے ہیں ویسا اور کوئی بشر نہیں کرسکتا کہ آیا ہم نے وہ توبہ کی ہے کہ نہیں جس سے کہ آخر کو پچتانا نہ ہو۔ چاہیے کہ ہم تنہا ہوکے اپنے دل پر نظر کریں۔ اور اُس طرح دیکھیں جیسے کہ وہ الہٰی نظر کے سامنے ہی جس کے آگے سب کے دل کا حال کھلا ہے ۔اور جس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے چاہیے کہ ہم اپنی خواہشوں کے میلان اپنے چلن کی روش اور اپنے خیالات کی رغبت کو غورسے دیکھیں اور جان لیں کہ زندگی کے ہر ایک لمحہ میں ہم سے کون کون سے قبیح گناہ سرزد ہوئے ۔چاہیے کہ اُن کی یاد ہم کو بُری معلوم ہو اور ہمارے دل میں خالص طور پر گناہوں سے قائل ہونے عاجز اور تائب طور پر ان کا اقرار کرنے اور سچے دل سے خُدا کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ پیدا ہو۔اور باقی زندگی میں اپنے دلوں کو اور کاموں کو آزماتے رہیں ۔خُدا کی پاک شریعت ایک اعلیٰ کسوٹی ہے۔ جس پر ہم اپنا آپ دیکھا کریں اور ہمیشہ یہ کہا کریں کہ اے خُداوند مجھے گنہگار پر رحم کر۔ ضرور ہے کہ مسیح یسوع کی صلیب کی تاثیرات کو ہم اپنے میں اثر کرنے دیں اور روح پاک کی تاثیرات اور ضرورت کو نہ بھولیں۔ اور اُ ن کی استدعا کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں کہ اے خُداوند یہوواہ تم ہم کو نیا دل دے اور ہمارا مزاج بدل ڈال کہ تو ہم سے پتھر کا دل نکال اور ملائم دل دے (حزقی ایل 36: 36)۔

ثالثاً:۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مسیحیوں کو بھی جنہوں نے نجات ابدی کا وعدہ حاصل کیا ہے ایک قسم کی توبہ روز مرہ زندگی میں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک صورت سے تو سچ ہے (جیسا کہ خود ہمارے نجات دہندہ نے فرمایا)کہ وہ لوگ جو بے گناہ اور راستباز ہیں توبہ کی ضرورت نہیں رکھتے ۔ پر دُنیا بھر میں بے گناہ اور کامل طور پر راستباز کونسا شخص ہے ۔اور اگر کوئی ایسا شخص کہیں ہوتو یقیناً اس کو توبہ کی ضرورت نہیں ہے ۔پر ایک اور قسم کے لوگ ہیں جو بے گناہ اور راستباز تو نہیں پر بے گناہ اور راستباز کئے گئے ہیں ۔ جنہوں نے توبہ اور خُداوند یسوع پر ایمان لانے کے وسیلہ موت کی حالت سے نکل کے زندگی کا دم حاصل کیا ہے اور جن کو اب پھر سے بدل جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پر کیا ایسے لوگ بھی اپنی زندگی بھر وقتاً فوقتاً خطاؤں اور لغزشوں میں گرفتار نہیں ہوا کرتے ۔کیا کبھی کبھی اُس سخت لڑائی میں جو اُن کے سامنے آپڑتی ہے وہ ہار نہیں جاتے ۔کیا درست نہیں ہے کہ بہت دفعہ اُن سے وہ نہیں ہوتا جو کرنا اُن کو لازم تھا اور وہی ہوتا ہے جو اُن کو کرنا لازم نہ تھا ۔ کیا وہ اکثر وہی بدی نہیں کربیٹھتے جو نہیں کرنا چاہتے اور وہ نیکی جو کرنا چاہتے ہیں نہیں کرتے یہ لوگ گو خُدا کے پیار کرنے والے اور اُس کے چہرہ کی تجلی میں زندگی بسر کرنے والے ہیں ۔ پھر بھی بشر اور آدم کی اولاد ہیں ۔ پس ایسے لوگ اپنے میں خود عاجز اور تائب ہونے کی ضرورت پایا کرتے ہیں جب تک کہ کمال آئے اورناقص کا زوال ہو۔ اُن کو سرنوپیدا ہونے کی تو ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ الہٰی روح کی تاثیر سے وہ سرنوپیدا ہوئے ہیں ۔پر ہمیشہ ہمیشہ قدوسیت اور روحانیت میں ترقی کرنے کی ضرورت تو ہوتی ہے۔ پس اپنی کمزوری اور خطاؤں پر وہ اکثر نادم ہوا کرتے ہیں ۔ اپنی بیکس حالت پر اکثر عجز اور افسوس کیا کرتے ہیں اور اپنی لغزشوں کا اقرار کرکے اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کیا کرتے ہیں ۔اور یہ اُن کی روز مرہ کی توبہ ہوتی ہے ۔ وہ آدمی کہاں ہے جو نیکی کرتا اور بدی نہیں کرتا ہے (1۔سلاطین 8: 46)۔نہ صرف بھارے گناہوں کے واسطے توبہ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ بدی ہر ایک کے واسطے خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔ کمزوری، خطا، غفلت اور غرور وغیرہ ۔ ضرور ہے ان میں سے ہر ایک الہٰی فرزندوں کے دلوں میں غم برانگیختہ (مشتعل ، آمادہ)کرنے کا موقع پیدا کردیں ۔اور ہم لوگ جو مسیحی ہیں عاجز اور لاچار ہوکے اُس چشمہ کی طرف روز روز جایا کریں جو گناہ اور ناپاکی دور کرنے کے لیے کھولا گیا ہے ۔ کیونکہ اگر ہم کہیں کہ ہم بے گناہ ہیں تو ہم اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں ۔اور سچائی ہم میں نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص گناہ کرے تو اُسے معلوم ہو کہ باپ کے پاس ہمارا ایک وکیل (شفیع ) ہے یعنی یسوع مسیح جو راستباز ہے(1۔یوحنا 1: 8۔ 2: 1)۔پس ضرور ہے کہ ہم ہمیشہ آنکھیں خُداوند یسوع مسیح کی صلیب کی طرف لگائیں ۔ہم اپنی ناشکرگزاری کے واسطے تو رنجیدہ ہوں پر اپنے منجی میں خوش رہیں۔ اور دل کی خوشنودی کے ساتھ اُس دنیا کی طرف دیکھیں جس میں ساری بدی دور ہوگی اورجہاں کوئی ناپاکی نظر نہ آئے گی ۔ جہاں ہم کو کسی بدی یا گناہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کی ضرورت نہ ہوگی ۔ بلکہ جہاں قدوسیت ،صداقت اور برکت ہیں۔ مبارک ہے وہ شخص جو الہٰی مقررہ راہ پر ہوکے وہاں پہنچے ۔ اگر کوئی شخص اُس راہ پر قدم مارنا چاہیے تو اُسے معلوم ہوجائے کہ توبہ پہلا مرحلہ ہے اور اگر اس کو طے نہ کرے توکبھی منزل مقصود تک نہ پہنچے گا۔

فصل دوم

توبہ کی علت غائی کے بیان میں

لا کلام توبہ کی ماہیت (حقیقت،اصل ،جوہر)کی نسبت درست اورکلام الہٰی کے موافق خیالات دل میں رکھنے نہایت ضرور ہیں پر صرف خیالات کی درستی ہی کافی نہیں ۔ صرف یہی جاننا کافی نہیں کہ توبہ کے حقیقی معنی کیا ہیں اور وہ کن کن چیزوں سے مشتمل ہوتی ہے بلکہ یہ بھی کہ ہم فی الحقیقت اپنی نسبت وہ توبہ استعمال کریں جو بقول ملہم (الہام کیا گیا)رسول پولُس نجات کا وسیلہ ہے اور جس سے پچھتانا نہیں ہوتا۔(2۔کرنتھیوں 7: 10)۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مقدس حواریوں نے جہاں کہیں نجات کی خوشخبری دی اُس کے ساتھ ہی بالضرور اپنے سامعین کو توبہ کی ضرورت بھی بتائی ۔اوراس ضرورت کو بڑی قوی اور قاطع دلائل سے اُن کے دلوں پر نقش کیا ۔ پس اُن کی شہادت کے کلام اور اُن کے اعمال کی نوشت کو اپنی ہدایت کے واسطے سامنے رکھ کے اور روح القدس کی تاثیر کی استدعا کرکے جس سے اُن کو ایسی وسیع کامیابی حاصل ہوئی مناسب ہے کہ ہم توبہ کی علت غائی (نتیجہ ، وجہ)پر سوچیں۔

اوّل :۔ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ جو ہمارا مالک اور حاکم ہے حکم دیتا ہے کہ ہم توبہ کریں ۔اور توبہ کرنے کی سب سے پہلی علت غائی (وجہ) یہی ہے کہ ''اللہ فرماتا ہے اس لیے توبہ کرنی ضرور ہے''۔چنانچہ مرقوم ہے کہ خُدا سب لوگوں سے (بلاروئے ورعایت رنگ وقو م ) جو اس تختہ دُنیا پر ہیں بلاعذر وحیلہ چاہتا ہے اور حکم کرتا ہے کہ توبہ کریں(اعمال 17: 30)۔یہ حکم نہایت مناسب اور عمدہ ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے ہم سب گنہگار ہیں باغی اور گم گشتہ لوگ ہیں جنہوں نے خُدا کو اپنے دلوں اور جانوں پر سلطنت کرنے سے نکال دیا ہے ۔ اور جو اپنی بدی اور بدکرداری سے خُدا کے دشمن ہوگئے ہیں۔ ہم اپنی ہستی کے خالق کی طرف جو ہمارا بادشاہ اور ہمارا حاکم ہے بہت کم راغب ہوئے ہیں ۔ ہم اُس کی اطاعت میں جو ہمارا حقیقی حاکم ہے اور اُس کی محبت میں جو لامحدود خوبیوں اور بزرگیوں کا چشمہ ہے نہایت قاصر ہوئے ہیں۔ اور کیسی مہربانی اور محبت سے وہ ہم کو حکم دیتا ہے کہ اپنی اس کم توجہی اس نمک حرامی اور اس دشمنی کو چھوڑ دیں اور اُن سے توبہ کریں ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہمارے دل اورخیال بالکل بدل جائیں اور کہ ہماری خواہشیں اور ارادے تبدیل ہوجائیں یہ اُس کا حق اور اُس کا دعویٰ ہے اور وہ اپنے حق کو چھوڑ نہیں سکتا نہ اپنے اس دعویٰ کو ترک کرسکتا ہے ۔ اگر ہم اُس کی آواز نہ سنیں ۔یا سُن کے ایک لمحہ کی بھی دیر کریں تو ہمارا ہی نقصان ہے۔

پھر دیکھنا چاہیے کہ توبہ کرنے کا حکم دینے میں کیسی پدرانہ اور مربیانہ(والد اور اُستاد) شفقت کا اظہار ہے ۔اُس خُدا کے حضور سے جو محبت ہے کبھی یہ حکم نہیں نکلا کہ باغی فرشتے توبہ کریں پر ہماری ساری بدیوں سے گویا طرح دے (درگزر کرنا)کے ہمارا خُدا کیسی پیاری آواز سے فرماتا ہے ۔ اے گنہگار توبہ کر۔ اور نہ صرف یہ بلکہ انتظام الہٰی سے اس نے ہمارے واسطے ایک نجات دہندہ بھی مہیا کیا ہے جس کانام یسوع خُداوند ہے۔ پس اے گنہگار اس دلیری بخش اوردانائی اور محبت کے بھرے ہوئے حکم کوماننے میں تامل مت کر۔اب آسمانی فضل کے تخت کے حضور جا اور اپنے دل وزبان سے کہو اے خُدا تو ساری موجودات میں اعلیٰ اور برتر ہے اور تیرا سب سے زور آور دعویٰ ہے کہ میرے دل اور میری جان پر حکومت کرے ۔ مَیں اقرار کرتا ہوں ، مَیں افسوس کرتا ہوں کہ تجھ سے مَیں اتنے دن بُری طرح برگشتہ رہا اور تیری بغاوت کی ۔ مَیں اپنے دل کی بدحالی پر تاسف (افسوس) کرتا ہوں۔ اُس یسوع مسیح کے وسیلے جو تیرا مقرر کیا ہوا اکیلا اور مبارک درمیانی ہے اور جو تیری لابیان محبت کا انعام ہے میں نہایت فروتنی اور عجز سے تیری حکومت اور سلطنت کو قبول کرتا ہوں جس کے خلاف میں نے شدت سے بغاوت کی ۔خاک اور راکھ میں بیٹھ کے تیرے فضل کی بخشش کی التجا کرتا ہوں ۔ اپنی جان اور روح اور بدن کو اب تیرے تحت کرتا ہوں۔ اب اے خُداوند مَیں اپنی مرضی نہیں چاہتا بلکہ تیری رضا مندی کا طالب ہوں جو ہزار زندگی سے بہتر ہے اب مَیں تیرے حکم کو مانتا اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔


4 ۔کہتے ہیں کہ بغاوت 1857ء میں جب ہر ایک شخص انگریز وں کی سلطنت کے خلاف تھا اور ہزار ہاہزار جانیں تلف ہوچکی تھیں تو ہماری مہربان مادرایمپرس وکٹوریا نے کالوں کی جان پر رحم کھا کے معافی کا اشتہار دے دیا۔ اور کہا کہ گو تم لوگوں نے وہ نہیں کیا جو تم کو کرنا لازم تھا بلکہ انگریزوں کی سلطنت کے خلاف خود کو آمادہ کیا اور ہزار ہا بیکس عورتوں اور بچوں کا خون کیا پر ہم اب تمہاری ساری بغاوت کو اپنے دل سے نکال کے تم کو یہ حکم دیتے ہیں کہ تم اب ہمارے خلاف مت ہو بلکہ ہماری حکومت کو قبول کرو اور ہم تم کو یہ خبر دیتے ہیں کہ اگر تم ایسا کرو تو ہم تمہاری ساری بدی کو معاف کرتے ہیں، اس فرمان شاہی کی محبت اور مہربانی سے ہزار ہا ہزار لوگ اپنے دلوں میں چھد گئے اور پھر سے فرمانبردار ہوگئے الہٰی فرمان جو توبہ کا ہے ایسا ہی ہے۔

ایم حنیف

دوم :۔ روز عدالت اُن سب کے واسطے جو بے توبہ زندگی بسر کرتے اور مر جاتے ہیں بُری ہلاکت اور سزا کا دن ہوگا۔ اس لیے بھی ضرور ہے کہ ہم توبہ کریں ۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کا حکم اوردوسرے یہ کہ اُس نے ایک دن مقرر کیا ہے جس میں وہ لوگوں کی عدالت راستی سے کرے گا(اعمال 17: 31)۔کیا یہ بڑی بھاری دلیل نہیں ہے کہ جیتے جی ہاں اسی وقت گنہگار کو توبہ کرنی چاہیے ۔ اے شخص جس کا دل عجز اور فروتنی سے ناواقف ہے کیا تو خیال کرسکتا ہے کہ تو خُدا کی عدالت سے بچ نکلے گا ۔ کیا تو خیال کرتا ہے کہ اُس کے فضل کی کثرت اور اُس کے تحمل کی حقارت کرکے اور اپنی بے توبہ دل کی سختی کے سبب اُس دن کے لیے جس میں خُدا کی عدالت حق ظاہر ہوگی تو اپنے واسطے خُدا کا غضب نہیں جمع کررہا ۔دھیان کرکے سُن کہ جو شخص عدالت کے دن تیرا انصاف کرنے کو آئے گا یوں فرماتا ہے اگر تم توبہ نہ کرو تو ہلاک ہوگے (لوقا 13: 2)۔مناسب ہے کہ اُس کی زبان کا یہ کلام جو گنہگاروں کے بچانے کو آیا اور جو پھر آخری دن میں انصاف کرنے کو آئے گا۔ انسان کے دل میں نقش ہوجائے اور عالمگیر فروتنی اورعجز اور توبہ پیدا کرے ۔ پھر بھی کچھ جبر نہیں ہے ۔انسان فعل مختار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ امر اُس کی مرضی پر چھوڑ دیا ہے کہ چاہے قبول کرے اور چاہے نہ کرے خواہ تو یہ صداقت کا کلام قبول کرے یا اپنے دل کی تسلی ایسے ایسے واہی (بے ہودہ) خیالوں سے کرلے کہ گناہوں کے بالمقابل بہت سی نیکیاں بھی ہیں اور کوئی خطرہ نہیں ۔اورکہ ہم ہرگز اس فتویٰ کو نہ سنیں گے کہ میرے سامنے سے ہمیشہ کی عذاب میں چلے جاؤ(متی 25: 16)۔پر میرے جو راقم الحروف ہوں نصیحت کو جو مَیں کلام ربانی کے موافق دیتا ہوں مانو تو یہ کام کرو کہ ہوشیار ہوجاؤ مبادا کہ تم اپنے دل کے فریب میں آجاؤ جو تم کو ہلاکت میں لے جاتا ہے اور تمہاری بیش قیمت روح کو برباد کرے گا۔ جب خود ابن اللہ کہتا ہے کہ تم کو توبہ کی اشد ضرورت ہے اور کہ تم اگر توبہ نہ کرو تو ہلاک ہوگے تو اپنی اُمید ایسے لغویات پر نہ رکھنا کہ گویا اُس کے کلام میں صداقت نہیں ہے ۔ خود اپنی عقل ہی سے کام لو ۔کیا تم کو یقین آسکتا ہے کہ اگر تم اپنے گناہوں سے قطعی دست بردار نہ ہوجاؤ تو تم نجات کی ابدی اور روحانی خوشیوں کے لائق بن سکتے ہو۔یا اگر بالفرض تم کو نجات اور اُس کی خوشیاں مل بھی گئیں تو کیا تم کو اُن کا مزہ آسکتا ہے ۔جب دل میں الہٰی ذات وصفات کی طرف سے مخالفت ہوتو بہشت جیسے پاک مقام میں پہنچنا محال ہے۔جب اس دُنیا میں دل میں اللہ کی طرف بغاوت اور ناشکری ہوتو اُن لوگوں کی مجلس میں کیا خاک خوشی حاصل ہوسکتی ہے جو الہٰی محبت دل میں لیے اور دن رات الہٰی حمد وستائش میں مصروف رہتے اور کہتے ہیں کہ برہ جو ذبح ہوا لائق ہے (مکاشفہ 5: 12)۔اب ہوش میں آ اور قدیم زمانہ کے اُس اسرائیلی بزرگ کی بات پر کان لگا جس نے ایک وقت یوں کہا۔''نہ ہو کہ تمہارے درمیان کوئی مرد یا عورت یا گھرانہ یا فرقہ ایسا ہو کہ اُس کا دل آج خُداوند ہمارے خُدا سے برگشتہ ہو۔ نہ ہوکہ تمہارے درمیان ایسی جڑ ہو جو زہر کی کڑواہٹ کا ساپھل دے ۔ اور ایسا نہ ہو کہ جب وہ اس لغت کی باتیں سنے تو اپنے دل میں آپ کو مبارک جانے اور کہے کہ مَیں چین کروں گا اگرچہ اپنے دل کی سرکشی میں چلوں ۔۔۔۔خُداوند اُسے نہ چھوڑے گا بلکہ اُسی وقت اُس شخص پر خُداوند کے قہر اور غیرت کا دھواں اُٹھے گااور ساری لعنتیں جو اس کتاب میں لکھی ہوئی ہیں اُس پر پڑیں گی اور خُداوند اُس کے نام کو آسمان کے نیچے سے مٹا دے گا(استثنا 29: 18۔20)۔

سوم :۔ خُدا کا فضل اور رحم جو ہمارے خُداوند اور نجات دہندہ یسوع مسیح میں ظاہر ہوا ہے اسی تقاضا کرتا ہے کہ انسان فوراً اپنی بدی سے توبہ کرے کیونکہ جیسا مرقو م ہے اس مہربانی اور اس بخشش کا مقصد ومدعایہ ہے کہ گنہگار شرمندہ ہوکے توبہ کرے اور خُدا کی طرف رجوع کرے (رومیوں 2: 4)۔خواہ الہٰی حکومت کتنا ہی تقاضا کرے کہ انسان کو توبہ کرنا ضرور ہے یا خُداکا پاک عدل کتنا ہے کہے کہ عدول حکمی (حکم سے انکار)کا نتیجہ کیساخراب ہوگا ۔پر الہٰی مہربانی کچھ اور ہی دل پر اثر کرنے والی طاقتور تاثیر رکھتی ہے ۔جیسا کہ کسی شخص کا قول ہے ۔ محبت سے بڑھ کے مغلوب کرنے والی اور کوئی تاثیر نہیں ہے ۔ اس بات میں کچھ تعجب نہیں ہے کیونکہ سرد مہری ساری بدیوں اور بغاوتوں کی جڑھ ہے ۔اسی سے دل کی سختی اور دائمی بے پرواہی نکلتی ہے جو اللہ کی طرف ہوتی ہے۔ جب دل ایسا سرد ہوتو الہٰی محبت کے اظہار سے بڑھ کے اور کونسی شے اس بدی کو دور کرسکتی ہے ۔ یاد رکھو کہ محبت اس میں نہیں کہ ہم نے خُدا سے محبت رکھی بلکہ محبت اس میں ہے کہ اسی نے ہم سے محبت رکھی اور اپنے بیٹے کو بھیجا کہ ہمارے گناہوں کا کفار ہ ہو (1۔یوحنا 4: 5)۔اور وہ الہٰی محبت یوں ظاہر ہوئی کہ جب ہم گنہگار ٹھہرے تو مسیح ہمارے واسطے موا (رومیوں 5: 8)۔اور پھر اُس محبت کا اثر یوں ہوتا ہے کہ وہ جو زمین سے اوپر اُٹھایا گیا (مصلوب ہوا) وہ سب کو اپنے پاس کھینچ لاتا ہے (یعنی اپنی صلیبی محبت کی تاثیر سے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ) (یوحنا 12: 32۔33)۔کیسی عجیب طاقت قدرت تاثیر اور کشش اُس صلیب کی ہے جس پر جہان کا منجی خون بہا کے مرگیا۔ کتنے بار انہوں نے جو دل کے نہایت سخت اور کرخت تھے اُس صلیب پر نظر کی اور اُس کی تاثیر سے حیران ہوگئے اور عاجز اور تائب ہوکے ایمان کے وسیلہ اللہ کے نرم دل فرزند ہوگئے ۔انہوں نے اس پر نظر کی جس کو انہوں نے اپنے گناہوں سے چھیدا تھا۔ اور اُس الہٰی غم کی تلخی کو جس سے پچھتانا نہیں ہوتا اپنے دل پر اثر کرنے دیا (2۔کرنتھیوں 7: 10)۔اُس کی محبت نے جو گناہوں کے واسطے زخمی اور خطاؤں کے واسطے گھائل ہوا کیسے کیسے سخت دلوں کو پگھلا کے موم کرڈالا اور اُن میں جو خود سر تھے حقیقی غم اورعجز پیدا کردیا۔اور اُن کو بدل دیا۔ ایسے لوگوں نے اس تبدیلی کا اظہار اُن گناہوں کے بھرے ہوئے بے پرواہ اور بے دین لوگوں کے چلنوں سے بارہا ہوگیا۔ جو اُس صلیب کی تاثیر سے موثر ہوئے ۔انجیل کی جلالی فتح اس مُلک اور دیگر ممالک میں جہاں مصلوب منجی کی منادی ہوئی ایسے عجیب طور پر ہوئی کہ کتنے ہزار خُدا کے دشمنوں کے دل تبدیل ہوگئے اور وہ زندہ خُدا کی طرف پھرے ۔اور اُن بیشمار آسمانی گروہ کو خوشی کا نعرہ مارنے کا موقعہ دیا جو ایک گنہگار کے توبہ کرنے پر خوش ہوتے ہیں۔

چہارم :۔خُدا اُ س گنہگار کو جو توبہ کرکے اُس کی طرف پھرتا ہے نہایت فضل اور مہربانی سے قبول کرلیتا ہے ۔ چنانچہ حضرت یسعیاہ نبی کی معرفت اُس نے یوں فرمایا ہے کہ ''وہ جو شریر ہے اپنی راہ کو ترک کرے ۔ اور بدکردار اپنے خیالوں کو اور خُداوند کی طرف پھرے کہ وہ اُس پر رحمت کرے گا اور ہمارے خُداکی طرف کہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔ کیونکہ خُدا وند کہتا ہے کہ میرے خیال تمہارے سے خیال نہیں ہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔ جس قدر آسمان زمین سے اُسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے دور ہیں ''(یسعیاہ 55: 7۔9)۔اور خود ہمارے خُداوند اور جہان کے اکیلے اور سچے منجی یسوع مسیح نے کیا خوبی اور عمدگی کے ساتھ گم گشتہ فرزند کی تمثیل بیان فرمائی کہ کیوں کر وہ آوارہ اور بے راہ لڑکا اپنی زندگی اور دولت کو بدقماش اور بدراہی میں صرف کرکے ہوش میں آیا ۔اور کیوں کر آفتاب اُمید کی روشنی کی شعاع اُس کے ظلمت کے بھرے ہوئے دل پر پڑی ۔ اور اُس نے ارادہ کیا کہ نہایت عجز اور انکسار سے اپنے باپ کے قدموں پر گر کر معافی مانگوں گا اور اپنے خاندان میں ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ قبول کرنے کو بھی غنیمت جانوں گا۔ جب اس ارادہ سے گھر کو چلا تو ابھی دور ہی تھاکہ اُس کے باپ کو اُسے دیکھ کر رحم آیا اور دوڑ کے اُسے گلے لگایا ۔اور بہت چوما ۔ باپ نے نوکروں سے کہا کہ اچھی سے اچھی پوشاک نکالو اور اُسے پہناؤ ۔اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی ۔۔۔۔ اور آؤ ہم خوشی کریں کیونکہ یہ میرا بیٹا موا تھا اب جیا ہے کھویا گیا تھا اب ملاہے ۔ تب وہ سب خوشی کرنے لگے (لوقا 15: 11۔24)۔اس تمثیل میں گنہگاروں کے مہربان شفیع اورگم گشتہ لوگوں کے سچے منجی کی محبت نمایاں ہوتی ہے ۔ او ر اس میں کچھ بھی شبہ نہیں کہ جس محبت سے بھرے ہوئے دل دے یہ باتیں نکلیں وہ دل اب بھی ویسا ہی ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اب اُس کی مہربانی اور رحم سے اور بھی بہت اُمید ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ وہ ممتاز کیا گیا ہے نہ اس لیے کہ ہم لوگوں کو بھول جائے بلکہ اس لیے کہ لوگوں کو گناہوں سے توبہ اور خلاصی بخشے ۔مقابلہ کرو (متی 26: 28؛ لوقا 24: 47؛ اعمال 10: 43؛ عبرانیوں 9: 22)۔پس اے گنہگار جو روتا ہے اور اُس کے فضل کے تخت کے حضور کانپتا ہے ۔ ذرہ بھی شبہ نہ کر کہ وہ تجھ کو نکال دے گا (یوحنا 6: 37)'' وہ جو مجھ پاس آتا ہے مَیں اُسے ہرگز نکال نہ دوں گا''۔یہ اس کے الفاظ ہیں ۔کیا تو خیال کرسکتا ہے کہ ایسا مہربان شخص تیری توبہ کی قدر نہ کر ے گا۔ دلیر ہو اور توبہ کر دیکھ وہ خود فرماتا ہے کہ اے لوگوں جو تھکے اور بھاری بوجھ سے دبے ہو میرے پاس آؤ کہ مَیں تم کو آرام دوں گا(متی 11: 28)۔وہ جو ایسا عجیب ہے کہ بدی سے نفرت اور توبھی بدوں سے الفت کرتا ہے جس نے اُن کے واسطے اپنی جان دے دی اس لائق ہے اور اس سے خوش ہے کہ ''وہ انہیں جو اُس کے وسیلے خُدا کے حضور جاتے ہیں آخر تک بچا سکتا ہے کیونکہ اُن کی شفاعت کے لیے ہمیشہ زندہ ہے '' (عبرانیوں 7: 25)۔پس مناسب ہے کہ ہم اُس کے پروفا وعدوں پر بھروسہ کریں اور یقین کریں کہ ہم اُس کی درگاہ سے ہر گزنااُمید اور ناکا م واپس نہ آئیں گے۔


5 ۔بار ہا تجربہ ہوچکا ہے کہ جو کام زور ،طاقت، حکومت، ظلم اور اختیار سے نہیں نکلا وہ کام صرف محبت سے ہوا۔ زور، طاقت، حکومت ، ظلم اور اختیار جسم کو اور جسمانی چیزوں کو قابو کرسکتے ہیں۔ پر صرف محبت ہی دل کو جیت سکتی ہے۔ زور، طاقت، حکومت، ظلم اور اختیار صرف چند روزہ بیرونی غلبہ کرسکتے ہیں پر محبت دل کو مغلوب اور دائمی گرویدہ کرلیتی ہے کوئی ایسا بد شخص اس گناہ کی دُنیا میں نہیں ہے جس کے دل پر محبت اثر نہ کرسکے ۔ کوئی ایسا ہٹ دھر م اور خود رو نہیں ہے جسے محبت سیدھا نہ کر دے محبت غالب ہے محبت زور آور ہے۔محبت وہ پہلوان ہے جو لوگوں کو زور سے نہیں پر اپنے جمال سے فریفتہ کرلیتا ہے۔ محبت وہ خوشبو ہے کہ جس کا ہرا یک طالب ہوتا ہے ۔اگر محبت کے عوض محبت نہ ہو کہ بد دے بد بھی اُس سے نفرت کرتا ہے۔ غرض کہ محبت ساری سختی اور سرد مہری کو دور کر دیتی ہے ۔ الہٰی انتظا م عجیب ہے ۔

ایم حنیف

پنجم :۔ سچی توبہ اور نجات کا ایسا علاقہ ہے کہ نجات توبہ بغیر ہوہی نہیں سکتی ۔ یہ نہیں کہ توبہ گناہوں کا کفارہ ہوسکتی ہے یا اس میں کوئی ایسی ذاتی خوبی یا قدر ہے کہ گنہگار کی واسطے عذر یا شفاعت یا کفارہ کا کام کرسکے اس قسم کے خیالات توبہ کی ماہیت اور گنہگار کی حالت کی ناواقفی سے ہوا کرتے ہیں۔ گناہوں سے توبہ کرنا ایک بات ہے اور گنہگار کا بخشا جانا دوسری بات ہے ۔ یا دوسرے الفاظ میں یوں سہی کہ بدی سے واقف ہونا اور اُس کو چھوڑنے کا ارادہ اور وعدہ کرتا ایک جُدا شے ہے اور بدیوں کی سزا سے مخلصی پانا جُدا شے ۔ان میں سے ایک کا علاقہ ہمارے چلن سے ہوتا ہے اور دوسرے کا تعلق ہماری حالت سے ۔ ایک کا رشتہ اس امر سے ہے کہ انسان آیندہ زندگی کو کیوں کر کاٹے گا۔ دوسرے کا علاقہ اُس کی ابدیت اورعقبیٰ کی خوش حالی کے ساتھ ہے۔ نجات اور توبہ دو بالکل غیر جنس اور جُدا جُدا چیزیں ہیں اور نوعیت یا جنسیّت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل جدا اور علیحدہ ہیں ۔ پر ان میں ایک الہٰی علاقہ ہے ۔ یعنی یہ کہ حقیقی توبہ ہمیشہ نجات کو حاصل کراتی ہے۔ حقیقی توبہ کے ساتھ موجودہ حالت میں گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے اور آیندہ جہان میں ابدی خوشحالی اور خُدا کے دیدار کا ۔نہ اس لیے کہ توبہ بذاتہٰ اپنے میں نجات کے حصول کی قدر یا قیمت یا خاصیت رکھتی ہے پر اس لیے کہ یہ گنہگار کو تیار کرتی ہے کہ دل کھول کے خُدا کے فضل کو اپنے میں تاثیر کرنے دے ۔ اُن پر تسلی اور پر خوشی احکام میں سے جو ہمارے خُداوند یسوع نے اپنی قیامت کے بعد اپنے حواریوں کو دئیے یہ علاقہ ایسے طورپر بیان کیا گیا ہے کہ اُس سے تعجب انگیز دلیری پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ آسمان پر صعود کرنے سے ذرہ پہلے اُس نے یوں کہا کہ توبہ اور گناہوں کی معافی کی منادی ساری قوموں میں یروشلیم سے شروع کرکے میرے نام سے کرو (لوقا 24: 27)۔اور حضرت پطرس حواری نے بھی خُداوند کے کلام کے موافق پنتکوست کے دن اس سوال کے جواب میں کہ ہم کیا کریں یوں فرمایاکہ توبہ کرو اور تم میں سے ہر ایک گناہوں کی معافی کے لیے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے تو روح القدس کاانعام پاؤ گے اس لیے کہ یہ وعدے تم سے اور تمہاری اولاد سے ہیں اوراُن سب سے جو دور ہیں جتنوں کو ہمارا خُداوند خُدا بلائے (اعمال 2: 38۔ 39)۔اور پھر ایک اور موقعہ پر یوں کہا کہ '' توبہ کرو اور متوجہ ہوکہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں ''(اعمال 3: 19)۔


6۔بعض اشخاص الہٰی فضل ،رحم اور محبت پر اتنا تکیہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ میں ان کو محبت اور فضل کے سوائے اور کوئی صفت ہی نظر نہیں آتی ۔ایسے لوگ نہ تو گناہ کی اصلیت نہ اُس کی بدی سے واقف ہوتے ہیں اور جب ضمیر اُن کو کہتی ہے کہ تو سزا کے لائق ہے اور ضرور خُدا تجھ کو سزا دے گا تو وہ اُسے یوں کہہ کے خاموش کردیتے ہیں کہ واہ اللہ تو مہربان اور رحیم ہے اور بخشش کرنا صدا اُس کا خاصہ ہے۔ جب ہم توبہ کریں گے تو وہ ہمارے سارے گناہوں کو بخش دے گا اور ہم کو قبول کرلے گا۔ دو قسم کے خیال ہیں اور وہ دونوں ناقص ہیں ایک تو یہ کہ خُدا ایسا عادل ہے کہ ناممکن ہے کہ وہ کسی گنہگار کو بخشے یا بخش سکے۔ گویا خُدا میں مہر ، محبت اور فضل کی صفت ہی نہیں ۔ اور یہ غلط ہے ۔کیونکہ جب ہم لوگوں میں جو خاکی اور ناپاک ہیں اور خاکی اور ناپاک دُنیا میں رہتے ہیں اس قسم کی عمدہ اوردل پسند صفتیں ہوتی ہیں اور اگر کسی میں موجود نہ ہوں تو وہ مکروہ خیال کیا جاتا ہے تو کیونکر ہوسکتا ہے کہ خُدا جو ساری خوبیوں اور فضیلتوں کا چشمہ ہے۔ان سے خالی ہو۔ بلکہ وہ تو لامحدود ہے اور ضرور ہے کہ اُس میں یہ صفات بھی لامحدود طور پر موجود ہوں ۔ دوسرا غلط خیال وہی ہے جو ہم نے اوپر مذکور کیا یعنی خُدا کی محبت اور مہربانی پر اتنا بھروسہ کرنا کہ اُس میں غضب عدل اور قدوسیت کی صفات کو نہ دیکھنا ۔اوّل قسم کے لوگ تو توبہ کو ہیچ سمجھتے ہیں اور دوسری قسم کے توبہ کو ہی سب کچھ خیال کرتے ہیں۔ صداقت اوسط میں ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ خُدا عادل اور قدوس ہے اور ضرور ہے کہ گناہ کی سزا دے پر ویسا ہی اور بھی سچ اور عین صداقت ہے کہ وہ مہربا ن اور رحیم ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ بدی کی سزا دی جائے اور یہ بھی سچ ہے کہ توبہ بالکل ضروری اور مفید ہے ۔ یہ نہیں کہ توبہ گناہوں کی معافی یا بخشش حاصل کرا سکتی ہے بلکہ یہ کہ توبہ ایک وعدہ اور حالت ہے جو گنہگار اپنی بدی کو دیکھ کے اور بالخصوص اُس سے ڈرکے خُدا کے ساتھ کرتا ہے اور اُس میں رہتا ہے ۔ یعنی یہ کہ گنہگار وعدہ کرتا ہے کہ آیندہ زندگی کو خُداترسی اور پاکیزگی میں بسر کرے گا اور پچھلی بدیوں کے واسطے بے عذر کھڑا ہوکے کہتا ہے کہ مَیں بالکل جہنم کے لائق اور اُس کا مستحق ہوں اور ساتھ ہی الہٰی فضل کی طرف دیکھتا اور دل میں اُمید کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی طریقہ سے میری بخشش کروائے گا۔ اور جب وہ مقررہ طریقہ اُسے معلوم ہوجائے تو فوراً اُسے قبول کرنا ہے ۔ اور نجات پاتا ہے ۔ غرض کہ توبہ نجات کی علت نہیں ۔ بلکہ اُس کے لیے ضرور ہے۔ نجات توبہ سے نہیں ہوتی نہ توبہ نجات پیدا کرسکتی ہے پر اگر کوئی خالص دل سے توبہ نہ کرے تو نجات پا نہیں سکتا۔

ایم حنیف

پس اس میں کچھ کلام نہیں کہ ہر ایک گنہگار جو سچی توبہ کرتا ہے خُدا کا فضل حاصل کرتا ہے اور اُس فضل کے سبب اُس کے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خطائیں ڈھانپی جاتی ہیں۔ اور وہ ایسا ہوجاتاہے کہ خُدا اُس کے گناہوں کو حساب میں نہیں لاتا (زبور 32: 1)۔ایسا شخص ابدی اور دائمی خوشحالی کو حاصل کرتا ہے اور ہلاکت اورسزا سے گزر کے زندگی کو پہنچتا ہے اور اُس دُنیا میں داخل ہونے کی اُمید کرسکتا ہے جہاں پوری خوشی کی معموری ہے جہاں دائمی خوشیوں کی سیر ی اور ابدی عشرتیں ہیں (زبور 16: 11)۔

پس اے گنہگار مَیں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس مبارک حالت کی کشش تیرے دل میں بھی ہوتی ہے کیا کوئی اور حالت اس سے بہتر ہوسکتی ہے اس گنہگار کی حالت پر صد افسوس جسے معافی کی اُمید ہی نہ ہو اورجس کی حالت ابد آلاباد تک بد اور خراب ہو گی ۔

پر سوال ہوسکتا ہے کہ آیا کوئی ایسی حالت بھی ہے جس میں تو بہ کا علاقہ نجات کے ساتھ نہ ہو۔ ہم اس کا جواب کامل یقین کے ساتھ دیتے ہیں کہ کوئی ایسی حالت نہیں ۔بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس گناہ کو ناقابل عفو گناہ کہتے وہ بھی اس قبیلہ سے جُدا نہیں ہے ۔ چنانچہ منصف حقیقی اُن لوگوں کی نسبت جو معافی سے علیحدہ کئے گئے ہیں یوں فرماتا ہے کہ اُن کو پھر سرنو کھڑا کرنا کہ توبہ کریں ناممکن ہے (عبرانیوں 6: 6)۔یعنی ایسی اشخاص کا توبہ کرنا اور پھر سرنوکھڑا ہونا ناممکن ہے یہ نہیں کہ اگر وہ توبہ بھی کریں تو اُن کو کچھ حاصل نہ ہوگا بلکہ یہ کہ وہ توبہ کرنہیں سکتے ۔ ایسے لوگوں کی خطر ناک حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے دل کی سختی اور ہٹ سے ایسے مردہ ہوجاتے ہیں کہ خُدا کا انصاف اُن کو اُن کی حالت میں چھوڑ دیتا ہے چنانچہ وہ توبہ کرنہیں سکتے ۔ پر اگر کسی صورت سے یہ ممکن ہوتا کہ وہ سچے دل سے توبہ کر سکتے تو کچھ بھی شبہ نہیں کہ وہ توبہ گناہوں کی معافی حاصل کرانے کا ضرور وسیلہ ہوتی ۔ پس اس خیال سے بڑی دلیری ہوتی ہے کہ جو علاقہ خُدا کے فضل نے توبہ اور نجات میں مقرر کیا ہے وہ ایسا باہمی ہے کہ خالص توبہ سے ضرور نجات کی اُمید ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس بات کو اپنی زندگی اور اپنی روش سے ظاہر کرے کہ اُس نےدل سے توبہ کی ہے تو بے روک ٹوک وہ یہ اُمید رکھ سکتا ہے کہ وہ خُدا کے فضل سے نجات کا وارث ہے۔ اور ابد تک نجات میں رہے گا۔

ششم :۔ یہ بھی یاد رہے کہ خُدا ہمیشہ اُس فضل کو دینے کے واسطے تیار رہتا ہے جو توبہ پیدا کرنے کے واسطے ضروری ہے۔

شاید کوئی کہے گا کہ ''مَیں اس بات کو مان لیتا ہوں کہ توبہ کرنا ہر ایک کے واسطے ضرور ہے ۔مَیں تسلیم کرتا ہوں کہ اپنے دل کی سختی اور اندھلاپن میں رہنے سے مَیں دن بدن زیادہ گنہگار ہوتا جاتا ہوں لیکن کیونکر مَیں وہ توبہ کروں جس سے پچھتانا نہیں ہوتا۔ راقم الحروف نے جو کہا ہے وہ تو بالکل سچ اورقابل تسلیم ہے کہ انسان کی ذات خراب ہوگئی ہے اور کہ نا تائب گنہگار اپنے دل کی سختی اورخُدا کے غضب میں رہتا ہے پر مَیں پوچھتا ہوں کہ کیوں کر وہ اس حالت میں توبہ کر سکتا ہے ۔ہم اس کے جواب میں خوشی سے یہ کہتے ہیں کہ ''خُداوند یسوع مسیح جو ہمارے گناہوں کے عوض مارا گیا اور ہم کو راستباز ٹھہرانے کے واسطے مردوں میں سے جی اُٹھا۔ اُسی کو خُدا نے مالک اور نجات دینے والا ٹھہرا کے اپنے دہنے ہاتھ پر بلند کیا تاکہ لوگوں کو توبہ اور گناہوں کی معافی بخشے (اعمال 5: 31)۔ یہ اُس کا کام ہے کہ تم کو تمہاری موجودہ حالت میں خواہ کیسی ہی خراب کیوں نہ ہو۔ اپنی پاک روح دے جس کی تاثیر تمہارے دلوں کو گناہ سے پورا قابل کرکے ان میں عجز اور گناہوں کی نفرت پیدا کرے زمانہ سلف (بزرگوں کا دور )میں بھی اُس نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ تائب گنہگاروں کو وہ نئے دل اور نئی روح بخشے گا۔دیکھو (حزقی ایل11: 19؛ زکریاہ 12 باب)۔پس اگر کسی نے اپنی خرابی اور دل کی بدی کو دیکھ لیا ہے اور اُس پر گریہ اور تاسف کرتا ہے تو مناسب ہے کہ خُد کے ان وعدوں کو لے کے اُس کے فضل کے تخت کے حضور جائے اور اُس سے کہے کہ وہ اُس کے دل کو بدل دے گا اُس سے دُعا مانگے جس کا خاصہ اجابت(مقبولیت ) اور بخشش ہے۔اور اُس کے سامنے اپنی حالت بیان کرے جو ہمدرد اور مہربان ہے اور جس نے کبھی کوئی لغو بات نہیں کہی اور جو فرماتا ہے کہ مانگوتو تم کو ملے گا ۔ڈھونڈو تو تم پاؤگے ۔ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا ۔ اگر تم بُرے ہو کے اپنی اولاد کو اچھی چیز یں دینا جانتے ہو تو کتنا زیادہ وہ جو تمہارا آسمانی باپ ہے اُن کو جو اُس سے مانگتے ہیں ۔ روح القدس دے گا(متی 7: 7۔12)۔

