پاک نوشتے کے الہامی ہونے کاثبوت

The Evidence of the Inspiration of the Bible By One Disciple ایک شاگرد Published in Nur-i-Afshan Oct 13, 1884 نور افشاں مطبوعہ۳ اکتوبر ۱۸۸۴ پولس رسول کتب مقدسہ کو الہٰامی فرماتا ہے ۔(۲۔ تیمتھیس ۳: ۱۶ ) اور یہی دوسرے رسولوں اور اس وقت سے لے کر اب تک کے مسیحیوں کا دعویٰ ہے کہ … Read more

بائبل شریف کی خوبیاں

The Uniqueness of the Bible By Akbar Masih اکبر مسیح Published in Nur-i-Afshan July 31, 1884 نور افشاں مطبوعہ ۳۱ جولائی ۱۸۸۴ ء ایک تعلیم یافتہ بنگالی مسلمان بنام قربان علی کی محققانہ شہادت کہ بائبل سب سے اچھی کتاب ہے یہ ثابت ہو سکتا ہے اس کے اس پاک اور نیا مخلوق بنانے کی … Read more

مسیح کی الوہیت پر اعتراض کا جواب

The Objection on Deity of Christ By Akbar Masih اکبر مسیح Published in Nur-i-Afshan November 02, 1884 نور افشاں مطبوعہ ۲نومبر ۱۸۸۴ ء ایک محمدی ملقب شور یوں تحریر فرماتے ہیں کہ عیسائی اپنی نادانی سے مسیح کو خدا کہتے ہیں حالانکہ انجیل سے آدم زاد پر بھی ان کی فضیلت ثابت نہیں پھر فرشتوں … Read more

انجیل کی قدرومنزلت

The Dignity and value of the Gospel By One Disciple ایک شاگرد Published in Nur-i-Afshan June 26, 1884 نور افشاں مطبوعہ ۲۶ جون ۱۸۸۴ ء کتاب مقدس کا دوسرا حصہ عہد جدید ہے جس کی ابتدا میں چاروں اناجیل ہیں ان انجیلوں میں خداوند یسوع مسیح کی پیدائش اور موت کا بیان ہے۔ مسیح کا … Read more

مسیح کے قیامتی اور جلال والے جسم کے بیان میں

Resurrected body of Jesus By One Disciple ایک شاگرد Published in Nur-i-Afshan May 15, 1884 نور افشاں مطبوعہ ۱۵ مئی ۱۸۸۴ ء وہ بدن جس کے ساتھ خداوند یسوع مسیح مردوں میں سے جی اٹھا درحقیقت وہی بدن تھا جو صلیب پر کھینچا گیا ۔یہ بات صلیب کی میخوں اور نشانوں سے ظاہر ہوتی ہے … Read more

اسکندریہ کے کتب خانہ کی تباہی اور اسلام

The Destruction of Alexandria Library and Islam By One Disciple ایک شاگرد Published in Nur-i-Afshan May 21, 1884 نور افشاں مطبوعہ ۲۱ مئی ۱۸۸۴ ء جب اسکندریہ پر اہل اسلام کا تسلط ہو گیا اور عمرو سپہ سالار اس جگہ کا ناظم مقرر ہوا تو اس نے فیلفونس اسکندریہ کے نامی حکیم اور فاضل اجل … Read more

کتابوں میں تضاد ہوتا نہیں ہے جواُس کے ماننے والے ہیں وہ اس کی تشریح غلط کرتے ہیں سوچنے کا اپنا اپنا انداز ہوتاہے اوربائبل مقدس میں آیاہے کہ حضرت نوح کی کشتی کوہ ارارط پرجاکر ٹک گئی اور قرآن شریف میں آیاہے کہ نوح کی کشتی پہاڑ جودی پرجاکر ٹک گئی اورترکی میں یہ دونوں پہاڑ موجود ہیں اورزیادہ فاصلہ بھی نہیں ہے توکیا تضاد نہیں ہے؟