ہفتم :۔ گنہگار کا توبہ کرنا زمین پر بھی اور آسمان پر بھی خوشی کا باعث ہوتا ہے ۔ مسیحی یاروں ،مسیحی والدین اور مسیحی خادم الدینوں کے لیے بڑی شکرگزاری اور خوشی کا موقعہ ہوتا ہے جب اُن میں سے ایک روح جس کو وہ پیار کرتے ہیں خالص توبہ کے نشان ظاہر کرتی ہے۔ وہ خوشی کرتے ہیں کہ اُن کی کوشش کے ساتھ الہٰی مدد ہوئی ۔ کیونکہ اُنہوں نے تو صرف ظاہری کانوں کو فضل کی بات سُنائی تھی پر الہٰی روح نے سامعین کے دلوں کو کھول دیا اُن کے مزاج بدل دئیے اُن کی عقل کو زندگی بخش روشنی دی اور اُن کی روحوں میں محبت کی آگ بھڑ کائی ۔ ہاں وہ خوب خوشی کرتے ہیں اس لیے کہ ایک روح گمراہی سے نکل کے موت اور ہلاکت سے بچی اور اُس کے بے شمار گناہوں کی معافی ہوئی ۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ خوشیاں صرف ہمارے لواحقین یا ہمارے چھوٹ سے کرہ ارض پر ہی ختم نہیں ہوجاتی ہیں ۔ایک گنہگار کی توبہ کی خبر (خواہ وہ بنی نوع انسان میں سے کیسا ہی ذلیل اور خوار کیوں نہ ہو)اتنا قدر رکھتی ہے کہ عالم بالا پر پہنچائی جاتی ہے اور آسمانی مکانوں میں مژدہ (بشارت)روح افزا شمار کی جایت ہے ۔اور فرشتوں اور خُدا کے مقربین سے خوشی اورحمد کے نعرہ نکلواتی ہے۔ جیسا کہ عالم بالا کا خُداوند خود ہم کو یقین دلاتا ہے کہ ''خُدا کے فرشتوں کے آگے ایک گنہگار کے واسطے جو توبہ کرتا ہے خوشی ہوتی ہے (لوقا 15: 10)۔یہ جلالی مخلوق غیرفانی روح اور اُس کی ابدی خوشیوں سے واقف ہیں ۔ پس تعجب نہیں کہ آسمان ایک گنہگار کی توبہ کرنے پر نعرہ ہالیلویاہ وحمد اللہ سے گونج جائے۔ اگر ہم فرشتوں کی خوشی کا کچھ تخمینہ کرسکیں تو شاید ہم کچھ خیال کرسکیں گے کہ خود اُس کی خوشی کی کیا حد ہوگی جو صرف گم گشتہ لوگوں کے بچانے کو آسمان سے زمین پر آیا (لوقا 19: 10)۔اُس نے جو خود کو اچھا چرواہا کہتا ہے اور جس نے اپنی جان اپنی بھیڑوں کے واسطے دے دی اپنی روح کے وسیلے حضرت لوقا سے الہٰی محبت کے نمونہ والی تمثیل بے تمثال لکھائیں جسے کھوئی ہوئی بھیڑ کی تمثیل کہتے ہیں(لوقا 15: 3۔7)۔اور گم شدہ درم کی تمثیل (لوقا 15: 8۔10)۔ اور گم شدہ فرزند کی تمثیل (لوقا 15: 11۔32)۔ان تمثیلوں کو غور سے پڑھو اور اُن کی اپنی طرف منسو ب کرو تو تم دیکھو گے کہ تمہارے دل محبت سے بھڑک جائیں گے اور خصوصاً اس خیال سے کہ خُدا کا بیٹا جو آسمان زمین موجودات اور کائنات اور سب چیزوں کا مالک ہے ایک گنہگار کی توبہ پر کس قدر خوشی ظاہر کرتا ہے ۔ پس اُس کے دل میں کیسی محبت ہوگی اور اُس کی نظر میں انسانی روح کی کیسی قیمت ہوگی ۔ اس بات کے خیال سے کیسی تعلیم اور کیسی تسلی حاصل ہوتی ہے کہ خُود خُداوند ہماری پرواہ کرتا ہے ۔ پس مَیں پوچھتا ہوں کہ اے گنہگار کہ اے گنہگار کیا تو اب بھی توبہ کئے بغیر رہ سکتا ہے ۔کیا اب بھی تو اُس تبدیلی کے بغیر رہ سکتا ہے جس پر نہ صر ف تیری ابدی خوشی کا مدار ہے بلکہ جس سے خُداوند تعالیٰ کو خوشی کا موقعہ ملتا ہے بلاشبہ مسیح ممتاز شدہ تجھے توبہ کرنے کا فضل عطا کرنے کو تیار ہے بشرط یہ کہ تو اُس سے فضل کے حصول کی درخواست کرے ،خیال مت کر کہ اگر تو تو بہ نہ کرے تو کبھی قبول ہوسکے گا ۔ جدھر چاہے نظر ڈال اور دیکھ کہ مقبولیت کا پہلا نام توبہ ہے کہ نہیں ۔ اور توبہ کا حکم دینے میں خُداوند کیسی محبت ظاہر کرتا ہے ۔ اور کیسا خوش ہوت ہے جس طرح طفل خورد سال کی خوشی پورے آدمی کی خوشی سے کم ہوتی ہے اسی طرح انسان کی خوشی فرشتوں کی خوشی سے کم ہوتی ہے پس اُس کی خوشی جو خود خُداوند ہے کیسی بے حد ہوگی اگر تو توبہ کرکے اُس کی بغاوت کو چھوڑ دے اوراُس فرمانبرداری اور حکومت کو قبول کرے ۔

مزید برآں یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ جو اب آسمان پر ایک گنہگار کے توبہ کرنے پر اس قدر خوشی کرتا ہے جب زمین پر تھا تو نا تائب گنہگار وں کی حالت پر کیسے غم سے روتا تھا۔ یروشلیم کا گناہ اور لاپرواہی دیکھے گا وہ کیسے رویا تھا ۔ نہ اس لیے کہ وہ مقام لاثانی دکھ اور مصیبت کا نظارہ بننے کو تھا نہ اس لیے کہ خود اُس پر اُس جگہ میں بڑا جان کاصدمہ پہنچنے کو تھا بلکہ اس لیے کہ سدوم وعمورہ کی طرح یروشلیم بھی اپنی ناتائب حالت میں رہنے سے الہٰی غضب اور قہر کا مدعا بننے کو تھا ۔ نوح کی قوم کو توبہ کی مہلت ملی تھی پر انہوں نے توبہ نہ کی اور خُدا کا غضب اُ س پر آ پڑا۔ یونس کی قوم کو توبہ کی مہلت دی گئی ۔ اُس نے توبہ کی اور غضب کو ٹال دیا۔ یروشلیم نے اپنی بلاہٹ کے وقت میں نظر نہ کی اور خاک اور راکھ میں بیٹھ کے توبہ نہ کی چنانچہ اسی سبب اُس کی بربادی ہوئی ۔ جس بربادی کو ہمارا خُدا وند یسوع پہلے سے دیکھ کے کیسی دلی محبت اور غم سے آنسو بہا کے رویا اور بولا ۔کاش کہ تو اپنے اسی دن میں اُن باتوں کو جو تیری سلامتی کی ہیں جانتا پر اب وہ تیری آنکھوں سے چھپی ہیں(لوقا 19: 41)۔جن آنکھوں نے یروشلیم پر یہ آنسو بہائے وہ اب بھی انسانی بدی اور آئندہ عذاب کو دیکھ سکتی ہیں اور موت اور انصاف دوزخ اور بہشت کی تہ تک نظر مار سکتی ہیں۔

پس مناسب ہے کہ ہم اپنے آپ کو ویسا ہی دیکھیں جیسا کہ خُداوند ہم کو دیکھتا ہے اور خیال نہ کریں کہ اگر ہم بے توبہ زندگی بسر کریں گے تو اپنے لیے اس دن کے واسطے جس میں قہر اور خُدا کی عدالت حق ظاہر ہوگی اپنے واسطے الہٰی غضب جمع نہیں کررہے ہیں(رومیوں 2: 5)۔خُدا کے فضل رحمت اور مہربانی کی جو کوئی حقارت کرتا ہے وہ اپنے لیے قہر غضب اور دوزخ کے شعلے بھڑکاتا ہے ۔ اے گنہگار جو اپنی گنہگاری سے منہ نہیں موڑتا کان کرکے سن کہ جس نے یہ آنسو یروشلیم پر نظر کرکے بہائے اُس نے اپنا بیش قیمت لہو بھی تیرے واسطے بہایا کہ تیرے گناہوں کی معافی ہوجائے کیا تو ایسے خُداوند کو رولاناپسند کرتا ہے جس نے اپنی جان کو بھی تیری خاطر دے دیا ۔پس ابھی فیصلہ کر کہ تو کس گروہ میں ہوگا۔ اُس میں جن پر خُداوند روتا ہے یا اُس میں جن پر وہ خوش ہوتا ہے ۔

پرشاید کوئی کہے گا کہ گو ناتائب گنہگار رہنا حقیقت میں بڑی خطرناک بات ہے پر تو بھی مَیں کبھی نہ کبھی توبہ کرلوں گا ۔بعض شخص بعض وقت توبہ کرنے کا اراشہ بھی کرلیتے ہیں پر کہتے ہیں کہ ابھی بہت وقت ہے۔ ذرہ گناہ کی لذت اور لے لیں۔جب موت نزدیک ہوگی تو خالص توبہ کرلیں گے ۔مَیں ایسوں سے کہتا ہوں کہ یہ باطل خیال دل سے نکال دینا چاہیے ۔بستر مرگ پر اپنی زندگی کے سب سے ضروری کام کے واسطے سب سے عمدہ موقعہ ڈھونڈھنا اور اپنی حقیقی اور ابدی آسائش کو ایسے نازک وقت پر رکھ چھوڑنا بڑی حماقت اور خطرہ کی بات ہے ۔کسے معلوم ہے کہ تمہاری موت مرگ مفاجات اور اچانک نہ ہوگی ۔ ایسا کہ تم کو ایک لمحہ کی بھی خبر نہ ملے ۔کون کہہ سکتا ہے کہ قوائے ممیزہ اور متخیلہ (تمیز اور خیال کرنے کی قوت) اُس وقت ایسے کمزور اورضعیف نہ ہوجائیں گے کہ اپنا کام نہ کرسکیں ۔ کون بتا سکتا ہے کہ تمہارے جسم کا دُکھ جانکنی کی حالت میں ایسا بھاری اور تلخ نہ ہوگا کہ تم اسی سبب کسی اور امر کو سوچ بھی نہ سکو گے ۔کسے معلوم ہے کہ جانکنی کی تکلیف کے وقت تمہارے ضمیر کی ملامت ایسی سخت نہ ہوگی کہ موت تم کو بہت کریہ منظر اور ہیبت ناک معلوم نہ ہوگی ۔ ایسا کہ اُس کے ڈر سے تمہاری ہوش وخرد جاتی رہے گی ۔ پس خود ہی خیال کرو کہ ایسے نازک وقت پر اپنی ابدیت کو موقوف اور اپنی ابدی آسائشوں اور خوشیوں کو (یا ایک لفظ میں یوں سہی کہ اپنی ابدی نجات کو )منحصر کرنا کیا عقل مندوں کاکام ہے۔ ہزار ہا واقعات اور تاریخی حالات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ بہت سے اشخاص نے چاہا کہ موت کے وقت توبہ کریں پر توبہ نہ کرسکے ۔

پس مَیں گنہگاروں سے منت کرتا ہوں کہ وہ اپنی جان پر ترس کھائیں اور توبہ کرنے میں ایک لمحہ کی دیر بھی نہ لگائیں موت کی سختی اور جانکنی کے عذاب کو اور اُس ابدی اور لازوال دُکھ اورتکلیف کو جس میں موت کے بعد ناتائب گنہگار پڑیں گے میں یاد دلاتا ہوں اور منت کرتا ہوں کہ وہ آیندہ کے واسطے بے پرواہ نہ رہیں بلکہ توبہ کرکے اُس نجات دہندہ کے پاس جائیں جو ہاتھ پھیلاکے منتظر ہے کہ اُن کو قبول کرے جس کا نام گنہگاروں کا دوست ہے۔ اور جو کہتا ہے کہ اُن کو جو مجھ پاس آتے ہیں مَیں ہرگز ہرگز نکال نہ دوں گا۔


7۔یہ دُنیا آیندہ زندگی کے واسطے ایک مدرسہ ہے ۔جیسی تربیت یہاں ہوتی ہے ویسی ہی حالت وہاں ہوگی ۔ اگر اس زندگی میں کوئی شخص قربت خُدا کے لائق ہوجائے تو ہوجائے ورنہ موت کے بعد اُسے حاصل کرنا ممکن نہیں ہے ۔گنہگار اگر ایسی زندگی میں توبہ کرکے بدل جائے تو بدل جائے موت کے بعد اس کا امکان نہ ہوگا۔اگر اسی زندگی میں بہشتی مزاج اور فرشتوں کی مجالست کی لیاقت حاصل ہوتو پھر ممکن نہیں۔ غرض یہ کہ جو کچھ انسان کو بننا ہو وہ اسی زندگی میں بنے ۔ موت کے بعد تبدیلی نہیں۔

ایم حنیف


فصل سوم

ایمان کی ماہیت

ایمان اور توبہ کا ایسا قریبی اور باہمی علاقہ ہے کہ اُن کے حدود اور تاثیرات کا درستی کے ساتھ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ علی ہذاالقیاس یہ فیصلہ کرنا بھی دشوار ہے کہ آیا توبہ پہلے ہوتی ہے کہ ایمان ۔پر حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسے باہم ملے جلے اور وابستہ ہوتے ہیں کہ اُن کی تاثیرات کو ایک دوسرے سے جدا کرکے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ان کا علاقہ اکثر ایسا ہوتا ہے جسے سبب ونتیجہ کا علاقہ کہتے ہیں ۔ یعنی بعض امور میں تو بہ ایمان کاسبب ہوتی ہے اور بعض میں نتیجہ ۔ویسے ہی بعض امور میں ایمان توبہ کا سبب ہوتا ہے بعض میں نتیجہ مثلا ضرور ہے کہ توبہ کا سب سے پہلا خیال پیدا ہونے سے پہلے دل ایمانی صداقتوں میں سے بعض بعض کو قبول کرے ورنہ اُس تبدیلی کا جو توبہ سے دل میں پیدا ہوتی ہے کوئی اور ظاہری یا قابل تسلیم سبب نہیں معلوم ہوسکتا ۔پھر توبہ کی مختلف اور ترقی کندہ تاثیرات سے دل تیار ہوتا جاتا ہے کہ زیادہ زیادہ ان صداقتوں کو قبول کرے جنہیں وہ پہلے لاحاصل اور بے ہودہ سا سمجھ کے چھوڑے ہوئے تھا۔ چنانچہ یہ عاجز کرنے والا خیال کہ خُدا کی بغاوت میں رہنا نہ صرف گناہ بلکہ خطرہ کی بات ہے ۔ انسان کے دل کو اُس صلح کے مسئلہ کی قبولیت کی طرف رجوع کرتا ہے جو خُداوند یسوع کی تصلیب سے نکلتا ہے ۔ اس صورت میں گویا یوں کہہ سکتے ہیں کہ توبہ سبب اور ایمان نتیجہ ہے۔ پر توبہ کرنے سے پہلے ضرور ہوتا ہے خُدا کی ذات اوربعض صفات اور اُس کے کلام کی بعض صداقتوں کو پہلے سے دل مانے ہوا ہو مثلاً یہ مانے کہ خُدا ہے اور وہ فلاں فلاں صفات حمیدہ سے محمود ہے۔ جب تک یہ خیال نہ ہو تب تک توبہ ہو نہیں سکتی اور اس صورت سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایمان علت(وجہ ، سبب) ہے اور توبہ معلول (نتیجہ ، پھل) ۔غرض کہ ایک قسم کا ایمان جو توبہ سے ہوتا ہے ہم کو مجبور کرتا ہے کہ اپنے گناہوں سے نہ صرف نادم ہوں بلکہ نہایت عجزو خاکساری سے اُن پر روئیں اور گریہ کریں اور گویا خاک اور راکھ میں بیٹھ کے اُن کی معافی کی درخواست کریں۔

جس مضمون کا ذکر اب ہم کرتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ بھاری اور مفید مضمون ہے پر اگر کوئی شخص اس کو کم درجہ کی بات سمجھے تومَیں منت کرتا ہوں کہ وہ اس فقرہ پر غور کرے جو خُدائے مجسم کی زبان سے نکلا کہ ''جو خُدا کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہیں ہے لیکن جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اُس کے واسطے سزا کا حکم ہوچکا کیونکہ وہ خُدا کے بیٹے کے نام پر ایمان نہیں لایا''(یوحنا 3: 18)۔

ایمان میں دو طرح کی خاصتیں ہوتی ہیں ۔اول وہ علاقہ جو ایمان نجات کے ساتھ رکھتا ہے ۔ دوسرا وہ تاثیرات جو ایمان مومنوں کے دلوں میں پیداکرتا ہے۔

اوّل واضح ہو کہ سب سے پہلے یہ جاننا ضرور ہے کہ ایمان کے کیا معنی ہیں اور کلام اللہ میں اس سے کیا مفہوم ہوتا ہے۔ اور دوسری بات یہ چاہیے کہ چند ایسے اصول قائم کئے جائیں جن سے ایمان کے بارے میں غلطی نہ ہو۔ تیسرے یہ کہ ایمان کس پر ہونا چاہیے۔

اوّلا:۔ ایمان کے درست اور کلام اللہ کے موافق معنی سمجھنا ۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ لفظ ایمان کو بہت ذلیل معنی میں استعمال کرتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ فیلسوفانہ اور عالمانہ مباحثوں نے بجائے اس کے ایمان کے معنوں کی جلااور ثقل (بوجھ ) کرتے اسے اور بھی زیادہ مخلوط اورغیر مفہوم اور گڑھ بڑھ کر ڈالا ہے۔ پر خُدا کے کلام میں جو مفہوم لفظ ایمان سے ہوتا ہے اس کا سمجھنا ذرہ بھی مشکل نہیں ہے۔ کلام الہٰی کے الفاظ کا درستی سے سمجھنے کا ایک عام قاعدہ یہ ہے کہ جب خُدا کے کلام میں ملہم اشخاص اُن لفظوں کو استعمال کرتے ہیں جو عام لوگوں میں مستعمل ہوتا ہے تو اُس سے وہی مفہوم ہوتا ہے جو اُس زمانہ کے لوگوں کے عام معنوں سے حاصل ہوتا ہے اگر اُن کے اس خاص لفظ سے کوئی خاص معنی یا مراد مقصود ہوں تو علی العموم ایسا ہوتا ہے کہ اُس کی خاص طور پر تشریح ہوتی ہے ۔ چنانچہ اگر ملہم اشخاص سب کے سب بالا تفاق خیال کرلیں کہ جو الفاظ وہ استعمال کرتے ہیں اُس کے وہ معنی ہیں جو عام لوگ بغیر کسی مشکل یا مغالطہ کے سمجھ لیں گے تو وہ اُس کی تشریح نہیں کرتے ۔ پس اُس لفظ کے وہی معنی ہوتے ہیں جو اُس کے معنی رسولوں کے زمانہ میں تھے ۔یہ قاعدہ لفظ ایمان پر بھی لگتا ہے۔ پاک نوشتوں کے تحریر کرنے والے مسئلہ ایمان یہ سب مسائل سے زیادہ زور دیتے ہیں اور علی التواتر بڑی تاکید سے اُس کو سامعین کے دلوں پر نقش کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خُداوند یسوع پر ایمان لاؤ۔ اس پر بھی جائے غور ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو کبھی بھی یہ خیال نہیں ہوا کہ عوام الناس اُن کی مراد یا معنی نہ سمجھیں گے ۔ بلکہ ایسا صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے استعمال کرتے ہوئے اُن کا یہ خیال تھا کہ جمہور اُسے بغیر کسی روک یا مشکل کے آسانی سے سمجھ لیں گے ۔


8۔مثلاً بعض صاحب کہتے ہیں کہ ہم مسیح پر اور تمام انبیائے سلف پر ایمان لاتے ہیں، حالانکہ ان انبیائے سلف میں سے اکثروں کا حال تو کیا نام تک بھی نہیں جانتے ۔معلوم نہیں کہ کیوں کر اُس پر جس کانام تک معلوم نہ ہو اور جس کی صفات وغیرہ کا بھی علم نہ ہو ایمان ہوسکتا ہے۔مان لینا اُس کا جسے ہم نہیں جانتے ایک ایسا امر ہے جیسا بچوں کی کہانی وہ لوگ جو مسیح خُداوند کی ذات اور کام کو نہیں مانتے معلوم نہیں کہ کیوں کر جرات کرکے کہہ سکتے ہیں کہ ہم مسیح پر ایمان لاتے ہیں ۔

ایم حنیف

واضح ہوکہ جو لفظ کتب الہٰامی کے تحریر کرنے والے ایمان اور یقین کے واسطے استعمال کرتے ہیں اُس میں یاتو اُس کلام سے جو وہ کہتے تھے علاقہ ہوتا تھا یا اُس شخص کی ذات اور حقوق سے جس کی طرف سے وہ کلام کرتے تھے ۔جسے دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ لوگ کہتے تھے کہ ایمان لاؤیا یقین کرو تو یہ ایمان یا یقین اُس بات سے علاقہ رکھتا تھا جسے وہ کہتے تھے یا اُس شخص کی طرف منسو ب ہوتا تھا جس کی طرف سے وہ کلام نازل ہوتا تھا۔ مثلاً جب وہ کہتے تھے کہ اس بات پر یقین کرو یا ایمان لاؤ۔ تو اُن کی مراد یہ ہوتی تھی کہ یہ یقین کر لو کہ جو کچھ اس بات یا کلام سے مفہوم ہوتا ہے وہ فی الحقیقت راست اور درست او ر قابل تسلیم ہے۔ اور جب وہ کہتے ہیں کہ خُدا پر ایمان لاؤ تو اُن کی مرادیہ ہوتی تھی کہ یقین کرو کہ خُدا ویسا ہی ہے جیسا اُس نے خود اپنے کلام یا مکاشفہ سے ظاہر فرمایا ہے۔ چنانچہ جب ایمان لانا کسی امر پر ہوتا ہے جو شہادت یا بیان یا وعدہ کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے تو مراد یہ ہوتی ہے کہ اس شہادت یا بیان یا وعدہ کو سچ اور راست کرکے تسلیم کرو اور اس میں شک وشبہ کو ذرہ بھی جگہ مت دو اور جو تاثیر اُس سے نکلتی ہے اُسے اپنے میں کام کرنے دو ۔ یا اگر کسی ایسے امر پرایمان لانا مراد ہے جو اس شخص کی ذات وصفات سے متعلق ہے جس کی طرف سے یا جس کی اجازت سے وہ کام کرتے ہیں تو ایسی حالتوں میں شخص مفہوم پر ایمان لانا مراد ہوتا ہے ۔مثلاً فرض کرو کہ اگر آج کے دن خُدائے قدوس اپنے الہٰی جلال وعظمت کے ساتھ بنی نوع آدم میں سے کسی پر ظاہر ہوکے کہے کہ '' مَیں قادر اور کافی وافی خُدا ہوں اور مَیں تیری سپر اور تیرا بڑا اجرہوں '' تو مخاطب سے صرف اتنا مطلوب ہے کہ وہ خُدا پر بھروسہ کرے اور بڑے ادب اورعجز اورحمد کے ساتھ اُس پر یقین کرے چنانچہ خُدا نے ابراہام پر آپ کو اسی طرح پر ظاہر کیا تھا۔ اور خُدا کے بندے ابراہام نے خُدا کے اس فرمان پر وہ اعتماد اور بھروسہ کیا جس میں شک وشبہ کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ اور یہی اس کا ایما ن کہلاتا ہے۔ جس کی تشریح دو واقعات سے ہوتی ہے۔

(1)۔جن میں سے اول تو عبرانیوں کے خط کے گیارہویں باب میں مسطور ہے۔ ''ایمان سے ابراہام نے جب وہ بلایا گیا تو مان لیا اور اُس جگہ چلاگیا جسے وہ میراث میں پانے کو تھا اور باوجود یہ کہ نہ جانا کہ کدھر کو جاتا ہے پھربھی مان لیا (عبرانیوں 11: 8)۔ڈاکٹر وہائٹ اس پر یوں لکھتے ہیں کہ

''جب ابراہام کو حکم ملاکہ اپنی سرزمین سے یعنی اپنے وطن سے نکل جائے تو اُسے معلوم نہ تھا کہ جن لوگوں میں وہ اب جاتا تھا آیا وہ اُس کے دوست ہوں گے یا دشمن اُس پر مہربانی کریں گے کہ سختی کہ اُس کا خاندان وہاں جا کے آیا خوش ہوگا یا ناخوش (کہ وہ وہاں آیا آرام وآسائش سے رہیں گے یا تنگی اور دُکھ سے)اُس نے ان ساری باتوں کا ذرہ بھی خیال نہ کیا جن کی بابت عموماً سب لوگ سفر کے پہلے سوچا کرتے ہیں اُس بھاری سفر کو اختیار کیا اور اُس کا ر عظیم کو قبول کیا جس میں خود اُس کی اور اُس کے خاندان کی بھلائی یا بُرائی کا تعلق تھا۔ اُس نے یہ کام جسے لوگ ناساختہ اور کم عقلی کا کام کہیں گے محض اس سبب سے کیا کہ وہ اُس شخص کی ذات وصفات پر جس نے اُس کو سفر کا حکم دیا تھا پورا اعتبار رکھتا تھا۔ اور اُس پر ایمان رکھنے نے اُسے اس بھاری مہم کو قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ خُدا نے اُسے حکم دیا تھا کہ یہ بھاری اورخطر ناک سفر اختیار کرے اور اُس نے خُدا کا فرمان مان لیا۔ حقیقت یہ تھی کہ اُس کی نظروں میں جلالی خُدا اس لائق تھا کہ وہ خود کو اور اپنے سارے لواحقین اور تعلقات کو خُدا کی مرضی پر چھوڑ دے۔ اور اُس کی سمجھ میں یہ سب سے اچھا اور عقل کاکام تھا۔ چنانچہ وہ بڑی خوشی سے تابع فرمان الہٰی ہوگیا''۔

(2)۔دوسری بات رومیوں کے خط کے چوتھے باب میں مذکور ہے کہ جب ابراہام عمر رسیدہ ہوگیا تو خُدا نے اُس سے وعدہ کیا کہ اُس کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوگا جس سے کہ نہ صرف ایک عظیم اور پُر طاقت قوم نکلے گی بلکہ جس کی اولاد سے وہ مسیح بھی پیدا ہوگا جس کی انتظار آباؤ اجداد مدّت سے کرتے تھے اور جو دُنیا کی ساری قوموں کو برکتیں دے گا ۔ لکھا ہے کہ '' وہ بے ایمانی سے خُدا کے وعدے میں شک نہ لایا بلکہ اعتقاد میں مضبوط ہوکے اُس نے خُدا کی بڑائی (حمد )کی اور کامل یقین کیا کہ جو کچھ خُدا نے وعدہ کیا تھا وہ اُسے پورا کرنے پر قادر ہے۔ چنانچہ یہ (ایمان)اُس کے واسطے راستبازی گنا گیا (عبرانیوں 11: 20۔22)۔پس یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا ایمان بالصراحت خُدا کے وعدے پر بھروسہ کرنا تھا جو خُدا کی ذات وصفات سے وابستہ تھے۔یعنی یہ کہ اُس نے الہٰی کمالات پر بھروسہ کیا اور اس سبب سے الہٰی وعدوں پر بھی اُس کا ایمان ہوا۔ اور بقول حضرت پولُس یہ ایمان اُس ایمان کا جو راستباز بنانے کے واسطے ضرور ہے ایک عالمگیر نمونہ ہے۔
غرض کہ ایمان کے معنی جس کی بابت کتب عہد عتیق وجدید میں اتنا کچھ لکھا ہے جس کی بابت خُداتعالیٰ حکم دیتا ہے اور جس پر نجات ابدی کا دارومدار ہے یہ ہیں کہ ایسا اعتبار کرنا جو یقین اور اعتماد پیدا کردے ۔

(3)۔ایک اور مثال خُداوند یسوع مسیح کے الوداعی نصیحت کے آغاز میں مرقوم ہے تمہارا دل نہ گھبرائے تم خُدا پر ایمان لاتے ہو مجھ پر بھی ایمان لاؤ۔جس کا زیادہ درست ترجمہ یوں ہے کہ ''تم خُدا پر ایمان لاؤ اور مجھ پر بھی ایمان لاؤ ''(یوحنا 14: 1)۔چنانچہ بشپ ھال اور سکاٹ صاحب اس کے معنی یوں کرتے ہیں ''اپنے دل کا سارا بھروسہ مجھ پر رکھو'' جو ابن اللہ ہوں اور انسانی جسم میں تمہارے پاس ہوں ۔ نہ صرف اس فقرہ سے بلکہ اُن تشریحی جملوں سے جو اس آیت کے بعد مندرج ہیں یہ امرصاف ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا خُداوندیسوع اپنے شاگردوں کو جس چیز کی تاکید کرتا ہے وہ یقین واثق اور ایمان مطلق ہے۔ گویا وہ یوں فرماتا ہے ''نہ چاہے کہ تمہارے دل میری جدائی یا تکلیف کے خیال سے جو آنے کو ہیں گھبرائیں ۔اپنا بھروسہ خُدا پر رکھو جو تمہارا باپ ہے اور میرا با پ اور اپنا بھروسہ مجھ پر رکھو جو اُس کا پیارا بیٹا ہوں ''۔کیا میرا حق نہیں ہے کہ تم مجھ پر بھروسہ رکھو ۔کیا تم میری محبت یا قدرت یا وعدے میں کسی قسم کا شک رکھتے ہو۔ میرے باپ کے گھر میں بہت سے عالیشان محل ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مَیں تم کو بتا دیتا ۔مَیں جاتا ہوں کہ تمہارے لیے ایک آسمانی مکان تیار کروں ۔ پس مَیں پھر آؤں گا اور تم کو اپنے ہمراہ لے جاؤں گا ۔ کہ جہاں مَیں ہوں وہاں تم بھی رہو اور ہو۔ فی الجملہ خُداوند یسوع مسیح یہاں جس امر کی تاکید کرتا ہے وہ یقین واثق او ر اعتماد مطلق ہے۔

(4)۔ چوتھی مثال حضرت پولُس کے سب سے آخری خط میں موجود ہے جو اُس نے اُس وقت لکھا تھا جب کہ شہید ہونے کو تھا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے کہ مَیں شرماتا نہیں اس لیے کہ مَیں اس کو جانتا ہوں جس پر میرا اعتقاد ہے۔ اور میرا یقین ہے کہ وہ (خُدا)میری امانت کی اُس (قیامت کے) دن تک حفاظت کر سکتا ہے (2۔تیمتھیس 1: 12)۔گویا وہ یوں کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ اعتماد اور بھروسہ اگر کوئی کسی پر کرے تو یہ ہے کہ اپنی غیر فانی جان دوسرے کے سپرد کردے ۔ یہ ایسی بیش قیمت چیز ہے کہ فرشتوں کے سب سے بڑے سردار کے سپرد بھی نہیں کرسکتا انسان کا تو کیا ذکر ہے۔ کیونکہ مخلوق خواہ کیسا ہی عالی تیار کیوں نہ ہو لازوال اور لاتبدیل نہیں ہوسکتا پر مجھ کو خوب معلوم ہے کہ میرا بھروسہ کس پر ہے ۔اور مجھ کو یقین ہے کہ میری روح اُس کے ہاتھوں میں محفوظ رہے گی ۔پس مَیں اپنی روح اُس کے ہاتھ میں سونپتا ہوں جس نے خود ہماری نجات کاکام پورا کیا ہے اور جواب جناب عالی کے دہنے ہاتھ تخت نشین ہے اور فرشتے اور ریاستیں اور طاقتیں سب اُس کے تابع ہیں۔ میری روح اُس کے سپرد ہے جو اپنے زور بازو سےدُنیا میں نجات کو لے آیا اور جس نے قید کو قید کیا ۔مَیں اُس پر بھروسہ کرتا ہوں اور ڈرتہ نہیں کیونکہ اُس کا نام یہوواہ (حی وقیوم ) ہے۔یہاں سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو ایمان حضرت پولُس کا تھا وہ بھی بھروسہ اوراعتقاد تھا۔


9۔رسالہ ''راحت القلوب'' جو مصنف نے لکھا ہے اور جو پنجاب رلیجس بُک سوسائٹی کے کتب خانہ لاہور سے مل سکتا ہے اس مضمون پر ایک معقول تحریر ہے جو چاہیں اُسے دیکھیں ۔

ایم حنیف

(5)۔پانچویں مثال عبرانیوں کے خط کے گیارھویں باب کی پہلی آیت میں مرقوم ہے کہ ''ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں پر بھروسہ کرنا اور اندیکھی چیزوں پر یقین کرنا ہے''(یہ زیادہ درست ترجمہ ہے جسے بہت مفسر تسلیم کرتے ہیں)یہ جملہ بھی اُن مختصر جملوں کی طرح جن میں بے حد بھاری معنی مخفی (پوشیدہ )ہوتے ہیں سبب اپنے اختصار کے کسی قدر غیر مفہوم ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ راقم کے دل میں اور الفاظ بھی تھے جن کو قلمبند کرنا اُس نے ضروری نہ سمجھا ۔چنانچہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت پولُس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان خُدا پر بھروسہ کرنا ہے اُن امور کی بابت جن کی اُمید ہوتی ہے۔ اور اندیکھی چیزوں کو ایسا حقیقی اور موجود سمجھنا ہے گویا کہ اُن کودیکھا ہی ہے ۔کیونکہ خُدا نے اُن کا وعدہ کیا ہے۔اس لیے کہ خُدا نے صداقت کے اُس بیان کو جس پر یقین کرنے کا اُس نے حکم دیا ہے اور جس کے واجب طور سے قبول کرنے پر ہماری ابدی نجات موقوف ہے صرف ایک شہادت کی شکل میں ظاہر فرمایا ہے۔ پس اگر ہم انسان کی گواہی قبول کریں تو خُدا کی گواہی تو اُس سے بڑی قابل اعتبار ہے۔ اور خُدا کی گواہی یہی ہے جو اُس نے اپنے بیٹے کے حق میں دی کہ خُدا نے ہم کو ہمیشہ کی زندگی بخشی اور یہ زندگی اُس کے بیٹے میں ہے (1۔یوحنا 5: 9۔11)۔اگر کوئی کہے کہ خُدا کی گواہی انسانی گواہی سے کیوں زیادہ قابل اعتماد ہے تو جواب یہ ہے کہ انسان کی گواہی کی نسبت خُدا کی گواہی میں اعتماد اور یقین کرنے کی زیادہ وجہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات وصفات میں فانی مخلوق سے کہیں بزرگ اور بالاتر ہے۔
پس ظاہر ہے کہ جس ایمان کی بابت کلام ربانی بار بار تاکید کرتا اور جس کی عمدہ تاثیرات پر حیات ابدی ،نجات کا انحصار بتاتا ہے یہ ہے کہ خُداوند یسوع پر اعتبار اوربھروسہ کرنا ۔یعنی اس گواہی کو قبول کرنا جو خُدائے بزرگ وواحد نے ربنا یسوع مسیح کے حقیقی اور اکیلے منجی ہونے کے بارے میں فرمائی ہے۔ چنانچہ انجیل پر ایمان لانے کے یہی معنی ہیں کہ اُس گواہی کو جو اناجیل خُدا کے پیارے بیٹے یسوع مسیح کی بابت دیتی ہیں راست اور درست خیال کرکے بیشک وشبہ تسلیم کرنا اور اس تسلیم سے جو تاثیرات نکلتی ہیں اُن کو اپنے دل پر اثر کرنے دینا۔ الحاصل یہ یقین کرنا کہ جو گواہی خُدا کے کلام میں موجود ہے وہ بالکل راست، درست، عمدہ، سچ اور مفید ہے۔ کیونکہ وہ قدوس خُدا سے جو بے حد حمد کے لائق ہے نکلتی ہے اور محض اُس کے بے نہایت رحم سے ہمارے لیے دُنیا میں بھیجی گئی ہے۔

دوم :۔ ضرور ہے کہ چند ایسے اصول مقرر ہوں جو ہماری ہدایت اور رہنمائی کے واسطے مفید ہوں تاکہ ہم ایمان صادق وکاذب(جھوٹا) میں امتیاز کر سکیں ۔

(1)۔ صادق ایمان کے لیے ضرور ہے کہ ہم اُس شہادت ربانی کو جو کلام الہٰی میں ربنا یسوع مسیح کے بار ے میں مندرج ہے درست اور ٹھیک طور سے سمجھیں کیوں کہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کہے کہ مَیں خُداوند یسوع کی انجیل پر ایمان لاتا ہوں اور شاید وہ اپنے ایمان کو ایمان صادق بھی سمجھتا ہو اور تو بھی انجیلی ایمان سے محض بے بہرہ اور نابلد (ناواقف)ہو۔ ممکن ہے کہ بعض مقامات بائبل اُس نے سمجھ لیے ہوں اور توبھی اتنا نہ سمجھا ہو کہ اُس کی نسبت درستی سے یہ کہہ سکیں کہ اُس نے انجیل جلیل کا مطلب سمجھ لیا ہے ۔ مثلاً کُل انجیل کا خلاصہ حضرت پولُس کے پہلے خط بنام تیمتھیس کے پہلے باب کی چودہ آیت میں مندرج ہے کہ یہ امر بالکل سچ اور قابل تسلیم ہے کہ مسیح یسوع دُنیا میں گنہگاروں کے بچانے کو آیا۔ اس لیے بے نہایت قابل تسلیم بیان میں دو جُدا امر شامل ہیں۔ اوّل یہ کہ انسان گنہگار ہے اور اپنے گناہوں کے سبب ہلاکت کے لائق ہے کہ اُس کا مزاج اورعادت سب کے سب بد ہیں اوربدی کی طرف مائل رہتے ہیں اور کہ وہ بے نہایت کم بخت حالت میں ہے ۔ دوم یہ کہ یسوع نجات دہندہ ہے اورپھر ایسا نجات دہندہ ہے کہ اُن سب کو جو اُس کے وسیلہ خُدا کے حضور جاتے ہیں آخر تک بچا نا چاہتا ہے( عبرانیوں 7: 25)۔یہ دونوں امر ایک دوسرے کے ساتھ ایسے لازم و ملزوم ہیں کہ دوسرا امر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آسکتا جب تک پہلا سمجھ میں نہ آجائے ۔یا دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ جب تک آدمی اپنی گنہگاری کی حالت کو خوب سمجھ نہ لے تب تک مسیح کی نجات دہندگی کو سمجھ نہیں سکتا ۔ علمی یا عقلی یا فیلسوفی طور سے سمجھنا اور بات ہے اور حقیقتاً سمجھنا اور جیسا کہ عقل سے کسی شے کو جاننا اور امر ہے اور اپنے ذاتی تجربہ سے جاننا دیگر ۔مثلاً اگر کوئی سر کے درد سے بیمار ہو تو درد کی وہ کیفیت جو اُس مریض کو معلوم ہے ہرگز اُس شخص کو جس کے سر میں کبھی درد نہیں ہوا معلوم ہونا ممکن نہیں ہے۔ شیرینی کا مزہ اُسے معلوم نہیں ہوسکتا جس نے کبھی شیرینی نہ کھائی ہو۔ ویسے ہی گناہ کے بدی اور خطرہ کبھی اُن کو معلوم نہیں ہوسکتا جو خود کو بے گناہ سمجھتے ہیں۔ پس نہایت ضرور ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی ابتر حالت اور گنہگاری اور خستگی کو بخوبی سمجھ لے حتیٰ کہ وہ دل سے یہ کہہ سکے کہ مَیں سچ مچ بڑا گنہگار ہوں ۔ہاں ایسا گنہگار جو خُدائے قدوس کی نظر میں گھنونا اور موت کے لائق ہو جسے نجات کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس بیکسی کی حالت میں جب گنہگار پہنچتا ہے اور اپنے چار وں طرف اپنی بدیوں کے سبب ہلاکت ،گناہ اور موت دیکھتا ہے تب الہٰی فضل جس کا کچھ بھی استحقاق اُسے حاصل نہیں ہوتا اُس کی پژمردہ اور غمزدہ جان پر اُمید کی روشنی چمکاتا ہے۔ اُس شخص میں جو اپنی گنہگاری کی حالت کو اپنے تجربہ سے جانتا ہے اور اُس سے اچھی طرح واقف ہوکے کہتا ہے کہ اے خُداوند مجھ گنہگار پر رحم کر (لوقا 18: 13)۔آسمان و زمین کا فرق ہوتا ہے ۔ اوّل الذکر میں نہ صرف درست خیال نہیں بلکہ درست سمجھ بھی معدوم (ناپید، فناکیا گیا)ہوتی ہے۔وہ اپنے آ پ کو اور اپنے گناہوں کو اُس طرح نہیں سمجھتا جس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں معلوم ہوتا ہے اور جس طرح سمجھنا اُسے ضرور ہے آخرالذکر اپنی حالت کو اچھی طرح پہچانتا ہے اور اسی سبب سے اُس بے نہایت فضل کو جو ہمارے خُداوند یسوع کے وسیلے ظاہر ہوا سمجھ سکتا ہے۔
پس جو شخص خود کو اچھی طرح نہیں جانتا تو اُس بیان کو جو خُدا کے کلام مبارک میں گناہ کی ماہیت اور خاصیت کی بابت مندرج ہے سمجھ نہیں سکتا پھر کیوں کر وہ اُس بیان اور اُس شہادت کو جو اُس کے بارے میں لکھا ہے جو گنہگاروں کا شفیع (شفاعت کرنے والا) ہونے کو آیا سمجھ سکے گا ۔ خواہ وہ کتنا ہی نجات دہندہ کے رحم اوراُس خون کی بابت جو گناہوں کے کفارہ کے واسطے بہایا گیا اورتقدیس کی بابت کیسی بھاری اور ادق (نہایت مشکل)کتابیں کیوں نہ پڑھے پر یہ بیانات بجائے اس کے کہ مقصود اثر اُس کے دل میں پیدا کریں زیادہ اُسے ہنسی اور دل لگی کی باتیں معلوم ہوں گی ۔کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ گناہوں کی معافی کے واسطے محض خُدا کے فضل مطلق کی طرف دیکھنا ہے اور وہ اس بڑے بھاری انعا م کی طرف جو خُدا نے ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے دنیا کو دیا عزت اور محبت سے نہیں دیکھتا ۔ القصہ وہ اس ضرورت کو نہیں دیکھتا کہ خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے خُدا سے میل کرے اور انجیل جلیل سے جو محض صلح اور معافی کا پیغام ہے اُس کے دل میں کچھ جوش یا اثر پیدا نہیں ہوتا۔ خُدا کے کلام کی صداقتوں کی خواہ ایسا شخص کیسی ہی تعریف وتوصیف کیوں نہ کرے پر یہ محض لفاظی ہی لفاظی ہے۔ کیونکہ ان سے نہ تو اُس کے دل میں نہ اُس کی عقل میں نہ یادداشت میں کچھ اثر پیدا ہوا ہے۔ پس سب سے پہلے ضرور ہے کہ انسان اُن خیالوں کو جو وہ اس بھاری اور مفید مضمون (انسان کی گنہگاری )پر رکھتا ہے غور سے دیکھے کہ آیا وہ درست ہیں یا نادرست ۔ تب وہ ایمان کے خالص یا نا خالص ہونے کو دریافت کرسکے گا۔


10۔وہ لوگ جو گناہ کی نسبت درست خیال نہیں رکھتے ممکن نہیں کہ خُداوند یسوع کو اچھی طرح سے سمجھ لیں ۔کیونکہ یسوع کیا ہے مگر گنہگاروں کے بچانے والا ۔ اور وہ جو اپنے آپ کو کم گنہگار یا عارضی گنہگار وغیرہ سمجھتے ہیں ہو نہیں سکتا کہ گنہگاروں کو بچانے والے بخوبی سمجھ لیں۔ مثلاً بعض کہتے ہیں کہ گناہ ایک عارضی بات ہے اور اس کی کچھ بھاری سزا نہیں ہوسکتی ۔ دوسرے کہتے ہیں نیکی وبدی لازم وملزوم ہیں۔ پس ایک دوسرے کا بد ل کردیتے ہیں ۔اوروں کا خیال ہے کہ گناہ کوئی چیز نہیں ہے انسانی تمدنی تعلقات میں محض افادہ عام کی غرض سے نیک وبد چیزیں اور کام کہلاتے ہیں ۔ خُدا کے نزدیک نیکی بدی کچھ چیز نہیں ہے ۔ اوروں کا خیال ہے کہ گناہ ایسی ادنیٰ چیز ہے کہ خُدا تعالیٰ جو رحیم ہے یونہی بخش دے گا۔ جس طرح باپ بیٹے کے قصور معاف کردیتا ہے جب کہ وہ اپنے قصوروں کا اقرار کرے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی گناہوں کا اقرار کرنے سے بخش دے گا ۔ اور کہتے ہیں کہ اللہ کسی اپنے یار کی سفارش سُن کے بخش دے گا۔ غرض کہ کوئی اور کوئی دوسرا خیال رکھتے ہیں اور ان سب میں گو بظاہر ایک دوسرے سے اتفاق نہیں لیکن حقیقت میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایک امر میں پورا اتفاق رکھتے ہیں کہ اپنے گناہوں کو ویسا نہیں سمجھتے جیسا کہ اُن کا حق ہے اور اسی سبب سے خُداوند یسوع کے کام کو بھی نہیں سمجھتے بلکہ یہ بات اُن کو بسا اوقات ہنسی کی بات معلوم ہوتی ہے جس کی وہ بوڑھیا کی کہانی سے بھی کم قدر کرتے ہیں۔
اس کتاب میں ہم کسی جگہ حسب موقعہ اس بات کا پورا بیان کریں گے ۔ اس جگہ صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ وہ جو خود کو درستی کے ساتھ نہیں سمجھ سکتا کیونکر ہوسکتا ہے کہ دوسرے کو اچھی طرح سمجھے ۔ وہ لوگ جو خُداوند یسوع کی بے قدری اور حقارت کرتے ہیں چاہیے کہ سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے حال کو سمجھ لیں اور تب اُن کو اس الہٰی فضل جو ربنا یسوع مسیح کے وسیلے ظاہر ہوا عزت تسلیم اور تعظیم کرنے کی کافی وجوہ دکھائی دیں گی ۔تب وہ حیرانی اور شکرگزاری کے ساتھ خُدا کے اس بھاری انعام کو جو یسوع مسیح کی تصلیب میں ہوا ہے اچھی طرح دیکھ اور سمجھ سکیں گے ۔

ایم حنیف

(2)۔ممکن ہے کہ انجیل کی بہت سی باتوں پر کسی کا ایمان ہو اور پھر بھی خالص انجیل پر اُس کا ایمان نہ ہو ۔ مثلاً ممکن ہے کہ انسان اُن شہادتوں کو پانے جو مسیحی دین کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہیں اور جن سے دلائل عقلیہ ونقلیہ اس قسم کے نکلتے ہیں کہ انسان کے دل کو اُس دین کے برحق اور منجانب اللہ تسلیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ تو بھی وہ شخص ایمان خالص سے ناآشنا ہو۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص انجیل کے مطالعہ کرنے اُس کے بلا تحریف وتبدیل ہونے اور اُس پر صداقت سمجھنے کے کام میں بہت ساوقت صرف کرے پھر بھی اُس کا دل انجیل کے بے بہا مطالب سے بے بہرہ رہے ۔ ممکن ہے کہ انسان اُن واقعات کو جو ابن اللہ یسوع کی نسبت کلام الہٰی میں درج ہیں مانتا ہو اور پھر بھی انجیلی ایما ن سے نابلد ہو۔ الہٰامی مصنفوں نے جب کبھی خُداوند یسوع مسیح کی زندگی کی بابت کچھ لکھا تو وہ محض اس غرض سے لکھا کہ وہ عمدہ تعلیمات جو ان واقعات سے نکلتی ہیں ہمارے دلوں میں نقش کریں۔ چنانچہ اگر صرف ان واقعات پر لحاظ کای جائے اور اُن تعلیمات کو جواُن سے نکلتی ہیں جُدا کردیا جائے تو وہ ایسے ہیں جیسے بدن بغیر روح کے ہو جس سے نہ کوئی تاثیر نکلتی ہے نہ کچھ فائدہ ہوتا ہے ۔ اگر انسان کا دل گناہ کی بدحالی اور خُداوند یسوع کی ذات اور افعال سے کہ وہ موا اور جی اُٹھا موثر نہ ہو تو وہ ہزار بار مانا کرے کہ ایک شخص یسوع نام تھا مارا گیا اور پھر جی اُٹھا اور جی اُٹھنے کے بعد بہت سے لوگوں کو دکھائی دیا اور جس پر ہزار ہا ہزار لوگ گواہی دیتے ہیں۔ تو بھی اُس کا دل اور ایمان مردہ ساہے اور مردہ سا رہے گا ۔

یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی نہ صرف انجیلی واقعات کو مانا کرے بلکہ اُس دین کو جو انجیل سے نکلتا ہے فیلسو فانہ صداقتوں کے لحاظ سے بھی درست اور راست سمھا کرے تو بھی انجیلی ایمان اُس میں نہ ہو جو نجات ابدی کے واسطے لازمی بات ہے ۔ ممکن ہے کہ ایک شخص مذہب مسیحی کے فلاسفی اوردوسرا اُس کی رسمیات پر غور کرے اور اُن دونوں کے دل یکساں بے ایمان رہیں ۔مثلاً بائبل کی نظم ایسی منظم ہے کہ فصاحت وبلاغت وشیریں کلام وجوش دہندگی میں کوئی اور نظم خواہ کسی زبان کی کیوں نہ ہو اُس کی برابری کر نہیں سکتی ۔پر اس نظم کو پڑھ کے اگر کسی کےدل میں انجیل کا ایمان نہ ہو تو جیسے کالی داس یا ذوق یا غالب کے شعر اشعار کا اثر ہوتا ہے ویسا ہی الہٰی نظموں کا اثر اُس کی نظر میں ہوگا۔ الہٰی محبت اور عدل کا خیال جو خُداوند یسوع کی تصلیب پر غور کرنے سے دل میں پیدا ہوتا ہے اُس کے سیاہ دل میں اثر نہیں کرتا ورنہ ضرور شکرگزاری ، خوشی ،غم اور محبت پیدا کردیتا ۔ ایسا شخص جب الہٰی کتب کا مطالعہ کرتایا سُنتا ہے تو بھول جاتا ہے کہ وہ ابدیت کے کنارے پر کھڑا ہے اور اُس کلام سے جواب اُس کے سامنے ہے آخری دن اُس کا انصاف کیا جائے گا اور وہ سزا کے لائق قرار دیا جائے ۔کیونکہ اُس کے دل میں نہ تو خُدا کی محبت ہے اور نہ حقیقی اور اکیلے نجات دہندہ خُداوند یسوع کے رحم کا کچھ اثر ہے ۔ خواہ وہ بائبل کو کیا ہی کیوں خیال نہ کرے ظاہر ہے کہ خُدا کے فضل کی آمد کا وسیلہ کرکے اُس کو نہیں مانتا۔ بائبل کو وہ محض عالمانہ مذاق سے پڑھتا ہے نہ اُس شخص کی طرح جو اپنے گناہ کی حالت اور سزا کے فتویٰ سے واقف ہو کے اُس حکم نامہ کو پڑھے جس میں اُس کی معافی بہبودی اور خوشحالی کا ذکر ہے ۔

(3)۔یہ خیال کرنا بھی جائز نہیں کہ ہم ایمان لانے کو اس حال ملتوی کرسکتے ہیں بدیں خیال کہ شاید آیندہ کسی وقت ہم کو ایمان حاصل کرنے کی لیاقت یا موقعہ حاصل ہوجائے گا۔ہر ایک شخص پر عین فرض ہے کہ صلح کے پیغام کو اسی وقت اور اسی لمحہ قبول کرلے۔ وہ خُدا جس کے ہاتھ میں ہمارا د م ہے حکماً فرماتا ہے کہ ہر ایک فرد بلا استثنیٰ اور بلا توقف ابھی خُداوند یسوع پر ایمان لائے ۔ عہد انجیل کا سب سے پہلا اور بھاری حکم یہ ہے کہ ہم اس پر ایمان لائیں جسے خُدا نے بھیجا ہے (1۔یوحنا 3: 23)۔اس حکم کے قبول کرنے کا سبب اظہر من الشمس (روز روشن کی طرح عیاں)ہے۔کیوں کہ جن چیزوں کی اطاعت کا ہم کو حکم ملا ہے وہ سب کے سب بلاشبہ حق اور ہمارے بے حد فائدہ کی ہیں۔ کیونکہ اُن کے ثبوت میں خود خُدائے قدوس کا بیان اور گواہی موجود ہے اس لیے کہ اُس کی صداقت میں عظمت اور عزت کا علاقہ اور ہماری ابدیت کا رشتہ ہے۔ اگر ہم سرتسلیم خم کرکے خدا کی گواہی کو قبول کرلیں اور اُس پر جسے اُس نے بھیجا ہے یعنی خُداوند یسوع پر جو اکیلا اور سچا منجی ہے ایمان لائیں تو بچ جائیں گے ورنہ مریں گے ۔ نجات کے لیے جو کچھ درکار تھا وہ حقیقت میں خُدائے مجسم کے اعمال اور اُن دکھوں سے جو اُس نے ہماری خاطر کئے اور برداشت کئے پورا ہوچکا ہے۔ گویا نجات کے کام کی پوری تکمیل ہوچکی ہے۔ کفارہ کی قربانی گزر چکی ہے اور قبول ہوچکی ہے ۔فضل کی منادی ہم تک پہنچ چکی ہے بلکہ ہم سے ایک گونہ منت بھی کی جاتی ہے کہ اس دیانت کی بات کو جوہمارے فی الفور اور دل سے قبول کرنے کے لائق ہے قبول کرلیں ۔یہ تو سچ ہے کہ انسان اُس شہادت کو جو خود اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنے اکلوتے بیٹے خُداوند یسوع مسیح کے حق میں دی کہ وہی اکیلا نجات دہندہ ہے قبول نہیں کرتا اور اپنے گناہوں کی معافی اور ابدی زندگی کے واسطے اُس کی منت نہیں کرتا ۔ جب تک کہ اپنے گناہ اور بدحالی سے بخوبی واقف نہ ہوجائے ۔ پر اگر ایسے بھاری اور ضروری امر کی نسبت انسان غفلت یا بے پرواہی یا توقف کرے تو بے شک قصور وار اور بھاری قصور وار ہوگا ۔ پس کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ مَیں معذور ہوں کیونکہ مجھ کو یہ بھاری کام کرنے کا موقعہ اور لیاقت حاصل نہیں ہے ۔حقیقت میں نالیاقتی دل کی حالت پر موقوف ہوا کرتی ہے اور دل کی حالت دل کے میلان اور رغبت پر، اگر کسی کے دل میں خُدا کی بات قبول کرلینے کی رغبت نہیں ہے تو اس کا عدم بھی بذات خود ایک بھاری گناہ ہے۔ ایک صورت سے تو یہ کہنا درست ہے کہ کوئی شخص خُداوند یسوع کے پاس نہیں آسکتا جب تک کہ پاک روح اُس پر اثر نہ کرے پر یہ یاد رہے کہ دل کی مردہ حالت صرف اُسی شخص کی ہوتی ہے جو روح کی تلاش میں غافل رہتا ہے اور اُس کی جستجو میں لاپرواہ ۔ پس اُن اشخاص کی کیا حالت ہوگی جو بے ایمانی کی حالت میں یوں عذر کیا کرتے ہیں درحال یہ کہ فضل کے تخت کے حضور (جہاں سے کبھی کوئی ملتجی خالی ہاتھ نہیں لوٹا)جاتے بھی نہیں اور استدعا بھی نہیں کرتے۔ حالانکہ خود خُدا کا وعدہ ہے کہ وہ اُن کو پاک روح کی وہ تاثیر اور مدد دے گا جس کے بغیر وہ بے ایمانی میں رہتے ہیں۔ پس اے بے ایمان گنہگار زندگی کی راہ ہوتے ہوئے تو کیوں مرتا ہے۔ تو کیو ں خُدا کے وعدہ کو نہیں تھامتا اور خُدا کی وعدہ وفائی پر کیوں یقین نہیں کرتا اور ایمان کے وسیلہ بلاتوقف مسیح خُداوند کے پاس کیوں نہیں آتا کہ تو بیچ جائے ۔کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ ناراستوں کے لیے موا ۔ اور ناراستوں کو معاف کرتا اور بچاتا ہے۔ اُس کی راستبازی اور کفارہ اُس کی محبت اور وعدہ پر بھروسہ رکھ وہ تجھے بھی بچائے گا اور کوئی ڈر تجھے نہ ہوگا۔صرف یہی ایک وسیلہ ہے جس سے کہ تو اپنی بد حالی اور سزا کے فتویٰ سے رہائی پاسکتا ہے ۔ پس مَیں منت کرتا ہوں کہ ایک لمحہ بھی ضائع نہ کر ۔خُداوند یسوع پر ایمان لاتب تو نجات پائے گا(اعمال 16: 31)۔

(4)۔چاہیے کہ مسیحی شخص ایمان کی کمی پر اکتفا نہ کرے بلکہ ایمان کی تکمیل اور دوامی (ہمیشہ کے لیے) استعمال کو اپنا مدعا بنائے ۔ چنانچہ ابراہام کی نسبت جو ایک گونہ سارے ایمانداروں کا باپ ہے اعزازی طور پر یوں ذکر کیا گیا ہے کہ وہ سست اعتقاد نہ تھا بلکہ اعتقاد میں مضبوط ہوکر اُس نے خُدا کی بزرگی کی (رومیوں 4: 19۔20)۔ربنا یسوع کی زبان مبارک سے کبھی اور کسی موقعہ پر ایسے خوشی و خرمی کے کلمے نہیں نکلے جیسے کہ اُس وقت کہ اُس نے کسی شخص میں ایمان کو دیکھا ۔ ایمان کی مضبوطی سے نہ صرف خوشی اور اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔(جس کی ہم کو اشد ضرورت ہے)بلکہ اس سے خُدا تعالیٰ کی عزت اور جلال بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ایمان خوشی اور الہٰی پاکیزگی کے حصول کا جوش دل میں نہ پیدا کرے تو صاف ظاہر ہے کہ ایسا ایمان سے کچھ حاصل نہیں ہے کیونکہ وہ ناخالص اور جھوٹا ایمان ہے۔ پس اگر انسان چاہے کہ اُس کا نہ صرف عاقبت کا بھلاہو بلکہ اُس کی یہ چند روزہ دُکھ کی زندگی بھی خوشی اور فائدہ مندی سے صرف ہوتو چاہیے کہ خاص طور پر دُعا اور مناجات کرے کہ خُداوند یسوع کے ایمان میں زندگی کاٹے اور خُدا باپ سے پاک روح کی تاثیر کا ملتجی ہو۔


11۔مسیحی دین کا نیچرل (فطرت)اصول ہے کہ یہ مومنوں کو خوش کرتا ہے ۔ یہ ایک عالی فضیلت ہے جو صرف اسی الہٰی دین کو حاصل ہے۔ وہ مذہب کہاں ہےجو اپنے پیروں کو نہ صرف گناہوں کی معافی بلکہ الہٰی رضا مندی کی خبر دیتا ہے جو گنہگاروں کو بتاتا ہے کہ وہ نہ صرف گناہ کی سزا سے بچ گئے بلکہ الہٰی خوشنودی اوررضا کو حاصل کرکے الہٰی قربت اور وصال کے لائق بن گئے ہیں۔ زندگی کیا ہے اگر دل کو خوشی نہ ہو ۔ وہ زندگی جو نااُمیدی اور اضطراب اور بے یقینی کے عالم میں بسر ہو کمبخت زندگی ہے جس سے موت اور ہلاکت ہزار ہا ہزار بار بہتر اور برترہے ۔ مسیحی دین مومن کے دل پر الہٰی فضل کی روشنی چمکاتا ہے اور اُمید کی صحت بخش گرمی گنہگار کے مردہ دل میں پھر سے لے آتا ہے۔ اور اُسے ایسا کر دیتا ہے کہ دُنیا میں ہوکے دُنیا کا نہیں رہتا بلکہ مصیبت ،دُکھ اور موت میں بھی خوش رکھتا اور خوشی بخشتا ہے۔ دُنیا وی حالت خواہ کیسی ہی بُری یا بے عزتی کی کیوں نہ ہو مومن دل میں وہ الہٰی اطمینان لیے رہتا ہے جو تمام فہم سے باہر ہے اور جسے دُنیاکی حکومت ریاست ،اقتدار ،ظلم ،فریب، بے عزتی ،رسوائی ،محتاجی یا اور کوئی چیز ہرگز اس سے جُدا نہیں کرسکتی ۔پس وہ ہر حال خوش رہتا ہے۔ مصیبت میں بھی خوش اور تکلیف میں بھی خوش ۔ہر حال ہرجگہ ہر وقت اُس کے دل میں شانتی بستی ہے خُدا میں اور اُس کے چہرہ کی تجلی میں وہ دن رات مگن رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر سب سے بھاری نقصان یا تکلیف بھی کیوں نہ ہووہ اُس حالت میں بھی خُدا میں خوش اور مطمئن ہوتا ہے۔ آفتوں کے طوفان ۔دُکھوں کی آندھی ،نقصانوں کے جھوکے اُس کے دلی اطمینان کو ذرا بھی جنبش نہیں دے سکتے۔ بلکہ جسے لوگ بڑی تکلیف کہتے ہیں وہ اُس کو الہٰی غیر محدود دانائی اور محبت کا کام معلوم ہوتا ہے۔ غرض کہ یہ کہنا کچھ مبالغہ نہیں ہے کہ وہ پورا اور کامل خوش رہتا ہے۔ کیونکہ گو دُنیا وی دُکھ اُس بیرونی حالات کو خواہ کیسا ہی مبدل نہ کردے دلی اطمینان کسی صورت اُس سے جانہیں سکتا۔

ایم حنیف


فصل چہارم

ایمان کا مدعا،اب، ابن اور روح القدس الہ واحد

مَیں ایمان رکھتا ہوں

خُداِ قادرمطلق باپ پر جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اُس کے اکلوتے بیٹے ہمارے خُداوند یسوع مسیح پر جو روح القدس کی قدرت سے پیٹ میں پڑا کنواری مریم سے پیدا ہوا۔ پنطُوس پیلاطُس کی حکومت میں دُکھ اُٹھایا ۔صلیب پر کھینچا گیا مرگیا اور دفن ہوا اور عالم ارواح میں جا اُترا تیسرے دن مردوں میں سے جی اُٹھا ۔آسمان پر چڑھ گیا اور خُدا باپ قادر مطلق کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے۔ جہاں سے وہ زندوں اور مردوں کا انصاف کرنے کو آئے گا۔
اور مَیں اعتقاد رکھتا ہوں روح القدس پر پاک کلیسیا ئے جامع پر مقدسوں کی رفاقت گناہوں کی معافی جسم کے جی اُٹھنے اور حیات ابدی پر ۔آمین

شکر صد شکر ہے خُدائے بزرگ واحد اور حقیقی مالک اور خالق کا جس نے ہم کو طرح طرح سے اور بار بار اپنے نبیوں اور رسولوں کی معرفت یہ بتایا ہے کہ ہمارے ایمان کا آغاز اور انجام ہمارا خُداوند یسوع مسیح ابن اللہ ہے ۔ یہ ایک ایسا بھاری مضمون ہے کہ جس پر اپنے خیال اور تجربہ بیان کریے کے لیے ایک دفتر لکھنا چاہیے ۔ایمان حقیقی کا مدّعا خُدائے واحدہ لا شریک لا ہونا چاہیے ۔جیسا کہ رسولوں کے مندرجہ بالا عقیدہ میں مندرج ہے۔یعنی کہ ہم ایمان لائیں کہ خُدا باپ بیٹا اور روح القدس تین اقانیم اور ایک خُدا واحد لاشریک ہے خُدا کی ذات بابرکات میں وہ صفات حمیدہ ہیں جن کا ذکر اُس نے اپنے کلا م مبارک میں فرمایا ہے۔ یعنی کہ خُدا ازلی اور ابدی ہے۔ قادرمطلق ، ہمہ دان حاضر وناظر لاتبدیل ، لامحدود ،لازوال ،کافی ووافی ،قدوس ، رحیم اور عادل ہے۔ اس نے کل موجودات اور کائنات کو خلق کیا وہ ہمارا مالک ہمارا نگہبان اور حافظ وناصر ہے۔ اور کہ خُدائے قدوس کا ازلی بیٹا خُداوند یسوع مسیح ہے۔ جو سب عالموں سے پہلے باپ سے متولد ہوا اور وہ خلقت کا مبدا (شروع ہونے کی جگہ)ہے ۔ اُسے سارے عالم خلق کئے وہ طرح طرح سے قدیم ایام میں اپنے بندوں پر ظاہر ہوا اور آخری زمانہ میں بدیں غرض کہ اپنے ظہور کے غرض کی تکمیل کرے مریم عفیفہ سے پیدا ہوا۔انسان کے جسم میں ہو کے انسان کے بدلے اُس شریعت کو جسے انسان نے توڑا تھا پورا کیا ۔ اور گناہوں کی معافی کی راہ کھولنے کے لیے مصلوب ہوا۔کہ انسان کا کفارہ ہو اور عدول حکمی اور بغاوت کی سزا جو انسان کا واجبی بدلہ ہے اس سے ہٹا کے خُدا کی خوشنودی اور میل اُس کو حاصل کرائے ۔موت کے بعد قبر اور موت پر فتح پائی ۔ اور اب عالم بالا میں ممتاز ہو کے اپنے باپ خُدا کے دہنے ہاتھ سلطنت کرتاہے ۔ ساری چیزوں کا اختیار اُس کے سپرد ہے وہ دُنیا میں پھر لوٹ کے آنے والا ہے کہ انصاف کاکام پورا کرے ۔ اور روح القدس بھی ہے جو باپ اور بیٹے سے نکلتی ہے۔ وہی گنہگاروں کو گناہ سے قائل کرتی ہے ۔اُسی کی تاثیر سے دل میں توبہ پیدا ہوتی ہے ۔ وہی ایمان مستقیم پیدا کرتی ہے ۔غرض کہ دلوں کو تبدیل کرنا خاص اُسی کاکام ہے یعنی یہ کہ روح القدس ہی گنہگار میں سے بد دل نکلتی ہے اور اس کی جگہ گوشتین اور فرمانبردار دل عطا کرتی ہے اور وہی سرنو پیدا کرتی ہے ۔پس ایمان لانا چاہیے کہ یہ باتیں سچ اوربرحق ہیں اور اُن عمدہ تاثیرات کو جو زندہ ایمان سے برآمد ہوتی ہیں خود میں موثر ہونے دینا بڑی ضروری بات ہے۔

حاصل کلام ضرور ہے کہ یہ ایمان خُداکی ذات وصفات پر ہو ۔جس کا خلاصہ چند الفاظ میں یوں بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ جل جلالہ عم نوالہ بلحاظ و صفات وہی ہے جو وہ اپنے آپ کو کہتا ہے ۔پھر خاص طورپر ضرور ہے کہ اُس وسیلہ پر جو خُدا ئے جل شانہ نے انسان کی برگشتگی کے بعد اپنے سے صلح اور میل کرنے کا مقرر کیا ہے خاص طور پر ایمان ہو۔ اُس طریقہ کا بیان جس سے ہم خُدائے پاک سے ملاپ کرسکتے ہیں خُدائے بزرگ واحد کے مبارک اور پاک کلام خصوصاً انجیل جلیل میں مندرج ہے ۔ یہ وہی راہ ہے جس پر خُدا کے برگزید ے اور پیارے ربنا یسوع کے دُنیا میں مجسم ہونے پہلے چلا کرتے تھے یہ وہی راہ ہے جس پر چل کر انہوں نے خُدا کو پایا اور یہ وہی راہ ہے جو اب آخری زمانہ میں خُداوند یسوع کے فضل اور کام سے مکمل ہوکے پورے طور پر منکشف ہوا ہے کہ ہر فرد بشر اُس پر آسانی سے قدم مار سکے اور کسی کے لیے کوئی حجت یا حیلہ باقی نہ رہے ۔یہ تو ضرور ہے کہ خُدا پر اور خُدا کی صفات پر ایمان ہو پر یہ بھی ویسا ہی ضرور ہے کہ اُس بندوبست پر اور اُس کام پر بھی ایمان ہو جو خُدا نے کیا ہے کہ ہم باغی لوگ پھر اُس کے ساتھ صلح کریں کیونکہ ظاہر ہے کہ جو شخص کہتا ہے کہ خُدا ایسا ہے اور ایسا ہے اور اُس کے ایسا ایسا ہونے کو اپنا ایمان بتاتا ہے اور پھر بھی نہیں دیکھتا اور نہیں مانتا کہ اُس نے کیا کیا کچھ کیا ہے تو ایسا شخص خُدا کے ایمان مستقیم سے بے بہرہ ہے ۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ خُدا محبت کا چشمہ اور فضل کا منبع ہے اور تو بھی اُس کی محبت اور فضل کے کام کو جو اُس نے اُس کی ابدی بہبودی اور حیات کے واسطے کیا ہے نہیں مانتا تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ خُداکی محبت اور فضل پر اُس کا پورا ایمان ہوسکتا ہے۔ کیونکہ صفت کو ماننا اور صفت سے جو کام نکلتا ہے اُس کو نہ ماننا ایک ایسی بات ہے جیسے کسی کو بہادر ماننا اور اُس کی بہادری سے انکار کرنا یا کسی کے حسن کو تسلیم کرنا اور یہ نہ ماننا کہ اُس کا حُسن کچھ قدر رکھتا ہے۔ پس حقیقی ایمان کی یہ ایک صفت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ کے اُن افعال کو بھی جو اُن صفات حمیدہ سے نکلے ہوں بخوبی تسلیم کرتا ہے اور دل میں جگہ دیتا ہے ۔ پس مسلم ایمان کے واسطے ضرور ہے کہ ہم نہ صرف خُدا کی ذات پر یا اُس کی صفات پر بلکہ اُس کے کاموں پر بھی ایمان رکھیں ۔جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے تو ساتھ ہے ساتھ یہ بھی ماننا چاہیے کہ سارے عالم اُس سے بنائے گئے ۔ اور کائنات وموجودات میں سے کوئی ایسی شے نہیں ہے جو اُس کے ہاتھ کی کاریگری اور اُس کی خلقت نہیں ہے ۔ پھر جب ہم ایمان لائیں کہ خُدا غیر محدود ہے تو ساتھ ہی اُس کی ہمہ جاحاضری کو بھی تسلیم کرنا ضرور ہے ۔ یا جب ہم کہیں کہ خُدا قادر مطلق ہے تو چاہیے کہ اُن عجیب کاموں کو بھی جو اُس کی قدرت مطلق سے نکلے ہوں تسلیم کریں۔ اسی طرح پر ہم مانتے ہیں کہ خُدا محبت ہے تو اُس کام کو بھی ماننا ضرور ہے جو اُس نے محبت کے سبب کیا۔

کل کلام الہٰی یعنی پیدائش کی کتاب سے لے کر مکاشفات تک محض صلح اور محبت کے پیغام کی خبر ہے ۔یعنی یہ کہ خُدا نے جہان کو اپنی طرف سے ایک بے حد محبت کا پیغام بھیجا ہے اور گنہگاروں سے صلح کرنے کی ایک راہ نکالی ہے ۔

ہم مسیحی لوگ اس راہ سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ کیسی محبت اور مہربانی سے یہ ہوا کہ ''خُدا نے جہان کو ایسا پیا ر کیا کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخشا کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ''(یوحنا 3: 16)۔یہ مسیحی دین کا خلاصہ اور عطر چند حروف میں ہے ۔جس نے یہ مانا اُس نے سب کچھ مان لیا۔ کیونکہ اس میں سب کچھ موجود ہے۔ اول خُدا کی ہستی پر ایمان ،کیونکہ یہ کہنا کہ خُدا نے پیا رکیا یہ معنی رکھتا ہے کہ خُدا ہے جو پیار کرتا ہے۔ دوم یہ اُس کی ساری ممتاز صفتوں میں سے ممتاز یعنی محبت اورقدوسیت کا ذکر ہے۔ یعنی کہ خُدا ایسا قدوس ہے کہ اُس نے گناہ کی سزا کی خاطر اپنے ابن وحید کو جو اُسے ساری موجودات سے زیادہ پیارا تھا موت کے حوالہ کیا۔ اس غرض سے کہ اُس کی محبت کا اظہار ہو محبت ہی ہمارے لیے الہٰی صفات میں سے سب سے بھاری اور فائدہ مند صفت ہے یہ کہنا کہ خُدانے جہان کو خلق کیا۔ جہان کو پالا اور سنبھالا وغیرہ سچ تو ہے پر گنہگاروں کے لیے ایسا مفید حال نہیں ہے جیسے یہ لفظ کہ خُدا نے جہان کو پیار کیا۔ سوم ابن اللہ کا ذکر ہے کہ وہ ہم کو دیا گیا۔ یعنی کہ خُدا کی محبت کی غایت یہ ہوئی کہ اُس نے اپنے ابن وحید کو بخش دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو دولت یاعزت یاطاقت وغیرہ کثرت سے دیتا اور یہ بھاری اور بیش قیمت انعام نہ دیتا جو مسیح خُداوند ہے تو ہمارا حال ویسا ہوتا جیسا اُس بھوکے کا جس کے پاس سونا روپیہ اور جواہرت بیشمار تھے اور پیٹ میں ڈالنے کو کچھ نہیں اورجو آخر بھوکوں مرگیا۔ یا اُس شخص جیسا جو بے نہایت دولت اور عزت اور تزک وشان میں ہو پر جس کے سرپر ہلاکت کی تلوار لٹک رہی ہو کہ آناً فاناً اُس کا کام تما م کرے ۔ چہارم اس میں انسان کی برگشتگی کا اور گنہگاری کا حال مذکور ہے اور اُس سے جو ہلاکت نکلتی ہے اُس کا بھی بیان ہے کہ انسان ہلاک نہ ہو۔یعنی یہ کہ انسان جو اپنے گناہوں کے سبب سے اس لائق ہے کہ ہلاک ہوا ُسے ہلاکت سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک راہ نکالی ہے اور وہ راہ اُس کے محبت کے انعا م یعنی اُس کے ابن وحید سے ہے جسے اُس نے بخش دیا ۔ پنجم اس میں آخری اور ابدی نجات کا وعدہ یہی لکھا ہے یعنی یہ کہ جو کوئی خُداوند یسوع کو دل سے قبول کرتا ہے ابدی ہلاکت اور عذاب سے رہائی پاتا ہے (جس کو نجات کہتے ہیں)غرض کہ جو کوئی اس آیت کی صداقت پر ایمان لاتا ہے گویا وہ سب کچھ تسلیم کرتا ہے جو اُس کے لیے لازمی اور ضروری ہے یعنی یہ کہ خُدا ہے۔خُدا ہم سے پیار کرتا ہے ۔ ہم گنہگار ضرور ہلاکت کے لائق ہیں۔ خُدا کا ابن وحید ہے۔ ہم کو ہلاکت سے بچانے کو خُدا نے اپنا ابن وحید بخش دیا ۔ اُس پر ایمان لانا چاہیے ۔تب ہم نہ صرف ہلاکت سے بچتے ہیں بلکہ اُسی ابن وحید کی بدولت ہمیشہ کی زندگی کے وارث بھی بن جاتے ہیں ۔یہ مسیحی دین کالب لباب ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کے فائدہ کے واسطے جو کچھ ضرور ہے سو اُس میں موجودہے اس خوبی سے کہ جاہل سے جاہل اور عالم سے عالم اُسے یکساں سمجھ سکیں۔ اس لیے کہ ضرور ہے کہ پڑھا لکھا آدمی خُدا پر ایسا ایمان رکھے اور ایمان کے وسیلے بچ جائے ویسا ہی جاہل ان پڑھ آدمی کے لیے بھی ضرور ہے کہ یہ بچانے والا ایمان دل میں رکھے جس کے بغیر کوئی نجات نہیں پا سکتا۔

مسیحی دین کا دعویٰ اور خوبی یہ ہے کہ جو کچھ انسان کے حقیقی اور اصلی فائدہ کے لیے ضرور ہے وہ سب کچھ اس دین میں موجود ہے۔ دُنیا کے تمام مذاہب خواہ فرداً فرداً یا اجتماعاً اس بات میں مسیحی دین کی برابری نہیں کرسکتے ۔ یہ تو سچ ہے کہ اخلاقی اصول اور بعض عمدہ عمدہ تعلیمات ہر ایک مروجہ مذہب میں موجود ہوتے ہیں پر کوئی ایسا مذہب نہیں ہے جس میں وہ سب کچھ پایا جائے جو ہمار ے خاص فائدہ کا ہو اور جو مسیحی دین میں موجود ہے۔ بلکہ اس الہٰی دین میں یہ اور فضیلت ہے کہ اس میں نہ صرف وہ ساری اخلاقی تعلیمات ہیں جو دُنیا بھر کے تمام مذاہب سے حاصل ہوسکتی ہیں بلکہ اس میں اُن سے بڑھ کر اور بہت کچھ زیادہ بھی ہے۔

ظاہر ہے کہ دین ماننے کی ضرورت اس لیے ہے (خواہ اُس دین کا نام کیا ہی ہو)کہ برگشتہ انسان اپنی بغاوت کی سزا سے بچ جائے اور حقیقی خالق کے ساتھ اُس کا ملاپ ہوجائے ۔ اکثر مذاہب مروجہ اس بھاری کام کو کرنے کی راہ بتاتے ہیں۔ پر ہم جانتے ہیں کہ باوجود اپنی ساری کوششوں اور خوبیوں کے پھر بھی ناکامیاب کے ناکامیاب ہی رہتے ہیں۔ پر یہ الہٰی دین اوروں کی طرح محض اُمید ہی اُمید میں نہیں ٹالتا یا کوئی ایسی ویسی لچر سی بات کہہ کے چپکا نہیں کراتا بلکہ کامیاب کردیتا ہے اور اُس کامیابی کو مومنوں کے تجربہ میں بتادیتا ہے ۔

مسیحی دین کی تعلیمات کافی ہیں اس کی ہدایات ،تعلیمات اورتلقینات کامل مکمل بلکہ اکمل ہیں۔ یہ ہم کو صاف صریح عبارت میں (جس کی خوبی یہ ہےکہ ایک کل کا بچہ بھی سمجھ لے )بتاتا ہے کہ ہم کو کیا ماننا اور کیا کرنا چاہیے ۔ یعنی کن کن امور پر ہمارا ایمان ہونا چاہیے اور کیا ہمارے روز مرہ کے افعال ہونے چاہییں ۔چنانچہ بلحاظ غرض مذہب مسیحی دین اوردینوں سے بے نہایت ترجیع کا مستحق ہے اور عاقل شخص کا کام ہے کہ اس بات پر غور کرے۔ پر صرف یہی نہیں بلکہ مسیحی دین کی صداقت اور منجانب اللہ ہونے کی کافی ووافی دلائل اور شہادتیں موجود ہیں ۔ اور صرف یہی اکیلا دین ہے جو انسان کے دل کو ایمان اور اعمال دونوں کی طرف کامیابی کے ساتھ اکساتا ہے ۔ ہمارا یہ دعویٰ ہے اور خُدا کے فضل سے ہم آیندہ صفحوں میں اسے ثابت کرکے دکھا بھی دیں گے ۔ کہ مسیحی دین میں یہ سب باتیں اور تاثیریں ہیں جو اور مذہبوں میں دکھائی نہیں دیتیں۔

اوّل:۔ ایمان کے مدعاکی نسبت مسیحی دین ہم کو سکھاتا ہے کہ ۔

اوّلاً :۔خُدا ہے اور صرف ہستی خُدا بتا کے ہم کو اندھیرے میں نہیں چھوڑ دیتا کہ ٹکریں مارا کریں بلکہ صاف اور واضح طور پر بتاتا ہے کہ خُدا کیا ہے اور کیسا ہے،کہ ہم کو اُس کی نسبت کیسے خیال رکھنے چاہئیں ۔ مسیحی دین گویا آسمانی صداقتوں کے آفتاب کی شعاعوں کا ایک مجموعہ ہے جس میں نہ صرف فطرتی دین کی (جس کا دوسرا مشہور نام نیچر ل ریلیجن ہے)دُھندلی سی معلومات دریافت ہوسکتی ہیں۔ بلکہ یہ عجیب وغریب طور سے نیچرل ریلیجن کی کمی کو پورا ۔اُس کی غلطیوں کی اصلاح کرتا اور اُس کی تاریکی پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ کہنا کچھ مبالغہ نہیں ہے کہ جو صداقتیں اور خوبیاں نیچرل ریلیجن میں موجود ہیں وہ سب مسیحی دین میں اور بھی زیادتی خوش اسلوبی اور صفائی کے ساتھ پائی جاتی ہیں بلکہ جہاں فطرتی دین ہم کو کچھ نہیں بتاتا اور حیران و سرگرداں اکیلا چھوڑ دیتا ہے وہاں مسیحی دین آکے ہاتھ پکڑتا ہے اور مدد کرتا ہے اور الہٰی صداقتوں کو منور اور جلوہ گر کرکے بڑے صاف طور پر دکھاتا ہے۔ گویا مسیحی دین نیچری دین کی بڑی اعلیٰ درجہ کی تکمیل ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ نیچری مذہب کے خلاف کچھ مسیحی دین میں پایا جاتا ہے ۔ یا اور سہی کون کہہ سکتا ہے کہ جو صداقتیں اور خوبیاں نیچری دین میں ہیں اُن میں سے کوئی مسیحی دین میں موجود نہیں ہے ۔بلکہ ہم مسیحی لوگ یہ دعویٰ کرتے اور بتلاسکتے ہیں کہ جہان نیچرل ریلیجن ٹھہر جاتا اور کہتا ہے کہ اس سے پرے جانا میرے لیے ناممکن ہے وہاں مسیحی دین کہتا ہے کہ آ اور دیکھ مَیں تیرا ہادی ہوتاہوں اور مَیں تجھے بتاتا ہوں کیونکہ میرا کام ہے کہ وہ باتیں دکھاؤں جن کو آنکھ نے نہیں دیکھا کان نے نہیں سُنا اور دل نے خیال نہیں کیا (1۔کرنتھیوں 2: 9)یعنی ایسی باتیں جن کو ہماری محدود عقل ہرگز دریافت نہیں کرسکتی ۔ اور پھر بھی اُن کا جاننا اور ماننا بہت ہی ضرور ہے ۔ فی الجملہ جہاں نیچرل ریلیجن ہم کو نہیں لے جاتا (اور تو بھی وہاں جانا ہمارے لیے ضرور ہے)وہاں یہ الہٰامی دین یعنی مسیحی دین ہم کو لے جاتا اور ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔

ثانیاً:۔خُدا کی ذات وصفات کا جو عمدہ بیان مسیحی دین کرتا ہے وہ اور کسی جگہ نہیں پایا جاتا۔مسیحی دین کے منجانب اللہ ہونے کا یہ ایک بہت بڑا بھاری ثبوت ہے کہ یہ اپنے بیانات اور تشریحات سے ایسا ظاہر کرتا ہے کہ خُدا سے بخوبی واقف ہے اور خُدا کی نسبت ایسی باتیں بتاتا ہے جو محض عقل سے یا نیچر سے کبھی دریافت نہیں ہوسکتیں چنانچہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیحی دین اللہ کا دین ہے کیونکہ اور دین انسان سے نکل کے اللہ کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں پر یہ دین اللہ سے نکل کے انسان کے پاس آتاہے۔ خُدا کی صفات کا پورا بیان کرنا جو مسیحی دین بتاتا ہے مشکل ہے ۔ خلاصہ کے طور پر یہ کافی ہے کہ یہ ہم کو بتاتا ہے کہ وہ ازلی ہے۔ لاتبدیل ہے۔ قادر مطلق ہے۔ ہمہ جاہ حاضر ہے۔ عالم الغیب ہے۔ قدوس ہے ۔ عادل ہے۔ صادق القول اور راست ہے فضل مہربانی اور محبت میں یگانہ (واحد، لاثانی)ہے ۔سب چیزوں کا حاکم ہے۔دلوں اور گردوں کا جاننے والاہے۔ حافظ وناصر ہے وغیرہ ۔

ثالثاً:۔ مسیحی دین ہم کو انسان کی موجودہ حالت اور برگشتگی کی کیفیت پورے طور بتاتا ہے کہ انسان کیا تھا اور اب کیا ہے اور اس کا کیا سبب ہے کہ انسان اب کیا ہے اور کیا بن سکتا ہے ۔ یہ ایسے امور ہیں جن پر عقل اور نیچر کو خاموشی مطلق اور سکوت کلی اختیار کرنے کی اشد مجبوری کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ۔

رابعاً:۔ مسیحی دین کو ہماری موجودہ حالت کا بیان کرکے زخم دیتا ہے جس سے اُس کی یہ مراد ہے کہ ہم اپنے زخموں سے واقف ہو کے اُن پر الہٰی مرہم لگائیں اور بالکل صحت پائیں ۔یہ دین ہم کو اللہ سے صلح کرنے اور گناہوں کی معافی حاصل کرنے کا وہ عمدہ طریقہ بتاتا ہے جو اور کسی دین میں پایا نہیں جاتا ۔ مسیحی دین ہی بتاتا ہے کہ خُداوند یسوع مسیح کے درمیانی اور کفارہ ہونے سے ہم بچ سکتے ہیں یہ ہم کو بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہمارے گناہوں کے سبب ہم سے ناراض ہے مسیح خُداوند کے کفارے اور راستبازی کے سبب ہم سے صلح کرنے کو تیار ہے۔ صرف اسی دین میں ہمارے سارے غموں اور فکروں کا انجام ہوجاتا ہے اور سارے سوالات کا جو غم کے سبب ہم کرتے ہیں کافی جواب ملتا ہے ۔ہم جب اپنے گناہ اور بدی سے واقف ہوکے کہتے ہیں کہ ''مَیں کیوں کر خُدا کے سامنے آؤں گا ۔ یا کس طرح جناب باری کے حضور جھکوں گا ۔کیا مَیں سوختنی قربانی لے کے اس کے حضور جاؤں '' (میکاہ 4: 6۔7)۔تو مسیحی دین کہتا ہے کہ یسوع کی صلیب کو دیکھ اور تیرے سارے گناہ معاف ہوں گے ۔یسوع کے خون کو اپنے اوپر چھڑک اور تو خُدا کو مقبول ہوگا۔ یسوع میں ہوکے تو خُدا کے پاس جا کیوں کہ یہی طریقہ خُدا کی قربت اور وصال حاصل کے کا ہے۔ جب آدمی دُکھوں میں گھبر ا جاتا ہے اور اُسے غم آدباتا ہے اور ناچار ہوکے کہتا ہے مجھے کون رہائی دے گا تو یہی دین کہتا ہے کہ دلی تسلی اور باطنی اطمینان مجھ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ دُنیا کے اور سارے مذاہب فرداً فرداً یا تماماً اور اجمالاً تسلی دینے کے کام میں بالکل ناکامیاب رہ جاتے ہیں۔

خامساً:۔ مسیحی دین ابدیت اور نادیدنی دُنیا کا نظارہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایسی دلچسپی سے کھینچتا ہے۔ اور زندگی اور بقا کو ایسے صاف طور پر بتاتا ہے کہ انسان اُسے دیکھ کے عش عش کرجاتا ہے ۔زمانہ سلف کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمائے قدیم باوجود اپنی لائق عقلوں اور قابل تعریف فلاسفانہ تحقیقات کے محنت کرتے کرتے ہار گئے اور ان بھاری امور کا اُن کو کبھی کوئی تسلی بخش جواب حاصل نہ ہوا۔وہم اور خیال کے ڈھکوسلے مارا کئے اور صداقت کبھی دریافت نہ ہوئی پرمسیحی دین (جس کا موجد یسوع ناصری نجار کا بیٹا کم علم اور جاہل والدین اور بہت کم علم والے لوگوں میں رہنے والا ۔اور جس دن کے معلم ،محصول لینے والے ماہی گیر اور ایسے ایسے عموماً جہلا تھے)سزا وجزا کی کیفیت کو ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے اور خواہ نخواہ ہم کو مجبور کرتا ہے کہ نیکی کی طرف رجوع کریں اور بدی سے باز آئیں۔
یہ صرف چند امور ہم بطور نمونہ بیان کرتے ہیں۔ اُن کے پورا بیان کرنے کو ایک دراز عمر بھی کفایت نہیں کرتی ۔ پس ہم دوسرے امر کا بیان کرتے ہیں ۔


12۔پادری مولوی عماد الدین لاہز صاحب ڈی ڈی چرچ مشن امرت سر نے رسالہ ''تنقید الخیالات '' میں نیچرل ریلیجن اور اُس کی کمیوں اور غلطیوں کا خوب اظہار کیا ہے ہم ناظرین کو اُس کے مطالعہ کی صلاح دیتے ہیں۔

ایم حنیف

دوم :۔ مسیحی دین ہمارے لیے کامل دستور العمل اوردستور الایمان بتاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ الہٰام کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ ہمارے شوق تجسس کو عالی مضامین اور عمدہ خیالات سے بہلائے اور ہمارے دلوں کا شوق پورا کرے بلکہ اُس کی غرض خاص یہ ہے کہ ہمارے اعمال وافعال کو درست کرے اور ہم کو ہمارے موجودہ حالات میں بہتر اور پاکیزہ زندگی بسر کرنا سکھائے چنانچہ مسیحی دین بہت سے بے ہودہ اور واہی سوالات کا جواب خاموشی سے دے کر ہم کو عملی اور اخلاقی مذہب کا پورا طریقہ بتاتا ہے ۔ اور مذہب کونسا ہے جو مسیحی دین کی مانند عمدہ اخلاق اور اخلاقی تعلیمات سے معمور ہے ۔ مسیحی دین میں نیچرل مذہب کے سارے قواعد و قوانین بدرجہ اتم موجود ہیں بلکہ غایت یہ ہے کہ اس الہٰی دین میں کئی ایک ایسی عمد ہ تعلیمات ہیں جو عقل انسانی ہر چند کہ کمال تک پہنچ جائے کبھی یا تو دریافت ہی نہیں کرسکتی اور یا نہایت بے ہودہ طور پر دریافت کرتی کہ اُس دریافت سے کچھ فائدہ نہیں ہے مثلاً دشمنوں کو پیار کرنا۔خود کو فروتن ،حلیم اور خاکسار بنانا وغیرہ ایسے تعلیمات ہیں کہ زمانہ سلف کے اطبائے جید (بہترین طبیب )کوبھی معلوم نہ تھیں ۔غرض کہ مسیحی دین میں ہمارے کل فرائض مکمل طور پر پورے ہوتے ہیں ایسا کہ کسی اور حکم احکام کی یا تعلیم وتلقین کی ذرہ بھی ضرورت نہیں رہتی ۔مسیحی دین ہم کو صاف اور عمدہ طور سے بتاتا ہے کہ ہمارے فرائض اللہ جل شانہ کی نسبت کیا ہیں۔ اپنے ہم جنسوں اور اپنی ذات کی نسبت کیا ۔ مسیحی دین کی خوبی کی یہ ایک عمدہ دلیل ہے کہ کہیں تو وہ چھوٹے چھوٹے فرائض کا مفصلاً بیان کرتا ہے اس غرض سے کہ شائد اپنی کم عقلی کے سبب ہم غلطی نہ کریں ۔اور کہیں ایسے مختصر سے جملہ میں کل قواعد حکم اور قانون کا اختصار کرتا ہے کہ ہر ایک آسانی سے اُسے حفظ کرلے اور نہایت آسانی کے ساتھ اُس کا اطلاق اپنے اعمال اور زندگی پر ہر وقت کرسکے ۔چنانچہ ربنا یسوع مسیح نے کیا عمدہ خلاصہ تمام شریعت اور اخلاقی تعلیم کا ہم کو صرف چند حروف میں بتا دیا ہے کہ خُداوند اپنے خُدا کو اپنے سارے دل سے اپنی ساری جان سے اور اپنی سارے زور سے پیار کر اور اپنے ہمسایہ کو ایسا پیار کر جیسا کہ تو آپ کو کرتا ہے ۔پھر ایک اور جگہ کل انسانی فرائض کا عمدہ خلاصہ ان چند حروف میں کر دیا کہ جیسا کہ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں ویسا ہے تم بھی اُن کے ساتھ کرو۔
قابل تعریف یہ امر ہے کہ عمدہ اختصارات جو گویا دریا بلکہ سمندر کو کوزہ میں بند کرنے سے مشابہت رکھتے ہیں اس قدر صاف اور صریح ہیں کہ جاہل سے جاہل بھی آسانی سےاُن کو سمجھ سکتا ہے۔ظاہرہے کہ الہٰامی تعلیمات کی جیسے ضرورت علماء کو ہوتی ہے ویسی ہی بلکہ غالباً اُس سے زیادہ جہلا کو۔ علمی لحاظ سے خواہ اُن دونوں میں کیسا فرق کیوں نہ ہو ایک بات میں دونوں یکساں ہیں کہ دونوں کو اعمال حسنہ اور ایمان مستقیم کی ضرورت ہے اور مسیحی دین ہی اپنی کمال خوبی اور فضیلت سے دونوں کی یکساں حاجت روائی کرتا ہے ۔مسیحی دین مشہور مسئلہ ''بے علم نتواں خُداراشناخت '' کو غلط ٹھہراتا ہے اور کہتا ہے کہ عالم و بے علم یکساں عرفان الہٰی ،روحانیت اورتقدیس حاصل کرسکتے ہیں دُنیا کے بعض مذاہب صرف علماوحکما کے واسطے ہیں اُن کی باریکی اور لطافت صرف عالم ہی سمجھ سکتے ہیں اور اُن سے صرف وہی لوگ حظ اُٹھا سکتے ہیں جو مذاق علمی رکھتے ہیں ۔پر مسیحی دین اپنے آپ کو جہلا تک لے جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جہلا کی تعداد اس دُنیا میں نسبتاً عالموں سے بہت زیادہ ہے اوران کے دلوں میں الہٰی مزاج اورعادات پیدا کرتا ہے ۔ چنانچہ ربنا یسوع مسیح کے دین میں گو الہٰی راز اتنے ہیں کہ کامل عالموں کی تدقیقات (باریک بینی، سوچ بچار)بھی ناکامیاب ہو جاتی ہے پھر بھی صاف ایسا ہے کہ ہر فرد ضروری امور میں آسانی سے واقفیت بلکہ کمال حاصل کرسکتا ہے۔ یہ کہنا کچھ مبالغہ نہیں ہے کہ ایک عام سمجھ کا آدمی مسیحی دین کی کتب کو دیکھ کے اپنے ایمان اور دستور العمل کے واسطے ایسا طریقہ نکال سکتا ہے جو عالم سے عالم شخص بغیر اس مدد کے نہیں کرسکتا۔ یہ مسیحی دین کا ہی طفیل ہے کہ فی زمان تناسب سے کم لیاقت کے شخص بھی اخلاقی فرائض وغیرہ میں قدما(قدیم کی جمع) سے (جن کو اپنی تحقیقات میں عرق ریزی کرنی پڑی )زیادہ ماہر ہیں۔ اس صورت سے یہ بات درست ہے کہ آسمانی بادشاہت کا سب سے چھوٹا بھی یعنی ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا مسیحی سقراط ،بقراط ، افلاطون وغیرہ سے زیادہ بڑا ہے۔ جس طرح کمزور نظر والا شخص دن کی روشنی میں بہ نسبت اُس شخص کے جو تیز نظر پر رات کی تاریکی میں ہو زیادہ دیکھ سکتا ہے۔ اُسی طرح ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ اور علم کا مسیحی آدمی الہٰی آفتاب صداقت کی روشنی کی امداد سے زیادہ دیکھ سکتا ہے بہ نسبت اُن لوگوں کے جو باوجود اپنی تیز اور باریک بین عقل کی زیادہ کے پھر بھی اپنی فلاسفی کی ظلمت اور اپنے وہم کے ڈھکونسلوں میں ٹکریں مارا کئے۔


13۔ہمسایہ سے وہی لوگ مراد نہیں ہیں جو ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں بلکہ کل نبی نوع انسان جو ہمارے بھائی ہیں ۔اس خیال سے کہ جس اللہ کے سایہ میں تم رہتے ہیں اُسی کے سایہ میں وہ بھی رہتے ہیں ۔

ایم حنیف

ہم اس عجیب امر کو ناظرین کتاب ہذا کے دل پر خاص طور سے منقش کرنا چاہتے کہ ان عجائبات وغرائبات سے لبریز مسائل کو قلمبند کرنے والے وہ لوگ تھے جو یہودیہ جیسے کم علم مُلک کے رہنے والے اور پھر عموماً ادنیٰ درجہ کے ماہی گیر تھے جن کو بڑی تعلیم تلقین اورتربیت حاصل نہ ہوئی تھی ۔ بلکہ جو اپنی سادگی اور سادہ روی کے سبب جہلا کے زمرہ میں گنے جاتے ہیں۔ تعجب ہزار تعجب ہے کہ پھر بھی اُن کی تحریر روم اور یونان اور ہند کے عالی دماغ فیلسوفوں سے زیادہ پاک اور صاف ہے جنہوں نے علمی اور عقلی ترقیات کوعالی رتبہ پر پہنچایا تھا۔ سچی فلاسفی ، اخلاقی تعلیم اوردُنیاوی دستور العمل میں یہ جاہل اور ادنی درجہ اورعقل کے ماہی گیرتمام روئے دُنیا کے معلم ہوگئے ۔یہ سب خُداوند یسوع مسیح کے طفیل سے ہوا جو اکیلا حقیقی اور سچا ہادی ہے۔ اُسی کے الہٰام پاک کی بدولت ایسے ایسے کارنمایاں ظاہر ہوئے ۔مسیحی دین کے منجانب اللہ ہونے کی ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی دلیل یہ ہے کہ اور مذہب کے موجد اپنے اپنے مُلک اورزمان کے علموں میں زیرک اور بڑے ماہر تھے اورتو بھی اُنہوں نے کبھی بھی ایسے بالکل پاک اور روحانی تعلیم نہ دی جیسا کہ مسیحی دین کے پیشواؤں نے جو عموماً جاہل اورکم علم تھے۔ چنانچہ ملحد (بے دین )اور کافر لوگ اگر کوئی اعتراض مسیحی دین کی نسبت پیش کرتے ہیں تو یہ ہے کہ مسیحی دین اتنا زیادہ خوب اور پاک اورروحانی تعلیمات سے پُر ہے کہ خاکی انسان کو اس دُنیا میں اُس کے موافق عمدہ اور روحانی زندگی بسر کرنا مشکل ہے۔ یعنی یہ کہ اُن لوگوں کو مسیحی دین کی لاثانی فضائل سے تو مطلق انکار نہیں پر اگر اعتراض ہے تو یہ کہ اس فانی اور خاکی جسم میں رہ کے اُس کے عمدہ احکامات اور تعلیمات کی پوری تعمیل نہیں ہوسکتی ۔

سوم :۔ مسیحی دین کا ایک عام اورعمدہ اصول یہ ہے کہ مردہ اور بے سمجھ ایمان کوقبول نہیں کرتا بلکہ صاف اجازت اور حکم دیتاہے کہ ساری چیزوں کو آزماؤ سب سے بہتر کو قبول کرو(1۔تھسلنیکیوں 5: 21)اور دین کہتے ہیں کہ ایمان لاؤ اور عقل کو بالکل دور کردو ۔پر مسیحی دین اپنی الہٰی بنیاد سے واقف ہے اورخوب جانتا ہے کہ ہر چند لوگ اس کو بُری اور ہٹ دھرمی کی نظر سے دیکھیں پھربھی اس کی روحانی اور جاودانی فضیلتیں بڑے موثر طور پر خود کر ظاہر کردیں گے حتیٰ کہ لوگ خود اس کی خوبی اور عمدگی کے قائل ہوجائیں گے ۔پس یہ فرماتا ہے کہ مجھے پرکھو اور خوب ٹھنٹھنا کے پرکھو۔ مجھے آزماؤ اور خوب آزماؤ ۔مجھے دیکھو اور خوب دیکھو تب اگر مَیں تمہاری پسند کے لائق اورتمہاری حاجات روا کرنے والا اور حقیقت میں تمہارا وصال خُدائے قدوس سے کرنے والا ثابت ہوں تب مجھ کو قبول کرنا ورنہ تمہاری مرضی۔ اور دینوں کی طرح یہ ڈرتا نہیں کہ کہیں کوئی بدی یا نقص ظاہر ہوجائے ۔ کیونکہ یہ جاننا ہے کہ اس کا بھیجنے والا اللہ تعالیٰ ہے جو سارے نقص وقبح سے بری ہے۔ اور حکم دیتا ہے کہ جس کا جی چاہے اس پرکھے۔اگر یہ دین بلا دلیل قبول کرلیا جائے تو شاید فضول ہوگا ۔ پر اس دین کی خوبی اور عمدگی کی دلیل خود اُس میں موجود ہے۔ مثلاً صرف مسیحی دین ہی دُنیا میں خالص نیکی اور سچی دینداری کی سب سے عمدہ ترغیب دیتا ہے ۔ خود محبتی کے عوض الہٰی محبت دل میں پیدا کرتا ہے ۔خود غرضی کو نکال کے عام کی بہبودگی اور بھلائی کابیج لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ کس مذہب نے بنی نوع انسان کی اس قدر بھلائی کی کہ غلامی کو ناجائز ٹھہرایا ۔کس دین نے عورتوں کو پھر سے وہ درجہ دیا جو اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں اماں حوا کو دیا تھا جو سب سے پہلی عورت تھی۔ کس مذہب نے روحانی بت پرستی اور جسمانی صنم پرستی کی ایسی بیخ کنی کی جیسی کہ مسیحی دین نے۔ کس دین نے اپنے پیروؤں کو دُنیا میں ایسا بنادیا کہ وہ گویا فرشتے ہیں جو آدمی کے جسم میں ظاہر ہوکے دُنیا میں نمودار ہوئے ہیں ۔ کس دین نے انسانی بے اعتدالیوں اور شہوتوں پرہیزگاری سے بدل ڈالا۔ کس نے انسانی غرور اور ناانصافی کو فروتنی رحم اور عدل سے بدل ڈالا ۔وہ دین کونسا ہے جس نے لوگوں کے دلوں کو روحانیت اور تقدیس کا مزہ دکھایا۔ بالا نفراد دُنیا کے مذاہب کا مقابلہ الہٰی مذہب مسیحی سے کرلو اوردیکھ لو کہ یہ خُدا کا دین اپنی اندرونی خوبیوں اور فضیلتوں کے باعث سب سے افضل تر اوراعلیٰ تر ہے یا نہیں ۔


14۔راقم الحروف کی یہ غرض نہیں ہے کہ کتاب ہذا میں بحث مباحثہ کے طور پر کسی خاص مذہب کی تردید کرے یا اُس کے بانی اور موجد کی بدی اور نقص کو ظاہر کرے۔ تو بھی یہاں اس میں مشہور مسئلہ کی طرف اشارہ کرنا کہ بنی عرب اُمّی تھے بیجا نہیں ہے۔ اس بے بنیاد مسئلہ کو علمائے متقدمین ومتاخرین نے بالکل غلط ثابت کردیا ہے اور کچھ بھی ضرورت نہیں ہے کہ بار بار طے شدہ مسئلہ پر پھر سے کچھ لکھا جائے۔ راقم نے اس مسئلہ کو بڑے غور اور انصاف سے دیکھا اور بلاتعصب دینی کہتا ہے کہ اس کو اُس نے غلط پایا۔

ایم حنیف

مسیحی دین کی ایک اورعمدہ فضیلت یہ ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں کو گناہ سے قائل کرتا اور اُن میں توبہ اور ایمان پیدا کرکے مضطرب دلوں اور ضمیروں کو تسلی دیتا اور بے قرار جانوں کو ایسی خوشی بخشتا ہے جو بیان سے باہر ہے ۔ ان امور کو ہر ایک سچا مسیحی اپنے ذاتی تجربہ سے جانتا ہے۔ یہ تجربہ کی بات ہے جس کی کیفیت تحریر میں نہیں آسکتی ۔مسیحی شخص دُکھ درد اور آفت بلکہ موت میں بھی خوش رہتاہے۔ آیندہ زندگی کی خوشی کا کچھ ایک ثبوت اگرہو سکتا ہے تو حال کی زندگی کی خوشی سے ہوسکتا ہے جو خُداوند یسوع دیتا ہے اسی سے ہم قیاس کرسکتے ہیں کہ ربنا یسوع مسیح کا دین سچا ہے۔ کیونکہ یہ ہم کو صرف آیندہ خوشی کی اُمید یایقین ہی نہیں دیتا بلکہ حال کی زندگی میں جسے دُکھوں کی زندگی کہنا زیادہ موزوں ہے ایسے طور پر خوشی اوراطمینان دل میں پیداکردیتا ہے کہ گویا انسان کو اسی دُنیا میں بہشت کا نہ صرف نظارہ بلکہ مزہ دکھا دیتا ہے۔ یہ خوبی صرف اسی دین کی ہے ۔اور بے شمار مذاہب جو تختہ دُنیا پر مروج ہیں کسی قدر اُمید دیتے ہیں کہ ایسا ہوگا یا ویسا ہوگا ۔ پھر یہ دین وہ چیزیں دکھاتا ہے جو آنکھوں نے نہیں دیکھیں اور وہ باتیں سُناتا ہے جو کانوں نے نہیں سُنیں ۔بلکہ وہ خوشیں دکھاتا ہے جو انسانی دل نے کبھی نہیں دیکھی تھیں وہ مذہب یاطریقہ کس کام کا ہے جو ہم کو خوش نہ کرے اور آیندہ زندگی کی بات کوئی پختہ اور یقینی بات نہ بتائے بلکہ یوں ہوگا اوردوں ہوگا میں رکھے ۔ مذہب وہی کام کا ہے جو نہ صرف کہے کہ یہ ہوگا بلکہ اُس کو آنکھوں سے دکھاؤے اور پھر کہے کہ دیکھ یہ آغاز ہے۔ کمال اس سے بڑھ کے ہے ۔ غرض کہ جس اصلی مقصد سے کسی دین کومانا جاتا ہے وہ مطلب صرف مسیحی دین میں پورا ہوتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ بدمزاج اورگنہگار انسان کو بدل کے اُس میں الہٰی مزاج اورفرشتہ خو پیدا کرے ۔ اور پھر یہ کہ اُس کو گناہوں کی معافی کی اُمید دے جس اُمید کا یقین تجربہ سے کردے۔

ہماری غرض اس بیان سے یہ نہیں ہے کہ مسیحی دین کی صداقت کو ثابت کریں کیونکہ یہ مرحلہ اور لوگوں نے ہم سے پہلے اور ہم سے بہتر طور پر اپنی نادر تصانیف میں اچھی طرح طے کرلیا ہے ایسا کہ اب کوئی ادق(نہایت مشکل) باقی نہیں ہے۔ تو بھی مسیحی دین کے منجانب اللہ ہونے کا بیان کرتے وقت شاید معجزے اور پیش گوئی کی طرف اشارہ کرنا (جو کثرت سے مسیحی دین میں پائے جاتے ہیں)نامناسب نہ ہوگا ۔ مسیحی دین کے ثبوت میں جو فوق الفطرت اور خرق عادت(عادت اور قانون قدرت کے خلاف انوکھی بات) کام خُدا کے بندوں نے کئے اُن کا اس کثرت سے اور جابجا ذکر ہے کہ عقل حیران ہو کے اُن کو تسلیم کرلیتی ہے۔اور حیرانی کی غائت یہ ہے کہ نہ صرف مسیحی مذہب کے طرف دار بلکہ اُس کے بڑے بڑے مخالف بھی دم نہیں مار سکتے کہ یہ بات غلط ہے کیوں کہ فی زمانہ ہم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کون کون سی پیش گوئی آجکل پوری ہورہی ہے۔

مسیحی دین کی ایک اور خاص خوبی یہ ہے کہ یہ انسان کی بگڑی ہوئی ذات اور عادت کے بالکل خلاف ہے۔ اور مذاہب میں بعض کاموں کی (جو مکروہ ہیں) بعض بعض حالتوں میں اجازت دے گئی ہے۔

مثلاً دروغ مصلحت آمیز کے کرنے اور راستی فتنہ انگیز کے نہ کرنے کی یا بالا جبار کسی نیکی کے کام کو کرانے کی یا کسی خاص حالت میں ایسی بات کو جائز سمجھنے کی جو حقیقت میں ناجائز ہے جیسا کہ بعض مذاہب کے دل سے کوئی کام کرنا خواہ وہ کیسا ہی بُرا کیوں نہ ہو بشرطیکہ اُس سے ہمارا فائدہ مقصود ہو اور اور ایسی باتوں کی اجازت ہے پر مسیحی دین عالمگیر پاکیزگی اور تقدیس کو طلب کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ اس کا اظہار روزمرہ کے کاموں اور زندگی میں کرنا ضروری ہے مسیحی دین کہتا ہے کہ بدی مت کرو کہ نیکی اُس سے نکلے۔ جھوٹ مت کہو تاکہ تم سزا سے بچ جاؤ ۔ وغیرہ اگر یہ دین آدمی کا بنایا ہوا ہوتا تو ضرور اس میں ایسی تعلیمات ہوتیں جو آدمی کی ذات سے نکلتیں ۔پر یہ تو انسانی ذات کی کامل مخالفت کرتا ہے گویا اس نے بیڑا اُٹھایا ہوا ہے کہ جہاں تک ہو سکے گا انسانی ذات کی مخالفت کرے گا۔ حتی کہ وہ اپنی بدی اور بدذاتی سے باز نہ آئے ۔ اور جب تک کہ ایسا نہیں ہو جاتا بالکل اور کامل مخالفت ہی کرتا چلا جاتا ہے ۔ قیاس نہیں چاہتا ہے کہ وہ دین جو انسانی ذات کے ایسا خلاف ہو انسانی ذات سے نکلا ہو۔ ایں خیال است ومحال است وجنوں ۔ عالمگیر پاکیزگی کا شوق ناپاک طبیعت سے کیوں کر پیداہوسکتا ہے۔

مسیحی دین کی ایک اور فضیلت یہ ہے کہ یہ بے تلوار فاتح ہے۔ جب یہ دین دُنیا میں آیا تو اُس وقت بہت سے مذاہب جاری تھے۔ لوگ اپنے ذاتی فوائد کے لحاظ سے اپنے اپنے دینوں کے ساتھ ایسے وابستہ تھے کہ اگر یہ دین اُن کی بیخ کنی نہ کرتا تو ممکن نہ تھا کہ کسی طرح وہ شکست پاتے ۔ مسیحی دین نے جو گنہگاروں اور متنفر لوگوں کا دین کہلاتا تھا ۔ محض اپنی الہٰی تاثیرات سے روئے زمین کے سارے دینوں کوشکست دی۔ یہی اکیلا دین ہے کہ کل تختہ دنیا کے موزوں ہے ۔مثلاً محمدیوں کو پولنڈکے ملک میں روزہ رکھنا اور وضو کرکے نماز ادا کرنا محال ہے۔ ویسا ہی ہنود(ہندو کی جمع) کو دوسرے ملکوں میں جا کے اپنے مذہب کی قیود میں رہنا مشکل ہے۔ پر مسیحی دین جس کا علاقہ دل سے ہے اورجو جسم سے جسمانی اطوار سے چنداں سروکار نہیں رکھتا ایک ایسا دین ہے کہ کل روئے زمین پر یکساں مفید اور مناسب نظر آتا ہے مسیحی دین ہر ایک فردبشر کی حالت کے موزوں ہے ۔ خواہ وہ کسی قوم اورکسی فرقہ کا کیوں نہ ہو اور مذاہب محدود ہیں اور مقررہ حدود سے باہر نہیں جاسکتے پر یہ دین کوئی بیرونی قیود نہیں لگاتا خُدا کا کلی قاعدہ یہ ہے کہ وہ اپنی برکتوں اور نعمتوں کو محدود نہیں کرتا بلکہ تختہ دُنیا کے ہر ایک فرد پر نازل ہونے دیتا ہے۔ آفتاب روشن تاب کی شعاعوں کی طرح مسیحی دین بھی (بغیر کسی قید کے)جدھر جاتا ہے زندگی روشنی اورگرمی عطا کرتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب مسیحی دین دُنیا میں جاری ہوا تو وہ لوگ جن میں یہ دین پہلے پہل جاری ہوا تھا اس کے سخت مخالف تھے یہاں تک کہ انہوں نے اس کے بانی کو مروا دیا اور اس کے بہت سے پیروؤں کو طرح طرح کے تصدیعہ (تکلیف)اوردُکھ دئیے ۔اوراُن میں سے اکثر وں کو مار دیا۔ تو بھی یہ دین بسبب اپنی الہٰی تاثیرات اور خوبیوں کے اُن لوگوں پر غالب آیا اُس ملک میں سمایا بلکہ اور دور دراز ملکوں میں گیا اور اُن کو فتح کیا۔ سلطنتیں ریاستیں اور حکومتیں اُس کے مخالف ہوئیں اور کمربستہ ہو کے اس کی بربادی کی کوشش کرنے لگیں پر اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین اُن سے ذرہ بھی نہ ڈرا۔ فوجیں اور بادشاہتیں بار ہا بار اکھٹی ہوئیں اس لیے کہ اس دین کے نام ونشان کو تختہ دینا پر سے مٹا ڈالیں پر اُنہوں نے خود ہی شکست کھائی اور مجبور ہوکے بولے ''اے یسوع ناصری تو ہم کو جیتا''۔طرفہ یہ کہ اس دین کے پیروؤں کے ہاتھ میں نہ تلوار تھی نہ اُن کو کسی قسم کا اختیار یا زور تھا۔ پر آخر مسیحی دین فتحیاب ہوا ۔ ہر ایک غالب پر غالب آیا اوردشمنوں کے سر کو اپنے پاؤں تلے کچل ڈالا۔

چہارم :۔ اب ہم ذرہ واضح اور مشرح طور پر اس امر کا بیان کرتے ہیں کہ مسیحی دین مذہب کی علت غائی کوکامل طور پر پورا کرتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ہم کو گناہوں کی معافی کی اُمیدوار روز مرہ کے برتاؤ اور زندگی میں نیکی اور روحانیت کی ترغیب دے کر اس لائق بنائے کہ جب ہم یہ جسم چھوڑ دیں تو الہٰی قربت میں رہنے کے لائق ہوں۔

ظاہر ہے کہ اگر کوئی چاہے کہ کوئی امرا ایسے طور پر پیش کرے کہ سامعین اُسے ضرور قبول کریں اور اُس سے موثر ہوں تو دو امروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اول یہ کہ جو کلمے وہ استعمال کرتا ہے ضرور ہے کہ پورے ذی اختیار کی طرف سے ہوں ۔ دو م وہ کلمے ہم سے ایسا ضروری علاقہ رکھیں کہ سزا اور جزا کا انحصار اُن پر ہو۔ ان کے سوائے اگر متکلم کا یا جس کی طرف سےمتکلم کلام کرتا ہوا سکا کسی قسم کا احسان بھی ہم پر ہو تو اور کوئی امراُسکے کلام سے زیادہ ترغیب نہیں دے سکتا کہ اُس کے حکم کو تسلیم کرکے اُس کے بموجب عملدرآمدکریں۔ صاف الفاظ میں یہ کہ جب ہم کسی کے حکم کو مانیں تو پہلی بات یہ ہے کہ آیا وہ حکم کسی صاحب اختیار شخص سے آیا ہے کہ نہیں ۔ دوسرے اُس سے ہماری بھلائی بُرائی وابستہ ہے کہ نہیں ۔ اور پھر یہ کہ آیا حکم دینے والے نے ہم پر کوئی ایسی خاص مہربانی کی ہکے جس کے سبب ہم اُس کے دل سے مشکور ہیں۔ اگر ایسا ہو تو ہم بالضرور اُس کے حکم کو مانیں گے ۔ حکم منوانے کی اس میں اور صرف اس میں سب سے زیادہ ترغیب ہے۔

مسیحی دین میں اور صرف مسیحی دین میں یہ تینوں باتیں پائی جاتی ہیں ۔ مسیحی دین کا بانی مبانی جیسا کہ اوپر ثابت ہوچکا جناب باری تعالیٰ ہے۔ اُس کے راز خواہ کیسے مشکل کیوں نہ ہوں تو بھی یہ بدیہی ہے کہ وہ ہمارا خالق مالک پروردگار اور ہمارا حاکم ہے ۔ پس ضرور ہے کہ ہم اُس کے احکام مانیں خواہ وہ ہم کو کیسے ہی معلوم کیوں نہ ہوں ۔ پس مسیحی دین کہتا ہے کہ ''خُداوند فرماتا ہے رب الافواج کہتا ہے ۔ خُدانے یہ باتیں فرمائیں ۔خُداوند کا کلام ہے وغیرہ ۔گویا ہر ایک حکم اور ہر ایک نصیحت کو یہ دین اللہ تعالیٰ سے متعلق کرتاہے اوراُسی کو اُس کا بانی مبانی بتاتا ہے۔یہ بات مسیحیوں کی چال اور رفتار پر ایک قسم کی قید کا اثر رکھتی ہے اور اُنہیں پابزنجیر (پاؤں کی زنجیر )کر دیتی ہے ۔مسیحی شخص یہ دیکھتا ہے کہ جو حکم اُسے ملا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس لیے وہ بغیر کسی اور پوچھ پاچھ یا اعتراض کے اس کو قبول کرتا اور اُسے پورا کرتا ہے۔غرض کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو دیکھ کے مسیحی شخص اپنی نفسائیت کے ہوا وہوس کے پیچھے نہیں جاتا بلکہ بیشتر اللہ تعالیٰ کے پیچھے پیچھے جاتا ہے۔ اوراُسی سے چپٹا رہتا ہے ۔ اس باب میں مسیحی دین دُنیا کے اور تمام مذاہب سے بڑی فوقیت رکھتا ہے کہ اس کے احکام اللہ کے احکام ہیں اور اللہ سے بڑھ کے کسی کا حق نہیں ہے کہ اُس کے حکم بلاکم وکاست مانا جائے ۔ بعض اور مذاہب کا دعویٰ تو ہے کہ ہم منجانب اللہ ہیں پر دعویٰ ہی دعویٰ کام نہیں کرتا۔ دلیل بھی ہونی چاہیے ۔ اور اُن کے منجانب اللہ ہونے کی دلیل مقصود ہے۔

علاوہ ازیں سزا وجزا کا جو ذکر مسیحی دین کرتا ہے وہ ایسا ہے کہ اللہ کے مناسب ہے۔ اوراُن لوگوں کے حال کے موزوں ہے جو ابدیت میں رہنے کو ہیں۔ اور مذاہب میں جو سزا وجزا کا بیان ہے اُس کا مقابلہ اُس بیان سے کرکے دیکھ لو جو مسیحی دین میں پایا جاتا ہے کہ بالمقابل وہ کیسے لچر اور بے ہودہ سے معلوم ہوتے ہیں۔ برخلاف اُن کے مسیحی دین کما ل صداقت سے ایسا بیان کرتا ہے کہ وہ خواہ مخواہ دل پر اثر کرتا ہے اور مجبور کرتا ہے کہ انسان الہٰی احکام کی تعمیل کرے۔

سزا وجزا کا عمدہ نظارہ جو مسیحی دین انسان کی آنکھ کے آگے دکھاتا ہے ایسا اعلیٰ درجہ کا ہے کہ ایسا دل کش اورموثر بیان کہیں اور پایا نہیں جاتا اور بقول شخص اگر یہ بیان گنہگار کو بدی کی بدحالی اور گناہ کی بدی کودکھانے کے واسطے کافی نہیں ہے۔ تو اور کوئی بیان ہی نہیں ہو سکتا جو دل پر اثر کرے۔ ابدیت کا خیال بڑا سنجیدہ خیال ہے۔ اور ابدی سزا یا ابدی خوشحالی کا خیال دل پر اگر کوئی اثر پیدا نہ کرے تو دُنیا بھر میں اور کونسا خیال ہے جو اثر کرے گا۔ جادو اثر خیال جسے کہتے ہیں وہ محض یہی ہے کہ انسان اپنی آیندہ کی حالت کو کہ وہ کیسی ہوگی دیکھ کے موثر ہو۔

مسیحی دین کی ایک اور اعلیٰ درجہ کی فضیلت یہ ہے کہ انسان کو سب سے بھاری بوجھ یعنی لطف ،مہربانی اور رحم سے ایسا موہ لیتا ہے کہ دل فرمانبرداری کی طرف خواہ مخواہ مائل ہوجاتاہے۔ مسیحی دین انسان کو صرف دینی اور دنیوی فرائض ہی عمدہ طور پر نہیں بتاتا جیسا کہ اور مذاہب کرتے ہیں اور اُن کی مانند یہی نہیں کہتا کہ خُدا ہماری زندگی اور وجود کا خالق ہے اور اُسی سے ہم دُنیاوی برکات حاصل کرتے ہیں بلکہ اور بھی آگے جاتا اور کہتا ہے کہ خُدا ہمارا باپ ہے اور کہ گنہگار کے گناہ دور کرنے اور اُسے سزا ئے ابدی سے بچانے کی غرض سے اُس نے ایسا پیار کیا کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو اُس کی خاطر موت کے حوالہ کیا کہ وہ بچ جائے ۔ اس محبت کی آواز کو سن کے انسان کا دل اپنی بدی سے ایسا نفرت کرنے لگتا ہے اور خُدا کے رحم کا ایسا گرویدہ ہوجاتا ہے کہ بنا چوںو چرا سر تسلیم خم کرتا اور نادم اورخجل ہوکے ارادہ کرتا ہے کہ ہوسو ہو مَیں ہرگز اللہ کی حکم عدولی نہ کروں گا ۔ دنیاوی برکتیں جو خُدا کی پروردگاری اور خلقت کے کام کثرت سے نظر آتی ہیں خواہ کیسی ہی بے شمار اور پُر قدر کیوں نہ ہوں خُدا کی محبت کے سامنے جو گناہوں کی معافی کے باب میں ظاہر ہوئی ہیں سب کی سب دھندلی سی معلوم ہوتی ہیں۔ جس محبت کا بیان اس لاثانی طریقہ سے کیا گیا ہے کہ پتھر سے پتھر دل بھی موم ہوجائے چنانچہ لکھا ہے کہ ''جب ہم گنہگار تھے تو مسیح ہمارے واسطے موا''(2۔کرنتھیوں 5: 14۔15)۔اس محبت کے بیان کی کشش نے ہزار ہا ہزار لوگوں کے دلوں کو خُدا کی طرف کھینچ لیا۔ اور اُن کی سرکشی اور بغاوت خود روی اور خود راہی سے علیحدہ کرکے فرمانبردار اور تابعدار بنادیا۔ اور کون سا دین ہے جس میں اس سے زیادہ یا اس کے برابر کشش کرنے کے وسائل موجود ہیں۔ سچ ہے کہ مسیحی دین ہی ایسا دین ہے کہ انسان کے دل کو نہ صرف اپنی صداقتوں اور خوبیو ں سے جذب کرلیتا ہے بلکہ اس محبت کے اظہار کے بیان سے جو ربنا یسوع مسیح کے وسیلے ظاہر ہوئی انسان کے دل کو ایسا لُبھالیتا ہے کہ انسان اپنا نہیں رہتا بلکہ خُدا کا غلام اورحلقہ بگوش بن جاتا ہے اور یہی خاص مقصد مذہب کا ہے۔


فصل پنجم

ایمان کا مدعا خُداوند یسوع چندا عتراضوں کے جواب

مسیحی دین کے مخالف شروع سے ہوتے چلے آئے ہیں اور زمانہ سلف میں مسیحی دین نے اُن سے بہت دُکھ اُٹھایا ۔مخالفوں نے یہاں تک بارہا چاہا اور کوشش کی کہ اس دین کا ستیاناس کردیں پر کامیاب نہ ہوسکے۔ اُنہوں نے اپنے چیدہ چیدہ اور سب سے پُر زور تیروں کی بچھاڑ اس دین پر چلائی پر اس کا ایک بال بھی نہ ہلا سکے۔ مسیحی دین نے اعتراضوں کے دندان شکن جواب دئیے اور اُن الہٰی تاثیروں اور خوبیوں کے سبب جو خُداوند یسوع مسیح کے سبب اسے حاصل ہیں قائم اورغالب رہا۔ تعجب کی بات ہے کہ فی زمانہ مخالفین مذہب عیسوی جو اعتراض پیش کرتے ہیں اُن میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو زمانہ سلف میں نہیں ہوچکے اور جن کا جواب قدما نے پہلے سے نہیں دے دیا۔ اور وہ جواب ایسے باثواب ہیں کہ جائے چون وچرا باقی نہیں چھوڑ تے اُن تمام اعتراضوں کا جواب دینا جو مسیحی دین پر یا اُس کے بانی پر ہوچکے اور ہوتے ہیں اس چھوٹے سے رسالہ میں ناممکن ہے۔ کیونکہ جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ پر ہم مختصر اً چند بڑے بڑے اعتراضوں کا جواب دیتے ہیں جس سے معلوم ہوجائے گا کہ مسیحی لوگ کس آسانی سے معترضوں کا منہ بند کرسکتے ہیں۔ جو اعتراض ہم نے چنے ہیں اُن کو دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ مخالفین نے اُن کو بڑا پُر زور سمجھ رکھا ہے اور یہ امر ہمارے اوپر کے بیان کی زور سےتائید کرے گا کیونکہ جس حال ایک ادنیٰ سا مسیحی بڑے بھاری اعتراضوں کا یوں جواب دے سکتا ہے تو اور اعتراض کا کیا حال ہے۔

مسیحی دین کے مخالف اکثر بہت سے ایسے بیہودہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اُن پر مسیحیوں کو توجہ کرنابھی ناکارہ سا کام معلوم ہوتا ہے اسی سبب سے اکثر اُن کی بابت عاقلانہ جواب خاموشی دیا کرتے ہیں۔ گویا یہ دکھاتے ہیں کہ بعض ایسے بے ہودہ سے اعتراض ہیں جو جواب کے لائق بھی نہیں ہیں۔

اکثر وحدانیت محض اور نیچر کے پرستار کہا کرتے ہیں کہ مسیحی دین میں اتنے راز اور مخفی(پوشیدہ) بھید ہیں جو سمجھ میں نہیں آتے اور اس سے معلوم ہوتاہے کہ مسیحی دین قبولیت کے لائق نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں تثلیث فی التوحید ۔مسیح کا مجسم اور کفارہ ہونا وغیرہ ایسے اہم اور ادق(نہایت مشکل) مسائل ہیں کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتے۔ اس اعتراض اور اس قبائل کے اور اعتراضوں کا مختصر جواب چند کلموں میں یوں ہوسکتا ہے کہ انسان محدود عقل والا ہے۔ اور اگر یہ لامحدود شخص کی راز اور پالیسی کو سمجھ نہ سکے تو کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ جب انسان انسان کے اکثر رازوں اور پالیسوں سے واقف نہیں ہوتا تو کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ خُدائے غیر محدود کے راز سمجھنے کی جرات کرسکتا ہے۔ خُدا غیر محدود ہے اور انسان محدود محدود غیر محدودکو کامل طور پر ہرگز سمجھ نہیں سکتا۔ ورنہ غیر محدود محدود میں سما گیا اور مقید ہوگیا۔ پس کیا اس لیے کہ غیر محدود محدود میں نہیں سما سکتا محدود یہ کہہ سکتا ہے کہ غیر محدود کچھ نہیں ہے کیونکہ مجھ میں سماتا نہیں ہے۔ اگر ایسا کہے تو اپنی جہالت اور محدودیت کو ہی ثابت کررہا ہے ۔ کیا اس لیے کہ خُدا مٹھی میں نہیں سما سکتا کوئی کہہ سکتا ہے کہ خُدا ہے ہی نہیں ۔ یا اس لیے کہ سمندر کوزہ میں نہیں سماتا کوئی کہہ سکتا ہے کہ سمندر کسی کام کانہیں ہے کیونکہ مجھ میں نہیں آ جاتا خُد ا کے بھید لا محدود شخص کے بھید ہیں۔ مناسب ہے کہ معترض خُدا کی ذات وصفات کی نسبت اعتراض کرنے سے پہلے ذرا اپنی ذات کی نسبت پورےطور پر سمجھ لیں تب ذرا سراُٹھا کے دیکھیں کہ اُن کواعتراض کا موقعہ ہے کہ نہیں۔ جب انسان خود اپنی ذات کی نسبت یہ نہیں سمجھ سکتا کہ جسم جو مادی ہے روح کے ساتھ جو غیر مادی ہے کیا علاقہ رکھتا ہے اور کیونکر علاقہ رکھتا ہے تو کس منہ سے الہٰی راز اور الہٰی ذات کی بابت یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتے اس لیے ہم ان کو تسلیم نہیں کریں گے ۔اے ذی شعور پہلے خود کو تو اچھی طرح سے سمجھ لے۔تب ہی اللہ پر حرف گیری کریو۔ اپنے چار وں طرف نظر ڈال کے دیکھ کہ تجھے کیا بے حد راز اور بھید نیچر میں نظر نہیں آتے ہر ایک شے کی بناوٹ اور ترتیب میں راز ہے۔ جب نیچر میں راز ہیں کہ آدمی ان کو سمجھ نہیں سکتا تو کیا عقل تسلیم کرتی کہ محض اس لیے کہ مسیحی دین میں بہت سے راز ہیں تو مسیحی دین قابل تسلیم نہیں ہے ۔پہلے تو اس چھوٹے سے نیچری مسئلہ کو طے کرلے کہ کیوں کر ایک چھوٹا سا ذرہ لا محدود حصص (حصہ کی جمع)میں منقسم ہوسکتا ہے۔ پہلے مقناطیسی کشش کی پوری ماہئیت سمجھ لے۔ پہلے یہ سمجھ لے کہ بے جان غذا جو ہم کھاتے ہیں کس جگہ اور کس موقعہ پر جاندار خون بن جاتی کہے کیوں کر کاربن جو زہر ہلا ہل اور کالا سیا ہ مبدل ہو کے ہیر ا بن جاتا ہے پہلے یہ بتا دے کہ مادہ میں کشش جزوثقل کیوں اور کیا ہے۔پہلے یہ سمجھ لے کہ روح پر جو غیر مادی ہے مادی چیزوں کا کیوں کر اثر ہوتاہے ۔ اگر تو پہلے ان اور اس قسم کی اور باتوں کا جواب کافی طور پر دے سکے تو ذرہ زیبا ہوگا کہ خُدا اور اس کے رازوں پراعتراض کیا جائے۔

مسیحی دین جو الہٰی راز بتاتا ہے وہ ہماری سمجھ کے خلاف نہیں ہماری سمجھ کے احاطہ کے باہر ہوں تو ہوں اُن سے ہم کو کیا ۔ سمجھ سے باہر ہونا اور بات ہے اور سمجھ کے خلاف ہونا اور ۔ ہم بہت سی چیزوں کو نہیں سمجھ سکتے اور توبھی وہ ہیں۔ البتہ خلاف قیاس امر کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ مثلاً دو تین صدی پہلے ہمارے آباو اجداد اس بات کو بعید القیاس سمجھتے تھے کہ لوہے کا جہاز دھوئیں کے زور سے پانی پر بہت تیزی سے چل سکتا ہے ۔یا برقی روشنی سے چراغ کاکام لیا جا سکتاہے ۔ پر آجکل ہم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ امر گو ہماری سمجھ سے باہر ہے جو علم آلہ سازی وغیرہ سے ناواقف ہیں تو بھی خلاف قیاس نہیں ہے ۔ہمارے نفس ناطقہ (انسانی روح)ہمارے جسم ہماری جان اور ہر ایک ذرہ جو ہماری نظر سے گزرتا ہے ہماری سمجھ سے باہر ہے تو بھی ویسا ہی ہے جیسا وہ اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے کیا یہ لازم آتا ہے کہ چونکہ مسیحی دین میں بعض راز ہیں جو سمجھ میں نہیں آتے اس لیے یہ دین قابل اعتراض ہے۔

بلکہ اگر اس دین میں ایسے ایسے امر نہ ہوتے تو حرف گیری کا موقعہ ہوتا۔ کیونکہ جو نیچر کا خالق ہے وہی مسیحی دین کا موجد ہے۔پس اگرنیچر میں اور اُس کے خالق میں راز اور مخفی اسرار پائے جاتے ہیں تو کیوں کر ممکن ہے کہ اُس راہ میں جو اُس نے بنائی ہے راز نہ ہوں ۔اگر راز نہ ہوتے تو گمان غالب ہوتا کہ یہ دین اللہ سے نہیں ہے۔

بعض اعتراض کرتے ہیں کہ بائبل میں کئی ایک ایسے مشکل اور ادق(نہایت مشکل) فقرے اور جملے ہیں کہ اُن کے معنی درستی سے سمجھ میں نہیں آتے۔ اوپر کے اعتراض کی طرح ایک یہ بھی بالکل ویسا ہی لچر (بیہودہ ،بے تُکی بات)سا اعتراض ہے۔نیچر ہم کو بتاتی ہے کہ مجھ میں ہزار ہا ہزار ظاہر اً غیر مفید اور بے سود چیزیں موجود ہیں۔ مثلاً آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ مرد کی چھاتی پر پستان کیوں ہیں اور کیا کام دیتے ہیں پس اس سبب سے کہ مرد کے پستان کا حال پورے طور پر ہم سمجھ نہیں سکتے کیا مناسب ہے کہ اُس حقیقی منتظم اور ہمہ دان کی عقل پر اعتراض کریں اورکہیں کہ اُس نے انسان کو نہیں بنایا ۔ہرگزنہیں ۔ ویسا ہی کیا جائز ہے کہ کلام ربانی کی حرف گیری کی جائے ۔ محض اس لیے کہ اُس میں بعض ادق فقرے اور جملے موجود ہیں۔ کیا عمارت بنانے والے کی کاریگری پر اعتراض ہوسکتا ہے اس لیے کہ اُس میں کسی خاص سبب سے جو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کوئی خاص اینٹ کسی خاص طور پر لگی ہیں۔

بلکہ اس قسم کی مشکلات شاید اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہی فائدہ اور نصیحت کے لیے رکھی ہیں کیونکہ اگرہم سب کچھ سمجھ لیتے تو شاید بہت شیخی باز اور مغرور ہوجاتے کہ ہمارے جیسا اورکوئی نہیں ہے ۔جب ہم ایسی باتیں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم تعلیم کے محتاج ہیں کیونکہ ہم اب تک کم عقل اور نادان ہیں۔ پس جس چیز یا جس امر پر اعتراض ہوتا ہے بالصراحت وہی ہمارے خاص فائدہ کی ہوتی ہے۔ ببیں تفاوت رہ از کجاست تایکجا۔

بعض اشخاص اعتراض کرتے ہیں کہ مسیحی دین کے بعض پیرو ویسی نیک چلنی اور پاکیزگی ظاہر نہیں کرتے جو مسیحی دین سکھاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض مسیحی اشخاص وہی گناہ کیا کرتے ہیں جو اور لوگ بھی کرتے ہیں ۔ تو فرق کیا ہوا ۔ اور مسیحی دین سے فائدہ کیا ہم ایسے لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایمان کا مدعا مسیحی دین کو اور خُداوند یسوع کو نہ کہ مسیحی لوگوں کو بتاتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے مسیحی آدمی پر ایمان لانا چاہیے یایہ کہ مسیحی آدمی سے بعض وقت گناہ نہیں ہوجاتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ دین اللہ کا دین ہے جسے خُداوند یسوع نے ایجاد کیا۔ پس خُداوند یسوع پر جو بالکل پاک اور راست اور کامل ہے اُس کے ایجاد کئے ہوئے دین میں ہوکے ایمان لانا چاہیے ۔ اگر مسیحی دین کی تعلیمات ایسی پاکیزگی سکھاتی ہیں جو قابل تعریف اور لائق عمل ہیں اور بعض لوگ جو خود کو اُس دین سے وابستہ بتاتے ہیں اُس کے خلاف عمل کرتے ہیں تو کونسی دانائی کی بات ہے کہ کوئی اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ مسیحی دین منجانب اللہ نہیں ہے یا قابل اعتراض ہے۔ بلکہ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسیحی دین پاک اورصاف ہے اور اُن لوگوں سے خلاف ہے جووہ روحانیت اور تقدیس ظاہر نہیں کرتے جس کی تعلیم یہ دین دیتا ہے۔ اور یہ دین ایسوں کو اپنا پیرو نہیں بناتا ۔ مثلاً اخلاقی تعلیمات اور نیچری مذہب کے ماننے والے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بایں ہمہ پھر بھی نیچرل اور اخلاقی اصولوں کے خلاف بہت سے کام کرتے ہیں۔ کیا کوئی شخص دانائی کے ساتھ اُن کو دیکھ کے یہ کہہ سکتا ہے کہ نیچر اور اخلاقی احکام درست نہیں ہیں۔ یا او ر سہی ۔ محمدی مذہب شراب کے استعمال کو قطعاً ناجائز اورحرام بتاتا ہے اب اگر کوئی محمدی شراب پئے اور پھر بھی نمازیں ادا کیا کرے تو کون کہے گا کہ محمدی دین خراب ہے اس لیے کہ اس کا ایک پیرو شراب خوار ہے۔ کوئی پاگل اس قسم کی بات کہے تو کہے ۔ جس آدمی کے پاس ذرہ سی بھی عقل ہو وہ تو ایسی بیہودہ بات منہ سے نکالتے ہوئے شرمائے گا۔

پرایک اور امر بھی خاص قابل توجہ ہے کہ اگر مسیحی دین اور وہ نمونہ جو خُداوند یسوع مسیح چھوڑ گیا ہے دُنیا میں نہ رہے تو دُنیا کی حالت کیا ہوگی۔ بہتریا بدتر۔ چنانچہ مقابلہ کرکے دیکھا گیا ہے اور یہ امر پایہ ثبوت کو کافی طور پر سے پہنچ چکا ہے کہ جہاں مسیحی دین کی نورانی تعلیمات کی روشنی نہیں پہنچی وہاں کاحال اُن مُلکوں سے جن میں مسیحی دین پھیلاہوا ہے بدرجہا بدتر اورابتر ہے۔ کیا سچ نہیں ہے کہ مسیحی دین اور خُداوند یسوع کا نام جس مُلک میں گیا وہاں سے تاریکی اور ظلمت کے کام کافور ہوگئے ۔ہندوستان کا حال فی زمانہ اور ہے اور پانچ صدمیں ہوئیں ۔اور تھا اس ملک میں اُن دنوں کیسی کیسی قبیح رسمیں اور دستور اور کیسی کیسی بدئیں اور خونخوار ہیں اورناپاکیا ں اور تاریکی کے کام زور سے جاری تھے جو مسیحی دین کی بدولت غارت ہوئے اور روزمرہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مسیحی دین روشنی تاب آفتاب ہے جہاں یہ نہیں وہاں بدی اور گناہ کی اندھیری رات ہے ۔ پر جہاں مسیحی دین آفتاب صداقت کو چمکاتا ہے ظلمت جاتی رہتی ہے اور سارا ملک اندر باہر سے روشن ہوجاتا ہے اخلاقی تعلیم اور فطرتی قوانین کے ہزارہا ہزار چراغ مل کے مسیحی دین کے پراز صداقت آفتاب کی مانند روشنی نہیں دے سکتے ۔ اس کا ایک پر تویٰ(سایہ) سب اور روشنیوں کو مات کردیتا ہے ۔
یہ بھی ضرور ہے کہ اُن لوگوں کی طرف نظر ڈالیں جو مسیحی دین کے موافق زندگی بسر کرتےہیں اوراُن کا مقابلہ اُن لوگوں سے کریں جو اوراورمذہبوں کے موافق زندگی کاٹتے ہیں ۔ تب معلوم ہوگا اول الذکر کے مقابلہ میں سچی پاکیزگی اور پورے نورانی اصولوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ ایک اور ضروری بات یہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھنا ضرور ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا مسیحی اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کے اورمذہب والوں سے زیادہ روحانیت اور تقدیس رکھتا ہے ۔ اس بات میں جسے کلام ہو وہ تجربہ کرکے دیکھ لے۔
بعض اس قسم کا اعتراض نہیں کرتے بلکہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ مسیحی دین فی الحقیقت چشمہ نور ہے ۔ پر ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ یہ دین انسانی خوشیوں اور آسایشوں کو ایسا محدود اور مقید کرتا ہے کہ درستی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس دین کےاحکام سخت اور بھاری ہیں کیونکہ وہ پورے اور کامل فرمانبرداری سے ذرہ بھی کم ہوتو اُسے قبول نہیں کرتے پر ایسوں کو ہم یہ جواب دیتےہیں کہ بنی نوع انسان کے واسطےجو جو خوشیاں اور آسائشیں ضروری اور مفید ہیں اُن کی بابت یہ دین کامل آزادگی دیتا ہے ۔ اوراور چیزوں کی نسبت قیود لگاتا ہے دانا حکیم جانتا ہے کہ مریض کو کیا کھانا اور کیا کرنا چاہیے اور کن کن کاموں اورچیزوں سے پرہیز کرنا لازم ہے ۔ پس وہ اس کے واسطے قیدیں لگاتا ہے کہ یہ کر وہ نہ کر یہ کھا وہ نہ کھا وغیرہ ۔مسیحی دین بھی ٹھیک ایسا ہی کرتا ہے ۔ مثلاً مسیحی دین کہتا ہے کہ انسان کو ذی عقل ہوکے جانوروں کی طرح نہیں رہنا چاہیے مسیحی دین اُن خوشیوں سے منع کرتا ہے جو بظاہر خواہشیں معلوم ہوتی ہیں۔ پر فی الحقیقت لوگوں کی روحوں اور جانوں کے واسطے زہر ہلاہل(زہر قاتل)کا اثر رکھتی ہیں پس ان کی بابت یہ ممانت کرتا اور کہتا ہے کہ کھاؤ نہیں چکھو نہیں چھو نہیں ۔ ان کے سوائے اور ہر ایک امر میں پوری آزادگی ہر ایک شخص کو دیتا ہے ۔ اگر مریض یہ سمجھے کہ حکیم میرا دشمن ہے اس لیے کہ وہ مجھے ہرایک کام کرنے اور ہر ایک چیز کھانے کی ممانت کرتا ہے تو خیر اُس کی مرضی ۔حقیقت میں تو حکیم کی دانائی اور محبت ہے جو اس امتناع سے ظاہر ہوتی ہے ۔ویسا ہی اگرکوئی کہے کہ مسیحی دین بڑا بُرا دین ہے اس لیے کہ یہ مجھے ہرایک کام کرنے اور ہر ایک خوشی منانے کی اجازت نہیں دیتا جسے میرا دل چاہتا ہے تو اس کی مرضی ۔ مسیحی دین پر کوئی الزام عاید نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ اُن چیزوں کی اور صرف ان ہی چیزوں کی قیود لگاتا ہے جو حقیقت میں انسان کے فائدہ کی نہیں بلکہ اُس کے نقصان کی ہیں۔
القصہ کون اورایسا دین ہے کہ انسان کے دل کو خُدا تعالیٰ کے خوف اور محبت میں ایسا قائم کرتا جیسا کہ خُداوند یسوع مسیح کا دین۔ پس مناسب ہے کہ اس دن میں ہوکے خُدا باپ اور روح القدس پرایمان رکھیں جو خُدائے واحد ہے جو ایمان کا مدعا اور انجام ہے۔


فصل ششم

گنہگار کی نجات کا وسیلہ

اس بات سے انکار نہیں ہوسکتا کہ بنی نوع انسان میں سے ہر فرد بشر گنہگار ہے اوراپنے گناہوں کے سبب مستوجب سزا ہے ۔ اس رسالہ ہم میں ہم نے ذرا طوالت کے ساتھ کسی جگہ اس امر پر بحث کی تھی اور دکھایا تھا کہ بنی آدم میں سے ہر ایک خواہ کسی فرقہ اور قوم کا کیوں نہ ہو خُدا کے نزدیک گنہگار ہے اور یہ بھی کہا تھا کہ کتاب ہذا محض گنہگاروں کے فائدہ اورہدایت کے واسطے لکھی گئی ہے ۔ اگر بفرض محال کوئی اور نیک بھی ہو تو گنہگار کو اُس سے کیا فائدہ ۔ وہ تو گنہگار ہے جسے نجات حاصل کرنا ضرور ہے کیونکہ اُس نے اپنے خالق اور مالک او ر سب سے بڑے مربی اور مہربان سے بغاوت اور بے وفائی کی ہے۔ یہ کہنا بجا اور حق ہے کہ زمین پر ہرایک رہنے والا خُدا کے نزدیک گنہگار ہے اورکہ ہر ایک زمانہ اورہر ایک وقت میں یہ دُنیا گنہگاروں سے ہی آباد رہی ہے اگر خُدا کا انصاف ایسی باغی اور گنہگار قوم پر اپنی تیز تلوار چلاتا تو تعجب نہیں تھا نہ کوئی مشکل یا انہونی یا ناجائز بات ہوتی پر ایسے گنہگار باغی قوم کو بچانا اور عدل کے ہاتھ سے نکالنا کیسی مشکل اوردشوار بات ہے۔ اگرانسان جو گنہگار ہے کسی صورت سے بچ جائے اور اُس کے ہاتھ کوئی ایسا طریقہ لگ جائے جس سے وہ بچ سکتا ہے تومناسب بلکہ ضرور ہے کہ وہ اُسے جلدی اورمضبوطی سےپکڑے ورنہ اپنی سزا اپنی گردن پرلے کر ہلاکت کی دلدل میں دھنس جائے گا۔

ظاہر ہے کہ کل دُنیاوی مذاہب نجات کے صرف تین طریقہ بتاتے ہیں۔ بعض نجات کو محض بخشش کہتےہیں۔ یعنی یہ کہ خُدا یوں ہے بخش دے گا۔ کیونکہ وہ مہربان اور بخشنہار ہے بعض نجات کو تو بہ پرموقوف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خواہ انسان نے کیسے ہی گناہ کیوں نہ کئے ہوں جب توبہ کرے تو خُدا اُس کے گناہ فوراً بخش دیتا ہے ۔بعض کہتے ہیں کہ نجات شفاعت پر موقوف ہے یعنی کہ اگر اللہ کا کوئی پیارا خُدا سے کہہ دے کہ یہ گنہگار میری امت ہے میں اس کی شفاعت کرتاہوں اُس کو معاف کردے اور بخش دے تواللہ تعالیٰ اُس شخص کے کہنے کی خاطر اُس گنہگار کو بخش دے گا۔ اور چوتھی صورت یا وسیلہ جسے خُدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین بتاتا ہے کفارہ ہے یعنی یہ کہ خُدا کے عدل کے سامنے کوئی کامل اور کافی عوضی ہوجسے عدل قبول کرلے اور گنہگار کا عوض اُس سے لیے۔

اب ہم چاروں طریقوں کامفصل ذکر کرتے ہیں اور ہر چند کہ ہم کسی خاص مذہب کی طرف اشارہ کرنا نہیں چاہتے تو بھی یہ کہتے ہیں کہ ہمارے مُلک میں کوئی ایسا مذہب نہیں ہے جو ان میں سے ایک نہ ایک طریقہ نجات کا نہ بتاتا ہو۔ اور اگر وہ طریقہ غلط ثابت ہوجائے تو گنہگار کے لیے وہ مذہب بھی غلط اور ناکارہ سا ثابت ہوجائے گا۔

تین اول الذکر طریقوں میں ایسے ایسے بھاری اوراٹل مشکلات اور اعتراض آپڑتے ہیں کہ اُن کو دور کرنا محال ہے۔ چنانچہ ہم ذیل میں چند کا بیان کرتے ہیں ۔ جس سے معلوم ہوگا کہ یہ طریقہ خواہ بظاہر کیسے ہی بھلے اور پُر تسلی کیوں نہ معلوم ہوں نہ صرف حقیقتاً غلط بلکہ بالکل شیطان کے فریب کے طریقے ہیں۔ اور ضرور ہے کہ گنہگار اُن کی بابت ذیل کابیان پڑھ کے ہوشیار ہوجائے ۔

اوّل :۔ اگر نجات محض بخشش پر موقوف ہو اور گنہگار یونہی یا توبہ کرنے یا شفاعت سے چھوڑ دئیے جائیں تو خُدا کا عدل ٹوٹ جاتا ہے۔ عدل کے معنی یہ ہیں کہ جو جس کا حق ہو وہ اُس کو دینا ۔ اگر عدل تقاضا کرے کہ گنہگار کو سزا دی جائے تو سزا دینا ضروری ہے چنانچہ عدل مقتضی ہے کہ ہرفرد بشر کواُس کے اعمال کے مطابق بدلا دیا جائے۔ توضرور ہے کہ ایسا ہی کیا جائے ورنہ عدل عدل نہیں رہا۔ مثلاً اگر دُنیاوی حاکم کسی مجرم کو جو اُس کی عدالت میں پیش کیا جائے اور اُس کی عدالت میں ثابت ہوجائے کہ وہ حقیقت میں مجرم ہے اور پھر بھی وہ حاکم اُس مجرم کو یونہی چھوڑ دے یا جب وہ کہے اے حاکم میں مجرم تو ضرور ہوں پر آیندہ کے واسطے توبہ کرتا ہوں ۔ اب مجھے سزا نہ دے آگے ایسا کام نہ کروں گا یا حاکم کسی اپنے یا ر کی سفارش مان کے اُس مجرم کو چھوڑ دے تو صاف ظاہر ہے کہ اُس نے انصاف کا خون کردیا۔ اوراپنے منصبی فرائض کو جو بحیثیت حاکمی اُس پر تھے بالکل بھول گیا ایسا حاکم اہل دل کے نزدیک بے انصاف ظالم اور بے ایمان کہلاتا ہے جس سے لوگ نفرت اور حقارت کرنے لگتے ہیں ۔ پس اگر خُدا جو احکم الحاکمین ہے ایسا کام کرے تو وہ کتنا زیادہ بے انصاف اور بے عدل حاکم کہلائے گا۔ اور دُنیا کے نزدیک کیوں کر راستباز اور صادق ٹھہر سکے گا۔ اورکیوں کر بدی کا دشمن ظاہر ہوگا۔

دوم :۔ اگر وسائل متذکرہ بالا سے گنہگار کی نجات ہوجائے تو الہٰی سلطنت اورقانون کی کیا عزت ہوگی ۔ اُس سرکار کے قانون کی کیا قدر ہے جسے جو جب چاہے بلاتامل عدول کرے۔ اُس حکم کی کیا قدر ہے جو کسی کی مرضی پر موقوف ہو کہ جیسا چاہے ویسا سلوک اُس سلطنت کی خاک عزت ہے جس کی بغاوت جو چاہے کرے۔ اور پھر بھی سزا نہ پائے ۔دُنیا میں کونسی ایسی سلطنت ہے جو ایسا کرکے قائم رہ سکتی ہے ۔ اگر دُنیاوی سلطنتیں اور ریاستیں اپنی عزت اور وقار کو قائم رکھنے کے واسطے ضروری سمجھتی ہیں کہ مجرم ضرور ہی ضرور سزا پائے تو کتنا زیادہ اخلاقی سلطنت کا حاکم اور مقنن (قانون بنانے والا) اپنی پاک حکومت اور بے عیب قوانین کی عزت کو مدنظر رکھے گا۔

سوم :۔ اگر ان وسائل سے گنہگار کی نجات ہوجائے تو کیوں کر فائدہ عامہ ہوجائے گا۔اور ظاہر ہے کہ فائدہ عامہ ایک اچھی حکومت کی خاص غرض ہے۔ فائدہ عامہ سے مراد نہ صرف انسان کی بھلائی اور بہبودی ہے بلکہ بیشتر اوردُنیاؤں کے ذی عقل مخلوق کی بھلائی مقصود ہے جس کے مقابل ہمارے اس چھوٹے سے کرہ ارض کے رہنے والوں کی بھلائی کی وہی نسبت ہے جو فائدہ عامتہ شخصی فائدہ سے ہے۔ گناہ کی خاصیت یہ ہے کہ جدھر اس کی تاثیر جاتی ہے وہاں بربادی اور بدحالی پھیل جاتی ہے ۔پس ظاہر ہے کہ جب تک گناہ کی سخت سزا نہ دی جائے ایسا کہ سب دیکھنے والے اُس سے ڈریں تب تک فائدہ عامہ ہو نہیں سکتا نہ لوگ گناہ کرنے کی جرات سے باز رہ سکتے ہیں۔ پس اگر گنہگاریوں ہی چھوڑ دیا جائے یا کسی کی سفارش سے چھوڑ دیا جائے تو نتیجہ کیا ہوگا۔ کیا بجائے اس کے کہ گناہ کرنے کی جرات کو روکا جائے بیشتر ایسا ہوگا۔کہ لوگ اور زیادہ گناہ کرنے کی جرات پائیں گے۔
یہ چند اعتراض اور مشکلات تو ان وسائل پر لاحق ہوتے ہیں درحال یہ کہ معنی محض مقصود ہے پر نجات میں تو معافی محض ہی نہیں ۔ بلکہ اس سے بڑھ کے یہ بھی شامل ہو ا کرتا ہے کہ گنہگار اپنے گناہوں کی معافی کامل حاصل کرکے الہٰی رضامندی بھی حاصل کرے اور آسمان وزمین کے خُدا اور بادشاہ کا لے پالک بیٹا ۔ دوست اور مصاحب بھی بن جائے ۔ اگر یہ نہ ہو تو دُنیا بھر میں کوئی اور شے انسان کو حقیقی خوشی نہیں دے سکتی ۔ اس صورت میں متذکرہ بالا مشکلات سے زیادہ بڑی اور بھاری مشکلات آپڑی ہیں۔ اگر گنہگار گناہ کی نہ صرف معافی حاصل کرے یا اُس کی سزا نہ پائے بلکہ اُس کے برعکس آسمانی بادشاہ کی قربت و صحبت میں رہے اور پوری خوشی حاصل کرے تو کیا اس صورت میں خُدا کے عدل پر کالے بادل کا سایہ نہیں آپڑتا اورکیا اُس کے پاک قانون اور سلطنت کی بےعزتی اورتحقیر نہیں ہوتی ۔ اور کیا یہ امر بجائے اس کے کہ گناہ کی بدی کو اور اس نفرت کو جو قدوس خُدا اس سے رکھتا ہے ظاہر کرے یہ زیادہ گناہ کرنے کی جرات نہ دے گا۔ کیا اس سے خود خُدائے قدوس اور احکم الحاکمین کی ذات وصفات پر بھاری عیب نہیں لگتا۔

بعض کہا کرتے ہیں کہ جیسے انسان کا فرض ہے کہ اوروں کے قصور معاف کرے اورجس طرح یہ ایک خوبی ہے کہ انسان اپنے ہم جنسوں کے گناہ سے درگزر کرے اُسی طرح اللہ تعالیٰ کا بھی فرض اور خاصہ ہے کہ جے چاہے بخش دے بلکہ یہ ایک الہٰی فضیلت ہے کہ انسان کے گناہوں کو معاف کردے ۔ مگریہ خیال بالکل غلطی اور بے سمجھی پر مبنی ہے کیونکہ ہمارا اورخُدا کا وہ رشتہ نہیں جو ہمارا اور ہمارے ہمجنسوں کا ہے ۔ اگر کوئی مثال اُس رشتہ کو جو خُدا اور آدمی میں ہے ظاہر کرے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ خُدا ہمارا حاکم ہے اور ہم اس کی رعیت ،حاکم کا فرض ہے کہ اپنی سلطنت اور قانون کی عزت اور فائدہ عامہ کو مدنظر رکھے ۔ پس اگر وہ کسی مجرم پر ناجائز مہربانی یا رحم کرے تو وہ اپنی عدالت ، حکومت اور قانون کی بے عزتی کرتا ے اور ممکن ہے کہ صرف اس ایک مہربانی سے بڑا بھاری نقصان ہوجائے اور لوگ بجائے بدی سے باز رہنے کے اُس کے کرنے کی زیادہ جرات پائیں ۔یہی خُدا کا خاصہ ہے۔ جب عدالت تقاضا کرے کہ مجرم کو سزا دے جائے اور رحم کے وسیلہ وہی مجرم چھوڑ دیا جائے تو کون ذی عقل کہہ سکتا ہے کہ عدالت قائم اور بے عیب رہی ۔ جیسا یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ابدی اور ازلی زندگی کا چشمہ ہے مرجائے ۔ یا یہ کہ خُدائے قدوس گناہ کرےویسا ہی یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ اپنے ستودہ صفات میں سے کسی کا خون کرکے دوسرے کو ممتاز کرے ۔ انسان کے دل کا فریب اُسے ترغیب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر محض رحیم باپ کی طرح نظر کرے اوریہ نہ سمجھے کہ آیا اُسے اپنی قدوسیت اور حکومت کا بھی پاس ہی یا نہیں ۔ جیسا یہ سچ ہے کہ اللہ رحیم ہے ویسا ہی یہ بھی سچ ہے کہ وہ قدوس اور عادل ہے۔ پس ضرور اور بالکل ضرور ہے کہ قادر مطلق خُدا اپنی قدوسیت اور عدل کو ظاہر کرنے اور اُ ن کو تحقیر کئے جانے سے محفوظ رکھے ۔ ضرور ہے کہ وہ گناہ کو اُس کی بدی اور بد نتائج سمیت ظاہر کرے ۔ اور اُس کی پوری سزا دے تاکہ اوروں کو جرات کرنے کا موقعہ نہ رہے ۔ اگر گنہگار کی معافی کا کوئی وسیلہ ہوتو ایسا ہونا چاہیے کہ خُدا کی ذات وصفات پر ذرہ سابھی الزام نہ لگے اور اُس کی سلطنت اور شریعت کی پوری عزت قائم رہے ورنہ یہ ضرور ہے کہ سب برباد اور ہلاک ہوں بہ نسبت اس کے کہ الہٰی ذات وصفات پر عیب لگے مشکلات ایسی ایسی ہیں ۔دُنیا کے سارے داناؤں کو جمع کرو اور اُن سے پوچھو کہ ان مشکلات کو دور کرکے انسان کی نجات کاکوئی طریقہ بتادیں۔ فرشتوں کو بھی جمع کرو اور اُن سے پوچھو اور تم دیکھو گے کہ سب کے سب دم بخود ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ جب فرشتوں نے آدم کو گناہ کرنے کے بعد دیکھا تو حیران اورنالہ کہاں رہ گئے ہوں گے کہ ہائے ہائے یہ شخص بمعہ اپنی کل نسل کے بدحالی اورکم بختی کا شکار ہوگیا۔ اُن کو کبھی اس بات کا خیال بھی نہ آیا ہوگا کہ جو آسمان اور زمین اور کروبین اورسرافیم میں سب سے اور سب کا پیار ا ہے اور جو جلالی شخص آسمان کے تخت پر خُدا کی گود میں رہتا ہے۔ جو موجودات اور کائنات کا خالق ہے وہی شخص انسان کی صورت بن کر دنیا میں جائے گا اورگنہگار کا فدیہ ہوکے گنہگار کی طرح مرے گا کہ انسان کو جو ذات میں فرشتوں سے کم درجہ کا مخلوق ہے بچائے ۔ بلکہ اگر یہ خیال اُن کو کسی صورت سے آیا بھی ہوتو کفر اور الحاد معلوم ہوتا ہوگا۔


15۔بعض کہتے ہیں کہ گنگار ایک مدت تک سزا پائے گا ۔ پھر اُس کی مخلصی ہوجائے گی ۔ یہ بات غلط ہے کیونکہ گناہ لا محدود سزاکا مستحق ہے اس لیے کہ لامحدود خُدا اور خصوصاً اُس کی لامحدود محبت اور سلطنت کے خلاف ہے ۔

ایم حنیف

پر جس کو دُنیا کے سارے عاقل اور عالم اور فرشتے مل کر نہ کر سکے جس کام میں سب کی عقلیں چکر کھاگئیں وہ کام اللہ سے ہوا۔''اے سارے آسمانو گاؤ کہ خُدانے یہ کیا اور للکارو اے زمین کے گہراؤپھولے نہ سماؤ اے پہاڑو ۔اے جنگل اور اُس کے سب درختو کہ خُداوند نے یعقوب کو نجات دی اور اسرائیل میں آپ کو محمود کیا''(یسعیاہ 44: 23)۔خُدا کی تدبیر کے آگے سارے پہاڑ میدان ہوگئے اورساری مشکلات کافورہوگئیں۔ جو راہ آدمی نہ نکال سکا وہ اللہ نے نکالی ۔ اُسی نے ایک ایسی راہ نکالی جس میں گنہگار کو پوری نجات دے سکتا ہے اور توبھی عادل ٹھہرتا ہے جس میں اُس کی صفات اور ذات پر کوئی دھبہ نہیں لگتا ۔ نہ اُس کی سلطنت پر کوئی الزام آتا ہے ''کیونکہ خُدا نے جہان کو ایسا پیار کیا کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخشا تاکہ جو کوئی اُس پر ایما ن لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ''(یوحنا 3: 16)۔اگر یہ بخشش اللہ تعالیٰ عطا نہ کرتا تو سب کے سب برباد ہوجاتے پر اب درواز ہ کھلا ہے۔ جو اُس کے بیٹے ربنا یسوع مسیح پر ایمان لاتا ہے نہایت عزت وجلال کے ساتھ نجات پاسکتا ہے۔ خوبی یہ ہے کہ اس وسیلہ کے سامنے جتنے اعتراض اور مشکلات تھیں وہ سب کی سب دور ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ ذیل میں اجمالاً ذکر کیا جاتا ہے۔

اوّل:۔ ایک مشکل یہ تھی کہ خُدا نجات کے معاملہ میں دُنیاکا حاکم اور بادشاہ ہے اور ممکن نہیں کہ وہ اپنی حکومت سلطنت اورعدالت کی بےعزتی کرائے ، اور گناہ گار کو بے سزا چھوڑدے بلکہ ضرور ہے کہ وہ ایسی سزا دے جس سے اُس کی سلطنت اور قانون کی عزت قائم رہے ۔ کیونکہ سزا کا اصل مطلب یہی ہوتا ہے کہ اوروں کو عبرت ہو اور سلطنت اورقانون کی عزت اور توقیر ہو۔ پس اگر اُس سزا میں جو خُدا کا عدل گنہگار کو دے یہ دونوں مطلب پورے ہوں تو یہ ایک ادنی درجہ کی اور چھوٹی سی بات ہے کہ آیا مجرم کو خود یا اُس کے عوض اُس کے ضامن کو سزا دی جائے اور کہ آیا وہی سزا دی جائے جو قانون میں لکھی تھی یا اُس کے برابر دوسری اورسز ا دی جائے ۔ اور ظاہر ہے کہ سزا کی قیمت اُس شخص پر ہوتی ہے جو سزا پائے۔ مثلاً تھوڑی سی سزا جو اشرف کو دی جائے اُس بہت سی سزا کے برابر بلکہ اُس سے زیادہ ہوتی ہے جو کسی گنوار کو دی جائے گھوڑے کو چابک گدھے کو لٹھ اور بھلے آدمی کو تو کہہ دینا بدمعاش کو گالی دینا سے بدتر ہے۔ نازک کو ایک تھپڑ لگانا گنوا ر کو بید لگانے سے زیادہ دُکھ دیتا ہے۔ پس چونکہ مسیح بے حد الہٰی محبت کا مدعا تھااُس کی تھوڑی سی دیر کا دُکھ سارے گنہگاروں کے ابدی عذاب سے زیادہ قدر رکھتا ہے۔ پس اگر ایسے شخص کو جسے خُدا تعالیٰ بے انتہا پیار کرے اُس گناہ کے سبب جو اُس نے خود نہیں کیا بلکہ جو گنہگار کا ضامن اورعوضی ہونے سے اُس پر آپڑا آپ سے سزا دی جائے تو اس سے بڑھ کے خُدائے قدوس کی نفرت اورعداوت جو وہ گناہ سے رکھتا ہے اور اُس کے قانون اورسلطنت کی عزت اور بزرگی اور اُس کی عدالت اور قدوسیت کی تجلی اور کیوں کر ظاہر ہوسکتی ہیں ۔ کیونکہ جس نے اپنے لخت جگر کو جسے وہ بے حد پیار کرتا تھا محض اس لیے کہ وہ گنہگار کاضامن ہوکے گنہگار کی جگہ عدالت میں حاضر ہوا ایسی سزا دی کہ اُسے جان سے مار دیا جسے سورج دیکھ کے اندھیر ا ہوگیا اورفرشتوں نے عالم بالا میں ماتم کیا آسمان اور زمین تھر تھر ا گئے اور تمام جہان دھواں دھار ہوگیا۔ ہم کہتے جب خُدا نے اُسے ایسی سزا دی تو اور کونسا طریقہ ہے جس سے خُدا تعالیٰ کی عدالت صداقت اور قدوسیت اور جلال ظاہر ہو۔


16۔خُداوند یسوع ابن اللہ کی الوہیت کے مسئلہ کو چھوڑ کے شاید اورایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جسے لوگ ایسا نا پسند کرتے ہیں جیسا کہ مسئلہ کفارہ کو ۔گووہ اس الہٰی راہ کو جس سے گنہگاروں کی نجات ہوجاتی ہے کیسا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔ پھر بھی روز مرہ کے برتاؤ میں اسی مسئلہ کو نہ صرف مانتے بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کرتے ہیں ۔بیماری اورآفت کے وقت لوگ جانوروں کو صدقہ اور قربانی دیتے ہیں اور اس سے کماینبغی (جیسا کہ چاہیے، بخوبی) مفہوم ہوتا ہے کہ بیماری یا آفت لوگوں پر سے ٹل کے جانور پر جاپڑے ۔بعض وقت جانور سارے شہر میں پھرایا جاتا ہے اور جنگل میں چھوڑ دیا جاتا ہے (مثلاً کال یا مری کے وقت) جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ جانور سارے شہر کی بلا کو اپنے اوپر لے لیتا ہے اور وہ لوگوں سے جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات اورعموماً اس وقت جب کوئی اور صورت باقی نہ رہے جانور مارے جاتے ہیں جس سے صاف یہ مراد ہوتی ہے کہ وہ جانور جو مارا گیا لوگوں کی آفت اور سزا کو اُٹھاکے گویا مرگیا اور وہ آفت یاسزا لوگوں پر سے ٹل گئی ۔ صرف ہمارے ملک کا ہی یہ دستور نہیں ہے بلکہ تختہ دُنیا کے زمیں والے ہر ایک قوم میں (جو ادنیٰ سے ادنی اور اعلیٰ سے اعلیٰ ہو )بلا استثنا یہ قربانی کا مسئلہ پایا جاتا ہے ۔ ہمارے ملک ہند میں تو کیا عرب ،چین، روم ،جاپان ،افریقہ اور امریکہ کے محمدی اور وحشی اقوام اور تمام یورپ میں یہ مسئلہ مانا جاتا ہے ۔ اہل ہنود تو عموماً اس سے انکار نہیں کرتے پرہمارے ملک کے بعض محمدی صاحب اس پرحرف گیری کرتے ہیں کہ گویا کفارہ کا مسئلہ خُدا کی عدالت کی شان کے خلاف ہے۔ ہم اُن سے پوچھتے ہیں کہ پھر قربانی اور صدقہ کیوں کرتے ہیں اور عید قربان خاص اسی واسطے کیوں مقررکی گئی ہے۔ کیا اتنے ہزار جانور محض اس بات کی یادگاری میں ہلاک کئے جاتے ہیں کی ایک شخص ابراہام نبی تھا جس نے خُدا تعالیٰ کے کہنے سے جیسا کہ حضرت موسیٰ اور بہت سے انبیا اور مجتہدین کا بیان ہے کہ اپنے بیٹے اضحاق کو اور بقول بعض (جس کی تکذیب خُدا کا کلام کرتا ہے )اسماعیل کو قربانی کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اگرمحض ایسی بات کی یادگاری ہے تو کیوں ایسا کیا جاتا ہے کیونکہ یہ امر فرض بنایا گیا ہے اس سے کیا فائدہ مقصود ہے کہ ہر ایک جسے توفیق ہو یہ کام ضرور کرے پھر اس کے ساتھ پا صراط پرسے گزرنے وغیرہ کا خیال کیوں کر لگادیا گیا لوگ اس جانور کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں جو ذبح کئے جانے پر ہوتا ہے ۔ اس سے اُن کی کیا مراد ہوتی ہے۔ کیا یہی نہیں کہ ہاتھ رکھنے والے کے گناہ جانور پر چلے جائیں جیسا دوسرا شخص جوان پڑھ ہو جب قلم کو ہاتھ لگا دیتا ہے تو اُس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جو قلم لکھے گی ہو گویا مریا ہے۔ ویسا ہی جب جانور کے سر پر ہاتھ رکھتے اور اُسے مارتے ہیں تو کیا اس سے مفہوم نہیں ہوتا کہ جانور کی موت گویا اُس کی موت ہے جس کی طرف سے اور جس کے عوض وہ مارا جاتا ہے۔ جب اس سے کچھ مقصود ہے نہیں تو یہ رائیگاں (بے فائدہ) کام کیوں کیا جاتا ہے ۔اور جب کوئی بیمار قریب المرگ ہوجاتا ہے تو اُس کے سرہانے کیوں جانور باندھ کے ذبح کیا جاتا ہے ۔غرض کہ لوگ شخصی طور پر خواہ اس مسئلہ سے کتنی ہی کنارہ کشی کریں۔ اس بات سے انکار نہیں ہوسکتا کہ یہ مسئلہ عالمگیر ہے اور اپنے عالمگیر ہوے سے اس امر کو صاف ظاہر کررہا ہے فطرتی اصولوں نے جو انسان کی ذات میں ہیں اُس کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ اسے نہ صرف تسلیم کرے بلکہ اس کو اپنے روزمرہ کے برتاؤ میں بھی لائے ۔ خواہ کوئی شخص انجیل کا مخالف ہوکے اس مسئلہ کی مخالفت کیوں نہ کرے اس سے کچھ فائدہ نہیں جب تک کہ اس کی عالمگیری کو کسی اورصورت یا اصول پر قائم نہ کرلے ۔ اور دکھائے کہ اس سبب سے لوگوں نے اس مسئلہ کو قبول کیا۔
مسئلہ کفارہ جیسا کہ اوپر مذکور ہے دُنیا میں رائج ہے اور صاف ظاہر کرتا ہے کہ انسان نے فطرتی طور پر اسے تسلیم کیا تو ایک اورامر بھی یہاں سےپیدا ہوتا ہے کہ جانور انسان کا عوضی یا اُس کے بدلے قربان کیوں کیا جاتا ہے ۔ کیا حیوان مطلق کوکوئی ایسی خاص خوبی فطرتی طور پر حاصل ہے کہ وہ اشرف المخلوقات کے واسطے کفارہ ہوسکے ۔ یہ تو بعید القیاس بات ہے کہ ایک ادنیٰ درجہ کا شخص اعلیٰ درجہ کے شخص کی ضمانت دے اور وہ ضمانت قبول کی جائے ۔ پس ممکن نہیں ہے کہ طرح طرح کے جانور جو قربانی کئے جاتے ہیں انسان کے عوض کفایت کریں۔ اور اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب کے سب حقیقی کامل اور مقبول قربانی یعنی خُداوند یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جو نہ صرف انسان ہونے کی حیثیت سے انسان کے برابر ہوکے اس کا عوضی اورضامن ہوسکتا ہے بلکہ اللہ ہونے کی وجہ سے اُس سے برتر اور اعلیٰ تر ہو کے نہایت کامل اور کافی قربانی ہوا۔ جس کی طرف ساری قربانیاں اپنے خون سے مُہر کرکے اشارہ کرتی ہیں یہ تو صرف ایک صورت ہوئی ۔ ہم اب دوسری کا ذکر کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہی مسئلہ ایک اور طور پر دُنیا میں ہم کو ضروری ماننا پڑتا ہے مثلاً ایک بادشاہ کی دوسرے بادشاہ کے ساتھ کسی بات پر بگڑ جائے تو مناسب یہ تھا کہ وہ دونوں جس طرح چاہیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ سمجھ لیں ۔ پرایسا نہیں ہوتا ایک بادشاہ دوسرے پرجم غفیر(زبردست ہجوم )لے کے حملہ کرتاہے ۔ ہزارہا ہزار بندگان خُدا کا خون ہوجاتا ہے درحال یہ کہ جو بادشاہ صاحب کو آنچ تک بھی نہیں لگی ہوتی۔ مزید براں رعیت تباہ ہوجاتی ہے ۔ مخالف فوج لوٹ کھسوٹ کرتی ہے۔ مُلک میں اُن زیادہ لوگوں کے واسطے جو لڑائی کے سبب آجاتے ہیں پہلے سے اسباب رسد وسامان وغیرہ مہیا نہیں ہوتا اکثر بھاری قحط ہوجاتا ہے جس سے ہزار ہا لوگ مرجاتے ہیں ۔ ادھر لوگوں کا یہ حال ادھربادشاہ کی سُن لو کہ وہ آرام سے اپنی حفاظت گاہ خاص میں ہوتا ہے خواہ اُس کے دل پرکیسا ہی فکر کیوں نہ ہو جان سے محفوظ ہوتا ہے اور اُس کے واسطے ہرایک مطلوب شے مہیا ہوتی ہے۔ پس کیا سچ نہیں ہے کہ اتنے لوگ محض بادشاہ کی خاطر مارے گئے تاکہ بادشاہ بچ جائے ۔ یہاں سے مسئلہ کفارہ یا عوضی ہونے کو کس قدر تقویت ہوتی ہے۔
اب ایک اور پہلو دیکھو۔ عدالتوں میں اکثر کیا ہوتا ہے ۔ قرض خواہ قرضدار پرنالش کرتا ہے۔ عدالت ڈگری دیتی ہے اور اگر وہ روپیہ نہ دے سکے تو قید میں جانے پر ہوتا ہے ۔پر ایک اور شخص آکے اُس کا ضامن بنتا ہے اُس کے عوض قرض بھر دیتا ہے اور عدالت سے قرض دار کی بریت کا حکم صادر کیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ازروئے عدالت قرض بھر دیا گیا ۔یہ کچھ بھی ضرور نہیں کہ قرض دار نے خود قرض بھر دیا یا اُس کے عوض کسی اور نے ۔ اگر حقدار کو حق مل گیا تو عدالت کے واسطے یہی کافی ہے۔ ہاں ایک بات ضروری ہے کہ روپیہ ادا کرنے والا فی الحقیقت اپنے روپیہ کامالک اور مجاز ہو کہ جس طرح چاہے اُسے صرف کرے۔اوربرضائے خود قرض دار کے عوض روپیہ ادا کرے ۔ اگر یہ سب باتیں پوری ہوں تو اور کوئی بات ضروری نہیں ہے۔ پس جب کہا جاتا ہے کہ مسیح خُداوند جو حقیقت میں خود اپنی ذات میں اپنا مالک تھا کیوں اعتراض ہوتا ہے اور کیوں الزام لگایا جاتا ہے کیا میرا اختیار نہیں ہے کہ اپنے مال سے جو چاہوں کروں پس اگر مَیں رحم کھا کے کسی کے بدلے اپنے مال کو خرچ کروں تو کیا مَیں قابل الزام ہوں ہرگز نہیں۔ پس جب خُداوند مسیح نے جو خالق ہونے کی وجہ سے اپنے جسم اور جان کا پورا مالک تھا گنہگاروں پر ترس کھا کے اُسے دے دیا کہ ہم لوگ الہٰی غضب اور دوزخ کی قید سے بچ جائیں اورعدالت کا تقاضا پورا ہوجائے تو کیا اُس پرالزام لگ سکتا ہے جیسے کسی مال زبردستی لے لینا ناجائز ہے ویسا ہی اگر مسیح زبردستی مارا گیا تو اور بات ہے۔ پر اُس کی تمام تاریخ اور خصوصاً تصلیب کے واقعات کو پڑھ کے کون عاقل کہہ سکتا ہے کہ وہ زبردستی پکڑا اور مارا گیا۔ بلکہ وہ تو خاص اِسی کام کے لیے دُنیا میں آیا تھا۔ جب بچ سکتا تھا اُس وقت اُس نے صاف کہا کہ میرا اختیار ہے کہ اپنی جان لوں اور میرا اختیار کہے کہ اُسے دوں (یوحنا 10: 18)۔چنانچہ جب پلاطُس حاکم نے جو مطلق العنان حاکم تھا اور اگر چاہتا تو اُسے چھوڑ دیتا بلکہ چھوڑنا چاہتا تھا۔ یسوع خُداوند کی خاموشی کو دیکھ کر اُس سے سوال کیا کہ کیا تو مجھے بھی جواب نہیں دیتا کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا اختیار ہے کہ تجھے صلیب دوں یا چھوڑ دوں ۔تو خُداوند نے اُسے جواب دیا ۔تیرا کچھ اختیار مجھ پر نہیں۔ سوائے اس کے جو اوپر سے تجھے ملا ہے۔ جس کام کے کرنے کے واسطے وہ دُنیا میں آیا تھا جب صلیب پر اُس نے وہ کام پورا کیا تو کہا کہ پورا ہوا ۔یعنی وہ کام جو مَیں کرنے کو آیا تھا اب پورا ہوگیا۔جو قرض مَیں ادا کرنا چاہتا تھا اب ادا ہوگیا۔ گنہگاروں کی معافی جو مَیں حاصل کرنا چاہتا تھا اب حاصل ہوگئی ۔ اُن کی مخلصی کی جو راہ میں نکالنا چاہتا تھا اب نکل گئی خُدا کے غضب کو جومَیں گنہگاروں سے ٹالنا چاہتا تھا اب ٹل گیا ۔ مَیں نے اُسے اپنی جان پر لے لیا۔ مَیں گناہوں کا کفارہ ہوگیا۔ گناہ کی سزا جو موت ہے مَیں نے اپنے اوپر لے لی کہ گنہگاروں کے واسطے زندگی کی راہ نکالوں ۔ انصاف اوررحم دونوں مل گئے ۔عدالت وصداقت آپس میں بوس وکنار ہوگئیں ۔خُداکا عدل اور رحم جو آپس میں ضدین معلوم ہوتے تھے اب ایک دوسرے کے ممداور موافق ثابت ہوگئے ۔ عدالت کا تقاضا بھی پورا ہوگیا اور گنہگار کی نجات بھی ہوگئی سب کچھ پورا ہوگیا۔

ایم حنیف

علاوہ ازیں مسیح خُداوند شریعت کے حدوقید سے باہر تھا اور اللہ ہونے کی وجہ سے یہ کچھ بھی ضرور نہ تھاکہ وہ اُس شریعت کے پابند ہوجو انسان کو دی گئی پرپھر بھی شریعت کے پورا اور کامل تابع ہوا اور اُسے بالکل پورا کیا نہ اس لیے کہ اُس کا کچھ فائدہ ہو بلکہ اس لیے کہ یہ ثواب جو اُس نے کمایا تھا اور یہ راستبازی جو اُس نے حاصل کی تھی ہم لوگو ں کو دے دے ۔کیونکہ اُس کا مالک ہے اور مجاز ہے کہ جسے چاہے اپنی خوشی سے دے دے ۔ پس خُداوند یسوع نے گنہگار کے واسطے دونوں کا م کئے ۔پہلا یہ کہ اپنی جان پر اُس کے گناہوں کا دُکھ اُٹھالیا اوراُسے سزااور دوزخ سے رہائی دی۔ دوم اپنی راستبازی دے کے اُسے خُدا کے فضل اور مہربانی کا مستحق ٹھہراتا ہے۔یہی نجات ہے۔
انسان شریعت کی پوری تابعداری نہیں کرسکتا اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو کہہ سکے کہ مَیں بالکل راستباز ہوں۔ پس اگر بفرض محال کسی نے ایسی فرمانبرداری کی بھی جس کو کامل فرمانبرداری کہہ سکیں تو بھی ظاہر ہے کہ وہ محض اپنے فرض سے ہی سبکدوش ہوگیا۔ اور ہو نہیں سکتا کہ کسی اور کو وہ نیکی یا راستبازی دے دے کیونکہ اگر وہ دے دے تو پھر وہ خود قاصر اور مستوجب سزا ٹھہرتا ہے پر مسیح خُداوند نے جو شریعت کی فرمانبرداری کی وہ اُس کے لیے ذرا بھی ضرور نہ تھی۔ اس لیے کہ وہ اللہ ہے اوراپنی راستبازی کا جو اُس نے حاصل کی پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے اُس سے حاصل کرے۔

دوم :۔ ایک مشکل یہ بھی تھی کہ گنہگار کی نجات کے معاملہ میں کوئی ایساطریقہ ہونا چاہیے جس میں خُدا کی عدالت حق اور عزت کے لائق قائم رہے ۔ ہم اوپر اس مشکل کا بالا جمال جواب دے چکے ہیں یعنی کہ خُدا کی قدوسیت اور عدالت مسیح خُداوند کے کفارہ میں اس قدر تاباں ودرخشاں نظر آتی ہے کہ اور کسی صورت سے اُس کا جلال اس قدر ظاہر ہوہی نہیں سکتا۔ کیونکہ خُدا نے خود اپنے اکلوتے پیارے بیٹے کو یوہی نہ چھوڑ دیا حالانکہ وہ گنہگار نہ تھا نہ اُس نے خُدا کے حکم کے خلاف ذرہ سی بات بھی کی تھی۔ بلکہ صرف اس لیے کہ گنہگار انسان کا ضامن ہوکے اُس کی جگہ اور اُس کی صورت میں عدالت الہٰی میں حاضر ہوا۔ اور اُسے جا ن سے ہلاک کردیا جو زندگی کا مالک ہے تو کیا اس سے زیادہ عزت اور جلال اُس کی قدوسیت اورعدالت کا اُس حال میں ہو سکتا ہکے کہ خُدا ہم گنہگاروں کو (جن کا حق ہے)ابدی عذاب اور دُکھ میں رکھنے ہم لوگ توحقیقت میں نفرت کے لائق ہیں اگر خُدا اپنی عدالت کے سبب ہم سے نفرت کرے تو کیا ہے پر جب خُدا کی عدالت نے اُس کے خلاف اپنا ہاتھ اُٹھایا جو بالکل راستباز اور پاک تھا تب عدالت کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔مثلاً اگر کوئی بادشاہ کوئی قانون جاری کرے اور عدولی کی سزا موت ٹھہرائے ۔ اور اگر اُس کی رعیت میں سے کوئی اُس قانون کے خلاف کرے اور بادشاہ اُسے مروا ڈالے ۔تو اُس کی سلطنت اور قانون کی عزت تو قائم رہی پر اس سے کیا اُن کا جلو اور جلال ظاہر ہوتا ہے۔ اب فرض کرو کہ بادشاہ کا ایک ہی بیٹا ہے جو اُس کا نہایت ہی پیارا ہے اگر وہ اُسی جرم کا مرتکب ہو اور بادشاہ اُسے مروا ڈالے تب تو ضرور بڑی عزت اور جلال اُس کی سلطنت اور عدالت کا ہوتا ہے۔

سوم :۔ ایک مشکل یہ بھی تھی کہ گنہگار کی نجات اور فائدہ عامہ دونوں کیوں کر ساتھ ہی ساتھ ہوجائیں ۔دیکھو کہ خُداوند یسوع کی صلیب نے اس مشکل کو بھی دور کردیا۔ سارے عالم اُس کی صلیب پر نظر کریں اور حیران ہوکے دیکھیں کہ گناہ کس قدر نفرتی چیز ہے کہ خود آسمان وزمین کا خالق اُس کی سزا میں جو اُس نے دوسروں کی خاطر اُٹھائی صلیب پر لٹکاہے اور گناہ سے نفرت کریں۔ دیکھیں کہ عدالت نے یسوع پر کیسے کیسے زخم لگائے حالانکہ وہ گنہگاروں کا محض ضامن ہی تھا۔ یقین ہے کہ یہ دیکھ کے گناہ کی جو محبت اُن کے دل میں ہوگی وہ بالکل جاتی رہے گی ۔کیونکہ جب وہ یہ دیکھیں گے کہ الہٰی عدل نے اپنا ہاتھ ابن اللہ محمود پر دراز کرنے سے باز نہ رکھا تو اُن کا کیا حال ہوگا۔ اگر ایسے عبرت ناک نظارے کو دیکھنے کے بعد پھر بھی وہ گناہ کریں کیونکہ ممکن نہیں ہے کہ ایسے کفارہ کے بعد اور کوئی کفارہ ہو۔سزا دو غرض سے دی جاتی ہے ۔ اول یہ کہ مجرم شخص اپنی اصلاح کرے اور جانے کہ جو کام اُس نے کیا اُ س کا نتیجہ کیسا خراب ہے۔ دوم ۔ یہ کہ عوام الناس اُسے دیکھ کے عبرت کریں۔ ربنا یسوع مسیح کی تصلیب سے یہ دونوں علت غائیتیں پوری ہوجاتی ہیں۔ ادھر گنہگار دیکھتا ہے کہ اُس کی خاطر محبوب اللہ کو کیسی کیسی تکلیف اور ہوئے اور اس سے دل میں بدی کی وہ نفرت پیدا ہوجاتی ہے جو اور کسی صورت سے پیدا نہیں ہوسکتی ۔ وہ کہتا ہے کہ ہائے افسوس جس گناہ کی خاطر یہ شخص صلیب پرہے جو اللہ کا پیار ا ہے جو مجھ سے پیار کرتا ہے اور جو اس لائق ہے کہ مَیں بھی اُس سے پیار کروں کیا جائز اور مناسب ہے کہ مَیں پھراُس گناہ کو کروں ۔کیا مناسب ہے کہ مَیں پھر اس گناہ سے خوش ہوں۔ ہاں اُن گناہوں سے جن کے سبب یہ شخص ایسے دُکھ میں تھا ۔ اس قسم کے خیالات جو گنہگار ایماندار کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اُس کی اصلاح کے پورے اور کافی اسباب ہیں۔ دوسری علت غائی بھی خُداوند یسوع کی تصلیب سے پوری ہوجاتی ہے ۔یعنی یہ کہ عوام الناس بدی سے باز رہیں کیونکہ عبرت کی پوری تاثیر اُن کے دلوں میں تب آجاتی ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ابن اللہ محمود کی جو گنہگاروں کا صرف ضامن ہوا ہے یہ حالت ہوئی تو ہماری کیا نہ ہوگی ۔ اگر ہم پھر بھی گناہ میں رہیں اور گناہ میں زندگی بسر کریں ۔ اس سے عبرت اور عبرت سے بدی کی نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔

جو لوگ یہ ناواجب خیال رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محض رحم ہے مناسب ہے کہ وہ اس صلیب پر نظر کریں جس پر خُداوند یسوع لٹکا تھا اور دیکھیں کہ گناہ کی سزا کیسی بھاری ہے کہ خود اللہ تعالیٰ کے پیارے ابن کو موت کا دُکھ سہنا پڑا۔ اور جب اللہ کا پیارا بیٹا گنہگاروں کا ضامن ہوکے بچ نہ سکا تو اُن کی کیا حقیقت ہے کہ اُن پر رحم کیا جائے گا۔ خصوصاً وہ لوگ (جوخیال رکھتے ہیں کہ گنا ہ کی تھوڑی سی سزا ہوگی اور پھر معافی )اس صلیب کو دیکھ کے شرمندہ ہوں اور اپنے خیالات کی اصلاح کریں۔ کیونکہ آسمان میں جو سب کا محبوب ہے جو جلال کا بادشاہ ہے یعنی خُداوند یسوع جب صلیب پر لٹکایا گیا محض اس لیے کہ گنہگاروں کا عوضی ہے تو وہ کیا ہیں کہ بچ جائیں گے۔ اگر ہر ے درخت سے یہ کیا گیا تو سوکھے درخت کا کیا حال ہوگا۔
صلیب کے بھید کے انکشاف نے سارے عقدے حل کردئیے اور سارے اعتراضوں کو دور کردیا۔ اورساری مشکلات جو پہاڑ معلوم ہوتی تھیں آسان کردیں۔ پس اے گنہگار دیکھ کہ الہٰی فضل نے تیری نجات کی یہ ایک راہ نکالی ہے جس سے عدل ورحم باہم بوس وکنار کرسکتے ہیں اور تمام مشکلات جو اور وسائل میں لاحق ہوتی تھیں کافور ہوجاتی ہیں۔ تیری نجات کی راہ یہی ہے ۔ اگر تو نجات چاہے تو اس میں ہوکے اسے حاصل کر۔


فصل ہفتم

ایمان کا علاقہ نجات سے

پچھلی فصل میں ہم نے نجات کے مختلف طریقوں کا جو دُنیا میں رائج ہیں ذکر کیا ہے اور دیکھا ہے کہ نجات ابدی کی صرف ایک ہی راہ ہے۔ یعنی'' خُداوند یسوع جو خود فرماتا ہے کہ راہ اور حق اور زندگی میں ہوں۔ اور کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آسکتا''(یوحنا 14: 6)۔ اس فصل میں ہمارا ارادہ ہے کہ خُدا کے فضل سے اُس علاقہ کا بیان کریں جو نجات کا ایمان کے ساتھ ہے اور چونکہ یہ ایک بھاری مضمون ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے والے ہمارے ساتھ الہٰی فضل کے تخت کے سامنے گھٹنے ٹیک کے کہیں کہ ''اے قادر مطلق اور قدوس کریم باپ جس نے اپنے بیٹے کے وسیلے نجات کا ایسا طریقہ نکالا ہے جو فرشتوں کی عقل سے بھی باہر تھا اپنے بے حد فضل سے ہم کو یہ بتا کہ اُس نجات کا علاقہ ہمارے ایمان کے ساتھ کیوں کر اور کیا ہے تاکہ ہم ایمان مستقیم حاصل کریں اور ابدی نجات پائیں۔ ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے جو موا تھا اب جیتا اور تیرے ساتھ اے خُدا باپ اور روح القدس ابدتک سلطنت کرتاہے '' آمین۔

ظاہر ہے کہ نجات کا علاقہ یا تو ہمارے کاموں کے ساتھ یا خُدا کے فضل کے ساتھ جو بے حد اور ہم کو مفت ملتا ہے ۔ اکثر یہ کوشش کی جاتی ہے کہ نجات کو انسان کی کرنی پر منحصر کریں۔ پر کرنی کا یہ حال ہے کہ جن لوگوں کو ہم نیک سے نیک کہتے ہیں وہ خود اس امر کے قائل ہیں کہ اگر نجات ہمارے کاموں پر موقوف ہوتو ہم ہر گز ہرگز بچ نہیں سکتے ۔ چنانچہ ہم نے گذشتہ فصلوں میں اس امر کا مشرح بیان کیا ہے کہ انسان اپنے افعال کے وسیلے نجات نہیں پاسکتا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ اپنی نجات کا علاقہ کچھ تو الہٰی فضل سے اور کچھ اپنے اعمال سے بتاتے ہیں۔ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے اعمال گو ناکارہ ہیں پھر بھی اس لائق ہیں کہ اپنے اعمال سے نجات کا کچھ ایک حصہ حاصل کرلیں۔ اور باقی کا حصہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم اور فضل سے ہم کو دے دے گا۔ مگر یہ سب باطل خیالات ہیں خُدا کے فضل سے نجات کا حاصل ہونا اور بات ہے اور اعمال سے حاصل ہونا اور بات۔ اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں فلاں شے پر میرا حق ہے اس لیے وہ ازراہ مہربانی مجھ کو مل جائے گی تو گویا اجتماع ضدین ہے۔ جس شے پر ہمارا حق ہو اُسے ہم بڑی دلیری سے طلب کرسکتے ہیں۔پر مہربانی کی بخشش کو عجز سے مانگتے ہیں۔ مزدور کو جس نے ایمانداری اور جانفشانی سے محنت کی ہو اس کی مزدوری دینا اور شے ہے ۔ اور فقیر کو خیرات دینا دیگر ۔اسی طرح اگر نجات فضل سے ہے تو اعمال سے نہیں ورنہ فضل فضل نہ رہا اور اگر اعمال سے ہے تو فضل سے نہیں ورنہ اعمال اعمال نہ رہے (رومیوں 11: 6)۔مزدور کو مزدوری دینا صرف اُس کا حق ادا کرنا ہے اس میں کچھ مہربانی نہیں ہے پر غریب کو خیرات دینا اُس پر مہربانی کرنا ہے جس میں اُس کا کچھ حق نہیں ہے۔ پس دونوں باتیں نہیں ہوسکتیں اگر کہ نجات اعمال سے ہے تو اعمال پر ہی تکیہ کرنا لازم ہے۔ یعنی یہ کہ اگر کسی کے اعمال ایسے کامل اور پاک ہوں کہ نجات اُن سے حاصل ہوجائے تو فضل کی کچھ ضرورت نہیں ہے۔ پر اگر اعمال کسی ایک امر میں بھی قاصر ہوں تو اُن پر بھروسہ کرنا لاحاصل ہے اس حالت میں نجات کےواسطے فضل کی طرف اور محض فضل کی طرف دیکھنا چاہیے۔ اگر یہ سچ ہے کہ انسان گنہگار ہے تو ممکن نہیں کہ اپنے اعمال سے (جو گناہ میں)نجات حاصل کرلے۔پس اگر نجات ممکن ہے تو محض خُدا کے فضل عظیم سے ہوسکتی کہے۔ اور خُدا کا شکر ہے کہ اُس نے ہم لوگوں کی بدحالی اور بیکسی کو دیکھ کے محض اپنے فضل سے ایک راہ نکالی ہے وہ ہمارے کاموں پر نہیں۔ بلکہ محض ایمان پر موقوف ہے۔ اور حکمت الہٰی اس بات میں ظاہر ہے کہ اُس نجات کو جو ایمان کے وسیلے حاصل ہوتی ہے اپنی بزرگی اورجلال اور اپنے عدل اور رحم کے ظاہر کرنے کے واسطے محض فضل پر منحصر کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جو رحم میں غنی ہے ہم کو وہ شے عطا کرتا ہے جس کے ہم نہ صرف حق دار ہی نہیں بلکہ نالائق بھی ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض فضل اور رحم کی راہ سے ہم کو اپنا فرزندوحید دےدیا جس سے الہٰی عدل قائم رہتا ہے اور اُس کے بے حد فضل وکرم کی بے نہایت عزت اور بزرگی ظاہر ہوتی ہے۔

واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں گویا وہ جُدائی کی دیوار جو ہم میں اور خُدا میں گناہ کے سبب سے تھی خُداوند یسوع کے مصلوب ہونے سے ٹوٹ گئی ۔ اب گویا الوہیت ہاتھ پسارے ہوئے انسانیت کو بُلا رہی ہے اور کہتی ہے کہ ''اے گنہگار مَیں نے تیری نجات کے کام کو پورا کردیا۔اب اور کیا روک ہے جو مجھ وصال نہیں کرنے دیتی ۔دیکھ مَیں ہاتھ پسارے ہوئے تجھے بُلاتی ہوں''۔اب اگر کوئی روک ہے تو یہ ہے کہ انسان اپنی مرضی کا مالک ہے خواہ برضائے خود اس بات کو مانے یا نہ مانے اس امر کابالاجبارمنانا نہ صرف ناممکن بلکہ ناواجب بھی ہے ۔ کیونکہ ضرور ہے کہ جب تک انسان کی ذات خرابی دور نہ ہوجائے تب تک وہ نجات کو حاصل کرنے اور آسمانی خوشبوں کا مزہ چکھنے کے بالکل نالائق ہوتا ہے۔ اور ہونہیں سکتا کہ جب تک وہ بدل نہ جائے تب تک کسی طرح بہشت میں خوش ہوسکے گا۔ پس ضرور ہے کہ بہشت میں جانے سے پہلے انسان پاک کیا جائے تاکہ بہشت میں رہنے کے لائق بنے۔ جسے اور الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ نجات اور پاکیزگی کا لازمی علاقہ ہے۔ پس جب ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہم اُن کے سبب ناراست ٹھہرتے ہیں تو خُدا کے فضل نے ایمان اور پاکیزگی میں بھی ایک لازمی علاقہ پیدا کردیا ہے۔ اور یہ کہنا واجب ہے کہ ایمان ہی گنہگار کی پاکیزگی کی جڑ ہے۔جیسا کہ پاکیزگی کے بغیر بہشت اور وصال الہٰی نہیں حاصل ہوسکتے ویسا ہی ایمان کے بغیر پاکیزگی بھی حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ جب تک گنہگار اُس الہٰی انتظام پرجو خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے ہوا اور اُن بھاری صداقتوں پر جو اُس کے کلام میں موجود ہیں پورا قوی ایمان نہ رکھے تب تک ہونہیں سکتا کہ اُن پاک کرنے والی تاثیرات کو جو خُداوند یسوع سے نکلتی ہیں خود میں اثر کرنے دے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ اُس میں نہ پاکیزگی ہوگی نہ نجات حاصل کرے گا۔

علاوہ ازیں یہ نامناسب بھی معلوم ہوتا ہے کہ گنہگار کی نجات اُس وسیلہ سے کی جائے جو اُس کی پسند کے خلاف ہو۔ کیونکہ جس چیز سے وہ خوش نہیں اُس سے وہ ناخوش ہوگا۔ تب نجات کیا ہوئی جو لازوال خوشیاں دیتی ہے۔ بلکہ اس کے لیے نجات تو عذاب ہوگئی کیونکہ وہ اُس سے خوش نہیں ہوتا ایمان ایک ایسی شے ہے کہ گنہگار کو مجبور کرتا ہے کہ خوشی سے نجات کی وہ راہ جو خُداوند یسوع نے نکالی ہے قبول کرے۔پس ثابت ہوا کہ نجات ایمان کے بغیر نہیں ہوسکتی ۔ چنانچہ خود خُداوند فرماتا ہے کہ جو ایمان لائے گا بچ جائے گا۔ اور جو ایمان نہیں لائے گا ہلاک ہوگا(یوحنا 3: 16)۔

جب تک کہ خُداوند یسوع مسیح کی پاکیزگی کو انسان اس طور پر اپنا نہ بنالے کہ ارزوئے قانون وہ پاکیزگی اُس کی ہوجائے اور اُس کو خُدا کی خوشنودی کے لائق بنائے تب تک نجات ناممکن ہے ۔پس جب تک کہ ہم قانون کے روسے مسیح کے ساتھ ایک نہ ہوں تب تک ہم اُس کی پاکیزگی کے حصہ دار نہیں ہوسکتے۔ اور ہم اُس کے ساتھ ایمان کے بغیر ایک ہو نہیں سکتے۔ اور یہاں سے بھی ظاہر ہے کہ ایمان نجات کے واسطے ضروری ہے کیونکہ ایمان یکتائی کا وہ رشتہ ہے جو ہم کو اور مسیح کو ایسا باہم ایک کردیتا ہے کہ ہم اُس میں ہوتے ہیں اور وہ ہم میں رہتا ہے۔ غرض کہ جس پہلو سے ہم دیکھیں اور جس صورت سے خیال کریں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نجات ایمان کے بغیر اور ایمان نجات کے بغیر ہونہیں سکتا ۔ ایمان کے بغیر پاکیزگی نہیں حاصل ہوسکتی جو نجات کے واسطے لازمی ہے ایمان کے بغیر وہ لازوال اور بے نہایت خوشی نہیں ہوسکتی ہے جو نجات سے نکلتی ہے۔ اور ہم ایمان کے بغیر خُدا سے وصل نہیں کرسکتے جو حقیقی نجات ہے۔

اس جگہ ایک بڑا ضروری اور بھاری سوا ل یہ لازم آتا ہے کہ وہ ایمان کیا ہے جس کا علاقہ نجات کے ساتھ ایسا لازمی ہے ہم اس کا جواب یوں دیتے ہیں۔
(1)۔جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ایمان خُدا کی اُس گواہی کو قبول کرنا ہے جو اُس نے اپنے ابن وحید کے حق میں دی ۔ اوروہ یہ ہے کہ خُداوند یسوع ناصری انسان کا نجات دہندہ ہے۔
(2)۔ایمان سے پہلے ضرور ہوتاہے کہ گنہگار اپنی بیکسی اور بربادی کی حالت کا پورا خیال کرلے۔ گنہگار ایماندار یہ مان لیتا ہے کہ ابن اللہ محمود ربنا یسوع مسیح کے بغیر میری یہ حالت تھی کہ میری مدد کسی جگہ سے نہیں ہوسکتی تھی۔ میرے اعمال بالکل ناقص اور میری توبہ اور مناجات سب نکمی اور لاحاصل ہیں کیونکہ ان سے نجات نہیں ہوسکتی ۔ اگر میری نجات ہوسکے تو محض خُدا کے رحم سے ہوسکتی اور یہ خُدا کی مرضی ہے کہ خواہ مجھ پر رحم کرے یا جیسا میرا حق ہے میرے گناہوں کا واجبی بدلہ دے۔ جب تک انسان کے دل کا یہ حال نہ ہو جائے ۔تب تک وہ اپنے حقیقی نجات دہندہ کو قبول نہیں کرسکتا۔ جس کا خاص کام یہ ہے کہ بربادی اور بیکسی کی حالت میں بچائے کسی بزرگ کا قول ہے کہ انسان کی لیے ضرورہے کہ پہلے خود کو پہچانے تب خُداوند یسوع کو پہچان سکے گا۔
(3)۔ایمان انسان کی عقل کی آنکھوں کو روشن کردیتا ہے۔ تب وہ دیکھتا ہے کہ نجات کا وہ انتظام جو خُداوند یسوع کے وسیلہ سے ہے کیسا صاف عمدہ اور قبولیت کے لائق ہے تب وہ دیکھتا ہے کہ جس نجات دہندہ کی وہ کچھ قدر نہیں کرتا تھا وہ ایسا بالکل ضروری ایسا جلالی اور ایسا خوشنما ہے کہ بے اختیار دل اُسی کا گرویدہ ہوجاتا ہے ۔ اور انجیل جلیل کا وہ پیغام جو پہلے اُسے ہنسی کی بات معلوم ہوتی تھی اب اُس کو ایسی جلالی اور پاک معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے تحاشا اُسے قبول کرلیتا ہے۔
(4)۔تب گنہگار اپنے سارے دل سے سچے نجات دہندہ کی طرف بھاگتا ہے اور اُس سے بغلگیر ہوتا ہے ۔تب وہ انجیل کی شرائط کو مجبوراً نہیں بلکہ خوشی اوربڑی رضا مندی سے قبول کر لیتا ہے۔ تب اُس کا دل یسوع کی محبت سے چھد جاتاہے۔ تب وہ نہایت تعجب خوشی اور شکر گزاری سے اُس کے الہٰی صفات وجلال کو دیکھتا ہے جو نجات کے کام ظاہر ہوئیں ۔ پہلے تو وہ خود غرض تھا اور محض یہ چاہتا تھا کہ الہٰی عزت اور جلال ہونہ ہو اُس کی نجات ہوجائے۔کہ عدالت اورقانون ٹوٹے نہ ٹوٹے اُسے سزا نہ دی جائے ۔ پر اب اُسے الہٰی عزت کا حال بھی معلوم ہوتاہےکہ نجات کے کام میں وہ کیسی ظاہر ہوئی۔
(5)۔اور آخری بات یہ ہے کہ ایماندار گناہوں کی معافی خُداکی رضا مندی اور ہر ایک برکت کے لیے یسوع مسیح کی طرف دیکھتا ہے اور اُس پر بھروسا رکھتا ہے ۔ آگے وہ نا اُمید تھا پر اب اُمید رکھتا ہے کہ نہ صرف نجات ملی بلکہ خُدا کا فرزند بھی بن گیا اور یقین کرتا ہے کہ مَیں ابدالاباد اپنے باپ خُدا کے ساتھ رہوں گا۔ اور اُس کی خدمت کروں گا۔ وہ روح جو خُدا کے رحم اور فضل پر اعتبار کرتی ہے اور اُس کے رحم اور فضل کے ظہور کو جو خُداوند یسوع مسیح میں ظاہر ہوا ہے قبول نہیں کرتی ہرگز ایسی برکات حاصل نہیں کرسکتی کیونکہ جس نے حقیقی نجات دہندہ کو قبول نہ کیا وہ کیوں کر اُن برکات کو حاصل کرسکتا ہے جو اُس کی تعلیم اور کام اور زندگی سے نکلتی ہیں۔
القصہ ایمان دل کو صاف اور آراستہ کرتا اور اس میں نیکی کا بیج بوتا ہے۔ ایمان ایسی تابعداری پید ا کرتا ہے جس میں کوئی عذر نہیں ہوتا ۔ ایمان دُنیا اور اُس کی آزمائشوں پرغالب آتا ہے ۔ایمان غیر فانی چیزوں کو ایسا دُکھاتا ہے گویا کہ وہ سامنے ہیں ۔ایمان مردہ دل میں پھر سے جان ڈال دیتا ہے۔ ایمان دل سے بدی کا بیج نکال دیتا ہے اور آسمانی مزاج اُس میں پیدا کردیتا ہے۔ ایمان وہ راستبازی حاصل کراتا ہے جس کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی ۔ ایمان وہ دیوار توڑ دیتا ہے جو انسان اور اللہ میں حائل ہوئی ہوتی ہے اور دونوں کو ملادیتا ہے۔ ایما ن خُدا کی محبت دل میں پیدا کرتا ہے۔ ایمان انسان کے دل سے مجرمانہ خوف نکال ڈالتا ہے اور وہ محبت اُس میں بھردیتا ہے جو بیٹا با پ سے رکھتا ۔ کہ آگے وہ مجرم ہوکے خُدا کے حضور سے ڈرتا تھا۔ پر اب بیٹا ہوکے اُس کے حضور میں خوش ہوتاہے۔ آگے وہ اللہ سے دور بھاگتا تھا اب وہ اُس کی طرف زور سے دوڑتا ہے۔ آگے وہ دُنیا کے کاموں میں لگا رہتا تھا اب اپنے سارے کاموں میں اللہ کو یاد رکھتا ہے غرض کہ ایمان اس دُنیا میں باطنی اطمینان اور آئندہ دُنیا کی خوشی کایقین دلاتا ہے اور یہی نجات ہے۔


فصل ہشتم

ایمان کا اخلاقی اثر

ایمان اور اُس کے خواص اور فائدہ کا ذکر جو اوپر کی فصلوں میں ہوا ہے اُس سے اس کتاب کے پڑھنے والوں کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ خُداوند یسوع اور اُس کی مبارک انجیل پر ایمان لانا انسان کے ضمیر کو روشن کرکے اُس میں الہٰی تاثیرات اور وہ اطمینان پیدا کرتا ہے جو تمام فہم سے باہر ہیں۔

پر اکثر ایک قابل غور اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب نجات دہندہ پر صرف ایمان لانے کے وسیلے گناہوں کی معافی اور خُدا کی برکتیں حاصل ہوتی ہیں تو کیا اس سے گنہگار کو گناہ کرنے کی زیادہ جرات نہ ہوگی ۔ اگر ایمان اعمال سے جدا کیا جائے اور توبھی انسان خُداکے حضور راستباز ٹھہرے تو کیا خطرہ نہیں ہے کہ ایمان انسان کی زندگی کی روش کو بھی اعمال حسنہ سے علیحدہ نہ کردے گا۔ اس کا جواب کلام الہٰی یوں دیتا ہے کہ ایمان خالص ومستقیم گناہ کی نہیں بلکہ قدوسیت کی ترغیب دیتا ہے۔ کیونکہ خُداوند یسوع کا کلام ایماندار کے دل میں الہٰی تابعداری اور روحانیت اور تقدیس کا شوق پیدا کردیتا ہے۔یہ تاثیر ایمان کی ہر زمانہ میں رہی ہے اور اس زمانہ میں بھی ہوتی ہے یعنی یہ کہ خالص ایمان دل کو پاک کرتا ہے (اعمال 15: 9)۔ چنانچہ ہزار ہا لوگوں کی زندگی کے واقعات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ بے ایمان تھے وہ ناپاک اور شہوتی طورپر زندگی بسر کرتے تھے۔ پر جب ایماندار ہوگئے تو نیک اور پاک طور پر زندگی کاٹتے لگے ۔بت پرست لوگ ایمان کےوسیلے خُدا پرست بن گئے ۔دُنیا دار ایمان کے وسیلے دیندار ہوگئے ۔ بدکار حرامکار اور طرح طرح کے گناہوں میں رہنے والے بدی وغیرہ سے نفرت کرنے لگے۔ اور خُدا ترس بن گئے ۔ بدگفتار لوگ ایمان کے وسیلے فرشتوں کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ ظالم اورخونخوار مغرور اور خود بین لوگ ایمان کے وسیلے مہربان اور نرم دل فروتن اور غریب دل ہوجاتے ہیں۔ کس نے روم کو بت پرستی اوروحشت سے نکال کے خُدا پرست اورمہذب بنادیا ۔ کس کے سبب آج انگلنڈ کو یہ عالی رتبہ اور عروج حاصل ہے ۔ہندوستان میں سے ظلمت اور تاریکی کوکون دور کرتا جاتا ہے اگر ایمان جن ملکوں میں بہت سے مسیحی ہیں اُن کا مقابلہ فی زمانہ ایسے ملکوں سے کرکے دیکھ لو کہ کہاں زیادہ پاکیزگی زیادہ نیکی زیادہ خُدا ترسی زیادہ نفس کشی اور حلیمی ہے۔ جو علاقہ ایمان اورتقدیس میں ہے وہ خاص تین اطوار سے ظاہر ہوتا ہے ۔

اوّل:۔ ایمان میں تاثیر ہے کہ انسان کے سب سے طاقتور جو شوں کو اُکسانے اور اُن کو تقدیس کی ترقی میں لگائے۔
دوم :۔ ایمان دل کو اُن صداقتوں کے ساتھ ایسا ملاتا ہے جو چال چلن میں پاکیزگی حاصل کرنے کی تاثیر رکھتی ہیں۔
سوم :۔ ایمان دل میں شوق پیدا کرتا ہے کہ ہم پاکیزگی کے حاصل کرنے کی کوشش کریں اور روح القدس کی مقدس کرنے والی تاثیرات کے حصول کی مناجاتیں کریں۔

ذیل میں ان تینوں امور کا ذکر کیا جاتا ہے جس سے صاف ظاہر ہوگا کہ ایمان دل میں پاکیزگی پیداکرنےکا نہایت شوق دیتا ہے ۔

اوّل:۔ ایمان میں تاثیر ہے کہ انسان کے سب سے طاقتور جوشوں کو اُکسائے اور اُن کو تقدیس کی ترقی میں مصروف کرے۔ تمام اجواش انسانی کا ذکر کرنا مشکل ہے خصوصاً اس قسم کی کتاب میں جو ضرور ہے ، کہ جہاں تک ممکن ہو مختصر ہو۔ پر ہم خاص دو جوشوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں سے ۔

پہلا:۔ محبت ہے ۔اکثر یہ ہوتا ہے کہ جس چیز سے ہم کو محبت ہوتی ہے ہم بہت چاہتے ہیں کہ اُس کی مانند ہوجائیں اور بن جائیں۔ محبت کی ایک تاثیر یہ بھی ہے کہ دوئی کو دور کرکے یک جہتی ویکتائی کی طرف دل کو کھینچتی ہے۔ محبت وصال محبوب چاہتی ہے اور وصال یک رنگی بغیر نہیں ہوسکتا۔ خالص محبت کی تاثیر ہے کہ خصلتوں اور عادتوں اور خواہشوں کو بدل دیتی ہے اور محبوب کی عادتیں حبیب میں پیدا کردیتی ہے۔ بزرگ لوتھر کا قول ہے کہ محبت یکتائی پیدا کرنے کا وسیلہ ہے جس سے ہم چاہتے ہیں کہ ہم میں اور ہمارے محبوب میں ابدی وصال ہو اور ہم پھر ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں ۔محبت کا قانون ایسا ہے جیسا کشش کا قانون ۔اگر مادہ میں کشش اتصال نہ ہو تو سب چیزیں برباد ہوجاتی ہیں۔ ویسا ہی اگر محبت الہٰی دل میں نہ بسے تو انسان کی ذات برباد ہوجاتی ہے۔ کوئی رسی ایسی مضبوط نہیں جس سے انسان کا دل ایسا جکڑا رہے جیسا کہ محبت کے ایک دورہ سے محبت کا جال ایسا ہے کہ دل اور جان کو پورے طورپر قابو رکھتا ہے پھر انسان کو ہلنے کی جرات بھی نہیں رہتی ۔مثل مشہور ہے جس کا دل اُسی کا سب کچھ جس کی محبت دل میں بسے اُسی کا تن من دھن سب کچھ ہوجاتاہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ ایمان دل میں الہٰی محبت بلکہ الہٰی عشق پیدا کردیتا ہے ۔ جب انسان ایک طرف اپنی بے نہایت بدی کو اور دوسری طرف خُدا کی بے حد محبت کو دیکھتا ہے کہ اُس نے اپنا عزیز اُس کی خاطر موت کے حوالے کیا کہ وہ اُس موت سے جو گناہ سے ہے خلاصی پائے تو اُس کا دل محبت سے چھد جاتا ہے اور وہ دل گرویدہ ہوکے کہتا ہے کہ مَیں خُدا کی محبت کو اب دیکھتا ہوں اورتسلیم کرتا ہوں کہ خُدا محبت ہے اب مَیں اُس سےمحبت رکھوں گا اس لیے کہ اُس نے پہلے مجھ سے محبت کی اور اپنے ابن وحید کو دے دیا کہ مَیں اُس پر ایمان لاکے ہلاک نہ ہوں بلکہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں ۔ پس خُدا کی بھاری محبت کو دیکھ کے وہ حیران رہ جاتا ہے کہ بجائے اس کے کہ اُسے وہ ابدی سزا دی جائے جس کا وہ سزا وار تھا اللہ تعالیٰ اُس کو اتنا پیار کرتا ہے کہ اُسی کے عوض اپنے بیٹے کو موت کے حوالے کر دیا تعجب اُس کے دل میں شکرگزاری پیدا کرتا ہے۔ تب وہ کہتا ہے کہ اب مَیں کیا کروں۔ اللہ نے تو میرے واسطے اتنا کچھ کیا اب مَیں اُس کے واسطے کیا کروں۔ مَیں اب سے اپنا آپ اور اپنا دل اور اپنا سب کچھ اُس کے حکم اور اُس کی مرضی کے تابع کروں گا۔ اے اللہ اب سے مَیں تیرا تابعدار خادم بنتا ہوں۔مجھ عاجز کی سن لے ۔مَیں اب تیری محبت کا قائل ہوں اور تیری رضا کے سوائے اور کچھ نہیں مانگتا ۔ تو مجھے بتا اے میرے خُدا! اے میرے باپ کہ ! مَیں اب کیا کروں ۔ اور اللہ تعالیٰ جو ایسی دُعا کی طرف کبھی کان بند نہیں کرتا اپنی میٹھی اور دلچسپ آواز سے اُسے کہتا ہے کہ اے میرے بیٹے اپنا دل مجھے دے(امثال 23: 26)۔جب وہ سوال کرتا ہے کہ اے خُداوند مجھے بتا کہ تیری کیا مرضی ہے کہ مَیں اُسے بجالاؤں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ خُدا کی مرضی پاکیزگی ہے (1۔تھسلنیکیوں 4: 3)کیونکہ جو خُداکی مرضی بجالانا چاہتا ہے وہ خود کو ایسا پاک کرتا ہے جیسا کہ وہ (اللہ)پاک ہے(1۔یوحنا 3: 3)۔تب وہ محبت کرنے لگتا ہے ۔اور محبت یہی ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر چلیں(2۔ یوحنا 6آیت)۔مصلوب نجات دہندہ کو دیکھ کےاُس کی موت کا مطلب خوب سمجھ لیتا ہے کہ اُس نے خود کو ہمارے بدلے دیا تاکہ وہ ہمیں سب طرح کی بدکاریوں سے چھڑائے اور ایک خاص امت کو جو نیکوکاری میں سرگرم ہو اپنے لیے پاک کرے (ططس 2: 14)۔تب وہ خواہش اور دُعا اور کوشش کرتا ہے کہ قدوسیت کاکام اُس کی روح میں جاری اور اعمال میں نمودار ہو۔ وہ کہتا ہے کہ مَیں اب اپنا نہیں بلکہ خون خریدہ ہوں (1۔کرنتھیوں 6: 20، 7: 23)۔اوراب میرا فرض خاص ہے کہ اپنے جسم اور جان سے خُدا کی مرضی بجالاؤں اور جس طرح سے ہوسکے اُس کا جلال ظاہر کروں ۔تب وہ اپنا سارہ بدن گزرانتا ہے کہ خُدا کے لیے ایک زندہ قربانی ہوجو اُس کے واسطے مخصوص اور اُس کی پسند خاطر ہو (رومیوں 12: 1) ''پس ایمان سے محبت اور محبت سے شکرگزاری اور شکرگزاری سے فرمانبرداری اور فرمانبرداری سے پاکیزگی پیدا ہوتی ہے ۔

ایماندارصرف یہاں ہی نہیں ٹھہرجاتا بلکہ الہٰی محبت جو اُس کے دل میں پیدا ہوتی ہے ایک اور قسم کی محبت سے تبدیل ہوجاتی ہے ۔ جسے شکرگزاری کی محبت کہتے ہیں یعنی وہ محبت جو شکرگزاری سے نکلتی ہے ۔جب انسان کے دل سے ڈر نکل جاتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کو پیارا باپ خیال کرنے لگتا ہے تو دل میں تعریف اور خوشی پیدا ہوجاتی ہے پہلے تو وہ اللہ سے ڈرا کرتا تھا اس لیے کہ گنہگار ہونے کی وجہ سے جانتا تھا کہ اللہ اُس سے ناراض ہوگا۔ پر اب اُسے اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا حال معلوم ہوگیا کہ اُس نے اس کے گناہ بخش دئیے تو دہشت محبت سے اور نفرت پیار سے بدل جاتی ہے دل کی آنکھیں روح القدس کے وسیلے منور ہوگئیں اب اُسے الہٰی کمالات اور صفات نہایت جلالی اور محمود نظر آتی ہیں کہ وہ حمیدہ صفات جو آگے نقیض معلوم ہوتی تھیں اب بالکل ایک دوسرے کے موافق معلوم ہوتی ہیں۔وہ خُداوند یسوع نجات دہندہ کے چہرہ کی طرف نظر کرتا ہے اور اُس میں الہٰی خوبصورتی کا کمال دیکھتا ہے ۔ اور کیا دیکھتا ہے کہ الہٰی صفات کے خوبصورت گروہ میں قدوسیت سب سے روشن اور ممتاز ہے۔ اُس کی جلالی خوشنما صورت کو دیکھ کے (2۔سلاطین 20: 21)۔دل سے دُعا کرتا ہے کہ وہ بھی پاک ہوجائے جیسا کہ اللہ پاک ہے (احبار 19: 2، 20: 7)۔اس کے کلام کی طرف نظر کرکے وہ دیکھتا ہے کہ کوئی بات ایسی نہیں کہ پاکیزگی کی ترقی کی مانع ہو بلکہ بیشتر قدوسیت کی ترقی کرنے والے احکام موجود ہیں ۔وہ دیکھتا ہے کہ لا تبدیل خُدا کا ارادہ یہ ہے کہ ہم اُس کے پیارے بیٹے کے ہمشکل بن جائیں (رومیوں 8: 29)۔تو اپنی زندگی کا خاص کام یہ ٹھہراتا ہے جس کے واسطے وہ بڑی سرگرمی سے کوشش بھی کرتا ہے کہ مسیح خُداوند کا مزاج حاصل کرے۔ اس طرح وہ الہٰی قدوسیت کو بطور نمونہ اپنے سامنے رکھ کے کوشش کرتا ہے کہ اُس کی مانند آپ بھی بن جائے۔

دوسرا :۔اُمیدہے۔ ایمان کے وسیلے راستباز ٹھہر کے ہم اپنے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے صلح حاصل کرتے ہیں اور خُدا کے جلال کی اُمید میں خوش رہتے ہیں (رومیوں 5: 1 )۔ایمان کے وسیلے خوشی اور سلامتی اور اُمید حاصل ہوتی ہیں۔ اُمید کی خاصیت یہ ہے کہ جس ایمان سے یہ نکلے اُسے قائم اور مضبوط رکھتی ہے ۔ مثلاً اُس شخص کی اُمید جو خُداوند یسوع پر ایمان لاتا ہے یہ ہوتی ہے کہ وہ لازوال اور ناآلودہ اور غیر فانی میراث پائے گا جو آسمان پراُس کے واسطے رکھی گئی ہے (1۔پطرس 1: 4)اُمیدیہ ہوتی ہے کہ غیر فانی تاج حاصل کرے گا(1۔کرنتھیوں 9: 25)۔وہ اُس دُنیا میں داخل ہونے کی اُمید رکھتا ہے جس میں کوئی چیز جو ناپاک یا نفرت انگیز یا جھوٹ ہے کسی طرح داخل نہ ہوسکتی (مکاشفہ 21: 27)۔پس یہ اُمید نہایت شوق اور خواہش پیدا کردیتی ہے کہ دل ناپاکی سے علیحدہ ہوجائے ۔ جب دل میں شوق ہوتا ہے کہ مقدسوں کی مجلس میں داخل ہوجاؤں تو خود بخود یہ خواہش بھی پیدا ہوجاتی ہے کہ اُن کی صحبت کے لائق بھی بن جاؤں کی اُس کی روحانی خوشیوں میں شریک ہوجاؤں۔

جب انسان کے دل میں اُمید ہوتی ہے کہ نجات دہندہ کی مجلس میں رہے اور اُس کے جلال دیکھے تو دل میں خواہ مخواہ شوق پیدا ہوجاتا ہے کہ اپنے آپ کو اُس کی صحبت کے لائق بھی بنائے ۔چنانچہ حضرت یوحنا حواری کہتے ہیں کہ جو یہ اُمید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو ایسا پاک صاف کرتا ہے جیسا کہ وہ (یسوع مسیح )ہے (1۔ یوحنا 3: 3)۔جو لوگ اس قسم کی باتوں کا محض خیال کرتے ہیں اُن کے دل میں روحانیت اور تقدیس کا بڑا شوق پیدا ہوجاتا ہے تو اس آدمی کا حال کیا ہوگا۔ جسے یقین اور قطعی اُمید ہوکہ وہ ایسی پاک مجلس جائے گا۔ جو شخص آسمان کا آسمانی خوشیوں کا ۔ آسمانی رفیقوں کا ،آسمانی عبادت اور خصوصاً آسمانی خُداکا خیال کیا کرے۔ تو کچھ انہونی بات نہیں ہے دن بد ن زیادہ زیادہ اس فانی دُنیا کی بے ہودگی اور ناپاکی کی نسبت مرتا اور خُدا کی نسبت زندہ ہوتا جائے گا۔ جس کے جلال کا خیال اُس کے دل میں بستا ہے اور جس کی صورت حاصل کرنا وہ چاہتا ہے ۔جب بد خیالات بد اثر پید اکرتے ہیں تو تعجب نہیں کہ الہٰی قدوسیت کے خیالات پاکیزگی کی تاثیر کریں گے ۔ جب اللہ کی صحبت میں رہنے کا خیال انسان کے دل میں آجاتا ہے تو بدی سے بد مزگی اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور انسان خواہش کرتا ہے کہ ہر ایک بدی اور بدی کی شکل سے علیحدہ ہوجائے ۔ یہ خیالات انسان کے دل کو جوش دیتے ہیں کہ اپنے آ پ کو ہر طرح کی جسمانی اور روحانی نجاست سے دور رکھے اور خُدا کے خوف میں قدوسیت حاصل کرے(2۔کرنتھیوں 7: 1)۔ اس حالت میں انسان نہ صرف اُن گناہوں سے نفرت کرنے لگتا ہے جو فعل کے گناہ ہیں بلکہ خیال کے گناہوں سے بھی ۔

دوم :۔ ایمان دل کو اُن صداقتوں کے ساتھ ایسا ملاتا ہے جو اعمال میں ضرور پاکیزگی پیدا کرنے کا اثر رکھتی ہیں۔

اس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ جو صداقتیں خُداوند یسوع مسیح کی انجیل میں مندرج ہیں وہ اپنی ذات میں ایسی تاثیر رکھتی ہیں کہ خواہ نخواہ دل کو پاک صاف کریں تو بھی ہم صرف ایک بات کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی اُس دُعا کا جو ہمارے پیار سے خُداوند نے مانگی جب وہ اس دُنیا میں بقید جسم تھا۔ اُن کو اپنی صداقت سے پیار کر ،تیرا کلام صداقت ہے (یوحنا 17: 17)۔پس ظاہر ہے کہ انسان کا دل الہٰی صداقتوں سے جو اُس کے کلام میں درج ہیں پاک اور منور ہوجاتا ہے۔ پر الہٰی صداقتوں سے پاکیزگی حاصل کرنے کے واسطے کئی چیزوں کی ضرورت ہے۔


17۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی محض معیب(نقص دار) ذات کے پرستار ہیں الہٰی قدوسیت سے کبھی پورے طور پر واقف نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ معیب ہوتی ہے۔ پر مسیح میں گویا جسم پکڑ کے نظر آتی ہے پس جو لوگ مسیح کو اپنا مدعا بتاتے ہیں عقل سلیم اس کو تسلیم نہیں کرتی ہے کہ وہ مسیح کے موافق بنتے جاتے ہیں جس کا انجام کامل قدوسیت ہوگا۔

ایم حنیف

اوّلاً:۔یہ ضررو ہے کہ کلام الہٰی کی صداقتیں دل میں پورے طور پر جانشین ہوں۔ ضرور ہے کہ مومن کے دل میں اُن کی وہی جگہ ہوجو رسولوں کے دل میں تھی ۔ چنانچہ حضرت پولُس فرماتے ہیں کہ مَیں نے مصمم ارادہ کرلیا نہ کچھ اورعلم حاصل کروں گا نہ کسی اور کابیان کروں گا سوائے یسوع مصلوب کے اور اس مصمم ارادہ کا نتیجہ یہ ہوا اُن کے دل اور عقل نے تسلیم کرلیا کہ صلیب کی تعلیم سے سچے مذہب کی دونوں ضروریات پوری ہوتی ہیں یعنی اوّل ضمیر اطمینان حاصل کرتی ہے۔

دوم :۔دل پاک ہوجاتا ہے حضرت پولُس کی طرح حضرت یوحنا کا بھی یہی ارادہ تھا۔ چنانچہ جب وہ خُداوند یسوع کی لہو کی پاک کرنے والی تاثیرات کا ذکر کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کہ مَیں یہ باتیں تم کو اس غرض سے لکھتا ہوں کہ تم گناہ نہ کرو (1۔یوحنا 2: 1)۔

کسی بزرگ کا قول ہے کہ کفارہ کا مسئلہ روحانی سانچا ہے جس میں سے مسیح کی روحانی صورت کی قطع وضع نکلتی ہے اگر انسان پورے طور پر اس سانچے میں ڈھل جائے تو خواہ اُس نے کبھی بڑے بڑے حکموں کو سُنا ہی نہ ہوتو بھی وہ اپنے ضمیر کی ہدایت سے ہی خود بخود اُن پر چلے گا۔ چنانچہ حضرت پولُس بھی اُسی بات کا دوسرے الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں ۔(رومیوں 6: 12)پس چاہیے کہ گناہ تمہارے فانی جسموں پر حکومت نہ کرے اور تم اُس کی شہوتوں کے تابع مت ہو بلکہ اپنے آپ کو خُدا کے ایسا تابع کرو گویا کہ مردوں میں سے جی اُٹھے ہو۔ اور تمہارےعضو خُدا کے واسطے راستبازی کے آلے بنیں۔ پر فکر خُدا کا ہو کہ تم جو گناہ کے غلام تھے دل سے اُس کی تعلیم کی جس کے سانچے میں ڈھالے گئے تھے فرمانبردار ہوئے۔ یہاں خُدا کے کلام کو سانچے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس میں ایماندار کا دل اور مزاج ڈھالا جاتا ہے اور صورت پکڑتا ہے۔ کلام ربانی کی تعلیم پوری پاکیزگی کا تقاضا کرتی ہے یعنی یہ کہ اس کے پیرو اپنے چال چلن میں وہی پاکیزگی ظاہر کریں جو خُدا کا کلام اُن کو سکھاتا ہے ۔اسی مطلب پر ایک بُت پرست رومی فیلسوف سنی کا جوڑا حکیم ہوا ہے یوں لکھتا ہے کہ اگر انسان اخلاقی علوم سیکھ لے ایسا کہ تعلیم بھی دے سکے کہ کیا کرنا اور کیا نہ کرنا چاہیے پروہ آدمی دانا نہیں ہے جس کا دل اس تعلیم سے بد ل نہ جائے ''۔اور حقیقت میں الہٰی صداقتوں کی تاثیر ایسی ہوتی ہے کہ انسان کے چال چلن میں پاکیزگی ظاہر کرائے ۔چنانچہ ایک اور شخص جو سنی کا سے زیادہ ممتاز ہے یوں کہتا ہے۔ کہ ہم سب بے نقاب چہرے سے خُداوند کے جلال کو ایسا دیکھتے ہیں جیسا کہ آئینہ میں ۔ اور جلال سے جلال تک خُداوند کی روح کے وسیلے اُسی صورت پر بنتے جاتے ہیں (2۔کرنتھیوں 3: 18)۔

ثانیاً :۔ ضرور ہے کہ الہٰی صداقتوں کا کل مجمع دل سے قبول کیا جائے ۔ایمان اوّل ہی اوّل تو خُداوند یسوع کے کام اورکفارہ سے علاقہ رکھتا ہے پر پورا ایمان اُن تمام صداقتوں کو قبول کرتا ہے جو تعلیم اور الزام اور سدھارنے اور راستبازی میں تربیت کرنے کے واسطے فائدہ مند ہیں۔ تاکہ مرد خُدا کامل اور ہر ایک نیک کام کے لیے تیار ہو (2۔تیمتھیس 3: 16)۔
ظاہر ہے کہ دل اگر صداقتوں کے صرف اُس حصہ کو قبول کرے جو طبیعت کے موزوں ہیں اور باقی صداقتوں سے کچھ سرو کار نہ رکھے تو صداقتوں کا کامل اثر اُس پر نہیں ہوسکتا۔ بلکہ جن صداقتوں کو وہ قبول بھی کرتا ہے اُن کا اثر بھی ناممکن ہوتا ہے کیونکہ کلام ربانی میں عموماً ایسا نظر آتا ہے کہ صداقتوں کے سلسلہ میں ایک صداقت دوسری سے بالکل وابستہ ہوتی ہے اور دوسری صداقت پہلی پر کچھ نہ کچھ اثر رکھتی ہے ۔ اگر ایک صداقت کو بھی نکال دیا جائے تو باقی صداقتیں اُس کی تاثیر سے محروم رہتی ہیں۔ پس ضرور ہے کہ صداقتوں کے کل مجمع کو قبول کریں ورنہ باقی صداقتوں سے بہت کم فائدہ کی اُمید ہو سکتی ہے۔ مثلاً کلام ربانی میں ایک صداقت یہ ہے کہ گنہگار صرف ایمان کے وسیلے بچ سکتا ہے اور ایک اور صداقت یہ کہ ایمان بے اعمال مُردہ ہے ۔
اگر کوئی شخص صرف پہلی بات کو مانے یعنی یہ کہ صرف ایمان ہی سے راستبازی حاصل ہوسکتی ہے اور اس مسئلہ کا جو علاقہ دوسرے وابستہ مسائل سے ہے( مثلاً مسیحی کو کیسے کام کرنے چاہئیں ۔ مسیح کا حکم اور مرضی مومن کے واسطے کیا ہے وغیرہ )اُسے قبول نہ کرے تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کہ حقیقی اور پورے ایماندار کے چال چلن کا نمونہ اس شخص سے مل سکے ۔کیونکہ اُس کے دل نے صرف صداقت کے ایک حصہ کو یا یوں بھی کہیں کہ صداقتوں کے مجمع میں سے ایک کو بغرض خود قبول کرلیا ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ وہ مقبولہ صداقت کی ماہیت اور مطلب کو بھی درست طور سے نہ سمجھے بلکہ غلط نتیجہ نکالے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو صداقت اُس نے قبول کی وہ غلط یا کم مفید ہے بلکہ یہ کہ ایک صداقت کو دوسری سے علیحدہ کرکے ماننا (جو باہم ایسی وابستہ ہیں کہ ایک کے علیحدہ کرنے سے باقی کی کمزور اورکم مفید ہوجاتی ہے )ہم کہتے ہیں کہ اُس کا ایسا کرنا نہ صرف اُس کے واسطے ناجائز بلکہ مضر بھی ہے۔ نظام شمسی کی طرح نظام صداقت بھی ہے جس طرح نظام شمسی کا حال ہے کہ اگر ایک ستارہ بھی علیحدہ کیا جائے تو باقی کل کا نقصان ہوتا ہے ۔ ویسا ہی نظام صداقت کا بھی حال ہے کہ اگر ایک صداقت بھی علیحدہ کی جائے تو باقی کی کل صداقتوں کا نقصان ہوتا ہے ۔ پس صداقتوں کے پورے مجمع کودل میں جگہ دینا ضرور ہے۔

ثالثاً:۔ ضرور ہے کہ ایمان حاصل شدہ کا دائم استعمال کیا جائے۔ تقدیس پیدا کرنے میں ایمان کوئی ایسا راز والا پوشیدہ طریقہ استعمال نہیں کرتا جس کا بیان نہیں ہوسکتا بلکہ ایمان کا خاصہ ہے کہ کلام ربانی کی صداقتوں کو دل میں نقش کردیتا ہے ۔ چنانچہ اکثر مسیحیوں کا تجربہ ہے کہ اُن کے دل میں پاکیزگی کا نہایت شوق تب ہی ہوتا ہے ۔ نفسانی خواہشوں پر اُن کو فتح نمایاں تب ہی حاصل ہوتی ہے ۔ دُنیا کے پھندوں فریبوں اور خرخشوں (فضول بحث، جھگڑا)پر وہ تب ہی غالب آتے ہیں جب کہ انجیل کی صداقتیں اُن کے دلوں میں بڑے زور سے جانشین ہوتی ہیں اور اپنی عمدہ تاثیرات سے باطنی انسانیت کو موثر کرکے قابو کرتی ہیں۔ چنانچہ ایمان کاکام یہ ہے کہ کلام ربانی کو دل میں جانشین ہونے دے جس سے ایسے ایسے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس قوائے بہیمی (قوت حیوانیت)تب ہی بڑی طاقت حاصل کرتی ہیں جب کہ دُنیا کا فکر اورحال کی زندگی کے شغل اکثر دل کو مصروف رکھتے ہیں اورجب دل موثر کرنے والی صداقتوں سے علیحدہ رہے۔ پس اگر کوئی یہ چاہے کہ اُسے وہ ایمان حاصل ہوجو زندگی اور اطوار میں پوری تاثیر کرتا ہے تو ضرور ہے کہ اُس ایمان کو زور سے استعمال میں لائے جو اُسے الحال حاصل ہے۔ اور دل سے یہ دُعا مانگے کہ ایمان کے وسیلے مسیح اُس کے دل میں بسے (افسیوں 3: 17)۔چاہیے کہ دل انجیلی صداقتوں کے خیال میں اکثر لگا رہے۔ کم از کم صبح شام سب سے علیحدہ ہوکے خُدا کے ساتھ باتیں کریں ۔ اور اس الہٰی ملاقات کو جلد ی سے ختم نہ کریں بلکہ دل کو آرام سے اُن الہٰی تاثیروں سے موثر ہونے دیں جو اللہ تعالیٰ کے نورانی چہرہ کی تجلی سے برآمد ہوکے ضمیر کو روشن اور مطمئن اور ہمیشہ پاک صاف کرتی ہیں۔ مناسب ہے کہ روز مرہ کے کام میں بھی دل اللہ کے ساتھ لگے ہیں کیونکہ اللہ پاک ہے اور اُس کی صحبت ہم کوپاک کرتی ہے۔

سوم :۔ ایمان دل میں شوق پیدا کرتا ہے کہ مومن پاکیزگی کے حصول کی کوشش کریں اور روح اللہ کی پاک کرنے والی تاثیرات کے حصول کے واسطے مناجاتیں کریں۔
اگر انسان کو یہی معلوم ہوتا کہ گناہ کے سبب وہ بد ذات اور بدحال ہوگیا ہے پر یہ نہ بتایا جاتا کہ خُداوند یسوع کے خون سے نہا کے پھر پاک صاف ہو سکتا ہے اور الہٰی روح کے جلال سے نیا مخلوق بن سکتا ہے تو اُس کی مصیبت کا کیا ٹھکانا تھا۔ اُس کی حالت تب اُس جانور کی سی ہوتی جو دیکھتا ہے کہ شکاری کتّے وغیرہ اُس کے پکڑنے کو آتے ہیں اور اُسے پھا ڑ دیں گے ۔پر جس کے پاؤں نہیں ہیں کہ بھاگ جائے اور پر نہیں ہے کہ اُڑ جائے ۔ یا اُس کی حالت اُس شخص کی سی ہوتی جو پابریدہ جنگل میں پڑا ہے اور جس پر فیل دما ں پر شیر ثریاں حملہ کئے آتا ہے۔ پر خُدا کا شکر ہو ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے کہ اُس نے ہم کو نا اُمیدی اور بدحالی میں نہیں چھوڑ دیا بلکہ جیسا کہ الہٰی نجات دہندہ کی خبر دی ویسا ہی الہٰی پاک کنندہ کا پیغام بھی ہم کو سنایا ۔ اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہ نے نہ صرف گناہ دور کئے جانے کا بندوبست کیا ہے بلکہ دل کے بدلنے اور سرنو پیدا ہونے کا انتظام بھی کردیا ہے۔

یا د رکھنا چاہیے کہ الہٰی صداقتوں اور روح اللہ کی تاثیر عموماً ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے۔ گنہگار کے پاک اور صاف کرنے کا انتظام جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اُس کی تعریف کی کچھ حد نہیں ہے تو بھی انسان اپنی بگڑی ہوئی ذات کے سبب زور سے اُس کا مقابلہ کرتا ہے ۔ ایک طرف الہٰی صداقتوں کی اور دوسری طرف بگڑی ہوئی انسانیت کی تاثیرات آراستہ اور لڑنے کو تیار ہوتی ہیں اُسی کا نام روحانی جنگ ہے۔ پرخُدا کا شکر ہوجو کمزوروں کو غالب کردیتا ہے ۔ الہٰی تاثیرات گودل میں نئی ہوتی ہیں تو بھی پُرانی انسانیت پر اللہ کی مدد سے غالب آتی ہیں۔ یہ تو سچ ہے کہ کلام الہٰی نورانی صداقتوں اور الہٰی تاثیروں کا خزانہ ہے۔ اور طاقت رکھتا ہے کہ دل کو موثر کردے ۔ پر اُس کا زور اللہ تعالیٰ میں ہوکے ہوتا ہے ۔ چنانچہ خُداوند یسوع مسیح ایک جگہ کہتا ہے کہ اُن کو مسیح کے شاگردوں کو اپنی صداقت سے پاک کر۔ تیرا کلام صداقت ہے۔ دوسرے طور پر گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اے خُدا باپ اپنی طاقت کو اپنی صداقت کے ساتھ جانے دے ۔ اُن کے دلوں کو کھول کہ صداقت کو قبول کریں۔ اور اپنی الہٰی تاثیرات اُن کے دل پر پورا قبضہ کرلیں۔ حضرت پطرس بھی اسی مضمون پر یوں کہتے ہیں کہ مَیں نے غیر قوموں کو کلام الہٰی سُنایا اور اللہ نے جو دلوں کا جاننے والا ہے اُس پر گواہی دی اور ہماری طرح اُن کو اپنا روح القدس عطا کیا۔ اور ہم میں اور اُن میں کچھ فرق نہ کیا بلکہ ایمان کے وسیلے اُن کے دلوں کو پاک صاف کیا (اعمال 15: 9)۔ گویا حضرت پطرس صاف فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے کلام خُدا لوگوں کو سُنایا اور اللہ نے ایمان کے وسیلے روح القدس کی پاک کرنے والی تاثیرات کو اُن کے دل میں جگہ دی۔

یاد رکھنا چاہیے کہ انجیلی صداقتوں کے گروہ میں سے ایک یہ بھی ہے کہ الہٰی تاثیر الہٰی کلام کے ساتھ اکثر ہوتی ہے۔ گوفی الواقع روح القدس کی ہوتی ہے مگر اس پر بھی سچ ہے کہ کلام کے ساتھ ہوتی ہے ۔ نہیں تو کلام ربانی کی منادی اور مطالعہ سے فائدہ کی اُمید نہیں ہوسکتی ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ کلام الہٰی میں یہ تاثیرات بذات خود موجود ہیں کہ ہرایک دل پر اثر کرے۔ ہم صرف یہ کہتےہیں کہ کلام الہٰی کی تاثیر روح القدس کے وسیلہ سے اُس دل پر ہوا کرتی ہے جو اُس کے مبارک وعدوں کو زور سے پکڑے اور اُن کے پورا ہونے کی دُعا کرے تاکہ وہ پاکیزگی پیدا کریں۔

پس جب دیکھیں کہ ہماری کمزورمیں بے شمار ہیں تو مناسب نہیں کہ نااُمید اور بے دل ہوجائیں ۔ اور نہ اُس وقت کہ ہم سارا زور لگا کے پھر بھی ہار جائیں۔ بلکہ بیشتر اُس بیرونی امداد کی استدعا کریں جس کا وعدہ خُداوند ہم سے کرتا ہے۔ (لوقا 11: 9۔13)۔اور جس کی امداد سے ہم گناہ پر فتح پاکے پاکیزگی حاصل کرسکتے ہیں۔ کیونکہ یہ سب انتظام اللہ سے ہوا ہے او ر جائز نہیں ہے کہ اُس مدد کی طلب نہ کریں جس کا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک دُعا کرنے والے سے وعدہ فرماتا ہے ۔ جنگ خطر ناک ہوا کرے۔ لڑائی سخت ہو تو ہو پر اگر ہمارے دل اللہ کے مسکن ہوں اور ہم ہر وقت مدد کی خاطر ربنا یسوع مسیح کے وسیلے اُس کی طرف دیکھا کریں تو عموماً ہمارے چال چلن پاکیزہ ہوں گے۔ اور گو کبھی کبھی ہم ٹھوکر بھی کھاجائیں تو بھی ہم اکثر فتح پاتے ہیں اور آخری فتح ضرور پائیں گے۔

حاصل کلام ایمان سے یہ عمدہ تاثیرات نکلتی ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی کیسی دانائی اور مہربانی ظاہر ہوتی ہے ۔ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ ایمان کو راستباز ٹھہرائے جانے کا وسیلہ بنانے میں اللہ تعالیٰ کی کیسی حکمت اور محبت ظاہر ہوتی ہے اور اب ہم الہٰی حکمت کو دیکھ کے کیسے حیران ہوتے ہیں کہ اُس نے کیسا عمدہ علاقہ پاکیزگی اور ایمان میں مقرر کیا ہے ۔ فرض کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری خراب اور برباد شدہ قوم کو معافی کا پیغام سناتا اور کہتا کہ اے گنہگار و آؤ مَیں تم کو الہٰی رحمت سے یوں ہی بخش دوں گا اور وہ وسیلہ نہ بناتا جس سے انسان کی نجات میں الہٰی عزت اور عدل قائم رہے تو کیوں کر ممکن تھا کہ انسان کا دل اُس کی طرف پھر سکتا یا تبدیل ہوجاتا بلکہ یقیناً گناہ کی طرف زیادہ مائل ہوتا ۔ اگر وہ صرف یہ ہی کہہ دیتا کہ اے گنہگار خیر تونے تو گناہ کیا پر مَیں طاقت رکھتا ہوں اور اُس کو اب استعمال کرتا ہوں کہ تجھے یونہی بخش دیتا ہوں ۔تو انسان کو کس کی رغبت ہوتی ۔ گناہ کی یا گناہ سے بچنے کی ؟ کیا دل اس وقت یہ نہ کہتا اللہ تو مجھے بخش ہی دے گا پھر گناہ کیوں نہ کروں ۔ اور کیوں مزے نہ اڑاؤں کیوں دل کی خواہشوں کو روکوں ۔ بلکہ مزے اُڑالوں عیش کرلوں اورلذت لوٹ لوں ۔آخر کاربخشش تو ہو ہی رہے گی ۔ پھر فرض کرو کہ اللہ یہ بھی مقرر کرتا کہ گنہگار اس مذکورہ بالا طریقہ نجات پاتا۔ اور بہشت میں چلا بھی جاتا تو وہ وہاں کے لائق نہ ہوتا اور وہاں کی روحانی خوشیوں میں خوش بھی نہ ہوسکتا ۔ بلکہ وہ بہشت جہاں وہ خوش نہ ہوسکتا دوزخ ہوکے اُسے دُکھ دیتا اُس سے زیادہ بدحال کس شخص کا ہوسکتا ہے جس نے گناہوں کی سزا کی معافی حاصل کی پر جس کا دل اور مزاج اُس جگہ کے لائق نہیں جہاں اُسے ہمیشہ تک رہنا ہوگا۔ جس صحبت میں دل خوش نہ ہو اورجہاں کی خوشی میں کچھ مزہ نہ آئے وہاں چند لمحہ کاٹنے مشکل ہوتے ہیں اور ایسے معلوم ہوتے ہیں جن کا کاٹنا کٹھن ہوجاتا ہے۔ مثلاً صوفی کو رندوں کی اور رند کو صوفیوں کی مجلس میں جانا اور رہنا کیسا مشکل ہے تو کتنا زیادہ اس گنہگار کو ہوگا۔ جس کا دل دُرست نہیں ہے اور جو پاکیزگی سے بالکل ناواقف ہے کہ وہ بہشت میں جائے اوروہاں رہے۔ جہاں مرد اورعورت کا مزاج باہم موافق نہ ہو تو وہ گھر دونوں کے واسطے زندان سلیمانی ہوتا ہے تو کتنا زیادہ اُس شخص کے واسطے بہشت ہوگا جہاں کوئی بھی اُس کے مزاج کا نہیں ہے جس سے بول کے اور ہنس کے وہ دل بہلائے ۔ پر دیکھو الہٰی رحم کی منادی کے ساتھ ہی ساتھ الہٰی محبت اور الہٰی بخشش کی منادی بھی ہوتی ہے جو اُس نے اپنے ابن وحید کے وسیلے دُنیا میں ظاہرکی کہ گنہگار خُداوند یسوع کی محبت کے کام کو دیکھ کے حیران ہوجائے اوراُس کی محبت کا گرویدہ ہوجائے جس نے اُسے یہاں تک پیار کیا کہ اپنا آسمانی جلالی تخت چھوڑ کے گندہ دُنیا میں غریب عاجز مفلس محتاج اور درماندہ کی شکل لے کر آیا اور اپنی جان بھی اُس پر سے قربان کردی ۔ یہ محبت ساری سرکشی پرغالب آتی ہے اور گنہگار گویا مردوں میں سے زندہ ہوکے ارادہ کرلیتا ہے کہ اپنے جسم اور جان کو خُداوند کی خدمت میں دے گا۔ اور اُس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے گا۔

یہ مسیحی ایمان ہے اور یہ اُس کے فوائد ۔ دُنیا بھر میں اورکونسا دین ہے جو گنہگار کے لیے اتنا کچھ کر سکتا ہے یا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ مسیحی دین اور مسیحی ایمان ہی کا طفیل ہے کہ قومیں مہذب اور تاریکی سے دور ہوجاتی ہیں۔ دُنیا بھر میں اور کونسا فرقہ یا قوم ہے جس میں مسیحیوں سے زیادہ پاکیزگی اور روحانیت نظر آتی ہے ۔ مسیحی دین نورانی ہے۔ جہاں مسیحی دین ہے وہاں نور ہے۔ جہان مسیحیت ہے وہاں تقدیس اور اللہ کی محبت ہے جہاں خُداوند یسوع مسیح بستا ہے وہاں پاکیزگی اور الہٰی جلال نظر آتا ہے۔


18۔شرم کی بات ہے کہ اکثر لوگ انگریزوں اور کل انگریزں کو مسیحی کہتے ہیں ۔انگریز ہونا اور ہے اور مسیحی ہونا اورانگریز وں میں بھی بد قماش اور بد چلن ہوتے ہیں۔ انگریزوں میں بھی بد دین بے دین کا فر اور ملحد ہوتے ہیں۔ انگریزوں میں بھی ناخدا پر ست اور دہریا ہوتے ہیں ۔ پر سب کے سب نہیں ۔مسیحی کا نشان یہ ہے کہ وہ جو مسیحی دین کے موافق زندگی بسر کرے وہ مسیحی ہے۔ جو اُس کے خلاف چلے مسیحی نہیں ہے حقیقت میں یہی پہچان کل مذہب کے پیروں کی ہے۔ ہندو وہی ہے جو ہندوؤں کے دین کے موافق عمل کرے ۔محمدی وہی ہے جو محمدی دین کے موافق زندگی کاٹے ۔ مسیحی بھی وہی ہے جو مسیحی دین کے موافق زندگی بسر کرے۔
مناسب ہے اور ضرور ہے کہ یہ بد خیال لوگ دل سے نکال ڈالیں کہ ہر ایک انگریز مسیحی ہے۔

ایم حنیف


فصل نہم

پاکیزگی کا علاقہ ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ

اس کتاب کے پڑھنے والوں کو اوپر کے بیان سے بخوبی معلوم ہوگیا ہوگا کہ پاکیزگی جس سے ہماری مراد نہ صرف چلن کی بلکہ دل کی جان کی اورخیالوں کی پاکیزگی ہے ایک ایسی شے ہے جس کے بغیر ہم خُدا کو دیکھ نہیں سکتے یعنی خُدا کا وصال اور دیدار حاصل نہیں کرسکتے (عبرانیوں 12: 14)۔ جس طرح سے کہ آسمان کے قلابے (کنڈا، کڑی ، حلقہ)زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ۔جدھر کو انسان کا جی چاہے چلا جائے ۔اگر بہشت کو جانا چاہے تو بھی ضرور ہے کہ اسی دُنیا میں اُس کی راہ لے اگر دوزخ کو جانا چاہے تو بھی اسی دُنیا میں وہ راہ پکڑے ۔ غرض کہ دوزخ اور بہشت کا آغاز یہاں سے ہی ہوتا ہے۔ انسان اپنے فعلوں کا مختار ہے ۔ بہشت اور دوزخ دونوں کا دروازہ کھلا ہے۔ دونوں کی راہ یکساں معلوم ہے ۔ انسان کا اختیار کہ جس میں چاہے جائے۔ خواہ اپنے نفس آمارہ اور دُنیا ئے غدار کی پیروی کرے اور دوزخ کو جائے یا پاکیزگی حاصل کرے اور بہشت میں پہنچے۔ جو لوگ دُنیا کے ہیں وہ خُدا کو حاصل نہیں کرسکتے ۔ دُنیا سے جُدا ہونا چاہیے۔ ورنہ خُدا سے ملاقات نہیں ہوسکتی ۔ اور دُنیا سے جدا ہونے کی مراد یہ نہیں ہے کہ زن وفرزند وغیرہ سے علیحدہ ہوکے جنگل اور پہاڑوں میں جارہے(گو کبھی کبھی گوشہ نشینی ضروری اور مفید ہوا کرتی ہے اور چاہیے کہ ہر ایک شخص کبھی کبھی اس طور پر علیحدہ ہوکے اپنی بابت سوچا کرے اور اپنا حال خُدا کو بتایا کرے)بلکہ یہ کہ دُنیا وی چیزوں اور خواہشوں کو دل سے دور کردے اور خُدا کو دل میں رکھے

چیست دُنیا اور خُدا غافل شدن
نہ طلاؤ نقرہ و فرزندوزن

ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ حقیقی نجات صرف یہی نہیں ہے کہ گناہوں کی معافی حاصل کرے یہ بھی نہیں ہے کہ اس قسم کی معافی حاصل کرکے الہٰی مقربوں کی مجلس میں داخل کیا جائے بلکہ ایک اور ضروری بات یہ بھی ہے کہ قدوس خُدا اور مقدسوں کی صحبت میں رہنے کے لائق ہوجائے۔ یعنی طبیعت کا میلان تقدیس کی طرف ہوتا کہ اُس جگہ خوش رہے جہاں کامل تقدیس نظر آتی ہے ۔ ایک جملہ میں نجات سے مراد پاکیزگی کل ہے۔ یعنی نہ صرف راستباز ٹھہرایا جانا بلکہ راستباز ہوجانا نہ صرف گناہ کی سزا سے بچنا بلکہ گنا ہ سے بچنا ۔نہ صرف معافی حاصل کرنا بلکہ پاکیزگی بھی حاصل کرنا۔ نہ صرف گناہوں کا دور ہونا بلکہ دل کی بدی اور بدراہی اور بدرغبت کا دور ہوجانا۔ نہ صرف بہشت میں چلا جانا بلکہ بہشت کے رہنے کے لائق ہوجانا۔ اگر کوئی شخص اسی دُنیا میں اس نجات کو حاصل نہ کرے تو اُمید نہ رکھے کہ اُسے خُدا کا وصال یا وہ جگہ حاصل ہوسکتی ہے جہاں ناپاکی کا نام تک بھی نہیں پہنچ سکتا بلکہ جہاں قدوسیت اور تقدیس کا مل ہے ۔

اوپر کی فصلوں میں ہم نے اس امر کو بھی دیکھا کہ مسیحی دین کی ایک عالی بلکہ حقیقی فضیلت یہ ہے کہ یہ الہٰی دین نہ صرف گناہوں کی معافی کی جاہ بتاتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اسی دُنیا میں گنہگار انسان خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے بہشتی خو اور بہشتی مزاج حاصل کر سکتا ہے۔ اور یہ دین اسی دُنیا میں روحانیت اور تقدیس کی تعلیم وتربیت دے کے اس لائق بنا دیتا ہے کہ جب انسان اس فانی بدن کو چھوڑے تو بہشت اور اُس کی جلالی خوشیوں میں شامل ہو۔ یہ کام مسیحی دین اور صرف مسیحی دین ہی کرسکتا ۔ یہ کام مسیحی دین اور صرف مسیحی دین ہی نے کیا ہے۔ اور یہ کام صرف مسیحی دین ہی کرے گا۔ کوئی دوسرا نہیں۔
ہم نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اگر بفرض محال گنہگار معافی حاصل کرکے بہشت میں پہنچا یا بھی جائے اُس کے دل میں بدی کی رغبت رہے تو بہشت اُس کو دوزخ سے بد تر ہوجائے گا۔ بہشت کی خوشیاں دوزخ کے عذاب سے اُس کے لیے زیادہ خراب ہوجائیں گی ۔ اور وہ نجات جو اُسے حاصل ہوئی اُس کے لیے دُکھ اور رنج کا باعث ہوجائے گی ۔

اس فصل میں وہ ذرہ طوالت کے ساتھ ہم تین امروں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔

اوّل:۔ پاکیزگی کی ماہیت کیا ہے۔جس کے بغیر کوئی خُدا کو نہیں دیکھ سکتا؟
دوم :۔ کون کون سے وسائل ہیں جن سے روحانیت اور تقدیس حاصل ہوسکتی ہے؟
سوم :۔ تقدیس حاصل کرنا کیوں ضروری ہے؟
اوّلاً:۔واضح ہو کہ اگر تقدیس کی ماہیت اور کیفیت الفاظ میں کسی قدر ادا ہوسکتی ہے تو یہ الفاظ یا درکھنے کے قابل ہیں کیونکہ ان سے وہ کیفیت اور ماہیت کسی قدر معلوم ہوسکتی ہے۔ پاکیزگی خُدا کی مرضی کی مطابقت ہے جو د ل اور چلن پر اثر کرتی ہے ۔ جس طرح کہ الہٰی کمالات دُنیاوی کمالات کا پیمانہ ہے اسی طرح بالخصوص الہٰی قدوسیت ہماری تقدیس کا پیمانہ ہونی چاہیے ۔ ہم تب ہی پاک ہو سکتے ہیں جب کہ اُس کی شکل ہمارے دلوں پر کندہ کی جائے اور ہماری زندگی کے اعمال افعال اور چلن میں اُس کا عکس نظر آئے ۔ حقیقی تقدیس یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صورت ہم میں پھر سے بن جائے۔ چنانچہ حضرت پولُس کہتے ہیں کہ نئی انسانیت کو پہنو جو خُدا کی صورت پر راستبازی اور حقیقی پاکیزگی میں پیدا ہوئی (افسیوں 4: 24؛ رومیوں 8: 29)۔

خُدا کی مرضی دو طرح پر ظاہر ہوئی ہے۔ یعنی شریعت موسوی اور انجیل میں۔ شریعت ہم کو بتاتی ہے کہ ہمارے فرائض کیا ہیں۔(1)خُدا کی طرف اس حیثیت سے کہ وہ ہمارا خالق اور پروردگار ہے اور وہ سارے کمالات کا چشمہ اور ساری خوبیوں کا مخرج (نکلنے کی جگہ، اصل، مادہ)ہے۔(2) انسان کی طرف اس حیثیت سے کہ ہمارا ہم مخلوق بھائی ہے اور تمدنی تعلقات میں ہمارے ساتھ اُس کا رابطہ پڑتا ہے۔پر انجیل شریف ان فرائض سے بڑے اور بھاری فرائض ہم پر لاڈالتی ہے ۔وہ ہم کو بتاتی ہے کہ ہمارے فرائض کیا ہیں ۔

(1)۔اللہ کی طرف سے اس لیے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور جب ہم اپنے قبیح گناہوں کے سبب اس لائق تھے کہ اس کا غضب ہم پر نازل ہو اور ہم کو ہلاک کرڈالے تو ترس کھاکے نہایت مہربانی سے اُس نے اپنا پیارا بیٹا ہماری خاطر قربانی اور کفارہ میں دے دیا کہ اس طرح وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرکے ہم کو اپنی قربت اور وصال دے۔

(2)۔ انسان کی طرف اس حیثیت سے کہ ہم اور وہ دونوں ایک ہی سی بیکسی کی حالت میں ہیں اور اللہ تعالیٰ دونوں کو ایک ہی پیارکی بھری ہوئی نظر سے دیکھتا ہے ۔اور نجات دہندہ دونوں کے واسطے موا۔

اگر انسان اس الہٰی مرضی کو جو ان دوطرح پر ظاہر ہوئی ہے اپنی زندگی کی ساری حالتوں میں مقدم سمجھے اور اپنے آپ کو اُس کے مطابق بنادے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مقدس ہے۔

جہاں حقیقی پاکیزگی ہوتی ہے وہاں چند ایسے امر بھی موجود ہوتے ہیں جو خالص اور ناخالص تقدیس میں امتیاز کرتے ہیں پس ہم اس غرض سے کہ ہر ایک شخص خود اپنے واسطے سوچ لے کہ اُس نے حقیقی تقدیس حاصل کی ہے کہ نہیں ۔ چند مفصلہ ذیل امور کا بیان کرتے ہیں۔

اوّل:۔ جس شخص نے تقدیس حاصل کی ہو وہ الہٰی قدوسیت کے خیال میں بہت خوش ہوتا ہے۔ مثلاً ممکن ہے کہ خود غرض انسان الہٰی رحم کے خیال میں خوش ہو نہ اس لیے کہ خُدا رحیم وکریم ہے یا اللہ تعالیٰ میں رحم اور محبت کی عالیٰ اور حمیدہ صفات ہیں پر بالخصوص اس لیے کہ اللہ جل شانہ اُس کے ساتھ بار بار بھلائی اور رحم کرتا ہے اور اُسے خیال ہوتا ہے کہ خواہ میں کیسا ہی گنہگار کیوں نہ ہوں وہ مجھ پر رحم کرے گا۔ پر الہٰی کمالات اور خصوصاً قدوسیت سے خوش ہونا (یعنی اس خیال سے خوش ہونا کہ اللہ ایسا قدوس ہے کہ وہ ناپاک کے ساتھ مقاربت(نزدیکی) کرنہیں سکتا اور حکم دیتا ہے کہ ہم پاک ہوجائیں اس لیے کہ وہ پاک ہے)اسی روح کاکام ہے جس نے پاکیزگی حاصل کی ہو۔ کند ہم جنس باہم جنس پرواز کی مشہور مثال کے بموجب ہونہیں سکتا کہ انسان جو اپنی ناپاکی میں خوش ہوتا ہے کسی طرح خُدا کی قدوسیت کے خیال سے خوش ہو۔ بلکہ وہ بیشتر خُدا سے ڈرتا اور کانپتا ہے اور اُسکی حضوری سے دور بھاگتا ہے کیونکہ اُس کو خُدا کی قدوسیت بھسم کرنے والی آگ معلوم ہوتی ہے۔ پر وہ روح جو پاک ہے خُدائے قدوس سے خوش ہوتی ہے اورکہتی ہے کہ اے خُدا مَیں تجھ سے خوش ہوں اور تیرا جلال ظاہر کرتی ہوں اس لیے کہ تو قدوس ہے(مکاشفہ 15: 4)۔

دوم :۔ وہ روح جو پاک ہے خُدا کی شریعت میں خوش ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ خُدا کی شریعت پاک ہے۔ شریعت خُدا کے کمالات کی تصویر ہے جو اُس کے چہرہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ہم اصل کو پیار کرتے ہیں تو اُس کی تصویر کی بھی عزت کریں گے اور اُس سے خوش ہوں گے ۔ جیسا کہ ایک شخص جو دوسرے کو پیار کرتا ہے اُس کی تصویر کو دیکھ کے بہت خوش ہوتا ہے خصوصاً جب کہ اُس کا پیار اُسے ظاہری آنکھوں سے نظر نہ آئے اسی طرح وہ روح جو پاک ہے اسی الہٰی تصویر کو جوشریعت ہے دیکھ کے خوب خوش ہوتی ہے (زبور 119: 140، 19: 7۔10؛ رومیوں 7: 12، 24)۔

سوم :۔ جو روح پاک ہوتی ہے وہ نجات کی اُس راہ میں نہایت خوش ہوتی ہے جو خُداوند یسوع مسیح سے ہے ۔کیونکہ اس راہ سے الہٰی کمالات کی خصوصاً اُس کی قدوسیت کی خوبصورتی کو بڑا جلال حاصل ہوتا ہے۔

ہم پہلے اس امر کا مفصل ذکر کرچکے ہیں کہ وہ راہ جو خُداوند یسوع مسیح نے نکالی ہے ایسی ہے کہ اُس میں دونوں باتیں موجود ہیں جو نجات کے واسطے ضروری ہیں۔ یعنی خُدا کی عدالت کا قائم رہنا اور خُدا کے قانون کی عزت ہونا۔ اور یہ دونوں امر خُداوند یسوع کی فرمانبرداری اور دُکھ سے پورے ہوئے ۔ اب ضرورت صرف اس امر کی باقی ہے کہ گنہگار جس کے گناہ خُداوند یسوع کے وسیلے معاف ہوئے صرف وہ پاکیزگی حاصل کرے جس کے بغیر کوئی خُدا کو دیکھ نہیں سکتا ۔یہ کام روح القدس کے وسیلہ سے ہوسکتا ہے جو ہم کو پاک صاف کرکے اس لائق بناتا ہے کہ خُدائے قدوس کے ساتھ مقاربت کرسکیں ۔ غرض کہ اس صورت میں خُدا کی حکمت عدالت اور قدوسیت کا جلال نظر آتا ہے ۔ اور صرف یہی راہ ہے جس میں گنہگار کی معافی اور الہٰی قدوسیت کی عظمت دونوں باہم پوری ہوتی ہیں ۔ پس یہ حال دیکھ کے وہ روح جو پاک ہے خوش ہوتی ہے اور خُدائے قدوس کی حمد کرتی ہےکہ آسمان کو پہنچنے کا راہ پاکیزگی ہے اور مقدس ہونے کے بغیر قدوس اللہ تعالیٰ کی صحبت ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی ۔ تب وہ خوشی سے اس الہٰی راہ پر قدم دھرتی ہے یہ جان کے کہ اس راہ پر چلنے سے وہ خراب نہیں بلکہ دن بدن زیادہ نیک پاک اور مقدس بنتی چلی جائے گی۔ اور اخرالامر قدس الا قداس میں قدوس قدوس قدوس خُدا وند کے حضور پہنچ کے اُس کی تعریف اور ستائش کرے گی۔

چہارم :۔ پاکیزگی کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ جس کے دل میں یہ بستی ہے وہاں خُدا کے پاکیزہ احکام اور فرائض کی مجبوری نہیں بلکہ بخوشی فرنبرداری کا شوق اور ارادہ ہوتا ہے۔ چنانچہ وہاں یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ خُدا کی صحبت دُنیا میں حاصل ہو جائے ۔وہاں یہ خوشی ہوتی ہے کہ کسی طرح خُدا کی مرضی اور خوشی پوری ہو۔ دُنیا کی دولت ، عزت ،حشمت ،خوبصورتی اور خوشی حاصل ہوں نہ ہوں صرف ایک امر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خُدا کی خوبصورتی کو دیکھ کے اُس کے چہرہ کے جلال پر نظر کرے (زبور 2: 4، 139: 17، 63: 5، 6، 28)۔ غرض کہ اُس کی کامل خوشی خُدا کی صحبت اور انسان کی بھلائی میں ہوتی ہے۔ (دیکھو زبور 112: 5، 9، 10؛ 1۔کرنتھیوں 9: 27)۔یہ نہیں کہ اس فانی جسم اور گندہ دُنیا میں کوئی شخص بالکل پاک اور کامل ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی بدی میں گرفتار ہوجاتا ہے پر اُس کی عادت اور خوشی یہ ہوتی ہے کہ پاک گفتار اور پاک رفتار رہے۔ اور جب اُس سے کوئی خطا یا لغزش ہوجاتی ہے تو وہ اپنے آپ سے بہت رنجیدہ ہوتا اور روتا ہے اور کُڑھتا ہے اور دُعا کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ پھر اُس سے ایسی بات سرزدنہ ہو۔

ثانیاً:۔ کون کون سے وسائل ہیں جن سے روحانیت اورتقدیس حاصل ہوسکتی ہے۔

(1)۔سب سے پہلے ضرور ہے کہ انسان خود کو غور اور تعمق کی نظر سے دیکھے اور اپنی حالت کو درستی سے آزمائے ۔ یہ ذرہ مشکل بات تو ہے کیوں کہ دل اکثر اس کام کو بھاری خیال کرتا ہے اور اس سے کچھ خوش نہیں ہوتا۔ بلکہ جب کبھی انسان اس کام کو کرنا چاہے تو اُسے لاچار ہوکے چھوڑ دینا پڑتا ہے تو بھی ایک بات تو انسان نہایت آسانی سے کرسکتا ہے اور یہ ہے کہ وہ اچھی طرح سے دیکھ سکتا ہے کہ آیا وہ پاک ہے یا ناپاک ۔کیونکہ اسی بات کے فیصلہ پر بہت کچھ منحصر ہے۔ جن نشانات کا ہم نے اوپر (یعنی پہلے حصہ میں) ذکر کیا ہے اگر وہ ہم میں پائے جائیں تو ہم خُدا کے نزدیک مقدس ہیں اگر وہ نہ پائے جائیں تو مناسب نہیں ہے کہ ہم اپنے آپ کو فریب دیں اوراپنی بربادی کو اپنے اوپر لے آئیں بلکہ اسے تسلیم کرلیں کہ ہم ناپاک نجس اور لعین (لعنتی)ہیں ۔شاید بہت سے لوگوں کو یہ الفاظ غیر مہذب اور نامناسب معلوم ہوں گے پر مجھے معلوم نہیں ہے کہ کون سے موزوں الفاظ ہیں جن سے مَیں اپنے سب سے پیارے کو خطاب کروں جب کہ مَیں دیکھوں کہ تقدیس اس میں نہیں ہے۔ ان سے زیادہ اورملائم الفاظ مجھے معلوم نہیں ہیں ۔ جب خُدا کے نزدیک ایسا شخص ناپاک نجس اور لعین ہے تو ضرور ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھی ایسا ہی سمجھے اور جب وہ اپنی نسبت یہ خیال کرنے لگے تو یقین جانے کہ فضل اُس کے دروازے پر کھڑا ہے اور منتظر ہے کہ دروازہ کھلے اور وہ داخل ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ کا ایک خاصہ یہ ہے کہ جب انسان اپنے آپ کو ایسا سمجھنے لگے جیسا کہ فی الحقیقت وہ ہے تو اللہ اُس کی بے کسی اور لاچاری کو دیکھ کے اُس پر رحم کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے میرے بیٹے مَیں تجھے پاک صاف کروں گا۔ مَیں کرسکتا ہوں۔ میرے پاس دُرست راہ سے آ۔ مجھ سے مدد مانگ کہ مَیں تجھے اپنے ابن وحید کے لہو سے پاک صاف کرکے روح القدس دوں گااور تو پاک صاف ہوجائے گا۔

یہ سچ ہے کہ پہلے پہل شاید اپنی حالت پر غور کرنا بھاری معلوم ہو پر ذیل کے چند طریقے ایسے ہیں جن سے یہ کام زیادہ آسان ہوجائے گا۔

(الف):۔ کوئی خاص وقت مقرر کرنا چاہیے کہ اُس میں تمام بیرونی اشیا کے خیال سے علیحدہ ہوکے اپنی حالت پرغور کرو۔ اور دیکھو کہ کون کون سی نادانی خطا اور گناہ تم سے سرزد ہوئے۔مگر دن بھر میں دس پندرہ منٹ یہ کام کیا جائے تو روحانیت کو بڑی تقویت ہوتی ہے۔ غالباً رات کو بستر پر جانے سے پہلے ہر ایک شخص یہ کام کرسکتا ہے اور وہ وقت اس کام کے واسطے موزوں بھی ہے ۔کیونکہ دن بھر کے کام سے فارغ ہوکے وہ اُس پر ایک نظر ڈال سکتا ہے۔
(ب):۔ اگر کوئی شخص روز مرہ یہ کام نہ کرسکے تو غالباً اتوار کے دن تو ہر ایک شخص ضرور یہ کام کرسکتا ہے۔ مناسب ہے کہ عبادت الہٰی میں شریک ہونے سے پہلے اورنہیں تو ذرہ سی دیر خلوت میں جائے اور خوب سوچے کہ اُس نے پچھلے ہفتہ میں کیا کیا کیا۔اور کیا کیا نہ کیا۔ اپنے نقص وقبح سے خوب واقف ہوکے اللہ تعالیٰ کی مدد کی درخواست کرے اور اُسے اپنا حال بتائے اور کوشش کرے کہ آیندہ کو اُس سے پھر وہ کام نہ ہوں ۔
(ج):۔ عشائے ربانی کا موقع اس کام کے واسطے نہایت مفید ہے کیونکہ اُس وقت دل تیار ہوتا ہے اور یہ کام آسانی سے ہوسکتا ہے پس مناسب ہے کہ نہ صرف ہر ایک دن یا ہر ایک ہفتہ پر اس بات کو موقوف کریں بلکہ اُن کے علاوہ عشائے ربانی سے پہلے خاص طور پر اپنی حالت کو دیکھیں اور پھر شریک ہوں۔

(2)۔ روحانیت کا ایک بڑا بھاری فائدہ اس امر سے ہوتا ہے کہ انسان خود مصمم ارادہ کرے کہ جس طرح سے ہوسکے گا وہ بدی پر غالب آئے گا ۔ یہ تو سچ ہے کہ الہٰی مدد کے بغیر انسان کچھ کر نہیں سکتا پر الہٰی مدد اُنہیں کو ملا کرتی ہے جو زور سے کوشش کرتے ہیں۔ انسان کا کام یہ نہیں ہے کہ خود اکیلا لڑائی کرے۔ کیونکہ اگر اکیلا لڑے گا تو ضرور شکست کھائے گا۔ اُس کاکام صرف یہ ہے کہ ہوشیار رہے اورغور کی نظر سے چاروں طرف دیکھتا رہے کہ کوئی جانی دشمن چپکے سےنہ آجائے اورجب کسی کو دیکھے تو صاف سارا حال اللہ تعالیٰ سے کہہ دے اور ارادہ کرے کہ اللہ تعالیٰ کا سپاہی اور اُس کے ماتحت اور پیچھے ہوکے اُس کی مخالفت کرے گا اور اُسے روک دے گا۔ نہ صرف گناہ پر غالب آنے میں اس قسم کا ارادہ مفید ہوتا ہے بلکہ روحانیت اور تقدیس کے حاصل کرنے میں بھی مصمم ارادہ جو الہٰی مدد کے ساتھ کیا گیا ہو بہت ہی مفید ہوتا ہے ۔غرض کہ انسان یوں سمجھے کہ یہ اُس کی ابدیت کا معاملہ ہے کہ اگر اب تقدیس حاصل کرے تو خیر ورنہ ہمیشہ تک اللہ تعالیٰ سے دور عذاب میں رہنا پڑے گا۔ یوں اُس کی سب سے بھاری اور طاقتور خواہشیں تقدیس کے حاصل کرنے کی خواستگار ہوں گی ۔ اور کوشش کریں گی کہ تقدیس حاصل ہوجائے۔

(3)۔ فضل کے وسائل کا دوامی استعمال بھی ضرور ہے فضل کے وسائل بہت ہیں مگر صرف چند ایک کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے۔

(الف):۔کلام خُدا کی غور اور سنجیدگی سے تلاوت کرنا یا سُننا ۔ اور اُس کا اطلاق اپنے اوپر کرنا۔ بعض کاخیال ہے کہ اللہ کی کلام کو محض پڑھ ہی لینا مفید ہے۔ مگر یہ غلط ہے بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ کلام اللہ کو پڑھتے ہیں پر کچھ فائدہ حاصل نہیں کرتے محض اس لیے کہ وہ صرف اس غرض سے نہیں پڑھتے کہ اُس کو اپنی حالت پر چسپاں کریں۔ اگر کوئی شخص علم یا اخلاقی تعلیمات کے خیال سے کلام ربانی کو پڑھے تو اتنا فائدہ نہ اُٹھائے گا جتنا کہ وہ شخص جو کلام اللہ کی تلاوت کرتا ہے محض اس غرض سے کہ اُسے اپنی حالت پر لگائے اور اُس سے اپنی روحانیت کی غذا نکالے۔
(ب):۔ عمدہ اور چید ہ کتابیں یا کہا نیاں بھی پڑھنا یا سُننا ۔کلام اللہ شیرینی ہے اگر انسان ہمیشہ شیرینی کھایا کرے تو اُس کا جی پھر جاتا ہے ۔ ویسا ہی اکثر ہمیشہ اور ہر وقت کلام اللہ نہیں پڑھا جاسکتا ۔ چنانچہ خُدا کی کلیسیاء نے ہزار ہا مفید کتابیں لکھی ہیں ۔ جو روحانیت کی ترقی کے واسطے مفید ہیں اُن کے سیر ومطالعہ سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔
(ج):۔ مسیحیوں کی عام دُعاؤں میں شریک ہونا جہاں کلام خُدا کی تعلیم ہوتی ہے ۔ عام عبادت گاہ سے کیا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب دل کسی قدر ٹھنڈا ہوجائے تو ایسے موقعوں پر سرگرم ہوجاتا ہے۔ اور کلام اللہ کی تعلیم خفتہ دل کی نیند کو دور کرکے جگا دیتی ہے۔ چنانچہ تجربہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ عام عبادتوں میں زیادہ شریک ہوتے ہیں اکثر زیادہ روحانی مزاج حاصل کرتے ہیں اور زیادہ فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
(د):۔ بدی اور بدیاروں کی صحبت سے علیحدہ ہونا اور اُن لوگوں کی صحبت میں رہنا جنہوں نے روحانیت اور تقدیس حاصل کی ہو۔ایسے لوگوں کی رفاقت سے ہزار ہا ہزار مشکلات بڑی آسانی سے حل ہوجاتی ہیں وہ اپنے تجربہ سے بتا سکتے ہیں کہ کیا کیا اور کرنا چاہیے کہ روحانیت کو مدد دے۔
(ہ):۔آسمان اور زمین کے خُدا کے حضور عاجزی سے جھکنا اور گناہوں کا اقرار نہ مجملاً بلکہ مفصلاً کرنا۔ بالخصوص اُن گناہوں کا جن سے دل مانوس ہوصاف صاف اور بے عذر اقرار کرنا۔ اور خُدا سے نہایت عاجزی سے التماس کرنا کہ وہ اپنا فضل بخشے کہ اُن سے مخلصی ہوجائے ۔ اور جب تک فضل حاصل نہ ہولے تب تک دُعا کے وسیلے ہمیشہ اُس کی درخواست کرتے رہنا ۔ یہ ایک بڑا وسیلہ ہے جس سے نہ صرف گناہ کا زور ٹوٹ جاتا ہے بلکہ روحانیت بہت طاقت پکڑتی ہے۔
(و):۔ زور سے دُعا کرنا کہ روح القدس دل میں نازل ہو۔ کیونکہ یہ صرف اُسی سے ہوسکتا ہے اور صرف اُسی کاکام ہے کہ بددل سے بدی کو دور کرکے نیک بنائے ۔ صرف اُسی سے اور اُسی کے وسیلے پاکیزگی کی خواہش اور اُس کے حصول کا شوق پیدا ہوتا ہے اور صرف وہی پاکیزگی بخش سکتا ہے۔ اگر روح القدس مدد نہ کرے تو اور سب وسائل ایسے ہیں جیسے قلم اور سیاہی اور کاغذ بغیر کاتب کے ۔ سارے وسائل استعمال کرو۔ پر علی الخصوص روح پاک کی استدعا کرو کہ وہ روحانیت کے کام میں تمہاری مدد کرے ۔ اورتم کو سر نو پیدا کرکے پاک صاف اور خوشنما بنادے ایسا کہ آگے کو تم ناپاک نجس اور لعین نہ ہو بلکہ روحانی اور مقدس اور خُدا کے پیارے بن جاؤ۔
(ز):۔ مسیح اور خصوصاً اُس کی صلیب کی طرف روحانی آنکھوں سے دیکھنا کیونکہ وہ پاکیزگی کے حصول کا مبدا ہے۔ اُس سے نجات نکلتی ہے اُسی کا خون سارے گناہوں سے پاک صاف کرکے خُدا کا پسند یدہ بنا سکتا ہے۔ یہ نہیں کہ لکڑی یا مٹی یا کسی اور چیز کی صلیب بنا کے اُس کی طرف دیکھا کرو بلکہ روحانی طور پر اُس صلیب کی طرف نظر ڈالو جس پر خُداوند یسوع مسیح نے جان دے دی ۔کیونکہ وہاں سے الہٰی برکات اور الہٰی مہربانی شدت سے نکلتی ہیں۔ جو خون وہاں سے نکلتا ہے وہ انسان کو پاک صاف بناکے الہٰی صحبت کے لائق کر دیتا ہے۔ یہ خیال کرو کہ خُداوند وہاں صرف گناہ کے سبب لٹکا ہے۔ ہاں تمہارے گناہوں کی خاطر ۔ پس خواہ نخواہ تم کو گناہ سے نفرت ہوگی ۔ تم کوشش اور وعدہ کرو کرآیندہ پاک اور بے عیب زندگی بسر کرو گے اور روح القدس سے کہو کہ ''اے خُدا روح القدس جو پاک ہے آ۔میرے گنہگار دل میں نازل ہواور یہ توفیق دے کہ جس طرح ابن اللہ صلیب پرلٹکا ہے۔ اسی طرح میری انسانیت ،نفسانیت اور سب بُری خواہشیں صلیب دی جائیں اور میں بقا اور تقدیس حاصل کروں۔

ثالثاً:۔ تقدیس حاصل کرنا اور پھر یہ کہ اسی دُنیا میں حاصل کرنا کیوں ضرور ہے۔

جو کچھ اوپر ذکر ہوچکا ہے اُس سے اس کتاب کے پڑھنے والوں کو اچھی طرح معلوم ہوگیا ہوگا کہ تقدیس حاصل کرنا ایک لازمی بات ہے لہٰذا کچھ ضرور نہیں ہے کہ طوالت کے ساتھ اس امر پر بحث کی جائے ۔پر ذیل کے چند امور کو یاد رکھنا چاہیے۔

اوّل خُدا لاتبدیل ہے۔یعنی بلحاظ ذات وصفات بالکل لاتبدیل ہے ۔ ہونہیں سکتا کہ کوئی ناپاک اُس کی قرابت حاصل کرے۔ دیکھو (1۔کرنتھیوں 9: 6؛ مکاشفہ 21: 27؛ زبور 5: 4۔5؛ 2۔کرنتھیوں 5: 17؛ گلتیوں 6: 15)۔خُدا کی قدوسیت لا تبدیل ہے۔ پس یہ خیال محض بیہودہ ہے کہ ہمارے گناہ یونہی بخشے جائیں گے اور ہم خُدا کی صحبت حاصل کریں گے جب کہ ہم تقدیس کو حاصل نہ کریں۔ اور اُس سے ناواقف رہیں۔ کیونکہ خُدا کے ساتھ ایسے شخص کا قرابت کرنا ناممکن ہے جو ناپاک ہو۔ پاکیزگی اور ناپاکی روشنی اور تاریکی کا کیا علاقہ ہے کہ قدوس خُدا اور ناپاک انسان باہم مقاربت کریں۔

دوم :۔ یہ بات بذاتہ ناممکن ہے کہ گنہگار قدس الاقداس میں جاپہنچے اور وہاں جاکے خوش رہے۔ خواہ اس کے گناہوں کی معافی بھی ہوجائے تب بھی جب تک کی ناپاک مزاج اُس میں رہتا ہے تب تک آسمانی خوشی اورآسمانی مجلسوں میں ہرگز ہرگز خوش وخورم نہیں ہوسکتا۔ اگر اسی دُنیا میں انسان کا مزاج بہشتی اشیاء کا شائق اور خوگر فتہ نہ ہو تو ناممکن ہے کہ وہاں خوش ہوسکے جہان اُس کے مزاج اور طبیعت کے موزوں ایک بات بھی نہیں ہے۔ اگر الہٰی صفات وکمالات کا خیال ہی دُنیا میں اُس خوش نہ کرے تو وہ آسمان میں بھی خوش نہیں ہوسکے گا۔ کیونکہ بہشت میں الہٰی کمالات کا عالی اور حمیدہ ظہور ہوتاہے۔ (متی 5: 18 کا مقابلہ کرو ۔1۔کرنتھیوں 13: 10؛ زبور 18: 15)۔سے وہاں کی خوشی یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا حصہ اور بخرہ اور سب کچھ جانیں ۔ (زبور 63: 5) اور اُس کی دائمی خُدمت اور شکر گزاری اور حمد کریں۔ پس جو لوگ ایسے کاموں میں یہاں خوش نہیں ہوسکتے وہ کیوں کر آسمان میں جاکے خوش ہوسکتے ہیں۔ بلکہ زیادہ تر یقین اس بات کا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ آسمانی خوشیوں سے ایسے ناراض اور ناخوش ہوں گے کہ بہشت اُن کے لیے دوزخ ہوجائے گا اگر بہشت اور اُس کی خوشیاں مطلوب ہیں تو تقدیس حاصل کرنا ضرور ہے۔

سوم :۔ پہلے حصہ میں یہ بیان ہوا ہے کہ خُدا تعالیٰ لاتبدیل ہے۔ جس کے ساتھ مقاربت ہو نہیں سکتی جب تک کہ تقدیس حاصل نہ ہوجائے ۔ پس ظاہر ہے کہ صرف دو طریقے ہیں کہ انسان اللہ کے پاس پہنچے ۔ اور اُس کی آسمانی خوشیوں میں خوش رہ سکے۔ یا تو یہ کہ اللہ تعالیٰ یا بہشت بدل جائے یا انسان اپنی خواہش یا عادت میں بدل جائے ۔ یعنی یہ کہ یا تو اللہ تعالیٰ اپنی ذات چھوڑ کے اور اپنی قدوسیت سے علیحدہ ہو کے بدل جائے اور نعوذ باللہ ناپاک بن جائے ۔ تاکہ گنہگار کا ہم پلہ اور برابر ہوکے اُس سے خوش رہے اور اُسے خوش کرے۔ یا یہ کہ انسان اپنے گناہوں سے دورہو اور پاک ہو جائے اور قدوس خُدا کے ساتھ صحبت کرسکے تاکہ وہ خُدا کی صفات لے کر اُس کے پاس جاسکے اور خوش ہو۔ چونکہ جیسا اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ لا تبدیل ہے پس صرف ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ گنہگار خُدا تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے اور وہ یہ ہے کہ انسان جو ہمیشہ تبدیل پذیر ہے آپ ہی بدل جائے ۔ کوئی اور طریقہ نہیں ہے نہ ہوسکتا ہے۔

چہارم :۔ اگر خُدا کسی صورت سے یہ کر سکتا کہ گنہگار کسی اور طرح سے بچ جائے اور بہشت میں خوش ہوسکے تو ہرگز ہرگز ایسا دُکھ اور عذاب اپنے پیارے بیٹے کو نہ دیتا جسے اُس نے صلیب پر بے عزتی اور دُکھ کی موت مرنے دیا اور موت اور قبر کے حوالہ کیا۔ اگر یہ ہوسکتا کہ گنہگار کسی اور صورت سے خُداتعالیٰ کے پاس پہنچ جائے تو اُس کے حقیقی اوراکلوتے بیٹے کا خون نہ بہایا جاتا اور وہ چوروں اورڈاکوؤں کی موت نہ مرتا۔پس اگر گنہگار ایسی بے بہا قربانی کو دیکھ کے پھر بھی اپنے گناہ میں رہے اور اُس میں خوش رہے تو کیا ہوسکتا ہے کہ وہ کبھی خُدائے قدوس کے ساتھ مقاربت کرلے ۔ مسیح کا خون بہایا گیا محض اس لیے کہ انسان پاک ہوجائے ۔ اور اب اگر وہ پاک نہ ہو تو اللہ سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔

پنجم :۔ نہ صرف آیندہ زندگی کے واسطے ضرور ہے کہ انسان پاک صاف ہوجائے اور مقدس بن جائے ۔ بلکہ حال کی زندگی کا بھی اس سے بڑا فائدہ ہے ۔ تقدیس ضمیر کو خوش رکھتی ہے۔ تقدیس دُنیا میں بھی فخر اور عزت بخشتی ہے۔ تقدیس سے انسان کا وقر(بزرگی) اور اعتبار ہوجاتا ہے۔ دُکھوں میں تسلی تقدیس سے ہوتی ہے ۔ تقدیس ہی دُنیا وی تغیر وتبدل میں انسان کے دل کو برقرار اورقائم رکھتی ہے۔ تقدیس ہی دُنیاوی آلائشوں اور گندگیوں سے علیحدہ رکھتی ہے۔ تقدیس ہی گناہ سے دوررکھتی ہے۔ ہاں اُس گناہ سے جو نہ صرف آیندہ زندگی کے واسطے موت اور ہلاکت ہوا بلکہ حال کی زندگی میں بھی ہمیشہ بھاری دُکھ اور عذاب پیدا کرتا ہے ۔ تقدیس خوشی بخشتی ہے جیسا کہ گناہ دُکھ دیتا ہے۔ گناہ کی لذت تھوڑی سی دیر کی ہوتی ہے جس کے بعد بڑا بھاری دُکھ ہوتا ہے ۔ گناہ کو روکنے میں ذرہ سی تکلیف اور ہمیشہ کی راحت رہتی ہے ۔چنانچہ بلحاظ دنیاوی فائدہ کے بھی ضرور ہے کہ انسان اسی دُنیا میں تقدیس حاصل کرے۔

ششم :۔ خصوصاً مسیحیوں کو تو بہت ہے ضرور ہے کہ تقدیس اور روحانیت میں رہیں ۔ کیونکہ ابن اللہ نے اُن کے واسطے اپنی جان دے دی اور اُن سے یہ چاہتا ہے کہ بدی اور بدمزاجی سے دور ہوجائیں اور الہٰی مزاج حاصل کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے توصلیب کے مدعا کو نظر سے علیحدہ کرتے اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ مسیحی نہیں ہے۔

ہفتم :۔ جو لوگ تقدیس حاصل نہیں کرتے وہ الہٰی غضب کے نشانہ بنے رہتے ہیں اور آخر اللہ تعالیٰ سے دور کے ہمیشہ کے عذاب اور دُکھ میں پڑے رہیں گے ۔پس خُدا کے غضب اور قہر سے بچنے کے واسطے بھی ضرور ہے کہ گنہگار بدل جائے اور پاک اور مقدس ہوجائے ۔ غرض کہ جس پہلو سے دیکھو جس طرف سے نظر کرو تقدیس کی بھاری ضرورت صاف آشکارا ہے ۔ جس نے خُدا کو دیکھا اُس نے اور سب کچھ دیکھا ۔ جس نے خُدا کو نہ دیکھا اُس نے کونسی نیکی اور خوشی دیکھی۔ اللہ ساری خوبی اور نیکی اور خوشی کا چشمہ ہے۔ پس اے گنہگار یا تو اللہ کی صحبت حاصل کرنے کی غرض سے بدل جانہیں تو خُدا کے غضب سے بچنے کے واسطے ہی سہی ۔ غرض کہ اسی دُنیا میں وہ پاکیزگی حاصل کرجس کے سوائے کوئی خُدا کو دیکھ نہیں سکتا۔


فصل دھم

تتمہ۔ چند نصیحتی کلمے

کتاب ہذا کا خاتمہ نزدیک ہے پر ایسے بھاری مضمون کو بغیر خاص خاص لوگوں کو خطاب کرنے چھوڑدینا مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ کیونکہ اگر ہم نکے عقلاً اس بات کو ثابت بھی کر لیا کہ صرف مسیحی دین ہی اللہ سے ہے ۔ یا اگر ہم نے اس امر کا خوب فیصلہ بھی کرلیا یہی دین انسان کی حقیقی ضروریات کو دور کرتا ہے۔ یا اگر ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ یہی اور صرف یہی راہ ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ سے ملاپ کرکے مقدس ہو سکتا ہے اور خُدائے قدوس کے ساتھ ابدالاباد رہ سکتا ہے۔ اگر ہم نے یہ سب کچھ سمجھ لیا اور دیکھ لیا تو بھی کیا فائدہ جب تک کہ خاص ہماری ذات کو اس سے فائدہ نہ پہنچے ۔ یا جب تک ہم خود ان صداقتوں سے موثر نہ ہوں ۔ اس لیے ہم ناظرین کتاب ہذا سے درخواست کرتے ہیں کہ اور تھوڑی دیر ہمارے ساتھ رہیں اورذیل کی چند سطور کو بڑی اور سنجیدگی سے سُنیں۔

دو اور صرف دو ہی قسم کے لوگ دُنیا میں ہیں۔ یعنی غیر مسیحی اور مسیحی ۔چنانچہ ہم

اوّل :۔ غیر مسیحی اشخاص سے یوں کہتے ہیں کہ اے لوگو جو کام تم سے نہیں ہوسکا سو اللہ سے ہوا جن گناہوں کی معافی کی تم راہ نہیں نکال سکتے تھے اُن کی اللہ نے نکالی کہ اُس نے تمہاری خاطر اپنے ابن وحید کے کفارہ کی بدولت نہایت عجیب راہ نکالی ہے۔ ہاں ایسی راہ جس کے خیا ل میں عقل حیران اور سرگردان رہ جاتی ہے۔ ایسی راہ جس سے الہٰی محبت رحم و عدل اور قدوسیت کا جلال ظاہر ہوتا ہے ۔ یہ راہ الہٰی راہ ہے کیونکہ عقل انسانی ہر گز ہرگز ایسی راہ نہیں خیال کرسکتی تھی نکالنا تو بجائے خود رہا ۔ یہ ایسی راہ ہے جسے دیکھ کے فرشتے بھی حیران رہ جاتے ہیں اور خُدا تعالیٰ کی لامحدود حکمت اور عقل کی ستائش کرتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی راہ ہے جس سے ہم گنہگاروں کو نجات مفت میں مل جائے تو بھی وہ ایسی نجات ہو جسے خود ابن اللہ نے اپنا خون بہا کے خریدا ہو۔ یہ ایسی راہ ہے جس سے نجات کے بے شمار نتائج وفوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ یہ وہی راہ ہے جس کا وعدہ ہمارے جد امجد بابا آدم سے کیا گیا تھا کہ عورت کی نسل سے ایک ہوگا جو شیطان کو شکست دے گا۔ اور شیطانی قید کو توڑ ے گا۔ یہ وہی راہ ہے جس کے منتظر خُدا کے تمام برگزیدے رہے جو ربنا یسوع کے مجسم ہونے پہلے ہوئے ہیں ۔ یہ وہی راہ ہے جس میں اُنہوں نے الہٰی فضل کی روشنی کو دھندلا سا چمکتا دیکھا اور سرجھکا کے تسلیم کیا۔ یہ وہی راہ ہے جس میں اُنہوں نے خُدا کو پایا۔ اور جس میں مسیح خُداوند کے وقت سے لے کر آج تک کروڑ ہا کروڑ لوگوں نے خُدا سے میل حاصل کیا اور خوش ہوئے۔ خُدا صرف اسی راہ میں ملا ہے اور اسی میں مل سکتا ہے ۔ اور سب راہیں ہیچ ہیں کیونکہ وہ اللہ سے نہیں ہیں۔ اُن سے عاقبت کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے۔ مثلاً ایک راہ یہ ہے کہ نیکی کرو اور خُدا کا جمال دیکھو گے پر یہ ایسی راہ ہے جس سے گنہگار کو کیا فائدہ کیونکہ جس نے اللہ سے بغاوت کی اور اُس کے پاک حکموں میں سے ایک کو بھی توڑا اُس نے اپنے اوپر ابدی سزا اور غضب کو برانگیختہ کیا اور نہ صرف یہ بلکہ اُس ایک گناہ کی تاثیر سے ایسا خراب ہوگیا اور بگڑ گیا ہے کہ جسے نیکی کہتے ہیں وہ مطلق اُس میں نہیں ہے۔ انسان کی نسبت خواہ وہ کیسا ہی نیک کیوں نہ ہو خُدا کے سامنے سرتا پا گنہگار ہے۔

ایک اور راہ یہ ہے کہ تو بہ کرو اور نجات پاؤ گے ۔یہ بھی لاحاصل اور دل لگی کی سی بات ہے کیونکہ کتاب ہذا میں ہم نے اچھی طرح ثابت کردیا ہے کہ توبہ کا علاقہ بیشتر ہماری آیندہ کی زندگی سے ہوتا ہے ۔ جو کچھ ہم سے ہوچکا ہے تو بہ اُسے سر مو (بال کی نوک برابر، رائی برابر)دور نہیں کر سکتی چہ جا کہ اُس کے اثر کو دور کرے ۔ مثلاً اگر کوئی بڑے اونچے درخت پر سے گر پڑے اور اُس کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو ایسا شخص کہے کہ مَیں تو بہ کرتا ہوں آیندہ درخت پر نہ چڑھوں گا ۔ توکیا توبہ اُس کی ٹانگ کو درست کرسکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔

پر ایک اور راہ یہ ہے کہ فلاں فلاں شخص تمہاری شفاعت یا سفارش کرے گا اور خُدا سے کہے گا کہ یا اللہ یہ میرا ہے یا میری اُمت ہے تو اسے بخش دے ۔ یہ بات بھی بالکل لغو (بے ہودہ )سی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل اور قدوسیت ایسے ہیں کہ ٹوٹ نہیں سکتے ۔ نہ وہ کسی کی طرف داری کرسکتا ہے اور اگر بفرض محال وہ یہ کام کرے بھی تو یہ اُس کی قدوسیت کی شان کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ یہ امر اُس پر ایک بڑا بھاری داغ بھی لگاتا ہے۔

ایک راہ یہ بھی ہے کہ خُدا بالکل محبت ہے اور ہم گنہگاروں سے اتنا پیار کرتا ہے کہ ہماری خطاؤں کو آپ ہی آپ بخش دے گا ۔یہ بھی ایسی بات ہے کہ خُدا کی خُدائی کی شان اور اُس کی قدوسیت کے عین خلاف ہے۔ اور اُس کو جو قدوس ہے ناپاک انسان کے درجہ سے بھی کم کردیتی ہے ۔ اس میں کچھ کلام نہیں کہ خُدا محبت ہے اور انجیل جلیل کی نورانی صداقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے پر اللہ محض محبت ہی نہیں ہے بلکہ حاکم بھی ہے قدوس بھی ہے عادل بھی ہے۔ دنیاوی حاکم کب اپنی سلطنت کی حرمت اور اپنے قانون کی عزت کے خلاف کرتے ہیں جو خود اُن کی مرضی کے تابع ہوتے ہیں، اورجن پر اُن کا پورا اختیار ہوتا ہے جب چاہیں اورجس طرح چاہیں اُن کو تبدیل ترمیم وغیرہ کریں یا بالفرض اگر کسی فرد نے اپنے منصبی عہدہ کے فرائض اور جوابدہی کے خلاف جان بوجھ کے کیا بھی تو لوگ باآواز دہل (بلند آواز)کہتے ہیں کہ وہ شخص حاکم ہونے کے لائق نہیں ہے، اور اس کا سزاوار نہیں ہے حاکم کی عزت یا حرمت اُسے دی جائے ۔ جب تبدیل پذیر اور گنہگار انسان کی نسبت یہ کلمے کہے جائیں تو وہ جو لاتبدیل اور انسانی خیالات سے بری ہے کب اپنی سلطنت اورشریعت کے برخلاف کرسکتا ہے جو اُس کی ذات سے وابستہ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ خُدا اپنی الہٰی ذات و صفات کو بدلنے کے بغیر اخلاقی احکام اور اخلاقی سلطنت کو بھی بدل نہیں سکتا۔

پس ظاہر ہے کہ ان راہوں سے گنہگار کی نجات نہیں ہوسکتی ۔ اوریہ بھی ظاہر ہے کہ یا تو نجات ہوہی نہیں سکتی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ کی راہ ایسی نکالی ہے جس کے وسیلے ہر ایک گنہگار اللہ سے معافی اور عزت حاصل کر سکتا ہے۔ اب باقی صرف یہ ہے کہ گنہگار خوشی بخوشی ہاتھ پھیلا کے نجات لے لے۔ وہ نجات جو اُس کی نیکی نہ اُس کی توبہ اور نہ کسی کی سفارش اُسے دے سکتی تھی پر جسے خُداوند یسوع نے اپنے خون سے خرید ا اور اب مفت اُسے دیتا ہے ۔

وہ لوگ جو غیر مسیحی ہیں چاہیے کہ ہوشیار ہوجائیں کیونکہ اُس راہ سے باہر رہنا جسے الہٰی حکمت اور محبت اور فضل نے خود ایجاد کیا ہے بڑی خراب بات ہے اور بڑا بھاری گناہ ہے۔ اگروہ خُدا کی محبت اور مہربانی کے کام کی تحقیر کرتے ہیں تو اپنی سزا کے دُکھ کو بڑھاتے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہ صرف خُدا کے باغی ہیں بلکہ اُس بندوبست کی قدر بھی نہیں کرتے جو اللہ نے اپنے بیٹے کے وسیلے کیا ہے۔ بہشت کا راہ کھلا ہے اللہ تعالیٰ اُن کو بُلاتا ہے اگر اب بھی دوزخ میں جائیں تو اُن کا اپنا ہی قصور ہے ۔ خُداوند یسوع ہاتھ بڑھ کے نجات دیتا ہے اگر وہ ہاتھ بڑھا کے نہ لیں تو نقصان اُن کا ہی ہے۔ مسیح کے ساتھ نجات ہے اُس کے بغیر دوزخ اور ہلاکت جسے چاہیں قبول کریں۔

دوم :۔ مسیحی سے ہم چند کلمے کہتے کہ ہم کو کتنا زیادہ شکرگزاری کا موقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے واسطے اپنی رحمت سے نہ صرف نجات کی راہ نکالی ہے بلکہ حقیقت میں ہم کو اپنے زبردست بازو سے پکڑ کے اُس راہ میں لے بھی آیا ہے اور یہ بھی دکھایا ہے کہ اس راہ سے کون کون الہٰی برکات ہم پر بارش کی طرح نازل ہوتی ہیں۔ پس ہم کو خاص طور پر شکرگزار ہونا اور شکرگزاری اور حمد کرنا زیبا ہے اس لیے کہ ہم پر خاص طور پر فضل ہوا ہے۔ اب مَیں جو راقم الحروف ہوں مسیحی بھائیوں سے التماس کرتا ہوں کہ خُدا کے فضل کو حاصل کرکے اب ضرور اور مناسب ہے کہ ہم اپنے فانی جسموں کی خواہشوں اور شہوتوں کو جو طرح طرح کے بُرے کاموں اور خیالوں اور کلموں میں ظاہر ہوتے ہیں مسیح خُداوند کے ساتھ صلیب دیں۔ اور روحانیت اور تقدیس کا مزہ دیکھیں کیونکہ ایک دن یہ دُنیا اورجسم اور جسم کی خواہشیں خواہ کیسی ہی پیاری کیوں نہ ہوں اور دُنیا کی چیزیں خواہ کیسی ہی دلفریب کیوں نہ ہوں۔ غرض کہ سب کچھ چھوڑ کے وہاں جانا ہے جہاں روحانیت اور تقدیس کا کمال ہے اور جہاں کوئی ناپاک اور نجس ہرگز پہنچ نہیں سکتا۔

کیا فائدہ ہے کہ سارے جہان کا علم حاصل کریں یا بڑے آدمی کہلائیں ۔ یا بڑی عزت اور دولت حاصل کریں پر خُدا سے دوررہیں ۔ یہ تمام چیزیں بے سود اور لاحاصل ہیں۔ اللہ ملا تو سب کچھ ملا ۔ پس غریب ہو یا امیر تندرست ہو یا بیمار، غلام ہویا آزاد ۔ غرض کہ جس حالت میں ہو خُداوند یسوع مسیح کا دل سے شکر کرو اور اُسی کے ہو رہو یہ خیال کرکے کہ تم اب اپنے نہیں بلکہ خون سے خریدے ہو۔ پس ساری نیکی اور پاکیزگی اورخُدا کی فرمانبرداری میں دن بدن ترقی کرتے جاؤ اورجلال سے جلال اورکمال سے کمال پر اُڑ کے پہنچو ۔ اور خُداوند کے واسطے پاک اور مقدس قوم ہو اور خُداکا جلال ظاہر کرو جس نے تم کو اپنا لے پالک بیٹا بنالیا ہے اور باغیانہ نہیں بلکہ فرزندانہ سلوک اپنے باپ خُدا کے ساتھ کرو اور وہ چال چلو جو نور کے فرزندوں کے لائق ہے۔

اب خُداباپ خُدابیٹے اور روح القدس سے جو اکیلا سچا اور زندہ خُدا ہے درخواست ہے کہ ہم سب کو ابدیت کے واسطے تیار کرے۔ خُداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے ۔آمین۔

الراقم

بندہ ایم حنیف مسیحی
(مشن پریس امرت سر)
اکتوبر1896ء